اردو
Friday 25th of September 2020
  1542
  0
  0

اسلامی مقدسات پرصیہونی قبضہ

شہر الخلیل میں حضرت ابراھیم علیہ و علی نبینا و آلہ الصلواۃو السلام کے حرم مقدس کو یہودیوں کے کنیسے میں تبدیل کرنے کی صہیونی ریاست کی نئی سازش سے فلسطینیوں اور عالم اسلام کے اندر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اس سلسلے میں بیت المقدس کے مفتی شیخ محمدحسین نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ غاصب صہیونی ریاست حضرت ابراھیم علیہ السلام کے حرم مقدس میں تبدیلی لانے کے بہانے اس مقدس مقام کو یہودیوں کے کنیسے میں تبدیل کرنے کاارادہ رکھتی ہے۔ بیت المقدس کے مفتی نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ صہیونی ریاست حضرت ابراھیم علیہ السلام کے حرم مقدس میں فلسطینیوں کے داخل ہونے پر مکمل طور پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے تا کہ اس مقدس مقام سے اذان کے سلسلہ کو ختم کیا جا سکے۔ 

صہیونی ریاست اس طرح کے اقدامات کے ذریعہ اس مقدس مقام کو یہودیوں کے کنیسے میں تبدیل کرنے کے مقدمات فراہم کررہی ہے فلسطین کے قاضی القضاۃ تیسیر التمیمی نے بھی حضرت ابراھیم علیہ السلام کے حرم مقدس پر صہیونیوں کے تسلط اور فلسطینی نمازیوں کے داخلے پر پابندی لگائے جانے کے سلسلے میں خبردار کیا ہے صہیونی ریاست حضرت ابراھیم علیہ السلام کے حرم مقدس کے صحن کے اوپر چھت ڈال کر اسے یہودیوں کے کنیسے میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ 

صہیونی ریاست کے فلسطینی سرزمینوں پرغاصبانہ قبضے کے بعد سے یہ سازش رہی ہے کہ فلسطین خاص طور پر اس سرزمین کے مقدس مقامات کے اسلامی تشخص کو مٹا کر صہیونی رنگ میں تبدیل کردیا جائے۔ منظر عام پر آنے والے اعداد و شمار کے مطابق صہیونی ریاست کے وجود میں آنے کے بعد سے اب تک بارہ سو مساجد صہیونیوں کے حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں جن میں سے اکثر مساجد شہید ہوئی ہیں اور بعض مساجد کو کافی نقصان پہنچا ہے اور مساجد صہیونیوں کے کنیسوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ ایسے حالات میں مسجد الاقصی اور حضرت ابراھیم علیہ السلام کےحرم مقدس جیسے دیگر مقدس مقامات بھی ہمیشہ صہیونی ریاست کی تباہ کن سازشوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

مقبوضہ فلسطین کے دارالحکومت یروشلم کے مشرقی حصے میں مسلمانوں کا قبلہ اول ہے- سینکڑوں برس قدیم یہ عمارت معروف معنوں میں بیت المقدس بھی کہلاتی ہے- وہ عظیم، بے مثال اور مقدس مقام ہے جہاں سے اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معراج شریف کے سفر پر روانہ ہوئے تھے، جہاں سینکڑوں پیغمبر، صحابہ کرام اور اولیاء اللہ خالق کائنات کے حضور سجدہ ریز ہو چکے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جس کی طرف منہ کر کے اولین مسلمانوں نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت میں تیرا ماہ کچھ دن نماز ادا کرتے رہے- اسرائیلی یہودی گزشتہ سات عشروں کے دوران متعدد بار مسلمانوں کے قبلہ اول کے خلاف گھناؤنے اقدامات اور مکروہ سازشیں کرچکے ہیں- کبھی اسے خفیہ طور پر نذر آتش کرنے کی مذموم جسارت کی گئی اور کبھی یہودی ربئیوں نے اس مقدس مقام کو خفیہ سرنگوں کے ذریعے ڈائنامائیٹ کرنے کی گندی حرکتیں کیں- دنیا بھر کے مسلمان، عرب لیگ اور آئی سی او ہر بار ان یہودی ہتھکنڈوں کی مذمت کرتے ہیں لیکن یہ چند برسوں کے بعد دوبارہ ان سازشوں میں لگ جاتے ہیں ان ہتھکنڈوں کو اپنا ‘‘ مذہبی فریضہ‘‘ قرار دیتے ہیں- اب ایک بار پھر قبلہ اول کے خلاف صہیونی یہودیوں نے ایک غلیظ اور دل آزار اقدام کیا ہے-

