اردو
Thursday 1st of October 2020
  12
  0
  0

زکوٰة اور غربت کا خاتمہ

دین اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے جن میں کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰة اور حج شامل ہیں۔ باقی ارکان کی طرح زکوٰة بھی ایک رکن ہے ۔ جس طرح باقی ارکان کا انکار کفر ہے اسی طرح زکوٰة سے انکار کرنے والا بھی کافر ہوجاتا ہے اور باقی ارکان کی طرح زکوٰة پر ایمان لانا واجب اور فرض ہے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور ابوبکر خلیفہ اول بن گئے تو کچھ لوگوں نے زکوٰة دینے سے انکار کیا تو  ابوبکر صدیق فرمانے لگے اللہ کی قسم میں ان لوگوں سے ہمیشہ قتال کروں گا جو لوگ نماز اور زکوٰة کے درمیان فرق کرتے ہیں اور فرمایا کہ جو آدمی اونٹ کی رسی کو زکوٰة میں دینے سے انکار کرے میں اس سے بھی قتال کروں گا ۔ اس سے زکوٰة کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کا کیا مقام ہے ۔

قرآن کریم میں 700 مقامات پر نماز کے ساتھ ساتھ زکوٰة کا ذکر آیا ہے او ایک اور آیت میں ہے”لوگوں سے ان کے اموال کا صدقہ لو اور یہ صدقہ ان کی پاکی کے لیے ہے “اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ صدقہ کے ذریعہ سے اپنے بیماروں کو دوا دو ۔

 ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ

صدقہ دیتے رہا کرو اس سے اللہ کا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور انسان بری موت سے محفوظ ہو جاتا ہے ۔ ایک اور آیت میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ میری رحمت ہرچیز پر وسیع ہے اور میری رحمت ان لوگوں کے لیے ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں ۔

ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص مال کی زکوٰة ادا نہیں کرتا قیامت کے روز اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں آئیگا اور اس کی گردن میں لپٹ کر اس کے گلے کا طوق بن جائے گا ۔

ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے کہ

جو شخص زکوة ادا کردیتا ہے تو وہ اپنے مال کے شر سے مامون ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ اور بھی قرآ ن کریم کی آیات اور آحادیث ہیں جن سے زکوة کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور ادا نہ کرنے والوں کے لیے وعیدیں وارد ہوئی ہیں ۔

ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  خانہ کعبہ میں تشریف فرما تھے اور ارشاد فرمایا کہ

صدقات سے مال کی حفاظت کرو تو ایک نصرانی نے جب یہ بات سنی تو اس نے صدقات دینے شروع کر دیئے ۔

ایک مرتبہ تجارتی قافلہ روانہ ہوا تو اس نصرانی نے بھی اپنا مال ایک وکیل کے ہاتھ تجارت کے لیے اس قافلے کے ساتھ بھیج دیا کچھ دنوں بعد یہ خبر پھیل گئی کہ قافلہ لوٹ لیا گیا ہے جب یہ خبر اس نصرانی کو پہنچی تو وہ غضبناک ہوگیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا تھا کہ صدقہ مال کی ذریعہ حفاظت ہوتی ہے میں صدقہ دیتا ہوں پھر بھی مال لٹ گیا ہے اس پر وہ کہنے لگا کہ اللہ کے رسول نے مجھ سے کذب بیانی کی ہے ۔چنانچہ اس نے تلوار سونت لی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے خلاف لشکر جمع کرنا شروع کردیا ۔پھر وکیل کی خبر پہنچی کہ میرا اونٹ لنگڑا ہوگیا تھا جس کی وجہ سے میں قافلہ سے پیچھے رہ گیا تھا اور سارا قافلہ لٹ گیا لیکن میرامال محفوظ ہوگیا ۔جب نصرانی نے یہ خبر سنی تو تلوار پھینک دی اور ایمان لے آیا ۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقات کے ذریعہ سے مال کی حفاظت ہوتی ہے ا س پر ہر مسلمان کا ایمان ہونا چاہیے ۔

حق تعالی شانہ نے جتنے احکام بندوں کے لیے مقرر فرمائے ہیں ان میں بے شمار حکمتیں ہیں جن کا انسانی عقل احاطہ نہیں کرسکتی ۔اللہ تعالیٰ نے زکوة کے فریضہ میں بھی بہت ساری حکمتیں رکھی ہیں انسان کی ان حکمتوں تک رسائی ممکن نہیں ۔ ان میں کچھ عام فہم حکمتیں قابل ذکر ہیں ۔

 آج کل امیر وغریب کی جنگ اس لیۓ پیدا ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے متمول طبقہ کے ذمہ پسماندہ طبقہ کے جو حقوق عائد کئے انہوں نے اس سے پہلوتہی کی ۔ اگر پورے ملک کی دولت کا چالیسواں حصہ ضرورت مندوں میں تقسیم کرلیاجائے اور یہ عمل مسلسل جاری رہے اور متمول طبقہ کسی جبر و اکراہ کے بغیر ہمیشہ یہ فریضہ ادا کرتا رہے اور پھر اس رقم کی منصفانہ تقسیم مسلسل ہوتی رہے تو کچھ ہی عرصہ میں غربت کا خاتمہ ہوجائیگا اور امیراور غریب کے درمیان جو دوریاں ہونگی وہ ختم ہوجائیں گی ۔اور پوری ملت اسلامیہ سکون اور راحت میں ہوجائیگی ۔

یہ ملت اسلامیہ کے لیے نہیں ہے بلکہ اگر پوری دنیا اس پر عمل پیرا ہو جائے تو غر بت کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔

 مال و دولت کی حیثیت معیشت میں ایسی ہی ہے جیسے خون کی بدن میں ۔ اگر خون کی گردش میں فتور آ جائے تو انسانی زندگی کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے اور بعض اوقات دورے پڑنا شروع ہوجاتے ہیں اور موت تک واقع ہوجاتی ہے ۔ٹھیک اسی طرح اگر دولت کی منصفانہ تقسیم نہ ہو تو معاشرہ کی زندگی خطرہ میں ہوتی ہے ۔حق تعالیٰ نے دولت کی منصفانہ تقسیم اور عادلانہ گردش کے لیے جہاں اوربہت ساری تدبیریں ارشاد فرمائی ہیں ان میں سے ایک زکوة وصدقات کانظام بھی ہے اگر یہ نظام صحیح چلتا رہے تومعاشرہ میں دولت کی بے اعتدالیاں ختم ہوجائیں گے

انسانوں سے ہمدردی انسانیت کا اہم ترین وصف ہے ۔ جس شخص کا دل اپنے جیسے انسانوں کی بے چارگی ،غربت و انداس، بھک، فقر و فاقہ اور تنگ دستی و زبوں حالی دیکھ کر نہیں پیجتا وہ انسان نہیں جانور ہے ۔

چونکہ ایسے موقعوں پر شیطان اور نفس انسانی کو ہمدری میں اپنا کردار ادا کرنے سے باز رکھتے ہیں اس لئے حق تعالیٰ شانہ نے اپنے کمزور بندوں کی مدد کے لیے امیروں کے ذمہ یہ فریضہ عائد کیا ہے کہ وہ زکوة کے زریعہ سے غریبوں کی مدد کریں ۔

 مال جہاں انسانی معیشت کی بنیاد ہے وہاں انسانی اخلاق کے بنانے اور بگاڑنے میں بھی اس کو گہرا دخل ہے بعض مرتبہ مال نہ ہونا انسان کو غیر انسانی حرکات پر آمادہ کرتا ہے اور وہ معاشرہ کی ناانصافی کو دیکھ کر معاشرتی سکون کو غارت کرنے کی ٹھان لیتا ہے ۔ بعض اوقات وہ چوری ،ڈکیتی ،سٹہ بازی اور جوا جیسی قبیح حرکات کردیتا ہے اور کبھی غربت سے تنگ آ کر وہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔کبھی وہ پیٹ کا جہنم بھرنے کے لیے اپنی عزت وعصمت کو نیلام کردیتا ہے اورکبھی فقروفاقہ کا مداوا ڈھونڈنے کے لیے اپنے دین وایمان کو سودا کردیتا ہے اسی بناء پر ایک حدیث میں فرمایا گیا کہ قریب ہے کہ فقرو فاقہ انسان کو جہنم تک پہنچا دے ۔ہمارے معاشرے میں یہ تمام برائیاں بہت عام ہوچکی ہیں جوکہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔ اگر زکوة کی منصفانہ تقسیم کوعمل میں لایا جائے توان برائیوں سے بچا جا سکتا ہے ۔

زکوة وصدقات کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے مال ودولت میں برکت ہوتی ہے زکوة وصدقات میں بخل کرنا آسمانی برکتوں کے دروازے سے بند کرنا ہے ۔حدیث میں آتا ہے کہ جو قوم کو روک لیتی ہے اللہ تعالیٰ اس پر قحط اور خشک سالی مسلط کردیتا ہے اور آسمانوں سے بارش بند ہوجاتی ہے ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ چار چیزوں کا نتیجہ چار چیزوں کی شکل میں ہوتا ہے ۔

۱:۔جب کوئی قدم عہد شکنی کرنی ہو تو اس پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جاتا ہے ۔

۲:۔جب وہ ماانزل اللہ کے خلاف فیصلہ کرتی ہے توقتل وخونریزی اور موت عام ہوجاتی ہے ۔

۳:۔جب کوئی قوم زکوة روک لیتی ہے تو ان سے بارش روک لی جاتی ہے ۔

۴:۔جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو زمین کی پیداوار کم ہوجاتی ہے اورقوم پر قحط مسلط ہو جاتا ہے خدا تعالیٰ کا تجویز مزمودہ نظام زکوة و صدقات وہ انقلابی نظام ہے جس سے انسان کو راحت و سکون کی زندگی نصیب ہو سکتی ہے۔ اور اس سے انحراف کا نتیجہ معاشرے کے افراد کی بے چینی و بے اطمینانی کی شکل میں رونما ہوتا ہے ۔

تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس اہم فریضہ کو پورا کرنے کا خاص طور پر اہتمام کریں اور ملک کی ترقی کا باعث بنے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ اس اہم فریضہ کی ادائیگی کے لیۓ اقدام کرے تاکہ ملک سے غربت کا خاتمہ ہو جائے ۔

اہل خیر حضرات انفرادی طورپر اس فریضہ پر عمل پیراہوں اور اپنی عیاشی کی زندگی میں بے آسرا لوگوں کو بھی یاد رکھیں تاکہ ان کا دنیا میں جینا آسان ہوجائے ۔


source : http://www.tebyan.net/index.aspx?pid=135474
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

امام حسین علیہ السلام کی زیارت
امام صادق ؑ کی علمی عظمت
رمضان رحمتوں کا مہینہ ہے
حسین آؤ کہ آج دنیا کو پھر ضرورت ہے کربلا کی
قمہ زني کيا ہے؟
آخری معرکہ۔۔۔۔؟
الہی اور قرآنی نظام کا طلوع سحر
اول وقت میں نماز کی فضیلت
ائمہ عسکرئین کا عہد امامت اور علمی فیوض
خودشناسى اور بامقصد زندگي

 
user comment