اردو
Monday 28th of September 2020
  1269
  0
  0

کلام نور۔ 14 (سورۂ بقرہ 23 ۔ 22 )(قرآنی پیغام)

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

خداوند قرآن کی حمد و نیائش اور محمد و آل محمد علیہم السلام پر درود و ستائش کے ساتھ کلام نور لیکر حاضر ہیں سورۂ بقرہ کی بائیسویں آیت میں جو اس سے قبل کی آیت کا ہی تتمہ ہے خداوند عالم نے کچھ آفاقی آیات کے قالب میں اپنی ربوبیت کی وضاحت کی ہے اور انسانوں کو اپنی توحید ربوبی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس سلسلے میں ہر قسم کے ظاہر و پوشیدہ شرک سے بچنے کا حکم دیا ہے تا کہ یہ انسان جو " الی اللہ " کی راہ کا مسافر ہے عبادت و ومعرفت کے پرتو میں توشۂ سفر یعنی " تقوے" سے خود کو مزین کرے اور یاد رکھے تمام چھوٹے بڑے جزئی اور کلی امور کا انتظام و انصرام اور کائنات کی تخلیق کے تمام اسباب و محرکات اور مخلوقات عالم کی پرورش و حفاظت کی ذمہ داری اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے دنیا اور دنیا کی کوئی بھی شے اپنا کوئی مستقل وجود اور اثر نہیں رکھتی لہذا کوئی بھی خدا کی خالقیت یا ربوبیت میں اللہ کا شریک نہیں قرار دیا جا سکتا چنانچہ اللہ نے انسان کو اسی توحیدی فطرت پر پیدا کیا ہے اگر وہ اپنی فطرت پر باقی رہے یا فطرت کی طرف بازگشت اختیار کرلے تو یہ آواز توحید خود اس کے اپنے وجود میں پیدا ہوگی اور آفاق کائنات کی آواز سے ہم آہنگ ہوجائے گی۔ ارشاد ہوتا ہے : 

" اَلّذی جَعَلَ لَکُمُ الاَرضَ فِراشًا وَ السّمَاءَ بِنَاءً وَ اَنزَلَ مِنَ السّمَاءِ مَاءً فَاَخرَجَ بِہ ، مِنَ الثّمَرَاتِ رِزقًا لّکُم فلا تجعَلُوا ِللّہِ اَندَادًا وَ اَنتُم تعلَمُون " 

( یعنی) وہی ( اللہ ) جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا اور آسمان کی وسیع بنا ( شامیانے کی صورت میں ) قرار دی اور آسمان سے پانی برسایا اور اس سے تمہارے لئے ( قسم قسم کے ) پھلوں ( اور پھولوں ) کی صورت میں روزی پیدا کی پس خدا کے لئے کسی کو شریک و ہمتا قرار نہ دینا اب جبکہ تم کو معلوم ہوچکا ہے ( کہ تمہارے خودساختہ معبود نہ تمہارے خالق ہیں نہ رازق ہیں بلکہ یہ سارے کلام خدا کے ہیں ) 

عزيزان محترم! اس سے قبل خداوند عالم نے " یا ایّہا النّاس " کے ذریعے تمام انسانوں کو مخاطب بناکر اپنے خالق و مدبر پروردگار کی عبادت کی دعوت دی اور اب اس آیت میں تمام انسانوں کے شامل حال، اللہ کی طرح طرح کی نعمتوں کا ذکر کیا ہے کہ انسانی زندگي کے لئے مناسب ترین منزل، زمین اللہ نے ہی پیدا کی ہے اور چونکہ زمین خود اپنی جگہ تنہا انسانوں کی پیدائش و پرورش اور حیوانات و نباتات و جمادات کی حیات اور نشو و نما کے لئے کافی نہیں ہے اللہ نے شامیانے کی صورت میں سروں پر تنے آسمان قرار دئے جس کے سینے سے طلوع ہونے والی خورشید کی تابش سینہ زمین پر بہنے والے پانی کو بھاپ میں تبدیل کرتی اور بھاپ بادلوں کی صورت میں پانی کی چھاگلیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجاکر پیاسی زمینوں کو سیراب کردیتے ہیں اور زمین سے طرح طرح کے پھل پھول اگتے اور انسانوں کی روزی کا سامان فراہم کرتے ہیں اور انسان آرام و سکون کی زندگی بسر کرتا ہے یہ سب کچھ اللہ نے ہی مہیا کیا ہے کرۂ خاکی پر پھیلے کوہ و دشت ، آب و خاک اور زمین کے اندر پھیلے رنگارنگ معادن اور تیل و گیس کے ذخیرے انسان کی حیات اور روزي کی فراہمی میں کس قدر موثر ہیں اللہ کی ان تمام نعمتوں کے باوجود بھلا ایک انسان کے لئے کہاں زیب دیتا ہے کہ وہ خود ساختہ معبود قرار دیکر " شرک باللہ " کا ارتکاب کرے جبکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی تخلیق اور پرورش میں غیر اللہ کا کوئی کردار نہیں ہے ۔

