اردو
Thursday 1st of October 2020
  1249
  0
  0

روزہ داروں کا انعام (حصّہ دوّم)

علماء فرماتے ہیں تبدیلی راہ اس بنا پر تھی تاکہ مقامات مختلفہ اور وہاں کے رہنے والے انسان و جنات اور فرشتے طاعات و نیکیوں پر گواہ بن جائیں یا اس بنا پر تھی تاکہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی برکتیں دونوں راستوں اور وہاں کے رہنے والوں کو حاصل ہو سکیں، یا اس بنا پر تھی تاکہ دونوں راستوں میں شعائر و شرائع اسلام کا ظہور حاصل ہو، یا اس بنا پر تھی کہ آپ عیدگاہ داہنی جانب سے تشریف لے جاتے تو اگر واپسی بھی اسی راستے سے ہوتی تو یہ بائیں جانب ہوتا۔ اس لئے واپسی میں دوسرا راستہ اختیار فرماتے، تاکہ وہ بھی دہنی جانب سے ہو۔ (مدارج النبوۃ)

دوسری روایت میں ہے کہ جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالٰی فرشتوں کو زمین پر بھیجتا ہے جو گلی کوچوں اور راستوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور بلند آ واز سے پکارتے ہیں جسے جن و انس کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے کہ اے محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی امت اپنے رب کریم کی طرف آؤ، تمہیں بہت کچھ دو گا اور تمہارے کبیرہ گناہوں کو بخش دے گا۔

 اور جب لوگ عیدگاہ میں آ جاتے ہیں تو اللہ تعالٰی فرشتوں سے فرماتا ہے جن مزدور نے اپنا پورا کام کیا ہو اس کی مزدوری کیا ہے! فرشتے عرض کرتے ہیں اس کی مزدوری یہ ہے کہ اسے پورا اجر دیا جائے، تب اللہ تعالٰی فرماتا ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ جن لوگوں نے روزے رکھے اور نمازیں پڑھیں ان کے عوض میں، میں نے انہیں مغفرت سے نواز دیا۔

 پھر رب تعالٰی مسلمانوں سے فرماتا ہے اے میرے بندو ! مانگو کہ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ! آج اس مجمع میں جو چیز اپنی آخرت کیلئے مانگو گے میں تمہیں عطا کروں گا اور جو کچھ دنیا کیلئے سوال کرو گے اس میں تمہارے لئے نظر کروں گا۔ (یعنی دنیا کی چیزوں میں خیر و شر دونوں ہوتے ہیں اور آدمی اکثر اپنی نادانی سے خیر کو شر، اور شر کو خیر سمجھ لیتا ہے اور تمہارے حق میں کیا اچھا ہے کیا بُرا ہے وہ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ لٰہذا دنیا کیلئے جو کچھ مانگو گے اس میں بکمال رحمت نظر فرمائی جائے گی، اگر وہ چیز تمہارے حق میں بہتر ہوئی عطا ہوگی ورنہ اس کے مطابق بلا دفع کریں گے یا یہ دعاء روز قیامت کیلئے ذخیرہ رکھیں گے اور یہ بندے کے لئے ہر صورت سے بہتر ہے۔)

مجھے اپنی عزت کی قسم ! جب تک تم میرا لحاظ رکھو گے میں بھی تمہاری خطاؤں پر پردہ پوشی فرماتا رہوں گا، مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ! میں تمہیں اہل کبائر میں رسوا نہ کروں گا، اپنے گھروں کی طرف مغفرت یافتہ لوٹ جاؤ، بیشک تم نے مجھے راضی کیا اور میں بھی تم سے راضی ہوگیا۔ (فتاوٰی رضویہ سوم، غنیۃ الطالبین)

اور جہاں عید سعید کے دن روزہ دار خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں وہیں شیطان لعین روزہ داروں پر رب تعالٰی کی رحمتوں بخششوں اور بے انتہا کرم نوازیوں کو دیکھ کر حسد کی آگ میں جل جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ جب بھی عید آتی ہے شیطان چلا چلا کر روتا ہے اس کی بدحواسی اور اضطرابی کیفیت دیکھ کر تمام شیاطین اس کے پاس جمع ہو کر پوچھتے ہیں، اے آقا آپ کیوں غضبناک اور اداس ہیں ؟ شیطان بولتا ہے، ہائے افسوس ! اللہ تعالٰی نے آج کے دن امت محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو بخش دیا ہے، لٰہذا تم انہیں لذتوں اور خواہشات نفسانی میں مشغول کرو۔ (مکاشفۃ القلوب)

