اردو
Wednesday 23rd of September 2020
  12
  0
  0

امامت آیہء تطہیرکی روشنی میں

ہ لیذہب عنکم الرجس اٴہل البیت ویطہّرکم تطہرا> (سورہرئہ احزاب/۳۳)

”بس اللہ کاارادہ یہ ہے اے اہل بیت!تم سے ہرقسم کی برائی کودوررکھے اوراس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جوپاک وپاکیزہ رکھنے کاحق ہے۔“

ایک اورآیت جوشیعوں کے ائمہء معصومین(ع)کی عصمت پر دلالت کرتی ہے وہ آیہئ تطہیرہے۔یہ آیہء کریمہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپکے اہل بیت علیہم السلام،یعنی حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہااورشیعہ امامیہ کے بارہ معصوم اماموں کی عصمت پردلالت کرتی ہے۔

آیہء کریمہ کی دلالت کو بیان کرنے کے لئے اس کے چند پہلوقابل بحث ہیں:

۱۔آیہء کریمہ میں لفظ”إنّما“فقط اورانحصارپردلالت کرتاہے۔

۲۔آیہء کریمہ میں ارادہ سے مرادارادہ،تکو ینی ہے نہ ارادہ تشریعی۔

۳۔آیہء کریمہ میں”اہل بیت“سے مرادصرف حضرت علی،فاطمہ،وحسن وحسین )علیہم السلام)اوران کے علاوہ شیعوں کے دوسرے ائمہ معصو مین علیہم السلام ہیں اورپیغمبراسلام (ص) کی بیویاں اس سے خارج ہیں۔

۴۔آیہء کریمہ کے بارے میں چندسوالات اوران کے جوابات

”إنّما“حصرکا فائدئہ دیتا ہے

جیساکہ ہم نے آیہء ولایت کی تفسیرمیں اشارہ کیاکہ علمائے لغت وادبیات نے صراحتاًبیان کیاہے لفظ”إنّما“حصرپردلالت کرتاہے۔لہذااس سلسلہ میں جوکچھ ہم نے وہاں بیان کیااس کی طرف رجوع کیاجائے۔اس سلسلہ میں فخررازی کے اعتراض کاجواب بھی آیہئ ولایت کے اعتراضات کے جوابات میں دے دیاگیاہے۔

آیہء تطہیرمیں ارادے سے مرادارادہ تکوینی ہے نہ تشریعی

آیہء شریفہ کے بارے میں بحث کادوسراپہلویہ ہے کہ:آیہء شریفہ میں جوارادہ ذکر کیاگیاہے،اس سے مرادارادہ تکوینی ہے نہ ارادہ تشریعی۔خداوندمتعال کے ارادے دوقسم کے ہیں:

۱۔ارادہ تکوینی:اس ارادہ میں ارادہ کامتعلق اس کے ساتھ ہی واقع ہوتاہے،جیسے، خداوندمتعال نے ارادہ کیاکہ حضرت ابراھیم علیہ السلام پرآگ ٹھنڈی اورسالم)بے ضرر)ہو جائے توایساہی ہوا۔

۲۔ارادہ تشریعی:یہ ارادہ انسانوں کی تکالیف سے متعلق ہے۔واضح ر ہے کہ اس قسم کے ارادہ میں ارادہ اپنے مراداورمقصودکے لئے لازم وملزوم نہیں ہے۔خداوندمتعال نے چاہاہے کہ تمام انسان نماز پڑھیں، لیکن بہت سے لوگ نماز نہیں پڑھتے ہیں۔تشریعی ارادہ میں مقصود اور مراد کی خلات ورزی ممکن ہے، اس کے برعکس تکوینی ارادہ میں ارادے کی اپنے مراد اور مقصود سے خلاف ورزی ممکن نہیں ہے۔

اس آیہ شریفہ میں ارادے سے مراد ارادہ تکوینی ہے نہ تشریعی اور اس کے معنی یہ ہے کہ:خداوند متعال نے ارادہ کیاہے کہ اہل بیت)علیہم اسلام)کو ہرقسم کی ناپاکی من جملہ گناہ و معصیت سے محفوظ رکھے اورانھیں پاک و پاکیزہ قراردے۔

خداوندمتعال کے اس ارادہ کے ساتھ ہی اہل بیت اطہارسے ناپاکیاں دور نیزمعنوی طہارت اور پاکیزہ گی محقق ہوگئی ،خداوندمتعال نے یہ ارادہ نہیں کیاہے کہ وہ خود اپنے آپ کو گناہ کی پلیدی اور ناپاکی سے محفوظ رکھیں اورخداوندمتعال کے حکم اور فرائض پر عمل کرکے اپنے آپ کوپاک وپاکیزہ بنائیں۔

آیہ تطہیر میں ارادہ کے تکوینی ہونے کے دلائل:

۱۔ارادہ تشریعی فریضہ شرعی کے مانند،دوسروں کے امورسے متعلق ہوتا ہے، جبکہ آیہ شریفہ میں ارادہ کا تعلق ناپاکی اور پلیدی کودورکرنے سے ہے جو ایک الہی فعل ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیہ شریفہ میں ارا دے سے مرادارادہ،تشریعی نہیں ہے۔

۲۔ انسانوں کوپلیدی اور ناپاکیوں سے دور رہنے اورپاک وپاکیزہ ہونے کے بارے میں خداوند متعال کا تشریعی ارادہ پیغمبر اکر (ص)کے اہل بیت (ع)سے مخصوص نہیں ہے بلکہ خدا وند متعال کا یہ ارادہ ہے کہ تمام انسان ناپاکیوں سے محفوظ رہیں اورطہارت وپاکیزگی کے مالک بن جائیں۔جبکہ آیہ تطہیرسے استفادہ ہوتاہے کہ یہ ارادہ صرف پیغمبراکرم (ص)کے اہل بیت علیہم السلام سے مخصوص ہے اور یہ اس کلمہ حصر کی وجہ سے ہے کہ جو آیہ شریفہ کی شروع میں آیا ہے۔ اس سے بالکل واضح ہو جا تا ہے کہ ارادہ کامتعلق)جوناپا کیوں سے دوری اورخداکی جا نب سے خاص طہا رت ہے )خارج میں متحقق ہے۔

۳۔آیہ شریفہ شیعوں اورسنیوں کے تفسیرواحادیث کی کتا بوں میں مذکوربے شمار احادیث اورروایتوں کے مطابق اہل بیت پیغمبر (ص)کی فضیلت وستائش کی ضامن ہے۔ اگرآیہ شریفہ میں ارادہ الہی سے مراد،ارادہ تشریعی ہوتاتویہ آیت فضیلت وستائش کی حامل نہیں ہوتی۔اس بناپر،جوکچھ ہمیں اس آیہ شریفہ سے معلوم ہوتاہے،وہ اہل بیت پیغمبر (ص)سے مخصوص طہارت و پاکیزگی اوران کاپلیدی اورناپاکیوں سے دور ہو ناارادہ الٰہی کے تحقق سے مر بوط ہے۔اوریہ ان منتخب انسانوں کے بارے میں خداکی جانب سے عصمت ہے۔ اس ارادہ الٰہی کے تکوینی ہونے کا ایک اورثبوت وہ احادیث ہیں جو خاص طور سے خدا وند متعال کی طرف سے اہل بیت علیہم السلام کی طہارت پر دلالت کرتی ہیں۔ہم یہاں پر ان احادیث میں سے دوحدیثوں کونمونہ کے طورپرذکرکرتے ہیں:

” واخرج الحکیم الترمذی والطبرانی وابن مردویہ وابونعیم والبیہقی معاً فی الدلائل عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال رسول اللہ - (ص)- انّ اللّہ قسّم الخلاق قسمیں فجعلنی فی خیرہما قسماً، فذلک قولہ۱۲فاٴنامن اٴصحاب الیمین واٴناخبراٴصحاب الیمین ثمّ جعل القسمین اٴثلاثاً،فجعلنی فی خیرہا ثلثاً،فذلک قولہ :۳فاٴنامن السابقین واٴناخیرالسابقین، ثمّ جعل الاٴثلاث قبائل،فجعلنی فی خیرہا قبیلة،وذلک قولہ:۴ واٴنااٴتقی ولدآدم واٴکرمہم عنداللّٰہ تعالی ولافخر،ثمّ جعل القبائل بیوتاًوجعلنی فی خیرہا بیتاً،فذلک قولہ:۵فاٴناواٴہل بیتی مطہّرون من الذنوب۔“۶

۱۔سورئہ واقعہ/۲۷ ۲۔سورئہ واقعہ/۴۱ ۳۔سورئہ واقعہ/۸۔۱۰ ۴۔سورئہ حجرات/۱۳ ۵۔سورئہ/احزاب/۳۳ 

۶۔الدرالمنثور، ج ۵، ص ۳۷۸، دارالکتاب، العلمیہ، بیروت، فتح، القدیر، شوکافی، ج ۴، ص ۳۵۰ دارالکتاب العلمیہ، بیروت۔المعروفہ و التاریخ، ج ۱، ص ۲۹۸

