اردو
Friday 25th of September 2020
  12
  0
  0

معراج انسانیت بقیہ معصُومین(ع) کی سِیرت

خمسھٴ نجباء یعنی پنجتن(ع) پاک کے کردار میں انسانی رفعت کا نمونہ سامنے آ چکا مگر اسلام صرف پچاس ساٹھ برس کے لئے نہ تھا وہ تو قیامت تک کے لئے تھا اور قیامت تک کتنے زندگی کے دوراھے آنے والے ھیں جن کی مثال اس مختصر مدت کے اندر درپیش نھیں ھوئے تھے۔ اس لئے چودہ معصومین(ع) کی ضرورت ھوئی اور انھیں اتنے عرصہ تک آنکھوں کے سامنے رکھا گیا جتنے عرصہ میں انقلابات کا وہ ایک پورا دور پورا ھو جائے جس کے بعد تاریخ پھر اپنے آ پ کو دھراتی ھے اور جس میں ھر پھر کر وھی صورتیں پیدا ھوتی ھیں جو ذرا بدلی ھوئی شکل میں اصل حقیقت کے لحاظ سے پھلے کی قائم شدہ نظیروں میں سے کسی ایک کے مطابق ھیں اس طرح زندگی کے ھر دوراھے پر ان معصومین(ع) میں سے کسی نہ کسی ایک کی مثال رھنمائی کے لئے موجود ھوگی اور یوں سمجھنا چاھئے کہ ان تمام معصومین(ع) کے کردار سے مل جل کر جس ایک مزاج کی تشکیل ھو گی وہ انسانی کردار کا ھمہ گیر مکمل دستور العمل ھو گا۔ 

امام حسین(ع)

جس طرح حضرت امام حسن(ع) کی ولادت کے متعلق دو قول ھیں ۲ اور ۳ہ اسی اعتبار سے امام حسین(ع) کی ولادت کے متعلق دو قول ھیں ۳ اور ۴ہ اگر ان کی ولادت ۲ہ میں ھوئی ھے تو ان کی ۳ میں ھے اور اگر ان کی ولادت ۳ میں ھے تو ان کی ۴ہ میں ولادت ھوئی ھے۔ اس طرح وفات رسول کے وقت ان کو چھٹا یا ساتواں برس تھا۔ 

اس دور اور اس کے بعد جناب امیر(ع) کے دور میں جو کچھ حسن مجتبیٰ (ع) کے بارے میں کھا جا چکا وہ حسین(ع) کی سیرت کے ساتھ بالکل متحد ھے اس لئے کہ ایک سال کے فرق سے کوئی فرق احساسات، تاثرات اور ان کے مقتضیات میں نھیں ھوتا۔ جن واقعات سے جتنا وہ متاثر ھو سکتے تھے اتنا ھی یہ اثر لے سکتے تھے۔ وفات رسول کے بعد سے ۲۵ برس کا دور جو امیرالموٴمنین نے گوشہ نشینی میں گزارا وہ جس طرح ان کے لئے ایک دور ابتلاء تھا ان کے لئے بھی تھا۔ جو جو مناظر ان کے سامنے آ رھے تھے وہ ان کے سامنے بھی بلکہ امام حسن(ع) کو تو دنیا نے صرف بحیثیت صلح پسند اور حلیم کے پھچانا ھے۔ اس لئے وہ اس دور میں ان کے امتحان کی عظمت کو بآسانی شاید محسوس نہ کرے مگر حسین(ع) کو تو دنیا نے روز عاشور کی روشنی میں دیکھا ھے اور بڑا صاحب غیرت و حمیت، خوددار، گرم مزاج اور اقدام پسند محسوس کیا ھے۔ اس روشنی میں ۲۵ برس کے دور خاموشی پر نظر ڈالئے۔ ظاھر ھے کہ ان کے شباب کی منزلیں وھی تھیں جو حضرت امام حسین(ع) کی تھیں۔ ۲۵ سال کی مدت کے اختتام پر وہ ۳۳ برس کے تھے تو یہ بتیس برس کے گویا۔ عمر کے لحاظ سے حسین(ع) اس وقت عباس(ع) تھے کربلا میں جو ابوالفضل العباس کے شباب کی منزل تھی وہ ۲۵ سال کی گوشہ نشینی کے اختتام پر حسین(ع) کے شباب کی منزل تھی۔ اس عمر تک وہ تمام واقعات سامنے آتے ھیں جو اس دور میں پیش آتے رھے۔ اور امام حسین خاموش رھے۔ مصائب و حوادث کے وہ تمام جھونکے آئے اور ان کے سکوت کے سمندر میں تموج پیدا نہ کر سکے۔ 

ان کے ۲۵ برس حضرت علی(ع) کی خاموشی کے ھمدم، وہ حضرت رسول پر مظالم دیکہ رھے تھے جو ان کے مجازی حیثیت سے باپ کی حیثیت رکھتے تھے اور یہ حضرت علی(ع) پر مظالم دیکہ رھے تھے جو ان کے حقیقی حیثیت سے باپ تھے جس طرح وھاں کوئی تاریخ نھیں بتاتی کہ کسی ایک دفعہ بھی علی(ع) کو جوش آ گیا ھو اور رسول کو علی(ع) کے روکنے کی ضرورت پڑی ھو۔ اسی طرح کوئی روایت نھیں بتاتی کہ اس ۲۵ برس کی طویل مدت میں کبھی حسین(ع) کو جوش آ گیا ھو اور حضرت علی(ع) نے بیٹے کو روکنے کی ضرورت محسوس فرمائی ھو یا سمجھانے کی کہ یہ نہ کرو۔ اس سے ھمارے مقصد یا اصول کو نقصان پھنچے گا۔ 

اس کے بعد وہ وقت آیا کہ جب حضرت علی(ع) نے میدان جھاد میں قدم رکھا۔ تو اب جھاں حسن(ع) تھے وھیں حسین(ع) بھی تھے۔ وہ باپ کے داھنی طرف تو یہ بائیں طرف۔ ھر معرکہ میں عملی حیثیت سے شریک ھیں۔ اس کے بعد جب صلح نامہ لکھا گیا تو جھاں بڑے بھائی کے دستخط وھیں چھوٹے بھائی کے دستخط۔ جناب امیر کی شھادت کے بعد اسی طرح یہ حضرت امام حسن(ع) کے ساتھ ھیں جھاد میں بھی اور صلح میں بھی۔ ابو حنیفہ دنیوری نے الاخبار الطوال میں لکھا ھے کہ صلح کے بعد دو شخص امام حسن(ع) کے پاس آئے۔ یہ جذباتی قسم کے دوست تھے صحیح معرفت نہ رکھتے تھے انھوں نے سلام کیا: 

اسلام علیک یامذلَ الموٴمنین 

”اے مومنوں کو ذلیل کرنے والے آپ کو سلام ھو۔“ 

یہ بخیالِ خود مومنین ھیں جن کا یہ اخلاق ھے اور یہ ان کا بلند اخلاق ھے کہ ایسے الفاظ کے ساتھ جو سلام ھو اس کا بھی جواب دینا لازم سمجھتے ھیں۔ اور ملائمت کے ساتھ فرماتے ھیں۔ 

لست مذلّھم بل معذّھم میں نے مومنین کو ذلیل نھیں کیا بلکہ ان کی عزت رکھلی، اس کے بعد مختصر طور پر انھیں صلح کے مصالح سمجھائے جس پر وہ خاموشی سے واپس ھو گئے اور اب وہ اٹھ کر امام حسین(ع) کے پاس آئے اور خود ھی یہ واقعہ پیش کیا کہ ھم سے امام حسن(ع) سے یہ گفتگو ھوئی ھے۔ آپ نے امام حسن(ع) کا جواب سننے کے بعد فرمایا: صدق ابو محمّد یعنی حضرت امام حسن(ع) نے بالکل سچ فرمایا۔ صورت حال یھی تھی اور اس کا تقاضا اسی طرح تھا۔ 

بعض سورما قسم کے آدمی آئے اور انھوں نے کھا: آپ حسن مجتبیٰ (ع) کو چھوڑیئے، وہ صلح کے اصول پر برقرار رھیں مگر آپ اٹھئے ھم آپ کے ساتھ ھیں اچانک حکومت شام پر ھلہ بول دیں۔ امام حسین(ع) نے فرمایا: غلط بالکل غلط۔ ھم نے ایک معاھدہ کر لیا ھے اور اب ھم پر اس کا احترام لازم ھے۔ ھاں اسی وقت حضرت نے یہ کھہ دیا کہ تم میں سے ھر ایک کو اس وقت تک بالکل چپ چاپ بیٹھا رھنا چاھئے جب تک یہ شخص یعنی معاویہ زندہ ھے۔ یہ آپ کا تدبر تھا۔ آپ جانتے تھے کہ معاویہ کی طرف سے آخر میں اور شرائط کے ساتھ اس شرط کی خلاف ورزی ھو گی کہ انھیں اپنے بعد کسی کو نامزد نہ کرنا چاھئے۔ اس وقت ھمیں اٹھنے کا موقع ھو گا۔ 

اب کون کھہ سکتا ھے کہ حسن(ع) کی صلح کے بعد حسین(ع) کی جنگ کسی پالیسی کی تبدیلی، ندامت و پشیمانی یا اختلاف رائے و مسلک کا نتیجہ تھی؟ ۲۰ سال پھلے کھا جا رھا ھے کہ ھمیں اس وقت تک خاموش رھنا چاھئے جب تک معاویہ زندہ ھے اس سے ظاھر ھے کہ ۲۰ برس کی طویل راہ کے تمام سنگ میل نظر کے سامنے ھیں اور پورا لائحہ عمل پھلے سے بنا ھوا ھے مرتب ھے اس کے معنی یہ ھیں کہ یہ طویل سکوت بھی اسی معاھدہ کے تحت ضروری ھے اور اس وقت کے اقدام کا بھی اسی معاھدہ کے ماتحت حق ھو گا۔ کیا اس کے بعد بھی اس میں کوئی شک ھے کہ حسن مجتبیٰ (ع) کی صلح حسین(ع) بن علی(ع) جنگ کی ایک تمھید ھی تھی۔ اور کچھ نھیں۔ 

۴۱ہ میں یہ صلح ھوئی اور ۶۰ہ میں معاویہ نے انتقال کیا اس بیس سال کی طولانی مدت میں کیا کیا ناسازگار حالات پیش آئے اور عمال حکومت نے کیا کیا تکلیفیں پھنچائیں مگر ان تمام حالات کے باوجود جس طرح رسول کے ساتھ علی(ع) مکہ کی تیرہ برس کی زندگی میں جس طرح حضرت علی(ع) کے ساتھ حسن مجتبیٰ (ع) اور خود حسین(ع) ۲۵ برس کی گوشہ نشینی کے دور میں، اسی طرح حضرت امام حسن(ع) کے ساتھ امام حسین(ع) دس برس کے ان کے دور حیات میں جو صلح کے بعد تھا حالانکہ اس زمانہ کے حالات کو وہ کن عمیق قلبی تاثرات کے ساتھ دیکھتے تھے ان کا اندازہ خود ان کے اس فقرے سے ھوتا ھے جو انھوں نے حضرت امام حسن(ع) کے جنارے پر مروان سے کھا تھا۔ جب مروان نے وفات حسن(ع) پر اظھار افسوس کیا تو امام حسین(ع) نے فرمایا کہ اب رنج و افسوس کر رھے ھو اور زندگی میں ان کو غم و غصہ کے گھونٹ تم پلاتے تھے جو کہ یاد ھیں مروان نے جواب دیا بے شک! وہ ایسے کے ساتھ تھا جو اس پھاڑ سے زیادہ متحمل اور پرسکون تھا۔ 

