اردو
Friday 25th of September 2020
  3294
  0
  0

ماہ مبارک رمضان اور ہم

عبادتوں  کے چمن کی بہار ہے رمضان   علاج گردش لیل و نہار ہے رمضان

 پئے طہارت دل آبشا ر ہے رمضان   پیام رحمت پروردگا ر ہے رمضان

ہوا کریم کا احساں  اسی مہینے میں   ملارسول (ص)کو قرآن اسی مہینے  میں

سید تقی عباس رضوی قمی (کلکتہ)

پیشکش رضویہ لائبریری کلکتہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یٰا ایُّھٰا اَلْذ ِین آمَنُوا کُتِبَ عَلِیْکُمْ الصِّیٰام کَمٰاکُتِبَ عَََََلَی الذِ یْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُون۔

''ا ے ایمان لانے والو! تم پر روزے فرض کردئے گئے جیسے تم سے پہلی امتوں  پر فرض تھے تاکہ تم پرہیزگا ر بن جاؤ۔''( سورہ بقرہ ١٨٣ )

رسول اکرم  ۖ نے خطبہ شعبانیہ میں  ارشاد فرمایا : اے لوگو! بہ تحقیق تمہاری طرف خدا وند عالم کا ( خاص ) مہینہ آگیا ہے اپنی برکت ، رحمت اور مغفرت کے ساتھ یہ وہ مہینہ ہے کہ جو تمام مہینوں  پر فضیلت و برتری رکھتا ہے اس کے دن دوسرے ایام سے افضل اور اس کی راتیں  سال کی تمام راتوں  میں  سب سے زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ۔ ما ہ مبارک رمضان اللہ کا پر برکت مہینہ ہے جس میں سارے بندے پرور دگار عالم کے مہمان بنکر اسکی رحمت کے سمندر میں غوطہ زن ہوتے ہیں ،یہ مہینہ مغفرت کا مہینہ ہے کہ اس مہینے میں  دوزخ کا دروازہ بند کر دیا جا تا ہے اور اسی مہینہ میں  اخلاص و ایثار کی آزمائش ہوتی ہے۔ ماہ مبارک رمضان تقویٰ کی آزمائشگاہ ہے ماہ رمضان ایسا میدان جہاد ہے جہاں  جہاد نیزہ وشمشیر سے نہیں  ہو تاکیونکہ اس میدان میں  نفس کے ساتھ جہاد کیا جاتا ہے۔ ماہ مبارک رمضان کی فضیلت اتنی ہی زیادہ ہے کہ انسان اسے بیان کرنے سے قاصر ہے، لیکن ہاں  اس پر برکت مہینہ کے پر مسرت موقع پرہم اپنے عزیز و محترم روزہ دار اور قارئین کرام کی خدمت میں  ماہ رمضان کے حوالے سے نماز،قرآن اور روزہ اسکے آداب و اعمال اور ماہ مبارک کی مخصوص دعا ئیں  وغیرہ کو پیش کر نے کا شرف حاصل کر رہے ہیں  چونکہ یہ کتابچہ مولانا تقی سید عباس رضوی قمی صاحب کی کتاب خزینۂ ماہ مبارک رمضان ،نماز سرچشمہ ٔ ہدایت اور کنزل الانوار کا ایک مختصر خلاصہ ہے اور اسکے خلاصہ کرنے کا اصل ہدف یہ ہے کہ اس ماہ مبارک رمضان میں  مومنین کرام زیادہ سے زیادہ اپنے روز مرہ کے مسائل اور قرآن، نماز او روزہ کی فضیلتوں  سے کسب فیض حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے معبود حقیقی کی رضا بھی حاصل کر سکیں  ۔یہ واقعاً آپ کے لئے اور بالخصوص قوم کے نوجوانوں  ایک بہترین تحفہ ہے .امیدہے کہ آپکی ا طا عت وعبادت اور نا چیز کا یہ ہدیہ با رگا ہ واھب العطیات میں  مقبول اور آخرت کا سرما یۂ نجات بن سکے اور اس کا اجر تمام مومن مومنات بالخصوص موصوف کے والد مرحوم سید سجاد حسین رضوی کے نامہ اعمال میں لکھا جائے۔ (آمین یٰا رَبّ ا لعالمین)

٭٭٭

(ماہ مبارک رمضان ماہ نزول قرآن)

قرآن مجید کی اہمیت و عظمت :

ماہ مبارک رمضان میں  قرآن کی تلاوت:قال الر ضا: مَنْ قَرَأَ فِیْ شَھْرِ رَمْضَانَ ٰاٰٰ یَةً مِنْ کِتٰابِ اللّٰہِ کَانَ کَمَنْ خَتَمَ اَلْقُرْٰانَ فِیْ غَیْرِہِ مِنَ اَلْشُّھُوْرِ۔امام رضا نے فرمایا:جو بھی ماہ رمضان میں  کتاب اللہ کی ایک آیت کی تلاوت کریگا تووہ اس شخص کے مانند ہے جو بقیہ مہینوں  میں  پورے قرآن کی تلاوت کرے۔

رسول اکرم ۖ نے فرمایا ''یہ جان لو کہ جو بھی قرآن کو سیکھے اور اسکے بعد دوسروں  کی اس کی تعلیم دے اور جو کچھ اس میں  ہے وہ اس پر عمل کرے تو میں  جنت کی طرف اس کی رہنمائی کرنے والا ہوں ۔''

نیز آپ ۖ نے فرمایا کہ ''اے میرے بیٹا! قرآن پڑھنے سے غافل نہ رہو ،کیونکہ قرآن دل کو زندہ کرتا اور فحشاء و گناہ سے دور رکھتا ہے ۔

امام علی علیہ السلام نے فرما یا کہ قرآ ن کی تعلیم حاصل کرو وہ بہترین کلام ہے اور اس میں  غور و فکر کرو کیونکہ یہ دلوں  کی بہار ہے اور اس کے نور سے شفا طلب کرو کہ بلاشبہ یہ سینوں  کی شفا ہے ۔اس کی تلاوت اچھی طرح کرو کہ بلاشبہ یہ مفید قصے ہیں  اور یقیناً وہ عالم جو اپنے علم کو چھوڑ کر عمل کرتا ہے اس حیران و پریشان جاہل کی طرح ہے جو اپنی جہالت سے نہیں  نکل پا رہا ہو ،بلکہ اس پر تو حجت اور عظیم ہے اور اس کی حسرت (جا ہل سے )کہیں  زیادہ ہے اور یہ اللہ کے نزدیک جاہل سے زیادہ قابل مذمت ہے ۔

آپ  نے حارث ہمدا نی کو لکھا ''اور قرآن کی رسی کو تھام لو اور اسی سے نصیحت حاصل کرو اس کے حلال کو حلال جانو اور اس کے حرام کو حرام ۔''

ماہ مبارک رمضان ایک حسین موقع ہے کہ جسمیں  انسان اگر چا ہے تو خدا کی خوشنودی حاصل کر سکتا ہے اور اس ماہ مبارک خدا وند عالم سے بو سیلہ ٔ قرآن مجید،اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری کر سکتا ہے ۔کیونکہ یہی وہ مہینہ ہے کہ جسمیں  انسان اپنے ربِّ حقیقی کی طرف تمام مہینوں  کی بنسبت زیادہ مانوس اور مائل ہو تا ہے اس لئے آپ تمام روزہ داروں  سے التجا ہے کہ اس مہینہ میں  قرآن مجید کی تلاوت کو فراموش نہ کریں  ایک ہی آیت کی تلاوت کریں  لیکن ہروز کریں  کیونکہ یہ تلاوت قرآن مجید ،انسان کے قلب پر صیقل کا کام کیا کرتی ہیں  اور قلب انسان سے گناہوں  کے گرد و غبار کو صاف کر دیا کرتی ہیں  تا کہ انسان گناہوں  کے بوجھ کے سبب ہلاک ہو نے سے محفوظ رہے ۔اگر انسان قرآن سے مانوس ہو جا ئے تو اسکے ہر درد و غم کا علاج خود بخود ہو سکتا ہے لیکن افسوس یہی ہے کہ ہمارے معاشرہ میں  لوگ قرآن سے دور ہو تے جا رہے ہیں  اور دور ہو چکے ہیں  !!جسکی وجہ سے پورا اسلامی معاشرہ بلاؤں  میں  گرفتار ہو گیا ہے ! !آیئے ہم اس ماہ مبارک رمضان جو کہ تزکیہ نفس اور خود سازی کا مہینہ ہے اس میں  اپنے معبود حقیقی سے یہ قصد کریں  کہ میرے معبود تو ہمیں  دنیا میں  ذلیل و خوار ہونے سے بچا لے اور ہمیں  یہ قوت و توانائی عطا کر تا کہ ہم جس ہدف کے تحت پیدا کئے گئے ہیں  اس ہدف میں  کامیابی کا زینہ طے کر کے تیری رضا حاصل کر سکیں  ۔

(قرآن مجید کی آیات اور سوروں  پر ایک اجمالی نظر )

قرآن مجید کی تمام آیتوں  اور سوروں  کو دو حصّوں  میں  تقسیم کیا جاتا ہے  ۔ مکّی.....................................مدنی

مکّی: ان سوروں  کو کہا جاتاہے جو ہجرت سے پہلے مکّہ میں  نازل ہوئے۔اور انکی خصو صیات یہ ہے کہ مکی سورے چھوٹے چھوٹے ہیں  جسمیں خداوند عا لم نے عقاید، اخلاق ، قیامت ،جنّت و جہنم ، معجزے ، قسم کی کثرت ،انبیآء کے قصّے کو بیان کیا ہے۔

مدنی: ان آیات و سوروں  کو کہتے ہیں  جو رسول اکرم ۖ کی ہجرت کے بعد مدینہ میں نازل ہو یہیں  اور انکی خصو صیات یہ ہے کہ ان میں  اہل کتاب سے مجادلہ ، منافقین کی مذمّت ،جھاد کا حکم ، اسلامی قوانین کی پابندی حقوق واجبات سیاسی ، اجتماعی اوراقتصادی کا بیان ہے اور غالباً مدنی آیات و سورے طولانی ہیں ۔

قرآن مجید کے موضوعات:جیسا کہ آپ تمام حضرات کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ کتاب (قرآن مجید) چار موضوعات پر مشتمل ہے۔

عقا ید.

احکام.

ا خلاق.

عبرت ناک قصے.

قرآن مجید کے متعلق سوالوں  کے جوابات:

س:قرآن میں  بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تکرار کتنی بار ہوئی؟

ج:١١٤ / مرتبہ۔

س:قرآن مجید میں  لفظ(قرآن) کی تکرار کتنی بار ہوئی ہے؟

ج:  لفظ قرآن کی تکرار سات بار ہوئی ہے۔

س: قرآن کا سب سے بڑا سورہ کون سا ہے؟

ج:قرآن کا سب طولانی سورہ بقرہ ہے۔

س: سورہ بقرہ میں  کتنے کلمات ہیں ؟

ج:١٢٢٦ کلمات ہیں ۔

س: یہ سورہ مدنی ہے یا مکی؟

ج:یہ سورہ مدنی ہے۔

س:قرآن کا سب سے چھوٹا سورہ کون سا ہے؟

ج: قرآن کا سب سے چھوٹا سورہ کوثر ہے کہ جسمیں کل تین ہی آیت ہیں ۔

س:سورہ کوثر کتنے کلمات پر مشتمل ہے؟

ج: صرف دس کلمات پر۔

س:قرآن کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے ؟

ج :قرآن کی سب سے طولانی آیت سورہ بقرہ کی  ٢٨٢آیت ہے۔

س :سب سے چھوٹی کون سی آیت ہے ؟

ج: قرآن کی سب سے چھوٹی آیت سورہ مبارک یٰسین کی پہلی آیت (یٰسین) ہے۔

س :قرآن کا سب سے پہلا اور آخری سورہ کون سا ہے؟

ج :قرآن کا سب سے پہلا سورہ حمد اور آخری سورہ ٔ ناس ہے۔

س:اخُ القرآن کس کتاب کو کہتے ہیں  ؟

ج:نہج البلاغہ کو ''اخُ القرآن ''کہتے ہیں  جس میں  امام علی  کے خطبات اور کلمات ِقصار ہیں  ۔

س:انجیل اہلبیت  کس کتاب کو کہا جا تا ہے ؟

ج:صحیفہ کاملہ کو انجیل ا ہلبیت  اور زبور ِ آلِ محمد  کہا جا تا ہے اور یہ امام زین العابدین علیہ السلام کی دعاؤں  کا وہ بے بہا خزانہ ہے جس میں  علم و معرفت اور رشد و ہدا یت کا سمندر موجزن ہے۔

٭٭٭

(نماز کی اہمیت)

نماز دین کا ستون ہے جس نے نماز کو جان بو جھ کر ترک کیا اس نے اپنے دین کو ڈھا دیا اور جس نے اس کے وقتوں  کو ترک کیا وہ جھنم کی وادی ویل میں  داخل ہو گا ۔(جامع الاخبار ص٩٣)

انسان سے سب پہلا سوال نماز کا ہو گا.(جامع لاخبار ص٩٣)

مومن و کافر کا فرق نماز کے ترک کرنے سے معلوم ہو تا ہے ۔(جامع الاخبار ص٩٣)

جو شخص نماز کو چھوڑ دے بغیر کسی شرعی عذر کے تو اس کا سارا عمل برباد ہو جا تا ہے ۔(حوالہ سابق)

ہر چیز کے لئے ایک برائت نامہ ہے ۔مومن کا برائت نامہ جہنم سے نماز پنجگانہ ہے اور دنیا و آخرت کی بھلائی نماز میں  ہے ۔نماز ہی کے ذریعہ سے مومن و کافر اور مخلص و منافق پہچانا جا تا ہے ۔

جو واجب نمازوں  کو ادا کرے گا خدا اس کی دعاؤں  کو قبول فرمائے گا ۔(جامع الاخبار ص٩٣۔)