قومی اخبارات کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی صہیونی حکومت نے مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصی کے احاطے میں کنیسا (یہودی عبادت گاہ) کی تعمیر شروع کردی ہے اوریوکرائن کے تعاون سے یہودی معبد کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے انتہاء پسند یہودی ذرائع کے مطابق مسجد اقصی کے احاطے میں یہودی معبد کی تعمیر دراصل ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا آغاز ہے- مسجد اقصی مسلمانوں کا تیسرا متبرک ترین مقام ہے- صہیونی درندے اس پر عرصہ دراز سے نہ صرف قابض ہیں بلکہ وقتاً فوقتاً اس کی بے حرمتی بھی کرتے رہتے ہیں- صہیونیوں کے مذموم عزائم میں مسجد اقصی کے مقام پر ہیکل سلیمانی کی تعمیر شامل ہے- مسجد اقصی کے احاطے میں معبد کی تعمیر اس سلسلہ سازش کی ایک کڑی ہوسکتی ہے- مسجد اقصی کی بے حرمتی کے نتیجے میں ہی اسلامی کانفرنس تنظیم وجود میں آئی تھی لیکن یہ تنظیم عالم اسلام کے حکمرانوں کی بے توجہی اور بے حسی کے سبب بےکار تنظیم ثابت ہوگئی ہے- اس نے مسلمانوں کے قبلہ اول کی بازیابی تو درکنار اس کے تحفظ کے لیے بھی آج تک کچھ نہیں کیا- یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حکمرانوں اور صہیونیوں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں اور وہ اپنے عقیدے کے مطابق ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے مختلف سازشیں کرتے رہتے ہیں اور بتدریج اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہے ہیں جبکہ 57 مسلم آزاد ریاستوں کے حکمرانوں کی حمیت نہیں جاگ رہی- ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دباو میں انہوں نے اسلامی کانفرنس تنظیم تو بنالی تھی لیکن آج تک ان حکمرانوں نے نہ تو عالم اسلام کو درپیش مسائل ہی اس تنظیم کے ذریعے حل کیے ہیں، نہ ان میں آپس کا کوئی ایسا اتحاد و یکجہتی دیکھنے میں آئی ہے جیسا اتحاد مغربی ملکوں نے بنارکھا ہے اور نہ ہی ان 57 مسلم ملکوں کے حکمرانوں نے مسجد اقصی کے تحفظ کے لیے کوئی اقدام کیا ہے جبکہ تنظیم کا وجود ہی مسجد اقصی کے مسئلے کے حل کا سبب بنا تھا- اس کے برعکس اسرائیل کی پوری تاریخ فلسطین و قبلہ اول کے خلاف سازشوں کی تاریخ رہی ہے اور اسرائیل کے بین الاقوامی سرپرست اسے مزید گھناونی اور سنگین سازشوں کے مواقع فراہم کررہےہیں- 

موجودہ حالات میں جبکہ اسرائیل فلسطینیوں کو تقسیم کرچکا ہے، غزہ پر بڑے حملے کرچکاہے، شام کے اندر گھس کر کارروائی کرچکا ہے، اندیشہ بے جانہیں ہوگا کہ وہ مسجد اقصی کے حوالے سے کوئی بڑا بحران پیدا نہ کرے.

