اردو
Friday 25th of September 2020
  843
  0
  0

بغض اہلبيت (ع) پر تنبيہ

رسول اكرم (ص) ميرے بعد ائمہ بارہ ہوں گے جن ميں سے نوصلب حسين (ع) سے ہوں گے اور ان كا نواں قائم ہوگا، خوشا بحال ان كے دوستوں كے لئے اور ويل ان كے دشمنوں كے لئے_( كفاية الاثر ص 30 روايت ابوسعيد خدري)_
رسول اكرم(ص) ميرے بارہ ائمہ مثل نقباء بن اسرائيل كے بارہ ہوں گے، اس كے بعد حسين (ع) كے كاندھے پر ہاتھ ركھ كر فرمايا كہنو اس كے صلب سے ہوں گے جن كانواں مہدى ہوگا جو زمين كو عدل و انصاف سے اسى طرح بھر دے گا جس طرح ظلم و جور سے بھرى ہوگى ، ويل ہے ان سب كے دشمنوں كے لئے_ ( مناقب ابن شہر آشوب 1 ص 195)_
رسول اكرم(ص) اگر كوئي بندہ صفاء و مروہ كے درميان ہزا ر سال عبادت الہى كرے پھر ہزار سال دوبارہ اور ہزار سال تيسرى مرتبہ اور ہم اہلبيت (ع) كى محبت حاصل نہ كرسكے تو پروردگار اسے منہ كے بھل جہنم ميں ڈال دے گا جيسا كہ ارشاد ہوتاہے '' ميں تم سے محبّت اقربا كے علاوہ اور كوئي سوال نہيں كرتاہوں'' ( تاريخ دمشق حالات امام على (ع) 1 ص 132 / 182 روايت ابوامامہ باہلى ، مناقب ابن شہر آشوب 3 ص 198)_
  رسول اكرم(ص) اگر كوئي شخص ہزار سال عبادت الہى كرے اور پھر ذبح كرديا
جائے اور ہم اہلبيت (ع) سے دشمنى لے كر خدا كى بارگاہ ميں پہنچ جائے تو پروردگار اس كے سارے اعمال كوو اپس كردے گا_ ( محاسن 1 ص 271/ 527 روايت جابر عن الباقر (ع) )_
  رسول اكرم(ص) پروردگار اشتہاء سے زيادہ كھانے والے ، اطاعت خدا سے غفلت برتنے والے، سنت رسول (ص) كو ترك كرنے والے عہد كو توڑ دينے والے، عترت پيغمبر(ص) سے نفرت كرنے والے اور ہمسايہ كو اذيت دينے والے سے سخت نفرت كرتاہے_( كنز العمال 16 / 44029 ، احقاق الحق 9 ص 521)_
رسول اكرم(ص) ، ہم سے عداوت وہى كرے گا جس كى ولادت خبيث ہوگى _( امالى صدوق ص 384 / 14 ، علل الشرائع ص 141 / 3 روايت زيد بن على ، الفقيہ 1 ص 96 / 203_

امام على (ع) بدترين اندھا وہ ہے جو ہم اہلبيت (ع) كے فضائل سے آنكھيں بند كرلے اورہم سے بلا سبب دشمنى كا اظہار كرے كہ ہمارى كوئي خطا اس كے علاوہ نہيں ہے كہ ہم نے حق كى دعوت دى ہے اور ہمارے غير نے فتنہ اور دنيا كى دعوت دى ہے اور جب دونوں باتيں اس كے سامنے آئيں تو ہم سے نفرت اور عداوت كرنے لگا_( خصال ص 633 / 10 روايت ابوبصير و محمد بن مسلم، غرر الحكم 3296)_
امام على (ع) ہر بندہ كے لئے خدا كى طرف سے چاليس پردہ دارى كے انتظامات ہيں يہاں تك كہ چاليس گناہ كبيرہ كرلے تو سارے پردہ اٹھ جاتے ہيں اور پروردگار ملائكہ كو حكم ديتاہے كہ اپنے پروں كے ذريعہ ميرے بندہ كى پردہ پوشى كرو اور بندہ اس كے بعد بھى ہر طرح كا گناہ كرتاہے اور اسى كو قابل تعريف قرار