ایمان کی نشانی نماز ہے ۔رسول اکرمۖ نے ارشاد فرمایا:اپنے بچوں  کو نماز کا حکم سات سال کی عمر سے ہی دو اور انھیں  حالال و حرام کی تمیز دو پس جو ماں  باپ اپنے بچوں  کو نماز پڑھنے کا حکم نہیں  دیتے وہ حقیقتاً پیش خدا اسکے جواب دہ ہونگیں  لہذٰا ہمیں  امام صادق کی اس حدیث مبارکہ پر عمل کرناچاہیے کہ آپ نے فرمایا:اس پہلے کہ بے دین اور منحرفین تمھارے بچوں  کو قید و بند کرلیں  انکی مواظبت کرو۔رسول اکرمۖ کا یہ حال تھا کہ تمام رات نماز میں  گذار دیتے تھے یہاں  تک کہ حضرت کے پائے اقدس پر ورم آجاتا تھا تا وحی نازل کی کہ ( اے میرے طیب و طاہر بندے ہم نے تم پر اس لئے قرآن نازل نہیں  کیا کہ تم اپنے آپ کو مشقت میں  ڈالو۔(سورۂ طہٰ/٢)رسول اکرم ۖ اتنی ہی عبادت کیا کرتے تھے کہ خدا کو وحٰی نازل کرنی پڑتی تھی کہ ( اے رسولۖ رات کو نماز میں  تھوڑی دیر کھڑا رہا کرو آدہی رات یا اس سے بھی کچھ کم (سورۂ مزمل/٢٣)

ٔٔ( اگر ہم مسلمان ہیں  تورسول اکرمۖ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے۔)

(بنیادی مسائل)

*…نجاسات :

١)پیشاب ۔              

 ٢)پاخانہ ۔

٣)منی۔                        

٤) خون ۔

٥)مردار ۔                

 ٦)کتا۔

٧)سور۔              

 ٨)شراب(فقاع) نشہ آور سیّال چیزیں ۔

٩)کافر۔          

١٠)نجاست کھا نے والے حیوان کا پسینہ۔

*…مطہرات:

١)پانی۔        

 ٢)آفتاب ۔

٣)زمین۔          

٤)اسلام ۔

 ٥)انتقال۔      

 ٦)تبیعت۔

 ٧)استحالہ۔    

٨)مسلمان کا غائب ہو جا نا۔

٩)عین نجاست کا دور ہو جا نا ۔

*…پانی کی دوقسمیں  ہیں  :

١)مطلق.              

  ٢)مضاعف.

مطلق:وہ پانی ہے جسکا رنگ بوو ذائقہ تبدیل نہ ہو ۔

مضاعف:         وہ پانی ہے جو کسی شئی سے ملنے کی بنا ء پر اس کا رنگ بو و ذائقہ تبدیل ہو جا ئے جیسے عرق گلاب ،شربت وغیرہ ۔

وضو اور اس کے احکام

اے ایمان والو!جب تم نماز کے لئے آمادہ ہو تو اپنے چہروں  کو اور کہنیوں تک اپنے ہاتھوں  کو دھولو اور اپنے سر اور گٹّے تک پیروں کا مسح کرواور اگر جنابت کی حالت میں  ہو تو غسل کرو اور مریض ہو یا سفر کے عالم میں  ہو یا پایخانہ وغیرہ نکل آیا ہے یا عورتوں  کو با ہم لمس کیا ہے اور پا نی نہ ملے تو پا ک مٹی سے تیمم کرو...(سورۂ مائدہ آیت نمبر ٦)

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرما یا کہ وہ نماز نماز نہیں  ہے کہ جو بغیر وضو کے ہو۔''لا صلوٰة الا بطھور''   (وسائل الشیعہ جلد ١ صفحہ ٢٥٦)

دیگر روایتوں  میں  وضو کو ایمان کی کنجی کہا گیا ہے یا وضو کو نصف ایمان کہا گیا ہے ۔(محجة البیضا جلد ١صفحہ ٢٨١)

وضو کے لئے لازم ہے کہ چند چیزوں  کا خاص خیال رکھنا چا ہیئے :

١)وضو کا پانی پاک ہو ۔

٢)وضو کا پانی مطلق ہو ۔

٣)وضو کا پانی غصبی نہ ہو ۔

٤)وضو اور مسح کے اعضاء پاک ہوں  ۔

٥)وضو کے پانی کا برتن سونے اور چا ندی کا نہ ہو ۔

٦)وضو کے پانی کا برتن غصبی نہ ہو ۔

٧)وضو میں  نیت اور ترتیب و موالات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے ۔

٨)نماز کا وقت اگراتنا تنگ ہو کہ وضو کرنے سے اگر نماز کے قضاء ہو نے کا خوف ہو تو لازم ہے کہ وضو کے بدلے تیمم کرے ۔

٩)وضو خود انسان کرے ۔

١٠)اگر پانی کا استعمال نماز کے لئے مضر ہو تو تیمم کر ے۔

١١)اعضاء وضو پر کو ئی ایسی شئی نہ ہو جو پانی کے پہنچنے میں  رکاوٹ بنے جیسے بنڈیس وغیرہ مجبوری کی حالت میں  انسان وضو جبیرہ کرے گا ۔

*…واجبات وضو

وضو میں  چار چیزیں  واجب ہیں  :

٭…منھ کا دھونا ۔       

٭…دونوں  ہاتھوں  کا دھو نا ۔

٭…سر کا مسح ۔       

٭…پاؤں  کا مسح ۔

*…مستحبات وضو

٭…دعائیں  پڑھنا ۔

٭…مسواک کرنا ۔

٭…دونوں  ہاتھوں  کا گٹے تک دھونا ۔

٭…تین مرتبہ کلی کرنا ۔

٭…تین مرتبہ ناک میں  پانی ڈالنا ۔

٭…قرآن مجید کی تلاوت ، دعا یا نماز میت کے لئے وضو کرنا مستحب ہے ۔

*…مبطلات وضو (وہ چیزیں  جو وضو کو باطل کر دیتی ہیں )

٭…پیشاب یا پایخانہ کا نکلنا ۔

٭…ریح کا خارج ہو نا ۔

٭…ایسی نیند جو عقل پر غالب آجا ئے کہ نا وہ دیکھ سکے اور نہ ہی کچھ سن سکے ۔

٭…وہ چیزیں  جو عقل کو زائل کردیں  جیسے :بیہوشی و دیوانگی ،استحاضہ و جنابت اور میت کا لمس کرنا ۔

(غسل کا بیان)

غسل کا طریقہ :غسل واجب ہو یا مستحب دو طریقے سے انجام دیا جا سکتاہے ۔

١)غسل ترتیبی                   ٢)غسل ارتماسی

غسل ترتیبی :غسل ترتیبی کا طریقہ یہ ہے کہ ''نیت'' کے بعد پہلے ،سرو گردن ،پھر دائیں  پھر  با ئیں  طرف کو دھو ئے .اور اگر جان بوجھ کر یا بھو لے سے یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اس ترتیب پر عمل نہ کرے تو اس کا غسل باطل ہے ۔آدھی ناف اور آدھی شرمگاہ ،بدن کے دائیں  طرف کے ساتھ اور بقیہ نصف کو بدن کے بائیں  طرف کے ساتھ دھو ئے اور بہتر یہ ہے کہ پو ری شرمگاہ اور ناف کو دونوں  طرف کے ساتھ دھو یا جا ئے ۔

تا کہ یقین حاصل کر سکے کہ بدن کے دونوں  حصے پو رے پو رے دھل چکے ہیں  ۔

غسل ارتماسی :غسل ارتماسی کا مطلب یہ ہے کہ ''نیت''کر کے پورے بدن کو ایک ہی دفعہ یا آہستہ آہستہ پا نی میں  ڈبونا چاہیئے ،خواہ وہ حوض اور تلالاب ہو یا آبشار ہو ، کہ پانی ایک مرتبہ میں  پو رے بدن پر گرتا ہے ۔

اگر غسل کو انجام دینے کے بعد پتہ چل جا ئے کہ بدن کے کچھ حصے تک پانی نہیں  پہنچا ہے اور یہ معلوم نہ ہو وہ کونسی جگہ ہے ،تو دوبارہ غسل کرے ۔

جس نے واجب روزہ رکھا ہے ہو یا حج اور عمرہ کے لئے احرام باندھا ہو تو ایسا شخص غسل ِارتماسی نہیں  کرسکتا ۔

غسل ارتماسی میں  پہلے تمام بدن پاک ہونا چا ہیئے ،لیکن غسل ترتیبی میں  پو رے بدن کا پاک ہونا ضروری نہیں  ہے اور اگر تمام بدن نجس ہو اور ہر حصے کو غسل سے پہلے پاک کر لیا جا ئے تو کافی ہے ۔

جن شرائط کا وضوء میں  ذکر کیا جا چکا ہے ،مثلاً پانی کا پاک و مباح ہونا وغیرہ غسل کے بھی یہی شرائط ہیں  

جس شخص پر کئی غسلیں  واجب ہیں  وہ تمام کی نیت سے ایک ہی غسل کر سکتا ہے ۔اگر ان میں  ایک غسل ''جنابت ''ہو اور صرف غسل جنابت کی نیت کرے تو کافی ہے اور وضوء کی ضرورت نہیں  ،لیکن اگر جنابت کے علاوہ کا قصد کرے تب بھی کافی ہے لیکن بعد کی نمازوں  کے لئے غسل کرے ۔

تیمم:اسلامی احکام بہت آسان ہیں  لیکن کچھ لوگ مسئلہ نہ جاننے ،یا وسوسہ ٔ شیطانی میں  گرفتار ہو نے کی وجہ سے دینی احکام میں  مشکلات کا شکار ہو جا تے ہیں  ،ورنہ خدا کبھی نہیں  چاہتا کہ انسان زحمت میں  پر جا ئے چنانچہ ارشاد ہو تا کہ ''اے ایمان والو جب بھی نماز کے لئے اٹھو تو پہلے اپنے چہروں  کو اور کہنیوں  تک اپنے ہاتھوں  کو دھو  اور اپنے سر اور گٹے تک پیروں  کا مسح کرو اور اگر جنابت کی حالت میں  ہو تو غسل کرو اور اگر مریض ہو یا سفر کے عالم میں  ہو یا پیخانہ وغیرہ نکل آیا ہے یا عورتوں  کو باہم لمس کیا ہے اور پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے'' تیمم''     کر لو.اس طرح کہ چہرہ اور ہاتھوں  کا مسح کر لو کہ خدا تمہارے لئے کسی طرح کی زحمت نہیں  چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں  پاک و پاکیزہ بنادے اور تم پر اپنی نعمتیں  تمام کردے شاید اسطرح کے شکر گزار بندے بن جاؤ ۔(مائدہ ٦)

مختصر یہ کہ ''پاکی '' کا ایک طریقہ ''تیمم'' ہے۔

تیمم کے موارد:سات جگہوں  پر وضوء اور غسل کے بجا ئے ''تیمم''کرنا چاہیئے :

١) وضوء یا غسل کے انداز ے کے مطابق پانی مہیّا کرنا ممکن نہ ہو ۔

٢) اگر کو ئی شخص بڑھاپے کی وجہ سے یا چور اور جانور وغیرہ کے خوف سے یا کویں  سے پانی نکالنے کے وسائل نہ ہو نے کی وجہ سے پانی حاصل نہ کر سکے تو اسے چاہیئے کہ '' تیمم'' کرے اور اگر پانی مہیّا کرنے یا اسے استعمال کرنے میں  اتنی تکلیف اٹھانی پڑے جو عام لوگوں  کے نزدیک ناقابل برداشت ہو تو ''تیمم'' کرے ۔اگر کو ئی شخص پانی حاصل کرنے کے لئے قرض لینے پر مجبور ہو تو اس پر واجب ہے کہ قرض لے لیکن اگر علم ہو یا گمان ہے کہ اس قرض کی ادا ئیگی پر قادر نہیں  تو قرض لینا واجب نہیں  ہے ۔

٣)پانی تو موجود ہے لیکن ڈر ہے کہ اگر وضوء یا غسل کرنے سے بیمار ہو جا ئیگا یا بیماری لمبی ہو جا ئیگی یا سخت ہو جا ئیگی یا علاج مشکل ہو جا ئے گا تو ان تمام صورتوں  میں  ''تیمم'' کرے ۔

٤)اگرکسی شخص کو خوف ہو کہ پانی وضوء یا غسل کے لئے اعتمال کرنے سے خود ،یا اہل و عیال یا اس کے دوستوں  میں  سے یا اس کے متعلقہ افراد جیسے نوکر یا کنیز ،پیاس سے مر جا ئیں  گے یا مریض ہو کا ئیں  گے یا تشنگی اسقدر طاری ہو جا ئے گی کہ اس کا برداشت کرنا ان کے لئے مشقت اور تکلیف کا باعث ہو گا ،تو ضروری ہے کہ وضوء اور غسل کے بجا ئے ''تیمم'' کرے اور اسی طرح وہ حیوان جس کا وہ مالک ہو ، اس کے پیاس سے مرنے کا خطرہ ہو تو ضروری ہے کہ پا نی اسے پلا دے اور خود ''تیمم'' کرے۔

٥)اگرکسی شخص کے پاس سوائے ایسے برتن کے جس کا استعمال حرام ہے تو کو ئی پانی یا برتن نہ ہو جیسے وہ پانی یا برتن غصبی ہو یا سونا چاندی کا برتن ہے تو وضوء و غسل کے بجا ئے ''تیمم'' کرے ۔

٦)جب وقت اتنا تنگ ہو کہ اگر وضوء یا غسل کرے تو ساری نماز یا اس کا کچھ حصہ وقت کے بعد پڑھنا پڑے گا تو وہ شخص ''تیمم'' کرے گا ۔

٭٭٭

(واجبات نماز )

١رکنی :وہ ہیں  کہ جنکا کم یا زیادہ کرنا یا اصلاً نہیں  بجا لانا نماز کو باطل کر دیتا ہے۔جیسے:١نیت٢تکبیرةالاحرام ٣قیام متصل بہ رکوع ٤رکوع ٥سجود۔اسے ارکان نماز کہتے ہیں  ۔

٢غیر رکنی :اگر سہو اً انسان کچھ بھو ل جا ئے تو اس کی نماز باطل نہیں  ہو تی ہے ۔

نماز کے واجبات :