یہ تعریف اس وقت مروان امام حسن(ع) کی کر رھا تھا جو دنیا سے اٹھ چکے تھے مگر کیا اس تعریف میں خود حسین(ع) بھی حصہ نہ رکھتے تھے؟ کیا اس طویل مدت میں انھوں نے کوئی جنبش کی جو حسن مجتبیٰ کے سکون کے مسلک کے خلاف ھوتی؟ پھر امام حسن(ع) کے جنازے کے ساتھ جو ناگوار صورت پیش آئی وہ روضھٴ رسول پر دفن سے روکا جانا۔ وہ تیروں کا برسایا جانا۔ یھاں تک کچھ تیروں کا جسدِ امام حسن(ع) تک پھنچنا۔ یہ صبرآزما حالات اور ان سب کو امام حسین(ع) کا برداشت کرنا۔ 

کوئی شاید کھے کہ حسین(ع) کیا کرتے؟ بے بس تھے مگر کیا کربلا میں حسین(ع) کو دیکھنے کے بعد وہ یہ کھنے کا حق رکھتا ھے؟ کربلا میں تو سامنے کم از کم ۳۰ ھزار تھے اور جنازہ حسن(ع) پر سدراہ ھونے والی جماعت زیادہ سے زیادہ کئی سو ھو گی۔ حسین(ع) کے ساتھ عباس(ع) بھی موجود ھیں جو اس وقت ۲۲ برس کے مکمل جوان تھے جناب محمد حنیفہ بھی موجود تھے جن کی شجاعت کا تجربہ دنیا کو حضرت علی بن ابی طالب(ع) کے ساتھ جمل اور صفین میں ھو چکا تھا۔ مسلم بن عقیل بھی موجود تھے جنھیں بعد میں پورے کوفہ کے مقابلہ میں تن تنھا حسین(ع) نے بھیج دیا اور انھوں نے اکیلے وہ بے نظیر شجاعت دکھائی جو تاریخ میں یادگار ھے۔ 

علی(ع) اکبر بھی بنا برقول قوی اس وقت ۱۵ برس کے تھے جو کربلا کے قاسم سے زیادہ عمر رکھتے تھے اور تمام بنی ھاشم موجود تھے۔ پھر کچھ تو آلِ رسول کے وفادار غلام تھے اور دوسرے اعوان و انصار بھی موجود ھی تھے اس صورت حال میں حضرت امام حسین(ع) کے عمل کو بے بسی کا نتیجہ سمجھنا کھاں درست ھو سکتا ھے۔ 

مگر حسین(ع) خاموش رھتے ھیں اور ان سب کو خاموشی پر مجبور رکھتے ھیں امام حسن(ع) کا جنازہ واپس لے جاتے ھیں جنة البقیع میں دفن کر دیتے ھیں اور اس کے بعد دس برس حسنی صلح کے مسلک پر خاموشی کے ساتھ گزار دیتے ھیں اور اس طرح یہ ثابت ھو جاتا ھے کہ وہ بڑے بھائی کا دباؤ یا مروت اور احترم کا تقاضا نہ تھا بلکہ مفاد اسلامی کا لحاظ تھا جس کے وہ بھی محافظ تھے اور اب یہ اس کے محافظ ھیں۔ 

اور ادھر حکومت شام کی طرف سے اس تمام مدت میں ھر ھر شرط کی خلاف ورزی ھو رھی تھی۔ چن چن کے دوستانِ علی(ع) کو قتل کیا جا رھا تھا اور جلاوطن کیا جا رھا تھا۔ کیسے کیسے افراد؟ حجر بن عدی اور ان کے ۱۶ ساتھی۔ یہ دمشق کے باھر مرج عذراء میں سولی چڑھا دیئے جاتے ھیں۔ 

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ھیں کہ یہ حجر بن عدی فضلائے صحابہ میں سے تھے۔ مسائل فقھیہ میں ان کے فتاوےٰ جمع کئے جائیں تو ایک جزو کا رسالہ ھو جائے۔ مگر علی(ع) کے دوست تھے اس لئے ان کی صحابیت بھی کام نہ آ سکی۔ کوفہ سے قید کرکے دمشق بلوائے گئے۔ حاکم شام نے اپنے دربار میں بلا کر ان سے پوچہ گچہ یا صفائی پیش کرنے کا موقع بھی دینا پسند نہ کیا۔ حکم ھو گیا کہ بیرون شھر ھی روک دیئے جائیں اور وھیں سولی دے دی جائے۔ ان کی شھادت کی خبر اتنی دردناک تھی کہ عبداللہ بن عمر نے اس کا ذکر سنا تو چیخیں مار کر رونے لگے۔ ام المومنین عائشہ کو اطلاع ھوئی تو انھوں نے کھا۔ آخر معاویہ خدا کو کیا جواب دے گا، کہ ایسے ایسے نیکوکار مسلمانوں کا خون کر رھا ھے۔ 

عمرو بن الحمق الخزاعی وہ بزرگوار تھے جنھیں پیغمبر خدا نے غائبانہ طور پر اپنے سلام سے سرفراز کیا تھا ان کا سر کاٹ کر نوک نیزہ پر بلند کیا گیا۔ یہ سب سے پھلا سر تھا جو اسلا م میں نیزہ پر بلند ھوا۔ 

ان حوادث سے عبداللہ بن عمر اور عائشہ بنت ابی بکر ایسے لوگ اس قدر متاثر تھے تو حسین(ع) بن علی(ع) جن کے والد بزرگوار کی محبت کی پاداش ھی میں یہ سب کچھ ھو رھا تھا جتنا بھی متاثر ھوتے کم تھا۔ 

پھر حضرت امام حسن(ع) کے دس سال تک سکوت اور عدم تعرض کی جو قیمت ان کو ملی یعنی زھر قاتل اور کلیجے کے بھتر ٹکڑے اور پھر ان کی وفات پر دمشق کے قصر سے اظھار مسرت میں اللہ اکبر کی بلند آواز…ان سب باتوں کے بعد حضرت امام حسین(ع) کی خاموشی۔ کیا کسی میں ھمت ھے جو اس وقت کے حسین(ع) پر جنگجوئی کا الزام عائد کر سکے؟ 

اب اس کے بعد وہ ھنگام آیا جسے امام حسین(ع) کی آنکھیں بیس برس پھلے دیکہ رھی تھیں یعنی حاکم شام نے اپنے بیٹے یزید کی خلافت کی داغ بیل ڈال دی اور اس کے لئے عالم اسلام کا دورہ کیا۔ 

اب امام حسین(ع) کے لئے وہ شاھراہ سامنے آ گئی جو انکارِ بیعت سے شروع ھوئی اور آخر تک انکارِ بیعت ھی کی شکل میں قائم رھی۔ 

پھر اس انکارِ بیعت کو کیا کوئی وقتی، جذباتی فیصلہ یا ھنگامی جوش کا نتیجہ سمجھا جا سکتا ھے؟ 

یاد رکھنا چاھئے کہ انکارِ بیعت تو ابھی قانونی جرم قرار بھی نہ پایا تھا۔ خلافت ثلٰثہ میں بھت سوں نے بیعت نھیں کی۔ حضرت علی(ع) کے دور میں عبداللہ بن عمر نے بیعت نھیں کی اسامہ بن زیدۻ نے بیعت نھیں کی سعد بن ابی وقاص نے بیعت نھیں کی۔ حسان بن ثابت نے بیعت نھیں کی۔ مگر ان بیعت نہ کرنے والوں کو واجب القتل نھیں سمجھا گیا۔ 

امام حسین(ع) نے بیعت نہ کرکے اپنے کو حمایتِ باطل سے الگ کیا بس۔ اس کے علاوہ کوئی اقدام نھیں کیا۔ مگر معاویہ کے بعد جب یزید برسراقتدار آیا تو اس نے پھلا ھی حکم اپنے گورنر ولید کو یہ بھیجا کہ حسین(ع) سے بیعت لو اور بیعت نہ کریں تو ان کا سر قلم کرکے بھیج دو۔ یہ تشدد کا آغاز کدھر سے ھو رھا ھے؟ حاکم مدینہ کو اس حکم کی تعمیل کی ھمت نہ ھوئی تو اسے معزول کیاگیا۔ امام حسین(ع) کو اگر تشدد سے کام لینا ھوتا تو آپ ھلاکت معاویہ کی خبر ملتے ھی مدینہ کے تخت و تاج پر قبضہ کر لیتے جو اس وقت ان کے لئے کچھ مشکل نہ تھا۔ اس کے بعد کم از کم عالم اسلام تقسیم تو ھو ھی جاتا مگر آپ ایسا نھیں کرتے بلکہ جا کر مکہ میں پناہ لینے کے معنی یہ ھیں کہ ھمیں کسی کی جان لینا نھیں ھے اپنی جان بچانا منظور ھے۔ 

بظاھر اسباب اگر یھاں قیام کا ارادہ مستقل نہ ھوتا تو احرام حج کیوں باندھتے؟ احرام باندھنا خود نیت حج کی دلیل ھے اور نیت کے بعد بلاوجہ حج توڑنا جائز نھیں۔ حضرت امام حسین(ع) سے بڑھ کر مسائل شریعت سے کون واقف ھو گا اور یہ ان کا مخالف بھی خیال نھیں کر سکتا کہ وہ جان بوجہ کر حکم شریعت کی معاذ اللہ مخالفت کریں گے اور وہ بھی کب؟ جب کہ حج کو صرف ایک دن باقی ھے۔ 

وہ جن کاذوق حج یہ تھا کہ مدینہ سے آ آ کر ۲۵ حج پا پیادہ کر چکے ھیں اب مکہ میں موجود ھوتے ھوئے حج کو عمرہ سے تبدیل فرما دیتے اور مکہ سے روانہ ھو جاتے ھیں۔ اس طرز عمل سے خود ظاھر ھے کہ اس کا سبب غیرمعمولی اور ھنگامی ھے۔ چنانچہ ھر ایک پوچہ رھا تھا اور بڑی وحشت اور پریشانی کے ساتھ! آپ اس وقت مکہ چھوڑ رھے ھیں؟“ 

یہ ھر سوال امام(ع) کے دل پر ایک نشتر تھا۔ ھر ایک سے کھاں تک بتلاتے۔ کسی کسی سے کھہ دیا کہ نہ نکلتا تو وھیں قتل کر دیا جاتا اور میری وجہ سے حرمت خانہ کعبہ ضائع ھو جاتی۔ 

مکہ میں آنا بھی خطرہ کو حتی الامکان ٹالنا تھا اور اب مکہ سے جانا بھی یھی ھے اب آپ کوفہ تشریف لئے جا رھے ھیں۔ جھاں کے لوگوں نے آپ کو اپنی ھدایت دینی اور اصلاحِ اخلاقی کے لئے دعوت دی ھے مگر بیچ میں فوج حر آ کر سد راہ ھوتی ھے اب آپ پھلا کام یہ کرتے ھیں کہ اس پوری فوج کو جو پیاسی ھے سیراب کر دیتے ھیں۔ یہ فیاضی بھی جنگجویانہ انداز سے بالکل الگ ھے اس کے بعد وہ موقع آیا کہ نھر پر خیموں کے برپا کرنے کو روکا گیا اس وقت اصحاب کی تیوریوں پر بل تھے مگر امام(ع) نے فرمایا کہ مجھے جنگ میں ابتداء کرنا نھیں ھے۔ ریت ھی پر خیمے برپا کر دو۔ یہ نفس پر جبر اور حلم و تحمل وہ کر رھا ھے جسے بالآخر جان پر کھیل جانا اور اپنا پورا گھر قربان کر دینا ھے مگر وہ اس وقت ھو گا جب اس کا وقت آئے گا اور یہ اس وقت ھے جب اس کا وقت ھے۔ 

پھر عمر سعد کربلا میں پھنچتا ھے تو آپ خود اس کے پاس گفتگوئے صلح کے لئے ملاقات کا پیغام بھیجتے ھیں۔ ملاقات ھوتی ھے تو شرطیں ایسی پیش فرماتے ھیں کہ ابن سعد خود اپنے حاکم عبیداللہ بن زیاد کو لکھتا ھے کہ فتنہ و افتراق کی آگ فرو ھو گئی۔ اور امن و سکون میں کوئی رکاوٹ نہ رھی۔ حسین ملک چھوڑنے تک کے لئے تیار ھیں اس کے بعد خونریزی کی کوئی وجہ نھیں۔ 