ديتاہے تو ملائكہ عرض كرتے ہيں كہ خدايا يہ تيرا بندہ ہر طرح كا گناہ كررہاہے اور ہميں اس سے اعمال كے حيا آرہى ہے_
ارشاد ہوتاہے كہ اچھا اپنے پروں كو اٹھالو ، اس كے بعد وہ ہم اہلبيت (ع) كى عداوت ميں پكڑا جاتاہے اور زمين و آسمان كے سارے پردے چاك ہوجاتے ہيں اور ملائكہ عرض كرتے ہيں كہ خدايا اس بندہ كا اب كوئي پردہ نہيں رہ گياہے_ ارشاد ہوتاہے كہ اللہ كو اس دشمن اہلبيت (ع) كى كوئي بھى پرواہ ہوتى تو تم سے پروں كو ہٹانے كے بارے ميں نہ كہتا_( كافى 2 ص 279 / 9 ، علل اشرائع ص 532 / 1 روايت عبداللہ بن مسكان عن الصادق (ع) ) _
جميل بن ميسر نے اپنے والد نخعى سے روايت كى ہے كہ مجھ سے امام صادق (ع) نے فرمايا، ميسر سب سے زيادہ محترم كونسا شہر ہے؟
ہم ميں سے كوئي جواب نہ دے سكا تو فرمايا ، مكہ اس كے بعد فرمايا اور مكہ ميں سب سے محترم جگہ؟
اور پھر خود ہى فرمايا ركن سے لے كر حجر اسود كے درميان ، اور ديكھو اگر كوئي شخص اس مقام پر ہزار سال عبادت كرے اور پھر خدا كى بارگاہ ميں ہم اہلبيت(ع) كى عداوت لے كر پہنچ جائے تو خدا اس كے جملہ اعمال كو رد كردے گا_( محاسن 1 ص 27 / 28،)_
فصل دوم:
بغض اہلبيت (ع) كے اثرات
1_ پروردگار كى ناراضگي
رسول اكرم(ص) شب معراج ميں آسمان پر گيا تو ميں نے ديكھا كہ در جنت پر لكھا ہے_ لا الہ الا اللہ _ محمد رسول اللہ ، على حبيب اللہ الحسن والحسين (ع) صفوة اللہ ، فاطمة خيرة اللہ اور ان كے دشمنوں پر لعنة اللہ _( تاريخ بغداد 1 ص 259 ، تہذيب دمشق 4 ص 322 ، مناقب خوارزمى ص 302 / 297 ، فرائد السمطين 2 ص 74 / 396 ، امالى طوسى ص 355 / 737 ، كشف الغمہ 1 ص 94 ، كشف اليقين ص 445 / 551 ، فضائل ابن شاذان ص 71)_
رسول اكرم(ص) جب مجھے شب معراج آسمان پر لے جايا گيا تو ميں نے ديكھا كہ در جنت پر سونے كے پانى سے لكھاہے، اللہ كے علاوہ خدا نہيں _ محمد(ص) اس كے رسول (ص) ہيں ، على (ع) اس كے ولى ہيں، فاطمہ (ع) اس كى كنيز ہيں، حسن (ع) و حسين (ع) اس كے منتخب ہيں اور ان كے دشمنوں پہ خدا كى لعنت ہے_( مقتل خوارزمى 1 ص 108 ، خصال ص 324 / 10، مائتہ منقبہ 109 / 54 روايت اسماعيل بن موسى (ع) )_
رسول اكرم (ص) ہر خاندان اپنے باپ كى طرف منسوب ہوتاہے سوائے نسل فاطمہ (ع) كے كہ ميں ان كا ولى اور وارث ہوں اور يہ سب ميرى عترت ہيں ، ميرى بچى ہوئي مٹى سے خلق كئے گئے ہيں، ان كے فضل كے منكروں كے لئے جہنم ہے، ان كا دوست خدا كا دوست ہے اور ان كا دشمن خدا كا دشمن ہے_( كنز العمال 12 ص 98 / 34168 روايت ابن عساكر، بشارة المصطفى ص 20 روايت جابر)_
