اردو
Tuesday 22nd of September 2020
  806
  0
  0

حضرت شاہ چراغ، امامزادہ میراحمد بن امام موسیٰ کاظم (ع)

تاجدارِ شیراز، ایران

پیر سید علی عباس شاہ

عظمتوں کی انتہا ہیں شاہ چراغِ موسیٰ کاظم

فضل وکرم کبریا ہیں شاہ چراغِ موسیٰ کاظم

آپ ہمنامِ رسالتماب، احمد مجتبیٰ

تاجدارِانما ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

نور کی جلوہ گری ہے آپ کے دربار میں

نوریوں کے پیشوا ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

حیدرِکرّار کے نورِ نظر، شیر خدا

سیدہ کی وہ عطا ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

سنت شبیر زندہ کی تھی پھر شیراز میں

عکس شاہِ کربلا ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

پاسبان دین ہیں وہ ہیں محافظ راہِ حق

عاصیو!قبلہ نما ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

جن کے دادا پاک ہیں اہل جہاں کے دادرس

میرے وہ مشکل کشا ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

صورت وسیرت میں ہیں وہ ہوبہو شاہ نجف

نائب خیر الوریٰ ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

ہے علی عباس کے دل میں چراغ مرتضٰی

وہ رضائے مصطفٰی ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

سیدنا امام موسی کا ظم  کی اولاد اطہار میں ہر جلیل المنزلت صاحبزادہ مقام منفرد رکھتا ہے جن کی حیات طیبہ فدا کاری، تبلیغ دین، ایثار اور فلاح انسانی کی باکمال کاوشوں سے لبریز ہے۔  آٹھویں خلیفہ ء راشد سیدنا امام علی بن موسیٰ الرضا کے بعد سیدنا احمد بن امام موسیٰ کاظم، کمال جاہ وجلال،  رفیع الدرجات،  قدر ومنزلت اور شان وعظمت کے مالک ہیں۔ آپ سیدنا امام موسیٰ کاظم کے بزرگ ترین فرزندان میںسے ہیں۔ امام موسیٰ کاظم آپ سے بیحد محبت فرماتے اور تمام امور میں آپ کو مقدم رکھتے۔ آپ نے اپنی یُسَیْرَہْ نامی جاگیر اُن کے لئے وقف فرمائی۔ سیدنا احمد، سیدنا محمد اورسیدنا حمزہ  بن امام موسیٰ کاظم ایک والدہ سے ہیں۔

آپ کی والدہ مکرمہ حضرت ام احمد بزرگ ترین خواتین میں سے تھیں۔ سیدنا امام موسیٰ کاظم ان مخدومہ پہ خصوصی نگاہ کرم فرماتے۔ جب آپ مدینہ منورہ سے عازم بغداد ہوئے تو تمام تبرکاتِ امامت آپ کے سپرد کرتے فرمایا،

’’یہ تبرکات امامت آپ کے پاس میری امانت ہیں۔ میری شہادت کے بعد جب کوئی یہ تبرکات طلب کرے تو دے دینا، وہی خلیفہ اورامام ہوں گے۔ آپ پر اور دیگر لوگوں پر ان کی اطاعت واجب ہو گی ‘‘۔ حضرت امام علی رضا  کو حضرت ام احمد کے گھر میں بڑے احتیاط سے وصیت فرمائی۔ اس کے بعد ہارون الرشید عباسی نے سیدنا امام موسیٰ کاظم کو زہر دلوا کر شہیدکر دیا۔

آپ کی جانگدازشہادت کے بعد سیدنا امام علی رضا، حضرت ام احمد کے پاس تشریف لائے اور تبرکاتِ امامت کا مطالبہ کیا۔ سیدتنا ام احمد نے یہ سن کر گریہ زاری فرمائی اور سر کوبی فرماتے پوچھا،  ’’سیدی !کیا آپ کے والد بزرگوار شہید ہو گئے ؟‘‘۔ فرمایا، ’’ہاں، ابھی ان کے دفن کے بعد مدینہ واپس آیا ہوں۔ آپ وہ امانتیں مجھے دے دیں جو میرے والد بزرگوار نے بغداد کا سفر اختیار کرتے وقت آپ کے سپرد فرمائی تھیں۔ میں ان کاخلیفہ اور جن وانس پہ امام برحق ہوں ‘‘۔ مخدومہ پاک نے یہ سن کر شدت سے آہ وزاری کی اور امانتیں واپس کر کے سیدنا امام علی رضا کی بیعت کی۔ جب حضرت امام موسیٰ کاظم  کی شہادت کی خبر مدینہ منورہ میں معروف ہوئی تو اہل مدینہ جوق در جوق حضرت بی بی ام احمدکے گھر کے دروازے پر جمع ہونے لگے۔

امامزادہ احمد:

سیدنا میراحمد بزرگی، زہد وعبادت، نفوذشریعت، حق گوئی، بے باکی، اطاعت ایزدی، خوارق عادات، کرامات اور شان وعظمت کے باعث بڑے رعب وجلال کے مالک تھے۔ آپ انتہائی خوشخط اور نفیس رقم تھے۔  کلام مجید کے ایک ہزار نسخے اپنے مبارک ہاتھوں سے تحریر فرمائے۔  کلام پاک کی کتابت سے ملنے والی رقم کے عوض ایک ہزار غلام خرید کر راہ خدا میں آزاد فرمادیئے۔ آپ کے فضائل ومحاسن اور بزرگی احاطۂ تحریر وتقریرمیں نہیں آسکتی۔ سیدناامام موسیٰ کاظم کی شہادت کے بعد لوگ آپ ہی کو امام وقت ماننے لگے۔  مسجد میں لے جا کر امر امامت میں بیعت شروع کر دی۔  تمام لوگوں سے بیعت لے کر آپ منبر پر تشریف لے گئے اورانتہائی فصاحت وبلاغت سے فرمایا،

