اردو
Friday 18th of September 2020
  12
  0
  0

نيكيوں سے مزين ھونا اور برائيوں سے پرھيز كرنا

يتيموں پر احسان

قرآن مجيد نے تقريباً 18 مقامات پر يتيم سے محبت اور اس كے مال كي حفاظت اور اس كي تربيت و ترقي كي سفارش كي ھے۔ 

(( ۔۔۔ وَيسْاٴَلُونَكَ عَنْ الْيتَامَي قُلْ إِصْلاَحٌ لَھم خَيرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوھم فَإِخْوَانُكُمْ وَاللهُ يعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنْ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَاٴَعْنَتَكُمْ إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ))۔ 375 

”اور يہ لوگ تم سے يتيموں كے بارے ميں سوال كرتے ھيں تو كہہ دوكہ ان كے حال كي اصلاح بھترين بات ھے اور اگر ان سے مل جل كر رھو تو يہ بھي تمھارے بھائي ھيں اور اللہ بھتر جانتا ھے كہ مصلح كون ھے اور مفسد كون ھے اگر وہ چاھتا تو تمھيں مصيبت ميں ڈال ديتا ليكن وہ صاحب عزت بھي ھے اور صاحب حكمت بھي ھے“۔ 

((وَآتُوا الْيتَامَي اٴَمْوَالَھم وَلاَتَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيبِ وَلاَتَاٴْكُلُوا اٴَمْوَالَھم إِلَي اٴَمْوَالِكُمْ إِنَّہُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا))۔ 376 

”اور يتيموں كو ان كامال دےدو اور ان كے مال كو اپنے مال سے نہ بدلو اور ان كے مال كو اپنے مال كے ساتھ ملا كر نہ كھاجاوٴ كہ يہ گناہ كبيرہ ھے“۔ 

(( إِنَّ الَّذِينَ ياٴْكُلُونَ اٴَمْوَالَ الْيتَامَي ظُلْمًا إِنَّمَا ياٴْكُلُونَ فِي بُطُونِھم نَارًا وَسَيصْلَوْنَ سَعِيرًا))۔ 377 

”جو لوگ ظالمانہ انداز سے يتيموں كا مال كھا جاتے ھيں وہ درحقيقت اپنے پيٹ ميں آگ بھر رھے ھيں اور عنقريب واصل جہنم ھوں گے“۔ 

(( ۔۔۔وَاٴَنْ تَقُومُوا لِلْيتَامَي بِالْقِسْطِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيرٍ فَإِنَّ اللهَ كَانَ بِہِ عَلِيمًا))۔ 378 

”۔۔۔اور ان كمزور بچوں كے بارے ميں انصاف كے ساتھ قيام كرو اور جو بھي تم كا ر خير كروگے خدا س كا بخوبي جاننے والا ھے“۔ 

((وَلاَتَقْرَبُوا مَالَ الْيتِيمِ إِلاَّ بِالَّتِي ہِي اٴَحْسَنُ حَتَّي يبْلُغَ اٴَشُدَّہُ۔۔۔))۔379 

”اور خبردار مال يتيم كے قريب بھي نہ جانا مگر اس طريقہ سے جو بھترين طريقہ ھو يھاں تك كہ وہ توانائي كي عمر تك پہنچ جائيں۔۔۔“۔ 

حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم سے فرماتے ھيں: 

”مَنْ قَبَضَ يتيماً مِنْ بَينِ الْمُسْلِمينَ اِليٰ طَعامِہِ وَشَرابِہِ، اَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّةَ اَلْبَتَّةَ اِلا اَنْ يعْمَلَ ذَنْباً لَا يغْفَرُ“۔380 

”جو شخص كسي مسلمان يتيم بچہ كي پرورش اور خرچ كي ذمہ دارى لے لے تو يقينا خداوندعالم اس پر جنت واجب كرديتا ھے، مگر يہ كہ غير قابل بخشش گناہ كا مرتكب ھوجائے“۔ 

نيز آنحضرت صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كا فرمان ھے: 

”اِنَّ فِي الْجَنَّةِ داراً يقالُ لَھا دارُ الْفَرَحِ، لَا يدْخُلُھا اِلاَّ مَنْ فَرَّحَ يتامَي الْمُوٴمِنينَ“۔381 

”بے شك جنت ميں ايك مكان ھے جس كو ”دار الفرح“ (يعني خوشيوں كا گھر) كھا جاتا ھے، اس ميں صرف وھي مومن داخل ھوسكتے ھيں جنھوں نے يتيم مومن بچوں كو خوشحال كيا ھو“۔ 

”اَتَي النَّبِي رَجُلٌ يشْكُو قَسْوَةَ قَلْبِہِ، قالَ:اَتُحِبُّ اَنْ يلينَ قَلْبُكَ وَتُدْرِكَ حاجَتَكَ؟اِرْحَمِ الْيتيمَ، وَامْسَحْ رَاٴْسَہُ، وَاَطْعِمْہُ مِنْ طَعامِكَ، يلِنْ قَلْبُكَ، وَتُدْرِكَ حاجَتَكَ“۔382 

”ايك شخص پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كي خدمت ميں حاضر ھوا، اور اپني سنگدلي كي شكايت كى، آنحضرت صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا: اگرتم چاھتے ھو كہ تمھارا دل نرم ھوجائے، اور اپني مراد حاصل كرلو؟ تم يتيم بچوں پر مھرباني كرو، ان كے سرپر دست شفقت پھيرو، ان كو كھانا كھلاؤ، تو تمھارا دل نرم ھوجائے گااور تمھيں تمھاري مراديں مل جائےں گي“۔ 

حضرت علي عليہ السلام نے فرمايا: 

”مامِنْ مُوٴمِنٍ وَلَا مُوٴمِنَةٍ يضَعُ يدَہُ عَليٰ رَاٴْسِ يتيمٍ تَرَحُّماً لَہُ اِلّا كَتَبَ اللّٰہُ لَہُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مَرَّتْ يدُہُ عَلَيھَا حَسَنَةً“۔383 

”جب كوئي مومن كسي يتيم كے سر پر دست نوازش پھيرتا ھے تو خداوندعالم اس كے ھاتھ كے نيچے گزرنے والے ھر بال كے بدلہ نيكى اور حسنہ لكھ ديتا ھے“۔ 

مسكينوں پر احسان كرنا

مسكين يعني وہ شخص جو زمين گيراورلاچار ھوگيا ھو، اور تھي دستي اور غربت كا شكار ھوگيا ھو، جس كے لئے درآمد كا كا كوئي طريقہ باقي نہ رہ گيا ھو۔ 

ھر مومن پر خدا كي طرف سے ذمہ دارى اور وظيفہ ھے كہ اپنے مال سے اس كي مدد كرے، اور اس كي عزت كو محفوظ ركھتے ھوئے اس كي مشكلات كو دور كرنے كوشش كرے۔ 

قرآن مجيد نے مساكين پر توجہ كو واجب قرار ديا ھے، اور ان كي مشكلات كو دور كرنے كو عبادت خدا شمار كيا ھے، كيونكہ خداوندعالم مساكين پر خاص توجہ، اور ان كے چين و سكون كا راستہ ھموار كئے جانے كو پسند كرتا ھے۔ 

مساكين كي نسبت لاپرواھي كرنا بھت بُرا ھے اور قرآن مجيد كے فرمان كے مطابق روز قيامت ايسا شخص عذاب الٰھي ميں گرفتار ھوگا۔ 

(( وَآتِ ذَا الْقُرْبَي حَقَّہُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلاَتُبَذِّرْ تَبْذِيرًا))۔ 384 

”اور ديكھو قرابتداروں، مسكين اور غربت زدہ مسافر كو اس كاحق دےدو اور خبردار اسراف سے كام نہ لينا“۔ 

(( ۔۔۔ وَآتَي الْمَالَ عَلَي حُبِّہِ ذَوِي الْقُرْبَي وَالْيتَامَي وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ۔۔۔))۔385 

”۔۔۔اور محبت خدا ميں قرابتداروں، يتيموں، مسكينوں، غربت زدہ مسافروں، سوال كرنے والوں اور غلاموں كي آزادي كے لئے مال دے۔۔۔“۔ 

(( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيھا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُھم وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَاِبْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنْ اللهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ))۔ 386 

”صدقات و خيرات بس فقراء، مساكين اور ان كے كام كرنے والے اور جن كي تاليف قلب كي جاتي ھے اور غلاموں كي گردن كي آزادي ميں اور قرضداروں كے لئے راہ خدا ميں اور غربت زدہ مسافروں كے لئے ھيں يہ اللہ كي طرف سے فريضہ ھے اور اللہ خوب جاننے والاھے اور صاحب حكمت ھے“۔ 

مساكين كي نسبت بے توجھي اور ان كي مدد نہ كرنا نہ صرف يہ كہ آخرت كے عذاب كا باعث ھے بلكہ انسان كي زندگي ميں بھي اس كے برے آثار ظاھر ھوتے ھيں۔ 

خداوندعالم نے سورہ ”ن و القلم“ آيات 17 تا 33 ميں ان بھائيوں كي داستان كو بيان كيا ھے جن كو باپ كي ميراث ميں ايك بھت بڑا اور پھل دار باغ ملا، ليكن انھوں نے اپنے باپ كے برخلاف عمل كيا ان كا باپ غريب غرباء كا بھت خيال ركھتا تھا، انھوں نے باپ كي ميراث ملتے ھي ايك ميٹنگ كي اور يہ طے كيا كہ كل صبح جب باغ كے پھلوں كو اتارا جائے گا تو كسي بھي غريب و مسكين كي مدد نھيں كي جائے گى، اور باغ كے دروازہ كو بند كرديا جائے تاكہ كوئي غريب و مسكين آنے نہ پائے، ليكن ان كي اس شيطاني و پليد فكر كي وجہ سے بحكم خدا اسي رات بجلي گري اور پھلوں سے لدے ھوئے تمام باغ كو جلا ڈالا، اور اس سرسبز علاقے ميں اس باغ كي ايك مٹھي راكھ كے علاوہ كچھ باقي نہ بچا۔ 

جيسے ھي وہ لوگ صبح صبح اپنے منصوبہ كے مطابق پھل اتارنے كے لئے باغ ميں پہنچے تو باغ كي يہ عجيب و غريب حالت ديكھي تو ايك دوسرے كو ملامت كرنے لگے، اور فرياد بلند كي كہ افسوس !!ھمارے اوپر كہ ھم نے احكام الٰھي اور اس كے حدود سے تجاوز كيا اور اھل طغيان و تجاوز ھوگئے۔ 

قرآن مجيد مشكلات نازل ھونے اورفقر و تنگدستي ميں مبتلا ھونے كا باعث مساكين كي مدد نہ كرنے كو بيان كرتا ھے: 

(( وَاٴَمَّا اِذَا مَا ابْتَلَاہُ فَقَدَرَ عَلَيہِ رِزْقَہُ فَيقُولُ رَبِّي اٴَھَانَنِ ۔ كَلَّابَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيتِيمَ۔وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَيٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ۔ وَتَاٴْكُلُونَ التُّرَاثَ اٴَكْلاً لَّماً وَتُحِبُّونَ الّمَالَ حُبًّا جَمّاً))۔ 387 

”اورجب آزمائش كے لئے روزي كو تنگ كرديا توكہنے لگا كہ ميرے پروردگار نے ميري توھين كي ھے۔ايسا ھرگز نھيں ھے بلكہ تم يتيموں كا احترام نھيں كرتے ھو۔اور لوگوں كو مسكينوں كوكھانا كھانے پر آمادہ نھيں كرتے ھو اور ميراث كے مال كو اكٹھا كر كے حلال وحرام سب كھاجاتے ھو۔اور مال دنيا كو بھت دوست ركھتے ھو“۔ 

