اردو
Monday 21st of September 2020
  12
  0
  0

راه هدايت

(اے رسول|) ان قصوں کو لوگوں کے لئے بیان کریں شاید یہ غور و فکر کریں اور بیدار ہوجائیں۔

انسانوں کي هدايت اور معارف الٰهي کی نشر و اشاعت ميں قصے اور داستان کا مؤثر کردار بہت ہی اہميت کا حامل ہے, عبرت انگیز مناظر, سبق آموز واقعات و تجربات, ہیجان انگیز داستانوں اور نصیحت آموز نصائح کو قصہ, داستان اور حکایت کی شکل میں سادہ سلیس اور آسان انداز سے بیان کرنا نہایت تاثیر گذار اور اثر بخش ہے۔

اگر کوئی داستان اور کہاني اصلی اور حقیقت بر مبنی ہو اور معنوي و مذہبي مفاہيم کے ساتھ ملي ہوئي ہوتو وہ معارف کے مہم منابع ميں سے شمار ہوگي اور عيني صورت ميں قابل قبول اور مؤثر ہوتی ہے, قرآنی قصے اور کہانياں حقيقي ہيں لہذا اسی لئے احسن القصص (بہترين کہانياں) شمار ہوتی ہیں۔

قرآن میں خداوند متعال نے پیغمبران الہی^ کے قصوں اور اُن کی داستانیں بیان کرنے سے ان ادور کے اجتماعی اوضاع و حالات اور ان کی زندگی کے حالات و واقعات کی نہایت خوبصوت منظر کشی کی ہے۔

{لَقَدْ کَانَ فِي قِصَصِهِمْ عِبْرَةً لِاُولِي الْاَلْبَابِ}[2]

یقیناً ان کے واقعات میں صاحبان عقل کے لئے سامان عبرت ہے۔

انسان اشرف المخلوقات کے عنوان سے مختلف اور متعدد خصوصیات کا مالک ہے۔ اس انسان کي ہدايت اور رہنمائي کے لئے مختلف راہوں سے بہرہ مند اور متعدد طریقوں کو استعمال کرنا چاہئے۔

 کتاب راه هدايت کا مقدمہ جو عالیجناب حجة الاسلام استاد علی انصاری بوير احمدی نے تحریر فرمایا ہے کو ہم یہاں بطور تعارف کتاب پیش کر رہے ہیں ۔

بسم الله الرحمن الرحيم

قال الله تعاليٰ: {فاقصص القصص لعلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ}[1]

(اے رسول|) ان قصوں کو لوگوں کے لئے بیان کریں شاید یہ غور و فکر کریں اور بیدار ہوجائیں۔

انسانوں کي هدايت اور معارف الٰهي کی نشر و اشاعت ميں قصے اور داستان کا مؤثر کردار بہت ہی اہميت کا حامل ہے, عبرت انگیز مناظر, سبق آموز واقعات و تجربات, ہیجان انگیز داستانوں اور نصیحت آموز نصائح کو قصہ, داستان اور حکایت کی شکل میں سادہ سلیس اور آسان انداز سے بیان کرنا نہایت تاثیر گذار اور اثر بخش ہے۔

اگر کوئی داستان اور کہاني اصلی اور حقیقت بر مبنی ہو اور معنوي و مذہبي مفاہيم کے ساتھ ملي ہوئي ہوتو وہ معارف کے مہم منابع ميں سے شمار ہوگي اور عيني صورت ميں قابل قبول اور مؤثر ہوتی ہے, قرآنی قصے اور کہانياں حقيقي ہيں لہذا اسی لئے احسن القصص (بہترين کہانياں) شمار ہوتی ہیں۔

قرآن میں خداوند متعال نے پیغمبران الہی^ کے قصوں اور اُن کی داستانیں بیان کرنے سے ان ادور کے اجتماعی اوضاع و حالات اور ان کی زندگی کے حالات و واقعات کی نہایت خوبصوت منظر کشی کی ہے۔

{لَقَدْ کَانَ فِي قِصَصِهِمْ عِبْرَةً لِاُولِي الْاَلْبَابِ}[2]

یقیناً ان کے واقعات میں صاحبان عقل کے لئے سامان عبرت ہے۔

انسان اشرف المخلوقات کے عنوان سے مختلف اور متعدد خصوصیات کا مالک ہے۔ اس انسان کي ہدايت اور رہنمائي کے لئے مختلف راہوں سے بہرہ مند اور متعدد طریقوں کو استعمال کرنا چاہئے۔ اسلام کي وسعت و رونق, اور اس کے علمي, مستدل اور منطقي نظريات کو, عقايد, فقہ, تفسير, تاريخ, اخلاق, عرفان وغيرہ جیسے ابواب میں احسن انداز, مختلف خوبصورت اور آسان طریقوں کے ذریعے بیان کرنا امکان پذير ہے۔کبھي لوگوں کے عواطف و احساسات کو قصہ و کہاني کي مدد سے ايک نئي حرکت بخشی جا سکتی ہے۔حکایات اور داستانوں کو ہنر مند, جذّاب اور پرکشش انداذ سے بیان کرنے کے ذریعے انسانوں کے عواطف قلبی اور احساسات کی گہرائیوں تک نفوذ کیا جا سکتا ہے اور ان کی اصلاح کے ساتھ ان میں نیا ہیجان اور تحوّل ایجاد کیا جاسکتا ہے۔