’’اے لوگو!اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ ابھی آپ تمام لوگوں نے میری بیعت کی ہے اور آپ میری بیعت میں ہیں اور میں خود اپنے بھائی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی بیعت میں ہوں۔ آپ آگاہ رہیں کہ میرے ابا حضور حضرت امام موسیٰ کاظم کے بعد میرے بھائی حضرت علی بن موسیٰ رضا خلیفہ برحق اور ولی خدا ہیں۔ مجھ پر اور آپ سب پر خدا اور رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمْ کی طرف سے یہ امر واجب اور فرض ہے کہ ہم سب ان کی اطاعت وفرمانبرداری کریں، جو حکم بھی ان کی طر ف سے جاری ہو‘‘۔ اس اعلان کے بعد سیدنا امام علی رضا کے کچھ فضائل ومناقب بیان فرمائے۔

سیدنا میر احمد کے اس اعلان اور حکم پر حاضرین نے سر تسلیم خم کرتے گردنیں جھکا دیں۔ اس کام سے فارغ ہو کر تمام لوگ حضرت سید احمد کی زیر قیادت امام علی رضا کے درِ اقدس پہ حاضر ہوئے۔  سیدنا میر احمد نے ہاتھ بڑھا کر بیعت کی اور تمام لوگوں نے آپ کی متابعت می۔ ں بیعت کی۔  امام علی رضا نے آپ کے حق میں دست دعا بلند فرمائے،

’’خدایا !جس طرح انہوں نے میرے حق کی حفاظت کی ہے تو بھی ان کے حق کی حفاظت فرما ‘‘۔ پھر فرمایا، ’’دنیا وآخرت میں اس سے بڑا کوئی عمل مقام نہ ہو گا کہ آپ نے حق کو حفاظت سے رکھا اور باطل کی آمیزش نہ ہونے پائی۔ نہ دنیا کے فریب میں آئے اور نہ سرداری کی پرواہ کی اور حق کو حقدار کے سپرد کر کے حق امانت ادا کیا۔ اس عمل سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ لوگ گمراہی سے بچا لئے اور مخلوق خدا کو صراط مستقیم پہ چلنے کی ہدایت فرمائی ‘‘۔

شیراز آمد:

سیدنا میر احمد اس وقت تک ثَامِنُ الْحُجَّۃْ کی خدمت میں رہے جب تک مامون الرشید نے حضرت امام کو مدینہ سے خراسان نہ بلا لیا۔ امام علی رضا خراسان پہنچے تو مامون نے آپ کو ولی عہد سلطنت مقرر کیا۔ جب یہ خبر مدینہ منورہ پہنچی تو سیدنا احمد اپنے بھائیوں، بھتیجوں، احباء وعقیدت مندوں کے ساتھ جن کی مجموعی تعداد سات سو تھی مدینہ منورہ سے خراسان روانہ ہوئے اور کویت، بصرہ، اھواز،  بوشھرسے ہوتے دروازۂ فارس شیراز کے قریب پہنچے۔ رستہ سے امام کے عقیدت مند اس قافلہ میں شامل ہوتے گئے اور یہ قافلہ دو ہزار نفوس سے تجاوز کر گیا۔ شہر شیراز سے تین میل کے فاصلہ پر تھے کہ آپ نے امام علی رضا کی شہادت کی خبر سنی۔

مامون الرشید عباسی کو خبر ہوئی کہ امامزادگانِموسیٰ کاظم خراسان تشریف لا رہے ہیں تو اس نے تمام عمال سلطنت اور حکام کو ایک مراسلہ کے ذریعے حکم دیا کہ امیر المومنین سیدنا امام علی کی اولاد میں سے جو آدمی جس جگہ ملے قتل کر دیا جائے۔ گورنر شیراز،  قتلغ خان کو خصوصی حکم دیا اور سادات عظام کے خلاف بھڑکایا۔ قتلغ خان کو اطلاع ہوئی کہ سیدنا میر احمد شیراز سے تین میل کے فاصلہ پر ہیں تو اس نے فوراًچالیس ہزار سپاہ پہ مشتمل ایک لشکر ترتیب دیا اور شہر سے باہر آکر سادات عظام کا رستہ روکا۔

سیدنا میر احمد نے پرشکوہ عباسی لشکر کے سامنے قیام فرمایا۔ آپ کو علم ہوا کہ دشمن جنگ اور خونریزی پہ آمادہ ہے تو انہوں نے اپنے انصار ومعاونین کو جمع کر کے امام علی رضا کی شہادت کی خبر سنائی اور فرمایا، ’’یہ ظالم ہمیں کبھی بھی مدینہ منورہ واپس نہ جانے دیں گے۔ تم میں سے جو بھی مدینہ منورہ واپس جاناچاہتا ہو جلد چلا جائے۔ میں ان شریر ظالموں سے ضرور جہاد کروں گا ‘‘۔ یہ سن کر آپ کے تمام بھائیوں،  بھتیجوں اور دوستوں نے اعلان کیاکہ ہم آپ کی قیادت میں جہاد کریں گے۔ سیدنا میر احمد نے ان سب کو دعائے خیر دیتے فرمایا، ’’اچھا تو جنگ کی تیاری کر لیجئے ‘‘۔  یہ دوسودو ہجری کا زمانہ تھا۔

شدت ضربِ شیر خدا اور ہے :

دوسرے روز طرفین کی صف بندی ہوئی اور کُشن کے مقام پر لڑائی کا بازار گرم ہوا۔  اس روز سیدنا میر احمد اور دوسرے امامزادوں نے میدان کارزار میں بہادری کے وہ جوہر دکھائے کہ اہل شیراز کوحیدرِ کرار یاد آگئے۔  سیدنامیر احمد کی تلوار، تیغ ذوالفقار کی عکاس تھی تو آپ کے زورِ بازومیںلَافَتیٰ اِلاّعَلی کے نعرے گونج رہے تھے۔

علی کا گھر بھی وہ گھر ہے کہ اس گھر کا ہر اک بچہ جہاں پیدا ہوا شیر خدا معلوم ہوتا ہے

لشکر اسلام کا دباؤ دیکھ کر جماعتِ اشرار نے میدان چھوڑنا شروع کر دیا۔ دوسرے روز قتلغ خان نے پھر سرکشی کی مگر اہل اسلام نے اسے شکست دے دی۔ قتلغ خان، فی النار ہونے والوں کی لاشوں کو دفن کرنے کے بعد تیسرے دن پھر حملہ آور ہوا مگر شکست خوردگی سے میدان چھوڑنا پڑا۔  جماعت اشرار نے راہ فرار اختیار کی۔