قرآن مجيد نے سورہ الحاقہ ميں ايك گروہ كے لئے بھت سخت عذاب كے بارے ميں بيان كيا ھے جن كے عذاب كے دو سبب بيان كئے ھيں: 

1۔ خدا پر ايمان نہ ركھنا۔ 

2۔ مساكين كو كھانے كھلانے ميںرغبت نہ ركھنا۔ 

آيات كا ترجمہ اس طرح ھے: 

”ليكن جس كا نامہ اعمال بائيں ھاتھ ميں ديا جائے گا وہ كھے گا: ”اے كاش يہ نامہ اعمال مجھے نہ ديا جاتا۔ اور مجھے اپنا حساب نہ معلوم ھوتا۔ اے كاش اس موت ھي نے ميرا فيصلہ كرديا ھوتا۔ميرا مال بھي ميرے كام نہ آيا۔ اور ميري حكومت بھي برباد ھوگئي“۔ اب اسے پكڑو اور گرفتار كرلو۔ پھر اسے جہنم ميں جھونك دو۔ پھر ايك ستر گز كي رسي ميں اسے جكڑ لو۔ يہ خدائے عظيم پر ايمان نھيں ركھتا تھا۔ اور لوگوں كو مسكينوں كے كھلانے پر آمادہ نھيں كرتا تھا۔تو آج اس كا يھاں كوئي غمخوار نھيں ھے۔ اور نہ پيپ كے علاوہ كوئي غذا ھے۔ جسے گناھگاروں كے علاوہ كوئي نھيں كھاسكتا“۔388 

قارئين كرام! واقعاً غرباء اورمساكين كي طرف توجہ كرنا اتنااھم ھے كہ جس سے غفلت كرنے والا خداوندعالم كي نظر ميں قابل نفرت ھے اور روز قيامت سخت ترين عذاب كا حقدار ھوگا۔ 

جناب جبرئيل سے نقل ھوا ھے كہ فرمايا: 

”اَنا مِنَ الدُّنْيا اُحِبُّ ثَلاثَةَ اَشْياءَ:اِرْشادَ الضّالِّ وَاِعانَةَ الْمَظْلومِ وَمَحَبَّةَ الْمَساكِينِ“۔389 

”ميں دنيا كي تين چيزوں كو دوست ركھتا ھوں: راستہ بھٹكے ھوئے كي راہنمائى، مظلوم كي مدد اور مساكين كے ساتھ محبت“۔ 

حضرت امام صادق عليہ السلام نے فرمايا: 

”فَمَنْ واسا ھُمْ بِحَواشِي مالِہِ وَسَّعَ اللّٰہُ عَلَيہِ جِنانَہُ وَاَنالَہُ غُفْرانْہُ وْرِضْوانَہُ۔۔۔390 

”جو شخص اپنے پاس جمع ھوئے مال سے مساكين كي مدد اور ان كي پريشانيوں كودور كرے، تو خداوندعالم اس كے لئے جنت كو وسيع فرماديتا ھے اور اس كو اپني رحمت و مغفرت ميں داخل كرليتا ھے“۔ 

حضرت امام صادق عليہ السلام نے فرمايا: 

”جو شخص كسي مومن كو پيٹ بھر كر كھانا كھلائے تو روز قيامت اس كي جزاكو كوئي نھيں جان سكتا، نہ مقرب فرشتے اور نہ پيغمبر مرسل، سوائے خداوندعالم كے، كہ صرف وھي اس شخص كے اجر كے بارے ميں آگاہ ھے“۔ 

كسي بھوكے مسلمان كو كھانا كھلانا باعث مغفرت و بخشش ھے اور اس كے بعد امام صادق عليہ السلام نے اس آيہ شريفہ كي تلاوت فرمائى391: 

(( اَوْ اِطْعَامٌ فِي يوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ۔يتِيماً ذَا مَقْرَبَةٍ۔اَوْ مِسْكِيناً ذَامَتْرَبَةٍ))۔ 392 

”يا بھوك كے دن ميں كھانا كھلانا ۔كسي قرابتدار يتيم كو۔يا خاكسار مسكين كو“۔ 

نيك گفتار

قرآن مجيد كي متعدد آيات زبان كے سلسلہ ميںھونے والي گفتگو، زبان كي عظمت اور گوشت كے اس لوتھڑے كي اھميت كو بيان كرتي ھے۔ 

زبان ھي كے ذريعہ انسان دنيا و آخرت ميں نجات پاتا ھے يا اسي زبان كے ذريعہ دنيا و آخرت تباہ و برباد ھوجاتي ھے۔ 

زبان ھي كے ذريعہ انسان گھر اور معاشرہ ميں چين و سكون پيدا كرتا ھے يا اسي زبان كے ذريعہ گھر اور معاشرہ ميں تباھي و بربادي پھيلاديتا ھے۔ 

زبان ھي يا اصلاح كرنے والي يا فساد برپا كرنے والي ھوتي ھے، اسي زبان سے لوگوں كي عزت و آبرو اور اسرار كو محفوظ كيا جاتا ھے يا دوسروں كي عزت و آبرو كو خاك ميں ملاديا جاتا ھے۔ 

قرآن كريم تمام انسانوں خصوصاً صاحبان ايمان كو دعوت ديتا ھے كہ دوسروں كے ساتھ صرف نيك گفتار ميں كلام كرو۔ 

زبان كے سلسلہ ميں قرآني آيات كے علاوہ بھت سي اھم احاديث بھي رسول اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومين عليھم السلام سے بيان ھوئي ھيں كہ اگر كتب احاديث ميں بيان شدہ تمام احاديث كو ايك جگہ جمع كيا جائے تو ايك ضخيم كتاب بن سكتي ھے۔ 

حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كا فرمان ھے: 

”اِذا اَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ اَصْبَحَتِ الْاَعْضاءُ كُلُّھا تَسْتَكْفِي اللِّسانَ، اَي تَقولُ:اِتَّقِ اللّٰہَ فِينَا، فَاِنَّكَ اِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنا، وَاِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنا“۔393 

”جس وقت انسان صبح كرتا ھے تو اس كے تمام اعضاء و جوارح بھي صبح كرتے ھيں، چنانچہ تمام اعضاء زبان سے كھتے ھيں: ھمارے سلسلہ ميں تقويٰ الٰھي كي رعايت كرنا كيونكہ اگر تو راہ مستقيم پر رھے گي تو ھم بھي مستقيم رھيں گے اور اگر تو ٹيڑھي ھوگئي تو ھم بھي ٹيڑھے پن ميں گرفتار ھوجائيں گے“۔ 

حضرت امير المومنين عليہ السلام فرماتے ھيں: 

”اَللِّسانُ ميزانُ الْاِنْسانِ “۔394 

”زبان انسان كي ميزان (اور ترازو) ھے (يعني انسان كي شرافت اور اس كي بزرگي يا پستي اس كي زبان سے سمجھي جاتي ھے) 

حضرت رسول اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كا فرمان ھے: 

”ٰيعَذِّبُ اللّٰہُ اللِّسانَ بِعَذابٍ لَايعَذِّبُ بِہِ شَيئاً مِنَ الْجَوارِحِ فَيقولُ:يارَبِّ عَذَّبْتَنِي بِعَذابٍ لَمْ تُعَذِّبْ بِہِ شَيئاً مِنَ الْجَوارِحِ، فَيقالُ لَہُ:خَرَجَتْ مِنْكَ كَلِمَةٌ فَبَلَغَتْ مَشارِقَ الْاَرْضِ وَمَغارِبَھا فَسُفِكَ بِھَا الدَّمُ الْحَرامُ، وَانْتُھِبَ بِہِ الْمالُ الْحَرامُ، وَانْتُھِكَ بِہِ الْفَرْجُ الْحَرامُ“۔395 

”خداوندعالم زبان كو ايسے عذاب ميں مبتلا كرے گا كہ كسي دوسرے حصہ پر ايسا عذاب نھيں كرے گا، اس وقت زبان گويا ھوگى:خدايا! تو نے مجھے ايسے عذاب ميں مبتلا كيا ھے كہ كسي حصہ كو ايساعذاب نھيں كيا ھے، چنانچہ اس سے كھا جائے گا: تجھ سے ايسے الفاظ نكلے ھيں جو مشرق و مغرب تك پہنچ گئے ھيں جن كي وجہ سے بے گناہ كا خون بھا، بے گناہ كا مال غارت ھوا اور بے گناہ كي آبرو خاك ميں مل گئى!“ 

حضرت علي عليہ السلام كا فرمان ھے: 

”كَمْ مِنْ اِنْسانٍ اَھْلَكَہُ لِسانٌ“۔396 

”كتنے لوگ ايسے ھيں جو اپني زبان كي وجہ سے ھلاك ھوجاتے ھيں“۔ 

بھر حال ھميں شب و روز اپني زبان كي حفاظت كرنا چاہئے، اور اس كو بولنے كے لئے آزاد نھيں چھوڑدينا چاہئے، كس جگہ، كس موقع پر، كس كے پاس اور كس موضوع پر گفتگو كرنے كے لئے غور و فكر كرنا ضروري ھے، نيز ھر حال ميں خدا اور قيامت پر توجہ ركھنا ضروري ھے، كھيں ايسا نہ ھو كہ انسان زبان كے ذريعہ ايسا گناہ كر بيٹھے كہ اس سے توبہ كرنا مشكل اور ان كے نقصان كي تلافي كرنا محال ھو۔ 

حضرت امام صادق عليہ السلام فرماتے ھيں: ”مومن اور مخالف سے نيكى اور خوبي كے ساتھ گفتگو كرو، تمھاري گفتگو صرف نيك اور منطقي ھونا چاہئے“۔ 

مومنين سے خنداں پيشاني اور خوش روئي كے ساتھ گفتگو كرنا چاہئے، اور وہ بھي نيكى اور اچھائي سے، اور مخالفوں (غير شيعہ) سے اس طرح گفتگو كرو كہ ان كے لئے ايمان كے دائرہ ميں داخل ھونے كا راستہ ھموار ھوجائے، اور اگر وہ ايماني دائرے ميں داخل نہ ھوسكے تو اس سے دوسرے مومنين حفظ و امان ميں رھيں، اس كے بعد امام عليہ السلام نے فرمايا: دشمنان خدا كے ساتھ تواضع ومدارا ت سے پيش آنا، اپنے اور دوسرے مومنين كي طرف سے صدقہ ھے۔ 397 

حضرت امام باقر عليہ السلام سے آيہ شريفہ (( وَ قولوا لِلنَّاسِ حُسناً)) كے ذيل ميں روايت ھے كہ لوگوں سے اس طرح نيك گفتار كرو جس طرح تم اپنے ساتھ گفتگو كيا جانا پسند كرتے ھوكيونكہ خداوندعالم مومن اور قابل احترام حضرات كي نسبت بدگوئي اور نازيبا الفاظ پسند نھيں كرتا (يعني مومنين كو برا بھلا كہنے والوں كو دوست نھيں ركھتا) اور باحيا، بردبار، ضعيف اور باتقويٰ لوگوں كو دوست ركھتا ھے۔398 

حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كا فرمان ھے: 

”كَلامُ ابْنِ آدَمَ كُلُّہُ عَلَيہِ لَا لَہُ اِلاَّ اَمْرٌ بِالْمَعْروفِ، وَنَھْي عَنِ الْمُنْكَرِ، اَوْ ذِكْرُ اللّٰہِ “۔399 

”تمام لوگوں كي گفتگو ان كے نقصان ميں ھے سوائے امر بالمعروف، نھي عن المنكر اور ذكر خدا كے“۔ 