”حکیم ترمذی،طبرانی،ابن مردویہ،ابو نعیم اور بیہقی نے کتاب”الدلائل‘میں ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا:خداوندمتعال نے اپنی مخلوقات کودو حصوں میں تقسیم کیا ہے اور مجھ کوان میں سے برترقراردیاہے اورخداوندمتعال کاقول یہ ہے:اور میں اصحاب یمین میں سے سب سے افضل ہوں۔اس کے بعدمذکورہ دوقسموں)اصحاب یمین اوراصحاب شمال)کوپھرسے تین حصوں میں تقسیم کیااورمجھ کوان میں افضل ترین لو گوں میں قرار دیا اور یہ ہے خدا وند کریم کا قول:اورمیں سابقین اور افضل ترین لو گوں میں سے ہوں۔اس کے بعدان تینوں گروہوں کوکئی قبیلوں میں تقسیم کردیا،چنانچہ فر ما یا:

”اورپھرتم کو خاندان اور قبائل میں بانٹ دیاتاکہ آپس میں ایک دوسرے کوپہچان سکوبیشک تم میں سے خداکے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جوزیادہ پرہیزگارہے“ اورمیں فرزندان آدم میں پرہیزگار ترین اور خدا کے نزدیک محترم ترین بندہ ہوں اورفخرنہیں کرتاہوں۔

”اس کے بعدقبیلوں کوگھرانوں میں تقسیم کر دیااورمیرے گھرانے کوبہترین گھرانہ قرار دیااورفرمایا”بس اللّہ کاارادہ یہ ہے اے اہل بیت!تم سے ہر طرح کی آلودگی وبرائی کودوررکھے اور اس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جوپاک و پاکیزہ رکھنے کاحق ہے․“پس مجھے اورمیرے اہل بیت کو )برائیوں) گناہوں سے پاک قراردیاگیاہے۔“

۲۔ ”․․․ حدثني الحسن بن زید، عن عمربن علي، عن اٴبیہ عليّ بن الحسین قال خطب الحسن بن علي الناس حین قتل عليّ فحمداللّہ و اٴثنی علیہ ثمّ قال:لقد قبض في ہذہ اللیلة رجل لایسبقہ الاٴوّلون بعمل و لایدرکہ الآخرون، و قدکان رسول اللّہ (ص) یعطیہ رایتہ فیقاتل وجبرئیل عن یمینہ ومیکائیل عن یسارہ حتی یفتح اللّہ علیہ، وما ترک علی اٴھل الاٴرض صفراء ولابیضاء إلّا سبع مائة درہم فضلت عن عطایاہ اٴراد اٴن یبتاع بہاخادماً لاٴہلہ․

ثمّ قال: اٴیّہا الناس! من عرفني فقد عرفني ومن ُلم یعرفنيفاٴنا الحسن بن علي واٴنا ابن النبيّ واٴنا ابن الوصيّ واٴناابن البشیر، واٴنا ابن النذیر، واٴناابن الداعي إلی اللّہ باذنہ، واٴنا ابن السراج المنیر، و اٴنا من اٴہل البیت الّذی کان جبرئیل ینزل إلیناویصعدمن عندنا، و اٴنامن اٴہل البیت الّذی کان جبرئیل ینزل إلینا و یصعدمن عندنا، واٴنا من اٴہل البیت الّذی اٴذہب اللّہ عنہم الرجس وطہّرہم تطہیراً و اٴنا من اٴہل البیت الّذی افترض اللّہ مودّتہم علی کلّ مسلم، فقال تبارک و تعالی لنبیة:۱فاقتراف الحسنة مودّتنااٴہل البیت․۲“

”․․․عمربن علی نے اپنے باپ علی بن حسین (علیہ السلام)سے روایت کی ہے انہوں نے کہا: حسن بن علی (علیہ السلام)نے)اپنے والدگرامی)حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعدلوگوں کے در میان ایک خطبہ دیا جس میں۔حمدوثنائے الہی کے بعدفرمایا:

آج کی شب ایک ایساشخص اس دنیا سے رحلت کرگیاکہ گزشتہ انسانوں میں سے کسی نے ان پرسبقت حاصل نہیں کی اورنہ ہی مستقبل میں کوئی ا س کے مراتب و مدا رج تک پہو نچنے والا ہے۔

پیغمبراسلام (ص)اسلامی جنگوں میں ان کے ہاتھ پرچم اسلام تھما کر انہیں جنگ کے لئے روانہ کر تے تھے، جبکہ اس طرح سے کہ جبرئیل)امورتشریعی میں فیض الہٰی کے وسیلہ)ان کی دائیں جانب اورمیکائیل)امورارزاق میں فیض الہٰی کے ذریعہ)ان کی بائیں جانب ہوا کرتے تھے۔او روہ جنگ سے فتح کامرانی کے حاصل ہو نے تک واپس نہیں لوٹتے تھے۔

انھوں نے اپنے بعد زر وجواہرات میں سے صرف سات سودرہم بہ طور ”تر کہ“ چھوڑے جو صدقہ و خیرات کے بعد باقی بچ گئے تھے اور وہ اس سے اپنے اہل بیت کے لئے ایک خادم خریدناچاہئے تھے۔

اس کے بعدفرمایا:اے لوگو!جو مجھے پہچانتا ہے، وہ پہنچاتا ہے اورجونہیں پہچانتاوہ پہچان لے کہ میں حسن بن علی (ع) ہوں، میں پیغمبر کافرزندہوں، ان کے جانشین کا فرزند، بشیر)بشارت دینے والے)ونذیر)ڈرانے والے)کافرزندہوں،جوخداکے حکم سے لوگوں کوخداکی طرف دعوت دیتاتھا،میں شمع فروزان الٰہی کا بیٹاہوں، اس خاندان کی فرد ہوں کہ جہاں ملائکہ نزول اور جبرئیل رفت وآمد کر تے تھے۔میں اس خاندان سے تعلق رکھتا ہوں کہ خدائے متعال نے ان سے برائی کودورکیاہے اورانھیں خاص طور سے پاک وپاکیزہ بنایاہے۔میں ان اہل بیت میں سے ہوں کہ خداوندمتعال نے ان کی دوستی کوہرمسلمان پرواجب قراردیاہے اورخدا وندمتعال نے اپنے پیغمبرسے فرمایا:” اے پیغمبر!کہدیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کے بد لے کسی اجرت کا مطا لبہ نہیں کر تا ہوں سواء اس کے کہ میرے قرابتداروں سے محبت کرواورجوشخص بھی کوئی نیکی دے گا ہم اس کی نیکیوں کی جزامیں اضافہ کردیں گے ”لہذانیک عمل کاکام انجام دینا ہی ہم اہل بیت(ع)کی دوستی ہے۔“

ان دواحادیث سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں خداکی مخصوص طہارت کے خارج میں متحقق ہو نے سے مرادان کی عصمت کے علاوہ کوئی اورچیز نہیں ہے۔اور یہ بیان واضح طور پر اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ آیہء شریفہ میں ارادہ سے مراد ارادہ،تکوینی ہے۔

آیہء تطہیر میں اہل بیت علیہم السلام

اس آیہء شریفہ کی بحث کاتیسراپہلویہ ہے کہ آیہء کریمہ میں ”اہل البیت“سے مراد“کون ہیں؟اس بحث میں دوزاویوں سے توجہ مبذول کرناضروری ہے:

۱۔اہل بیت کا مفہوم کیاہے؟ 

۲۔اہل بیت کے مصادیق کون ہیں؟

اگرلفظ”اہل“کا استعمال تنہاہوتویہ مستحق اورشائستہ ہو نے کامعنی دیتاہے اوراگراس لفظ کی کسی چیز کی طرف اضافت ونسبت دی جائے توا س اضا فت کے لحاظ سے اس کے معنی ہوں گے۔مثلاً”اہل علم“اس سے مرادوہ لوگ ہیں جن میں علم ومعرفت موجودہے اور”اہل شہروقریہ“سے مرادوہ لوگ ہیں جواس شہریاقریہ میںزندگی بسرکرتے ہیں،اہل خانہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس گھر میں سکونت پذیر ہیں،مختصریہ کہ:”اہل“کامفہوم اضافت کی صورت میں مزید اس شی کی خصوصیت پردلالت کرتاہے کہ جس کی طرف اس کی نسبت دی گئی ہے۔۔۔

لفظ”بیت“میں ایک احتمال یہ ہے کہ بیت سے مراد مسکن اور گھرہواور دوسرااحتمال یہ ہے کہ بیت سے مراد حسب ونَسَب ہوکہ اس صورت میں”اہل بیت“کامعنی خاندان کے ہوں گے۔ایک اوراحتمال یہ ہے کہ” اہل بیت “میں”بیت“سے مراد،خا نہ نبوت ہواور یہاں پر قابل مقبول احتمال یہیموخرالذکراحتمال ہے،اس کی وضاحت انشاء اللہ آیندہ چل کر آئے گی۔

ان صفات کے پیش نظر”اہل بیت“سے مرادوہ افراد ہیں جواس گھرکے محرم اسرار ہوں اورجوکچھ نبی (ص)کے گھرمیں واقع ہوتاہے اس سے واقف ہوں۔

اب جبکہ”اہل بیت“کامفہوم واضح اورمعلوم ہوگیا توہم دیکھتے ہیں کہ خارج میں اس کے مصادیق کون لوگ ہیں اور یہ عنوان کن افرادپر صادق آتاہے؟

اس سلسلہ میں تین قول پائے جاتے ہیں:

۱۔”اہل بیت“سے مرادصرف پیغمبراکرم (ص)کی بیویاں ہیں۔3

۲۔”اہل بیت“سے مراد خودپیغمبر،علی وفاطمہ،حسن وحسین )علیہم السلام)نیزپیغمبر (ص)کی بیویاں ہیں۔4

۳۔شیعہ امامیہ کانظریہ یہ ہے کہ”اہل بیت“سے مرادپیغمبر (ص)آپکی دختر گرامی حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)اوربارہ ائمہ معصومین) علیہم السلام)ہیں۔

بعض سنی علماء جیسے:طحاوی نے”مشکل ا لآثار“میں اورحاکم نیشابوری نے”المستدرک“میں”اہل بیت“سے صرف پنجتن پاک )علہیم السلام )کو مراد لیاہے۔

”اہل بیت“کوواضح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس سلسلہ میں دوجہات سے

بحث کریں:

۱۔آیہء شریفہ کے مفاد کے بارے میں بحث۔

۲۔آیہء شریفہ کے ضمن میں نقل کی گئی احادیث اورروایات کے بارے بحث۔

آیت کے مفاد کے بارے میں بحث

آیت کے مفہوم پر بحث کے سلسلہ میں درج ذیل چند نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے:

اول یہ کہ:لغوی اور عرفی لحاظ سے”اہل بیت“کا مفہوم پنجتن پاک کے عنوان کوشامل ہے۔

دوسرے یہ کہ آیہء شریفہ میںضمیر”عنکم)جوجمع مذکر کے لئے ہے)کی وجہ سے اہل بیت کے مفہوم میں پیغمبراکرم (ص) کی بیویاں شامل نہیں ہیں۔

تیسرے یہ کہ:بہت سی ایسی روایتیں مو جودہیں جن میں”اہل بیت“کے مرادسے پنجتن پاک)علیہم السلام)کو لیاگیاہے۔لہذایہ قول کہ اہل بیت سے مرادصرف پیغمبراکرم (ص)کی بیویاں ہیں،ایک بے بنیاد بلکہ برخلاف دلیل قول ہے۔یہ قول عکرمہ سے نقل کیا گیا ہے وہ کہتاتھا:

”جوچاہتا ہے،میں اس کے ساتھ اس بابت مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں کہ آیہئ شریفہ میں”اہل بیت کا مفہوم“پیغمبر (ص)کی بیویوں سے مختص ہے5“

اے کاش کہ اس نے)اس قول کی نسبت اس کی طرف صحیح ہونے کی صورت میں)مباہلہ کیاہوتا اورعذاب الہٰی میں گرفتار ہواہوتا!کیونکہ اس نے پنجتن پاک(ع)کی شاٴن میں نقل کی گئی ان تمام احادیث سے چشم بستہ انکار کیا ہے جن میں آیہء تطہیرکی شان نزول بیان کی گئی ہے۔

لیکن دوسرے قول کہ جس کے مطابق”اہل بیت کے مفہوم“میں پیغمبر (ص) کی بیویاں نیزعلی،فاطمہ،حسن اورحسین)علیہم السلام)شامل ہیں کوبہت سے اہل سنت،بلکہ ان کی اکثریت نے قبول کیا۔

اور انھوں نے،اس نظریہ کو ثابت کر نے کے لئے آیات کے سیاق سے استدلال کیا ہے۔اس کی وضاحت یوں کی ہے کہ آیہء تطہیرسے پہلے والی آیتیں اور آیت تطہیر کے بعد والی آیتیں پیغمبراکرم (ص) کی بیویوں سے متعلق ہیں۔چونکہ آیہء تطہیر ان کے درمیان میں واقع ہے،اس لئے مفہوم اہل بیت کی صلا حیت اورقرینہء سیاق کے لحاظ سے،اس میں پیغمبراکرم (ص)کی بیویاں شامل ہیں۔

ابن کثیر نے اپنی تفسیر،قرینہء سیاق کے پیش نظر آنحضرت (ص) کی بیویوں کو یقینی طو رپر اہل بیت کی فہرست میں شامل جاناہے۔

سیاق آیہء تطہیر

کیا آیہء تطہیر کے سیاق کے بارے میں کیا گیا دعویٰ قابل انعقادہے؟اورپیغمبر (ص)کی بیویوں کے اہل بیت کے زمرے میں شامل ہونے کو ثابت کرسکتاہے؟مطلب کوواضح کرنے کے لئے درج ذیل چند نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے:

اول یہ کہ:چند آیات کے بعد صرف ایک آیت کا واقع ہو نا سیاق کے واقع ہو نے کا سبب نہیں بن سکتا ہے اوردوسری طرف سے یہ یقین پیدا نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یہ آیتیں ایک ساتھ ایک مر تبہ نازل ہوئی ہیں،کیونکہ سیاق کے واقع ہو نے کے سلسلہ میں شر ط یہ ہے کہ آیات کا نزول ایک دوسرے کے ساتھ انجام پایا ہو۔لہذاہم شک کرتے ہیں اورممکن نہیں ہے کہ ہم سیاق کو احراز)متعین)کر سکیں جبکہ موجودہ قرآن مجیدکی تر تیب نزول قرآن کی ترتیب کے متفاوت ہے،اس لئے اس مسئلہ پرکبھی اطمینان پیدانہیں کیا جا سکتا ہے کہ آیہء تطہیر کا نزول پیغمبر (ص)کی بیویوں سے مربوط آیات کے بعد واقع ہواہے۔

اگریہ کہا جائے کہ:اگرچہ یہ آیتیں ایک ساتھ نازل نہیں ہوئی ہیں،لیکن ہرآیہئ اورسورئہ کو پیغمبر (ص) کی مو جودگی میں ان کی نظروں کے سامنے ایک خاص جگہ پرانھیں رکھا گیا ہے،اس لئے آیات کا ایک دوسرے کے ساتھ معنوی رابطہ کے پیش نظران آیات میں سیاق واقع ہو اہے لہذاپیغمبر (ص) کی بیویاں پنجتن پاک علیہم السلام کے ساتھ اہل بیت کے زمرے میں شامل ہوں گی۔

اس کا جواب یہ ہے کہ:اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ آیہء تطہیر کا اس خاص جگہ پرواقع ہو ناآیات کے معنوی پیوند کے لحاظ سے ہے اور وہ چیز کہ جس پر دلیل قائم ہے صرف یہ ہے کہ پیغمبراکرم (ص) نے کسی مصلحت کے پیش نظر اس آیت کواپنی بیویوں سے مربوط آیات کے درمیان قراردیا ہے،لیکن یہ کہ مصلحت صرف آیات کے درمیان معنوی رابطہ کی وجہ سے ہے اس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ممکن ہے اس کی مصلحت آنحضرت (ص) کی بیویوں کے لئے ایک انتباہ ہوکہ تمہارااہل بیت“کے ساتھ ایک رابطہ اور ہے ،اس لئے اپنے اعمال کے بارے میں ہوشیار رہنا،نہ یہ کہ وہ خود”اہل بیت“کی مصداق ہیں۔

دوسرے یہ کہ:آیہء کریمہ میں کئی جہتوں سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ آیہء تطہیر کا سیاق اس کی قبل اور بعد والی آیات کے سیاق سے متفاوت ہے اوریہ دو الگ الگ سیاق ہیں اور ان میں سے ہر ایک ،ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے جس کا دوسرے سے کوئی ربط نہیں ہے۔وہ جہتیں حسب ذیل ہیں:

پہلی جہت:پیغمبر (ص) کی بیوں سے مربوط آیات کا سیاق سرزنش کے ساتھ ہے)چنانچہ آیت۲۸ کے بعدغورکرنے سے معلوم ہو تا ہے)اوران آیات میں پیغمبراکرم (ص)کی بیویوں کی کسی قسم کی ستائش اور تعریف نہیں کی گئی ہے،جبکہ آیہء تطہیر کے سیاق میں فضیلت وبزرگی اورمدح و ستا ئش ہے اورآیہ تطہیر کے ذیل میں ذکر ہو نے والی احادیث سے یہ مطلب اور بھی زیادہ روشن و نمایاں ہو جا تا ہے۔

دوسری جہت:یہ کہ آیہء تطہیر کی شاٴن نزول مستقل ہے اورآنحضرت (ص)کی بیویوں سے مربوط آیات کی شاٴن نزول بھی مستقل ہے چنانچہ آنحضرت (ص) کی بیویوں نے اپنے حق سے زیادہ نفقہ کاتقاضا کیا تھا لہذا مذکورہ آیتیں اسی مناسبت سے نازل ہوئی ہیں۔اس شاٴن نزول کے بارے میں مزیدآگاہی حاصل کرنے کے لئے شیعہ وسنی تفسیروں کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔

اس سلسلہ میں پہلے ہم آنحضرت (ص) کی بیویوں سے مربوط آیات کی طرف اشارہ کر تے ہیں کہ اور اس کے بعد اس حدیث کا ترجمہ پیش کریں گے جسے ابن کثیر نے ان آیات کی شاٴن نزول کے سلسلہ میں ذکر کیا ہے:

)احزاب/۲۸۔۳۴)