سیدنا میر احمد اور دوسرے شہزادگان نے میدان جنگ سے لے کر دومیل دور قلعہ شیراز کی پشت تک دشمنان اسلام کا تعاقب کیا۔ شیر خدا کے بپھرے شیر،  عباسی لومڑیوں پر غضبناک حملے کر رہے تھے۔ جہاں رخ کرتے منافقین کی جماعت متفرق کر دیتے۔ لڑائی کے آخری روز قلعہ کی پشت تک پہنچ گئے۔ دشمن شہر میں داخل ہو کر دروازے بند کر کے برجوں پہ چڑھ گئے۔ سیدنا میر احمد اپنے لشکر کے ہمراہ خیمہ گاہ واپس تشریف لائے۔ اس روز امام زادوں کو بہت زخم آئے اور لشکر اسلام سے قریبا ًتین سو مجاہدین شہادت رسید ہوئے۔ اگلے روز سیدنا احمد نے حکم دیا کہ لشکر اسلام شہر کے دروازے کے عقب میں خیمہ زن ہو جائے۔

اب وقتِ شہادت ہے آیا :

قتلغ خان نے یہ خبر سن کر اپنے افسروں اور شہر کے اکابرین کو جمع کر کے کہا، ’’ہم ان ہاشمیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے البتہ کسی تدبیر سے کامیاب ہو سکتے ہیں۔ تجویز یہ ہے کہ ہم ہر گزرگاہ پہ فوج کا ایک دستہ پوشیدہ رکھیں اور تھوڑی فوج کے ساتھ شہر کے دروازے پر ان کا مقابلہ کریں۔  ہم شکست خوردہ شکل میں شہر سے بھاگیں، دروازے کھلے چھوڑ دیں، جب ہاشمی تعاقب کرتے ہوئے شہر میں داخل ہو جائیں گے تو شہر میں متفرق ہو جائیں گے۔ چونکہ ان کی تعداد تھوڑی ہے ہم شہر میں انہیں آسانی سے قتل کردیں گے ‘‘۔

تمام خارجیوں نے اس رائے کو پسند کیا۔ دوسرے روز انہوں نے اسی تجویز پہ عمل کیا۔ امامزادے شہر میں داخل ہو گئے۔ کفار کی چال کامیاب ہوئی۔ امامزادگان کو شہر میں جہاں جہاں پایا شہید کردیا گیا۔ سیدنا میر احمد یکہ وتنہا رہ گئے تو وسط شہر میں تشریف لائے۔ لوگ آپ کے رعب وجلال سے خوفزدہ تھے اور آپ کا سامنا کرنے کی تاب نہ رکھتے تھے۔  گروہ در گروہ فرار اختیار کرتے۔ جب آپ سرزدک محلہ کے قریب پہنچے توایک ستمگر نے عقب سے آپ کے سر مبارک پہ وار کیا۔ تلوار آپ کی ابرو ؤں تک اتر آئی۔  آپ کی پشت پرمزید زخم لگائے گئے جن سے آپ ناتواں ہو گئے۔

خارجی آپ کو بے بس جان کر آپ کی جانب بڑھنا شروع ہوئے۔ انتہائی زخمی حالت میں بھی آپ اپنا دفاع فرماتے انہیں دھکیل کر سوق الغازان، بازارِ ریسمان تک لے گئے جہاں آپ کا مشہد مقدس ہے۔ حضرت کو بہت زخم آچکے تھے۔  ناتوانی غالب ہوئی تو خوارج نے مل کر یلغار کردیاوران ظالموں نے آپ کو شہید کر دیا۔ قدرت خدا کہ آپ کا جسد منور ان ظالمین سے غائب ہو گیا اور کسی کو پتہ نہ چلا کہ آپ کا جسد پاک کہاں ہے۔ طویل عرصہ تک یہ مشہد ومدفن عوامی نگاہوں سے مخفی رہا۔

شاہ چراغ:

آپ کی شہادت کے چارسو پچاس سال بعد امیر عضد الدولہ، مقرب الدین، مسعود ابن بدر دیلمی (متوفی ۶۶۵ھ )کے زمانہ تک کسی کے علم میں نہ تھا کہ کہ آپ کا مزار مقدس کہاں ہے۔ ایک پھولدار ٹیلے کے گرد ونواح میں کچھ لو گو ں کے مکانات تھے۔ اس ٹیلے کے دامن میں ایک بزرگ خاتون کا جھونپڑ ا تھا۔ وہ عورت ہر شب جمعہ کچھ حصہ بیت جانے کے بعد اس پھولوں والے ٹیلے پر بہت روشن چراغ دیکھا کرتی جس کی روشنی صبح تک جاری رہتی۔ اس خاتون نے چند شب جمعہ باقاعدگی سے اس چراغ کا مشاہدہ کیا اوردیکھا کہ اس روشنی کے عمل میں کچھ فرق نہ آیا۔ بڑھیا نے سوچا کہ شاید اس ٹیلے پر کسی ولی اللہ کا مقبرہ ہو ؟۔ بہتر ہے کہ اس امر کی اطلاع امیر عضد الدولہ دیلمی کو دی جائے۔ صبح وہ عورت امیر عضدالدولہ کے محل میں گئی اور ساری کیفیت بیان کی۔ امیر یہ سن کر حیران رہ گیا۔  مصاحبین نے کہا،

’’یہ بوڑھی عورت ہے، مختلف خیالات دل میں گزرتے ہیں۔ بڑھاپے کے سبب اسے نیند نہیں آتی اور نگاہوں میں ایسی چیزیں پھرتی ہیں جن کو حقیقت سمجھتی ہے ‘‘۔ ایک نے کہا، ’’یہ بوڑھی عورت غریب ہے، امیر سے کچھ حاصل کرنے اور سوال کرنے کا ذریعہ تلاش کیا ہے تا کہ اسے کچھ مل سکے ‘‘۔