١:نیت          

٢:قیام          

٣:تکبیرةالاحرام          

٤:قرأت

٥:رکوع          

٦:سجود                  

٧:ذکر رکوع      

٨:تشہد

٩:سلام                  

 ١٠:موالات      

 ١١:ترتیب۔

٭…نیت:یعنی انسان قصد قربت کے ذریعہ حکم خدا کو بجا لا ئے یعنی وہ اپنی زبان پر یہ لا ئے یا اپنے قلب میں  یہ کہے کہ نماز پڑھتا ہو ں  ''قربة ًالی اللہ''لازم نہیں  ہے کہ بلند آواز میں  تمام لوگوں  کو سنا ئے بلکہ قصد ہی کا فی ہے ۔

٭…تکبیر ة الاحرام : یعنی اذان و اقامت سے فارغ ہو نے کے بعد نیت کرے اور نیت کرنے کے بعد دونوں  ہاتھوں  کو بلند کرتے ہو ئے ' خدا کی کبرائی کا اعلان کرے یعنی 'اللہ اکبر'' کہے اور پھر دوسرے اعمال کو بجا لا ئے جیسے قیام ، قرأت ،رکوع اور سجود وغیرہ ۔

٭…قیام :تکبیرة الاحرام کہنے کے وقت اور رکوع سے متصل قیام کو رکن کہتے ہیں  جسکے صحیح نہ ہو نے پر نماز باطل ہو جا یا کرتی ہے جسے قیام متصل بہ رکوع کہتے ہیں  لیکن حمد و سورہ پڑھتے وقت اور رکوع کے بعد قیام رکن نہیں  ہے لہذا اگر کو ئی شخص رکوع ادا کرنا بھول جا ئے اور سجدے میں  جا نے سے پہلے اسے یاد آجا ئے تو اسے چا ہیئے کہ کھڑا ہو جا ئے اور پھر رکوع میں  جا ئے ۔اور اگر اس نے ایسا نہیں  کیا تو گو یا اس نے قیام متصل بہ رکوع کو انجام نہیں  دیا لہذا اس کی نماز باطل ہو جا ئیگی۔

٭…رکوع اور ذکر رکوع :حمد و سورہ پڑھنے کے بعد نماز پڑھنے والے کو یہ چا ہیئے کہ رکوع میں  اتنا جھکے کہ اس کے ہاتھ اس کے گھٹنوں  تک پہنچ جا ئیں  اور اسی عمل کو رکوع کہتے ہیں  ۔اور رکوع میں  جا نے کے بعد ایک مرتبہ ''سبحان ربی العظیم ''و بحمدہ یا تین مرتبہ '' سبحان اللّٰہ'' کہنا  کا فی ہے اس ذکر سے فارغ ہو نے کے بعد ''سمع اللّٰہ لمن حمدہ''کہتے ہو ئے سیدھا کھڑا ہو جا ئے اور پھر سجدے میں  جا ئے ۔

٭…سجود:پیشانی کو زمین پر رکھنے کے بعد ایک مرتبہ :سبحان ربی الاعلی و بحمدہ یا تین مرتبہ :سبحاناللّٰہکہے پھر بیٹھ جا ئے اس کے بعد دوبارہ سجدہ میں   جا ئے اور پھر اسی ذکر کو دہرا ئے ۔

سجدے سے فارغ ہو نے کے بعد دوصورت پیش آتی ہے پہلی صورت یہ ہے کہ اگر نماز دو رکعتی ہے تو تشہد( یعنی: اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شیک لہ و اشھد ان محمد اً عبد ہ و رسولہ .اللّٰہم صلی علی محمدٍوآل محمد ٍ۔)پڑھکر سلام کہے یعنی: اسلام علیک ایھا النبی و رحمة اللّٰہ و برکاتہ.اسلام علینا و علی عباداللّٰہ الصالحین .اسلام علیکم و رحمةاللّٰہ و برکاتہ.و اگر نماز تین رکعتی چار رکعتی یا  ہے تو تشہد کے بعد کھڑا ہو جا ئے اور تین مرتبہ تسبیحات اربعہ (یعنی: سبحان اللّٰہ و الحمد للّٰہ و لا الہ الا اللّٰہ و اللّٰہ اکبر)کو پڑھے یا فقط ایک مرتبہ سورۂ حمد کی تلاوت کرے۔پھر رکوع و سجود کے بعد پھر تشہد و سلام کو بجا لا ئے ۔ 

(اقسام نماز)

نماز پنجگانہ:اقم الصلوٰة لدلوک الشمس الی غسق لیل و قرآن الفجر ان قرآن الفجر کان مشھوداً۔ یعنی اے رسول آپ زوال آفتاب سے رات کی تا ریکی تک نماز قائم کریں  اور نماز صبحبھی کہ نماز صبح کے لئے گو ا ہی کا انتظام کیا گیا ہے ۔(اسرائ٧٨)

تبصرہ : قرآن مجید کی یہ تنہا آیت ہے جسمیں  جملہ نمازوں  کے اوقاتکی طرف اشارہ کیا گیا ہے اگر چہ اس کی تفصیل کے لئے ہمیں  روایات کی ضرورت ہے لیکن اصل وقت معین کر دیا گیا ہے یعنی دو نمازوں  کو زوال سے وابستہ کیا گیا ہے کیو نکہ لفظ دلوک کا اطلاق زوال اافتاب پر ہو تا ہے۔اور دو نمازوں  کو تا ریکی شب سے کہ جس پر لفظ غسق لیل یعنی تاریکی شب ۔اور ایک نماز کو فجر سے کہ آیت میں  لفط قرآن فجر سے نماز صبح مراد ہے لہذا تین اوقت پر اعتراض کرنا کم علمی اور ناوقفیت کی واضح دلیل ہے۔

ماز واجب یومیہ:      

صبح کی ٢ رکعت ۔      ظہر کی ٤ رکعت۔

عصر کی ٤ رکعت ۔     مغرب کی ٣ رکعت۔

عشاء کی ٤ رکعت ۔

(نماز کے متعلق سوالوں  کے جوابات)

س:کون سی نماز ہے جسمیں  وضوغسل کی شرط نہیں  ہے؟

ج:نماز میت ہی ایسی نماز ہے جسمیں  وضوو غسل کی ضرورت نہیں  ہے مگر بہترہے کہ با وضو پڑھے۔

س:نماز آیات کب پڑھی جا تی ہے؟

ج:یہ نماز سورج یا چاند گرہن کے لگنے کے بعد پڑھی جاتی ہے اور یہ نماز لوگوں  پر واجب ہے ۔

س:نماز  مغرب و عشاء کے بعد لوگ کون سی نماز پڑھتے ہیں  ؟

ج:یہ نماز نافلہ کی ہو تی ہے اور اس کی نیت بھی نافلہ کی کر تے ہیں ۔

س:کیا نماز شب کا وقت معین ہے ؟

ج: نماز شب کا اول وقت آدھی رات سے اذان صبح تک ہے ۔

س:اذان و اقامہ میں  کیا فرق ہے ؟

ج:اذان و ا قا مہ میں  تھوڑا سا فرق ہے اذان میں  اللہ اکبر ٤ مرتبہ اور اقامة میں  ٢مرتبہ

اذان میں  قدقامةالصلواةنہیں  ہے لیکن اقامة میں  ٢ مرتبہ ہے اذان کے میں  لا الہ الا اللہ ٢ مرتبہ ہے لیکن اقامة میں  ایک ہی مرتبہ ہے۔

س: کیا قرآن میں  اذان کا ذکر ہے؟

ج:ہاں  سورۂ مائدہ آیت نمبر/٥٨ میں  ہے۔

س:اسلام کا سب سے پہلا مؤذن (اذان دینے والا) کون تھا؟

ج:جناب بلال حبشی پہلے مؤذن ہیں ۔

 س: امام ز مانہ نے ملعون کسے کہا ہے؟

ج:نماز صبح و نماز مغرب کو تا خیر سے پڑھنے والوں  کو۔

 س: نماز کس چیز سے شروع اور کس چیز پر ختم ہوتی ہے؟

ج:نماز کی شروعات تکبیرة الأحرام(اللہ اکبر ) سے ہو تی ہے اور سلام پر تمام ہو تی ہے۔

س:اگر کسی کا وضو صحیح نہ ہو تو کیا اس کی نماز صحیح ہے؟

ج:وضو اگر صحیح نہ ہو تو نماز باطل ہے۔ 

س: سورہ حمد کتنی آیتوں  پر مشتمل ہے؟

ج:سورہ حمد سات آیتوں  پر مشتمل ہے ۔

س:سورۂ حمد نمازوں  میں  شب روز کتنی دفعہ پڑھا جاتاہے؟

ج:روزانماز پنجگامیں  سورۂ حمد ١٠دس مرتبہ پڑھا جاتا ہے۔

س:نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں  معمولاًکیا پڑھا جاتا ہے؟

ج: معمولاً تیسری اور چوتھی رکعت میں  تسبیحات اربعہ پڑھا جاتا ہے۔

٭٭٭

(روزہ کی فضلیت)

رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا:روزہ جہنم کی آگ کے لئے سپر ہے۔

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا: لو گوں  کو یہ معلوم ہو تا کہ ماہ رمضان میں  کیا  فضیلت ہے تو تمنا کرتے کہ یہ رمضان سال بھر کا ہوجائے۔

رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا:موسم سرمامومنوں کی بہار ہے اسکی راتیں  طولا نی ہو تی ہیں تاکہ مومنین شب میں  عبادت کر سکیں  اور دن چھوٹا ہوتاہے تاکہ روزہ رکھ سکیں ۔

رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا: پرور دگار فرماتا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں  ہی اسکی جزا دینے والا ہوں ۔

رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )نے فرمایا: ماہ رمضان کو رمضان اس لئے کہتے ہیں  کہ یہ گناہوں سے روک دیتا ہے ۔

رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )نے فرمایا:روزہ داروں کے لئے دو خوشیاں  ہیں  : پہلی خوشی افطارکے وقت اور دوسری لقاء پرور دگار کے وقت ۔

رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )نے فرمایا: جو شخص اپنے اخلاق کو اس مہینے میں  بہتر بنا ئے تو اسکے لئے صراط سے گزرنے کا اجازت نامہ ہو گا جب کہ اس دن بقیہ لوگوں کے قدموں میں  لغزش ہوگی ۔

رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا :یہ صبر کا مہینہ ہے اور اس کے ثواب میں  جنت ہے۔

رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )نے فرمایا: آسمان کے دروازے پہلی رمضان سے کھل جاتے ہیں  اور رمضان کی آخری شب تک بند نہیں  ہوتے۔

رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )نے فرمایا:بے شک جنت کیلئے ایک دروازہ ہے جسکا نام ریان ہے اس دروازہ سے فقط روزہ دار ہی وارد جنت ہونگے۔

رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )نے فرمایا:خوشخبری ہے انکے لئے جو اللہ کے لئے پیاسے اور بھوکے رہتے ہیں  یہی وہ لوگ ہیں جو قیامت  کے روز سیر و سیراب محشور کئے جایئں  گے۔

رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو معین کیاہے تاکہ وہ روزہ داروں کیلئے دعا کرتے رہیں ۔

رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )نے فرمایا:ہر چیز کیلے ایک دروازہ ہے اور عبادت کا دروازہ روزہ ہے۔

امیر المومنین حضرت علی نے فرمایا :روزہ داروں کی دعائیں  افطار کے وقت مستجاب ہوتی ہیں ۔

امیر المومنین حضرت علی  نے فرمایا: ماہ رمضان ماہ خدا و ماہ شعبان ماہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اور ماہ رجب میرا مہینہ ہے۔

حضرت فاطمہ زہرا نے فرمایا: وہ روزہ دار جو اپنی زبان ،اپنے کان، اپنی آنکھوں  اور اپنے جوارح کی گناہ سے حفاظت نہ کرسکے تو اسکا روزہ روزہ نہیں  ہے۔

امام محمد باقرنے فرمایا:ان لوگوں  کا روزہ کا مل نہیں  ہے جو امام کی نافرمانی کرتے ہیں  یا ایسا غلام جوفرار کر جائے یہاں  تک کہ واپس آجائے یا ایسی عورت جو اپنے شوہر کی اطا عت نہ کرتی ہویہاں تک کہ توبہ نہ   کر ے یا ایسی اولاد جو نافرمان ہویہاں  تک وہ نیکی وبھلائی اختیار کر لے۔

حضرت امام حمد باقر نے فرمایا:اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پراستوار ہے جونماز،روزہ، زکات، حج، اور ولایت ہیں ۔

امام صادق  نے فرمایا:پر وردگار نے روزہ اس لیے فرض کیا تاکہ اسکے ذریعہ غنی و فقیر برابرہوجائیں ۔

ا مام جعفرصادق  نے فر مایا:صدقہ کا ایک درہم ایک دن کے روزہ سے بہتر اور افضل ہے۔

امام جعفرصادق سے سوال ہوا کہ شب قدر کیسے ہزار مہینوں سے بہتر ہے؟

تو آپ نے فرمایا: اس شب کے نیک اعمال ایسے ہزار مہینوں  سے بہتر ہیں  جن میں  شب قدر نہ ہو۔

امام جعفر صادق نے فرمایا:اگر کوئی شخص روزہ دار کو افطار کرائے تو اس کو روزہ رکھنے والے کے برابر ثواب ملے گا ۔

امیر المو منین حضرت علی  نے فرمایا:قلب کاروزہ زبان کے روزہ سے بہتر ہے اور زبان کا روزہ شکم کے روزہ سے افضل ہے ۔

  روزہ تب مکمل ہو تا ہے جب زکات یعنی فطرہ ادا کر دیا جائے جس طرح نماز تب مکمل ہو تی ہے جب پیغمبر اکرم(ص) پر صلوات بھیجی جائے۔

(آپ کے سوال اور ہمارے جواب )

سوال: اگرماہ مبارک رمضان میں  کسی شخص کو شب میں  غسل واجب کی حاجت درپیش آجائے تو کیا کرے ؟

 جواب :ضروری یہ ہے کہ قبل طلوع صبح صادق یعنی ترک سحر کے وقت سے پہلے غسل کرے ۔اور اگر کسی عذر کی بنا پرغسل ممکن نہ ہو تو تیمم بدل غسل کرے اور طلوع فجر تک جا گتا رہے تا کہ غسل کر سکے !ورنہ اس کا روزہ صحیح نہ ہو گا ۔البتہ اگر دن کے وقت سو جا ئے اور غسل کی ضرورت پیش آجائے تو ایسی صورت میں  روزہ صحیح ہے مگر بہتر یہ ہے کہ وہ جلد از جلد غسل کرنے کی سعی کرے اور غسل کرلے۔

  سوال : دھویں  ،بھاپ ،گرد و غبار کے لئے کیا حکم ہے ؟

 جواب :ان چیزوں  سے بچنا چاہیئے تا کہ یہ حلق تک نہ پہونچیں  کیونکہ اگر زیادہ مقدار میں  یہ چیزیں  حلق تک عمدی صورت میں  آپہنچی تو روزہ کو ضرر پہونچے گا !