”پیغمبر!آپ اپنی بیویوں سے کہد جئے کہ اگر تم سب زندگانی دنیااوراس کی زینت کی طلبگارہوتوآؤمیں تمہارامہرتمھیں دیدوں اورخوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں اوراگراللہ اور رسول اورآخرت کی طلبگار ہو تو خدا نے تم میں سے نیک کردار عورتوں کے لئے اجر عظیم قرار دیا ہے ۔اے زنان پیغمبرجو بھی تم میں سے کھلی ہوئی برائیوں کاارتکاب کرے گااس کو دھرا عذاب کر دیا جائے گا اوریہ بات خد اکے لئے بہت آسان ہے۔اورجوبھی تم میں سے خدااوررسول کی اطاعت کرے اورنیک عمل انجام دے اسے دہرا اجر عطا کیا جائے گا اورہم نے اس کے لئے بہترین رزق فراہم کیا ہے ۔اے زنان پیغمبر!تم اگر تقویٰ اختیار کرو تو تمھارامرتبہ عام عورتوں کے جیسا نہیں ہے،لہذا کسی آدمی سے نازکی)دل لبھانے والی کیفیت) سے بات نہ کرو کہ بیمار دل افراد کوتمہاری طمع پیدا ہو اور ہمیشہ شائستہ و نیک باتیں کیا کرواور اپنے گھروں میں بیٹھی رہواور جاہلیت کے زما نہ کی طرح بناؤ سنگار نہ کرواور نماز قائم کرو اورزکوةادا کرو اوراللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرو۔بس اللہ کا ارادہ ہے اے اہل بیت!کہ تم سے ہر طرح کی برائی کو دور رکھے اوراس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جوپاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔اورازواج پیغمبر!تمھارے گھروں میں جن آیات الہٰی اور حکمت کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے انھیں یادرکھو خدا لطیف اور ہرشے سے آگاہ ہے۔“

ابن کثیر نے ابی الزبیر سے اوراس نے جابر سے روایت کی ہے:

”لوگ پیغمبر (ص)کے گھر کے سامنے بیٹھے تھے،اسی حالت میں ابوبکراورعمرآگئے اورداخل خا نہ ہونے کی اجازت چاہی۔پہلے انھیں اجازت نہیں دی گئی۔جب انھیں اجازت ملی اور وہ خا نہ رسول میں ہوئے توانہوں نے کیادیکھاکہ آنحضرت (ص)بیٹھے ہوئے ہیں اورآپ کی بیویاں بھی آپکے گردبیٹھی ہوئی ہیں اورآنحضرت (ص) ،خاموش تھے۔عمر نے آنحضرت (ص)کو ہنسا نے کے قصد سے کہا:یارسول اللہ!اگرآپ دیکھتے کہ بنت زید) اس سے مراد عمر کی زوجہ ہے) نے جب مجھ سے نفقہ کا تقاضا کیا تو میں نے کیسی اس کی پٹائی کی!یہ سن کرپیغمبراکرم (ص)ایسا ہنسے کہ آپکے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔پیغمبر (ص)نے فرمایا:یہ )میری بیویاں)میرے گردجمع ہوئی ہیں ا ور مجھ سے)بیشتر)نفقہ کا تقاضا کرتی ہیں۔اس وقت ابوبکرعائشہ کو مار نے کے لئے آگے بڑھے اور عمر بھی اٹھے اوردونوں نے اپنی اپنی بیٹیوں سے نصیحت کر تے ہو ئے کہا:تم پیغمبر (ص)سے ایسی چیزکامطالبہ کرتی ہوجوپیغمبر کے پا س نہیں ہے؟آنحضرت (ص)نے انھیں مار نے سے منع فرمایا۔اس قضیہ کے بعد آنحضرت (ص)کی بیویوں نے کہا:ہم آج کے بعد سے پیغمبر (ص)سے کبھی ایسی چیز کا تقاضا نہیں کریں گے،جوان کے پاس موجود نہ ہو۔خدا وند متعال نے مذکورہ آیات کو نازل فرمایا جس میں آنحضرت (ص)کی بیویوں کو پیغمبر کی زوجیت میں باقی رہنے یا انھیں طلاق کے ذریعہ آنحضرت کو چھوڑ کے جا نے کا اختیار دیا گیاہے۔6“

یہ تھی،آنحضرت (ص)کی ازواج سے مربوط آیات کی شاٴن نزول۔جبکہ آیہء تطہیر کی شاٴن نزول پنجتن آل عبا اورائمہ معصومین (علیہم السلام) سے متعلق ہے۔اس سلسلہ میں شیعہ وسنی تفسیر اورحدیث کی کتا بوں میں کافی تعداد میں روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔ہم ان میں سے چند ایک کا ذکر احادیث کے باب میں کریں گے۔

اس شاٴن نزول اورپیغمبراکرم (ص)کی ازواج سے مربوط آیات کی شاٴن نزول میں احتمالاً کئی سالوں کا فاصلہ ہے۔اب کیسے ان آیا ت کے در میان وحدت سیاق کے قول کو تسلیم کیا جا سکتا ہے اورکیاان دو مختلف واقعات کو ایک سیاق میں ضم کرکے آیت کے معنی کی توجیہ کی جاسکتی ہے؟

تیسری جہت:یہ کہ سیاق کے انعقادکو مختل کرنے کاایک اورسبب پیغمبراکرم (ص)کی بیویوں سے مربوط آیات اور آیہء تطہیر کے ضمیروں میں پا یا جا نے والا اختلاف ہے۔مجموعی طورپر مذکورہ آیات میں جمع مونث مخاطب کی ۲۲ضمیریں ہیں۔ان میں سے۲۰ضمیریں ایہء تطہیرسے پہلے اوردوضمیریں ایہء تطہیر کے بعداستعمال ہوئی ہیں،جبکہ آیہء تطہیر میں مخاطب کی دوضمیریں ہیں اوردونوں مذکر ہیں۔اس اختلاف کے پیش نظر کیسے سیاق محقق ہوسکتا ہے؟

اعتراض:آیہء تطہیرمیں ”عنکم“اور”یطھّرکم“سے مراد صرف مرد نہیں ہیں،کیونکہ عورتوں کے علاوہ خود پیغمبر (ص)علی ،حسن وحسین (علیہم السلام) بھی اس میں داخل تھے۔اس لئے”کم“کی ضمیر آئی ہے اورعربی ادبیات میں اس قسم کے استعمال کو ”تغلیب“کہتے ہیں اوراس کے معنی یہ ہیں کہ اگر کسی حکم کا ذکرکرنا چاہیں اوراس میں دوجنس کے افراد شامل ہوں،تو مذکر کو مونث پر غلبہ دے کر لفظ مذکر کو ذکر کریں گے اوراس سے دونوں جنسوں کا ارادہ کریں گے۔

اس کے علاوہ،مذکرکی ضمیرکا استعمال ایسی جگہ پر کہ جہاں مونث کا بھی ارادہ کیا گیا ہے قرآن مجید میں اور بھی جگہوں پر دیکھنے میں آیا ہے،جیسے درج ذیل آیات میں7 کہ حضرت ابراھیم) علیہ السلام) کی زوجہ سے خطاب کے بعد جمع مذکر حاضر کی ضمیر اور اہل بیت کا عنوان ذکر ہوا ہے۔

8کہ حضرت موسی علیہ اسلام کے اہل خاندان )کہ جس سے مرادان کی زوجہ ہے) کے ذکرکے بعد ضمیرجمع مذکر حاضر کے ذریعہ خطاب کیا گیا ہے۔

جواب: ہر کلام کا اصول یہ ہے کہ الفاظ کو اس کے حقےقی معنی پر حمل کیا جائے اور َََّٰٰٰ”اصالة الحقےقة“اےک ایسا عقلائی قاعدہ ہے کہ جس کے ذریعہ ہر لغت وزبان کے محاورات و مکالمات میں استناد کیا جاتاہے۔

اس عقلائی قاعدے کی بنیاد پر جس لفظ کے بارے میں یہ شک پیدا ہو کہ وہ اپنے حقےقی معنی میں استعمال ہوا ہے یا نہیں، اسے اس کے حقےقی معنی پر حمل کرنا چاہے۔ اس لحاظ سے آیہء تطہیر میں

دو جگہ پراستعمال ہوئی”کم“کی ضمیرسے مراد اس کے حقےقی معنی ہیں اور یہ کہ آ یہ شرےفہء مذکور میں تمام افراد اہلبیت مذکر تھے، صرف قرینہ خارجی اور آیت کی ذیل میں روآیت کی گئی احادیث کی وجہ سے قطعی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت کی فہرست میں حضرت فاطمہ زہراسلام اللهعلیہابھی شامل ہیں، اور ان کے علاوہ کوئی مونث فرد اہل بیت میں شامل نہیں ہے۔ اور آیہ شرےفہ میں قاعدئہ”اقرب المجازات“جاری ہوگا۔

لےکن شواہدکے طور پر پےش کی گئی آیات میں قرینہ کی وجہ سے مونث کی جگہ ضمیر مذکر کا استعمال ہوا ہے اوریہ استعمال مجازی ہے اور اےک لفظ کا مجازی استعمال قرینہ کے ساتھ دلیل نہیں بن سکتا ہے کہ قرینہ کے بغیر بھی یہ عمل انجام دیا جائے اور جےسا کہ کہا گیاکہ اصل استعمال یہ ہے کہ لفظ اس کے حقےقی معنی میں استعمال ہواور ایسا نہ ہونے کی صورت میں قاعدہ”اقرب المجازات“کی رعآیت کی جانی چاہئے۔