یہاں ایک لطیف پہلو کی طرف اشارہ کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ خداوند عالم نے قرآن حکیم میں جہاں تمام انسانوں کو مخاطب بنایا ہے اپنی ربوبیت کا بیان، اپنی ظاہری نعمتوں کے قالب میں کیا ہے اور وہ نعمتیں ذکر کی ہیں جن میں انسان کے ساتھ دوسرے حیوانات و غیرہ بھی شریک ہیں جیسا کہ ذکر شدہ آیت کے علاوہ سورۂ عبس کی بتیسویں آیت میں فرمایا ہے : " مَتَاعًا لّکُم وَ لِاَنعَامِکُم " ( چوبیسویں آیت سے اکتیسویں آیت تک تمام ذکر شدہ نعمتیں اے انسانو! تمہیں دیکھنا چاہئے کہ ) تمہارے اور تمہارے چوپاؤں کے فائدے اور استعمال کے لئے ہیں یا سورۂ طہ کی چونویں آیت میں ہے : " کُلُوا وَارعَوا اَنعَامَکُم" کہ (پچھلی دو آیتوں میں ذکر شدہ نعمتوں کی پیداوار) تم خود بھی کھاؤ اور چوپاؤں کو بھی ان میں چراؤ ۔ لیکن جہاں اللہ کے مخاطب خصوصی طور پر مومنین ہیں خدا نے اپنی ربوبیت کے ذیل میں معنوی اور باطنی نعمتوں کا ذکر کیا ہے اور رسولوں کی بعثت کتابوں کا نزول اور نبوت و امامت اور خلافت کا مرکز قرار دیکر انسانوں کا فرشتوں کی منزل میں قرار دیا جانا ذکر کیا ہے جیسا کہ سورۂ آل عمران کی اٹھارہویں آیت میں خدا فرماتا ہے : " خود اللہ گواہ ہے کہ اس کے سوا کوئی اللہ نہیں ہے اور اس بات کے ملائکہ اور صاحبان علم گواہ ہیں " گویا وحدانیت کی گواہی ہیں انسان کو فرشتوں کی صف میں رکھا ہے؛ اور اب سورۂ بقرہ کی 23 ویں آیت / ارشاد ہوتا ہے: 

" وَ اِن کُنتُم فِی رَیبٍ مِّمّا نَزّلنَا عَلی عَبدِنَا فَاتُوا بِسُورَۃٍ مِّن مِّثلِہِ وَ ادعُوا شُہَدَاءَ کُم مِن دُونِ اللہِ اِن کُنتُم صَادِقِینَ " 

اور ( اے انسانو!) اگر تم کو اس ( قرآن کی باتوں) میں شک و شبہ ہے جو ہم نے اپنے بندے (محمدص) پر نازل کیا ہے تو اس کے جیسا ایک سورہ ہی لے آؤ اور خدا کے علاوہ( خود ساختہ معبودوں یا اپنی ہاں میں ہاں ملانے والے معین و مددگار) گواہوں کو بھی ملالو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو ۔

عزیزان محترم! اسلام کے بنیادی ترین اصول، خداوند عظیم کی " توحید" ربوبیت و عبودیت کا اعلان کرنے کے بعد اس آیت میں اسلام کے ایک اور بنیادی اصول نبوت و رسالت اور قرآن و شریعت کی حقانیت کا اعلان چیلنج کے انداز میں کیا گیا ہے کہ اگر کسی کو مرسل اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی رسالت اور ان کے زندہ معجزے قرآن کریم کی حقانیت کے بارے میں شک و شبہ ہے تو اس قرآن کے ایک سورے کا ہی جواب لے آئے اور خدا کے علاوہ جس کسی کو چاہے اپنا مددگار بنالے، تم کبھی اس کا جواب نہیں لاسکوگے کیونکہ یہ خدا کا کلام ہے جس کو تم فکر انسانی کا نتیجہ سمجھ کر نبی(ص) کی رسالت میں شک و شبہ ایجاد کررہے ہو۔ اگر ایسا ہے تو اس کے جیسا تم بھی پیش کرسکتے ہو، مل جل کر اس کے جیسا ایک سورہ بھی پیش کردو تو ہم تمہارے دعوت کو سچا مان لیں گے لیکن اس سلسلے میں تمہاری عاجزی اور ناتوانی ہی قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے اور محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے " رسول اللہ " ہونے کی واضح دلیل ہے ۔

قرآن سے متعلق ایک جگہ " لاریب فیہ " کہ اسمیں شک کی کوئی گنجائش نہیں اور یہاں " اِن کُنتُم فِی رَیبٍ" اگر تم کو اس ( کتاب کے بارے ) میں شک ہے کا جملہ کوئی غلط فہمی پیدا نہ کرے دونوں کا مطلب ایک ہی ہے کہ قرآن کریم میں ، قرآن نازل کرنے والے خدا کی طرف سے شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے اب اگر قرآن جنکے ہاتھوں میں ہے انہیں اس کتاب کے بارے میں شک ہے تو یہ ان کے کفر، نفاق یا جہالت کا نتیجہ ہوسکتا ہے خود قرآن شک و شبہ کا باعث ہو، ایسا نہیں ہے قرآن تو سراسر ہدایت اور شفاؤ رحمت ہے ۔ چنانچہ سورۂ ص کی اٹھویں آیت میں خدا فرماتا ہے : " کیا ہم سب کے درمیان صرف ان ( کفار) پر ہی کتاب الہی نازل ہوئی ہے دراصل یہ ( کافر) میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں ۔" یعنی شک کفار کے کفر کا نتیجہ ہے ۔