جناب حضرت سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تعالٰی نے عید الفطر کے دن جنت کو پیدا فرمایا اور درخت طوبٰی عیدالفطر کے دن بویا، جبریل کا وحی کیلئے عیدالفطر کے دن انتخاب کیا اور فرعون کے جادوگروں کی توبہ بھی اللہ تعالٰے نے عیدالفطر کے دن قبول فرمائی۔

فرمانِ نبوی ہے کہ جس نے عید کی رات طلبِ ثواب کیلئے قیام کیا، اس دن اس کا دل نہیں مرے گا جس دن تمام دل مر جائیں گے۔

مولائے کایئانات  حضرت علی کرم علیہ السلام کی بارگاہ ناز میں ایک شخص عید کے دن حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ سوکھی روٹی کھا رہے ہیں۔ اس نے عرض کیا حضور ! آج عید کا دن ہے، اور آپ سوکھی روٹی تناول فرما رہے ہیں، تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا آج ان کیلئے عید ہے جن کے روزے قبول ہوئے اور جن کی کوششیں نتیجہ لانے والی ثابت ہوئیں اور جن کے گناہ بخش دئیے گئے۔ مگر ہماری آج بھی وہی عید ہے جو کل ہوگی، یعنی جس دن آدمی گناہ نہ کرے وہ اس کیلئے عید کا دن ہے۔ (غنیۃ الطالبین)

غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی ایک رباعی میں ارشاد فرمایا ہے لوگ کہہ رہے ہیں کہ کل عید ہے، کل عید ہے، اور سب خوش ہیں لیکن میں تو جس دن اس دنیا سے اپنا ایمان محفوظ لے کر گیا، میرے لئے تو وہی دن عید کا دن ہوگا۔

اور عیدالفطر کے اس پر کیف موقع پر بھی سرکار کائنات نے غریبوں اور مفلسوں کو یاد رکھا ہے اور اغنیاء کو حکم دیا ہے کہ تم صدقہء فطر ادا کیا کرو، تاکہ تمہارے غریب بھائی جو اپنی ناداری کی وجہ سے عید کی خوشی نہیں منا سکتے وہ بھی عیدالفطر کی اس خوشی میں تمہارے شریک ہو جائیں اور صدقہ فطر کی ادائیگی میں یہ فائدہ مضمر ہیں کہ اگر رمضان شریف کے روزوں میں فضول اور بیکار باتیں ہو جائیں یعنی لغو، فحش، جھوٹ، غیبت  سے نقصان پیدا ہو جائے تو یہ صدقہ اس کا بدلہ ہے جو روزے کو پاک و صاف کر دیتا ہے اور صدقہ فطر میں غرباء و مساکین کے خورد و نوش کا بھی انتظام ہے تاکہ وہ بھی خوشیاں منا سکیں، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ سرکار دو جہاں نے صدقہء فطر اس لئے مقرر فرمایا تاکہ لغو اور بیہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہو جائے اور دوسری طرف مساکین کیلئے خوراک ہو جائے۔ (ابو داؤد)

اور عید کے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہء فطر واجب ہو جاتا ہے۔ لٰہذا جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے ہی مر گیا یا غنی تھا فقیر ہو گیا، یا صبح صادق طلوع ہونے کے بعد کافر مسلمان ہوا، یا بچہ پیدا ہوا، یا فقیر تھا غنی ہو گیا تو واجب نہ ہوا۔ اور اگر صبح صادق طلوع ہونے کے بعد مرا، یا صبح طلوع ہونے سے پہلے کافر مسلمان ہوا، یا بچہ پیدا ہوا، یا فقیر تھا غنی (مالک نصاب) ہو گیا تو واجب ہے۔ (بہار شریعت)


source : http://www.tebyan.net/index.aspx?pid=135472
  1249
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

السلام عليک يا علي بن موسي الرضا
اہلبیت علیھم السلام کتاب و سنت کیروشنی میں (۱)
امام حسین علیہ السلام کی زیارت
امام صادق ؑ کی علمی عظمت
رمضان رحمتوں کا مہینہ ہے
حسین آؤ کہ آج دنیا کو پھر ضرورت ہے کربلا کی
قمہ زني کيا ہے؟
آخری معرکہ۔۔۔۔؟
الہی اور قرآنی نظام کا طلوع سحر
اول وقت میں نماز کی فضیلت

 
user comment