 سوال : خدا ،رسول ۖ اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی طرف روزہ کی حالت میں  کو ئی غلط بات یا کو ئی ایسی حدیث جسکی سند کے بارے میں  معلوم نہ ہو نسبت دیا جا سکتا ہے ؟

 جواب :اولاً تو یہ کہ کسی شخص کو یہ حق حاصل ہی نہیں  ہے کہ وہ کسی بھی شئی کو جسکا اسے علم نہ ہو اسے ان کے ساتھ منسوب کرے اور ثانیاً یہ کہ روزہ کی حالت میں  کسی بھی غلط شئی کو کو ئی شخص خدا ،رسولۖ اور ائمہ اطہار علیہم السلام سے منسوب کرتا ہے تو اس کا روزہ باطل ہو جا ئے گا لہذا ان چیزوں  سے پرہیز کرنا ضروری ہے ۔

 سوال :روزہ کی حالت میں  غسل ارتماسی (یعنی دریا ،حوض، تلاب وغیرہ میں  )غوطہ لگا نا کیسا ہے ؟

 جواب :روزہ کی حالت میں  غسل ارتماسی کرنا صحیح نہیں  کیونکہ ایسے کاموں  سے غسل اور روزہ دونوں  باطل ہو جا تے ہیں  ۔

سوال :اپنے وطن سے اگرکو ئی شخص زوال کے بعد کسی جائز اور مباح کام کے لئے روانہ ہو جا ئے تو کیااس کا روزہ صحیح ہے ؟

جواب : ہاں  اگر کو ئی شخص روزہ کی حالت میں  اپنے وطن سے بعد زوال کسی مباح اور جائز کام کے لئے نکل رہاہے تو اس کا روزہ صحیح ہے اور وہ روزہ کی حالت پر با قی بھی ہے ۔

 سوال : اگر زوال سے پہلے روانہ ہو رہا ہے تو ؟

جواب :اگر سفر زوال سے پہلے کر رہا ہے تو سفر میں  روزہ رکھنا صحیح نہیں  ہے ۔اور اس کا روزہ خود بخود ٹوٹ جا ئے گا مگر صرف اور صرف ارادۂ سفر کی بنا پر روزہ نہ رکھنا یا قبل از حد ترخص (یعنی شہر سے باہر نکلے بغیر )روزہ توڑ دینا حرام ہے ۔

 سوال :اگر قبل ِزوال وطن یا ایسے مقام پر وارد ہو جہاں  دس روز سے زیادہ ٹہرنے کا خیال ہو تو کیا کرے ؟

جواب :ہاں  ایسی صورت میں  فوراً وہ روزہ کی نیت کرلے قبل اس کے کہ وہ روزہ کو توڑنے والی چیز کو ہاتھ لگا ئے

لیکن ہاں  اگر بعد زوال مقام مذکور میں  داخل ہوا ہے اور راستے میں  کھا پی چکا ہے تو اسکا روزہ درست نہ ہو گا .

سوال :زوال سے کیا مراد ہے ؟

جواب : زوال سے مراد ایسا وقت جب سورج وسط آسمان سے مغرب کی طرف جھک جا ئے جو نماز ظہر کا اول وقت ہے ۔

سوال : وہ تھوک جو فطری طور پر حلق سے اترتا ہے کیا اس سے روزہ ٹوٹ جا تا ہے ؟

جواب : نہیں ۔

 سوال :بلغم یا دماغ کی کو ئی رطو بت اگر سیدھی حلق میں  اتر جا ئے تو کیسا ہے ؟

 جواب : ضروری نہیں  ہے کہ اسے تھو کا جا ئے البتہ اگر منھ کے اندر آجائے تو ضروری یہ ہے کہ اسے تھوکا  جا ئے ۔

 سوال : غسل جنابت کسے کہتے ہیں  اور اس کا طریقہ کیا ہے ؟

 جواب :غسل جنابت کی دوقسمیں  ہیں  :

١)غسل جنابت ارتماسی ۔      ٢)غسل جنابت ترتیبی۔

 اور ہاں  اولاً یہ یاد رہے کہ اس میں  مرد عورت دونوں  کا ایک ہی طریقہ ٔ کار ہو گا اور اس عمل میں ان دونوں  (مرد و عورت )میں  کو ئی فرق نہیں  ہے ۔لہذا انسان پہلے پوری طرح جسم کو صابن کے ذریعہ صاف  کر لے پھر نیت کرے کہ غسل جنابت ارتماسی کرتا ہوں  یا کرتی ہوں  واجب ''قربةً اِلی اللہ'' نیت کرنے کے بعد حوض یا آب کثیر میں  غوطہ لگا لے. اسی طرح سے غسل ترتیبی بھی ہے اولاًنیت کرے کہ غسل جنابت ترتبی کرتا ہوں  یا کرتی ہوں  واجب ''قربةً اِلی اللہ'' پہلے سر و گردن کو دھو ئے پھر داہنے کندھے پر پھر بائیں  کندھے پرپانی ڈالے ۔

 سوال :واجبات غسل جنابت ترتیبی کیا ہے ؟

جواب : اولاً نیت اور نیت کے بعد سر گردن کا دھونا ۔پھر داہنے کاندھے سے لیکر انگلیوں  کے سرے تک داہنی طر ف کے آدھے جسم کو دھونا اس کے بعد اسی طرح سے بائیں  طرف کے جسم کو اسی ترتیب سے دھو نا ۔ اور ہاں  یہ یاد رہے کہ ہر طرف کے جسم کو دھوتے وقت کچھ حصہ دوسری طرف کا بھی شامل کر لینا چا ہیئے تا کہ کسی جز کے نہ چھوٹنے کا یقین ہو جا ئے اور اسی لئے درمیانی اجزاء مثلاً ناف وغیرہ دونوں  طرف دھلیں  گے اور غسل کرتے وقت یہ خیال رکھنا چا ہیئے کہ پانی تمام بدن تک پہنچنا ضروری ہے تلوے کے نیچے انگلیوں  کی  گھا ئیوں  کے درمیان ناک کے نتھنوں  اور کان ان تمام حصوں  تک جہاں  انگلیوں  کے سہارے تری پہنچائی   جا سکتی ہے وہاں  پہنچانا ضروری ہے ۔اور ساتھ یہ بھی خیال رہے کہ غسل سے پہلے نجاست اور چکنا ئی کو اچھی طرح دھو کر پاک اور صاف کر لینا ضروری ہے تاکہ وہ پانی پہنچنے میں  مانع نہ بن سکیں  اور یہی حکم وضو کا بھی ہے.

 سوال :اگر ماہ مبارک رمضان میں  عورت اپنے معمول کے مطابق خون حیض دیکھے تو اسکا کیا حکم ہے ؟

جواب :ماہ مبارک رمضان میں  اگر عورت خون حیض دیکھتی ہے تووہ نماز نہیں  پڑھے گی کیونکہ ایسی حالت یا ان دنوں  میں  اس سے نماز ساقط ہے ،روزہ بھی وہ نہیں  رکھے گی لیکن اسکی قضا بعد میں  بجا لائیگی ۔

 سوال : تیمم کس طرح کیا جا تا ہے ؟

جواب : ہاں  تیمم سے پہلے انگشتری وغیرہ کو اتار دیان چاہیئے اس کے بعد نیت کرے کہ تیمم کرتا ہوں  یا کرتی ہوں  قربة ً الی اللہ پھر دونوں  ہاتھوں  کو مٹی پر مارے پھر پیشانی پر بالوں  کے اگنے کی جگہ سے لے کر ناک سے اوپر تک اور کنپٹیوں  کا کچھ حصہ شامل کرتے ہو ئے مسح کرے ۔پھر بائیں  ہاتھ سے داہنے ہاتھ کے گٹے سے انگلیوں  کے سرے تک مسح کرے اور اسی طرح پھر داہنے ہاتھ کی ہتھیلی سے بائیں  ہاتھ سے گٹے سے انگلیوں  کے سرے تک مسح کرے ۔اور یہ طریقہ تیمم بدل غسل اور تیمم بدل وضو دونوں  کے لئے درست ہے البتہ صرف نیت میں  وضاحت ضروری ہے کہ تیمم بدل غسل ہے یا تیمم بدل وضو ۔غسل جنابت کے بدلے میں  اگر تیمم کیا جا ئے تو بعض صورتوں  میں  وضو کی ضرورت نہیں  رہتی (نوٹ :یہ مسائل روز روشن کی طرح واضح ہے لیکن پھر بھی آپ سے ضروری التماس یہ ہے کہ آپ ان تمام سوالوں یا ان جیسے مزید دوسرے سوالات کے لئے اپنے مجتہد، جامع الشرائط کے فتوے کی طرف رجوع کریں ۔

 سوال:افطار کا وقت کیاہے اورہمیں افطار کب کرنا چاہیئے؟

ج:افطار کاوقت سورج کے غروب کے بعد ہے لیکن مستحب یہ ہے کہ نماز مغرب کے بعد کیا جائے۔      سوال : زکواة ِفطرہ کس پر واجب ہے ؟

 جواب :ہر مسلمان ،بالغ عاقل آزاد پر(مرد ہو یا رعورت )اپنے اپنے زیر کفالت کا فطرہ واجب ہے ۔

سوال : فطرہ کب اور کس وقت نکالے ؟

جواب : فطرہ کے لئے سب سے مناسب وقت یہ ہے کہ وہ رات کو ہی پوری معلومات کرنے بعد نکال دے اور نہیں  تو نماز سے پہلے پہلے ضرور نکال دے ۔اور بہتر یہ ہے کہ اسے نماز کے بعد مستحقین تک پہونچا بھی دے ۔

سوال :جنس فطرہ کیا ہے ؟

جواب : گیہوں  ،جو ،خرما ،منقی ،کشمش۔

سوال مقدار فطرہ کیا ہے ؟

جواب: ایک صاع یعنی(ایک بٹہ چار چھ سو چودہ )٦١٤_١مثقال ہے جو عصر حاضر میں  تین کیلو کے برابر ہے ۔

 سوال :فطرہ کے مستحقین کون ہیں  ؟

 جواب :فقراء و مساکین جو اپنے عیال کا سال بھر کا خرچہ نہ رکھتے ہوں  ۔

 سوال :کیا غیر سید کا فطرہ سید کو دیا جا سکتا ہے ؟

جواب :نہیں  ۔

ماہ مبارک کی مناسبتیں

سوال : ماہ مبارک رمضان کی مناسبتیں  کیا ہیں  ؟

جواب : ماہ مبارک کی مناسبتوں  کو بیان کرنا مشکل ہے اور وہ اس لئے کہ اس ماہ کی بہت زیادہ مناسبتیں  وارد ہو ئی ہیں  لیکن پھر بھی ایک نظر اس پر ڈالتے ہیں  :

١) مسجد النبیۖمیں  آگ لگا ئی گئی(٦٥٦ھ)

مامون عبّاسی کی طرف سے امام رضا  ولایت عہدی کے منصب پر فائز ہو ئے(٢٠١ھ)

جناب ابراہیم کے صحیفہ کا نزول۔       

جناب عیسٰی  پر انجیل نازل ہو ئی۔

ام المؤمنین جناب خدیجہ کی رحلت(ایک روایت کے مطابق) 

جنگ تبوک واقع  ہو ئی۔ 

شیعہ فلسفی بو علی سینا کا انتقال(٤٢٧ ق)

٢)فتح مکّہ(٨ھ)

٣)غزوہ بنی تبوک (٩ھ)

جناب شیخ مفیدکا انتقال(٤١٣ھ)

دشمن آل رسول(ص) مروا ن بن حکم ملعون واصل جہنم ہوا(٦٥ھ)

رسول اکرم ۖجنگ بدر کے لئے نکلے۔

 ٤) نزول توریت۔                     ١٠) ام المؤمنین جناب خدیجہ کی وفات۔

١٣)نزول انجیل۔                            ١٥)ولادت حضرت اما م حسن مجتبیٰ     ٢ھ  ق۔  

سفیر امام حسین   جناب مسلم بن عقیل  کا مکہ سے کوفے روانہ ہو نا ۔

محمد بن عبداللہ بن حسن (نفس زکیہ) شہید ہوئے ١٤٥ ھ

 ١٧)فتح بدر۔

ایک قول کے مطابق بعثت شب معراج رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )        

جنگ بدر  ٢  ھ۔

١٨)نزول زبور ۔١٩)صبح ضربت  ٤٠    ہجری قمری

شب قدر۔

٢٠)فتح مکہّ۔             ٢١)شہادت امام علی    ٤٠  ہجری قمری ۔

حضرت مو سیٰ  بن عمران  اور انکے وصی جناب یو شع بن نون کا انتقال ہوا۔

عالم تشیع کے نامدار فقیہ جناب شیخ حرّعاملی کا انتقال ہوا  ١١٠٤ہجری .

