اردو
Friday 25th of September 2020
  41
  0
  0

قرآن جلانے کے منصوبے کی وسیع پیمانے پر مذمت

امریکہ میں چرچ کی جانب سے سنیچر کو قرآن جلانے کے منصوبے کی وسیع پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے جبکہ چرچ نے کہا ہے اسے عالمی مذمت کی پرواہ نہیں اور گیارہ ستمبر کو قران کے نسخےنذرِ آتش کیے جائیں گے ۔

اس سے قبل افغانستان میں امریکہ کے سب سے بڑے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریئس نے کہا تھا کہ قرآن کے نسخے جلانے کا مطلب افغانستان میں امریکی فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا ہوگا ۔

امریکہ میں ڈو ورلڈ آؤٹ ریچ سینٹر کے پادری ٹیری جونز نے کہا ہے کہ اس برس گیارہ ستمبر کو امریکہ پر ہونے والے حملے کی برسی کے موقع پر وہ ایک بون فائر یا الاؤ جلائیں گے جہاں چرچ کے ایک اہلکار کے مطابق قرآن کے سینکڑوں نسخے نذرِ آتش کیے جائیں گے ۔

مسلمان ممالک، امریکی حکومت اور نیٹو نے بھی چرچ کے اس منصوبے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے لیکن ٹیری جونز کا کہنا ہے کہ ہمیں اسلام میں ریڈیکل عناصر کو واضح پیغام دینا ہے ۔

اس نزاع کا آغاز ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ کا اسلام کے ساتھ رشتہ جانچ پڑتال کے عمل سے گزر رہا ہے ۔ امریکہ میں گراؤنڈ زیرو پر جہاں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو جہازوں سے جڑواں ٹاورز کو نشانہ بنایا گیا تھا، مسجد کی تعمیر کی تجویز پر پہلے ہی کافی زیادہ بحث ہو رہی ہے ۔

اگرچہ چرچ کے افراد کی تعداد جو قرآن کو جلانا چاہتے ہیں، پچاس کے قریب ہے لیکن دنیا بھر میں ان کا چرچا ہو رہا ہے اور افغانستان اور انڈونیشیا میں اس منصوبے کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

جنرل پیٹریئس نے کہا ہے کہ قرآن جلانے سے نہ صرف افغانستان میں (امریکی فوجیوں کے لیے) بلکہ پوری دنیا میں مسائل پیدا ہوں گے ۔انھوں نے کہا طالبان بھی یہی کچھ کرتے ہیں(جیسا کہ چرچ والے کرنا چاہتے ہیں)۔

ادھر ویٹیکن، اوباما انتظامیہ اور نیٹو نے بھی اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ منگل کو وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے کہا کوئی بھی ایسا کام جو ہماری افواج کے لیے خطرناک ہو جائے، تشویش کا باعث ہے ۔

نیٹو کے سربراہ آندرس راسمسین نے بھی چرچ کے قرآن جلانے کے منصوبے کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسا کرنا نیٹو اتحاد کی اقدار کی خلاف ورزی ہے ۔

ڈاکٹر جونز کا کہنا ہے کہ وہ جنرل پیٹریئس کی تشویش کو سمجھتے ہیں لیکن وقت آگیا ہے کہ امریکہ اپنے کاموں کے لیے معافی مانگنا اور بادشاہوں کے آگے سر جھکانا ختم کرے ۔

افغانستان میں ہزاروں افراد نے اس منصوبے کی مخالفت میں مظاہرے کیے ہیں جبکہ امریکہ ميں افغانستان کے سفارتخانے نے بھی اس منصوبے کی مذمت میں ایک بیان جاری کیا ہے ۔

افغانستان میں نیٹو ٹرینگ مشن کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل ولیم کالڈویل نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کو بتایا ہے قرآن مسلمانوں کی مقدس کتاب ہے اور اگر بعض افراد اس کو جلانے کی بات کرتے ہیں تو اسی سے اس پر نہ صرف بحث شروع ہوجاتی ہے بلکہ فکرمندی کا اظہار بھی کیا جاتا ہے ۔

ان کا کہنا تھا ہمیں پورا یقین ہے کہ اس سے افغانستان میں کام میں مصروف ہمارے شہریوں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔

 


source : http://www.taghrib.ir/urdu/index.php?option=com_content&view=article&id=266:1389-06-18-04-54-48&catid=39:1388-06-09-06-51-47&Itemid=66
  41
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

شیعوں کے سیاسی افکار نے دنیا کے نقشے کو بدل ڈالا
اہل سنت اور واقعہ غدیر
بہار آئي
اسلامی اتحاد اور یکجہتی کی فکر
قرآن نہج اللاغہ کے آئينے ميں
ہفتہ وحدت
اسلام ميں معاشرتي حقوق
دينى حكومت اور جمہوريت
تکبر باعث نفرت ہے
طبیب، جو خود مریض کے پاس جائے

 
user comment