سورہ بقرہ آيت 83 كے لحاظ سے جس كي شرح گزشتہ صفحات ميں بيان ھوچكي ھے ماں باپ، رشتہ داروں اورمساكين كے ساتھ احسان اور تمام لوگوں سے نيك گفتار اور اچھي باتيں معنوي زيبائيوں ميں سے ھيں، گناہ خصوصاً گناہ كبيرہ سے توبہ كرنے والے كے لئے اپني توبہ، عمل اور گفتار كي اصلاح كے لئے اس آيت كے مضمون پر پابندي كرنا ضروري ھے اور اس مذكورہ آيت ميں بيان شدہ اھم مسائل پر خوشحالي اور نشاط كے ساتھ عمل كرے تاكہ اس كے اندر موجود تمام برائياں دُھل جائيں اور اس كے عمل، اخلاق اور گفتار كي اصلاح ھوجائے۔ 

اخلاص

اخلاص اور خلوص نيت ايك بھت عظيم مسئلہ ھے جس پر قرآن مجيد كي آيات اور روايات معصومين عليہم السلام ميں بھت زيادہ تازور ديا گيا ھے۔ 

صرف مخلص افراد ھي كي فكر و نيت، عمل اور اخلاق قابل اھميت ھے اور صرف وھي لوگ اجر عظيم اور رضوان الٰھي كے مستحق ھوتے ھيں۔ 

اگر ھماري كوشش، اعمال اور اخلاقي امور غير خدا كے لئے ھوں تو ان كي كوئي اھميت نھيں ھے، اور خدا كے نزديك اس كا كوئي ثواب نھيں ھے۔ 

جو شخص اپنے گناھوں سے توبہ كرتا ھے تو قرآن مجيد كے فرمان كے مطابق اس كو اپني حالت اور گفتگو كي اصلاح كرنا چاہئے، اور تمام امور ميں خداوندعالم كي پناہ ميں چلا جائے، اور اپنے دين اور تمام ديني امور ميں خلوص خدا كي رعايت كرے، اور رياكاري اور خودنمائي سے پرھيز كرے، اپنے ديني فرائض ميں صرف اور صرف خدا سے معاملہ كرے، تاكہ اھل ايمان كي ھمراھي حاصل ھوجائے، اس سلسلہ ميں درج ذيل آيہ شريفہ بھت زيادہ قابل توجہ ھے: 

(( إِلاَّ الَّذِينَ تَابُوا وَاٴَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللهِ وَاٴَخْلَصُوا دِينَھم لِلَّہِ فَاٴُوْلَئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يؤْتِ اللهُ الْمُؤْمِنِينَ اٴَجْرًا عَظِيمًا))۔ 400 

”علاوہ ان لوگوں كے كے جو توبہ كر ليں اور اپني اصلاح كر ليں اور خدا سے وابستہ ھوجائيں اور دين كو خالص اللہ كے لئے اختيار كريں تو يہ صاحبان ايمان كے ساتھ ھوں گے اور عنقريب اللہ ان صاحبان ايمان كو اجر عظيم عطا كرے گا“۔ 

((اٴَلاَلِلَّہِ الدِّينُ الْخَالِصُ۔۔۔))۔ 401 

”آگاہ ھو جاوٴ كے خالص بندگي اللہ كے لئے ھے۔۔۔“۔ 

جو شخص رياكارى، خود نمائي اور شرك كا گرفتار ھو تو بارگاہ خداوندي سے اس كا كوئي سروكار نھيںھے۔ 

(( ۔۔۔ فَاعْبُدْ اللهَ مُخْلِصًا لَہُ الدِّينَ ))۔ 402 

”۔۔۔لہٰذا آپ (پيغمبر اكرم) مكمل اخلاص كے ساتھ خدا كي عبادت كريں“۔ 

جن لوگوں كے اعمال ميں اخلاص نھيں ھوتا ان كے اعمال خدا كي نظر ميں ھيچ ھوتے ھيں ليكن خلوص كے ساتھ اعمال انجام دينے والوں كے اعمال كا خريدار خداوندمھربان ھے۔ 

(( ۔۔۔وَلَنَا اٴَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اٴَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُخْلِصُونَ))۔ 403 

”(اے پيغمبر! بدكار اور مشركين سے كھو) ھمارے لئے ھمارے اعمال ھيں اور تمھارے تمھارے لئے اعمال اور ھم تو صرف خدا كے مخلص بندے ھيں“۔ 

رياكاري كي وجہ سے عمل باطل ھوجاتا ھے اور اس كي اھميت ختم ھوجاتي ھے، ليكن اخلاص سے عمل ميں اھميت پيدا ھوتي ھے اور اخلاص كے ذريعہ ھي آخرت ميں جزائے خير اورثواب ملنے والا ھے۔ 

توبہ كرنے والے كے لئے اپني نيت كي اصلاح كرنا اور اپنے ارادہ كو خدا كي مرضي كے تابع قرار دےنالازم و ضروري ھے تاكہ توبہ كا درخت ثمر بخش ھوسكے۔ 

اخلاص پيدا كرنے كا طريقہ خدا اور قيامت پر توجہ اور اولياء الٰھي كے حالات پر غور و فكر كرنا ھے، اور انسان اس بات كا معتقد ھو كہ جنت و جہنم كي كليد خدا كے علاوہ كسي كے پاس نھيں ھے، اور انسان كي سعادت و شقاوت كا كسي دوسرے سے كوئي تعلق نھيں ھے۔ 

حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم اخلاص كے فوائد كے بارے ميں ارشاد فرماتے ھيں: 

”مَا اَخْلَصَ عَبْدٌلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اَرْبَعِينَ صَباحاً اِلّا جَرَتْ ينابِيعُ الْحِكْمَةِ مِنْ قَلْبِہِ عَليٰ لِسانِہِ “۔404 

”جب كوئي بندہ چاليس دن تك خدا كے لئے اخلاص سے كام كرے تو خداوندمھربان اس كي زبان پر حكمت كا چشمہ جاري كرديتا ھے“۔ 

حضرت امام صادق عليہ السلام كا ارشادھے: 

”اِنَّ الْمُوٴمِنَ لَيخْشَعُ لَہُ كُلُّ شَيءٍ وَيھابُہُ كُلُّ شَيءٍ ثُمَّ قالَ:اِذاكانَ 

مُخْلِصاً لِلّٰہِ اَخافَ اللّٰہُ مِنْہُ كُلَّ شَيءٍ حَتّيٰ ھَوامَّ الْاَرْضِ وَ سِباعَھا وَ طَيرَ السَّماءِ؛“ 405 

”بے شك” مومن انسان “كے لئے ھر چيز خاشع و خاضع ھے اور سبھي اس سے خوف زدہ ھيں، اس كے بعد فرمايا: جس وقت مومن انسان خدا كا مخلص بندہ بن جاتاھے تو خداوندعالم اس كي عظمت اور ھيبت كو تمام چيزوں كے دلوں ميں ڈال ديتا ھے، يھاں تك كہ روئے زمين پر وحشي درندے اور آسمان پر اڑنے والے پرندے بھي اس كي عظمت كا اعتراف كرتے ھيں“۔ 

حضرت علي عليہ السلام كا فرمان ھے: 

”سَبَبُ الْاِخْلاصِ الْيقينُ“۔406 

”يقين وايمان كے ذريعہ اخلاص پيدا ھوتا ھے“۔ 

”اَصْلُ الْاِخْلاصِ الْياٴْسُ مِمّا فِي اَيدِي النّاسِ“۔407 

”اخلاص كي اصل، دوسروں كے پاس موجود تمام چيزوں سے نااميدي ھے“۔ 

”مَنْ رَغِبَ فِيما عِنْدَ اللّٰہِ اَخْلَصَ عَمَلَہُ“۔408 

”جو شخص خداوندعالم كي رحمت و رضوان اور بہشت كا خواھاں ھے اسے اپنے عمل ميں اخلاص پيدا كرنا چاہئے“۔ 

صبر

قرآن و احاديث ميں صبر و شكيبائي كے سلسلہ ميں حكم ديا گيا ھے جو واقعاً ايك الٰھى، اخلاقي اور انساني مسئلہ ھے، جس كو خداوندعالم پسند كرتا ھے، جو عظيم اجر و ثواب كا باعث ھے۔ صبر حافظ دين ھے اور انسان كو حق و حقيقت كي نسبت بے توجہ ھونے سے روكتا ھے، صبر كے ذريعہ انسان كے دل و جان ميں طاقت پيدا ھوتي ھے، نيز صبر انسان كو شياطين (جن و انس) سے حفاظت كرنے والا ھے۔ 

اگر سخت حوادث و ناگوار حالات(جو دين و ايمان كو غارت كرنے والے ھيں )، عبادت و اطاعت اور گناہ كے وقت صبر سے كام ليا جائے تو انسان يہ سوچتے ھوئے كہ حوادث بھي قواعد الٰھي سے ھم آہنگ ھيں، ان كو برداشت كرليتا ھے، اور اپني نجات كے لئے دشمنان خدا سے پناہ نھيں مانگتا، عبادت و اطاعت خدا كے وقت اپنے كو بندگي كے مورچہ پر كھڑا ھوكر استقامت كرتا ھے، اور گناہ و معصيت سے لذت كے وقت لذتوں كو چھوڑنے كي سختي كو برداشت كرتا ھے اور قرآن مجيد كے فرمان كے مطابق خداوندعالم كي صلوات و رحمت كا مستحق قرار پاتا ھے۔ 

(( وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيءٍ مِنْ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنْ الْاٴَمْوَالِ وَالْاٴَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرْ الصَّابِرِينَ۔ الَّذِينَ إِذَا اٴَصَابَتْھم مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَيہِ رَاجِعُونَ۔ اٴُوْلَئِكَ عَلَيھم صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّھم وَرَحْمَةٌ وَاٴُوْلَئِكَ ھم الْمُھتدُونَ))۔ 409 

”اور ھم يقينا تمھيں تھوڑے خوف تھوڑي بھوك اور اموال، نفوس اور ثمرات كي كمي سے آزمائيں گے اور اے پيغمبر آپ ان صبر كرنے والوں كو بشارت ديديں ۔ جو مصيبت پڑنے كے بعد يہ كھتے ھيں كہ ھم اللہ ھي كے لئے ھيں اور اسي بارگاہ ميں واپس جانے والے ھيں ۔كہ ان كے لئے پروردگار كي طرف صلوات اور رحمت ھے اور وھي ہدايت يافتہ ھيں“۔ 

(( ۔۔۔وَالْمَلَائِكَةُ يدْخُلُونَ عَلَيھم مِنْ كُلِّ بَابٍ۔ سَلَامٌ عَلَيكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَي الدَّارِ))۔ 410 

”اور ملائكہ ان كے پاس ھر دروازے سے حاضر ي ديں گے ۔كھيں گے كہ تم پر سلامتي ھو كہ تم نے صبر كيا ھے اور اب آخرت كا گھر تمھاري بھترين منزل ھے“۔ 

(( مَا عِنْدَكُمْ ينفَدُ وَمَا عِنْدَ اللهِ بَاقٍ وَلَنَجْزِينَّ الَّذِينَ صَبَرُوا اٴَجْرَھم بِاٴَحْسَنِ مَا كَانُوا يعْمَلُونَ))۔ 411 

”جوكچھ تمھارے پاس ھے وہ سب خرچ ھو جائے گا اور جو كچھ اللہ كے پاس ھے وھي باقي رہنے والا ھے اور ھم يقينا صبر كرنے والوں كو ان كے اعمال سے بھتر جزا عطا كريں گے“۔ 

(( اٴُوْلَئِكَ يؤْتَوْنَ اٴَجْرَھم مَرَّتَينِ بِمَا صَبَرُوا۔۔۔))۔ 412 

”يھي وہ لوگ ھيں جن كو دھري جزادي جائے گي چونكہ انھوں نے صبر كيا ھے۔۔۔“۔ 

حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشاد ھے: 