٢٣)نزول قرآن۔            ٢٤)  یوم القدس۔

٢٥)جنگ نہروان لشکر امام علی  و خوارج کے درمیان وقوع پذیر ہوئی ٣٨ھ ق ٢٩)جنگ حنین۔

(ماہ مبارک رمضان کے مشترک اعمال)

ماہ مبا رک رمضان کے پہلے دن غسل کرنا مستحب ہے اور اس کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان تمام آفات اور بلا سے محفوظ رہیگااور تمام دنیاوی بیماریاں  اس سے دوررہیں  گی۔اور یاد رہے نماز مغرب و عشاء کے بعد افطار کرنا مستحب مؤکدہ ہے ۔ امام جعفر صادق نے فرمایا:اگر کوئی شخص روزہ دار کو افطار کرائے تو اس کو روزہ رکھنے والے کے برابر ثواب ملے گا ۔

نیت افطار:مولاے کائنات حضرت علی بن ابیطالب سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا جس وقت افطار کرنا چاہوتو نمازکے بعد اس دعا کو پڑھکر افطار کرو :بِسم اللّٰہِ اَلْلّٰھُمَّ لَکَ صُمْنٰا وَ عَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْنَا فَتَقَبَّلْ مِنَّااِنَّکَ اَنْتَ الْسَّمِیْعُ الْعَلِیْم۔یا اسے پڑھے: اَلْلّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ۔خدایا تیرے لئے روزہ رکھا اور تیری روزی سے افطار کیا اور تجھ پر میں  نے  تو کل کیا۔روایت کے مطابق ماہ مبارک رمضان کی ہر شب میں  اس دعا کو پڑھنے سے چالس سال کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں :

بسم اللہ الرحمن الر حیم

اَلْلّٰھُمَّ رَبَّ شَھْرِ رَمْضَانَ اَلَّذِی اَنْزَلْتَ فِیْہِ الْقُرْاٰنَ وَافْتَرَضْتَ عَلٰی عِبٰادِکَ فِیْہِ الصِّیٰامَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْزُقْنَی حَجَّ بَیْتِکَ الْحَرٰامِ فِی عٰامِی ھَذٰا وَ فِی کُلِّ عٰامٍ وَ اغْفِرْلِی تِلْکَ الذُّنُوبَ الْعِظٰامَ فَاِنَّہ لاٰ یَغْفِرُھٰا غَیْرُکَ یٰارَحْمٰنُ یٰاعلَّامُ ۔صاحب زادالمعادنے لکھا ہے کہ ہر نماز واجب کے بعد اس دعا کا پڑھنا بہت مفید ہے :

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

یٰاعَلِیُّ یٰاعَظیْمُ یٰاغَفُوْرُیٰارَحَیمُ اَنْتَ الرَّبُ الْعَظِیمُ الَّذِی لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْئ وَھُوَالسَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ وَھَذٰا شَھْرُ عَظَّمْتَہ وَکَرَّمْتَہ وَ شَرَّفْتَہ وَ فَضَّلْتَہ عَلَی الْشُّھُوْرِ وَ ھَوَالْشَّھْرُالَّذِی فَرَضْتَ صِیٰامَہ عَلَیَّ وَھُوَشَھْرُرَمْضٰانَ الَّذِی اَنْزَلْتَ فِیْہِ الْقُرّٰاٰنَ ھُدَیً لِلنَّاسِ وَ بَیِّنٰاتٍ مِنَ الْھُدیٰ وَالْفُرْقٰانِ وَجَعَلْتَ فِیْہِ لَیْلَةَ الْقَدْرِ وَجَعَلْتَھٰاخَیْرَاً مِنْ اَلْفِ شَھْرٍفِیٰاذَالْمَنِّ وَلاٰیُمَنُّ عَلَیْکَ مُنَّ عَلَیَّ بِفَکٰاکِ رَقَبَتِی مَنَ الْنّٰارِفِیْمَنْ تَمُنُّ عَلَیْہِ وَاَدْ خِلَنِی الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِکَ یٰآاَرْحَمَ الْرَّاحِمِیْنَ.رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )نے فرمایا :کہ جو شخص اس دعا کو ماہ مبارک رمضان میں  ہرنماز واجب کے بعد پڑھے تو خداوند عالم اس کے قیامت تک کے گناہوں  کو بخش دے گا وہ دعا یہ ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اَلْلّٰھُمَّ اَدْخِلْ عَلیٰ اَھْلِ الْقُبُوْرِ الْسُّرُوْرِاَلْلّٰھُمَّ اَغْنِ کُلَّ فَقِیْرٍ اَلْلّٰھُمَّ اَشْبِع کُلَّ جَائِعٍ اَلْلّٰھُمَّ اکْسُ کُلَّ عُرْیٰانٍ اَلْلّٰھُمَّ اقْضِ دَیْنِ کُلِّ مَدِینٍ اَلْلّٰھُمَّ فَرِّجْ عَنْ کُلِّ مَکْرُوبٍ اَلْلّٰھُمَّ رُدَّ کُلَّ غَرِیبٍ اَلْلّٰھُمَّ فُکَّ کُلَّ اَسِیرٍ اَلْلّٰھُمَّ اَصْلِحْ کُلَّ فٰاسِدٍ مِنْ اُمُورِ الْمُسْلِمینَ اَلْلّٰھُمَّ اشْفِ کُلَّ مَرِیضٍ اَلْلّٰھُمَّ سُدَّ فَقْرَنٰا بِغِنٰاکَ اَلْلّٰھُمَّ غَیِّرْسُوئَ حٰالِنٰا بِحُسْنِ حٰالِکَ اَلْلّٰھُمَّ اقْضِ عَنَّاالدَّیْنَ وَ اَغْنِنٰا مِنَ الْفَقْرِ اِنَّکَ عَلیٰ کُلِّ شَیئٍ قَدِیْر۔سید ابن طاؤس:نے حضرت امام جعفرصادق و امام موسی کا ظم علیہما السلام نے نقل کیا ہے کہ اول رمضان سے آخری ماہ تک ہرواجب نماز کے بعد اس دعا کو پڑھے:

بسم  اللہ الرحمن الرحیم

اَلْلّٰھُمَّ ارْزُقْنِی حَجَّ بَیْتِکَ الْحَرٰامِ فِی عٰا مِی ھَذٰا وَفِی کُلِّ عٰامٍ مٰآ اَبْقَیْتَنِی فِی یُسْرٍمِنْکَ وَ عٰافِیَةٍ وَسَعَتہِ رِزْقٍ وَلاٰتُخِلْنِی مِنْ تِلْکَ الْمَوٰاقِفِ الْکَرِیْمَةِوَالْمَشٰاھِدِ الشَّرِیْفَةِ وَ زِیٰارَةِ قَبْرِنَبِیِّکَ صَلَوٰاتُکَ عَلَیْہِ وَ آلِہِ وَ فِی جَمِیْعِ حَوٰائِجِ الْدُّنْیٰا وَالَََْاَخِرَةِ فَکُنْ لِی اَلْلّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ فِیْمٰا تَقْضِی وَ تُقَدِّرُ مِنَ الْأمْرِ الْمَحْتُوْمِ فیِ لَیْلَةِ الْقَدْرِ مِنَ الْقَضٰآئِ الَّذِی لاٰ یُرَدُّ وَلاٰ یُبَدَّلُ اَنْ تَکْتُبْنِی مِنْ حُجّٰاجِ بَیْتِکَ الْحَرٰامِ الْمَبْرُورِحَجُّھُمُ الْمَشْکُورِسَعْیَھُمُ الْمَغْفُورِذُنُوبُھُمُ الْمُکَفَّرِعَنْھُمْ سَیِّئٰاتُھُمْ وَاجْعَلْ فِیْمٰا تَقْضِی وَ تُقَدِّرُ اَنْ تُطِیْلَ عُمْرِی فِی طَاعَتِکَ وَ تُوَسِّعَ عَلَیَّ رِزْقِی وَ تُئَودِّیَ عَنِّی اَمٰانَتِی وَ دَ یْنِی اٰمِینَ رَبَّ الْعٰالِمِیْنَ۔

(دعائے سحر)

بسم اللہ الرّ حمن الرحیم

اَلْلّٰہُّمَّ اِنّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ بَھٰائِک بِاَبْھٰاہ وَ کُلُّ بَھٰائِکَ بَھیّی  اَلْلّٰہُمَّ اِنّیِ اَسْئَلُکَ بِبَھٰائِکَ کُلِّہِ اَلْلّٰہُمَّ اِنّیِ اَسْئَلُکَ مِنْ جَمٰالِکَ بِاَجْمَلِہِ وَکُلُّ جَمٰالِکَ جَمِیِل اَلْلَّہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِجَمٰالِکَ کُلِّہِ اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ جَلاٰلِکَ بِاَجَلِّہِ وَکُلُّ جَلاٰلِکَ جَلِیْل اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِجَلاٰ لِکَ کُلِّہِ اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مَنْ عَظْمَتِکَ بِأَعْظَمِھٰاوَکُلُّ عَظَمَتِکَ عَظِیْمَة اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِعَظَمَتِکَ کُلِّھٰا اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ نُورِکَ بِاَنْوٰرِہِ وَ کُلُّ نُورِکَ نَیِّر اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِنُورِکَ کُلِّہِ اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ رَحْمَتِکَ بِاَوْسَعِھٰا وَ کُلُّ رَحْمَتِکَ وَاسِعَة اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِرَحْمَتِکَ کُلِّھٰا اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ کَلِمٰا تِکَ بِاَتَمِّھٰا وَ کُلُّ کَلِمٰاتِکَ تٰامَّةاَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِکَلِمٰاتِکَ کُلِّھٰا اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ کَمٰالِکَ بِاَکْمَلِہِ وَ کُلُّ کَمٰالِکَ کٰامِل اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِکَمٰالِکَ کُلِّہِ اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ اَسْمٰآئِکَ بِاَ کْبَرِھٰا وَکُلُّ اَسْمٰآئِکَ کَبِیْرَة اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِاَسْمٰا ئِکَ کُلِّھٰا اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ عِزَّتِکَ بِاَعِزِّھٰا وَ کُلُّ عِزَّتِکَ عَزِیْزَة اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِعِزَّتِکَ کُلِّھٰا اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِن مَشِیَّتِکََ بِاَمْضٰاھٰا وَکُلُّ مَشِیَّتِکَ مٰاضِیْة اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِمَشِیَّتِکَ کُلِّھَا اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ قُدْرَتِکَ بِالْقُدْرَةِ الَّتِیْ اِسْتَطَلْتَ بِھٰاعَلٰی کُلِّ شَیئٍ  وَ کُلُّ قُدْرَتِکَ مُسْتَطِیْلَة اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِقُدْرَتِکَ کُلِّھٰا اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ عَلْمِکَ بِاَنْفَذِہِ وِکُلُّ عِلْمِکَ نَافِذ اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِعِلْمِکَ کُلِّہِ اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ  مِنْ قَوْلِکَ بِاَرْضَاہُ  وَکُلُّ قَوْلِکَ رَضِیّّاَلَّٰلھُمَّ  اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِقَوْلِکَ کُلِّہِ اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ  مِنْ مَسٰآئِلِکَ بِاَحَبِّھَا اِلَیْکَ وَکُلُّ مَسَآئِلِکَ ِالَیْکَ حَبِیْبَة اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ  بِمَسٰآئِلِکَ کُلِّھَا  اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ  مِنْ شَرَفِکَ بِاَشْرَفِہِ وَ کُلُّ شَرَفِکَ شَرِیْف اَلْلّٰہُمَّ اَنِّی اَسْئَلُکَ بِشَرَفِکَ کُلِّہِ اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ سُلْطٰانِکَ بِاَدْوَمِہِ وَ کلُّ سُلْطٰانِکَ دٰآئِم اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِسُلْطٰانِکَ کُلِّہِ اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ مُلْکِکَ بِاَفْخَرِہِ وَ کُلُّ مُلْکِکَ فٰاخِر اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُک بِمُلْکِکَ کُلِّہِ  اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ عُلُوِّکَ بِاَعْلاٰہ وَ کُلُّ عُلُوِّکَ عٰالٍ اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِعُلُوِّکَ کُلِّہِ اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ مَنِّکَ بِاَقْدَمِہِ وَ کُلُّ مَنِّکَ قَدِیْم  اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِمَنِّکَ کُلِّہِ اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ اٰیٰاتِکَ بِاَکْرَمِھٰاوَکُلُّ اٰیٰاتِکَ کَرِیْمَة اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِٰایٰاتِکَ کُلَِّھٰا اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِمٰااَنْتَ فِیْہِ مِنَ الشَّانِ وَالْجَبَرُوتِ وَاَسْئَلُکَ بِکُلِّ شٰانٍ وَحْدَہ وَ جَبَرُوتٍ وَحْدَھٰا اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِمٰا تُجِیْبُنیِ  بِہِ حِیْنَ اَسْئَلُکَ فَاَجِبْنِی یٰا اللّٰہُ۔یا اللّٰہ۔یا اللّٰہ

(اسکے بعدا پنی حاجت طلب کریں  )

(ماہ مبارک رمضان کے ہردن کی دعا)

 پہلے دن کی دعا :اَلْلّٰہُمَّ اجْعَلْ صِیٰامِی فِیْہِ صِیٰامَ الصَّائِمِیْنَ وَ قِیٰامِی فِیْہِ قِیٰامَ الْقٰائِمِیْنَ وَ نَبِّھْنِی فِیْہِ عَنْ نَوْمَةِ الْغٰافِلِیْنَ وَھَبْ لِی جُرْمِی فِیْہِ یٰااِلٰہَ الْعٰالِمِیْنَ وَاعْفُ عَنِّی یٰاعٰافِیاً عَنِ الْمُجْرِمِیْنَ۔

 دوسرے دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ قَرِّبْنِی فِیْہِ اِلٰی مَرْضٰاتِکَ وَ جَنِّبْنِی فِیْہِ مِنْ سَخِطِکَ وَ نَقِمٰاتِکَ وَ وَفِّقْنِی فِیْہِ لِقِرائَةِ اٰیٰاتِکَ بِرَحْمَتِکَ یٰااَرْحَمَ الْرّٰاحِمِیْنَ۔