رسول اكرم(ص) آگاہ ہوجاؤ كہ جو آل محمد(ص) سے نفرت كرے گا وہ روز قيامت اس طرح محشور ہوگا كہ اس كى پيشانى پر لكھا ہوگا ''رحمت خدا سے مايوس ہے''( مناقب خوارزمى ص 73 ، مقتل خوارزمى 1 ص 40 ، مائتہ منقبہ 150 / 95 ، روايت ابن عمر ، كشاف 3 ص 403 ، فرائد السمطين 2 ص 256 / 524 ، بشارة المصطفى ص 197 ، العمدة 54 / 52 ، روايت جرير بن عبداللہ، احقاق الحق 9 ص 487)_
امام على (ع) ہمارے دشمنوں كے لئے خدا كے غضب كے لشكر ہيں_( تحف العقول ص 116 ، خصال ص 627 / 10 روايت ابوبصير و محمد بن مسلم ، غرر الحكم ص 7342)_
2_ منافقين سے ملحق ہوجانا
رسول اكرم(ص) جو ہم اہلبيت (ع) سے نفرت كرے گا وہ منافق ہوگا _(فضائل الصحابہ ابن حنبل 2 ص661 ، 1166 ، درمنثور 7 ص 349 نقل از ابن عدى ،مناقب ابن شہر آشوب 3 ص 205 ، كشف الغمہ 1 ص 47 روايت ابوسعيد)_
رسول اكرم(ص) ہم اہلبيت (ع) كا دوست مومن متقى ہوگا اور ہمارا دشمن منافق شقى ہوگا_( ذخائر العقبص 18 روايت جابر بن عبداللہ ، كفاية الاثر ص 110 واثلہ بن الاسقع)_
رسول اكرم(ص) قسم ہے اس ذات كى جس كے قبضہ ميں ميرى جان ہے_
انسان كى روح اس وقت تك جسم سے جدا نہيں ہوتى ہے جب تك جنّت كے درخت يا جہنم كے زقوم كا مزہ نہ چكھ لے اور ملك الموت كے ساتھ مجھے على (ع) ، فاطمہ (ص) ، حسن (ع) اور حسين (ع) كو نہ ديكھ لے ، اس كے بعد اگر ہمارا محب ہے تو ہم ملك الموت سے كہتے ہيں ذرا نرمى سے كام لو كہ يہ مجھ سے اور ہمارے اہلبيت (ع) سے محبت كرتا تھا اور اگر ہمارا اور ہمارے اہلبيت (ع) كا دشمن ہے تو ہم كہتے ہيں ملك الموت ذرا سختى كرو كہ يہ ہمارا اور ہمارے اہلبيت (ع) كا دشمن تھا اور ياد ركھو ہمارا دوست مومن كے علاوہ اور ہمارا دشمن منافق بدبخت كے علاوہ كوئي نہيں ہوسكتاہے_ (مقتل الحسين (ع) خوارزمى 1 ص 109 روايت زيد بن علي(ع) )_
رسول اكرم(ص) ميرے بعد بارہ امام ہوں گے جن ميں سے نوحسين (ع) كے صلب سے ہوں گے اور نواں ان كا قائم ہوگا، اور ہمارا دشمن منافق كے علاوہ كوئي نہيں ہوسكتاہے_(كفاية الاثر ص 31 روايت ابوسعيد خدري)_
رسول اكرم(ص) جو ہمارى عترت سے بغض ركھے وہ ملعون، منافق اور خسارہ والا ہے_( جامع الاخبار ص 214 / 527)_
رسول اكرم(ص) ہوشيار رہو كہ اگر ميرى امت كا كوئي شخص تمام عمر دنيا تك عبادت كرتارہے اور پھر ميرے اہلبيت (ع) اور ميرے شيعوں كى عداوت لے كر خدا كے سامنے جائے تو پروردگار اس كے سينے كے نفاق كو بالكل كھول دے گا _( كافى 2 ص 46 / 3 ، بشارة المصطفى ص 157 روايت عبدالعظيم الحسن)_
