اردو
Monday 21st of September 2020
  12
  0
  0

تنزيل قرآن کے برکات

يوں تو ہرآسمانى صحيفہ جو  رب العالمين کى طرف سے نازل ہوتاہے اپنے ساتھ ہدايات وبرکات لے کرآتاہے ليکن اس کے باوجودقرآن کريم کامطالعہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ کسى صحےفہ کے برکات کامقابلہ تنزيل قرآن کے برکات سے نہيںکياجاسکتاہے۔

تنزيل قرآن کى سب سے پہلى برکت اورقرآن کاعالم بشرےت پرسب سے پہلااحسان يہ ہے کہ اس نے تقرےباپانچ سوبرس کے بعدپھرزمين وآسمان کے رشتوںکوجوڑديا۔جناب عےسى کے آسمان پرچلے جانے کے بعدسے ہاديوںکاسلسلہ ضرورباقى رہا،زميںپرحجت خداکاوجودضروررہا،اوصياء جناب عےسى تبلےغ دےن حنےف ضرورکرتے رہے ليکن وہ سلسلہ مسدودتھاجس سے زمين وآسمان کارابطہ اوراتصال قائم ہوتاہے، شرےعت عےسى کى تبلےغ ہورہى تھى ليکن وحى کے رشتے ٹوٹ چکے تھے، کوئى اےساانسان نہيںتھا جس پروحى نازل ہوتي اورجس کى کسى وحى کاتذکرہ آج تارےخ قرآن ميںملتاہو۔

پانچ سوبرس تک يہ سلسلہ برقراررہا۔ پانچ سوبرس کے بعدحضورسرورکائنات اس دنياميںتشرےف لائے ، آپ اپنے کمال نفس اورپاکےزگى کردارکى بناء پرہمہ وقت مبداٴاعلى سے متصل تھے ليکن اس کے آپ پرکوئى ظاہرى وحى نازل نہيںہوئي تھى يہاںتک کہ ايک دن ملک نے پےغمبرانہ عظمت کااعلان کرتے ہوئے آوازدى ”اقراٴباسم ربک الذى خلق -#خلق الانسان من علق#اقراٴوربک الاکرم الذى علم بالقلم ،علم الانسان مالم ےعلم۔“ےعنى وحى ظاہرى کاسلسلہ شروع ہوگيااوراسي آغازوحى کانام ”تنزيل قرآن“ قرارپاگيا۔ مطلب يہ ہے کہ انجےل کے بعد عالم بشرےت برکات وحى سے محروم تھا۔ تنزيل قرآن نے پہلے پہل عالم بشرےت کواس وحى سے روشناس کرايااورزمين وآسمان کے رشتے کومتصل کيا ۔   

عالم بشريت پرقرآن کايہ احسان کچھ کم تھاکہ وحى نے ايک اوراحسان کااضافہ کرديااوروہ تھي وحى کونوعےت ۔ آسمانى پےغام کآجاناہى کياکم تھا کہ پےغام بھى علم وقرائت کاپےغام آياجس سے معلوم ہواکہ آج کي وحى دنياکوعلم وفہم کے جوہرعطاکرنے آئى ہے اورسوئي ہوئى دنياکوبےدار کرکے اس زےورعلم وہنرسے آ راستہ کرنے آ ئي ہے۔

تنزيل قرآن کى دوسرى برکت اورلہى پےغام کادوسرااحسان يہ ہے کہ قرآن کے ذرےعے پہلے پہل ساراعالم بشرےت الوہےت کامخاطب قرارپايا۔ قرآن مجيداورتوارےخ نے دےگرانبياء کے پےغامات کاتذکرہ بھى کياہے ليکن ان پےغامات ميںمخاطب عموماان کے دورکے افراداوران کى قوم کے لوگ ہواکرتے تھے ۔ قرآن مجيدنے پہلے پہل ”يااےھاالناس “ کى آوازبلندکى اورسارے عالم انسانيت کومخاطب بننے کاشرف حاصل ہوا۔ غورکياجائے توقرآن مجيدکايہ احسان عالم انسانيت کے لئے ناقابل فراموش ہے۔ قرآن مجيدنے جس اندازسے انبياء کى دعوت کاتذکرہ کياہے اس کاايک مختصرخاکہ يہ ہے  :

جناب ابراہیم (ع)  -- ”اذقال لابيہ وقومہ ماتعبدون۔“ ابراہےم نے اپنے چچااورقوم سے کہاکہ تم کس کى عبادت کرتے ہو؟

جناب نوح  (ع)- ” کذبت قوم نوح  المرسلين اذ قال لہم اخوھم نوح اٴلاتتقون۔“  (شعراء۷۰)

جناب نوح نے اپنى قوم سے کہاکہ تم پرہےزگارکيوں نہيں بنتے توانھوں نے ان کى تکذيب کردي۔ (شعراء ۱۰۶)   

جناب ہود  (ع)- ”کذبت عادالمرسلين اذ قال لھم اخوھم ھوداٴلاتتقون ۔“  جناب ہودنے قوم عاد کودعوت تقوى دى توانھوںنے بھى انکارکرديا۔ (شعراء ۱۲۴)۔