 تیسرے دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ ارْزُقْنِی فِیْہِ الذِّھْنَ وَ التَّنبِیْہِ وَ بٰاعِدْنِی فِیْہِ مِنَ السَّفٰاھَةِ وَالتَّمْوِیْہِ وَ اجْعَلْ لیِ نَصِیْباً مِنْ کُلِّ خَیْرٍ تُنْزِلُ فِیْہِ بِجُوْدِکَ یٰااَجْوَدَ الأَجْوَدِ یْنَ۔

 چوتھے دن کی دعا: اَلْلّٰھُمَّ قَوِّنِی فِیْہِ عَلی اِقٰامَةِاَمْرِکَ وَاَذِقْنِی فِیْہِ حَلاٰوَةَ ذِکْرِکَ وَاَوْزِعْنِی فِیْہِ لِأَدٰآئِ شُکْرِکَ بِکَرَمِکَ وَاحْفِظْنِی فِیْہِ بِحِفْظِکَ وَسَتْرِکَ یٰا اَبْصَرَ النّٰاظِرِ یْنَ۔

 پانچویں دن کی دعا:اَلْلّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِیْہِ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ وَاجْعَلْنِی فِیْہِ مِنْ عِبٰادِکَ الصّٰا لِحِیْنَ  القٰانِتِیْنَ وَ اجْعَلْنِی فِیْہِ مِنْ اَوْلِیٰائِکَ الْمُقَرَّبِیْنَ بِرَأْفَتِکَ یٰااَرْحَمَ الْرّٰاحِمِیْنَ۔

 چھٹے دن کی دعا:اَلْلّٰھُمَّ لاٰ تَخْذُ لْنِی فِیْہِ لِتَعَرُّضِ مَعْصِیْتِکَ وَلاٰ تَضْرِبْنِی بِسِیٰاطِ نَقِمَتِکَ وَ زَحْزِنِی فِیْہِ مِنْ مُوْجِبٰاتِ سَخَطِکَ بِمَنِّکَ وَ اَیٰادِیْکَ یٰا مُنْتَھٰی رَغْبَةِ الرَّاغِبِیْنَ۔

 ساتویں دن کی دعا:اَلْلّٰھُمَّ اَعِنِّی فِیْہِ عَلٰی صِیٰامِہِ وَ قِیٰامِہِ وَجَنِّبْنِی فِیْہِ مِنْ ھَفَوٰاتِہِ وَ اٰثٰامِہِ وَ ارْزُقْنِی فِیْہِ ذِکْرَکَ بِدَ وٰامِہِ بِتَوْفِیْقِکَ یٰا ھٰادِیَ الْمُضِلّیْنَ۔

 آٹھویں دن کی دعا:اَلْلّٰھُمَّ ارْزُقْنِی فِیْہِ رَحْمَةَ الْأَیْتٰامِ وَ اِطْعٰامَ الْطَّعٰامِ وَ اِفْشٰآئَ السَّلامِ وَصُحْبَةَ الْکِرٰامِ بِطَوْلِکَ یٰامَلجَاالاٰمِلِیْنَ.

 نویں دن کی دعا:اَلْلّٰھُمَّ اجْعَلْ لِی فِیْہِ نَصِیْباً مِنْ رَحْمَتِکَ الْوٰاسِعَةِ وَاھْدِنِی فِیْہِ لِبَرٰاھِیْنِکَ السّٰاطِعَةِ وَخُذْ بِنٰاصِیَتِی اِلٰی مَرْضٰا تِکَ الْجٰامِعَةِ بِمَحَبَّتِکَ یٰا اَمَلَ الْمُشْتٰاقِیْنَ۔

 دسویں دن کی دعا: اَلْلّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِیْہِ مِنَ الْمُتَوَکِّلِیْنَ عَلَیْکَ وَاجْعَلْنِی فِیْہِ مِنَ الْفٰائِزِیْنَ لَدَ یْکَ وَاجْعَلْنِی فِیْہِ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ اِلَیْکَ بِاِحْسٰانِکَ یٰا غٰایَةَ الْطّٰالِبِیْنَ۔

 گیارہویں  دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ حَبِّبْ اِلَیَّ فِیْہِ الْأِحْسٰانَ وَکَرِّہْ اِلَیَّ فِیْہِ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیٰانَ وَ حَرِّمْ عَلَیَّ فِیْہِ الْسَّخَطَ وَ الْنِّیرٰانَ بِعَوْنِکَ یٰاغِیٰاثَ الْمُسْتَغِثِیْنَ۔

  بار ہویں  دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ زَیِّنِی فِیْہِ بِالْسَِّتْرِوَالْعَفٰافِ وَاسْتُرْنِی فِیْہِ بِلِبٰاسِ الْقُنُوعِ وَالْکَفٰافِ وَ احْمِلْنِی فِیْہِ عَلیَ الْعَدْلِ وَالْأِنْصٰافِ وَاٰمِنِّی فِیْہِ مِنْ کُلِّ مٰآاَخٰافُ بِعِصْمَتِکَ یٰا عِصْمَةَ الْخٰآئِفِیْنَ۔

 تیرہویں  دن کی دعا :اَلْلّٰہُمَّ طَھِّرْنِی فِیْہِ مِنَ الْدَّنَسِ وَالْأِقْذٰارِ وَ صَبِّرْنِی فِیْہِ عَلیٰ کَائِنٰاتِ الْأَقْدٰارِ وَ وَفْقَّنِی فِیْہِ لِلتُّقیٰ وَ صُحْبَةِ الْأَبْرٰارِ بِعَوْنِکَ یٰا قُرَّةَ عَیْنِ الْمَسٰاکِینَ۔

 چودوہیں دن کی دعا: اَلْلّٰہُمَّ لاٰ تُوئٰ ا خِذْ نیِ فِیْہِ بِالْعَثَرٰاتِ وَاَقِلْنِی فِیْہِ مِنَ الْخَطایٰا وَ الْھَفَوٰاتِ وَلاٰ تَجْعَلنِی فِیْہِ غَرَضاًلِلْبَلاٰ یٰا وَالْاٰفٰاتِ بِعِزَّتِکَ یٰاعِزَّالْمُسْلِمِیْنَ۔

 پندرہویں دن کی دعا: اَلْلّٰہُمَّ ارْزُقْنِی فِیْہِ طٰاعَةَ الْخٰاشِعِیْنَ وَاشْرَحْ فِیْہِ صَدْرِی بِأِنٰابَة الْمُخْبِتِیْنَ بِاَمٰانِکَ یٰا اَمَانَ الْخٰآئِفِیْنَ۔

 سولہویں  دن کی دعا:اللّٰہُمَّ وَفِّقْنِی فِیْہِ لِمُوٰافِقَةِالابْرٰارِ وَ جَنَّبْنِی فِیْہِ مُرٰافِقَةَ الاشْرٰارِ وَاوِنِی فِیْہِ بِرَحْمَتِکَ اِلٰی دٰارِالْقَرٰارِ بِاِلٰھِیَّتِکَ یٰااِلٰہَ الْعٰالَمِیْنَ ۔

 سترہویں  دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ اھْدِنیِ فِیْہِ لِصٰالِحِ الْأَعْمٰالِ وَ اقْضِ لِی فِیْہِ الْحَوآئِجَ وَالْأَمٰالَ یٰامَنْ لاٰیَحْتٰاجُ اِلٰی التَّفْسِیْرِوَالسُّئوالِ یٰاعٰالِماًبِمٰافیِ صُدُورَالْعٰالَمِیْنَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍوَاٰلِہِ الْطّٰاھِرِیْنَ۔

 اٹھارویں  دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ نَبِّھْنِی فِیْہِ لِبَرَکٰاتِ اَسْحٰارِہِ وَ نَوِّرْ فِیْہِ قَلْبِی بِضِیٰآئِ اَنْوٰارِہِ وَخُذْ بِکُلِّ اَعْضٰآئیِ اِلَی اتِّبٰاعِ آثٰارِہِ بِنُورِکَ یٰا مُنَوّرَ قُلُوبِ الْعٰارِفِیْنَ ۔

 انیسویں  دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ وَفِّرْ فِیْہِ حَظِّی فِیْہِ مِنْ بَرَکٰا تِہِ وَسَھِّلْ سَبِیْلیِ اِلیَ خَیْرٰاتِہِ وَ لاٰ تَحْرِمْنِیْ قَبُولَ حَسَنٰاتِہِ یٰا ھٰادِیاً اِلیَ الْحَقِّ الْمُبِیْنَ ۔

 بیسویں  دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ افْتَحْ لیِ فِیْہِ اَبْوٰابَ الْجِنٰانِ وَ اَغْلِقْ عَنِّی فِیْہِ اَبْوٰابَ النِّیْرٰانِ وَ وَفِّقْنِی فِیْہِ لِتِلاٰوَةِ الْقُرٰآنِ یٰا مُنْزَلَ الْسَّکِیْنَةِ فِی قُلُوبِ الْمُئْومِنِیْنَ۔

 اکیسویں دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ اجْعَلْ لِی فِیْہِ اِلَی مَرْضٰاتِکَ دَلِیْلاً وَ لاٰ تَجْعَلْ لِلشَّیْطٰانِ فِیْہِ عَلَیَّ سَبِیْلاً وَاجْعَلِ الْجَنَّةَ لیِ مَنْزِلاً وَ مَقِیْلاً یٰا قٰا ضِیَ حَوٰائِجَ الْطّٰالِبِیْنَ۔

بائیسویں دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ افْتَحْ لیِ فِیْہِ اَبْوٰابَ فَضْلِکَ وَ اَنْزِلْ عَلَیَّ فِیْہِ بَرَکٰاتِکَ وَ وَ فِّقْنِی فِیْہِ لِمُوجِبٰاتِ مَرْضٰاتِکَ وَاَسْکِنِّی فِیْہِ بحُبُوحٰاتِ جَنَّاتِکَ  یَا مُجِیْبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّیْنَ۔

تیئسویں دن کی دعا :اَلْلّٰہُمَّ اغْسِلْنِی فِیْہِ مِنَ الْذُّ نُوبِ وَ طَھِّرْنِی فِیْہِ مِنَ الْعُیُوبِ وَامْتَحِنْ قَلْبِی فِیْہِ بِتَقْوَی الْقُلُوبِ یٰا مُقِیْلَ عثَرٰاتِ الْمُذْنِبِیْنَ۔

چوبیسویں دن کی دعا: اَلْلّٰہُمَّ اِنیِّ اَسْئَلُکَ فِیْہِ مٰایُرْضِیْکَ وَاَعْوُذُبِکَ مِمَّایُوْذِیْکَ وَ اَسْئَلُکَ الْتَّوْفِیْقَ فِیْہِ لِأَنْ اُطِیْعَکَ وَلاٰ اَعْصِیَکَ یٰا جَوٰادَ الْسّٰآ ئِلِیْنَ۔

 پچیسویں دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ اجْعَلْنِی فِیْہِ مُحِبّاًلِأَوْلِیٰآئِکَ وَمُعٰادِیاًلِأَعْدٰائِکَ مُسْتَنَّاًبِسُنَّةِخٰاتِمِ اَنْبِیٰآئِکَ یٰا عٰاصِمَ قُلُوبِ النَّبِیِیّنَ۔

 چھبیسویں  دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ اجْعَلْ سَعْیِی فِیْہِ مَشْکُوراً وَ ذَنْبیِ فِیْہِ مَغْفُوُراً وَ عَمَلیِ فِیْہِ مَقْبُولاً وَ عَیْبیِ فِیْہِ مَسْتُوُراً یٰا اَسْمَعَ الْسّٰامَعِیْنَ۔

ستّائیسویں  دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ ارْزُقْنِی فِیْہِ فَضَْلَ لَیْلَةِ الْقَدْرِ وَ صَیِّرْ اُمُورِی فِیْہِ مِنَ الْعُسْرِاِلَی الْیُسْرِ وَاقْبَلْ مَعٰاذِیْرِی وَ حُطَّ عَنِّی الذَّ نْبَ وَالْوِزْرَیٰارَؤُفاً بِعِبٰادِہِ الْصّٰالِحِیْنَ۔

 اٹھائیسویں دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ وَفِّرْ حَظِّی فِیْہِ مِنَ النَّوٰافِلِ وَ اَکْرِمْنِی فِیْہِ بِاِ حْضٰارِالْمَسٰآئِلِ وَقَرِّبْ فِیْہِ وَسِیْلَتِی اِلَیْکَ مِنْ بَیْنَ الْوَسَآئِلِ یٰا مَنْ لاٰ یَشْغَلُہ اِلْحٰاحُ الْمُلِحّیِنَ۔

 انتیسویں دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ غَشِّنیِ فِیْہِ بِالرَّحْمَةِ وَ ارْزُقْنِی فِیْہِ التَّوفِیْقَ وَالْعِصْمَةَ وَ طَھِّرْ قَلْبِی مِنْ غَیٰا ھِبِ التُّھْمَةِ یٰا رَحِیْماً بِعِبٰادِہِ الْمُؤمِنِیْنَ۔

 تیسویں دن کی دعا:اَلْلّٰہُمَّ اجْعَلْ صِیٰامِی فِیْہِ بِالشُّکْرِ وَالْقَبُولِ عَلَی مٰا تَرْ ضٰاہُ وَ یَرْ ضٰاہُ الرَّسُولُ  ُمحْکَمَةً فُرُوعُہ بِالْأُصُولِ بِحَقِّ سَیِّدِ نٰا مُحَمَّدٍ وَ اَلِہِ الْطّٰاھِرِیْنَ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰالَمِیْنَ۔

٭٭٭

ماہ رمضان کی راتوں  کی نمازیں )

علامہ مجلسی سے صاحب مفاتیح الجنان علامہ شیخ عباس قمی نے نقل کیا ہے کہ :

 شب اول :میں  چار رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  سورہ حمد کے بعد پندرہ مرتبہ سورہ توحیدپڑھے

 دوسری شب: میں  چار رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد بیس مرتبہ انا انزلنا ہ پڑھے۔

تیسری شب : میں  دس رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  سورہ حمد کے بعد پچاس مرتبہ قل ہو اللہ پڑھے۔

چوتھی شب:میں  آٹھ رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  سورہ حمد کے بعد بیس مرتبہ انا انزلنا ہ پڑھے۔