آیہ تطہیر کے بارے میں احادیث

شےعہ اور اہل سنت کے منابع میں بڑی تعداد میں ذکر ہونے والی احادیث سے واضح طور پریہ معلوم ہوجاتا ہے کہ آیہ تطہیر میں”اہل بیت“سے مراد صرف پنجتن پاک) علیہم السلام) ہیں اور ان میں پےغمبر اسلام (ص) کی بےویاں کسی جہت سے شامل نہیں ہیں۔ اس سلسلہ میں مذکورہ

منابع میں اتنی زیادہ حدیثیں نقل ہوئی ہیں کہ حاکم حسکانی 9نے اپنی کتاب”شواہد التنزیل“ کے صفحہ۱۸سے لیکر۱۴۰تک انہی احادیث سے مخصوص کیا ہے۔10ہم ذیل )حاشیہ) میں اہل سنت کے بعض منابع کا ذکرکرتے ہیں کہ جن میں مذکورہ احادیث یا درج ہو ئی ہے یاان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

ان احادیث کے رادیوں کا سلسلہ جن اصحاب پرمنتہی ہو تا ہے وہ حسب ذیل ہیں:

۱۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام

۲۔ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللهعلیہا

۳۔ حسن بن علی علیہ السلام

۴۔ انس بن مالک

۵۔ براء بن عازب انصاری

۶۔ جابربن عبد الله انصاری

۷۔ سعد بن ابی وقاص

۸۔ سید بن مالک)ابو سعید خدومی)

۹۔ عبد اللهبن عباس

۱۰۔ عبدالله بن جعفرطیار

۱۱۔ عائشہ

۲۱۔ ام سلمہ

۱۳۔ عمربن ابی سلم

۱۴۔ واثلة بن اسقع

۱۵۔ ابی الحمرائ

اس کے علاوہ شیعوں کی حدیث اور تفسیر کی کتابوں اور بعض اہل سنت منابع میں درج کی گئی احادیث اور روایتوں سے استفادہ ہو تا ہے کہ ” اہل بیت “سے مراد پیغمبر اسلام (ص)علی، فاطمہ نیز شیعوں کے گیارہ ائمہ معصومین )علیہم السلام )ہیں۔

آیہ تطہیر کے بارے میں احادیث کی طبقہ بندی

آیہ تطہیر سے مربوط احادیث کو اہل سنت کے مصادر میں مطالعہ کرنے اور شیعوں کے منابع میں موجود ان احادیث کا سرسری جائزہ لینے کے بعد انھیں چند طبقوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

۱۔ وہ حدیثیں جن میں ” اہل بیت “ کی تفسیر علی و فاطمہ، حسن وحسین علیہم السلام کے ذریعہ کی گئی ہے۔

۲۔ وہ حدیثیں جن کا مضمون یہ ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے علی، وفاطمہ،حسن و حسین علیہم السلام کو کساء کے نیچے قرار دیا پھر آیہ تطہر نازل ہوئی ، اور یہ واقعہ ” حدیث کساء “ کے نام سے مشہور ہے ۔ ان میں سے بعض احادیث میں آیا ہے کہ ام سلمہ یا عائشہ نے سوال کیا کہ : کیا ہم بھی اہل بیت میں شامل ہیں؟

۳۔ وہ حدیثیں جن میں پیغمبر اکرم (ص) ہرروز صبح کو یا روزانہ پانچوں وقت حضرت علی و فاطمہ علیہماالسلام کے کھرکے دروازے پر تشریف لے جاتے تھے اور سلام کر تے تھے نیز آیہ تطہیر کی تلاوت فرماتے تھے۔

۴۔ وہ حدیثیں جواس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آیہ تطہیر پنجتن پاک علیہم السلام یا پنجتن پاک علیہم السلام نیز جبرئیل ومیکائیل کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔

یہاں پرمناسب ہے کہ احادیث کے مذکورہ چارطبقات میں سے چند نمونوں کی طرف اشارہ کیا جاے:

۱۔ ”اہل بیت“کی پنجتن پاک سے تفسیر

ذیل میں چند ایسی احادیث بیان کی جاتی ہیں جن میں آیہء تطہیر میں”اہل بیت“کی تفسیرپنجتن پاک) علیہم السلام )سے کی گئی ہے:

الف:کتاب”المستدرک علی الصحیحین“میں عبداللہ بن جعفر سے روایت کی گئی ہے:

لمّا نظر رسول اللّٰہ (ص) إلی الرحمة ہابطة قال: اٴُدعوالی، اٴُدعوالی۔ فقالت صفیة: من یا رسول اللّٰہ؟ قال:اٴہل بیتی:علیاً وفاطمہ والحسن و الحسین - علیہم السلام - فجیئی بہم،فاٴلقی علیہم النبییّ (ص) کساء ہ ثم رفع یدیہ ثمّ قال: ”اللّہمّ ہؤلاء آلی فصل علی محمد و علی آل محمد“ و اٴنزل اللّٰہ عزّوجلّ:< إنّما یرید اللّٰہ لیذہب عنکم الرجس اھل البیت و یطہّرکم تطہیراً> ہذا حدیث صحیح الاسناد۔ 11

”جب پیغمبر خدا (ص)نے رحمت الہی )جو آسمان سے نازل ہوئی تھی) کا مشاہدہ کیا تو فرمایا: میرے پاس بلاؤ!میرے پاس بلاؤ!صفیہ نے کہا:یارسول اللہ کس کو بلاؤں؟آپ نے فرمایا:میرے اہل بیت،علی وفاطمہ، حسن وحسین )علیہم السلام)کو۔

جب ان کو بلایا گیا،تو پیغمبراکرم (ص)نے اپنی کساء )ردا)کوان پر ڈال دیااوراپنے ہاتھ پھیلاکر یہ دعا کی:خدایا!”یہ میرے اہل بیت ہیں۔محمد اور ان کے اہل بیت پر دورد ورحمت نازل کر۔“اس وقت خدا وند متعال نے آیہء شریفہنازل فرمائی۔

اس حدیث کے بارے میں حاکم نیشاپوری کا کہنا ہے:

”ہذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ۔“

”اس حدیث کی سند صحیح ہے اگرچہ بخاری اورمسلم نے اپنی صحیحین میں سے نقل نہیں کیا ہے۔“12

قابل غوربات ہے کہ حاکم نیشاپوری کا خود اہل سنت کے حدیث ورجال کے بزرگ علماء اور امام میں شمار کیا جاتا ہے ۔

ب:عن ابی سعید الخدری عن اٴُم سلمة قالت: ”نزلت ہذہ الآیة فی بیتی:< إنّما یرید اللّہٰ لیذہب عنکم الرجس اٴہل البیت و یطہّرکم تطہیراً > قلت: یا رسول اللّٰہ، اٴلست من اٴہل البیت؟ قال: إنّک إلی خیر، إنّک من اٴزواج رسول اللّٰہ (ص)۔ قالت: و اٴہل البیت رسول اللّٰہ و علیّ و فاطمة والحسن والحسن“ 13

”ابی سعیدخدری نے ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا:یہ آیت:

میرے گھر میں نازل ہوئی میں نے عرض کی یارسول اللہ!کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟فرمایا:تمھارا انجام بخیر ہے،تم رسولکی بیوی ہوپھرام سلمہ نے کہا:”اہل بیت“رسول اللہ (ص) علی و فاطمہ، حسن وحسین (علیہم السلام) ہیں۔

۱۔حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب ”المستدرک علی الصحیحین“میں ان ا حادیث کودرج کیا ہے جو بخاری

کے نزدیک صحیح ہو نے کی شرط رکھتی تھیں،لیکن انہوں نے انھیں اپنی کتابوں میں درج نہیں کیا ہے۔جو کچھ ذہبی اس حدیث کے خلاصہ کے ذیل میں۔ اس کے ایک راوی ۔ملیکی کے بارے میں کہتا ہیں کہ:”قلت: الملیکی ذاھب الحدیث“اس کے عدم اعتماد کی دلیل نہیں ہو سکتی ہے۔کیونکہ اس کے بارے میں جیسا کہ ابن حجر نے”تہذیب التہذیب“ج۶،ص۱۳۲ پر”ساجی“سے نقل کر کے”صدوق“ کی تعبیرکی ہے۔ اس کی صداقت اور سچ کہنے کی دلیل ہے۔اوراس کی مدح میں جوتعبیرات نقل کی گئی ہے وہ اس کی حدیث کے بارے میں ہے اورخود صحیح بخاری ومسلم میں بھی ہم بہت سے ابواب میں ان کے راویوں کوپاتے ہیں کہ بہت سی تعرفیں کی گئی ہیں۔

شےعہ اور اہل سنت کی تفاسیر و احادیث کی کتابوں میں اس مضمون کی فراون حدیثیں موجود ہیں کہ پےغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل بیت علیہم السلام کو اےک کساء کے نےچے جمع کیا اور اس کے بعد ان کے بارے میں آیہ تطہیر نازل ہوئی۔ ہم اس کتاب میں ان احادیث میں سے چند اےک کو نمونہ کے طور پر پےش کرتے ہیں۔

