اردو
Monday 21st of September 2020
  12
  0
  0

حقيقت شيعه شعيت کي حقيقت اور اس کي نشو و نما(آخری فصل)

خاتمہ

جو کچھ گذر چکا ہے اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ تشیع کا وجود سرکار ختمی مرتبت کی حیات میں تھا آپ نے اس کو پالا پوسا اور حضرت علی کی مستقل اس میں مدد شامل تھی اور لوگوں کواس جانب دعوت دی اور اس بات کی خبر دی کہ یہ حق پر ہے اوران کے شیعہ کامیاب ہیں۔

حضرت علی کی وصایت عبد اللہ بن سبا کا دعویٰ نہیں ہے بلکہ ابتدائے اسلام سے ہی حضور نے اس کی صراحت فرما دی تھی، کہا جاتا ہے کہ عبد اللہ بن سبا موجود یا موہوم سے جب اصحاب نے رسول کے وصی کے بارے میں سوال کیا تو اس نے جواب میں وصی کی خبر دی، یہاں تک کہ حضرت علی وصی کے نام سے مشہور ہوگئے اور شعراء نے اس کو بہت الاپا اور یہ لفظ لغت کی کتابوں میں بھی داخل ہوگیا۔

ابن منظور کے بقول: حضرت علی کو وصی کہا جاتا ہے۔[138]

زبیدی کہتا ہے: وصی غنی کی طرح ہے جو علی کا لقب تھا۔[139]

ابن ابی الحدید نے دس ایسے اشعار کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے جس میں اصحاب نے حضرت علی کو وصی کے لقب سے یاد کیا ہے[140]

شروع کے شیعہ حضرات سابق الایمان اور عظیم اصحاب تھے اور یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے علی کے خط تشیع پر عمل کیا اور لوگوں کے درمیان اس کی تبلیغ کی، ابتدائی شیعہ سب اصیل عرب تھے۔

گولڈ شیارڈ کہتا ہے: تشیع اسلام کی طرح عربی ہے اور اس کی نشو و نما عرب ہی میں ہوئی ہے۔[141]

جو لوگ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اس بات کا اظہار کریں کہ ایرانی، تشیع میں صرف اس لئے داخل ہوئے تھے کہ اسلام کو ختم کردیں اوراپنے مجوس عقائد کو اسلام میں شامل کردیں،ان کے لئے عرض ہے کہ اہلسنت کی عظیم شخصیات سب ایران کی رہنے والی تھیں، بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، ابو حنیفہ وغیرہ اوران کے علاوہ دیگر فقہاء و محدثین سب ایرانی تھے اگر ایرانیوں کا مقصد اسلا م کو ڈھانا تھا تو ایران کے رہنے والے اہل سنت کی ان عظیم شخصیتوں کا بھی نصب العین وہی ہونا چاہیئے ہم تو صرف ان کے دعووٴں کو مصداق دے رہے ہیں۔

حقیقت حال یہ ہے کہ تشیع خط اسلام پر سالک ہے اورانحراف سے بہت دور ہے اور روز و شب کی گردش کے ساتھ خود ساختہ شکوک و شبہات کا سامنا کرتا رہا ہے یہاں تک کہ خدا اپنا فیصلہ ظاہر کرے گا۔

--------

[138] لسان العرب، ج ۱۵، ص۳۹۴

[139] تاج العروس، ج۱۰، ص۳۹۲

[140] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱، ۱۴۳

[141] العقیدة والشریعہ فی الاسلام، ص۲۰۵

مصادر و منابع

۱۔ لسان العرب،ابن منظور

۲۔السیرة النبویة، لاحمد زینی دحلان 

۳۔ السیرة الحلبیة، لبرہان الدین حلبی 

۴۔ مغازی، واقدی

۵۔ مسند احمد (احمد بن حنبل)

۶۔ صحیح بخاری، محمد بن اسماعیل بخاری 

۷۔ صحیح مسلم (مسلم بن الحجاج القشیری)