”مَنْ يتَصَبَّرْ يصَبِّرْہُ اللّٰہُ وَمَنْ يسْتَعْفِفُ يعِفَّہُ اللّٰہُ وَمَنْ يسْتَغْنِ يغْنِہِ اللّٰہُ وَمَا اُعْطِي عَبْدٌ عَطا ءً ھُوَ خَيرٌ وَ اَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ“۔413 

”جو شخص صبر سے كام لے تو خداوندعالم اس كو صبر كي توفيق عطا كرتا ھے، اور جو شخص عفت و پارسائي كو اپناتا ھے تو خداوندعالم اس كو پارسائي تك پہنچاديتا ھے اور جو شخص خداوندعالم سے بے نيازي طلب كرتا ھے تو خداوندعالم اس كو بے نياز بناديا ھے، ليكن بندہ كو صبر سے بھتر اور وسيع تر كوئي چيز عطا نھيں ھوتي“۔ 

حضرت علي عليہ السلام نے فرمايا: 

”اَلْحَقُّ ثَقِيلٌ، وَقَدْ يخَفِّفُہُ اللّٰہُ عَليٰ اَقْوامٍ طَلَبُوا الْعاقِبةَ فَصَبَرُوا نُفُوسَھُمْ، وَوَثِقُوا بِصِدْقِ مَوْعُودِ اللّٰہِ لِمَنْ صَبَرُوا، اِحْتَسِبْ فَكُنْ مِنْھُمْ وَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ“۔414 

”حق كڑوا ھوتا ھے ليكن خداوندعالم اپني عاقبت كے خواھاںلوگوں كے لئے شيرين بناديتا ھے، جي ھاں، جو لوگ صبر كے سلسلہ ميں دئے گئے وعدہ الٰھي كو سچ مانتے ھيں خدا ان كے لئے حق كو آسان كرديتا ھے، خدا كے لئے نيك كام انجام دو اور حقائق كا حساب كرو جس كے نتيجہ ميں تم صبر كرو اور خدا سے مدد طلب كرو“۔ 

نيز آپ كا ھي كا ارشاد ھے: 

”اِصْبِرْ عَليٰ مَرارَةِ الْحَقِّ، وَاِياكَ اَنْ تَنْخَدِعَ بِحَلاوَةِ الْباطِلِ“۔415 

”صبر كے كڑوے پن پر صبر كرو اور باطل كي شيريني سے فريب نہ كھاؤ“۔ 

ايك شخص نے حضرت امام صادق عليہ السلام سے كسي مسئلہ كے بارے ميں نظر خواھي كي تو امام عليہ السلام نے اس شخص كے نظريہ كے برخلاف اپني رائے كا اظھار فرمايا، اور امام نے اس كے چھرے پر بے توجھي كے آثار ديكھے تو اس سے فرمايا:، حق پر صبر كرو، بے شك كسي نے صبر نھيں كيا مگر يہ كہ خداوندعالم نے اس كے بدلے اس سے بھتر چيز عنايت فرمادي۔ 

حضرت امام صادق عليہ السلام سے روايت ھے: 

”اَلْجَنَّةُ مَحْفُوفَةٌ بِالْمَكارِہِ وَالصَّبْرِ، فَمَنْ صَبَرَ عَلَي الْمَكارِہِ فِي الدُّنْيا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَ جَھَنَّمُ مَحْفوفَةٌ بِاللَّذّاتِ وَالشَّھَواتِ، فَمَنْ اَعْطيٰ نَفْسَہُ لَذَّتھا وَشَھْوَتَھا دَخَلَ النّارَ“۔416 

”(جان لو كہ) جنت پر ناگواري اور صبر كا پھرہ ھے، جس شخص نے دنيا ميں ناگواريوں پر صبر كيا و ہ جنت ميں داخل ھوجائے گا، اور جہنم پر خوشيوں اور حيواني خواہشات كا پھرہ ھے چنانچہ جو شخص بھي لذات اور شھوات كے پيچھے گيا تو وہ جہنم ميں داخل ھوجائے گا“۔ 

نيز آپ ھي كا ارشاد گرامي ھے: 

”اَلصَّبْرُ صَبْرانِ:صَبْرٌ عَلَي الْبَلاءِ حَسَنٌ جَميلٌ، وَاٴَفْضَلُ الصَّبْرَينِ الْوَرَعَ عَنِ الْمَحارِمِ“۔417 

”صبر كي دو قسميں ھيں: بلاء و مصيبت پر صبر جو بھتر اور زيبا ھے، ليكن دونوں قسموں ميں بھترين صبر اپنے كو گناھوں سے محفوظ ركھنا ھے“۔ 

يہ حقيقت ھے كہ تمام چيزوں ميں صبر اس لئےضروري ھے كہ انسان كا دين، ايمان، عمل اور اخلاق صحيح و سالم رھے، اور انسان كي عاقبت بخير ھوجائے واقعاً انسان كے لئے كيا بھترين اور خوبصورت زينت ھے ۔ 

گناھوں سے توبہ كرنے والے انسان كو چاہئے كہ مشق و تمرين كے ذريعہ اپنے كو صبر سے مزين كرلے، گناھوں سے پاك رہنے كي كوشش كرے تاكہ ھوائے نفس، شيطاني وسوسہ اور گناھوں كي آلودگي سے ھميشہ كے لئے آسودہ خاطر رھے كيونكہ صبر كے بغير توبہ برقرار نھيں رہ سكتى، اور اس كے سلسلہ ميں رحمت خدا كا تدوام نھيں ھوتا۔ 

مال حلال

خداوندمھربان نے اپني تمام مخلوق كي روزي اپنے اوپر واجب قرار دي ھے خداوندعالم كسي بھي مخلوق كي روزي كو نھيں بھولتا۔ 

انسان كي روزي پہنچانے كے بھت سے مخصوص طريقے ھيں : منجملہ: ميراث، ھبہ، خزانہ مل جانا اور ان سب ميں اھم حلال كاروبار ھے۔ 

حلال كاروبار جيسے زراعت، صنعت، بھيڑ بكرياں چرانا، دستي ہنر، تجارت اور محنت و مزدوري كرنا۔ 

نا جائز طريقہ سے حاصل ھونے والا مال ؛حرام ھے اور اس سے فائدہ اٹھانا روز قيامت ميں درد ناك عذاب كا باعث ھے۔ 

چورى، غصب، رشوت، كم تولنا، غارت گري اور ظلم و ستم كے ذريعہ كسي كے مال كو ہڑپ لينا ممنوع ھے اور ان كاموں كا كرنے والا رحمت الٰھى سے محروم ھوجاتا ھے۔ 

قرآن مجيد اوراحاديث معصومين عليہم السلام، حلال طريقہ سے مال حاصل كرنے كي تاكيد كرتے ھيں، يھاں تك كہ قرآن مجيد حكم ديتا ھے كہ پھلے حلال مال كھاؤ اس كے بعد عبادت خدا بجالاؤ: 

((يااٴَيھا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا۔۔۔))۔ 418 

”اے ميرے رسولو!تم پاكيز ہ غذائيں كھاوٴ اور نيك كام كرو ۔۔۔“۔ 

ام عبد اللہ نے افطار كے وقت رسول اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كے لئے ايك پيالہ دودھ بھجوايا تو آنحضرت نے دودھ لانے والے سے فرمايا: اس دودھ كو لے جاؤ اور اس سے معلوم كرو كہ يہ دودھ كھاں سے آياھے؟ وہ واپس گيا اور آكر عرض كيا: يہ دودھ گوسفند كا ھے، آنحضرت صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے پھر فرمايا: گوسفند كھاں سے آيا ھے: چنانچہ پيغام آيا: اس كو ميں نے اپنے مال سے خريدا ھے، اس وقت آنحضرت صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے وہ دودھ نو ش فرمايا۔ 

دوسرے روز ام عبد اللہ آنحضرت صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كي خدمت ميں حاضر ھوكر عرض كرتي ھيں: كل ميں نے آپ كے لئے دودھ بھيجا ليكن آپ نے واپس كرديا اور سوال و جواب كے بعد نوش فرمايا، مسئلہ كيا تھا؟ تو آنحضرت صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا: مجھ سے پھلے تمام انبياء كو حكم ديا گيا ھے كہ صرف پاك اور حلال چيز يں كھائيں اور صرف عمل صالح انجام دو۔ 419 

قرآن مجيد نے روئے زمين پر بسنے والے تمام انسانوں كو حكم ديا كہ پاكيزہ اور حلال رزق كھاؤ اور روزي حاصل كرنے كے لئے شيطان كي پيروي نہ كرو، كيونكہ شيطان ان كو برائى، گناہ اور خدا پر تھمت لگانے كا حكم ديتا ھے۔ 

(( يااٴَيھا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْاٴَرْضِ حَلاَلًا طَيبًا وَلاَتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيطَانِ إِنَّہُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ۔إِنَّمَا ياٴْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَاٴَنْ تَقُولُوا عَلَي اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ))۔ 420 

” اے انسانو!زمين ميں جو كچھ بھي حلال و طيب ھے اسے استعمال كرو اور شيطاني اقدامات كا ا تباع نہ كرو كہ وہ تمھارا كھلا ھوا دشمن ھے۔وہ بس تمھيں بدعملي اور بدكاري كا حكم ديتا ھے اور اس بات پر آمادہ كرتا ھے كہ خدا كے خلاف جھالت كي باتيں كرتے رھو“۔ 

اھل ايمان كو چاہئے كہ مال حاصل كرنے كے لئے اندازہ سے كام ليں، حلال خدا پر قناعت كريں، دوسروں كے مال پر آنكھيں نہ جمائيں، اور اپنے دل وجان سے اس اھم حقيقت پر توجہ ركھيںكہ پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے اعلان فرمايا ھے: 

”حُرْمَةُ مالِ الْمُسْلِمِ كَدَمِہِ“۔421 

”مسلمان كا مال اس كے خون كي طرح محترم ھے“۔ 

يعني جس طرح سے ايك مومن كي جان اور اس كي زندگي كي حفاظت كے لئے كوشش كرتے ھو اسي طرح اس كے مال كي حفاظت كے لئے بھي كوشش كرو، كيونكہ كسي مومن كے مال كو ناحق غارت كرنا اس كا ناحق خون بھانے كي طرح ھے۔ 

حلال روزي حاصل كرنا اورخداوندعالم كي عطا كردہ روزي پر قناعت كرنا، معنوي زيبائيوں ميں سے ھے، بلكہ زيبائي اور نيكىوں سے آراستہ ھونے كے اصول ميں سے ھے۔ 

ھر ايك توبہ كرنے والے پر يہ چيز فوراً واجب اور ضروري ھے كہ وہ اپنے مال كي اصلاح كرے، يعني اگر كسي دوسرے كا حق اس پر ھے تو اپني خوشي سے اسے الگ كركے مالك تك پہنچا دے اور زندگي بھر يہ دھيان ركھے كہ صرف حلال لقمہ كھائے، اور حرام مال سے اجتناب كرے۔ 

حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كا فرمان ھے: 

”مَنْ اَكَلَ لُقْمَةً مِنْ حَرامٍ لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلاةٌ اَرْبَعِينَ لَيلَةً“۔422 

”جو شخص ايك لقمہ حرام كھائے تو چاليس دن تك اس كي نماز قبول نھيں ھوتي“۔ 

نيز آنحضرت صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم ھي كا فرمان ھے: 

” اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ الّجَنَّةَ جَسَداً غُذِي بِحَرامٍ“۔423 

”خداوندعالم نے حرام غذا كھانے والوں كے بدن پر جنت كو حرام قرار ديا ھے “۔ 

پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم ايك عجيب حديث ميں ارشاد فرماتے ھيں: 