قابل توجہ بات ہے کہ شےعہ امامیہ کے نزدےک حدیث کساء ایک خاص اہمیت و منزلت کی حامل ہے۔ یہ حدیث مرحوم بحرانی 14کی کتاب،”عوالم العلوم“میں حضرت فاطمہ زہرا )سلام اللهعلیہا) سے روآیت کی گئی ہے اور مختلف زمانوں میں شےعوں کے نا مور علماء اور فقہا کے نام سے مزّین اسناد کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ نیز یہ حدیث شےعوں کی مجلسوں اور محفلوں میں پڑھی جاتی ہے اور توسّل اور تبّرک کا ذریعہ قرار دی گئی ہے۔

احادیث کے اس گروہ میں درجہ ذیل تعبیر یں توجہ کا باعث ہیں اور ان تعبیروں میں سے ہر اےک ”اہل بیت “ کے دائرے کو پنجتن پاک )علیہم اسلام) کی ذات میں متعین کرتی ہیں: 

۱۔”إنّک الی خیر“ یا جملہء”انّک من ازواج النبّی“ سے ضمیمہ کے ساتھ15

۲۔”تنحّی، فإنّک علی خیر۔“16

۳۔”فجذبہ من یدی۔“۴

۴۔”ماقال إنّک من ٍہل البیت۔“17

۵۔”لا،واٴنت علی خیر۔“18

۶۔”فواللّٰہ مااٴنعم۔“19

۷۔”مکانک،اٴنت علی خیر۔“20

۸۔”فوددت اٴنّہ قال:نعم۔۔۔“21

۹۔”تنحیّ لی عن اٴہل بیتی۔“22

۱۰۔”إنّک لعلی خیر،ولم ید خلنی معہم۔“23

۱۱۔”فواللّٰہ ماقال:اٴنت معہم۔“۶

۱۲۔”اجلسی مکا نک،فانک علی خیر۔“24

۱۳۔”إنّک لعلی خیر،وہؤلائ اٴہل بیتی۔“25

۱۔”إنک إلی خیر“کی تعبیر

”اٴخرج ابن جریر و ابن حاتم و الطبرانی و ابن مردویہ عن اٴمّ سلمة زوج النبیّ (ص) إنّ رسول اللّٰہ (ص)کان ببیتہا علی منامة لہ علیہ کساء خیبریّ! فجا ء ت فاطمة - رضی اللّٰہ عنہا - ببرمة فیہا خزیرہ۔ فقال رسول اللّہ (ص): اُدعی زوجک و ابنیک حسناً و حسیناً۔ فدعتہم، فبینما ہم یاٴکلون إذنزلت علی رسول اللّٰہ (ص):< إنّما یرید اللّٰہ لیذہب عنکم الرجس اٴہل البیت و یطہّرکم تطھیراً> فاٴخذ النبیّ (ص) بفضلة ازاراہ فشّاہم إیاّہا، ثمّ اٴخرج یدہ من الکساء و اٴومابہا إلی السماء ثمّ قال: ”اللّہمَّ ہؤلاء اٴہل بیتی و خاصّتی، فاٴذہب عنہم الرجس و طہّرہم تطہیراً“، قالہا ثلاث مرّات۔

قالت اٴُم سلمة - رضی اللّٰہ عنہا -: فاٴدخلت راٴسی إلی الستر فقلت: یا رسول اللّٰہ، و اٴنا معکم؟ فقال: ”إنّک إلی خیر“مرّتین۔“26

اس حدیث میں،حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے توسط سے ایک کھانا حاضرکرنے کے بعدپیغمبر اکرم (ص) ان سے فرماتے ہیں کہ تم اپنے شوہر علی اوراپنے بیٹے حسن وحسین علیہم السلام کو بلاؤ اور وہ حضرات تشریف لاتے ہیں۔کھانا تناول کرتے وقت آیہء تطہیرنازل ہوتی ہے اور پیغمبر خدا (ص) فرماتے ہیں:”خداوندا!یہ میرے اہل بیت اور میرے خواص ہیں۔تو ان سے ہر طرح کی برائی کو دورکر اورانھیں پاک وپاکیزہ رکھ۔ام سلمہ کہتی ہیں:میں نے بھی سر اٹھاکر کہا: یارسول اللہ کیامیں بھی آپ کے ساتھ ہوں؟حضرت نے دومر تبہ فرمایا:تم نیکی پر ہو۔

یہ نکتہ قابل غور ہے کہ اگر اس آیہء شریفہ کے مطابق حضرت ام سلمہ”اہل بیت“میں ہوتیں،توآنحضرت (ص) صراحتاًانھیں مثبت جواب دیتے۔لیکن قرآن مجید میں موردتائیدقرار پایا گیاآپکا خلق عظیم ہرگزآپکو اس بات کی اجازت نہیں دیتاکہ آپ ام سلمہ کو صراحتاً منفی جواب دیں۔مذکورہ جملہ جو متعدد احادیث میں آیا ہے،اس نکتہ کے پیش نظر پیغمبر اکرم (ص) کی بیویوں کے ”اہل بیت“کے دائرہ سے خارج ہونے کی واضح دلیل ہے۔

۲۔”تنحی فإنّک الی الخیر“کی تعبیر

”عن العوام یعنی ابن حوشب،عن ابن عم لہ قال:دخلت مع اٴبی علی عائشة۔۔۔فساٴلتہا عن علیّ۔۔۔فقالت:تساٴلنی عن رجل کان من اٴحبّ الناس إلی رسول اللٰہ (ص)وکانت تحتہ ابنتہ واٴحبّ الناس إلیہ۔لقد راٴیت رسول اللّٰہ (ص)دعا علیّاً و فاطمہ و حسناً وحسیناً - رضی اللّٰہ عنہم - فاٴلقی علیہم ثوباً۔ فقال: اللّہم ہؤلائ اٴہل بیتی، فاٴذہب عنہم الرجس و طہّرھم تطہیراً۔ قالت: فدنوت منہم و قلت: یا رسول اللّٰہ، و اٴنا من اٴہل بیتک؟ فقال (ص):تنحیّ،فإنّک علی خیر۔“27

”عوام بن حوشب نے اپنے چچازاد بھائی سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:میں اپنے باپ کے ہمراہ عائشہ کے پاس گیا۔میں نے ان سے علی کے بارے میں سوال کیا۔عائشہ نے کہا:تم مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھتے ہو،جو پیغمبرخدا (ص)کے نزدیک محبوب ترین فردہے۔پیغمبراکرم (ص)کی عزیز ترین بیٹی ان کی شریک حیات ہے۔

میں نے رسول خدا (ص)کو دیکھا کہ آپنے علی وفاطمہ،حسن وحسین )علیہم السلام)کو بلایا اوران کے اوپر ایک کپڑے سے سایہ کیا اورفرمایا:خدا وندا!یہ میرے اہل بیت ہیں۔ان سے برائی کو دور رکھ اورانھیں خاص طور سے پاک وپاکیزہ قرار دے۔عائشہ نے کہا:میں ان کے نزدیک گئی اورکہا:یارسول اللہ! کیا میں آپ کے اہل بیت میں سے ہوں؟فرمایا:تم خیرونیکی پر ہو۔“

 

 

۳۔”فجذبہ من یدی“کی تعبیر

”۔۔۔عن اُم سلمة اٴن رسول اللّٰہ (ص) قال لفاطمة: ایتینی بزوجک و ابنیہ۔ فجائت بہم، فاٴلقی رسول اللّٰہ (ص) علیہم کساءً فدکیّاً ثمّ وضع یدہ علیہم ثمّ قال: اللّہمّ إنّ ہؤلاء اہل محمد - و فی لفظ آل محمد - ، فاجعل صلواتک و برکاتک علی آل محمد، کما جعلتہا علی آل ابراھیم إنّک حمید مجید۔ قالت اٴُم سلمة۔۔۔: فرفعت الکساء لاٴدخل معہم، فجذبہ من یدی و قال: إنّک علی خیر۔“28

”ام سلمہ سے روایت ہے کہ پیغمبرخدا (ص)نے فاطمہ(سلام اللہ علیہا)سے فرمایا:اپنے شوہراوربیٹوں کومیرے پاس بلاؤ۔فاطمہ (سلام اللہ علیہا) نے انھیں بلایا۔پیغمبرخدا (ص)نے فدکی کساء)ایک لباس جو فدک میں بناتھا)کو ان پر ڈال دیااوراس کے بعد اپنا ہاتھ ان پر رکھ کر فرمایا:

خدا وندا!یہ آل محمدہیں۔تو ان پر درود وبرکتوں کا نزول فرما،جس طرح آل ابراھیم پر ناز ل فرمایا ہے،بیشک تو لائق حمد و ستائش ہے۔

ام سلمہ نے کہا:میں نے کساء کا سرا اٹھایا تاکہ زیر کساء ان کے ساتھ ملحق ہو جاؤں۔پس پیغمبر (ص)نے اسے میرے ہاتھ سے کھیچ لیا اور فرمایا:تم خیر ونیکی پر ہو۔“

 

۴۔”ماقال:إنّک من اھل البیت“کی تعبیر ”عن عمرة بنت اٴفعیٰ، قالت: سمعت اٴُم سلمة تقول: نزلت ہذہ الآیة فی بیتی:و فی البیت سبعة: جبریل و میکائیل و رسول اللّٰہ (ص) و علی و فاطمہ و الحسن و الحسین۔ قالت: و اٴنا علی باب البیت۔ فقلت: یا رسول اللّٰہ، اٴلستُ من اٴہل البیت؟ قال:

” عمرہ بنت افعی سے روایت ہے کہ اس نے کہا: میں نے ام سلمہ سے سنا ہے کہ وہ کہتی تھیں: یہ آیت انّما یرید الله لیذھب عنکم الرجس اھل البیت․․․> میرے گھرمیں اس وقت نازل ہوئی ، جب گھر میں سات افراد تھے: جبرئیل ، میکائیل، پیغمبرخدا (ص)،علی وفا طمہ، حسن و حسین)علیہم السلام)۔ام سلمہ نے کہا: میں گھر کے دروازہ کے پاس کھڑی تھی اور میں نے کہا: یا رسول الله! کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ فرمایا: تم نیکی پر ہو، تم پیغمبر کی بیویوں میں سے ہو “ اور آپ نے نہیں فرمایا:” تم اہل بیت میں سے ہو۔“ 

 

۵۔” لا، وانت علی خیر “کی تعبیر

” عن عطیة، عن اٴبي سعید، عن اٴمّ سلمة اٴن النبیّ (ص)غطّی علی علیّ و فاطمہ و حسن وحسین کساءً، ثمّ قال: ہؤلاء اٴہل بیتی، إلیک لا إلی النار․ قلت امّ سلمة:فقلت: یا رسول الله، و اٴنا معہم؟ قال: لا، واٴنت علی خیر“29

حدیث کی سندیوں: اٴخبرنا اٴبو عبد الله الفراوی و اٴبو المظفر الفشیری، قالا: اٴنا اٴبوسعد الادیب، اٴنا اٴبو عمرو بن حمدان ، و اٴخبرتنا اٴمّ المجتبی العلویّہ، قالت: قریئ علی إبراہیم بن منصور اٴنا اٴبوبکر بن المقریء قالا:اٴنا اٴبوبعلی، نا محمد بن اسماعیل بن اٴبي سمینة، نا عبدالله بن داوود، عن فضیل عن عطیة․

عطیہ،ابی سعید،ام سلمہ سے روایت ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)نے ایک کساء کو علی وفاطمہ،حسن وحسین علیہم السلام پر ڈال دیااور فرمایا:خداوندا!یہ میرے

اہل بیت ہیں تیری بار گاہ میں نہ کہ آگ کی طرف۔ام سلمہ نے کہا:میں نے کہا یارسول اللہ! کیامیں بھی ان کے ساتھ)اہل بیت میں شامل )ہوجاؤں؟فرمایا:نہیں ،تم نیکی پر ہو۔“ 

سندحدیث کی تحقیق:

”ابو عبدالله فراوی محمدبن فضیل بن احمد“ ذہبی کا اس کے بارے میں کہناہے:” شیخ ، امام، فقہ، مفتی، مسند)علم حدیث کے معروف عالم) خراسان اور فقیہ حرم“ سمعانی کہتے ہیں: میں نے عبدالرشید طبری سے مرومیں سنا کی وہ کہتے تھے: الفراوی ہزار راویوں کے برابر ہے۔)سیر اعلام النبلاء ج ۱۸، ص۷۳موسسہ الرسالہ) ” ابوسعد ادیب کنجرودی“، ذہبی اس کے بارے میں کہتے ہیں: شیخ، فقیہ، امام، ادیب، نحوی طبیب، مسند خراسانی) سیراعلام النبلاء، ج۱۸، ص ۱۰۱) سمعانی اس کے بارے میں کہتے ہیں: ” وہ ادیب، فاضل، عاقل، خوش رفتار، باوثوق اورسچاتھا“)الانساب ،ج۵، ص۱۰۰، دارالکتب العلمیہ، بیروت۔)

”ابو عمرو بن حمدان“ ذہبی اس کے بارے میں کہتا ہے:“ شیخ صالح ، قابل وثوق ہے )سیراعلام النبلاء، ج۱۸،ص۷۳)

”ابو بکربن المقری،محمد بن ابراھیم“اس کے بارے میں ذھبی کہتے ہیں:شیخ حافظ اورسچا ہے“)سیراعلام النبلاء،ج۱۶،ص۳۹۸)

”ابویعلی“صاحب مسند،احمد بن علی بن مثنی،محدث موصل)سیراعلام النبلاء،ج۱۴۰،ص۱۷۴)

”محمد بن اسماعیل بن ابی سمینہ“ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں ابوحاتم وصالح بن محمد سے نقل کیا ہے کہ وہ ثقہ اور قابل اعتماد ہے۔)تہذیب التہذیب،ج۹،ص۵۰،دارالفکر)

”عبداللہ بن داؤد“مزی نے اس کے بارے میں محمد بن سعد سے طبقات میں نقل کیا ہے کہ وہ ثقہ اور عابد تھا)تہذیب الکمال،ج۴،ص۴۵۸)

”فضل بن غزوان“ابن حجر نے اس کے بارے میں کہا ہے:احمداور ابن معین نے کہاہے:وہ ثقہ ہے۔اورابن حبان نے”کتاب الثقات“میں اس کا ذکر کیا ہے۔تہذیب التہذیب،ج۸،ص۲۶۷)”عطیہ)بن سعد)اس کے بارے میں تہذیب التہذیب ج۷،ص۲۰۰سے استفادہ ہوتا ہے کہ:وہ ابن سعد کی طرف سے قابل وثوق قرار پایا ہے۔اورابن معین نے)ایک روایت میں)اسے شائستہ جانا ہے اورعلم رجال کے بعض علماء نے اس کی تعریفیں کی ہیں اوراس کی حدیثوں کی تائید کی ہے اس کا جرح کرنے والے جیسے نسائی جرح کرنے میں سخت گیر ہیں اہل سنت کے اہل فن ودرایت اور علم حدیث کے علماء جیسے تہانوی نے کتاب”قواعدفی علوم الحدیث“ص۱۱۷ میں،اس قسم کی جرح کرنے والے افراد کونا قابل اعتبار جانا ہے اورعطیہ ان افراد میں سے ہیں کہ جنھیں امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب کے خلاف سب وشتم سے انکار کرنے پر حجاج کی طرف سے چارسو کوڑے مارے گئے ہیں جودین کے معاملہ میں اس طرح ثابت قدم اورپائیدار ہو،وہ کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا ہے۔ممکن ہے اہل رجال کی اس کے بارے میں جرح و تنقیداس کے شیعہ ہونے کی وجہ سے ہو۔

 

۶۔”فواللہ ما انعم“کی تعبیر

”۔۔۔عن الاٴعمش عن حکیم بن سعدقال:ذکرنا علیّ بن اٴبی طالب - رضی اللّٰہ عنہ - عنداٴُمّ سلمة!قالت:فیہ نزلت:!

”قالت:اٴُم سلمة:جاء النبیّ(ص) إلی بیتی۔۔۔فجلّلہم نبیّ اللّٰہ بکساء۔۔۔فنزلت ہذہ الآیة۔۔۔فقلت:یارسول اللّٰہ، واٴنا؟ قالت:فواللّٰہ مااٴنعم، وقال:إنّک إلی خیر۔“30

اس حدیث میں،پیغمبراسلام (ص)نے جب علی وفاطمہ،حسن وحسین (علیہم السلام) کو کساء کے نیچے قرار دیا پھر آیہء تطہیر نازل ہوئی۔ام سلمہ نے سوال کیا:یارسول اللہ !کیا میں بھی ہوں ؟لیکن انھوں نے مثبت جواب نہیں سنا،پریشان ہوئیں اوراپنی پریشانی کاان الفاظ میں اظہار کیا:”فواللہ،مااٴنعم“یعنی:خدا کی قسم پیغمبرخدا (ص)نے نہیں فرمایا:”ہاں“بلکہ صرف یہ فرمایا:”تم نیکی پر ہو۔“

 

۷۔”مکانک،انت علی خیر“کی تعبیر

”۔۔۔عن شہر بن حوشب، عن اٴُم سلمة:إن رسول اللّٰہ (ص)۔اٴخذ ثوباً فجلّلہ علی علیّ وفاطمةوالحسن والحسین۔ ثمّ قراٴت ہذہ الآیة:قالت:فجئت لاٴدخل معہم، فقال:مکانک،اٴنت علی خیر“31

اس حدیث میں ام سلمہ کہتی ہیں:پےغمبر خدا (ص) نے علی وفاطمہ،حسن و حسین)علیہم اسلام)کو اےک پارچہ کے نےچے قرار دیا اور اس کے بعد آیہ تطہیر ک قرات فرمائی۔ جب میں اس پارچہ کے نزدےک گئی تا کہ اس کے نےچے داخل ہو جاوں،تو آنحضرت (ص) نے فرمایا: اپنی جگہ پر بےٹھی رہو،تم خیر و نےکی پر ہو۔

۱۔تاریخ مدینة دمشق،ج۱۴،ص۱۴۱،دارالفکر۔اس حدیث کی سند یوں ہے:”اٴخبرنا اٴبوطالب بن اٴبی عقیل: اٴنا اٴبو الحسن الخلعی: اٴنا اٴبو محمد النحاس:اٴنا اٴبوسعید بن الآعرابی:نااٴبو سعید عبدالرحمن بن محمدبن منصور:ناحسین الآشقر:نا منصور بن اٴبی الآسود،عن الآعمش،عن حبیب بن اٴبی ثابت ،عن شہر بن حوشب،عن اٴُم سلمة۔۔۔“