اب یہ تو فریق مخالف ک اعمل ھے کہ اس نے ایسے صلح پسندانہ رویہ کی قدر نہ کی اور صلح کے لئے بڑھے ھوئے ھاتہ کو جھٹک کر پیچھے ھٹا دیا لیکن اس شرط پر حکومت مخالف راضی ھو گئی ھوتی۔ پھر حضرت امام حسن اور امام حسین(ع) کی افتادِ طبع میں کسی اختلاف کا تصور کرنے والوں کے تصورات کی کیا بنیاد باقی رہ سکتی تھی اور صورت حال کے سمجھنے کے بعد اب بھی یہ تصورات تو غلط ثابت ھو ھی گئے مگر وہ ابن زیاد کی تنگ ظرفی فرعونیت اور یزید کے منشاء کی تکمیل تھی کہ اس نے حضرت امام حسین(ع) پر صلح و امن کے سب راستوں کو بند کر دیا۔ 

پھر بھی جب نویں تاریخ کی سہ پھر کو حملہ ھو گیا تو حضرت(ع) نے ایک رات کی مھلت لے لی۔ جسے جنگ کرنا ھی مطلوب تھا وہ التوائے جنگ کی درخواست کیوں کرتا، مگر اس ایک رات کی مھلت کو حاصل کرکے بھی آپ نے اپنی امن پسندی کا ثبوت دیا اور دکھلا دیا کہ جنگ تو مجہ پر خواہ مخواہ عائد کی جا رھی ھے۔ میں جنگ کا اپنی طرف سے شوق نھیں رکھتا ھوں۔ 

پھر صبح عاشور کوئی دقیقہ موعظہ و نصیحت اور اتمام حجت کا اٹھا نھیں رکھا۔ خطبہ جو پڑھا وہ اونٹ پر سوار ھو کر اس لئے کہ وہ ھنگام امن کی سواری ھے گھوڑے پر نھیں سوار ھوئے جو جنگ کے ھنگام کا مرکب ھوتا ھے۔ 

باوجودیکہ خطبہ کے جو جواب ملے وہ دل شکن تھے مگر اس کے بعد بھی آپ نے اس کا انتظار کیا کہ فوج دشمن کی طرف سے ابتداء ھو او جب پھلا تیر عمر سعد نے چلہ کمان میں جوڑ کر اپنی فوج سے مخاطب ھوتے ھوئے یہ کھہ کے لگایا کہ ”گواہ رھنا پھلا تیر فوج حسینی کی طرف میں رھا کر رھا ھوں۔“ اور اس کے بعد چار ھزار تیر کمانوں سے روانہ ھو گئے اور جماعت حسینی (ع) کی طرف آ گئے۔ اس وقت مجبور ھو کر امام(ع) نے اذن جھاد دیا۔ اور اس کے بعد بھی خود اس وقت تک جھاد کے لئے تلوار نیام سے نھیں نکالی جب تک آپ کی ذات میں انحصار نھیں ھو گیا۔ جب تک ایک بھی باقی رھا آپ نے شمشیرزنی نھیں کی۔ اور اس طرح پیغمبر کے کردار کی تفسیر کر دی جب کوئی نہ رھا اس وقت تلوار کھینچی اور یہ ایسا وقت تھا جب کسی دوسرے میں دم نہ ھوتا کہ وہ جنبش بھی کر سکتا۔ تین دن کی بھوک پیاس اور اس پر صبح سے سہ پھر تک کی تمازتِ آفتاب میں شھداء کے لاشوں پر جانا اور پھر خیمہ گاہ تک پلٹنا اور پھر بھتر کے داغ عزیزوں کے صدمے اور ان کی لاشوں کا اٹھانا۔ جوان بیٹے کا بصارت لے جانا اور بھائی کا کمر توڑ جانا۔ اور اپنے ھاتھوں پر ایک بے شیر کو دم توڑتے میں سنبھالنا اور نوک شمشیر سے ابھی ابھی اس کی قبر بنا کر اٹھنا…اب اس عالم میں جذباتِ نفس کا تقاضا تو یہ ھے کہ آدمی خاموشی سے تلواروں کے سامنے اپنا سر بڑھا دے اور خنجر کے آگے گلا رکہ دے مگر حسین(ع) اسلامی تعلیم کے محافظ تھے ظلم کے سامنے سپردگی آئین شریعت کے خلاف ھے۔ حسین(ع) نے اب فریضھٴ دفاع کی انجام دھی اور دشمنانِ خدا کے مقابلہ کے لئے تلوار اٹھائی اور وہ جھاد کیا جس نے بھولی ھوئی دنیا کو حیدر صفدر کی شجاعت یاد دلا دی اور اس طرح دکھا دیا کہ ھمارے اعمال و افعال، جذبات نفس اور طبیعت کے تقاضوں کے ماتحت نھیں بلکہ فرائض و واجبات کی تکمیل اور احکام ربانی کی انجام دھی کے ماتحت ھوتے ھیں۔ چاھے طبعی تقاضے اس کے کتنے ھی خلاف ھوں۔ 

یھی انسانیت کی وہ معراج ھے جس کی نشاندھی حضرت امام حسین(ع) کے اسلاف کرتے رھے او روھی آج حسین(ع) کے کردار میں انتھائی تابانی کے ساتھ نمایاں ھیں۔ 

سیرتِ ائمہ(ع) کے ہمہ گیر پہلو:

حضرت امام حسین(ع) کے بعد ۹ معصومین(ع) کی زندگی میں چند اقدار مشترک ہیں۔ ایک یہ کہ پھر اس دور میں کسی خونریز اقدام کی ضرورت محسوس نہ کی گئی اور امن و خاموشی کو ہر حال میں مقدم رکھا گیا اور اب ان اقدار کے تحفظ کے لئے جو واقعہ کربلا نے ذہن بشر کے لئے قائم کر دیئے تھے اس واقعہ کی یاد کو قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کی تفصیل کے لئے ہمارا رسالہ ”عزائے حسین(ع) پر تاریخی تبصرہ ۔“ دیکھنے کے قابل ہے اور جس کا کامیاب نتیجہ عزاداری کے قیام و بقا کی شکل میں ہر شخص کے مشاہدہ میں ہے۔ 

دوسرے اپنی زندگی کی اس خاموش فضا کو انہوں نے معارف و تعلیماتِ اسلامی کی اشاعت کے لئے وقف رکھا اور تاریخ کے سردگرم حالات کے ساتھ اپنے امکانات کے مدارج کو فعلیت کی منزل میں لاتے رہے جس کا حیرت انگیز نمونہ یہ سامنے ہے کہ سلطنت و اقتدار کی بے پناہ پشت پناہی کے ساتھ اکثریت کے محدثین و فقہا کی مجموعی طاقت کا فراہم کردہ جتنا ذخیرہٴ احادیث صحاح ستہ کی شکل میں موجود ہے اس سے زیادہ جبر و قہر کے شکنجوں میں گھرے ہوئے ان ائمہ اہل بیت علیہم اسلام کی بدولت کتبِ اربعہ کی شکل میں ملتِ جعفریہ کے ہاتھوں میں موجود ہے جس کا موازنہ کرنے پر بالکل وہ نمونہ سامنے آتا ہے کہ جیسے قرآن مجید کے پہلے تعلیمات انبیا(ع)ء کے جو مسخ شدہ مجموعے کتب سماوی کے نام سے موجود تھے ان کے ہوتے ہوئے قرآن نے آ کر یہ کام کیا کہ جو اصل حقائق ان کتب کے تھے ان کو خالص شکل میں محفوظ کر دیا اور جو مہملات و مزخرفات شان انبیا(ع)ء کے خلاف ان میں سے حارج کر دیئے گئے تھے ان سب کو دور کرکے حقانیت انبیا(ع)ء کی شان کو نکھار دیا۔ اسی طرح سوادِ اعظم کے متداول احادیث کے ذخیرہ میں جتنی اصلیتیں تھیں ان کو آلِ محمد علیہم السلام نے اپنے صداقت ریز بیانات کے ساتھ محفوظ و مستحکم بنا دیا اور ان کے ساتھ سلطنتِ وقت کے کاسہ لیس اور یاوہ گو راویوں نے جو ہزاروں اس طرح کی باتیں شامل کر دی تھیں جن سے شان رسالت بلکہ شان الوہیت تک صدمہ پہنچتا تھا ان سب کا قلع قمع کرکے دامن الوہیت ورسالت کو بے داغ ثابت کر دیا۔ اور خالص حقائق و تعلیمات اسلامیہ کو منضبط کر دیا۔ اس طرح جیسے کتب سماوی میں قرآن بحسب ارشاد ربانی مہیمن علی الکل ہے اسی طرح سلسلہٴ احادیث میں یہ ائمہ معصومین علیہم اسلام کے ذریعہ سے پہنچا ہوا ذخیرہ ہے جو حقائق اسلامیہ پر مہیمن کی حیثیت رکھتا ہے اور ان کے اس کارنامہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس لئے ان کو ثقلین کا جزو بنا کر قرآن کے ساتھ امت اسلامیہ کے اندر چھوڑا گیا اور ارشاد ہوا تھا کہ: ما ان تمسّکتم بھما لن تضّلو بعدی ”جب تک ان دونوں سے تمسّک رکھو گے گمراہ نہ ہو گے۔“ 

فقہ میں یہ حقیقت ہے کہ سوادِ اعظم نے قیاس کے وسیع احاطہ میں قدم رکھنے کے باوجود جس معیار تک اس فن کو پہنچایا فقہائے اہل بیت(ع) نے تعلیمات ائمہ کی روشنی میں قیاس سے کنارہ کشی کرنے اور قرآن و حدیث سے استناباطات کے تنگنائے میں اپنے کو مقید رکھنے کے باوجود اس سے بدرجہ بالاتر نقطہ تک اس فن کو پہنچا دیا۔ جس پر انتصار نہایہ اور مبسوط اور پھر تذکرة الفقہاء اور مختلف الشیعہ سے لے کر حدائق اور جواہر اور فقہ آقا رضا ہمدانی تک ایسی بسیط کتابیں گواہ ہیں جن کا عشر عشیر بھی سوادِ اعظم کے پاس موجود نہیں ہے۔ 

تیسرے اس سو ڈیڑھ سو برس کی مدت میں امت اسلامیہ کے اندر کتنے انقلابات آئے حالات نے کتنی کروٹیں بدلیں۔ ہواؤں کی رفتار کتنی مختلف ہوئی مگر ان معصومین(ع) کے اخلاق و کردار میں جو تعلیمات و اخلاقِ کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے ذرہ بھر تبدیلی نہیں ہوئی۔ نہ اپنے منہاج نظر کو بدلا اور نہ امن پسندی کے رویہ میں جسے اب مستقل طور پر سکوت و سکون کی شکل میں اختیار کر لیا تھا ذرہ بھر تبدیلی ہوئی۔ ان دونوں باتوں کا ثبوت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک ہستی کو ان کے دور کی حکومت نے اپنا حریف ہی سمجھا۔ اس لئے ان سے کسی حکومت نے بھی غیرمعترضانہ حیثیت اختیار نہیں کی۔ یہ اس کا ثبوت ہے کہ وہ دنیاوی حکومت کے مقابل اس محاذ کے جو حضرت علی بن ابی طالب(ع)، حضرت حسن مجتبیٰ اور حضرت امام حسین(ع) کی نگہبانی میں قائم رہا تھا، برابر محافظ رہے اور اسی لئے باطل حکومت انہیں اپنا حریف سمجھتی رہی۔ مگر کبھی حکومت کو ان کے خلاف کسی امن شکنی کے الزام کو ثابت کرنے کا موقع نہیں مل سکا اس لئے قید کیا گیا تو اندیشہٴ نقص امن کی بنا پر اور زندگی کا خاتمہ کیا گیا تو زہر سے جس کے ساتھ حکومت وقت کو اپنی صفائی پیش کرنے کا امکان باقی رہے۔ 