”تَرْكُ لُقْمَةٍ حَرامٍ اَحَبُّ اِلَي اللّٰہِ مِنْ صَلاةِ اَلْفَي رَكْعَةٍ تَطَوُّعاً“۔424 

”ايك حرام لقمہ سے اجتناب كرنا خدا كے نزديك مستحبي دو ہزار ركعت نماز سے زيادہ پسنديدہ ھے“۔ 

 

تقويٰ

اپنے كو گناھوں اور معصيتوں سے محفوظ ركھنا اور ھلاك كنندہ آفات و بلاؤں سے حفظ كرنا ايك ايسي حقيقت ھے جس كو قرآن كريم اور ديني تعليمات نے ”تقويٰ“ كے عنوان سے ياد كيا ھے۔ 

تقويٰ اس حالت كا نام ھے جو گناھوں سے اجتناب اور عبادت خدا سے حاصل ھوتي ھے اور تقويٰ ديني اقدار و معنوي زيبائي ميں ايك خاص عظمت ركھتا ھے۔ 

صرف متقي افراد ھي ميں ہدايت الٰھي كے آثار ظاھر ھوتے ھيں اور جنت بھي صرف اور صرف اھل تقويٰ كے لئے آمادہ كي گئي ھے: 

(( ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَرَيبَ فِيہِ ہُدًي لِلْمُتَّقِينَ))۔ 425 

”يہ وہ كتاب ھے جس ميں كسي طرح كے شك و شبہ كي گنجائش نھيں ھے۔يہ صاحبان تقويٰ اور پرھيز گار لوگوں كے لئے مجسم ہدايت ھے“۔ 

(( وَاٴُزْلِفَتْ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ))۔ 426 

”اورجس دن جنت پر ھيزگاروں سے قريب تر كردي جائے گي“۔ 

(( ۔۔۔ وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ))۔ 427 

”۔۔۔اور اللہ سے ڈرو شايد تم كامياب ھو جاوٴ“۔ 

(( ۔۔۔ وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ))۔ 428 

”۔۔۔اور اللہ سے ڈرتے رھو اور يہ سمجھ لو كہ خدا پر ھيزگاروں ھي كے ساتھ ھے“۔ 

(( ۔۔۔ فَإِنَّ اللهَ يحِبُّ الْمُتَّقِينَ))۔ 429 

”۔۔۔بے شك خدا متقين كو دوست ركھتا ھے“۔ 

(( ۔۔۔ فَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ))۔ 430 

”۔۔۔لہٰذا اللہ سے ڈرو شايد تم شكر گذار بن جاوٴ“۔ 

(( ۔۔۔ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ))۔ 431 

”۔۔۔اور اللہ سے ڈرو كہ وہ بھت جلد حساب كرنے والا ھے“۔ 

(( ۔۔۔ لِلَّذِينَ اٴَحْسَنُوا مِنْھم وَاتَّقَوْا اٴَجْرٌ عَظِيمٌ))۔ 432 

”۔۔۔ان كے نيك كام اور متقي افراد كے لئے نھايت درجہ اجر عظيم ھے“۔ 

(( ۔۔۔ إِنَّمَا يتَقَبَّلُ اللهُ مِنْ الْمُتَّقِين))۔ 433 

”۔۔۔خدا صرف صاحبان تقويٰ كے اعمال قبول كرتا ھے “۔ 

(( وَمَا عَلَي الَّذِينَ يتَّقُونَ مِنْ حِسَابِھم مِنْ شَيءٍ۔۔۔))۔ 434 

”اور صاحبان تقويٰ پر ان كے حساب كي ذمہ دارى نھيں ھے۔۔۔“۔ 

(( ۔۔۔ وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ))۔ 435 

”۔۔۔اور اللہ سے ڈرتے رھو كہ شايد تم پر رحم كيا جائے“۔ 

(( ۔۔۔وَاللهُ وَلِي الْمُتَّقِينَ))۔ 436 

”۔۔۔تو اللہ صاحبان تقويٰ كا سرپرست ھے“۔ 

(( ۔۔۔إِنَّ اٴَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اٴَتْقَاكُمْ۔۔۔))۔ 437 

”۔۔۔تم ميں سے خدا كے نزديك زيادہ محترم وھي ھے جو زيادہ پرھيزگار ھے۔۔۔“۔ 

حضرت امير المومنين عليہ السلام نے اھل تقويٰ كے كچھ نشانياں بيان كي ھيں، منجملہ: 

صداقت، ادائے امانت، وفائے عہد، عجز و بخل ميں كمى، صلہ رحم، كمزوروں پر رحم، عورتوں سے كم موافقت كرنا، خوبي كرنا، اخلاق حسنہ، بردباري ميں وسعت، اس علم پر عمل جس كے ذريعہ خدا كے قريب ھوجائے، اور اس كے بعد فرمايا: خوش نصيب ھيں يہ افراد، كيونكہ ان كي آخرت سعادت بخش نيك اور اچھي ھوگي۔ 438 

حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشاد ھے: 

”لَوْاَنَّ السَّماواتِ وَالْاَرْضَ كانَتا رَتْقاً عَليٰ عَبْدٍ ثُمَّ اتَّقَي اللّٰہَ لَجَعَلَ اللّٰہُ لَہُ مِنْھُما فَرَجاً وَمَخْرَجاً“۔439 

”اگر كسي بندہ پر زمين و آسمان كے دروازے بند ھوجائيں، ليكن اگر وہ بندہ تقويٰ الٰھي اختيار كرے تو خدا اس كے لئے زمين و آسمان كے دروازے كھول ديتاھے“۔ 

نيز آنحضرت صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا: 

”خَصْلَةٌ مَنْ لَزِمَھا اَطاعَتْہُ الدُّنْيا وَالْآخِرَةُ وَ رَبِحَ الْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ، قيلَ:وَما ھِي يا رَسولَ اللّٰہِ؟ قالَ:التَّقْويٰ، مَنْ اَرادَ اَنْ يكونَ اَعَزَّ النّاسِ فَلْيتَّقِ اللّٰہِ “۔440 

”ايك خصلت جس شخص ميں بھي پائي جائے دنيا و آخرت اس كي اطاعت كرنے لگيں، اوراس كو جنت ميں مقام ملے، اصحاب نے كھا: يا رسول اللہ! وہ كونسي خصلت ھے؟ تو آپ نے فرمايا: تقويٰ، جو شخص لوگوں ميں سب سے زيادہ قابل احترام ھونا چاھتا ھے، اسے خدا سے تقويٰ اختيار كرنا چاہئے“۔

 

نيكي

قرآن مجيد كے فرمان كے مطابق خدا، روز قيامت، ملائكہ، قرآن اور انبياء عليھم السلام پر ايمان ركھنا، رشتہ داروں، يتيموں، مسكينوں، سفر ميں بے خرچ ھونے والوں اور سائلين كي مالي مدد كرنا، نيز غلاموں كو آزاد كرنا، نماز قائم كرنا، زكوٰة ادا كرنا، وفائے عہد، سختيوں، بيماريوں اور كارزار ميں صبر كرنا، يہ سب نيكى اور تقويٰ كي نشانياں ھيں۔ 441 

حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كا فرمان ھے: 

”اِنَّ اَسْرَعَ الْخَيرِ ثَواباً الْبِرُّ، وَاَسْرَعَ الشَّرِّ عِقاباً الْبَغْي“۔442 

”بيشك نيكى كا ثواب سب سے جلدي ملتا ھے اور سب سے جلدي عقاب خداوند عالم سے سر پيچي كا پھونچتاھے۔ 

حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے نيك افراد كي دس خصلتيں بيان كي ھے: 

”يحِبُّ فِي اللّٰہِ وَ يبْغِضُ فِي اللّٰہِ، وَيصاحِبُ فِي اللّٰہِ، وَيفارِقُ فِي اللّٰہِ، وَ يغْضَبُ فِي اللّٰہِ، وَيرْضيٰ فِي اللّٰہِ، وَيعْمَلُ لِلّٰہِ، وَيطْلُبُ اِلَيہِ، وَ يخْشَعُ خَائِفاً مَخوفاً طاھراً مُخْلِصاً مُسْتَحْيياً مُراقِباً، وَيحْسِنُ فِي اللّٰہِ“۔443 

”كسي سے محبت كرے تو خدا كے لئے، دشمني كرے تو خدا كے لئے، دوستي كرے تو خدا كے لئے، كسي سے دوري كرے تو خدا كے لئے، غصہ كرے تو خدا كے لئے، كسي سے راضي ھو تو خدا كے لئے، اعمال انجام دے تو خدا كے لئے، خدا سے محبت كرے، اس كے سامنے خشوع كرے اورخوف، طھارت، اخلاص، حياء اور مراقبت كي حالت ميں رھے، نيز خدا كے لئے نيكى كرے“۔ 

حضرت علي عليہ السلام فرماتے ھيں كہ تين چيزيں نيكى كے راستے ھيں: 

”سَخاءُ النَّفْسِ، وَطيبُ الْكَلامِ، وَالصَّبْرُ عَلَي الْاَذيٰ“۔ 444 

”راہ خدا ميں جان كي بازي لگادينا، نيك گفتار اور لوگوں كي طرف سے دي جانے والي اذيتوں كے مقابلہ ميں صبر كرنا“۔ 

حضرت امام باقر عليہ السلام فرماتے ھيں: 

”اَرْبَعٌ مِنْ كُنوزِ الْبِّرِّ:كِتْمانُ الْحاجَةِ، وَكِتْمانُ الصَّدَقَةِ، وَكِتْمانُ الْوَجَعِ، وَكِتْمانُِ الْمُصِيبَةِ“۔445 

” نيكىوں كا خزانہ چار چيزيںھيں: اپني حاجت كو مخفي ركھنا، چھپاكرصدقہ دينا، اور مشكلات و پريشانيوں كو مخفي ركھنا“۔ 

حضرت امام موسي كاظم عليہ السلام فرماتے ھيں: 

”مَنْ حَسُنَ بِرُّہُ بِاِخْوانِہِ وَاَھْلِہِ مُدَّ فِي عُمْرِہِ“۔446 

”جس نے اپنے (ديني) بھائيوں كے ساتھ نيكى كي خدا اس كي عمر طولاني كرديتا ھے“۔ 

غيرت

غيرت اور حميت، اخلاق حسنہ ميں سے ھيں، غيرت كي وجہ سے انسان كي ناموس اور اھل خانہ نامحرموں اور خائنوں كے شر سے محفوظ رھتے ھيں۔ 

غيرت، انبياء اور اولياء الٰھي كے برجستہ صفات ميں سے ھے۔ 

حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشاد ھے: 

”كانَ اِبْراھيمُ اَبِي غَيوراً، وَاَنااَغْيرُ مِنْہُ، وَاَرْغَمَ اللّٰہُ اَنْفَ مَنْ لَا يغارُ مِنَ الْمُوٴْمِنينَ“۔447 

”جناب ابراھيم كے باپ غيور اور صاحب حميت تھے اور ميں ان سے زيادہ غيرت ركھتا ھوں، جو مومن غيرت نہ ركھتا ھو تو خدا اس كو ذليل كرديتاھے“۔ 

حضرت امير المومنين عليہ السلام اھل كوفہ كو نصيحت كرتے ھوئے بلند آواز ميں فرماتے تھے: 

” اَما تَسْتَحْيونَ وَلَا تَغارونَ؟!نِساوٴُكُمْ يخْرُجْنَ اِلَي الْاَسْواقِ يزاحِمْنَ الْعُلوجَ“۔448 

”تمھاري حيا كھاں چلي گئي ؟!كيا تمھيں غيرت نھيں آتى، تمھاري عورتيں بازاروں ميں جاتي ھيں اور نامحرم اور بدمعاش لوگ ان كو پريشان كرتے ھيں“۔ 

پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشاد ھے: 