عضدالدولہ نے ان کی باتیں سن کر کہا، ’’تمہاری باتیں درست نہیں ہیں۔ ایسی باتوں سے دور رہنا بہتر ہے۔ اس عورت کی باتوں کا میرے دل پہ گہرا اثر ہو چکا ہے، اس لئے کہ اس کا بیان ہے کہ صرف جمعہ کی راتوں کو چراغ نظر آتا ہے۔ شب جمعہ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ‘‘۔  تسلی کے لئے دوبارہ دریافت کیا۔  بڑھیا نے کہا، ’’صرف جمعہ کی رات ایسا ہوتا ہے۔ دوسری راتوں میں نہیں ہوتا ‘‘۔ امیر عضدالدولہ نے فیصلہ کیا کہ جمعہ کی رات وہ بڑھیا کے گھر جا کر چراغ کی کیفیت کا خود مشاہدہ کرے گا۔  شب جمعہ،  امیر عضدالدولہ بڑھیا کے گھر پہنچ گیا۔ محو استراحت ہوا اور بڑھیا سے کہا جب چراغ کی کیفیت ظاہر ہونے لگے تو مجھے بیدار کر دینا تاکہ میں خود اس کا مشاہدہ کروں۔ رات کا تیسرا پہر گزرا تو اس خاتون نے دیکھا کہ چراغ روشن ہے اورعام دنوں کی نسبت اس کی روشنی بہت ذیادہ ہے۔ بڑھیا بہت خوش ہوئی اور بولی ’’اے شاہ چراغ ‘‘۔

پھر وہ امیر عضد الدولہ کے سرہانے گئی اور بیدار کرتے تین مرتبہ پکاری ’’اے شاہ چراغ ‘‘۔ امیر عضدالدولہ نیند سے بیدار ہوا۔ چراغ پہ نظر پڑی تو حیران ہوا اور اپنے خواص سے کچھ افراد کے ہمراہ ٹیلے پر گیا۔ ٹیلے پر پہنچا تو انہیں کچھ نظر نہ آیا۔ نیچے اترے تو چراغ مشعل کی طرح روشن پایا۔ سات مرتبہ اس عمل کا اعادہ کیا۔ امیر عضدالدولہ اور اس کے درباریوں میں سے ہر آدمی حیران تھا کہ اس عجیب وغریب چراغ کی حقیقت کیا ہے ؟۔ سب حیران وفکرمند اپنے گھروں کو واپس چل دیئے۔ اسی سوچ وفکر میں امیر کی آنکھ لگ گئی۔ خواب میں ایک بزرگ سید نظر آئے جنہوں نے فرمایا، ’’اے عضدالدولہ ! کس خیال میں ہو ؟۔ یہ میرا مدفن ہے اور میں سید احمد بن حضرت امام موسیٰ کاظم ہوں۔ تسلی رکھو اور کسی معتمد کو میرے مدفن کے پاس بھیجو۔ میں نے تمہارے لئے ایک انگشتری رکھی ہے ‘‘۔

سیدنا شاہ چراغ سے خوشخبری سن کر عضد الدولہ نیند سے بیدار ہو گیا اور شدت ذوق سے صبح تک جاگتا رہا۔ صبح امراء وصلحاء، علماء ومعززین کو دربار میں جمع کر کے گذشتہ شب کے خواب کا واقعہ بیان کیا اور مشورہ طلب کیا کہ اس بارے میں کیا کرنا چاہئے ؟۔ علماء نے جواب دیا کہ قبر مطہر کا دوبارہ کھولنا حرام ہے۔ اگر فی الواقع یہ میر احمد کامدفن ہے تو پھر ایسا کرنا امامزادہ کی ہتک عزت کا باعث ہے۔ تمام لوگ متحیر تھے اور انہیں کچھ نہ سوجھتا تھا کہ کیا کیا جائے ؟۔ اسی سوچ بچار میں تھے کہ کسی نے امیر عضدالدولہ سے کہا کہ اس پہاڑ میں شیراز کی جانب ایک پیر بزرگ ہیں جنہیں عفیف الدین کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ طویل مدت سے دنیا جہان سے بے خبر اس پہاڑ میں عبادت الٰہی میں مشغول ہیں۔ ضرورت کے بغیر کسی سے نہیں ملتے۔ پیر عفیف الدین کو بلا کر یہ سارا واقعہ ان سے بیان کیا جائے کہ یہ کیا بھید ہے ؟۔

اس شخص کا مشورہ سن کر ارکان دولت اور علمائے اکابر نے کہا کہ یہ بہترین تجویز ہے۔ ہم میں سے جسے حکم ہو گا انہیں لانے کے لئے حاضر ہیں۔  امیر عضدالدولہ نے کہا، ’’بہتر ہے کہ ایسے خدا رسیدہ بزرگ کی خدمت میں حاضر ہو کر میں خود احوال واقعی عرض کروں۔ اس تجویز کے بعد امیر عضد الدولہ چند خاص درباریوں اور علماء سمیت پیر روشن ضمیر کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا۔ سلام وآداب بجالانے کے بعد چراغ، خواب اور انگشتری کا سارا واقعہ بیان کیا۔ جناب پیر عفیف الدین نے فرمایا، ’’یہ خواب سچ ہے۔ گزشتہ رات میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے۔ آپ قبر اقدس کھولنے کا حکم دے دیں، اس میں کوئی نقصان نہ ہو گا۔ دیکھئے کیا ظاہر ہوتا ہے ‘‘۔  یہ سن کر امیر عضدالدولہ باغ باغ ہو گیا۔ شہر واپس آکر حکم دیا کہ کل اس جگہ کو کھودا جائے۔