یہ تمام معصومین(ع) کی زندگی اور موت کی مشترک کیفیت بتلاتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا طرزِ عمل ایک واحد نظام کا جز تھا جس کے قیام کے مجموعی حیثیت سے وہ سب ذمہ دار تھے۔ 

چوتھے اس وقت جب کہ علم، تقویٰ، عبادت وریاضت اور روحانیت ہر ایک کی ایک قیمت مقرر ہو چکی تھی اور ان سب جنسوں کا بازار سلطنت میں بیوپار ہو رہا تھا، یہ ہستیاں وہ تھیں جنہوں نے اپنے خداداد جوہروں کو دنیوی قیمتوں سے بالاتر ثابت کیا۔ نہ اپنا کردار بدلا اور نہ اپنے کردار کو حکومت وقت کے غلط مقاصد کا آلہ کار بنایا۔ نہ حکومتوں کے خلاف کھڑی ہونے والی جماعتوں کے معاون بنے اور نہ حکومتوں کے ناجائز منصوبوں کے مددگار ہوئے۔ حالانکہ حکومتوں نے ان ہر داؤں کو آزمایا۔ مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا اور اقتدارِ دنیا کی طمع کے ساتھ بھی آزمائش کی۔ مگر ان کا کردار ہمیشہ منفرد رہا۔ اور اموی و عباسی کسرویت و قیصریت کے زیرسایہ پروان چڑھی ہوئی دنیا کے ماحول کے اندر وہ علیحدہ صحیح اخلاق اسلامی کا نمونہ پیش کرتے رہے۔ یہ ان کا خاموش عمل ہی وہ مستقل جہاد حیات تھا جو وہ بتقاضائے خلافت الٰہیہ مستقل طو رپر انجام دیتے رہے۔ 

پانچویں۔ اگرچہ ان بزرگواروں کی عمریں مختلف ہوئیں۔ ایک طرف حضرت امام جعفر صادق(ع) ہیں جو تقریباً پینسٹھ برس اس دارِ دنیا میں رہے دوسری طرف حضرت امام محمد تقی(ع) ہیں جو ۲۵ برس سے زیادہ اس دارِ فانی میں زندہ نہیں رہے۔ اور پھر برسراقتدار امامت آنے کے موقع پر عمروں کا اختلاف یعنی جب سابق امام(ع) کی وفات ہوئی اور بعد کے امام(ع) کی امامت تسلیم ہوئی اس وقت ایک طرف حضرت امام محمد باقر(ع) اور امام جعفر صادق(ع) ہیں جن کی عمر اپنے والد بزرگوار کی وفات کے وقت ۳۴ یا ۳۵ برس تھی اور دوسری طرف حضرت امام محمد تقی(ع) اور امام علی نقی(ع) ہیں جن کی عمریں زیادہ سے زیادہ آٹھ نو برس تھیں مگر عالم اسلامی کا بیان متفق ہے کہ ہر ایک بزرگ اپنے دور میں عبادت، زہد، ورع، تقویٰ، ریاضت نفس، فیض و کرم تمام اخلاق میں مثالی زندگی کے مالک رہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے افعال نفسانی جذبات اور طبیعت کے تقاضوں کی بنا پر نہیں ہیں جن میں عمر کا فرق اثر انداز ہوتا ہے بلکہ وہ سب اسی للہیت اور احساس فرائض کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں جو انسانی کردار کی معراج ہے۔ 

اب فرداً فرداً ہر امام(ع) کے حالات میں ان کے زمانہ کی کیفیات کے انفرادی خصوصیات کے ساتھ ان مشترکہ اقدار کی نشاندہی کی جاتی ہے جن کا مجمل حیثیت سے ابھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ 

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

آپ کا دور کربلا کے تاریخی کارنامہ اور شھادت امام حسینع کے بعد شروع ھوا ھے۔ یہ زمانہ وہ تھا جب مظالم کربلا کے ردعمل میں مسلمانوں کی آنکھیں کھل رھی تھیں۔ کچھ مخلص افراد سچے جذبھٴ عقیدت کے ساتھ بنی امیہ کے خلاف کھڑے ھو گئے تھے۔ اور کچھ نے سیاسی طور پر اس سے فائدہ اٹھا کر اپنے حصول اقتدار کا اسے ذریعہ بنایا تھا۔ اس وقت عام انسانی جذبات کے لحاظ سے اندازہ کیجئے کہ ایک وہ ھستی جس نے کربلا کے بھتر لاشے زمین گرم پر دیکھے ھوں اور یزید کے ھاتھوں خود وہ مظالم اٹھائے ھوں۔ جو کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک کے پورے المیہ میں مضمر ھیں اسے ھر اس کوشش کے ساتھ جو سلطنت بنی امیہ کے خلاف ھو رھی ھو کتنی قلبی وابستگی ھونا چاھئے اور اس وابستگی کے ساتھ بڑی مشکل بات ھے کہ وہ عواقب پر نظر کر سکے۔ ایسے موقعوں پر عام جذبات کا تقاضا تو یہ ھے کہ چاھے حب علیع کے جذبہ میں کچھ کوششیں نہ ھوں صرف بعض معاویہ میں ھوں مگر ایسی کوششوں کے ساتھ بھی آدمی منسلک ھو جاتا ھے۔ فقط اس لئے کہ ھمارے مشترک دشمن کے خلاف ھیں خصوصاً جب کہ اس میں کامیابی کے آثار بھی نظر آ رھے ھوں جیسے عبداللہ بن زھیر جنھوں نے حجاز میں اتنا مکمل تسلط حاصل کر لیا تھا کہ جمھوری نظریھٴ خلافت کے بھت سے علماء قھر و غلبہ کی بنا پر ان کی باضابطہ خلافت کے قائل ھیں۔ جس کی تصدیق حفاظ سیوطی کی تاریخ الخلفاء سے ھو سکتی ھے۔ یا اھل مدینہ کی منظم کوشش جس نے عمال یزید کو وقتی طور سے نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا مگر ایسی حالت میں جب کہ جناب محمد بن حنفیہ کی وابستگی ان تحریکوں سے کسی حد تک نمایاں ھو سکی، امام زین العابدین کا کردار ان تمام مواقع پر اس طرح علیحدگی کا رھا کہ آپ کو ان تحریکوں سے کبھی وابستہ نھیں کیا جا سکا۔ 

یہ علیحدگی ھی بڑے ضبطِ نفس کا کارنامہ ھے چہ جائیکہ آپ نے اس موقع پر مصیبت زدوں کے پناہ دینے کی خدمت اپنے ذمہ رکھی۔ چنانچہ مروان ایسے دشمن اھل بیتع کو جب جان بچا کر بھاگنے کی ضرورت پیش ھوئی تو اپنے اھل و عیال اور سامان و اموال کی حفاظت کے لئے اگر کسی جائے پناہ پر اس کی نظر پڑی تو وہ صرف حضرت امام زین العابدینع تھے۔ اس کردار کا یہ نتیجہ تھا کہ جب پھر فوج یزید نے یورش کی مدینہ میں قتل عام کیا جو واقعھٴ حرہ کے نام سے مشھور ھے تو آپ کے لئے ممکن ھوا کہ آپ مظلومین مدینہ میں سے بھی چار سو بے بس خواتین کو اپنی پناہ میں لے سکیں اور محاصرہ کے زمانہ میں آپ ان کے کفیل رھیں۔ 

آپ کا مروان کو پناہ دینا بتا رھا تھا کہ آپ انھی علی بن ابی طالبع کی روایات کے حامل ھیں جنھوں نے اپنے قاتل کو بھی جام شیر پلانے کی سفارش کی تھی اور حضرت امام حسینع کے جنھوں نے دشمنوں کی فوج کو پانی پلوایا تھا۔ وھی کردارآج امام زین العابدینع کے قالب میں نگاھوں کے سامنے ھے۔ 

اسی کی مثال پھر اس وقت سامنے آئی جب یزید کی موت کے بعد انقلاب کے خوف سے حصین بن نمیر جو مکہ کا محاصرہ کئے ھوئے تھا۔ مضطربانہ اور سراسیمہ اپنے لشکر کو لے کر فرار پر مجبور ھوا اور مدینہ کی راہ سے شام کی طرف روانہ ھوا۔ بنی امیہ سے نفرت اتنی بڑھ چکی تھی کہ کوئی نہ ان لوگوں کو کھانے کا سامان دیتا تھا نہ اونٹوں اور گھوڑوں کے لئے چارا مھیا ھو سکتا تھا۔ اتفاق سے امام زین العابدینع اپنی زراعت سے غلہ اور چارا لے کر واپس جا رھے تھے۔ حصین نے بڑھ کر ملتجیانہ انداز میں کھا کہ یہ غلہ اور چارا میرے ھاتہ فروخت کر دیجئے۔ آپ نے فرمایا۔ ضرورت مند کی خاطر یہ بلاقیمت حاضر ھے۔ اس کرم کو دیکہ کر اس نے تعارف حاصل کیا کہ آپ ھیں کون؟ جب معلوم ھوا تو اس نے حیرت کے ساتھ کھا آپ نے پھچانا بھی ھے کہ میں کون ھوں؟ حضرت نے فرمایا: ”میں خوب پھچانتا ھوں مگر بھوکوں اور پیاسوں کی مدد کرنا ھم اھل بیت کا شعار ھے۔“ حصین اس واقعہ سے اتنا متاثر ھوا کہ گھوڑے سے نیچے اتر کر کھنے لگا کہ یزید تو ختم ھو چکا ھے آپ ھاتہ بڑھائیے میں اپنے پورے لشکر سمیت آپ کی بیعت کرتا ھوں اور آپ کی خلافت کو تسلیم کرانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھوں گا اس پر آپ باندازِ تحقیر تبسم فرمایا اور بغیر کچھ جواب دیئے آگے روانہ ھو گئے۔ 

اس دور انقلاب کے ھنگامی تقاضوں سے اس طرح دامن بچانے کے باوجود اس سرچشمہ انقلاب یعنی واقعہ کربلا کی یاد کو برابر آپ نےتازہ رکھا۔ یہ زمانہ ایسا نہ تھا کہ عمومی مجالس کی بنا ھو سکتی اور عوام میں تقریروں کے ذریعہ سے اس کی اشاعت کی جاتی۔ اس لئے آپ نے اپنے شخصی تاثرات غم اور مسلسل اشکباری پر اکتفا کی، جو بالکل فطری حیثیت رکھتی تھی۔ یہ مقاومت مجھول سے زیادہ غیرمحسوس ذریعہ تھا ان انقلابی اقدار کے تحفظ کا جو واقعہ کربلا میں مضمر تھے مگر آئینی طور پر کسی حکومت کے بس کی بات نہ تھی کہ وہ اس گریہ پر پابندی عائد کر سکتی۔ یوں مظالم کربلا کے دور میں کسی آنکہ سے نکلنے پر نوک نیزہ سے اذیت دی جاتی ھو تو وہ اور بات ھے مگر دور امن میں کسی انتھائی ظالم و جابر حکومت کے لئے بھی اس کا موقع نہ تھا کہ وہ ایک بیٹے کو جس کاباپ تین دن کا بھوکا پیاسا پس گردن سے ذبح کیا گیا ھو۔ اور جس کے گھر سے ایک دوپھر میں اٹھارہ جنازے نکل گئے ھوں اور جس کی ماں بھنیں اسیر بنا کر شھر بہ شھر اور دیار بہ دیار پھرائی گئی ھوں ان تاثرات کے اظھار سے روک سکے جو صرف رنج و ملال کی شکل میں آنسو بن کر اس کی آنکھوں سے جاری ھوں۔ پھر بلاشبہ اس غیرمعمولی مسلسل گریہ میں جو پچیس برس تک جاری رھا وہ عظیم تاثیر تھی جسے چاھے تاریخ کی سطحی نگاہ اسباب انقلاب میں شمار نہ کرے مگر واقعیت کی دنیا میں اس کی اھمیت سے انکار نھیں کیا جا سکتا۔ 