”اِنَّ الْجَنَّةَ لَيوجَدُ رِيحُھا مِنْ مَسيرَةِ خَمْسِمائَةِ عَامٍ، وَلَا يجِدُھا عاقٌّ وَلَادَيوثٌ، قِيلَ:يا رَسُولَ اللّٰہِ، مَا الدَّيوثِ؟قالَ:الَّذِي تَزْنِي امْرَاٴَتُہُ وَھُوَ يعْلَمُ بِھَا“۔449 

”بے شك جنت كي خوشبو پانچ سو سال كي دوري سے محسوس كي جاسكتي ھے، ليكن ماں باپ كا عاق كيا ھوا او رديوث جنت كي بو نھيں سونگ سكتے، سوال ھوا كہ يا رسول اللہ! ديوث كون ھے؟ تو آپ نے فرمايا: ديوث وہ شخص ھے جس كي بيوي زنا كرے اور وہ جانتا ھو ليكن بے توجھي سے كام لے“۔ 

حضرت امام صادق عليہ السلام نے فرمايا: 

”اِنَّ اللّٰہَ غَيورٌ، يحِبُّ كُلَّ غَيورٍ، وَمِنْ غَيرَتِہِ حَرَّمَ الْفَواحِشَ ظاھرھا وَبَاطِنَھا“۔450 

”بے شك خداوندعالم غيور ھے اور غيرت ركھنے والے ھر شخص كو دوست ركھتا ھے، اس كي غيرت يہ ھے كہ اس نے تمام ظاھري و باطني گناھوں كو حرام قرار ديا ھے“۔ 

عبرت

حوادث زمانہ سے عبرت حاصل كرنا، گزشتہ اور عصر حاضر كے لوگوں كے حالات سے پند حاصل كرنا عقلمندي كي نشاني ھے۔قرآن مجيد ميں ارشاد ھوتا ھے: 

(( لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِھم عِبْرَةٌ لِاٴُوْلِي الْاٴَلْبَابِ۔۔۔))۔ 451 

”يقينا (قرآن ميں بيان ھونے والے) ان واقعات ميں صاحبان عقل كے لئے سامان عبرت ھے۔۔“۔ 

قرآن مجيد، صاحبان عقل و فھم، اھل فكر و بصيرت اور آخر كار تمام ھي انسان كو حكم ديتا ھے كہ رشد و كمال حاصل كرنے اور پليدي و برائي سے دوري كے لئے تمام چيزوں سے عبرت حاصل كرو: 

(( ۔۔۔فَاعْتَبِرُوا يااٴُولِي الْاٴَبْصَارِ))۔ 452 

”۔۔۔اے صاحبا ن نظر! عبرت حاصل كرو“۔ 

حضرت علي عليہ السلام كا فرمان ھے: 

”اَفْضَلُ الْعَقْلِ الْاِعْتِبارُ، وَاَفْضَلُ الْحَزْمِ الْاِسْتِظْھارُ، وَ اَكْبَرُ الْحُمْقِ الْاِغْترِارُ“۔453 

”سب سے افضل عقل عبرت حاصل كرنے والي عقلھے، بھترين دور انديشي يہ ھے كہ انسان غور و فكر كے ساتھ كسي امر ميں مداخلت كرے، اور سب سے بڑي حماقت دنيا سے دھوكہ كھانا ھے“۔ 

حضرت امير المومنين عليہ السلام جاھلوں، گناھگاروں، ستمگروں اوربدمعاشي كرنے والوں كو چيلنج فرماتے ھيں كہ گزشتہ لوگوں كے واقعات سے عبرت حاصل كرو: 

”اِنَّ لَكُمْ فِي الْقُرونِ السّالِفَةِ لَعِبْرَةً، اَينَ الْعَمالِقَةُ وَاَبْناءُ الْعِمالِقَةُ؟ اَينَ الْفَراعِنَةُ وَاَبْناءُ الْفِرَاعِنَة؟اَينَ اَصْحابُ مَدائِنِ الرَّسِّ الَّذِينَ قَتَلُوا النَّبِيينَ، وَاَطْفَاٴُواسُنَنَ الْمُرْسَلينَ، وَاَحْيواسُنَنَ الْجَبّارينَ؟!“ 454 

”تمھارے لئے گزشتہ قوموں ميں عبرت كا سامان فراھم كيا گيا ھے، كھاں ھيں (شام و حجاز كے) عمالقہ او ران كي اولاد، كھاں ھيں(مصر كے) فراعنہ اور ان كي اولاد؟ كھاں ھيں (آذربائيجان كے) اصحاب الرس؟ جنھوں نے انبياء كو قتل كيا، اور مرسلين كي سنتوں كو خاموش كيا اور جباروںكي سنتوںكو زندہ كيا ؟كھاں گئے اور كيا ھوئے؟! 

خير

قرآن مجيد اوراحاديث كي روشني ميں دنيا و آخرت ميں كام آنے والے مثبت اور مفيد كاموں پر” خير “كا اطلاق كيا گيا ھے۔ 

قرآن كي زبان ميں خير كے معني ثواب آخرت، رحمت الٰھى، مال حلال، نماز جمعہ، آخرت، ايمان، نصيحت پر عمل كرنا، توبہ، تقويٰ اور انھيں كي طرح دوسري چيزيں ھيں۔ 

يہ چيزيں انسان كے ظاھر و باطن كي اصلاح كے لئے بھترين راستے ھيں۔ 

حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشاد ھے: 

” اَرْبَعٌ مَنْ اُعْطَيھُنَّ فَقَدْ اُعْطِي خَيرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ :بَدَناً صابِراً، وَلِساناً ذاكِراً وَقَلْباً شاكِراً، وَزَوْجَةً صالِحَةً“۔455 

”جس شخص كو چار چيزيں مل جائيں اس كو دنيا و آخرت كا خير مل جاتا ھے: جس كے بدن ميں سختيوں اور بلاؤں پر صبر كرنے كي طاقت ھو، جو زبان ذكر خدا ميں رطب اللسان رھے، جو دل، شكرخدا كرتا رھے اور مناسب اور شائستہ بيوي“۔ 

حضرت علي عليہ السلام كا ارشاد ھے: 

”جُمِعَ الْخَيرُ كُلُّہُ فِي ثَلاثِ خِصالٍ:اَلنَّظَرِ وَالسُّكوتِ وَالْكَلامِ، فَكُلُّ نَظَرٍ لَيسَ فِيہِ اعْتِبارٌ فَھُوَ سَھْوٌ، وَكُلَّ سُكوتٍ لَيسَ فِيہِ فِكْرٌ فَھُوَ غَفْلَةٌ، وَكُلُّ كَلامٍ لَيسَ فِيہِ ذِكْرٌ فَھُوَ لَغْوٌ“۔456 

”تمام نيكى اور خير تين خصلتوں ميں جمع ھيں: نگاہ، سكوت اور قول، جس نظر ميں عبرت نھيں ھے وہ سھو ھے، جس سكوت اور خاموشي ميں غور و فكر نہ ھو وہ غفلت ھے اور ھر وہ كلام جس ميں ذكر (خدا) نہ ھو تو لغو و بے ھودہ ھے“۔ 

تحصيل علم

علم، عالم اور متعلم كے سلسلہ ميں قرآن مجيد اور احاديث ميں بھت زيادہ تاكيد كي ھے۔ 

علم: چراغ راہ، حرارت عقل، بينائي وبصيرت، ارزش و اقدار اور شرافت وكرامت ھے۔ 

دنيا اور آخرت ميں اھل ايمان كے درجات بلند ھيں ليكن ان سے زيادہ بلند درجات مومن علماء كے ھيں۔ 

(( ۔۔۔ يرْفَعْ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ۔۔۔))۔ 457 

”۔۔۔اور جب تم سے كھا جائے كہ اٹھ جاوٴ تو اٹھ جاوٴ كہ خدا صاحبا ن ايمان اور جن كو علم ديا گيا ھے ان كے درجات كو بلند كرنا چاھتا ھے۔۔۔“۔ 

حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشاد ھے: 

”اُطْلُبُوا العِلْمَ وَلَوُ بِالصِّينِ، فَاِنَّ طَلَبَ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَليٰ كُلِّ مُسْلِمٍ“۔458 

”علم حاصل كرو چاھے چين جانا پڑے، بے شك علم حاصل كرنا ھر مسلمان پر واجب ھے“۔ 

نيز آنحضرت صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم ھي كا فرمان ھے: 

”طالِبُ الْعِلْمِ بَينَ الْجُھّالِ كَالْحَي بَينَ الْاَمْواتِ“۔459 

” طالب عالم جاھلوں كي نسبت مردوں كے درميان زندہ كي طرح ھے“۔ 

حضرت رسول خدا :صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے علم حاصل كرنے والوں كے لئے فرمايا: 

”اِذا جاءَ الْمَوْتُ لِطالِبِ الْعِلْمِ وَھُوَ عَليٰ ھٰذِہِ الْحالَةِ ماتَ وَھُوَ شَھِيدٌ“۔460 

”جب تحصيل علم كے دوران كسي طالب علم كي موت آجائے تو وہ شھيد ھوتاھے“۔ 

پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم سے ايك عجيب و غريب حديث نقل ھوئي ھے: 

”مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ فَھُوَ كَالصَّائِمِ نَھارُہُ، الْقائِمِ لَيلُہُ، وَاِنَّ باباً مِنَ الْعِلْمِ يتَعَلَّمُہُ الرَّجُلُ خَيرٌ لَہُ مِنْ اَنْ يكونَ لَہُ اَبو قُبَيسٍ ذَھَباً فَاَنْفَقَہُ فِي سَبِيلِ اللّٰہِ“۔461 

”علم حاصل كرنے والا اس شخص كي طرح ھے جو دن ميں روزہ ركھے اور رات بھر عبادت كرے، بے شك انسان جب علم كا ايك باب حاصل كرليتا ھے تو اس سے كھيں بھتر ھے كہ ابو قبيس نامي پھاڑ كے برابر اس كو سونا مل جائے اور وہ راہ خدا ميں خرچ كردے“۔ 

نيز پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا: 

”مَنْ كانَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ كانَتِ الْجَنَّةُ فِي طَلَبِہِ“۔462 

” جو شخص علم كا طلب گار ھو تو جنت بھي اس كے طلبگار ھوتي ھے“۔ 

توبہ كرنے والے كو اپني حالت سنورانے كے لئے اس سے بھتر اور كيا راستہ ھوگا كہ نيكىوں اور برائيوں كو پہچانے اور احكام الٰھي كي معرفت حاصل كركے ان پر عمل كرے؟ 

درج ذيل آيہ شريفہ كے پيش نظر انسان ديني معرفت كے بغيركيا اخلاقي حقائق پر عمل كرسكتاھے؟ 

(( ۔۔۔ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِہِ وَاٴَصْلَحَ۔۔۔))۔ 463 

”۔۔۔اور اس كے بعد توبہ كركے اپني اصلاح كرلے ۔۔۔“۔ 

اميد

اميد ايك ايسي حقيقت اور حالت ھے كہ جس سے اھل ايمان خصوصاً گناھوں سے توبہ كرنے والوں كے دل ميں خداوندعالم كي رحمت و مغفرت كي روشني پيداھوتي ھے۔ 

جن لوگوں كا خدا اور آخرت پر يقين ھوتا ھے، اور اپني استعداد كے مطابق واجبات پر عمل كرتے ھيںاور حرام چيزوں سے پرھيز كرتے ھيںاور اپنے اندر غرور، خود پسندي اور انانيت كو جگہ نھيں ديتے، توان كو اميدركھنا چاہئے كہ خداوندعالم روز قيامت ان پر توجہ فرمائے گا، اور ان كي مدد كرے گا، اور ان كو جنت الفردوس ميں جگہ عنايت فرمائے گا، ان لوگوں كو خدا كي طرف سے حاصل ھوئي توفيق كے ذريعہ اس عظيم سرمايہ كے باوجود مايوس اور نااميدنھيں ھونا چاہئے، اور يہ جاننا چاہئے كہ قرآن مجيد نے ان كے ايمان و عمل صالح كي وجہ سے نجات كي سند دي ان كے نجات كي سند ان كے ايمان اور عمل كے ذريعہ قرآن مجيد ھے۔ 