حیرت انگیز, وجود میں تغیّر و تبدیلی برپا کر دینے والی, سنسنی خیز اور ہلا کر رکھ دینے والی کہانیوں کا اثر انداز ہونا قطعاً نا قابل انکار ہے۔قابل توجہ نکتہ خود کہانی, داستان اور اس کی قسم کی پہچان ہے۔غیر اخلاقی , معاشرے میں فساد برپا کردینے والی کہانیوں سے اجتناب اور دوری کی جانی چاہئے, اچھی کہانی کی خصوصیات میں سے ہے کہ وہ معاشرے کے مختلف طبقات ان کے احوال و اوضاع اور زندگی کے مہم واقعات اور اس کے نشیب و فراز کو احسن انداز سے بیان کرسکے۔

داستانوں اور قصوں کو تين کلي قسموں, رمان,[3]نمائش[4] اور چھوٹي داستان میں تقسيم کيا جاسکتا ہے۔اس چیز کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور اس کی طرف توجہ کی جانی چاہئے کہ ہر کہاني کے مختلف اجزاء اور حصے اسلام کے اصلی اور حقیقی نمونوں سے ہماہنگ اور مشابہہ ہوں۔

ہر کہانی مندرجہ ذیل زوایا, خصوصیات اورعناصر پر مشتمل ہوتی ہے:

۱۔کہانی کا مرکزی خیال؛[5] کہانی کے مرکزی کردار اور اس میں موجود دیگر شخصیات (جن کو ہستہ[6] داستان کہا جاتا ہے)

۲۔کہانی کا محتوا اور اس کا پیغام؛

۳۔ کہانی کی طرف نظر اور توجہ کی جہت و زاویہ؛[7]

۴۔کہانی میں پیش کیئے جانے والے مہم واقعات و حوداث؛[8]

۵۔اور کہانی کا لہجہ و لحن [9]

آجکل کی کہانیاں مختلف اور متعدد مفاہیم مثلاً آب بیتی, حکایتوں, گذشتہ ادوار اور افراد کے حالات وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہیں جن میں مختلف موضوعات مثلاً اخلاقی, عرفانی, معاشرتی کو۔۔۔۔ بیان کیا جاتا ہے اور بعض جگہوں پر یہ کہانیاں عشقیہ مفاہيم پر مشتمل ہوتی ہيں۔داستانی گوئی میں مطلوب و مقصود يہ ہے کہ اسلام کے عالی اور بلند مفاہيم و مضامين سے استفادہ کياجائے اور کہانی کو سادہ اور روان قلم کے ساتھ عام لوگوں کے فہم کے مطابق پيش کیا جائے۔

کہانی اور داستان گوئی کے ذریعے تاریخ کے پلید, پست اور ظالم افراد کے ظلم و بربریت سے پردہ اٹھایا جاسکتا ہے اور ان کے برے انجام و نتائج کے تذکرہ کے ذریعے دوسرے لوگوں کی عبرت کے اسباب فراہم کئے جاسکتے ہیں۔متقي, پرہيزگار اور نيک افراد کی نصیحت آموز, دلکش, خوبصورت اور جذًاب داستیں اور قصے اذھان و افکار کي اصلاح اور سدھار میں نہایت تاثیر گذار ہیں۔بعض کہانیاں اور قصے اجتماعی اور اخلاقی اعتبار سے اس قدر تاثیر گذار اور مفید ثابت ہوتے ہیں کہ عظیم اور برجستہ شعراء نے ان کی نہایت خوبصورت اور دلنشین انداز سے نظم کی شکل میں نقشہ کشی کی ہے۔[10]

خلاصہ یہ کہ مکتب اسلام کی نشر و اشاعت, ترقی, وسعت اور اس کے حقیقی اور بلند علوم و معارف کو بیان کرنے میں حکایات قصوں اور داستانوں کو خاص حیثیت حاصل ہے۔

کتاب {راہ ہدایت} ایسی ہی متعدد, اہم, دلچسپ, نصیحت آموز اور خوبصورت داستانوں پر مشتمل ایک نفیس کتاب ہے ۔يہ قيمتي اور گرانقدر کتاب عالم جليل, فاضل کامل, محقق توانا, اور برجستہ فقيہ جناب حجۃ الاسلام و المسلمين استاد مرحوم محبوب ابراہیم زادہ سرابی کي محنتوں اور زحمتوں کا نتيجہ ہے, وہ عالم باعمل جنہوں نے کئی سال کي محنت و مشقت, اور لگاتار کوشش کے بعد اپنے نفیس قلم کي تراوش سے يہ قيمتي و گرانقدر اثر يادگار کے طور پر چھوڑا ہے۔

جزاه الله عن الاسلام اجراً, شكرا لله مساعيهم الجميلة.