اس مسلسل گریہ کے واقعات کو تاریخوں میں پڑھنے کے بعد طبیعت انسانی کے فطری تقاضوں کی بنا پر ھر شخص ایسا تصور کر سکتا ھے کہ غمزدہ اور ھمہ تن گریہ و آہ ھستی سے اس کے بعد یہ توقع کرنا غلط ھے کہ وہ علوم و معارف کی کوئی خدمت انجام دے سکے مگر نھیں ”معراج انسانیت“ تو اسی تضاد میں مضمر ھے کہ یہ غرق حسرت و اندوہ ذات بھی اپنے اس فریضہ سے جو بحیثیت نائب حق و رھنمائے خلق اس کے ذمہ ھے۔ غافل نھیں ھوتی۔ بے شک یہ دور ایسا پرآشوب تھا کہ آپ کے گردوپیش طالبان ھدایت کا مجمع نھیں ھو سکتا تھا۔ آپ کسی مجمع کو مخاطب بنا کر کوئی تقریر نھیں فرما سکتے تھے۔ نہ اپنے قلم کے ذریعہ لوگوں سے سلسلہ مخابرت جاری فرما سکتے تھے اس لئے اس دور کے تقاضوں کے ماتحت آپ نے منفرد طریقہ ”دعا و مناجات“ کا اختیار فرمایا۔ یہ بھی مثل ”گریھ“ کے ایک لازم بظاھر غیرمتعدی عمل تھا۔ جو کسی قانون کی زد میں نھیں آ سکتا تھا مگر ان دعاؤں کو بھی جو ”صحیفہ سجادیھ“ کی شکل میں محفوظ ھیں جب ھم دیکھتے ھیں تو بلا کسی شائبہ مبالغہ و مجاز کے یہ حقیقت نمایاں نظر آتی ھے کہ وھی روح جو حضرت علی بن ابی طالبع کے نھج البلاغ والے خطبوں میں متحرک ھے وھی صحیفہ کاملہ کی ان دعاؤں میں بھی موجود ھے۔ صرف یہ کہ وھاں جو حکیمانہ گھراؤاور خطیبانہ بھاؤ ھے اس کی قائم مقامی یھاں اس سوزوگداز نے کی ھے جس کا دعاؤ مناجات میں محل ھے اور اس طرح اس کے سننے والوںمیں دماغ کے ساتھ ساتھ دل بھی شدت سے متاثر ھوتا ھے جو غالباً دوسروں کی اصلاح کے لئے کچھ کم اھمیت نھیں رکھتا اور اسی ذیل میں اخلاق و فرائضکے تعلیمات بھی مضمر ھیں۔ جو مدرسہ اھل بیتع کے مقاصد خصوصی کی حیثیت رکھتے ھیں۔ 

اس دور میں اس ذریعہ تبلیغ و تدریس کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ ممکن نہ تھا اورامام زین العابدینع نے اس ذریعہ کو اختیار کرکے ثابت کر دیا کہ یہ حضرات کسی سخت ماحول میں بھی اپنے فرائض اور اھم مقاصد کو ھرگز نظرانداز نھیں کرتے۔ 

حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام

آپ کا دور بھی مثل اپنے پدر بزرگوار کے وھی عبوری حیثیت رکھتا تھا جس میں شھادت حضرت امام حسینع سے پیداشدہ اثرات کی بنا پر بنی امیہ کی سلطنت کو ھچکولے پھنچتے رھتے تھے مگر تقریباً ایک صدی کی سلطنت کا استحکام ان کو سنبھال لیتا تھا بلکہ فتوحات کے اعتبار سے سلطنت کے دائرہ کو عالم اسلام میں وسیع تر کرتا جاتا تھا۔ 

حضرت امام محمد باقرع خود واقعہ کربلا میں موجود تھے اور گو طفولیت کا دور تھا یعنی تین چار برس کے درمیان عمر تھی مگر اس واقعہ کے اثرات اتنے شدید تھے کہ عام بشری حیثیت سے بھی کوئی بچہ ان تاثرات سے علیحدہ نھیں رہ سکتا تھا۔ چہ جائیکہ یہ نفوس جو مبداء فیض سے غیرمعمولی ادراک لے کر آئے تھے وہ اس کم عمری میں جناب سکینھع کے ساتھ ساتھ یقیناً قید وبند کی صعوبت میں بھی شریک تھے اس صورت میں انسانی و دینی جذبات کے ماتحت آپ کو بنی امیہ کے خلاف جتنی بھی برھمی ھوتی ظاھر ھے چنانچہ آپ کے بھائی زید بن علی بن الحسینع نے ایک وقت ایسا آیاکہ بنی امیہ کے مقابلے میں تلوار اٹھائی اسی طرح سادات حسنی عمیں سے متعدد حضرات وقتاً فوقتاً بنی امیہ کے خلاف کھڑے ھوتے رھے حالانکہ واقعہ کربلا سے براہ راست جتنا تعلق حضرت امام محمد باقرع کو رھا تھا۔ اتنا جناب زید کو بھی نہ تھا چہ جائیکہ حسنی سادات جو نسبتاً دوسری شاخ میں تھے۔ مگر یہ آپ کا وھی جذبات سے بلند ھونا تھا کہ آپ کی طرف سے کبھی کوئی اس قسم کی کوشش نھیں ھوئی اور آپ کبھی کسی ایسی تحریک سے وابستہ نھیں ھوئے بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنے دور کی حکومت کو مفادِ اسلامی کے تحفظ کے لئے اسی طرح مشورے دیئے جس طرح آپ کے جد امجد حضرت علی بن ابی طالبع اپنے دور کی حکومتوں کو دیتے رھے تھے۔ چنانچہ رومی سکوں کے بجائے اسلامی سکہ آپ ھی کے مشورہ سے رائج ھوا جس کی وجہ سے مسلمان اپنے معاشیات میں دوسروں کے دست نگر نھیں رھے۔ 

باوجودیکہ زمانہ آپکو والد بزرگوار حضرت امام زین العابدین(ع)کے زمانہ سے بھتر ملا۔ یعنی اس وقت مسلمانوں کا خوف و دھشت اھل بیتع کے ساتھ وابستگی میں کچھ کم ھو گیا تھا اور ان میں علوم اھل بیت سے گرویدگی بڑے ذوق و شوق کے ساتھ پیدا ھو گئی تھی کوئی دوسرا ھوتا تو اس علمی مرجعیت کو سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنا لیتا مگر ایسا نھیں ھوا اور حضرت امام باقرع مسلمانوں کے درمیان ایک طرح کی مرجعیت عام حاصل ھونے کے باوجود سیاست سے کنارہ کشی میں اپنے والد بزرگوار کے قدم بہ قدم ھی رھے۔ 

بے شک زمانہ کی سازگاری سے آپ نے واقعہ کربلا کے تذکروں کی اشاعت میں فائدہ اٹھایا۔ اب واقعہ کربلا پر اشعار نظم کئے جانے لگے اور پڑھے جانے لگے۔ امام زین العابدین(ع) کا گریہ آپ کی ذات تک محدود تھا اور اب دوسروں کو ترغیب و تحریص بھی کی جانے لگی۔ اس کے علاوہ نشر علوم آل محمدع کے فریضہ کو کھل کر انجام دیا گیا۔ اور دنیا کے دل پر علمی جلالت کا سکہ بٹھا دیا گیا۔ یھاں تک کہ مخالفین بھی آپ کو ”باقرالعلوم“ ماننے پر مجبور ھوئے جس کا مفھوم ھی ھے ”علوم کے اسرار و رموز کو ظاھرکرنے والے“۔ اس طرح ثابت کر دیا کہ آپ اپنے کردار میں انھی علی بن ابی طالبع کے صحیح جانشین ھیں جنھوں نے پچیس برس تک سلطنت اسلامیہ کے بارے میں اپنے حق کے ھاتہ سے جانے پر صبر کرتے ھوئے صرف علوم و معارف اسلامیہ کے تحفظ کا کام انجام دیا۔ وھی ورثہ تھا جو سینہ بسینہ حضرت محمد باقرع تک پھنچا تھا۔ نہ امتداد زمانہ نےاس میں کھنگی پیدا کی تھی اور نہ اس رنگ کو مدھم بنایا تھا۔ نہ تسلسل مظالم کے اثر سے انتقامی جذبات کے غلبہ نے ان کو بنیادی مقاصد حیات سے غافل کیا۔ 

امام جعفر صادق علیہ السلام

آپ کا دور انقلابی دور تھا۔ وہ بیج بنی امیہ سے نفرت کے جو حضرت امام حسین(ع)کی شھادت نے دل و دماغ کی زمین میں بو دیئے تھے اب پورے طور پر بارآور ھو رھے تھے۔ اموی تخت سلطنت کو زلزلہ تھا اور اموی طاقت روزبروز کمزور ھو رھی تھی اس دور میں بار بار ایسے مواقع آتے تھے جن میں کوئی جذباتی آدمی ھوتا تو فوراً ھوا کے رخ پر چلا جاتا اور انقلاب کے وقتی فوائد سے متمتع ھونے کے لئے خود بھی انقلابی جماعت کے ساتھ منسلک ھو جاتا۔ پھر جبکہ اسی ذیل میں ایسے اسباب بھی وقتاً فوقتاً پیدا ھوتے تھے۔ جو بنی امیہ کے خلاف اس کے جذبات کو مشتعل کرنے والے ھوں۔ 

زید بن علی بن الحسینع حضرت امام جعفر صادق کے چچا تھے خود بھی علم و ورع واتقاء میں ایک بلند شخصیت کے حامل تھے۔ یہ بنی امیہ کے خلاف کھڑے ھوتے ھیں اور وہ بھی حضرت امام حسین(ع)کے خون کا بدلہ لینے کے اعلان کے ساتھ۔ یہ کیا ایسا موقع نہ تھا کہ حضرت امام جعفر صادق(ع)بھی چچا کے ساتھ اس مھم میں شریک ھو جائیں۔ پھر اس کے بعد زید(ع)کا شھید کیا جانااور ان پر وہ ظلم کہ دفن کے بعد لاش کو قبر سے نکالا گیا اور سر کو قلم کرنے کے بعد جسد بے سر کو ایک عرصہ تک سولی پر چڑھائے رکھا تھا پھر آگ میں جلا دیا گیا۔ اس کے اثرات عام انسانی طبیعت میں کیا ھیجان پیدا کر سکتے ھیں؟ 

اور پھر عباسیوں کے ھاتہ سے انقلاب کی کامیابی اور سلطنت بنی امیہ کی اینٹ سے اینٹ بج جانا۔ 

اس تمام دور انقلاب یں ھر دن نئے نئے محرکات اور گوناگوں نفسانی مھیجات ھیں جو ایک انسان کو متحرک بنانے کے لئے کافی ھیں خصوصاً اس لئے کہ بنی عباس کو اقتدار کی کرسی پر بٹھانے والا ابو سلمہ خلال اولاد فاطمہ زھرا(ع)کی محبت کے ساتھ اتنا مشھور تھا کہ برسراقتدار آنے کے لئے امام جعفر صادق(ع)کے پاس تحریری عرضداشت بھیجی مگر آپ نے اس سے نہ صرف یہ کہ بے اعتنائی برتی بلکہ اس کاغذ کو اس شمع کی لو کے سپرد کر دیا جو اس وقت روشن تھی۔ اور قاصد سے فرمایا کہ اس تحریر کا بس یھی جواب ھے اور پھر اسے پورے طویل دور انقلاب میں ایک دن ایسا نھیں آتا جو حضرت امام جعفر صادق(ع)میں کوئی حرکت پیدا کر سکا ھو۔ سوا علوم اھل بیت(ع)کے تحفظ و اشاعت کی اس مھم کے جس کی کھل کر ابتداء آپ کے والد ماجد نے کر دی تھی اور اب اسی کو اپنی نسبتہ طویل عمر اور اس وقت کے انقلابی حالات کے وقفہ سے فائدہ اٹھا کر پورے طور سے فروغ دینے کا موقع حضرت امام جعفر صادق(ع)کو ملا۔ جس کے نتیجہ میں مذھب اھلِ بیت(ع)عوام میں ”ملت جعفری“ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ 