دوسرے روز اس جگہ کو کھودا گیا تو پتھر کی بنی لوح مزار ظاہر ہوئی۔ امیر کو اطلاع دی گئی۔ امیر اکابرین شہر، علماء وامراء کے ہمراہ وہاں حاضر ہوا۔ ان سب نے تختی دیکھی جس پر کوفی رسم الخط میں دو سطریں لکھی تھیں،  ’’ اَلْعِزَّۃُلِلّٰہْ،  اَلْسَّیَّدْ مِیْراَحْمَدْ بِنْ مُوْسٰی اَلْکَاظِم ‘‘۔  تختی پر کندہ عبارت اس خواب کے مطابق تھی جو امیر نے دیکھا تھا۔ سب کو یقین کامل ہو گیا۔ امیر عضد الدولہ نے حکم دیا کہ قبر شریف پر لکھی ہوئی پتھر کی سل کو ہٹایا جائے۔ جب پتھر کی سل ہٹائی گئی تو ایک وسیع تہہ خانہ نظر آیا۔ امیر نے ایک شخص پیر عفیف االدین کی خدمت میں بھیجتے پیغام عرض کیا، ’’ اب آپ کی تشریف آور ی کا وقت آن پہنچا ہے۔ تشریف لائیے کہ حضرت سید میر احمد کی خدمت اقدس میں جا کر انگشتری حاصل کی جاسکے ‘‘۔

جسد جاوداں :

یہ اطلاع پا کر پیر عفیف الدین تشریف لائے۔ غسل فرما کر صاف ومعطر لباس زیب تن کیا اور تہہ خانہ میں داخل ہو گئے۔ چند قدم ہی چلے کہ ایسا نور ظاہر ہوا جس سے اس علاقہ سے اندھیرا غائب ہو گیا اور سب جگہ روشنی ہو گئی۔ پیر صاحب نہایت ہیبت زدہ حالت میںوسیع تہہ خانہ کے درمیان پہنچے۔ تہہ خانہ کے عین وسط میں ایک تخت پر سیدنا میر احمدجسدِاقدس پہ مخمل کی سفید چادر اوڑھے، خون میں لت پت،  محو آرام تھے۔   

امانت کی طرح رکھا زمیں نے روز محشر تک

ہوا اک موئے تن میلا نہ اک تار کفن بگڑا

پیر صاحب تخت کے قریب پہنچے تو حضرت سیدنا میر احمد نے کپڑے کے نیچے سے اپنا دایاں ہاتھ باہر نکالا۔ ہاتھ میں انگشتری تھی۔ پیر عفیف الدین کو نزدیک آنے کا اشارہ فرمایا۔ پیر عفیف الدین ان کے قریب جا کر تسلیمات بجالائے اور آنحضرت کے دست وپا چومے۔ انگشتری ان کی انگلی سے اتار کر واپس ہوئے۔ باہر تشریف لائے تو درباریوں نے امیر عضدالدولہ کو اطلاع دی۔ امیر نے پیر صاحب کا استقبال کیا اور بہت ہی عزت کی۔ امیر نے حالات دریافت کئے۔ پیر صاحب نے جو کچھ دیکھا تھا اسی طرح بیان فرما دیا۔ نقش انگشتری کو پڑھا گیا تو اس پر احمد بن امام موسیٰ کاظم نقش تھا۔

امیر نے حکم دیا کہ شہر میں نقارہ بجا کر اعلان عام کردیا جائے کہ تمام فقرا ء ومساکین کو بطور شکرانہ کھانا کھلایا جائے گا۔ قیدیوں کو عام معافی دے دی گئی۔ امیر نے انگشتری پہننا چاہی تو پیر صاحب نے منع کر تے فرمایا، ’’یہ فعل ادب واحترام کے خلاف ہے۔ بہتر یہی ہے کہ انگشتری کو خزانے میں رکھاجائے تاکہ خزانے میں برکت ہواور مخصوص بڑے ایام میں بطور تبرک ا س کی زیارت کروائی جائے۔ امیر عضدالدولہ نے حکم کی تعمیل کرتے انگشتری ایک مرصع صندوق میں رکھ کر خزانچی کے سپرد کر دی۔ یہ انگشتری طویل عرصہ اس خزانے میں محفوظ رہی اور خاص خاص دنوں میں بطور تبرک اس کی زیارت کروائی جاتی تھی۔  ایام جنگ میں اس انگشتری کی برکت سے فتح نصیب ہوتی۔

عنایات شاہ چراغ :

ایک مرتبہ کسی خاص موقع پر انگشتری کی ضرورت محسوس ہوئی۔ خزانچی نے بہت تلاش کی مگر نہ ملی۔ امیر عضدالدولہ بہت پریشان ہوا اور غضبناک ہو کر خزانچی کے قتل کا حکم جاری کر دیا۔ خزانچی کو اپنی موت سامنے دکھائی دینے لگی تو بھاگ کر حضرت سید میر احمد کے روضہ میں پناہ لی۔ لوگوں نے امیر عضدالدولہ کو بتایا کہ خزانچی حضرت سیدمیر احمد کے روضہ میں پناہ گزین ہے اور حضرت کی بارگاہ میں عر ض پرداز ہے۔ امیر عضدالدولہ صورت حال سے پریشان ہو کر تنہائی میں جا بیٹھا۔ انگشتری غائب ہونے سے اس کا آرام وسکون غائب ہو چکا تھا۔ دل میں سوچا کہ یقینا انگشتری سپرد کرتے وقت میں نے یہ خیال کیا تھا کہ یہ میرا مال ہے۔ اسی وجہ سے انگشتری غائب ہوئی ہے۔

وہ اسی پریشانی میں تھا کہ اسے نیند آگئی اور خواب میں وہ حضرت سیدنا میر احمد کی بارگاہ میں شرفیاب ہوا۔ حضرت نے ارشاد فرمایا، ’’اے امیر عضد !انگشتری ہمارے پاس ہے تو گمشدگی کا خیال چھوڑ دے۔ تمہاری حکومت بہت عرصہ تک رہے گی۔ جو انگشتری تمہارے پاس تھی وہ ہم نے واپس منگوا لی ہے۔ اس کی جگہ ہم تمہیں ایک تاج عطا کریں گے جو تمہاری حکومت کے طویل عرصہ رہنے کی دلیل ہو گا۔ پیر عفیف الدین کو میرے پاس روانہ کرو تا کہ تمہارے لئے تاج ارسال کروں۔ امیر عضدالدولہ خواب سے بیدار ہوا تو بہت خوش تھا۔ پیر عفیف الدین کے پاس جا کر انگشتری اور خواب کی ساری کیفیت بیان کی۔  انہوں نے فرمایا، ’’گزشتہ رات میں نے بھی خواب میں حضرت سید میر احمد کی زیارت کی۔ آپ نے حکم دیا، ’’عفیف الدین !دوبارہ ہمارے پاس آؤ تا کہ امیر عضد الدولہ کے لئے تاج ارسال کروں ‘‘، لہٰذا حضرت کے ارشاد گرامی کی تعمیل ضروری ہے ‘‘۔