يہ خوبصورت کتاب مجمع جھاني شيعہ شناسي کے ذريعے تحقيق و تصيح کے مراحل سے گذر کر آپکے سامنے موجود ہے۔ اس اميد کے ساتھ کہ امت مسلمہ خصوصاً علوم اسلامي کے مبلّغين کے لئے کاملاً قابل استفادہ قرار پائے؛ انشاء اللہ.

والسلام عليکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سر پرست اعلیٰ مجمع جھاني شيعہ شناسي

انصاري بوير احمدي

حوالہ جات

[1]سورہ اعراف, آيہ١٧٦.

[2]-یوسف, آیت ۱۱۱۔

[3]۔رمان اس لمبي کہاني کو کہا جاتا ہے کہ جو مختلف جھات اور متعدد واقعات و حوادث پر مشتمل ہو اس قسم کي داستان عشقیہ, تاريخي, ديہاتي, اجتماعي, تعليمي, پولیسی, علمي, تخیّلاتی و خيالي داستانوں میں تقسیم ہوتی ہے

[4]کہانی کی نمائش ميں, کہاني کے مختلف زاویوں, واقعات اور جھات کي تصوير کشي اور منظر سازي کی جاتی ہے۔

[5]کہانی کا مرکزی خیال اصلی کرداروں, رفتار, روش, انداز فکر اور کہانی میں موجود و آپس میں ملے ہوئے واقعات و حوادث اور ان کے نتیجے پر مبنی ہوتا ہے۔البتہ ضروری ہے کہ ایک وسیع اورفراگیر مذھبی اقدام کے تحت معاشرے مین مرسوم اور رائج بعض غیر حقیقی رمانوی داستانوں کی جگہ اصلی و حقیقی مذھبی داستانوں کو جاگیزین کیا جائے۔

[6] ہستہ داستان کہانی میں موجود کرداروں کی اصل ترتیب ان کے نظم ان کے کہانی میں داخل و خارج ہونے کی کیفیت اور ان کی جسمانی حرکات پر مشتمل ہوتا ہے۔

[7]یعنی کہانی کس طریقے سے بیان کی گئی ہے۔ کہانی بیان کرنے والا چاہے اس کا مرکزی کردار ہو یا کہانی کے دیگر غیر مرکزی کردار ہوں, کہانی بیان کرنے والا چاہے اصلی ہو یا خیالی و افسانوی, کہانی کاموضوع اسے مکمل بیان کررہا ہو اور اس کی تفسیر کررہا ہو ۔یا مخاطبین پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں بہر حال کہانی کا نتیجہ اس کو دیکھنے اور اس کی طرف توجہ پر موقوف ہے۔

[8]جو کہانی کے اصلی و فرعی ہر قسم کے واقعات کو شامل ہیں۔

[9]داستان کا لہجہ اور لحن ممکن ہے مودبانہ, سنجیدہ, یا طنزیہ ۔۔۔ہو۔

[10] ۔اس کی واضح ترین مثال حضرت یوسف× اور زلیخا کا قصہ ہے جو کہ ایک قرآنی قصہ ہے۔ یہ قرآنی قصہ اس قدر ظریف, دلچسپ اور دل پسند نکات اپنے دامن مین سموئے ہوئے ہے کہ متعدد شعرا مثلاً خواجہ مسعود قمی, پیر جمال اردستانی, خاورٰ شیرازی, شھلہ گلپائیگائی, شمس عراقی۔۔۔۔ نے اسے نظم کی شکل میں نہایت دلنشین اور خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے۔


source : http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&file=article&sid=906&mode=thread&order=0&thold=0
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

شہادت امام حسن عسکری علیہ السلام
کربلا
دعا کي درخواست کا تبديل ہوجانا
بندہ سے متعلق خداوند عالم کی حمیت
سوم یار نبی(ص) حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
حضرت علی علیه السلام کی خلافت حدیث کی روشنی میں
فضائلِ صلوات
جناب سکینہ (س) کی زندان شام میں شہادت تاقیامت یزیدیت کے ...
ظلم بالائے ظلم جرم بالائے جرم

 
user comment