جناب صالح  (ع)-” کذبت ثمودالمرسلين اذ قال لہم اخوھم صالح اٴلاتتقون۔“

جناب صالح  (ع) نے قوم ثمود کودعوت تقوى دي توانھوںنے بھى انکارکرديا۔  (شعراء ۱۴۲)۔

جناب لوط  (ع)-” کذبت قوم لوط المرسلين اذ قال لہم اخوھم لوط اٴلاتتقون۔“

جناب لوط نے قوم کو دعوت دى توانھوںنے بھى انکارکردے۔  (شعراء ۱۶۱)۔

جناب شعیب (ع)- ”کذب اصحاب اليٴکة المرسلين اذ قال لھم شعيب اٴلاتتقون۔“

جناب شعيب نے دعوت تقوى دى تواصحاب الائکة نے انکارکرديا۔ (شعراء ۱۷۷)۔

ا س کامطلب يہ ہے کہ انبياء سابقن نے جب بھى عبادت وتقوى کى دعوت دى ہے توان کاروئے سخن ان کى قوم يا ان کے قبےلے کى طرف تھااوراگرکبھى ان کي زبان پرياايہاالناس آيابھى ہے تومقام تعليم ميں نہيںمقام اعلان فضےلت ميں۔ يہ قرآن کريم ہي کاکرم تھاکہ اس نے دعوت عبادت وتقوى کوعام کرکے سارے عالم ا نسانيت کو مخاطب بناليااوراعلان کرديا۔”يااےھاالناس اعبدواربکم الذى خلقکم والذين قبلکم لعلکم تتقون۔“(اے انسانو! اس خداکى عبادت کروجس نے تمھےںبھى پےداکياہے اورتمھارے پہلے والوںکوبھى پےداکياہے شاےدتم اسى طرح متقى بن جاؤ۔)

خطاب کااندازہى بتارہاہے کہ اس کاتعلق کسي ايک قوم يادورسے نہيںہے بلکہ تمام وہ انسان جواس دورکے انسانوںکى طرح مخلوق ہےںاورازخودپےدانہيںہوئے وہ سب اس دعوت وپےغام ميںبرابرکے شریک ہیں۔

قرآن مجيدکاتےسرااحسان يہ ہے کہ يہ عالم بشرےت کاپہلاصحےفہ ہے جس ميںانسانى ضروريات زندگي کالحاظ رکھتے ہوئے پورى حيات کادستورپےش کياگياہے ۔ اس کے قبل کے صحيفوں ميں ايک دورکے چندافراواقوام کى تنظيم کى تعليم توملتى ہے ليکن زندگى کے تمام شعبوں اورانسانيت کى جملہ ضرورتوں پرمحيط کوئى يعليم نہيںملتي ۔ انجےل ميںخود مسےح کاقول ہے کہ ”ميںقوم کے جانوروں کوہداےت دےنے کے لئے آياہوں۔“ ظاہرہے کہ جانورقوم کے لئے جوضابطہ پےش کياجائے گاوہ عالم انسانيت کے لئے مفيدنہيں ہوسکتااور يہي وجہ ہے کہ جب عالم انسانيت نے ترقى کرکے بشرتت کى سرحدميں قدم رکھ دياتو مسيح کاقانون منسوخ ہوگيااورقرآن کاوہ ابدي قانون نافذہوگياجوہميشہ ہميشہ انسانيت کى اصلاح کرتارہے گا۔ 

قرآن مجيدکاچوتھااحسان يہ ہے کہ اس نے جہاںايک طرف اصلاح حيات ميںعلم وعمل کى دعوت دى ہے وہاں دوسرى طرف يعليم کائنات کے فرےضے کوبھى انجام دياہے۔ اس کے قبل نازل ہونے والے صحےفہ ميںاصلاح زندگى کاسلسلہ توتھاليکن مسائل کائنات کاحل نہيںتھا۔ قرآن ايک ابدى قانون بن کرآياتھااس لئے اس نے اپنے دامن ميںمسائل کائنات کوبھى جگہ دے دى تاکہ ہردورارتقاء ميں اس کى عظمت مسلم رہے اورہردورکاانسان اس کي بلنديوںکے سامنے سرنگوںرہے، کسى زمانے کاانسان يہ نہ سوچنے پائے کہ قرآن کى نظرہمارے زمانے پرنہيںتھى يااس کاقانون آج کے حالات پرمنطبق نہيںہوسکتا۔ قران کى علمى وسعتوںکااندازہ آئندہ مباحث سے کياجاسکتاہے!

 


source : http://quran.al-shia.org/urd/others/tanzeele-quran-ke-barkat.htm
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

فضائل علی (ع):
حضرت ابوذر غفاری
سفیر حسینی
امامت و سلطنت کا بنيادي فرق
اخلاق کے اصول
قرآن کی نظر میں حضرت علی(علیہ السّلام) کا مقام
قرآن کے الفاظ عام انسان کے ليۓ قابل فہم
ہندی طبیب کے ساتھ امام جعفرصادق(ع) کی گفتگو
قرآن اور عترت کو ثقلین کہے جانے کی وجہ تسمیہ:
امام حسین (ع) کے بغیر دین اسلام کی شناخت و پہچان ممکن ہی ...

 
user comment