امیر عضد الدولہ اور پیر عفیف الدین حضرت سید میر احمد کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اس جگہ کو کھودنے کا حکم دیا۔ جب تہہ خانہ تک پہنچے تو خود کو خوشبوؤں سے معطر کیا اور وہاں موجود تمام لوگوں کو بھی خوشبو لگائی۔ پیر عفیف الدین نے غسل کیا، خوشبودار لباس پہنا اور تہہ خانہ میں داخل ہو گئے۔

فردوس بریں :

دیکھا کہ باغات بہشت میں سے ایک باغ ہے جس میں ہر طرف نہریں جاری ہیں اور پھلدار درخت سرسبز وشاداب دکھائی دے رہے ہیں۔ ہوا میں جنتی خوشبو پھیلی ہے۔ ہر جگہ لوگ خوشی ومسرت سے سیر کرتے پھر رہے ہیں۔ پیر عفیف الدین چلتے چلتے اس باغ کے وسط میں پہنچے۔ ایک چبوترہ دیکھا جس کے چاروں طرف نہریں بہہ رہی تھیں اور اس چبوترے پر ایک تخت تھا۔ اس تخت پر ایک شخص جس نے اس دنیا کا لباس فاخرہ پہنا ہوا تھا پیروں کے بل، سر گھٹنوں پہ رکھے بیٹھا تھا۔ اس کے سر پہ گونا گوںموتیوں سے مرصع ایک نہایت ہی خوبصورت تاج تھا اور اون کا بنا ہوا دوسرا تاج سامنے رکھا تھا۔  پیر صاحب اس حصہ کے قریب پہنچے تو سید نامیر احمد کے غیب سے اشعار سنائی دیئے کہ پشم سے بنا تاج اٹھا لو۔ پیر عفیف الدین انتہائی خشوع وخضوع اور ادب احترام سے تخت پہ چڑھے اوراُن حضرت کے دست وپا چومنے کی سعادت حاصل کی۔ اون کا بنا تاج اٹھایا اور باہر آگئے۔

امیر عضدالدولہ کی نظر اس تاج پر پڑی تو تعظیم وتکریم کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔ تاج لے کر بوسے دیئے۔ سر پہ رکھنا چاہا مگر پیر عفیف الدین نے منع کرتے ہدایت فرمائی کہ اسی طرح کے دو تاج اون سے تیار کروا کے تھوڑی سی اون اس تاج کی ان میں لگا دو۔ ایک خود پہنو اور دوسرا میں سر پہ رکھوں۔ اس تاج کی نگہداشت کرو تاکہ تمہارے خاندان اور اولاد میں حکومت باقی رہے۔ امیر عضد الدولہ نے اس ہدایت پہ عمل کرتے ہوئے اون سے دو تاج بنوائے۔ ایک خود رکھا اور دوسرا پیر صاحب کو دے دیا۔

روضہ ء اقدس :

اس کے بعد امیر عضد الدولہ نے سیدنا احمد بن امام موسیٰ کاظم  کا روضۂ اقدس تعمیر کروایا اور آپ کے حالات زندگی اور دیگر تفاصیل ایک پتھر پہ نقش کر کے آپ کے روضہ ء مطہر کے دروازے پہ نصب کر دیا۔  پتھر کی وہ تختی مدتوں قائم رہی۔  طویل عرصہ گزرنے پر اس تختی کے نقوش میں تغیر واقع ہوا اوراس تختی کے کچھ نقوش مٹے ہوئے پائے گئے۔ روضہ کے متولیوں میں سے ایک نے علماء شیراز کو جمع کیا اور تختی کے مٹے ہوئے نقوش کو روشن کیا۔ تمام علماء نے اس کی تصدیق پہ دستخط کئے اور مہریں ثبت کیں۔ تختی کی تحریر کو کتاب کی شکل دے کر اس کا نا م ’’نقش حجر ‘‘رکھا۔  آپ کا روضہ مبارک شیراز کی گنجان آبادی کے عین وسط میں مرجع خلائق ہے۔ موجودہ عمارت اتابک سعد زنگی کی بنائی ہوئی عمارتوں میں سے ایک ہے جس میں مختلف ادوار میں ترمیم وتوسیع ہوتی رہی ہے۔

حضرت سیدنا میر محمد العابدبن امام موسیٰ کاظم :

سیدنا محمد بن امام موسیٰ کاظم، حضرت شاہ چراغ کے بھائی اور جانثاروں میں سے تھے۔ جلیل المنزلت صاحب فضل وصلاح ہیں۔ ہمیشہ باوضو اور نماز وتعقیبات میں مشغول رہتے اوراکثر آیت مبارکہ کَانُوْاقَلِیْلاًمِنَ اللَّیْل مَایَھْجَعُوْن، وہ رات کو کم سوتے تھے تلاوت فرماکر اس پہ عمل پیرا رہتے۔

جس دم امامزادگان کو مکر وفریب سے شہرشیراز میں داخل کر کے ایک دوسرے سے الگ کیا گیا،  سیدنا محمد العابد  اس مقام پہ جہاںآپ کا مزار پرانوار ہے، بزرگ آقا نامی بازار جسے بازار بین الحرمین بھی کہا جاتا ہے شہید کر دیئے گئے۔ آپ بہت بلند درجہ بزرگ، صاحب کرامات اور عظمت وفضائل کے مالک، شب بیدار وصائم النہار تھے۔ کژت عبادت کے باعث آپ کو محمد العابد کہا جاتا ہے۔ آپ کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم المجاب کبیر الدین، کربلا معلی میں حرم امام حسین میں جلوہ نما ہیں۔ سیدنا محمد العابد کا مزار اقدس سیدنا شاہ چراغ کے حرم انور میں ہے۔