یہ کیا تھا؟ یہ وھی جذبات سے بلند ھونے کا قطعی مشاھدہ ھے جسے ”معراج انسانیت“ کی حیثیت سے ھم ان کے تمام پیش روؤں میں دیکھتے رھے ھیں۔ 

بنی عباس کے تخت سلطنت پر بیٹھنے کے بعد کچھ دن تو اولاد رسول(ع)کو سکون رھا مگر منصور دوانقی کے تخت سلطنت پر بیٹھتے ھی پھر فضا مکدر ھو گئی اور چونکہ یقین تھا کہ بنی امیہ کو جو ھم نے شکست دی ھے وہ اولاد فاطمہ(ع)کے ساتھ ھمدردی ھی سے فائدہ اٹھا کر۔ اس لئے یہ اندیشہ تھاکہ نہ جانے کب عوام کی آنکھیںکھل جائیں۔ اور وہ اسی طرف جھک جائیں۔ خصوصاً اس لئے کہ بنی امیہ کے زوال کے آثار واضح ھونے کے بعد جب بنی ھاشم نے مدینہ میں جمع ھو کر ایک مجلس مشاورت منعقد کی کہ انقلاب کی تکمیل کے بعد تخت سلطنت کس کے سپرد کیا جائے تو سب نے حسن مثنی فرزند امام حسن(ع)کے پوتے محمد بن عبداللہ کو اس منصب کا اھل قرار دیا تھا اورسب نے ان کے ھاتہ پر بیعت کی تھی۔ اس جلسہ میں منصور بھی موجود تھا اور اس نے بھی محمد کے ھاتہ پر بیعت کی تھی اس کے بعد سیاسی ترکیبوں سے اس کارروائی کو نسیاً منسیا کرکے بنی عباس تخت خلافت پر قابض ھو گئے اس لئے بھت بڑا کانٹا جو منصور کے دل اور آنکہ میں کھٹک رھا تھا وہ محمد بن عبداللہ کا وجود تھا اس کا نتیجہ یہ تھا کہ برسراقتدار آنے کے بعد خصوصیت سے اولاد امام حسن (ع)کے خلاف ظلم و تشدد شروع کر دیا گیا۔ 

عبداللہ بن الحسن(ع)جو عبداللہ المثنی کے نام سے مشھور تھے۔ امام زین العابدین کے بھانجے یعنی فاطمہ بنت الحسین (ع)کے صاحبزادے تھے اور محمد ان کے بیٹے جو اپنے ورع و تقویٰ کی بنا پر نفس زکیہ کے نام سے مشھور تھے جناب فاطمہ بنت الحسین(ع)کے پوتے تھے۔ 

منصور نے تمام سادات حسنی کو قید کردیا اور خصوصیت سے عبداللہ المحض کو پیرانہ سالی کے عالم میں اتنے سخت شدائد و مظالم کے ساتھ قید تنھائی میں محبوس کیا کہ الحفیظ والامان۔ 

ظاھر ھے کہ حضرت امام جعفر صادق (ع)قلبی طور پر ان حضرات سے غیرمتعلق نہ تھے چنانچہ یہ واقع ھے کہ جس دن اولاد حسن(ع)کو زنجیروں سے باندہ کر گردن میں طوق اور پیروں میں بیڑیاں پھنا کر بے کجا وہ اونٹوں پر سوار کرکے مدینہ سے نکالا گیا۔ اور یہ قافلہ اس حال میں مدینہ کی گلیوں سے گزرا تو امام جعفر صادق(ع)اس منظر کو دیکہ کر تاب ضبط نہ لا سکے اور چیخیں مار مار کر رونے لگے اور اس کے بعد ۲۰ دن تک شدت سے بیمار رھے۔ عبداللہ کے دونوں بیٹے محمد اور ابراھیم کچھ دن پھاڑوں کی گھاٹیوںمیں چھپے رھے پھر ”تنگ آمد بجنگ آمد“ کے مصداق ایک جماعت کو اپنے ھمراہ لے کر مقابلہ پر آماد ھوئے اس موقع پر یہ واقعہ یاد رکھنے کا ھے کہ رائے عامہ محمد کے ساتھ اس حد تک محسوس ھو رھی تھی کہ امام ابو حنیفہ اور مالک نے نفس زکیہ کی حمایت و نصرت کے لئے فتویٰ دیا۔ مگر حضرت امام جعفر صادق(ع)اپنی خداداد بصیرت کی بنا پر باوجود تمام جذباتی تقاضوں کے اس مھم سے علیٰحدہ رھے۔ اور آپ نے اپنے دامن کو اس کشمکش سے بالکل ھی بچائے رکھا۔ آپ جانتے تھے کہ یہ مھم وقتی حالات کی بنا پر اضطراری فعل کے طور پر شروع کی گئی ھے جس کے پس پشت کوئی بلند مقصد نھیں ھے نہ اس سے کوئی نتیجہ نکلنے والا ھے لیکن میں نے اگر اس کا کسی طرح بھی ساتھ دیا تو اس تعمیری خدمت کا بھی جو میں معارف آل رسول کی اشاعت کے طور پر انجام دے رھا ھوں دروازہ مسدود ھو جائے گا۔ 

یہ بے پناہ ضبط و صبر وھی ھے جو ان کے آباؤ اجداد میں نظر آتا رھا تھا اور وہ عام انسانوں کے بس کی بات نھیں ھے۔ 

امام موسیٰ کاظم

آپ کے زمانہ میں سیاست کا شکنجہ پھر سخت ھو گیااب نہ تعلیم و تدریس کی وہ آزادی رھی نہ تبلیغ و اشاعت کے مواقع باقی رہ گئے۔ حکومت وقت برابر آپ سے برسر پرخاش رھی یھاں تک کہ آخر عمر کے کئی سال تمام وکمال قید خانہ میں گزر گئے مگر آپ کی بلند سیرت کی روشنی اتنی تیز تھی کہ قید خانہ کی اونچی اور سنگین دیواریں اس کے لئے ایک نازک و باریک پردہ سے زیادہ نہ تھیں جس کے اندر سے اس کی شعائیں چھن کر باھر نکلتی رھیں۔ یھاں تک کہ چودہ صدیاں پار کرکے ھم تک بھی پھنچ سکی ھیں۔ چنانچہ اسی سیرت کی بلندی کا نتیجہ یہ تھا کہ حکومت وقت کے مقررکردہ قیدخانوں کے افسر آپ کی نیکوکاری کے سامنے ھتھیار ڈال دیتے تھے اورآپ کے ساتھ سختی کرنے سے معذور رھتے تھے جس کے نتیجہ میں بار بار نگرانوں کے بدلنے کی ضرورت ھوتی تھی۔ چنانچہ پھلے آپکو بصرہ میں عیسیٰ بن جعفر بن منصور کی نگرانی میں رکھا گیا۔ اس ھدایت کے ساتھ کہ ان کو قید تنھائی میں رکھو اور کچھدن کے بعد حکم دیا کہ انھیں قتل کر دو۔ وہ خلیفہ وقت کا چچازاد بھائی تھا مگر اس کے دل پر امام موسیٰ کاظمع کے حسن کردار کا اثر پڑ گیا تھا۔ اس نے لکھا کہ میں نے ان کے حالات کی خوب جانچ کی ھے وہ تو ھمیشہ دن کو روزہ رکھتے ھیں اور شب و روز عبادت میں مصروف رھتے ھیں تنھائی کے عالم میں بھی ھم میں سے کسی کے لئے کبھی بددعا نھیں کرتے بلکہ اللہ کا شکر ادا کرتے ھیں کہ تونے مجھے اپنی عبادت کے لئے یہ تنھائی کی جگہ عطا فرمائی۔ ایسے خداترس اور عبادت گزار کی جان لینا میرے بس کی بات نھیں ھے۔ 

جب اس نے انکار کیا تو آپ کو بصرہ سے بلوا کر بغداد میں فضل بن ربیع کے سپرد کیا گیا۔ مگر فضل پر بھی آپ کے کردار کے مشاھدہ کا خاص اثر پڑا۔ آخر فضل بن ربیع کو بھی اس صورت سے برطرف کیا گیا۔ یحییٰ برمکی کو براہ راست نگران بنا دیا گیا اور اس سے بھی پھر غیرمطمئن ھو کر سندی بن شاھک کو مقرر کیا گیا۔ یہ ایسا قسی القلب اور سفاک تھا کہ اس نے زھر دغا دے کر امامع کی زندگی کا خاتمہ کیا۔ 

زندگی میں قید خانہ میں محبوس رکھے گئے اور پھر قبر کے اندر مدفون ھو گئے مگر ان کے اوصاف و کمالات، زھد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت ھی نھیں بلکہ ان کے زبان و قلم سے نکلے ھوئے بھت سے ارشادات و تعلیمات اور شریعت نبوی کے احکام اب تک کتابوں کے صفحات پر موجود ھیں جو بتا رھے ھیں کہ وہ اسی سلسلہ کی ایک فرد تھے جس میں سے ھر ایک اپنے دور کے حالات کے مطابق کاروان بشر کو منزل کمال انسانیت تک پھنچانے کے لئے رھنمائی کا فرض انجام دیتا رھا۔ اور اپنے کردار کی رفعت سے ”معراج انسانیت“ کی نشان دھی کرتا رھا۔ 

امام رضا علیہ السلام

آپ کو جس خاص صورت حال سے دوچار ھونا پڑا وہ آپ کے زمانہ کے عباسی خلیفہ مامون کا قبول ولی عھدی کے لئے آپ کو مجبور کرنا تھا بالکل اسی طرح جیسے آپ کے مورث اعلیٰ حضرت امیرالمومنین علی مرتضیٰ(ع) کے سامنے چوتھے نمبر پر حکومت پیش کی گئی ظاھر ھے کہ یہ وہ امامت نہ تھی جو منجانب اللہ آپ کو حاصل تھی اسے دنیا نے تسلیم نھیں کیا تھا بلکہ وھی اپنے نقطہ نظر والی جمھوری خلافت تھی جس کی پیشکش آپ کے سامنے کی گئی تھی اور اسی لئے آپ نے اس سے شدید انکار فرمایا مگر جب لوگوں کا اصرار قیام حجت کے قریب پھنچ گیا تو چونکہ ایک داعی حق کو جس عنوان سے سھی ایک موقع اگر خلق خدا کی اصلاح کا مل جائے چاھے وہ کسی لباس میں ھو، اسے نظرانداز نھیں کرنا چاھئے۔ اب آپ نے ان کے اصرار کو قبول فرما لیا۔ اسی طرح اب امام رضا کے سامنے مامون اقتدار کی پیشکش کر رھا تھا۔ مورخین متفق ھیں کہ آپ نے انکار فرمایا۔ کثرت سے گفتگوئیں ھوئیں اور مامون نے بار بار اصرار کیا اور آپ ھر مرتبہ انکار فرماتے تھے۔ اور آپ کا ارشاد تھا کہ میں اللہ کی بندگی ھی کو بس اپنے لئے باعث فخر سمجھتا ھوں اور اقتدار دنیا سے تو کنارہ کشی ھی کرکے بارگاہ الٰھی میں بلندی کی امید رکھتا ھوں اور جب وہ اصرار کرتا تھا تو آپ کھتے تھے: اَللّٰھُمَّ لَا عَھَدَ اِلَّا عَھْدِکَ وَ لا وِلاٴیہ اِِلَّا مِنْ قَبْلِکَ فَوَفْقنِیْ الِاقامَةِ دِیْنکَ واحیّآءِ سُنَّتِہ نبِیّکَ نِعْمَ الْمَوْلیٰ وَ نعْمَ النَّصِیْر۔ 

”پروردگار! عھدہ تو وھی عھدہ جو تیری طرف سے ھے اور حکومت وھی حکومت ھے جو تیری جانب سے ھے ھاں مجھے توفیق عطا فرما کہ تیرے دین کے شعائر کو قائم کروں اور تیرے رسول کی سنت کو زندہ کروں۔ تو بھترین مالک اور بھترین مددگار ھے۔“ 