قرآن مجيد نے بھت سي آيات ميں عمل صالح اور اخلاق حسنہ ركھنے والے مومنےن كو بہشت اور فوز عظيم كي بشارت دي ھے اور خدا كا وعدہ كبھي خلاف نھيں ھوسكتا۔ 

(( إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ ھاجَرُوا وَجَاہَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ اٴُوْلَئِكَ يرْجُونَ رَحْمَةَ اللهِ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ))۔ 464 

”بيشك جو لوگ ايمان لائے اور جنھوں نے ہجرت كي اور راہ خدا ميں جھاد كيا وہ رحمت الٰھى كي اميد ركھتے ھيں اور خدا بھت بخشنے والا ھے اور مھربان ھے“۔ 

((وَبَشِّرْ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴَنَّ لَھم جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِھا الْاٴَنْھار۔۔۔))۔ 465 

”اے پيغمبر آپ ايمان ركھنے والوں اور عمل صالح كرنے والوں كو بشارت ديديں كہ ان كے لئے باغات ھيں جن كے نيچے نھريں جاري ھيں۔۔۔“۔ 

قرآن مجيد ميں اس طرح كي بھت سي آيات موجود ھيں، لہٰذا ان تمام مستحكم و مضبوط سندوں كے باوجود كسي مومن كے لئے رحمت خدا سے مايوس ھوجاناسزاوار نھيں ھے، اور اسي طرح قطعي طور پر دي جانے والي بشارت ميں شك كرنا بھي سزاوار نھيںھے۔ 

جن لوگوں كي ايك مدت عمر گناھوں ميں گزري ھے، جنھوں نے اپنے واجبات پر عمل نھيں كيا ھے ان كو يہ معلوم ھونا چاہئے كہ ان پر رحمت خدا كا دروازہ بند نھيں ھوا ھے، خداوندمھربان توبہ قبول كرتا ھے، اور اس حقيقت پر يقين ھونا چاہئے كہ خداوندعالم كي قدرت بے نھايت ھے اور بندوں كے گناہ اگرچہ تمام پھاڑوں، درياؤں اور ريگزاروں كے برابر ھي كيوں نہ ھو ں ان تمام كو بخش دينا اس كے لئے كوئي مشكل كام نھيں ھے۔ 

(( ۔۔۔لاَتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ))۔ 466 

”۔۔۔رحمت خدا سے مايوس نہ ھونا، اللہ تمام گناھوں كا معاف كرنے والا ھے اور وہ يقينا بھت زيادہ بخشنے والا اور مھربان ھے“۔ 

توبہ كرنے والے كو توبہ كے وقت خدا كي رحمت و مغفرت كا اميد وار رہنا چاہئے، كيونكہ رحمت و مغفرت سے مايوسي قرآن مجيد كے فرمان كے مطابق كفر ھے۔ 467 

توبہ كرنے والے كو معلوم ھونا چاہئے كہ اس كي حالت بيمار كا طرح ھے اور اس كي بيماري كے علاج كرنے والا طبيب خدا ھے اور كوئي ايسا مرض نھيں ھے جس كي شفاء خدا كے يھاں نہ ھو۔ 

رحمت و مغفرت سے مايوسي كے معني يہ ھيں كہ (نعوذ باللہ) خدا بيمار كا علاج كر نے كي طاقت نھيں ركھتا۔ 

بھر حال رحمت خدا كي اميد كو ايمان و عمل اور توبہ كا ثمرہ حساب كرے كيونكہ ايمان و عمل اور بغير توبہ كي اميد ركھنا ايك شيطاني صفت ھے جس كو قرآن مجيد كي زبان ميں ”امنيہ“ كھا جاتا ھے۔ 

(( يعِدُھم وَيمَنِّيھم وَمَا يعِدُھم الشَّيطَانُ إِلاَّ غُرُورًا))۔ 468 

”شيطان ان سے وعدہ كرتا ھے اور انھيں اميديں دلاتا ھے اور وہ جو بھي وعدہ كرتا ھے وہ دھوكہ كے سوا كچھ نھيں ھے“۔ 

ايك شخص نے حضرت امير المومنين عليہ السلام كي خدمت ميں عرض كيا: آپ مجھے نصيحت فرمائيے، تو آپ نے فرمايا: 

”لَا تَكُنْ مِمَّنْ يرْجُوالْآخِرَةَ بِغَيرِ الْعَمَلِ وَيرَجِّي التَّوْبَةَ بِطولِ الْاَمَلِ، يقولُ فِي الدُّنْيا بِقَوْلِ الزّاھِدِينَ، وَيعْمَلَ فِيھَا بِعَمَلِ الرّاغِبِينَ“۔469 

”ان لوگوں ميں نہ ھوجانا جو عمل كے بغير آخرت كي اميد ركھتے ھيں اور طولاني اميدوں كي بنا پر توبہ كو ٹال ديتے ھيں، دنيا ميں زاہدوں جيسي باتيں كرتے ھيں اور راغبوں جيسا كام كرتے ھيں كچھ مل جاتا ھے تو سير نھيں ھوتے اور نھيں ملتا ھے تو قناعت نھيں كرتے“۔ 

نيز آپ ھي كا ارشاد ھے: 

”تمھاري اميدركھنے والي چيزيں ان چيزوں سے زيادہ ھو جن كي اميد نھيں ركھتے، جناب موسيٰ بن عمران آگ كي چنگاري كي اميد ميں اپنے اھل و عيال كے پاس سے گئے، تو ”كليم اللہ “كے مرتبہ پر فائز ھوگئے اور منصب نبوت كے ساتھ واپس پلٹے، ملكہ سبا جناب سليمان اور ان كے ملك كو ديكھنے كے لئے گئي ليكن جناب سليمان كے ھاتھوں مسلمان ھوكر پلٹى، فرعون كے جادو گر 

فرعون سے عزت ومقام حاصل كرنے كے لئے گئے ليكن حقيقي مسلمان ھوكر واپس پلٹے“۔470 

چھٹے امام عليہ السلام فرماتے ھيں: 

”لَا يكُونُ الْمُوٴْمِنُ مُوٴْمِناً حَتّي يكُونَ خائِفاً راجِياً، وَلَا يكُونُ خائِفاً راجِياً حَتّي يكُونَ عامِلاً لِمٰا يخافُ وَ َرْجُو“۔471 

”مومن اس وقت مومن بنتا ھے جبكہ خوف و رجاء (اميد) كي حالت ميں رھے، اور خوف و رجاء پيدانھيں ھوتا مگرجب تك خوف واميد كے لحاظ سے عمل انجام نہ ديا جائے“۔ 

عدالت

قرآن مجيد اور احاديث ميں بيان ھونے والے اھم مسائل ميں سے عدالت بھي ھے، عدل، خداوندعالم كي صفت اور انبياء و اولياء الٰھي كے خصائص ميں سے ھے۔ 

عادل انسان ؛ محبوب خدا، اھل نجات اور زندگي كے لئے پُر نور چراغ ھوتا ھے۔ 

عدل، اس حقيقت كا نام ھے كہ جس كو نظام كائنات كي وجہ كھا گيا ھے: 

”بِالْعَدْلِ قامَتِ السَّماواتُ وَالْاَرْضُ“۔472 

” عدل كے ھي ذريعہ زمين و آسمان قائم ھيں“۔ 

قرآن مجيد نے عدالت كے سلسلہ ميں بھت سي آيات ميں گفتگوكي ھے، اور زندگي كے ھر موڑ پر تمام انسانوں كو عدالت سے كام لينے كا حكم ديا ھے: 

(( إِنَّ اللهَ ياٴْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَي۔۔۔))۔ 473 

”بيشك اللہ عدل، احسان اور قرابتداروں كے حقوق كي ادائيگي كا حكم ديتاھے۔۔۔“۔ 

(( إِنَّ اللهَ ياٴْمُرُكُمْ اٴَنْ تُؤَدُّوا الْاٴَمَانَاتِ إِلَي اٴَھلھا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَينَ النَّاسِ اٴَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ۔۔۔))۔ 474 

”بيشك اللہ تمھيں حكم ديتا ھے كہ امانتوں كو ان كے اھل تك پہنچا دو اور جب كوئي فيصلہ كرو تو انصاف كے ساتھ كرو۔۔۔“۔ 

(( يااٴَيھا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّہِ شُہَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلاَيجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَي اٴَلاَّ تَعْدِلُوا اعْدِلُوا ہُوَ اٴَقْرَبُ لِلتَّقْوَي۔۔۔))۔ 475 

”اے ايمان والو ! خدا كے لئے قيام كرنے والے اور انصاف كے ساتھ گواھي دينے والے بنو، اور خبردار كسي قوم كي عداوت تمھيں اس بات پر آمادہ نہ كردے كہ انصاف ترك كردو ۔انصاف كرو كہ يھي تقويٰ سے قريب ترھے۔۔۔“۔ 

حضرت رسول اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشاد ھے: 

”عَدْلُ ساعَةٍ خَيرٌ مِنْ عِبادَةِ سَبْعينَ سَنَةً، قيامٌ لَيلُھا وَ صِيامٌ نَھارُھا، وَجَوْرُ ساعَةٍ فِي حُكْمٍ اَشَدُّ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ مَعاصِي سِتّينَ سَنَةً“۔476 

”ايك گھنٹہ عدالت سے كام لينا اس ستر سال كي عبادت سے بھتر ھے جس ميں رات بھر عبادت كي جائے اور دن كو روزہ ركھا جائے، اور ايك گھنٹہ ظلم كرنا خدا كے نزديك ساٹھ سال كے گناھوں سے زيادہ بُراھے!“ 

حضرت علي عليہ السلام نے فرمايا: 

”مَنْ طابَقَ سِرُّہُ عَلَانِيتَہُ، وَوافَقَ فِعْلُہُ مَقَالَتَہُ، فَھُوَ الَّذِي اَدَّي الْاَمانَةَ وَتَحَقَّقَتْ عَدالَتُہُ“۔477 

”جس شخص كا ظاھر و باطن ايك ھو، اور اس كے قول و عمل ميں مطابقت پائي جاتي ھو، ايسا ھي شخص امانت ادا كرنے والا ھے اور اس كي عدالت ثابت ھے“۔ 

نيز آپ ھي كا فرمان ھے: 

”اَلْعَدْلُ اَساسُ بِہِ قَوامُ الْعالَمِ“۔478 

”عدالت اس پايہ كا نام ھے جس پر دنيا قائم ھے“۔ 

ايك اور جگہ ھمارے مولا و آقا نے فرمايا: 

”اَلْعَدْلُ رَاٴْسُ الاِْيمانِ، وَجِماعُ الاِْحْسانِ، وَاَعليٰ مَراتِبِ الْاِيمانِ“۔479 

”عدالت سرچشمہ ايمان، جامع احسان اور ايمان كے بلند درجات ميں سے ھے“۔ 

قارئين كرام! گزشتہ صفحات كا خلاصہ يہ ھے: ايمان، نماز، انفاق، آخرت پر يقين، ماں باپ كے ساتھ نيكى، رشتہ داروں كے ساتھ احسان، يتيموں كے ساتھ نيك سلوك، مساكين كا خيال ركھنا، نيك گفتار اپنانا، اخلاص، صبر، مال حلال، تقويٰ، نيكى، غيرت، عبرت، خير، تحصيل علم، اميد اور عدالت كو اپنانا۔ 