زمانے بھر میں ہیں ذیشاں محمد العابد

عطائے ناطق قرآں محمد العابد

جنابِ موسیٰ کاظم نے سنوار بھی، نکھارا بھی

ہیں اہل بیت کی پہچاں محمد العابد

علی کا نام لے لے کر جگایا سونے والوں کو

ولایت کے ہیں وہ سلطاں محمد العابد

ہمیشہ فاطمہ زہرا کی تھی شفقت رہی سر پہ

ہیں شاہِکوچۂ عرفاں محمد العابد

سبھی شیراز والوں کو صراط حق دکھایاہے

حق وباطل کے ہیں فرقاں محمد العابد

شاہ چراغ وسیدی مولا رضا کی آن ہیں

سخی ہارون کی ہیں جاں محمد العابد

ثنا گر ہے، گدا گر ہے، ہے تیرا یہ علی عبّاس

تیرے جس پہ سدا احساں محمد العابد

حضرت سیدنا علاء الدین حسین بن امام موسیٰ کاظم :

سیدنا علاء الدین حسین بن امام موسیٰ کاظم ، حضرت شاہ چراغ کے برادرِصغیر تھے۔ سیدنا عبداللہ، سیدنااسحاق، سیدنا عبیداللہ، سیدنا زید، سیدنا حسین، سیدنا فضل، سیدنا سلیمان فرزندان سیدناامام موسیٰ کاظم ایک والدہ سے ہیں۔ سیدنا حسین بن امام موسیٰ کاظم کا لقب علاء الدین ہے اور آپ معتمد راویان حدیث میںبزرگ شخصیت ہیں۔ امامزادگان کے شیراز میں متفرق ہوتے وقت آپ کی عمرمبارک قریباًپچیس برس تھی۔

جب شہزادگان متفرق ہو کر مختلف اطراف کو روانہ ہو گئے تو آپ قتلغ خان کے باغ میں تشریف لے گئے۔ تین دن بعد باغبان نے آپ کو نہر کے کنارے وضو کرتے دیکھا۔ اس خارجی کے ہاتھ میں بیلچہ تھا۔ اس بد بخت نے عقب سے آپ کے سر اقدس پر ضرب لگائی اور پھر پے در پے ضربیں لگا کر آپ کو شہید کر دیا۔ آپ کی شہادت کے بعد اس ظالم نے اسی بیلچے سے آپ کے جسد اقدس کے ٹکڑے کر کے اِدھر اُدھر پھینک دیئے۔ محبان آل رسول میں سے چند افراد کو اس جانکاہ واقعہ کی خبر ہوئی توو ہ رات کے وقت وہاں آئے اوربکھرے نور پارے اکٹھا کر کے اسی جگہ دفن کر دیا۔

آپ کی شہادت کے دوسوپچاس سال بعد اس بلند مقام پہ ہر شب جمعہ نور چمکتا تھا جسے ایک بامروت ودیندار باغبان دیکھ کر تعجب کیاکرتا۔ اس نے اس کیفیت کو باغ کے مالک قتلغ خان (ابوبکربن سعد زنگی پنجم از فرمانروایان اتابک سلغری، حکمران فارس ۴۲۳تا۴۵۸ھ، شیخ سعدی نے گلستان وبوستان انہی سے منسوب کیں )سے بیان کیا۔ اس نے اس وقت کے بزرگوں اور دانشمندوں سے اس راز کے بارے میں مدد چاہی مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ اس نے حکم دیا کہ وہ جگہ کھودی جائے شاید راز معلوم ہو سکے۔ تھوڑی ہی کھدائی کے بعد ایک پاک وپاکیزہ، باہیبت، خون آلود جسد ظاہر ہوا جو نہایت خوش قامت اور درخشاں چہرے والا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ آپ اسی وقت شہید کئے گئے ہیں۔ دست مبار ک میں قرآن مجید اور دوسرے میں شمشیر آبدار رکھتے تھے۔ تحقیق ومحکم دلائل سے ثابت ہوا کہ یہ جسد اقد س سیدنا علاء الدین حسین کا ہے جو امام موسیٰ ابن جعفر الکاظم کے فرزند بلا فصل تھے۔

نانویں خلیفۂ راشد، سیدنا امام محمد تقی الجوادسے پوچھا گیا کہ آپ کے چچاؤں میں آپ سے سب سے زیادہ کون سے چچا لطف و محبت کرتے ہیں؟۔ امام محمد تقی نے فرمایا، ’’ حسین ‘‘۔ یہ سن کر امام رضا نے فرمایا، ’’خدا کی قسم انہوں نے سچ کہا۔ وہ نیک ترین اور مخلص چچا ہیں‘‘۔

اتابک سعد زنگی کے زمانہ میں اس جگہ سے کرامات ظاہر ہونے لگیں۔  اتابک نے قبر شریف پہ عالیشان گنبد تعمیر کرایا جس وجہ سے وہ جگہ ’’باغ گنبد ‘‘کے نام سے معروف ہوئی۔ صفوی وقاچاری عہد میں مزید ترامیم ہوتی رہیں۔ حضرت سیدنا شاہچراغ کی بارگاہ کے عقب میں جلوہ فرما آپ کی جلالی ونورانی بارگاہ مستجاب الدعوات ہے۔

حضرت سیدنا علی بن حمزہ بن امام موسیٰ کاظم :

حضرت شاہ چراغ کے بھتیجے سیدنا میر علی بن حمزہ بن امام موسیٰ کاظم معرکۂ شیراز میں شدید زخمی ہو کر پہاڑ کی جانب نکل گئے۔ شیراز کے صبوی پہاڑکے دامن میں پہنچے تو زخموں کی بے اندازہ تکلیف اور بدن مبارک سے بہت زیادہ خون بہہ جانے کے باعث کمزور ہو کر گر پڑے۔ اس پہاڑ کے ایک غار میں صاحب تقویٰ بزرگ، علی المعروف بابا کوہی دنیا سے کنارہ کش ہو کرکئی برسوں سے عبادت اور یاد الٰہی میں محو تھے۔ اس روز کسی ضرورت کے تحت پہاڑ کے دامن میں آئے۔ سیدنا علی کو شدید زخمی اور انتہائی مجبور حالت میں دیکھ کر نظر باطن سے پہچان گئے کہ یہ انمول موتی سلسلۂ امامت کے جواہرات میں سے ہے۔