یہ کفار و منافقین کبھی تو کہتے تھے " یہ کلام ، اللہ کا کلام نہیں ہے " اور کبھی کہتے تھے " اگر یہ خدا کا کلام ہے اور محمد عربی پر نازل ہوا ہے تو ہم پر نازل کیوں نہیں ہوتا " جواب میں خدا فرماتا ہے اگر قرآن کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے اور کہتے ہو " لَو نَشَاءُ لَقُلنَا مِثلَ ہذَا " (انفال/31) ہم خود بھی چاہیں تو ایسا ہی کلام کہہ سکتے ہیں، تو ٹھیک ہے" فاتُوا بِسُورَۃٍ مِّن مِّثلِہ" اس کے جیسا ایک سورہ ہی لے آؤ اور اگر محمد (ص) عربی پر قرآن کیوں نازل ہوا ، تم پر کیوں نہ ہوا، اس پر اعتراض اور شک ہے تو سنو" اَللہُ اَعلَمُ حَیثُ یَجعَلُ رِسَالَتَہ " ( انعام/ 124) ہر شخص کلام اللہ کا حامل نہیں بن سکتا " اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے"

عزيزان محترم! یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ خدا نے قرآن کے مخالفین کو کافی چھوٹ دی ہے پھر بھی وہ قرآن کا جواب لانے سے عاجز رہے ہیں ایک جگہ کہا قرآن کا مثل لاؤ ، نہ لاسکے تو کہا اس کے مثل دس سورے لاؤ وہ بھی ممکن نہ ہوا تو کہا کم از کم ایک ہی سورہ لے آؤ اور مخالفین یہ بھی نہ کرسکے ۔دوسری طرف قرآن نے ایک اور سہولت دی کہ اگر اکیلے نہیں بنتا تو خدا کے سوا جس کو چاہو اپنا مددگار بنالو مگر آج تک مخالفین قرآن سے یہ بھی ممکن نہیں ہوسکا ہے اور یہ قرآن کے اعجاز کی ایک اور محکم دلیل ہے ۔

چنانچہ معجزے تو خدا نے دوسرے نبیوں کو بھی دئے ہیں مگر خدا کے آخری رسول (ص) کے معجزے قرآن حکیم کی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ قرآن کا معجزہ ہونا باہر سے کسی دلیل کا محتاج نہیں ہے خود قرآن اپنے اعجاز ہونے کا بولتا اعلان ہے یعنی قرآن قانون بھی ہے اور قانون الہی ہونے کا ثبوت بھی ہے؛ قرآن ہر دور اور ہر زمانے کے ہر ملک و قوم کے لئے معجزہ ہے اس کا اعجاز کسی دور اور کسی قوم میں محدود نہیں ہے ، وقت کے ساتھ قرآنی معارف اور زيادہ روشن اور شگوفہ آور ہوتے جارہے ہیں۔

معلوم ہوا: خدا کی نعمتوں پر توجہ خدا کی معرفت اور عبادت و بندگی کی بہترین راہ ہے اور آسمان و زمین اور ان کے درمیان موجود تمام مخلوقات میں پائی جانے والی ہماہنگی اور نظم کائنات خدا کے خالق و پروردگار ہونے کے ساتھ اس کے ایک اور لاشریک ہونے کی بھی دلیل ہے ۔

- "خدا کا بندہ ہونا "کوئی ذلت نہیں ہے بلکہ بندگی عظمت کی حامل ہے اور ایک انسان کے یہاں حامل وحی و قرآن ہونے کی لیاقت پیدا کردیتی ہے اسی لئے خدا نے نزول قرآن کی منزل میں "عبدنا" کے ذریعے اپنے نبی کا تعارف کرایا ہے ۔

- قرآن خدا کا کلام اور خدا کا قانون ہے اس لئے اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

- قرآن اللہ کی وہ جاوداں کتاب ہے جو ہر دور اور ہر قوم کے لئے معجزہ ہے اور سراسر ہدایت ہے ۔

 

 

 


source : http://urdu.irib.ir/
  1269
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

علی (ع) خیرالبشر
بعثت انبیا کا حقیقی ھدف اور غرض وغایت
امام مہدی (عج) قرآن و حدیث کی روشنی میں
حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق
پیغمبر اسلام(ص)کے کلام میں مومن اور منافق کی پہچان کا ...
اہل سنت کی معروف کتابوں میں شیعہ راویوں کےنام
علامہ سید عبدالحسین شرف الدین موسوی ( علیہ ...
ذبح عظیم کا مفہوم
حدیث ثقلین کی تحقیق (حصّہ سوّم)
عقل خدا کي لازوال نعمت

 
user comment