اس میں ایک طرف صحیح اسلامی نظریہ حکومت کی تبلیغ ھو رھی تھی جس سے آپ کے انکار کا پس منظر واضح طور پر نمایاں ھو رھا تھا اور دوسری طرف اقامت دین اور احیائے سنت کے لئے اپنے جذبہ بے قرار کا مظاھرہ تھا جو بعد از اصرار بسیار ولی عھدی کے قبول کرنے کے پس منظر کی ترجمانی کر رھا ھے۔ 

پھر آپ نے جب ولی عھدی قبول کی تو یہ شرط کر لی کہ میں حکام کے غرل و نصب کا ذمہ دار نہ ھوں گا نہ امور سلطنت میں کوئی دخل دوں گا۔ ھاں جس معاملہ میں مشورہ لیا جائے گا کتاب خدا و سنت رسول کے مطابق مشورہ دے دیا کروں گا یہ وہ کام تھا جو آپ کے جد بزرگوار حضرت علی بن ابی طالب(ع) خلفائے ثلٰثہ کے دور میں بغیر کسی عھدہ و منصب کے انجام دیتے تھے اب وھی حضرت امام علی بن موسی الرضا(ع) ولی عھدی کے نام کے بعد انجام دیں گے۔ 

معلوم ھوتا ھے کہ شخصیت ایک ھی ھے صرف زمانہ کا فرق ھے اور سامنے کی حکومت کے رویہ کا فرق ھے کہ پھلے دور والوں نے کسی عھدہ کی پیشکش جناب امیر کے لئے اپنے سیاسی مفاد کے خلاف سمجھی اور اب عھدہ کی پیشکش اپنے سیاسی مصالح کے لئے مناسب سمجھی جا رھی ھے معلوم ھوتا ھے کہ جو اختلاف ھے وہ سلطنت وقت کے رویہ میں ھے مگر رھنمائے دین کے موقف میں کوئی فرق نھیں ھے اقبال کے لفظوں میں کہ لیجئے کھ: 

حقیقتِ ابدی ھے مقام شبیری، 

بدلتے رھتے ھیں اندازِ کوفی و شامی 

پھر ولی عھدی کے بعد آپ نے اپنی سیرت بھی وھی رکھی جو شھنشاہ اسلام ما نے جانے کے بعد حضرت علی بن ابی طالب(ع) کی سیرت رھی۔ آپ نے اپنے دولت سرا میں قیمتی قالین بچھوانا پسند نھیںکئے۔ بلکہ جاڑے میں بالوں کا کمبل اور گرمی میں چٹائی کا فرش ھوا کرتا تھا کھانا سامنے لایا جاتا تھا تو دربان، سائیس اور تمام غلاموں کو بلا کر اپنے ساتھ کھانے میں شریک فرماتے تھے۔ 

پھر اسی عباسی سلطنت کے ماحول کو پیش نظر رکہ کر جھاں صرف قرابت رسول کی بنا پر اپنے کو خلق خدا پر حکمرانی کا حقدار بنایا جاتا تھا اور کبھی اپنے اعمال و افعال پر نظر نہ کی جاتی تھی آپ اپنے اوپر رکہ کر برابر اس کا اعلان فرماتے تھے کہ قرابت رسول کوئی چیز نھیں ھے جب تک کردار انسان کا ویسا نہ ھو جو خدا کے نزدیک معیار بزرگی ھے چنانچہ جب ایک شخص نے حضرت سے کھا کھ: خدا کی قسم آباؤاجداد کے اعتبار سے کوئی شخص آپ سے افضل نھیں۔ حضرت نے فرمایا: ”میرے آباؤاجداد کو جو شرف حاصل ھوا وہ بھی صرف تقویٰ اور اطاعت خدا سے۔“ ایک دوسرے موقع پر ایک شخص نے کھا کہ ”واللہ آپ بھترین خلق ھیں۔“ حضرت نے فرمایا۔ ”اے شخص بے سمجھے قسم نہ کھا جس کا تقویٰ مجھ سے زیادہ ھو وہ مجھ سے افضل ھے۔“ 

ابراھیم بن عباس کا بیان ھے کہ حضرت فرماتے ھیں: میرے تمام غلام لونڈی آزاد ھو جائیں اگر اس کے سوا کچھ اور ھو کہ میں اپنے کو محض رسول اللہ سے قرابت کی وجہ سے اس سیاہ رنگ غلام سے بھی افضل نھیں جانتا (اشارہ فرمایا اپنے ایک غلام کی جانب) ھاں جب عمل خیر بجا لاؤں تو اللہ کے نزدیک اس سے افضل ھوں گا۔ 

یہ حقیقت میں تقریباً ایک صدی کی پیدا کی ھوئی عباسی سلطنت کی ذھنت کے خلاف اسلامی نظریہ کا اعلان تھا اور وہ اب اس حیثیت سے بڑا اھم ھو گیا تھا کہ وہ اب اسی سلطنت کے ایک رکن کی طرف سے ھو رھا تھا۔ 

معلوم ھوتا ھے کہ یہ وہ ھیں جن پر ماحول کا اثر نھیں پڑتا بلکہ وہ ھر ماحول میں کسی نہ کسی طرح اپنے فرض کو انجام دیتے رھتے ھیں جو انسانیت کی عملی معراج ھے۔ 

امام محمد تقی علی السلام

آپ پانچویں برس میں تھے جب آپ کے والد بزرگوار امام رضا(ع) سلطنت عباسیہ کے ولی عھد ھو گئے اس کے معنی یہ ھیں کہ سن تمیز پر پھنچنے کے بعد ھی آپ نے آنکہ کھول کر وہ ماحول دیکھا جس میں اگر چاھا جاتا تو عیش و آرام میں کوئی کمی نہ رھتی مال و دولت قدموں سے لگا ھوا تھا اور تزک و احتشام آنکھوں کے سامنے تھا پھر باپ سے جدائی بھی تھی کیونکہ امام رضا(ع) خراسان میں تھے اور متعلقین تمام مدینہ منورہ میں تھے۔ اور پھر آپ کو آٹھواں ھی برس تھا کہ امام رضا(ع) نے دنیا ھی سے مفارقت فرمائی۔ 

یہ وہ منزل ھے کہ جھاں ھمارے تاریخی کارخانہ تحلیل و توجیھہ کی تمام دوربینیں بیکار ھو جاتی ھیں۔ کسی دنیوی مکتب اور درسگاہ میں تو نہ ان کے آباؤاجداد کبھی گئے نہ یہ جاتے نظر آتے ھیں۔ ھاں ایک معصوم کے لئے معصوم بزرگوں کی تعلیم و تربیت ناقابل انکار ھے مگر یھاں معصوم باپ سے چار پانچ برس کی عمر میں جدائی ھو گئی۔ ایک توارثِ صفات رہ جاتا ھے مگر ھر ایک جانتا ھے کہ اس سے صلاحیت کا حصول ھوتا ھے۔ فعلیت کے لئے پھر اسباب ظاھری کی ضرورت ھے۔ مگر یہ تاریخی واقعہ ھے کہ امام محمد تقی(ع) نے بچپن کی جتنی منزلیں اس کے بعد طے کیں وہ ابھی شباب کی سرحد تک بھی نہ تھیں کہ آپ کی سیرت بلند کی مثالیں اور علمی کمال کی تجلیاں دنیا کی آنکھوں کے سامنے آگئیں۔ یھاں تک کہ امام رضا(ع) کی وفات کے بعد ھی شاھی دربار میں اکابر علمائے وقت سے مباحثہ ھوا تو سب کو آپ کی عظمت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑا۔ 

اب یہ واقعہ کوئی صرف اعتقادی چیز بھی نھیں ھے بلکہ مسلم الثبوت طور پر تاریخ کا ایک جز ھے یھاں تک کہ اس مناظرہ کے بعد اسی محفل میں مامون نے اپنی لڑکی ام الفضل کو آپ کے حبالہ عقد میں دیا۔ 

یہ سیاست مملکت کا ایک نئی قسم کا سنھرا جال تھا جس میں امام محمد تقی(ع) کی کمسنی کو دیکھتے ھوئے خلیفہ وقت کو کامیابی کی پوری توقع ھو سکتی تھی۔ 

جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ ”نویں امام“ (شائع کردہ امامیہ مشن) میں لکھا ھے۔ 

”بنی امیہ کے بادشاھوں کو آلِ رسول کی ذات سے اتنا اختلاف نہ تھا جتنا ان کے صفات سے۔ وہ ھمیشہ اس کے درپے رھتے تھے کہ بلندی اخلاق اور معراج انسانیت کا وہ مرکز جو مدینہ میں قائم ھے اور جو سلطنت کے مادی اقتدار کے مقابلہ میں ایک مثالی روحانیت کا مرکز بنا ھوا ھے یہ کسی طرح ٹوٹ جائے اسی کے لئے وہ گھبرا گھبرا کر مختلف تدبیریں کرتے تھے۔ امام حسین(ع) سے بیعت طلب کرنا اسی کی ایک شکل تھی اور پھر امام رضا(ع) کو ولی عھد بنانا اسی کا دوسرا طریقھ۔ 

فقط ظاھری شکل میں ایک کا انداز معاندانہ اور دوسرے کا طریقہ ارادت مندی کے روپ میں تھا مگر اصل حقیقت دونوں باتوں کی ایک تھی۔ جس طرح امام حسین(ع) نے بعیت نہ کی تو وہ شھید کر ڈالے گئے اسی طرح امام رضا(ع) ولی عھد ھونے کے باوجود حکومت کے مادی مقاصد کے ساتھ نہ چل سکے تو آپ کی شمع حیات کو زھر کے ذریعہ سے ھمیشہ کے لئے خاموش کردیا گیا۔ 

اب مامون کے نقطھٴ نظر سے یہ موقع انتھائی قیمتی تھا کہ امام رضا(ع) کا جانشین آٹہ نو برس کا ایک بچہ ھے جو تین چاربرس پھلے ھی باپ سے چھڑا لیا جا چکا تھا۔ حکومت وقت کی سیاسی سوجہ بوجہ کھہ رھی تھی کہ اس بچے کو اپنے طریقہ پر لانا نھایت آسان ھے اور اس کے بعد وہ مرکز جو حکومت وقت کے خلاف ساکن اور خاموش مگر انتھائی خطرناک، قائم ھے ھمیشہ کے لئے ختم ھو جائے گا۔ 

مامون امام رضا(ع) کی ولی عھدی کی مھم میں اپنی ناکامی کومایوسی کا سبب تصور نھیں کرتا تھا اس لئے کہ امام رضا(ع) کی زندگی ایک اصول پر قائم رہ چکی تھی اس میں تبدیلی نھیں ھوئی تو یہ ضروری نھیں کہ امام محمد تقی(ع) آٹہ برس کے سن میں خاندان شھنشاھی کا جز بنا لئے جائیں تو وہ بھی بالکل اپنے بزرگوں کے اصول زندگی پر برقرار رھیں۔ 