امامزادے کو پشت پہ رکھ کے اپنی خانقاہ لے گئے اور پورے عزم سے شہزادے کی خدمت کے لئے کمر ہمت باندھ لی۔ تین ماہ کی خدمت گزاری بار آور ہوئی اور امامزادہ علی بن حمزہ کے زخم ٹھیک ہوگئے۔  آپ مسلسل سات سال شیخ کے ساتھ رہے اور شیخ نے تمام تر توجہ شہزاد ے کی خاطر داری اور خدمت گزاری پہ مرکوز کرلی۔ ایک دن چراغ میں جلنے والا تیل ختم ہو گیا۔ شیخ کوہی نے کہا کہ ڈبہ لے کر شہر سے تھوڑا سا تیل لے آئیں تا کہ چراغ جلائیں۔ شہزادے نے ڈبہ لیا اور دامن کوہ میں آئے۔ وہاں پانی کا چشمہ تھا۔ ڈبہ پانی سے بھرا اور واپس خانقاہ تشریف لے گئے۔ اس رات وہی پانی تیل کی طرح چراغ میں جلتا رہا۔ شیخ کوہی نے یہ دیکھ کر کہا،

’’میرے سید!آپ میرے آقازادے ہیں، کرامت آپ کی اور آپ کے خاندان کی برحق ہے۔ خار ق عادت امور آپ کے شایان شاں ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ تکلیف کر کے شہر جائیں اور چراغ کے لئے تھوڑا سا تیل لے آئیں۔ اس پر آپ کو اجر ملے گا۔ لوگوں کے پانی سے اجتناب فرمائیں ‘‘۔

صبح امامزادے نے ڈبہ لیا اور شہر کی جانب روانہ ہوئے۔ شہر پہنچ کر تیل حاصل کیا۔ واپس روانہ ہونے لگے تو منافقین کے ایک گروہ نے آپ کے حسن وجمال اور رعب داب دیکھ کر حیرانگی کا اظہار کیا اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہ جوان کون ہے ؟، معلوم ہوتا ہے کہ خاندان اہلبیت سے ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ بابا کوہی کے پاس کوئی بوترابی جوان رہتا ہے۔ گمان غالب ہے کہ یہ وہی جوان ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے شہزادے کو پہچاننے کی کوششیں شروع کر دیں۔ جب اچھی طرح پہچان لیا تو شہزادے کے تعاقب میں رستہ بدل کر شہر سے باہر آگئے اور دروازے کے قریب خشک نالہ پر امامزادہ کے قریب پہنچ کر چاروں جانب سے حملہ کرکے سیدنا علی بن حمزہ کو شہید کر دیا

آپ کا سر مبارک تن سے جدا کر کے اپنے سردار کے پاس لے جانے کی کوشش کی لیکن خدا کی قدرت کہ سر اتنا بھاری ہو گیا کہ زمین سے ہلا بھی نہ سکے اور نامراد شہر واپس چلے گئے۔ شیخ کوہی نےشام تک شہزادے کا انتظار کیا لیکن جب شام تک واپس نہ آئے تو پہاڑ سے اتر کر شہر روانہ ہوئے۔ خشک نالے پر پہنچ کر دیکھا کہ امامزادہ خون میں لت پت شہید پڑے ہیں۔ شیخ کوہی نے قریب پہنچ کر کہا،  ’’مردان خدا چنیں نخسیند‘ ‘یعنی ’’مردان خدا اس طرح نہیں سویا کرتے ‘‘۔ شیخ کوہی نے یہ کہہ کر شہید امامزادے کا جسد مبارک اٹھا یااور سر مبارک بغل میں دباکر وہاں تک لے گئے جہاں آپ دفن ہیں۔ وہاں پہنچ کر زمین پہ گر پڑے۔ شیخ جان گئے کہ اُن کا مدفن شریف یہی ہے۔ شیخ نے شہر آکر بیلچہ لیا اور راتوں رات قبر کھود کر دفن کر دیا۔ رات بھروہاں ذکر اذکار اور تلاوت کلام پاک میں مصروف رہے۔ صبح ہونے پر قبر مطہرکی علامت بنا دی۔

امیر عضدالدولہ کے زمانہ میں اس مزار مقدس پر خوبصورت گنبد تعمیر کروایاگیا۔ آپ کا مستجاب الدعوات، باہیبت روضہ مبارک شیراز کے دروازۂ اصفہا ن میں جلوہ نما ہے۔ آپ کے والد سیدنا ابوالقاسم حمزہ بن امام موسیٰ کاظم  کا روضۂ اقدس تہران میں شاہ عبدالعظیم حسنی کے مزار میں ہے۔ شاہ عبدالعظیم آپ کی تربتِعالیہ کے مجاور تھے اور وہیں انتقال فرمایا۔ سیدنا ابوالقاسم حمزہ کے تین صاحبزادے تھے۔ سیدنا علی بن حمزہ کی اولاد نہ تھی۔ آپ کے دو بھائیوں سیدنا قاسم اور سیدنا حمزہ بن سیدنا حمزہ بن امام موسیٰ کاظم کی اولاد بلاد عجم میں کثیر ہے۔  سلاطین صفویہ موسویہ اور حاجی سید وارث علی شاہ المعروف وارث پاک، تاجدارِ دیوا شریف انڈیا سیدنا قاسم حمزہ کی اولاد اطہار کے دمکتے ستارے ہیں۔


source : http://abna.ir
  806
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

عاشورا ! نبرد جاوداں
بحث امامت کي شروعات
علی(ع) نے نواصب کے آباء و اجداد کو قتل کیا صرف اسی وجہ سے ...
امّ البنين مادر ابوالفضل (ع)
حاسد نا کامی کی آگ میں جلتا ھے!!!
قرآن مجید میں حوادث کے جزئیات کیوں ذکر هوئے هیں اور ...
امام مھدی عج اوریوسف نبی ع میں شباھتیں
ابتدائے اسلام میں خواتین کا کردار
ہر چیز کے سرچشمہ کو تلاش کرنا چاہئے
تربیت اولاد

 
user comment