ابوسعيد خدرى ہم گروہ انصار منافقين كو صرف على (ع) بن ابى طالب كى عداوت سے پہچانا كرتے تھے_( سنن ترمذى 5 ص 635 / 3717 ، تاريخ دمشق حالات امام على (ع) 2 ص 220 / 718 ، تاريخ الخلفاء ص 202 ، المعجم الاوسط 4 ص 264 / 4151،
مناقب خوارزمى 1 ص 332 / 313 عن الباقر (ع) ، فضائل الصحابہ ابن حنبل 2 ص 239 / 1086 ، مناقب امير المومنين (ع) كوفى 2 ص 470 / 965 روايت جابر ابن عبداللہ تذكرة الخواص ص 28 از ابودرداء ، عيون اخبار الرضا (ع) 2 ص 67 / 305 روايت امام حسين (ع) ، كفاية الاثر ص 102 روايت زيد بن ارقم ، العمدہ ص 216 / 334 روايت جابر بن عبداللہ مناقب ابن شہر آشوب 3 ص 207 ، مجمع البيان 9ص 160 روايت ابوسعيد خدرى ، قرب الاسناد 26 / 86 روايت عبداللہ بن عمر)_
3_ كفار سے الحاق
1086_ رسول اكرم (ص) ہوشيار ہو كہ جو بغض آل محمد(ص) پر مرجائے گا وہ كافر مرے گا، جو بغض آل محمد(ص) پر مرے گا وہ بوئے جنت نہ سونگھ سكے گا_( كشاف 3 ص 403 ، مائتہ منقبہ 90 / 37 روايت ابن عمر، بشارة المصطفى ص 197 ، فرائد السمطين 2 ص 256 / 254 روايت جرير بن عبداللہ ، جامع الاخبار 474 / 1335 ، احقاق الحق 9 ص 487)_
رسول اكرم(ص) جس شخص ميں تين چيزيں ہوں گى وہ نہ مجھ سے ہے اور نہ ميں اس سے ہوں، بغض على (ع) بن ابى طالب (ع) عداوت اہلبيت (ع) اور ايمان كو صرف كلمہ تصور كرنا_( تاريخ دمشق حالات امام على (ع) 2 ص 218 / 712 ، الفردوس 2 ص 85 / 2459 ، مقتل خوارزمى 2 ص 97 ، مناقب كوفى 2 ص 473 / 969 روايت جابر)_
4_ يہو و نصارى سے الحاق
جابر بن عبداللہ رسول اكرم(ص) سے نقل كرتے ہيں كہ آپ نے فرمايا، لوگو جو ہم اہلبيت (ع) سے بغض ركھے گا اللہ اسے روز قيامت يہودى محشور كرے گا_
ميں نے عرض كى حضور چاہے نماز روزہ كيوں نہ كرتا ہو؟ فرمايا چاہے نماز روزہ كا پابند ہوا اور اپنے كو مسلمان تصور كرتا ہو_(المعجم الاوسط 4 ص 212 / 4002 ، امالى صدوق 273 / 2 روايت سديف ملكي، روضة الواعظين ص 297)_
امام باقر (ع) جابر بن عبداللہ انصارى نقل كرتے ہيں كہ رسول اكرم(ص) منبر پر تشريف لے گئے جبكہ تمام انصار و مہاجرين نماز كے لئے جمع ہوچكے تھے اور فرمايا :
ايہا الناس جو ہم اہلبيت (ع) سے بغض ركھے گا ، پروردگار اس كو يہودى محشور كرے گا_
ميں نے عرض كى حضور چاہے توحيد و رسالت كا كلمہ پڑھتاہو؟ فرمايا بيشك
يہ كلمہ صرف اس قدر كارآمدہے كہ خون محفوظ ہوجائے اور ذلت كے ساتھ جزيہ نہ دينا پڑے_
اس كے بعد فرمايا ، ايہا الناس جو ہم اہلبيت (ع) سے دشمنى ركھے گا پروردگار اسے روز قيامت يہودى محشور كرے گا اور يہ دجال كى آمد تك زندہ رہ گيا تو اس پر ايمان ضرور لے آئے گا اور اگر نہ رہ گيا تو قبر سے اٹھايا جائے گا كہ دجال پر ايمان لے آئے اور اپنى حقيقت كو بے نقاب كردے_