۸۔ سنن ابن ماجة ، ابن ماجہ قزوینی

۹۔ المصنف، ابن ابی قتیبہ

۱۰ ۔ المسند، حمیدی

۱۱۔ المسند،ابی یعلی 

۱۲۔ طبقات الکبریٰ، ابن سعد

۱۳۔ تاریخ یعقوبی، ابن واضح یعقوبی

۱۴۔ الکامل فی التاریخ، ابن اثیر

۱۵۔ شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید المعتزلی

۱۶۔ کنز العمال ، متقی ہندی

۱۷۔ انساب الاشراف، بلاذری

۱۸۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر

۱۹۔ مختصر تاریخ دمشق، ابن منظور

۲۰۔المستدرک علی الصحیحین، حاکم نیشاپوری

۲۱۔ جامع ترمذی، (ترمذی)

۲۲۔ سنن نسائی، احمد بن شعیب نسائی

۲۳۔ سنن دارمی (دارمی)

۲۴۔ الصواعق المحرقہ ، ابن حجر ھیثمی مکی

۲۵۔ مجمع الزوائد، نور الدین ھیثمی

۲۶۔ فیض القدیر، مناوی

۲۷۔ حلیة الاولیاء، ابی نعیم

۲۸۔ تاریخ بغداد، خطیب بغدادی

۲۹۔ ذخائر العقبیٰ، محب الطبری

۳۰۔ ریاض النضرة، محب الطبری

۳۱۔ اسد الغابہ ، ابن اثیر

۳۲۔ اسباب النزول، واحدی

۳۳۔ السنن الکبریٰ، بیہقی

۳۴۔ السیرة النبویة، لابن ہشام

۳۵۔ المعجم الکبیر، طبرانی

۳۶۔ البدایہ و النہایہ، ابن کثیر دمشقی

۳۷۔ مصابیح السنہ ، بغوی

۳۸۔ مشکاة المصابیح، سبط ابن جوزی

۳۹۔ تذکرة الخواص، سبط ابن الجوزی

۴۰۔ فضائل،احمد بن حنبل

۴۱۔ مسند طیالسی، (الطیالسی)

۴۲۔ تفسیر الطبری، ابن جریر الطبری

۴۳۔ الاموال، (ابو عبید)

۴۴۔ المنتظم، ابن الجوزی

۴۵۔ المعجم الاوسط، طبرانی

۴۶۔ الاستیعاب، ابن عبد البر

۴۷۔ الفردوس بماٴثور الخطاب، دیلمی

۴۸۔ معرفة الصحابة، ابی نعیم

۴۹۔ شرح المواہب اللدنیہ، زرقانی

۵۰۔ فرائد السمطین، للحموئی

۵۱۔ نظم درر السمطین ، جمال الدین الزرندی

۵۲۔ فصول المہمہ، ابن صباغ مالکی

۵۳۔ احیاء علوم الدین، غزالی

۵۴۔ کنوز الحقائق ، مناوی

۵۵۔ تہذیب التہذیب، ابن حجر عسقلانی

۵۶۔ الاصابہ فی معرفة الصحابہ، ابن حجر عسقلانی

۵۷۔ کفایة الطالب، گنجی

 

 

 


source : http://www.alhassanain.com
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

انسانی امتیازات
امیرالمومنین (ع)انسانیت کے لۓمکمل نمونہ عمل
امام جواد کے نام امام رضا کا ایک اہم خط
خوشبوئے حیات حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام(حصہ دوم)
ولادت امام زین العابدین علیہ السلام
اللہ کے مبلغ اور لوگوں کے معلم
غیبت بیماری کے اسباب اور اس کا علاج
ذاتي اخلاق و کردار
شہادت امام حسن عسکری علیہ السلام
کربلا

latest article

انسانی امتیازات
امیرالمومنین (ع)انسانیت کے لۓمکمل نمونہ عمل
امام جواد کے نام امام رضا کا ایک اہم خط
خوشبوئے حیات حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام(حصہ دوم)
ولادت امام زین العابدین علیہ السلام
اللہ کے مبلغ اور لوگوں کے معلم
غیبت بیماری کے اسباب اور اس کا علاج
ذاتي اخلاق و کردار
شہادت امام حسن عسکری علیہ السلام
کربلا

 
user comment