اسرائیل کا سرپرست امریکہ پہلے ہی عراق کے حصے بخرے کرنے کا اعلان کر چکا ہے، فلسطین، لبنان، شام اور ایران سمیت پورے خطے میں استعماری طاقتوں نے آگ لگانے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جبکہ مسلم ممالک آج بھی منتشر ہیں بلکہ بڑی حد تک استعمار کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں- یہ صورتحال اسرائیل کو قبلہ اول کے خلاف کسی بھی مذموم منصوبے پر عملدرآمد کے لیے اکسا سکتی ہے، جس کا ادراک مسلم عوام کو تو ہے لیکن حکمرانوں پر بے حسی کا عالم ہے- قبلہ اول کی اس پکار پر مسلم حکمرانوں کی حمیت شاید ہی جاگے البتہ مسلم عوام اس صورت حال کو برداشت نہیں کریں گے اور صہیونی قوت کو وہی بھرپور جواب دے سکتے ہیں دوسری جانب القدس کے علاقے کو یہودی آبادی کا اکثریتی علاقہ بنانے کے لیے دنیا بھر کی یہودی تنظیمیں یہودی خاندانوں کو اس علاقے میں اراضی کی خریداری کے لیے فنڈز فراہم کررہی ہیں اور صہیونی حکومت بھی یہودی خاندانوں کو مراعات فراہم کررہی ہے، فلسطینی راہنمائوں کو چاہیے کہ وہ علاقے میں آباد فلسطینی باشندوں کو روکیں کہ وہ یہودیوں کو اراضی فروخت نہ کریں مجبور اور گھرے ہوئے فلسطینیوں کی مدد کی جانی چاہیے اور اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں جاری اس عمل کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج بھی کیا جانا چاہیے- اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس سے مسلمان فلسطینیوں کے انخلاء کے اس عمل کو روکنے کے اقدامات کریں

سنہ 1969 میں انتہاپسند صہیونی مایکل روبن کے ہاتھوں مسجد الاقصی کا نذر آتش کیا جانا اور سنہ 1994 میں حرم مقدس حضرت ابراھیم علیہ السلام میں روزہ دار نمازیوں کا قتل عام صہیونی ریاست کے مظالم کی مثالیں ہیں۔ ایسے حالات میں مسجد الاقصی اور حرم مقدس حضرت ابراھیم علیہ السلام کو خراب کرنے کے صہیونی ریاست کے خطرناک منصوبے اور اقدامات روز بروز بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں صہیونی ریاست حضرت ابراھیم علیہ السلام کے حرم مقدس کو تقسیم کرکے عملی طور پر یہودیوں کو اس مقدس مکان میں داخل ہونے کی اجازت دے چکی ہے اس طرح صہیونی ریاست اس مقدس مقام کی روزانہ توہین اوربے حرمتی کررہی ہے اور اب قابض صہیونی اس مقدس مقام میں فلسطینی نمازیوں کے داخل ہونے پر بھی پابندی لگانے کے درپے ہیں۔ 

ایسے حالات میں عالمی برادری اور عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ صہیونی ریاست کوبیت المقدس اور الخلیل میں مقدس مقامات کے خلاف توہین آمیز اقدامات سے روکنے کے لئے فوری طور پر اقدام کریں تا کہ صہیونی ریاست اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ نہ پہنا سکے

 


source : http://www.taghrib.ir/urdu/index.php?option=com_content&view=article&id=194:1389-03-06-14-14-29&catid=44:1388-06-09-06-53-25&Itemid=71
  1542
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

امام رضا علیہ السلام کے فضائل کے چند گوشے
بنت علی حضرت زینب سلام اللہ علیہا ، ایک مثالی کردار
روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ
اسلامي معاشرہ اور خاتون
اتحاد کے اچھے اور تفرقہ کے برے آثار
غدیر اور اخوت اسلامی
قرآن کی فصاحت و بلاغت
استاد شہید مطہری
عید کے دن شکر کریں احتجاج نہیں
حضرت فاطمہ زھرا (س) کا اخلاقی وجود تاریخ کی روشنی میں

 
user comment