يہ تمام چيزيں بھترين اعمال اور بھترين اخلاق ھيں جو معنوي زيبائيوں سے تعلق ركھتي ھيں، اور گناھوں سے توبہ كے بعد انساني اصلاح كے بھترين اسباب ھيں۔ان كے علاوہ نيت، نيكى، حريت، حكمت، قرض الحسنہ، محبت و مودت، انصاف، ولايت، صلح كرانا، وفائے عہد، عفو و بخشش، توكل، تواضع، صدق، خيرخواھى، الفت و معاشرت، جھاد اكبر، امر بالمعروف و نھي عن المنكر، زہد، شكر، ذمہ دارى، سخاوت اور ان جيسي دوسري چيزيں اصلاح كے اسباب اور معنوي زيبائيوں ميں سے ھيں كہ اگر گزشتہ آيات و روايات كي توضيح كے ساتھ بيان كيا جائے تو چند جلديں كتاب ھوسكتي ھيں، لہٰذا ان چيزوں كي زيادہ تفصيل سے صرف نظر كرتے ھوئے اپنے عزيز قارئين كو مفصل كتابوں كے مطالعہ كي دعوت ديتے ھيں جيسے تفاسير قرآن، اصول كافى، جامع السعادات، معراج السعادة، محجة البيضاء، عرفان اسلامي (12جلديں تاليف موئف كتاب ہذا) معاني الاخبار، خصال صدوق اورمواعظ العدديہ وغيرہ ۔ 

375. سورہ7 بقرہ آيت 220۔ 

376. سورہٴ نساء آيت 2۔ 

377. سورہٴ نساء آيت 10۔ 

378. سورہٴ نساء آيت 127۔ 

379. سورہٴ انعام آيت 152۔ 

380. الترغيب ج3، ص347۔ 

381. كنزالعمال ص6008؛تفسير معين ص12، 

382. الترغيب ج3، ص349۔ 

383. ثواب الاعمال ص199، ثواب من مسح يدہ علي راٴس يتيم؛بحار الانوار ج72، ص4، باب31، حديث9۔ 

384. سورہٴ اسراء آيت 26۔ 

385. سورہٴ بقرہ آيت 177۔ 

386. سورہٴ توبہ آيت 60۔ 

387. سورہٴ فجر آيت 16تا 20۔ 

388. سورہٴ حاقہ آيت 25تا 37۔ 

389. مواعظ العدديہ ص147۔ 

390. تفسير امام حسن عسكري ص345، حديث 226؛تفسير صافي ج1، ص151، ذيل سورہٴ بقرہ آيت 83 ؛بحار الانوار ج66، ص344، باب38۔ 

391. كافي ج2، ص201، باب اطعام الموٴمن، حديث 6؛وسائل الشيعہ ج24، ص309، باب 32، حديث30627۔ 

392. سورہٴ بلد آيت 14۔16۔ 

393. محجة البيضا ء ج5، ص193، كتاب آفات اللسان۔ 

394. غررالحكم ص209، اللسان ميزان، حديث 4021۔ 

395. كافي ج2، ص115، باب الصمت و حفظ اللسان، حديث16؛بحار الانوار ج68، ص304، باب78، حديث80۔ 

396. غررالحكم ص213، حظہ اللسان واھميتہ، حديث 4159۔ 

397. تفسير صافي ج1، ص152، ذيل سورہٴ بقرہ آيت 83 ؛بحار الانوار ج72، ص401، باب 87، حديث 42۔ 

398. تفسيرعياشي ج1، ص48، حديث63، ؛تفسيرصافي ج1، ص152، ذيل سورہٴ بقرہ آيت 83؛بحار الانوار ج71، ص161، باب 10، حديث19۔ 

399. مواعظ العدديہ ص87۔ 

400. سورہٴ نساء آيت 146۔ 

401. سورہٴ زمر آيت 3۔ 

402. سورہٴ زمر آيت 2۔ 

403. سورہٴ بقرہ آيت 139۔ 

404. عيون اخبار الرضا ج2، ص69، باب 31، حديث 321؛بحا رالانوار ج67، ص 242، باب 54، حديث 10۔ 

405. جامع الاخبار ص100، الفصل 56في الاخلاص؛بحار الانوار ج67، 248، باب 54، حديث21۔ 

406. غررالحكم :62، فوائد اليقين، حديث746۔ 

407. غرر الحكم :398، الفصل التاسع، حديث 9249۔ 

408. غررالحكم :155، الاخلاص في العمل، حديث2907۔ 

409. سورہٴ بقرہ آيت 155۔157۔ 

410. سورہٴ رعد آيت 23۔24۔ 

411. سورہٴ نحل آيت 96۔ 

412. سورہٴ قصص آيت 54۔ 

413. كنزل العمال حديث6522۔ 

414. نہج البلاغہ ص699، نامہ 53؛تحف العقول ص142؛بحار الانوارج74، ص259، باب 10، حديث 1۔ 

415. غررالحكم :70، الصبر علي الحق، حديث 993۔ 

416. كافي ج2، ص89، باب الصب، حديث 7؛بحار الانوار ج68، ص72، باب 62، حديث 4۔ 

417. كافي ج2، ص91، باب الصبر، حديث 14؛وسائل الشيعہ ج15، ص237، باب 19، حديث 20371۔ 

418. سورہٴ موٴمنون آيت 51۔ 

419. الدر المنثور ج5، ص10۔ 

420. سورہٴ بقرہ آيت 168۔169۔ 

421. تفسير معين ص25۔ 

422. كنز العمال : 9266۔ 

423. كنز العمال :9261؛ تفسير معين ص26۔ 

424. تفسير معين ص26 

425. سورہٴ بقرہ آيت 2۔ 

426. سورہٴ شعراء آيت 90۔ 

427. سورہٴ بقرہ آيت 189۔ 

428. سورہٴ بقرہ آيت 194۔ 

429. سورہٴ آل عمران 76۔ 

430. سورہٴ آل عمران 123۔ 

431. سورہٴ مائدہ آيت 4۔ 

432. سورہٴ آل عمران 172۔ 

433. مائدہ آيت 27۔ 

434. سورہٴ انعام آيت 69۔ 

435. سورہٴ حجرات آيت 10۔ 

436. سورہٴ جاثيہ آيت 19۔ 

437. سورہٴ حجرات آيت 13۔ 

438. تفسير عياشي ج2، ص213، حديث50؛ بحار الانوار، ج67، ص 282، باب 56، حديث2۔ 

439. عدة الداعي ص305، فصل في خواص متفرقة ؛بحار الانوار ج67، ص285، باب 56، حديث8۔ 

440. كنزل الفوائد ج2، ص10، فصل من كلام رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم ؛بحار الانوار ج67، ص285، باب 56، حديث7۔ 

441. سورہٴ بقرہ آيت 177۔ 

442. خصال ج1، ص110، حديث 81؛ثواب الاعمال ص 166؛بحار الانوار ج72، ص273، باب 70، حديث1۔ 

443. تحف العقول ص21؛بحار الانوارج1، ص121، باب 4، حديث11۔ 

444. محاسن ج1، ص 6، باب1 حديث14؛بحار الانوار ج68، ص89، باب 62، حديث41۔ 

445. تحف العقول ص295؛بحار الانوار ج75، ص175، باب 22، حديث5۔ 

446. تحف العقول ص387؛بحار الانوار ج75، ص302، باب 25، حديث1؛مستدرك الوسائل ج12، ص421، باب 32، حديث 14498۔ 

447. من لايحضرہ الفقيہ ج3، ص444، باب الغيرة، حديث4540؛مكارم اخلاق ص239؛بحار الانوار ج100، ص248، باب4، ص33۔ 

448. كافي ج5، ص537، باب الغيرة، حديث6؛وسائل الشيعہ ج20، ص235، باب 132، حديث25521۔ 

449. من لايحضرہ الفقيہ ج3، ص444، باب الغيرة، حديث4542؛خصال ج1، ص37، حديث15؛بحار الانوار ج76، ص114، باب84، حديث1۔ 

450. وسايل الشيعہ ج20، ص153، باب 77، حديث25283۔ 

451. سورہٴ يوسف آيت 111۔ 

452. سورہٴ حشر آيت 2۔ 

453. غرر الحكم ص52، اٴفضل العقل وكمالہ، حديث374؛تفسير معين ص545۔ 

454. نہج البلاغہ :415، خطبہ 181، الوصية بالتقوى؛بحار الانوار ج34، ص124، باب 31، شرح نہج البلاغہ ج10، ص92۔ 

455. جعفريات ص230؛مستدرك الوسائل ج2، ص414، باب64، حديث2338۔ 

456. امالي صدوق ص27، مجلس 8، حديث2؛تحف العقول ص215؛بحار الانوار ج68، ص275، باب78، حديث2۔ 

457. سورہٴ مجادلہ آيت 11۔ 

458. روضة الواعظين ج1، ص11، باب الكلام في ماھية العلوم ؛مشكاة الانوار ص135، الفصل الثامن ؛بحار الانوار ج1، ص 180، باب 1، حديث65۔ 

459. امالي طوسي ص577، مجلس 14، حديث 1191؛بحار الانوارج1، ص181، باب1، حديث71۔ 

460. ترغيب و ترھيب ج1، ص97۔ 

461. منية المريدص100، فصل 2؛بحار الانوار ج1، ص184، باب1، حديث96۔ 

462. كنزل العمال ص28862۔ 

463. سورہٴ انعام آيت 54۔ 

464. سورہٴ بقرہ آيت 218۔ 

465. سورہٴ بقرہ آيت 25۔ 

466. سورہٴ زمر آيت 53۔ 

467. سورہٴ يوسف آيت 87۔ 

468. سورہٴ نساء آيت 120۔ 

469. نہج البلاغہ ص795، حكمت 150؛بحار الانوار ج69، ص199، باب 105، حديث30۔ 

470. عن صادق عن ابائہ عن عليعليھم السلام قال:كن لما لا ترجو اٴرجي منك لما ترجو، فان موسي بن عمران عليہ السلام خرج يقتبس لا ھلہ نارا فكلمہ اللہ عز وجل فرجع نبيا وخرجت ملكة سباٴ فاٴسلمت مع سليمان عليہ السلام وخرج سحرة فرعون يطلبون العزة لفرعون فرجعوا موٴمنين۔ 

471. كافي ج2 ص 71، باب الخوف الرجاء، حديث 11؛بحار الانوارج 67، ص365، باب59، حديث9۔ 

472. عوالي اللئالي ج4، ص102، حديث150۔ 

473. سورہٴ نحل آيت 90۔ 

474. سورہٴ نساء آيت 58۔ 

475. سورہٴ مائدہ آيت 8۔ 

476. جامع الاخبار ص154، الفصل لسادس عشر؛مشكاة الانوارص316، الفصل الخامس في الظلم والحرام؛بحار الانوار ج72، ص352، باب 81، حديث61۔ 

477. غررا لحكم ص211، حديث 4069۔ 

478. بحار الانوارج75، ص83، باب 16، حديث87۔ 

479. غررالحكم ص446، مدح العقل، حديث 10206؛مستدرك الوسائل ج11، ص319، باب 37، حديث 13146۔ 

 


source : http://www.alhassanain.com
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

جعفري ثقافت ميں تصور " زمانہ "
بارش اور پانی، اللہ کی نشانی
اھل سنت کے نزدیک توسل(پہلا حصہ)
توسل قرآن و سنت کی نگاہ میں
انصارحسین علیہ السلام ہی انصاراللہ ہیں( حصہ اول)
امام جعفر صادق علیہ السلام کی چالیس منتخب حدیثیں
اہل تشیع کی پیدائش کیسے ہوئی ؟
حرمت شراب' قرآن و حدیث کی روشنی میں
اقوال حضرت امام محمد باقر علیہ السلام
راویان حدیث

 
user comment