سوا ان لوگوں کے جو ان مخصوص افراد کے خداداد کمالات کو جانتے تھے اس وقت کا ھر شخص یقیناً مامون کا ھم خیال ھو گا۔ مگر حضرت امام محمد تقی(ع) نے اپے کردار سے ثابت کر دیا کہ جو ھستیاں عا م جذبات کی سطح سے بالاتر ھیں اور یہ بھی اسی قدرتی سانچے میں ڈھلے ھوئے ھیں جن کے افراد ھمیشہ معراج انسانیت کی نشاندھی کرتے آئے ھیں آپ نے شادی کے بعد محل شاھی میں قیام سے انکار فرمایا اور بغداد میں جب تک قیام رھا آپ ایک علیحدہ مکان کرایہ پر لے کر اس میں قیام پذیر ھوئے او رپھر ایک سال کے بعد ھی مامون سے حجاز واپس لے جانے کی اجازت لے لی۔ اور مع ام الفضل کے مدینہ تشریف لے گئے اور اس کے بعد حضرت کا کاشانہ گھرکی ملکہ کے دنیوی شاھزادی ھونے کے باوجود بیت الشرف امامت ھی رھا۔ قصر دنیا نہ بن سکا۔ ڈیوڑھی کا وھی انداز رھا جو اس کے پھلے تھا۔ نہ پھرے دار اورنہ کوئی خاص روک ٹوک۔ نہ تزک نہ احتشام۔ نہ اوقات ملاقات کی حدبندی۔ نہ ملاقاتیوں کے ساتھ برتاؤ میں کوئی فرق۔ زیادہ تر نشست مسجد نبوی میں رھتی تھی جھاں مسلمان حضرت کے وعظ و نصیحت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ راویان حدیث احادیت دریافت کرتے تھے۔ طلاب علمی مسائل پوچھتے تھے اور علمی مشکلات کو حل کرتے تھے۔ چنانچہ شاھی سیاست کی شکست کا نتیجہ یہ تھا کہ آخر آپ کا بھی زھر سے اسی طرح خاتمہ کیا گیا جس طرح آپ کے بزرگوں کا اس سے پھلے کیا جاتا رھا تھا۔ 

امام علی نقی(ع)

آپ کی زندگی میں بھی وھی خصوصیتیں موجود ھیں جو آپ کے آباؤ اجداد میں تھیں۔ 

آپ کو متوکل نے مدینہ سے بلوا کر سامرے میں نظربند کیا اور متعدد اشخاص کی نگرانی آپ پر قائم کی۔ مگر آپ کے اخلاق حمیدہ نے ھر ایک کو متاثر کیا۔ آپ کی خاموش زندگی صحیح اسلامی سیرت کی عملی مثال تھی اور ھمیشہ اس مشن کی جو تبلیغ دین و شریعت کا تھا حفاظت کرتے رھے۔ ایسے موقعوں پر جب جذباتی انسان یا تو مرعوب ھو کر دوسرے کا ھم رنگ ھو جائے یا مشتعل ھو کر مرنے مارنے پر تیار ھو جائے یہ ضبط نفس معراج انسانیت کا نمونہ تھا کہ نہ اپنے جاوہ عمل کو چھوڑا جاتا تھا اور نہ تصادم کی صورت پیدا کی جاتی تھی۔ 

متوکل کا دربار جھاں شراب کا دور چل رھا تھا۔ اس میں امام(ع) کی طلبی اور جام شراب کا پیش کیاجانا اور آپ کے انکار پر یہ فرمائش کہ کچھ اشعار ھی سنائیے اور آپ کا اس موقع سے وعظ کے لئے گنجائش نکالنا اور بے اعتباری دنیا اور محاسبہ نفس کی دعوت پر مشتمل وہ اشعار پڑھنا جنھوں نے اس محفل عیش کو مجلس وعظ میں تبدیل کرکے وہ اثر پیدا کیا کہ حاضرین زاروقطار رونے لگے اور بادشاہ بھی چیخیں مار مار کر گریہ کرنے لگا۔ یہ انھی حضرت زین العابدین﷼ کے وارث کا کام ھو سکتا تھا جنھوں نے دربار ابن زیاد و یزید میں اظھار حقائق کے کسی موقع کو کبھی نظرانداز نھیں کیا۔ 

قید کے زمانہ میں آپ جھاں بھی رھے آپ کے مصلے کے سامنے ایک قبر کھدی ھوئی تیار رھتی تھی۔ یہ ظالم طاقت کو اس کے باطل مطالبہ اطاعت کا ایک خاموش اور عملی جواب تھا یعنی زیادہ سے زیادہ تمھارے ھاتہ میں جو ھے وہ جان کا لے لینا مگر جو موت کے لئے اتنا تیار ھو وہ ظالم حکومت سے ڈر کر باطل کے سامنے سر کیوں خم کرنے لگا۔ 

پھر بھی مثل اپنے بزرگوں کے حکومت کے خلاف کسی سازش وغیرہ سے آپ کا دامن ایسا بری رھا کہ باوجود دارالسلطنت کے اندر مستقل قیام اور حکومت کے سخت ترین جاسوسی نظام کے آپ کے خلاف کوئی الزام کبھی عائد نھیں کیا جا سکا۔ حالانکہ عباسی سلطنت اب کمزور ھو چکی تھی اور وہ دم توڑنے کے قریب تھی مگر آل محمد نے ان حکومتوں کو ھمیشہ اپنی موت مرنے کے لئے چھوڑا۔ ان کے خلاف کبھی کسی اقدام کی ضرورت محسوس نھیں فرمائی۔ 

امام حسن عسکری علیہ السلام

آپ کے دور حیات کا اکثر حصہ عباسی دارالسلطنت سامرا میں نظربندی یا قید کی حالت میں گزرا مگر اس حالت میں آپ کی بلندکرداری اور سیرت بلند کے مظاھرات سے جو اثر پڑا اس کا تجزیہ مولانا سید ابن حسن صاحب جارچوی نے بھت اچھے الفاظ میں کیا ھے۔ 

ھزاروں رومی اور ترکی غلام جو آھستہ آھستہ دربار خلافت میں رسوخ پا رھے تھے اور اپنی ان رشتہ دار عورتوں کی مدد سے جو بادشاہ کے حرم میں دخیل تھیں اعلیٰ عھدوں اور منصوبوں پر فائز ھوتے جا رھے تھے۔ خلیفہ کی اخلاقی کمزوریوں کو دیکہ کر بالکل اسلام سے بیگانہ اور دین سے متنفر ھو جاتے مگر ان ائمھع دین نے جو خلیفہ کی بدکرداریوں کے مقابلہ میں ایک اعلیٰ درجہ کی سیرت پیش کرتے تھے اسلام کا بھرم رکہ لیا۔ اور مسلم معاشرے کو بالکل برباد ھونے سے بچا لیا۔ جب عامة الناس آل رسول کے ان بھترین عمائد کو دیکھتے اور سیرت و کردار کے ان اعلیٰ نمونوں پر نگاہ ڈالتے تو ان کو یقین آ جاتا کہ دین اسلام کچھ اور چیز ھے اور اس کا نام لے کر ملکوں پر حکمرانی کرنا کچھ اور شے ھے…دارالحکومت اور شاھی دربار کے قرب میں ائمہ(ع) دین کی موجودگی نے اسلام کو ایک بڑے انقلاب سے بچا لیا۔ بنی امیہ کے مظالم سے تنگ آ کر لوگوں نے اقربائے نبی کے دامن میں پناہ لی تھی اور سمجھتے تھے کہ اب ھم اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس اور اس کے احکام پر عمل پیرا ھوں گے جب عباسیوں کی آمد بھی دینی اور معاشرتی گتھیوں کو نہ سلجھا سکی تو فطری طور پر لوگوں کو یہ احساس پیدا ھو چلا کہ اسلام ھی امن پذیر معاشرہ پیدا کرنے سے قاصر ھے مگر ائمہ اھل بیت(ع) کے وجود نے مسلمانوں کو مطمئن کر دیا کہ اسلام کے صحیح مبلغ ابھی تک برسراقتدار نھیں آئے اور ان کو اصلاح امت، تشکیل سیرت و تعمیر اخلاق کا موقع نھیں ملا۔ اس لئے ملک کی بدحالی اور تباھی کا ذمہ دار اسلام نھیں ھے بلکہ وہ قابویافتہ جماعت ھے جو اسلام کا نام لے کر دنیا کے سر پر سوار ھو گئی ھے۔ (تذکرہ محمد و آل محمد جلد ۳)۔ 

باوجود یہ کہ اپنے دور امامت میں آپ کی تقریباً پوری زندگی قید و بند میں رھی پھر بھی اپنے جد بزرگوار امیرالمومنین(ع) اور دیگر اسلاف کی سیرت کے مطابق جب اسلام کو آپکی مدد کی ضرورت پڑی تو ظالم حکومت کے بڑھائے ھوئے فریاد کے ھاتہ کو کبھی ناکام واپس جانے نہ دیا۔ چنانچہ جب قحط کے موقع پر ایک عیسائی راھب نے بارش کراکے اپنی روحانیت کے مظاھرہ سے دارالسلطنت عباسیہ کے بھت سے مسلمانوں کے ارتداد کے آثار پیدا کر دیئے تو اس وقت امام حسن عسکری(ع) تھے جنھوں نے اس کے طلسم کو شکستہ کرکے مسلمانوں کی استقامت کا سامان بھم پھنچایا۔ 

اس کے علاوہ آپ نے سچے پرستارانِ دین کی دینی تعلیم و تربیت کے فریضہ کو نظرانداز نھیں کیا۔ اس کے لئے اپنی طرف سے سفراء مقرر کئے جو اپنی بصیرت علمی کی حد بھر خود مسائل شرعیہ کا جواب دیتے تھے اور جن مسائل میں امام(ع) سے دریافت کرنے کی ضرورت ھوتی تھی ان کا خود مناسب موقع پر امام(ع) سے جواب حاصل کرکے سائل کی تشفی کر دیتے تھے۔ انھی کے ذریعہ سے اموالِ خمس کی جمع آوری ھوتی تھی اور وہ تنظیم سادات اور دیگر دینی مھمات پر صرف ھوتا تھا۔ اس طرح سلطنت دینوی کے متوازی حکومت دینی کا پورا ادارہ کامیابی کے ساتھ چل رھا تھا۔ 

پھر آپ نے قید و بند کے اسی شکنجہ میں جو وقتاً فوقتاً رھا کیا معارف اسلامی کی خدمت بھی جاری رکھی۔ چنانچہ بعض آپ کے احادیث شیعہ جوامع حدیث میں درج ھیں اور بعض کتب اھل سنت میں بھی درج ھیں۔ تفصیل کے لئے ھمارا رسالہ ”حسن عسکری(ع)“ دیکھئے جو امامیہ مشن سے شائع ھوا ھے۔ اسی طرح آپ کے تلامذہ نے بھی آپ کے افاداتِ علمی مرتب کئے ھیں ان کا تذکرہ بھی مذکورہ رسالہ میں ملاحظہ ھو۔ 

امام منتظر عجّل اللہ فرجہ الشر یف

یہ سلسلھٴ آل محمد کی آخری کڑی خود مادی نگاھوں سے اوجھل ھے پھر اس کی سیرت زندگی کا اس زمانہ کی مادی ذھنیت والے کو اندازہ ھی کیونکر ھو سکتا ھے؟ 

بے شک ھم قطعی دلائل کی بنا پر چونکہ آپ کے وجود اور غیبت کو تسلیم کرنے پر مجبور ھیں اور آپ کو انھی مقاصد کا محافظ جانتے ھیں جن کے آپ کے اسلاف کرام ھمیشہ محافظ رھے اس لئے ھم یقین رکھتے ھیں کہ آپ پردہ غیب میں بھی ان فرائض کو انجام دے رھے ھیں جو بحیثیت منصب آپ کے ذمہ ھیں۔ 

اس سلسلہ میں آپ کے عمل کو اپنے آبائے طاھرین علیھم السلام کی زندگی کے ساتہ جو مماثلت ھے اس پر ھم نے اپنے رسالہ ”وجود حجت“ (شائع کردہ امامیہ مشن لکھنوٴ) میں کافی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ھے جس کا ھر شخص مطالعہ کر سکتا ھے۔


source : http://www.alhassanain.com/urdu/show_book.php?book_id=315&link_book=ethics_and_supplication/ethics_books/inssani_rifat
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

السلام عليک يا علي بن موسي الرضا
امام حسین (ع) کے چند زرین اقوال
امام حسین کی زینب کو وصیت
سجدہِ شکر میں امام رضا علیہ السلام کی دعا
امام سجاد (ع) کی عبادت
حضرت امام علی رضا علیہ السلام (ع) کی نصیحتیں
حضرت فاطمہ سے پيغمبر(ص) كى مہر و محبت
امام جعفر صادق عليہ السلام کا دور
معراج انسانیت بقیہ معصُومین(ع) کی سِیرت
اہلبیت (ع) اور مفہوم لفظ اہلبیت (ع)

 
user comment