 پانچویں  شب :میں  دو رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  سورہ حمد کے بعد پچاس مرتبہ سور توحید ہے اور سلام کے بعد سو مرتبہ صلوات پڑھے۔

 چھٹی شب :میں  چار رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  سورہ حمد کے بعد سورہ تبارک الذی بیدہ الملک پڑھے ۔

 ساتویں  شب :میں  چار رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  حمد اور تیرہ مرتبہ انا انزلناہ پڑھے ۔

 آٹھویں  شب: میں  دو رکعت نماز ہے جسکی رکعت میں  حمد کے بعد دس مرتبہ توحید اور سلام کے بعد ہزار مرتبہ سبحان اللہ پڑھے۔

نویں  شب :میں  چھ رکعت نماز ہے (جو مغرب اور سونے کے درمیان پڑھی جاتی ہے) جس کی ہر رکعت میں  حمد کے بعد سات مرتبہ آیة الکرسی اور نماز کے بعد پچاس مرتبہ صلوات پڑھے۔

 دسویں  شب :میں  بیس رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  حمد کے بعد تیس مرتبہ سورۂ توحید پڑھے ۔

گیارہویں  شب : میں  دو رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  حمد کے بعد بیس مرتبہ انا اعطینا ک الکوثرپڑھے۔

 بارہویں  شب : میں  آٹھ رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  حمد کے بعد تیس مرتبہ اناانزلناہ پڑھے ۔

تیرہویں  شب: میں  چار رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت حمد کے بعد پچیس مرتبہ سورۂ توحیدپڑھے ۔

 چودہویں  شب : میں  چھ رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  حمد کے بعدتیس مرتبہ اذا زلزلت الارض پڑھے۔

 پندرہویں  شب : میں  چار رکعت نماز ہے جسکی پہلی دو رکعتوں میں  حمد اور سو مرتبہ توحید اور دوسری دو رکعتوں  میں  حمد کے بعدپچاس مرتبہ توحید پڑھے ۔

سو لہویں  شب : میں  بارہ رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  سورہ حمد کے بعد بارہ مرتبہ: الہیکم التکاثر پڑھے۔

 سترہویں  شب :میں   دو رکعت نماز ہے جسکی پہلی رکعت میں حمد کے بعد جو سورہ یاد ہو اس کو پڑھے اور دوسری رکعت میں  حمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید اور سلام کے بعد سو مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھے۔

 اٹھارویں  شب: میں چارکعت نماز ہے جسکی پہلی رکعت میں  حمد اور پچیس مرتبہ: انا اعطینا ک الکوثر  پڑھے۔

 انیسویں  شب : میں  پچاس رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  حمد کے بعد ایک مرتبہ سورہ اذازلزلت ۔۔۔پڑھے۔

  بیسویں  ، اکیسویں  ، بائیسویں  ، تیئیسویں  اور چوبیسویں  کی شبوں  میں  آٹھ رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  حمد کے بعد دس مرتبہ سورۂ توحید پڑھے۔

  پچیسویں  شب : میں  آٹھ رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  دس مرتبہ سورۂ توحید ہے پڑھے۔

 چھبیسویں  شب : میں  آٹھ رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  سو مرتبہ سورۂ توحیدپڑھے۔

 ستائیسویں  شب : میں  چار رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  حمد اور سورہ تبارک ا لذی بیدہ الملک پڑھے اور اگر نہ ہو سکے تو پچیس مرتبہ سورہ توحید پڑھے  ۔

  اٹھائیسویں  شب : میں  ٦ رکعت نماز ہے جسکی ہر رکعت میں  حمد اور١٠٠ مرتبہ آیة الکرسی  اور ١٠٠ مرتبہ سورہ توحید اور ١٠٠ مرتبہ سورہ کوثر پڑھے اور نماز کے بعد١٠٠ مرتبہ صلوات پڑھے( صاحب کتاب مفاتیح الجنان نے یہ کہاہے کہ اٹھائیسویں کی شب کی نماز جس کو میں نے اس طرح  پایاہے اس رات میں  ٦ رکعت نماز ہے جس کی ہر رکعت میں  حمد اوردس مرتبہ آیة الکرسی اور١٠ مرتبہ سورہ کوثر اور ١٠ مرتبہ سورہ توحید اورنماز کے بعد ١٠٠ مرتبہ صلوات پڑھے )

انتیسویں  شب : دورکعت نمازہے جسکی ہررکعت میں  حمد کے بعد ٢٠ مرتبہ سورہ توحید پڑھے ۔ تیسویں  شب : ١٢ رکعت نماز ہے جسکی ہررکعت میں  حمدکے بعد ٢٠ مرتبہ سورہ توحید اورنماز سے فارغ ہونے کے بعد ١٠٠ مرتبہ صلوات پڑھے۔ (نوٹ:یہ جتنی نمازیں  ذکرکی گئی ہیں  ان میں  ہر دو رکعت پر سلام پڑھاجائے گا ۔)

( شبہای قدرکے مخصوص ا عمال)

ہو شام قدر کا منظر نمازیوں  کی قطار 

دعائے سید سجّاد  کی وہ نرم پھوا ر

پلک پہ ا شک ندامت زباں  پہ استغفار 

وہ رات جس کی تجلّی پہ لاکھ صبح نثار

بہت بلند حد امتحان دیکھتے  ہیں       

ملک بھی آکے عبادت کی شان دیکھتے ہیں   

 ان راتوں کا کیا کہنا جن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام شب عبادت الہی میں  مصروف رہا کرتے تھے !ان شبوں  کے اعمال یہ ہیں  :

  آخر شب میں  غسل کرنا۔

  ان راتوں  میں  پہلے دو رکعت نماز شب قدر کی نیت سے پڑھے جسکی ہر رکعت میں  سورہ حمد کے بعد سات مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور پھر نماز سے فارغ ہو نے کے بعد:

 ایک سو مرتبہ :اَسْتَغْفِرُالْلّٰہَ رَبِّی وَ اَتُوبُ اِلَیْہِ۔پڑھے۔

 ایک سو مرتبہ:اَلْلّٰہُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ اَمِیْرِالْمُومِنِیْنَ ۔پڑھے۔

  دعاء مکارم اخلاق کا پڑھنا مستحب ہے ۔                                    

 سورہ عنکبوت، سورہ روم ، سورہ حم  اور سورہ دخان کا پڑھنا بھی مستحب ہے۔

  سورہ قدر کوہزار مرتبہ پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے ۔ 

 ساری رات شب بیداری کرنامستحب ہے ۔

 رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )اورآئمہ ّعلیہم السلام پر زیادہ سے زیادہ صلوات پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔

سجدہ کی حالت میں  سو مرتبہ ذکریو نس  ۔(لا اللّٰہَ الِاّ اَنْتَ سُبْحٰانَکَ اِنِّی کنتُ منَ الظّا لمینَ ) پڑھے۔

زیارت امام حسین  کا پڑھنابہت ثواب رکھتا ہے ۔

دعاء جوشن کبیرکے پڑھنے کی تاکید وارد ہو ئی ہے  ۔

قرآن کو سامنے کھول کر رکھے اور یہ پڑھے: اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِکِتٰابِکَ الْمُنْزَلِ وَمٰافِیْہِ وَفِیْہِ اِسْمُکَ الْاَکْبَرُوَ اَسْمٰآوُکَ الْحُسْنٰی وَمٰایَخٰافُ وَ یُرْجٰی اَنْ تَجْعَلَنِی مِنْ عُتَقٰآئِکَ مِنَ الْنّٰارِ۔اس کے بعد اپنی حاجت طلب کرے اور پھر قرآن مجید کو سر پر رکھ کریہ دعا  پڑھے۔اَلْلّٰہُمَّ بِحَقِّ ھٰذَاالْقُرْاٰنِ وَ بِحَقِّ مَنْ اَرْسَلْتَہ بِہِ وَ بِحَقِّ کُلِّ مُومِنٍ مَدَحْتُہ فِیْہِ وَ بِحَقِّکَ عَلَیْہِمْ فَلاٰ اَحَدَاَعْرَفُ بَحَقِّکَ مِنْکَ۔ اس کے بعد کہے:

دس مرتبہ          بِکَ یٰا اَلْلّٰہُ.                       دس مرتبہ       بِمُحَمَّدٍۖ

دس مرتبہ          بِعَلِیٍّ  .                         دس مرتبہ        بِفٰاطِمَةَ  ۖ

دس مرتبہ          بِالْحَسَن ِ .                      دس مرتبہ        بِالْحُسَیْنِ

دس مرتبہ       بِعَلیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ .                دس مرتبہ       بِمُحَمَّدِبْنِ عَلَیٍّ

دس مرتبہ       بِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ.                   دس مرتبہ        بِمُوسیٰ بْنِ جَعْفَرٍ

دس مرتبہ        بِعَلِیِّ بْنِ مُوسیٰ  .               دس مرتبہ         بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ

دس مرتبہ        بِعَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ.                  دس مرتبہ      بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ

دس مرتبہ         بِالْحُجَّةِ الْقٰائِمِ  کہے  اس کے بعد جو بھی حاجت رکھتا ہو خدا سے طلب کرے اور پھر اس دعا کو پڑھے:اَلْلّٰہُمَّ اِنِّی اَمْسَیْتُ لَکَ عَبْداً دٰاخِراً لٰا اَمْلِکُ لِنَفْسِی نَفْعاً وَ لاٰ ضَرّاً وَ لآٰ اَصْرِفُ عَنْھٰا سُوئً اَشْھَدُ بِذٰلِکَ عَلٰی نَفْسِی وَ اَعْتَرِفُ لَکَ بِضَعْفِ قُوَّتِی وَ قِلَّةِ حِیْلَتِی فَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ اَنْجِزْ لِی مٰا وَ عَدْ تَنِی وَجَمِیْعَ الْمُومِنِیْنَ وَ الْمُومِنٰاتِ مِنَ الْمَغْفِرَةِ فِی ھٰذِہِ الْلَّیْلَةِ وَ اَتْمِمْ عَلَیَّ مٰااَتَیْتَنِی فَاِنیِّ عَبْدُکَ الْمِسْکِیْنُ  الْمُسْتَکِیْنُ  الْضَّعِیْفُ الْفَقِیْرُالْمَھِیْنُ اَلْلّٰہُمَّ لاٰتَجْعَلَنِی نٰاسِیاًلِذِکْرِکَ فِیْمٰااَوْلَیْتَنِی وَلاٰغٰافِلاً لِأِحْسٰانِکَ فِیْمٰااَعْطَیْتَنِی وَلاٰاٰ یِساًمِنْ اِجٰابَتِکَ وَاِنْ اَبْطَأَتْ عَنِّی فِی سَرّٰآئِ اَوْضَرّٰآئِ اَوْشِدَّةٍاَوْرَخاٰئٍ اَوْعٰافِیَةٍ اَوْبَلآٰئٍ اَوْبُئْوسٍ اَوْنَعْمٰآئَ اِنَّکَ سَمِیْعُ الْدُّعاٰئِ۔علامہ مجلسی نے فرمایا:ان شبوں  میں  بہترین اعمال طلب مغفرت ہے اور دنیا وآخرت کے لئے ا ور اپنے والدین،عزیزواقارب،وبرادر دینی ،مومنین کرام اور تمام مردوں  کے لئے دعائیں  کرنا چاہئے۔

(شبہا ی قدر کی مخصوص دعا ئیں )

پہلی دعا:اَلْلّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلٰی  مٰا وَ ھَبْتَ لِی مِنْ اِنْطِوٰائِ مٰا طَوَیْتَ مِنْ شَھْرِی وَ اَنَّکَ لَمْ تُجِنْ فِیْہِ اَجَلِی وَ لَمْ تَقْطَعْ عُمْرِی وَلَمْ تُبِلْنِی بِمَرَضٍ یَضْطَرُّنِی اِلٰی تَرْکِ الْصِّیٰامِ وَ لاٰ بِسَفَرٍ یَحِلُّ لِی فِیْہِ الْأِفْطٰارُ فَاَنَا اَصُومُہ فِی کِفٰایَتِکَ وَ وِقٰایَتِکَ أُطِیْعُ أَمْرَکَ وَ أَقْتٰاتُ رِزْقِکَ وَأَرْجُواُئَمِّلُ تَجٰاوُزَکَ فَاَتْمِمِ اَلْلّٰہُمَّ عَلَیَّ فِی ذٰلِکَ نِعْمَتَکَ وَاَجْزِلْ بِہِ مِنَّتِکَ وَاسْلَخْہُ عَنِّی بِکَمٰالِ الْصِّیٰامِ وَ تَمْحِیصِ الْاٰثٰامِ وَ بَلَّغْنِی آخِرَہُ بِخٰاتِمَةِخَیْرٍ وَ خَیْرَ ہُ یٰا أَجْوَدَ الْمَسْئوُلِینَ وَ یٰا أَسْمَحَ الْوٰاھِبِینَ وَ صَلَّی الْلّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِہِ الْطّٰاھِرِینَ ۔

د وسری دعا:اَسْتَغْفِرُ الْلّٰہَ مِمّٰا مَضیٰ مِنْ ذُنُوبیِ وَ فَاَنْسَیْتُھٰا وَ ھِیَ مُثْبَتَة عَلَیَّ  یُحْصِیْھٰا عَلَیَّ الْکِرٰامُ الْکٰاتِبُونَ یَعْلَمُونَ مٰا اَفْعَلَ وَ اَسْتَغْفِرُالْلّٰہَ مِنْ مُوبِقٰاتِ الْذُّنُوبِ وَ اَسْتَغْفِرُہُ مِنْ مُفْظِعٰاتِ الْذُّنُوبِ وَاَسْتَغْفِرُہُ مِمّٰا فَرَضَ عَلَیَّ فَتَوٰانَیْتَ وَ اَسْتَغْفِرُہُ مِنْ نِسْیٰانِ الْشَّئیِ اَلَّذِی بٰا عَدَنِی مِنْ رَبِّی وَ اَسْتَغْفِرُہُ مِنَ الْزَّلاَّتِ وَ الْضَّلالٰاٰتِ وَ مِمّٰا کَسَبَتْ یَدٰای وَ اوُ مِنْ بِہِ وَ اٰتَوَکَّلُ عَلَیْہِ کَثِیْراً وَ اَسْتَغْفِرُہُ وَ اَسْتَغْفِرُہُ وَ اَسْتَغْفِرُہُ وَاَسْتَغْفِرُہُ وَ اَسْتَغْفِرُہُ وَ اَسْتَغْفِرُہُ وَاَسْتَغْفِرُہُ فَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ اَنْ تَعْفُوَعَنِّی وَ تَغْفِرَ لِی مٰا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِی وَاسْتَجِبْ یٰاسَیِّدیِ دُعٰآئِی فَاِنَّکَ اَنْتَ الْتَّوَّابُ الْرَّحِیمُ۔