پروردگار نے ميرى تمام امت كو روز اول ميرے سامنے پيش كرديا ہے اور سب كے نام بھى بتاديے ہيں جس طرح آدم كو اسماء كى تعليم دى تھي_ ميرے سامنے سے تمام پرچمدار گذرے تو ميں نے على (ع) اور ان كے شيعوں كے حق ميں استغفار كيا_
اس روايت كے راوى سنا ن بن سدير كا بيان ہے كہ مجھ سے ميرىوالد نے كہا كہ اس حديث كو لكھ لو، ميں نے لكھ ليا اور دوسرے دن مدينہ كا سفر كيا ، وہاں امام صادق (ع) كى خدمت ميں حاضر ہوكر عرض كى كہ ميرى جان قربان، مكہ كے سديف نامى ايك شخص نے آپ كے والد كى ايك حديث بيان كى ہے فرمايا تمھيں ياد ہے؟ ميں نے عرض كى ميں نے لكھ ليا ہے_
فرمايا ذرا دكھلاؤ، ميں نے پيش كرديا، جب آخرى نقرہ كو ديكھا تو فرمايا سدير يہ روايت كب بيان كى گئي ہے؟
ميں نے عر ض كى كہ آج ساتواں دن ہے_
فرمايا ميرا خيال تھا كہ يہ حديث ميرے والد بزرگوار سے كسى انسان تك نہ پہنچے گى ، (امالى طوسى ص 649 / 1347 ، امالى مفيد 126 / 4 روايت حنان بن سدير از سديف مكي، محاسن 1 ص 173 / 266 ، ثواب الاعمال 243 /1 ، دعائم الاسلام 1 ص 75)_
امام باقر (ع) ايك شخص رسول اكرم(ص) كى خدمت ميں آيا اور كہنے لگا يا رسول اللہ كيا ہر لا الہ الا اللہ كہنے والا مومن ہوتاہے؟
فرمايا ہمارى عداوت اسے يہود و نصارى سے ملحق كرديتى ہے، تم لوگ اس وقت تك داخل جنت نہيں ہوسكتے ہو جب تك مجھ سے محبت نہ كرو، وہ شخص جھوٹا ہے جس كا خيال يہ ہے كہ مجھ سے محبت كرتاہے اور وہ على (ع) كا دشمن ہو_( امالى صدوق 221 / 17 روايت جابر بن يزيد الجعفى ، بشارة المصطفى ص 120)_
5_ روز قيامت ديدار پيغمبر (ص) سے محروميعبدالسلام بن صالح الہروى از امام رضا (ع) ... ميں نے عرض كى كہفرزند رسول (ص) پھر اس روايت كے معنى كيا ہيں كہ لا الہ الا اللہ كا ثواب يہ ہے كہ انسان پروردگار كے چہرہ كو ديكھ لے؟
فرمايا كہ اگر كسى شخص كا خيال ظاہرى چہرہ كا ہے تو وہ كافر ہے _ ياد ركھو كہ خدا كے چہرہ سے مراد انبياء مرسلين اور اس كى حجتيں ہيں جن كے وسيلہ سے اس كى طرف رخ كيا جاتاہے اور اس كے دين كى معرفت حاصل كى جاتى ہے جيسا كہ اس نے خود فرمايا ہے كہ اس كے چہرہ كے علاوہ ہر شے ہلاك ہونے والى ہے، انبياء و مرسلين اور حجج الہيہ كى طرف نظر كرنے ميں ثواب عظيم ہے اور رسول اكرم(ص) نے يہ بھى فرماياہے كہ جو ميرے اہلبيت(ع) اور ميرى عترت سے بغض ركھے گا وہ روز قيامت مجھے نہ ديكھ سكے گا اور ميں بھى اس كى طرف نظر نہ كروں گا_( عيون اخبار الرضا (ع) 1 ص 115 / 3 ، امالى صدوق 372 / /7 التوحيد 117 / 21 ، احتجاج 2 ص 380 / 286)_
6_ روز قيامت مجذوم ہونارسول اكرم(ص) جو بھى ہم اہلبيت (ع) سے بغض ركھے گا، خدا اسے روز قيامت كوڑھى محشور كرے گا _( ثواب الاعمال 243 / 2 ، محاسن 1ص 174 / 269 روايت اسماعيل الجعفى ، كافى 2 ص 337 / 2)_
7_ شفاعت سے محروميانس بن مالك ميں نے رسول (ص) اكرم كو على (ع) بن ابى طالب (ع) كى طرف رخ كركے اس آيت كى تلاوت كرتے ديكھا '' رات كے ايك حصہ ميں بيدار ہوكر يہ خدائي عطيہ ہے وہ اس طرح تمھيں مقام محمود تك پہنچانا چاہتاہے''( اسراء ص 79)_
اورپھر فرمايا _ يا على (ع) پروردگار نے مجھے اہل توحيد كى شفاعت كا اختيار دياہے ليكن تم سے اور تمھارى اولاد سے دشمنى ركھنے والوں كے بارے ميں منع كرديا ہے_( امالى طوسى 455 / 1017 ، كشف الغمہ 2 ص 27 ، تاويل الآيات الظاہرہ ص 279)_
امام صادق (ع) بيشك مومن اپنے ساتھى كى شفاعت كرسكتاہے ليكن ناصبى كى نہيں اور ناصبى كے بارے ميں اگر تمام انبياء و مرسلين مل كر بھى سفارش كريں تو يہ شفاعت كارآمد نہ ہوگى ، ثواب الاعمال 251 / 21 ، محاسن 1 ص 296 / 595 روايت على الصائغ)_
8_ داخلہ جہنم
رسول اكرم(ص) قسم ہے اس ذات كى جس كے قبضہ ميں ميرى جان ہے، ہم اہلبيت(ع) سے جو شخص بھى دشمنى كرے گا اللہ اسے جہنم ميں جھونك دے گا، (مستدرك حاكم 3 ص 162 / 4717 ، موارد الظمان 555 / 2246، مناقب كوفى 4 ص 120/607 ، درمنثور ص 349 نقل از احمد ابوحبان)_
رسول اكرم(ص) قسم ہے اس كى جس كے قبضہ ميں ميرى جان ہے كہ جو بھى ہم اہلبيت (ع) سے بغض ركھے گا پروردگار اسے جہنم ميں منھ كے بھل ڈال دے گا _( مستدرك 4 ص 392 / 8036 ، مجمع الزوائد 7 ص 580 / 12300 ، شرح الاخبار 1 ص 161 / 110 ، امالى مفيد 217 / 3 روايت ابوسعيد خدري)_
رسول اكرم(ص) اے اولاد عبدالمطلب ، ميں نے تمھارے لئے پروردگار سے تين چيزوں كا سوال كيا ہے، تمھيں ثبات قدم عنايت كرے، تمھارےگمراہوں كو ہدايت دے اور تمھارے جاہلوں كو علم عطا فرمائے اور يہ بھى دعا كى ہے كہ وہ تمھيں سخي، كريم اور رحم دل قرار ديدے كہ اگر كوئي شخص ركن و مقام كے درميان كھڑا رہے نماز، روزہ، ادا كرتارہے اور ہم اہلبيت (ع) كى عداوت كے ساتھ روز قيامت حاضر ہو تو يقيناً داخل جہنم ہوگا_( مستدرك 3 ص 161 / 4712 ، المعجم الكبير 11 ص 142 / 11412 ، امالى طوسى 21 / 117 /184 / 247 / 435 ، بشارة المصطفى ص 260 روايات ابن عباس)_
معاويہ بن خديج مجھے معاويہ بن ابى سفيان نے حضرت حسن (ع) بن على (ع) كے پاس بھيجا كہ ان كى كسى بيٹ يا بہن كے لئے يزيد كا پيغام دوں تو ميں نے جاكر مدعا پيش كيا ، انھوں نے فرمايا كہ ہم اہلبيت (ع) بچيوں كى رائے كے بغير ان كا عقد نہيں كرتے لہذا ميں پہلے اس كى رائے دريافت كرلوں_