تیسری دعا: اَلْلّٰہُمَّ اجْعَلْ لِی فِیْہِ اِلَی مَرْضٰاتِکَ دَلِیلاً وَلاٰ تَجْعَلْ لِلشَّیْطٰانِ فِیْہِ عَلَیَّ سَبِیْلاً وَ اجْعَلِ الْجَنَّةَ مَنْزِلاً لیِ وَمُقِیلاً یٰاقٰاضِیَ حَوٰائِجَ الْطّٰالِبِیْنَ۔

چوتھی دعا :سُبْحٰانَ الْلّٰہِ الْسَّمِیع الَّذِی لَیْسَ شَیْئ أَسْمَعَ مِنْہُ یَسْمَعُ مِنْ فَوْقِ عَرْشِہِ مٰاتَحْتَ سَبْعِ أَرَضِینَ وَ یَسْمَعُ مٰافِی ظُلُمٰاتِ الْبَرِّوَالْبَحْرِ وَیَسْمَعُ الْاَنِینَ وَالْشَّکْویٰ وَیَسْمَعُ الْسِّرِّ وَ أَخْفَیٰ وَ یَسْمَعُ وَسٰاوِسَ الْصُّدُورِ وَ یَعْلَمُ خٰائِنَةَالْاَعْیُنِ وَمٰا تُخْفِی الْصُّدُورُ وَلاٰیُصِمُّ سَمْعَہُ صَوْت،سُبْحٰانَ الْلّٰہِ بٰارِیِ النَّسَم، سُبحٰانَ الْلّٰہِ الْمُصَوِّرِ سُبحٰانَ الْلّٰہِ خٰالِقِ الْاَزْوٰاجِ کُلِّھٰا،سُبحٰانَ الْلّٰہِ جٰاعِلِ الْظُّلُمٰاتِ وَالنُّورِ،سُبحٰانَ الْلّٰہِ فٰالِقِ الْحَبِّ وَ النَّوَیٰ،سُبحٰانَ الْلّٰہِ خٰالِقِ کُلِّ شَیْئٍ،سُبحٰانَ الْلّٰہِ خٰالِقِ مٰایُریٰ وَ مٰالاٰ یُریٰ،سُبحٰانَ الْلّٰہِ مِدٰادَ کَلِمٰاتِہِ،سُبحٰانَ الْلّٰہِ رَبِّ الْعٰالِمِیْنَ(اقبال الاعمال)

پانچویں  دعا:  سُبُّوح قُدُّوس رَبُّ الْمَلاٰ ئِکَةِ وَالْرُّوحِ سُبُّوح قُدُّوس رَبُّ الْرُّوحِ وَ الْعَرْشِ سُبُّوح قُدُّوس رَبُّ الْسَّمٰوٰاتِ وَ الأَرْضِیْنَ سُبُّوح قُدُّوس رَبُّ الْبِحٰارِ وَ الْجِبٰالِ سُبُّوح قُدُّوس یُسَبِّحُ لَہُ الْحِیْتٰانُ وَ الْھَوٰآ مُّ وَالْسِّبٰاعُ فِی الاٰکٰامِ سُبُّوح قُدُّوس سَبَّحَتْ لَہُ الْمَلاٰ ئِکَةِ الْمُقَرِّبُونَ سُبُّوح قُدُّوس عَلاٰ فَقَھَرَ وَ خَلَقَ فَقَدَرَ سُبُّوح سُبُّوح سُبُّوح سُبُّوح سُبُّوح سُبُّوح سُبُّوح قُدُّوس  قُدُّوس قُدُّوس قُدُّوس قُدُّوس قُدُّوس قُدُّوس۔

ساتویں  دعا:اَلْلّٰھُمَّ اغْسِلْنِی فِیْہِ مِنَ الْذُّنُوبِ وَطَھِّرْنیِ فِیْہِ مِنَ الْعُیُوبِ وَامْتَحَنْ فِیْہِ قَلْبِی بِتَقْویَ الْقُلُوبِ  یٰا مُقِیلَ عَثَرٰاتِ الْمُذْنِبِیْنِ۔

(شب عید کے اعمال)

روایت میں  ہے کے ماہ رمضان کی آخری شب میں  سو مرتبہ :اَسْتَغْفِرُ الْلّٰہََ رَبِّی وَ اَتُوبُ اِلَیْہِ ۔پڑھے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ اگر کوئی ماہ مبارک رمضان کو وداع کہنا چاہے اور اس طرح آخر ماہ رمضان میں  کہے تو پرور دگار عالم اس کے سارے گناہو ں  کو معاف کردیگا: اَلْلّٰہُمَّ لاٰ  تَجْعَلْہُ آخَرَ الْعَھْدِ مِنْ صِیٰامِی لِشَھْرِ رَمْضَانَ وَ اَعُوْذُ بِکَ اَنْ یَطْلَعَ فَجْرَ ھٰذِہِ الْلَّیْلَةِ الِاّٰ وَ قَدْ غَفَرْتَ لِی۔ دوسری دعا جوامام   سے نقل ہو ئی ہے وہ یہ ہے:اَلْلّٰہُمَّ ھٰذٰاشَھَرُ رَمَضٰانَ الْذَّ ی  اُنْزِلَتْ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ وَقَدْ تَصَرَّمَ  وَاَعُوْذُ بِوَجْھِکَ الْکَرِیْمِ یٰارَبُّ اَنْ یَطْلَعَ الْفَجْرَ ھٰذِہِ الْلَّیْلَةِ اَلاّٰ وَ قَدْ غَفَرْتَ لِی۔

(اعمال روز عید)

صاحب زادالمعاد نے مرسل ا عظمۖسے نقل کیاہے کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )نے فرمایا:شب عید کی وہی فضیلت ہے جو شبہای قدرکی ہے ،اس شب میں  غروب سے پہلے غسل کرے اور پھر نماز مغرب پڑھے نماز سے جب فارغ ہو جا ئے تو  ہاتھوں کو بلند کرے اور اس دعاکو پڑھے:یٰاذَالْمَنِّ وَ الْطَّول یٰا ذَالْجُودِ یٰا مُصْطَفیٰ مُحَمَّدٍ ۖ وَ نٰا صِرَ،صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِی کُلَّ ذَنْبٍ وَ ھُوَ عِنْدَکَ فِی کِتٰابٍ مُبِین۔اس کے بعد سجدے میں  جا کر سو مرتبہ  اَ تُو بُ اِلی الْلّٰہ۔پڑھے اور اپنی حاجت خدا سے طلب کرے۔اور روز عید کے اعمال میں  :غسل کرنا ،لوگوں  کو عید کی مبارک باد پیش کرنا اور اپنے بچوں  میں  عیدی تقسیم کرنا، نماز سے پہلے فطرہ کا نکالنا، نماز سے پہلے افطار کرنا(مستحب ہے کہ انسان تربت امام حسین  سے افطار کرے )نماز کے لئے گھر سے نکلے تو اس جملے کو پڑھتا چلے :اللّٰہُ اَکْبَرْ اللّٰہُ اَکْبَرْلاٰاِلَہَ اِلا اللّٰہُ وَالْلّٰہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمد اَلْلّٰہُ اَکْبَرْ علیٰ مٰا ھٰدَانا وَ لَہُ الشُّکرُ علیٰ مٰا  اَوْلَیٰنا۔نماز عید کے بعد زیارت امام حسین  اور دعائے ندبہ کا پڑھنا۔

(زیارت امام حسین  )

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اَلسَلَاْمُ عَلَیْکَ یَاْ اَبَاْ عَبْدِاللّٰہِ اَلسَلَاْمُ عَلَیْکَ یَا بْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اَلسَلَاْمُ عَلَیْکَ یَا بْنَ  اَمِیْرِالْمُوْمِنِیْنَ اَلسَلَاْمُ عَلَیْکَ یَا بْنَ فَاطِمَةَ الزَھْرَائِ سَیِّدَةِ نِسَاْئِ الْعَاْلَمِیْنَ اَلسَلَاْمُ عَلَیْکَ وَ عَلیٰ جَدِّکَ وَ اَبِیْکَ اَلسَلَاْمُ عَلَیْکَ وَ عَلیٰ اُمِّکَ وَ اَخِیْکَ اَلسَلَاْمُ عَلَیْکَ وَ عَلیٰ  تِسْعَةِ الْمَعْصُوْمِیْنَ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ وَ بَنِیْکَ اَلسَلَاْمُ عَلَیْکُمْ یَا سَاْدَاْتِی جَمِیْعاً  وَ رَحْمَةُ اللّٰہِ وَ بَرَکَا تُہ۔

(دعائے حاجت)

اِلٰھیِ بِاَ خَصِّ صِفٰاتِکَ وَ بِعِزَّ جَلاٰلِکَ وَبِاَعْظَمِ اَسْمَائِکَ وَبِنُوْرِاَنْبِیٰائِکَ وَبِعِصْمَةِ اَوْلِیٰآئِکَ وَبِدِمٰائِ شُھْدَآئِکَ وَبِمُنٰاجٰاتِ فُقْرَآئِکَ نَسْئَلُکَ زِیَادَةً فِی الْعِلْمِ وَصِحَّةً فیِ الْجِسْمِ وَ بَرَکَةً فیِ الْرِّزْقِ وَطُوْلاً فیِ الْعُمْرِوَتَوْبَةً قَبْلَ الْمَوْتِ وَرَاحَةًعِنْدَ الْمَوْتِ وَمَغْفِرَةًبَعْدَالْمَوْتِ وَنَجَاةًمِّنَ النَّارِ وَدُخُوْلاً فیِ الْجَنَّةِ وَعَافِیَةً فیِ الدِّیْنِ وَالدُّنْیٰا وَالْأخِرَةِ بِرَحْمَتِکَ یٰا اَرْحَمَ الرّٰ حِمِیْنَ۔

(عید فطرکی فضیلت)

جناب جابر نے امام محمد باقرسے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: جیسے ہی اوّل شوال آتی ہے منادی ندا دیتا ہے :اے مومنو !اس صبح میں  انعا مات کو حاصل کرنے کے لئے ایک دو سرے پر سبقت کرو،اور پھر امام  نے فرمایا:اے جابر خدا وند عالم کا انعام دنیوی     بادشا ہوں  کے عطا کردہ انعام کے مانند نہیں  ہے ۔پھر آپ نے فرمایا :آج انعام کا دن ہے حضرت امیر المومنین حضرت علی  نے خطبہ عید میں فرمایا: اے لو گو ! آج کا دن وہ دن ہے جس میں  نیک کام والوں  کو انعام دیا جا ئیگا۔اور برے کام والے خسارے میں  رہیں  گے یہ دن روز حشر سے مشابہ ہے لہذا نماز عید کے لئے گھر سے نکلتے وقت خروج قبر کو یاد کرواس دن کو جب تم سب اپنی اپنی منزلوں  سے نکل کر بہشت کی طرف روانہ ہو گے ۔ دوسرے خطبہ میں  ارشاد فرمایا : آج فقط اسکی عید ہے جسکے روزے مقبول بارگاہ الہی قرار پاتے ہیں  اور پھر فرمایا: ہر وہ دن عید ہے جس میں  خداکی معصیت انجام نہ دی جائے۔

( عید الفطراو ر اسکی خو شی)

خدا وند عالم نے رمضان المبارک کی تکمیل پر یکم شوال المکر م کوتمام مومنین کے لیے انعام و خوشی اور مسرّت کا دن قرار دیاہے تا کہ: مسلمان رمضان المبارک کی عبادتوں ،ریاضتوں  اور روزہ داری کے بعد باہم ملکر اس ماہ مبارک کی بخوبی تکمیل پراظہار مسرّت اور خوشیاں   منا سکیں ۔اور ایک دوسرے کومبارکباد دیں  ۔عید کی اصل خوشی اور حقیقی روح یہی ہے کہ اپنے معاشرے کے غریب ، نادار ، محتاج اور مفلس طبقہ کی دلجوئی کی جائے اور انھیں  اپنی خشیوں  میں  شریک کیا جائے کہ یہی عین اسلام ہے۔ عید الفطرمیں  خصوصی طور سے فطرہ واجب قرار دیا گیا ہے تاکہ غرباء ، مساکین، ناچار ، عزیزاور اقارب کی مالی اعانت کا سبب بنے اس لئے بہتر ہے کہ واجب فطرہ کہ علاوہ بھی مجبور غریب اور مومنین کی دلجوئی اور مدد کی جائے تاکہ مجموعی طورپر عید کی خوشیاں  دو بالا ہو سکیں  ۔اور آخرمیں اپنے عزیز قارئین اور تمام مومنین کرام سے التماس کرتے ہیں  کہ تما م مرحومین کی بلندی درجات کے لئے ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اور تین مرتبہ سورہ توحید کی تلاوت فرماکر ان کی ارواح کو ایصال کردیں ۔ 

 

 

 

 

 


source : http://shianet.in/ramzan/default.htm
  3294
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

دنیا بھر میں عید سعید غدیر کے جشن کا انعقاد
نور علی نور ، قرآن اورنماز کا باہمی رابطہ
تربیت اور تربیت کا مفہوم
تاریخی مثالیں
آخري نبي ص کي بشارت پچھلے انبياء نے دي
حضرت علی علیه السلام کے خصوصی امتیازات-2
معاشرے ميں عورت کي صلاحيت
قرآن سے زندگی میں بہار
اسلام کی سب سے بڑی تبلیغ
علامات شیعہ از نظر معصومین علیھم السلام

 
user comment