ميں نے جاكر پيغام كا ذكر كيا تو بچى نے كہا كہ يہ اس وقت تك ممكن نہيں ہے جب تك ظالم ہمارے ساتھ فرعون جيسا برتاؤ نہ كرے كہ تمام لڑكوں كو ذبح كرے اور صرف لڑكيوں كو زندہ ركھے_
ميں نے پلٹ كر حسن (ع) سے كہا كہ آپ نے تو اس قيامت كى بچى كے پاس بھيج ديا جو امير المومنين (معاويہ) كو فرعون كہتى ہے_
تو آپ نے فرمايا معاويہ ديكھو ہم اہلبيت (ع) كى عداوت سے پرہيز كرنا كہ رسول اكرم(ص) نے فرمايا ہے كہ جو شخص بھى ہم اہل بيت (ع) سے بغض و حسد ركھے گا وہ روز قيامت جہنم كے كوڑوں سے ہنكايا جائے گا_( المعجم الكبير 3 ص 81 / 2726 ، المعجم الاوسط 3 ص
امام باقر (ع) اگر پروردگار كا پيدا كيا ہوا ہر ملك اور اس كا بھيجا ہوا ہر نبى
اور ہر صديق و شہيد ہم اہلبيت(ع) كے دشمن كى سفارش كرے كہ خدا اسے جہنم سے نكال دے تو ناممكن ہے، اس نے صاف كہہ ديا ہے، يہ جہنم ميں ہميشہ رہنے والے ہيں، سورہ كہف آيت 3 _( ثواب الاعمال 247 / 5 از حمران بن الحسين )_
امام صادق (ع) جو شخص يہ چاہتاہے كہ اسے يہ معلوم ہوجائے كہ اللہ اس سے محبت كرتاہے تو اسے چاہئے كہ اس كى اطاعت كرے اور ہمارا اتباع كرے، كيا اس نے مالك كا يہ ارشاد نہيں سناہے كہ '' پيغمبر كہہ ديجئے اگر تم لوگوں كا دعوى ہے كہ خدا كے چاہنے الے ہو تو ميرا اتباع كرو اللہ تم سے محبت كرے گا اور تمھارے گناہوں كو معاف كردے گا_(آل عمران آيت 31)_
خدا كى قسم كوئي بندہ خدا كى اطاعت نہيں كرے گا مگر يہ كہ پروردگار اپنى اطاعت ميں ہمارا اتباع شامل كردے_
اور كوئي شخص ہمارا اتباع نہيں كرے گا مگر يہ كہ پروردگار اسے محبوب بنالے اور جو شخص ہمارا اتباع ترك كردے گا وہ ہمارا دشمن ہوگا اور جو ہمارا دشمن ہوگا وہ اللہ كا گناہگار ہوگا اور جو گنہگار مرجائے گا اسے خدا رسوا كرے گا اور منہ كے بھل جہنم ميں ڈال دے گا، والحمدللہ رب العالمين ( كافى 8 ص 14 / 1 روايت اسماعيل بن مخلدو اسماعيل بن جابر)_
اما م كاظم (ع) جو ہم سے بغض ركھے، وہ حضرت محمد(ص) كا دشمن ہوگا اور جو ان كا دشمن ہوگا وہ خدا كا دشمن ہوگا اور جو خدا كا دشمن ہوگا اس كے بارے ميں خدا كا فرض ہے كہ وہ اسے جہنم ميں ڈال دے اور اس كا كوئي مددگار نہ ہو ( كامل الزيارات ص 336 روايت عبدالرحمان بن مسلم)_

 


source : http://www.shiastudies.com
  843
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ
اسلامي معاشرہ اور خاتون
اتحاد کے اچھے اور تفرقہ کے برے آثار
غدیر اور اخوت اسلامی
قرآن کی فصاحت و بلاغت
استاد شہید مطہری
عید کے دن شکر کریں احتجاج نہیں
حضرت فاطمہ زھرا (س) کا اخلاقی وجود تاریخ کی روشنی میں
یوسف قرآن (حصہ اول)
دنیا بھر میں عید سعید غدیر کے جشن کا انعقاد

 
user comment