سند کی تحقیق:”ابوطالب بن ابی عقیل بن عبدالرحمن ذہبی “نے اسے ایک دیندار بزرگ جانا ہے۔)سیراعلامالنبلاء،ج۲۰،ص۱۰۸،موسةالرسالة)

”اابوالحسن الخلمی علی بن الحسین“ذہبی نے اس کی شیخ امام،فقیہ،قابل اقتداء اور مسند الدیار المصریة جیسے القاب سے تعریف کی ہے)سیراعلام النبلاء،ج۱۹،ص۷۴)

”ابومحمد النحاس اورذہبی“کا اس کے بارے میں کہنا ہے:شیخ امام،فقیہ،محدث، سچا اورمسندالدیار المصریہ تھا)سیر اعلام النبلاء ج۱۷،ص۳۱۳)

”ابو سعیدابن ا لآعرابی احمد بن محمدبن زیاد“اورذہبی نے اس کے بارے میں یہ تعبیرات استعمال کی ہیں:امام،محدث،قدوة)یعنی رہبری اور قیادت کے لئے شائستہ)سچا،حافظ اور شیخ الاسلام )سیر اعلام النبلاء ج۱۵،ص۴۰۷

”ابوسعید عبدالرحمن بن محمد بن منصور“ابن حبان نے کتاب الثقات ج۸،ص۳۸۳ موسةالکتب الثقافیة میں اس کا نام لیا ہے۔

”حسین ا لآشقرالغزاری“ابن حبان نے اس کا نام کتاب الثقات میں لا یا ہے ۔اور احمدبن حنبل نے اس کے بارے میں کہا ہے:وہ میرے نظر میں جھوٹ بولنے والوں میں سے نہیں ہے اورابن معین سے اس کے سچے ہو نے کے بارے میں سوا ل کیا ۔اس نے جواب میں کہا:جی ہاں)تہذیب التہذیب،ج۲ ص۹۱ دارالفکر)

اس کے بارے میں بعض مذمتیں کی گئی ہیں،وہ اس کے مذہب کے بارے میں ہیں اورحجت نہیں ہیں۔”منصور بن ابی ا لآسود“ابن حجر نے اس توثیق)مورد اعتماد ہونے)کو ابن معین سے نقل کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ ابن حبان نے اسے کتاب الثقات میں )مورد اعتماد افراد کے زمرہ میں ذکر کیا ہے۔)تہذیب التہذیب ،ج،۱۰ ص۲۷۱،دارالفکر،

”الآعمش“ کے موثق اورسچے ہو نے میں کلام نہیں ہے اورصحیح بخاری وصحیح مسلم میں اس سے کا فیاحادیث نقل کی گئی ہیں اور اس کی راستگوئی کا یہ عالم تھا کہ بعض اہل سنت علمائے حدیث نے اس کے سچے ہو نے کومصحف سے تشبیہ دیدی ہے )تہذیب التہذیب ج،۴،ص۱۹۶،دارالفکر

”حبیب بن ابی ثابت“اس کے موثق اور راستگو ہو نے میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے اور صحاح میں اس سے بہت ساری حدیثیں نقل ہوئی ہیں)تہذیب التہذیب ج۲،ص۱۵۶)

”شہر بن حوشب“ابن حجر نے،معین،عجلی اور یقوب بن شیبة سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے اسے موثق)قابل اعتماد وثوق) تعبیر کیا ہے)تہذیب التہذیب ج۴،ص۳۲۵،دارالفکر۔)

اےک دوسری حدیث میں یہ تعبیر نقل ہوئی ہے:”اٴنت بمکانک وانت خیر“۱ اےک اور تعبیرمیں آیا ہے ”اجلسی مکانک، فانک علی خیر“ 32 اپنی جگہ پر بیٹھی رہو،تم خیر پر ہو۔

۸۔” فوددت اٴنة قال :نعم“کی تعبیر

”عن عمرة الھمد انیة قالت: اٴتیت اٴ مّ سلمة فسلمت علیھا،فقالت: من اٴنت ؟ فقلت :عمرة: یا اٴم المومنین اٴخبرینی عن ھذا الرّجل الذّی قتل بین اظھرنا، فمحبً و مبغض۔ ترید علیّ بن اٴبی طالب۔ قالت اٴمّ سلمة:اٴتحبًینہ اٴم تبغضیبہ؟ قالت ما اٴحبّہ ولا اٴبغضہ فاٴنزل الله ھذہ الّایة إلی آخرھا، ومافی البیت إلا جبرئیل ورسول الله۔ (ص)۔ وعلیّ وفاطمہ و الحسن والحسین۔ علیھم السلام۔ فقلت : یا رسول الله، اٴنا من اٴھل البیت؟ فقال: إنّ لک عنداللهخیراً، فوددت اٴنہ قال: ”نعم“ فکان اٴحبّ إلی من تطلع علیہ الشمس و تغربہ“۳

” عمرہ ہمدانیہ سے روآیت ہے کہ اس نے کہا : میں ام سلمہ کی خدمت میں گئی اور ان سے سلام کیا: انھوں نے پو چھا : تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں عمرہ ہمدانیہ ہوں۔ عمرہ نے ام سلمہ سے کہا:اے ام المئومنین․ مجھے اس شخص کے بارے میں کچھ بتایئے جسے کچھ مدت پہلے قتل کردیا گیا )مرادعلی بن ابےطالب علیہ السلام ہیں) بعض لوگ انھیں دوست رکھتے ہیں اور بعض دشمن۔ 

ام سلمہ نے کہا: تم انھیں دوست رکھتی ہو یا دشمن؟ عمرہ نے کیا: میں نہ انھیں دوست

رکھتی ہوں اور نہ دشمن ) بظاہر یہاں پر آیہ تطہیر کے نزول کے بارے میں چند جملے چھوٹ گئے ہیں اور اس کے بعدکی عبارت یہ ہے) اور خداوند متعال نے یہ آیت اس حالت میں نازل فر مائی کی جب گھر میں جبرئل، پےغمبر خدا (ص)، علی وفاطمہ، حسن و حسین )علیہم السلام) کے علاوہ کوئی موجود نہ تھا۔ 

میں نے کہا: یا رسول الله: کیا میں اہل بیت میں ہوں؟ آنحضرت (ص)نے فرمایا: تیرے لئے خدا کے پاس خیر و نےکی کی صورت میں جزا ہے۔

میری آرزو یہ تھی کہ)میرے سوال کے جواب میں) آنحضرت (ص) فرماتے: ”جی ہاں“ اور وہ میرے لئے اس سے بہتر تھا جس پر سورج طلوع و غروب کرتا ہے۔“

”فتنحّی لی عن اٴھل بیتی“ کی تعبیر

”․․․عن ابی المعدل عطیة الطفاوي عن اٴبیہ، اٴنّ امّ سلمة، حدثتة قالت:بینارسول الله (ص) في بیتي، إذقال الخادم : إن علیا وفاطمہ بالسدًة: قالت: فقال لي: قوميفتنحّي ليعن اٴھل بیتي فد خل عليّ و فاطمة و معھما الحسنوالحسین قالت: فقلت و اٴنا یا رسول الله؟ فقال: واٴنت“33

اس حدیث میں ام سلمہ سے روآیت ہے، انھوں نے کہا : رسول خدا (ص)میرے گھر میں تشریف فرما تھے کہ خادم نے کہا: علی اور فاطمہ )علیہماالسلام) دروازہ پرہیں۔ پےغمبر (ص) نے فرمایا: اٹھو اور میرے اہل بیت سے دور ہو جاؤ اس کے بعد علی او رفاطمہ حسن اور حسین (علیہم السلام) داخل ہوئے اور پےغمبر (ص) نے

ان کے حق میں دعا کی: ” خدا وند! میرے اہل بیت تیری طرف ہیں نہ کہ آگ کی

طرف “ام سلمہ نے کہا: یا رسول الله ! میں بھی ؟فرمایا: تم بھی۔

واضح ر ہے کہ پےغمبر خدا (ص) پہلے ام سلمہ کو )حدیث میں )اپنے اہل بیت کے مقابلہ میں قرار دیتے ہیں جو ان کے اہل بیت سے خارج ہو نے کا واضح ثبوت ہے۔ اس کے بعد انھیں دعا میں ےعنی آگ سے دور رہنے میں شرےک فرما تے ہیں۔

 

۱۰۔”إنک لعلی خیر، ولم ید خلنی معھم“کی تعبیر

” ․․․عن العوام ین حوشب، عن جمےع: التیمی انطلقت مع امّي، إلی عائشة، فد خلت اٴمّي، فذھبت لاٴدخل فحجتني، و ساٴلَتھا اٴمّي عن عليّ فقالت: ماظنّک بر جل کانت فاطمة والحسن و الحسین إبناہ، و لقد رآیت رسول الله التفع علیھم بثوب و قال: ”اللّھم ھولائ اٴھلياٴذھب عنھم الرجس و طھرھم تطھیراٴ“ قلت: یا رسول الله، اٴلست من اٴھلک؟ قال:” انّک لعلی خیر“،”لم ید خلنيمعھم“34

”جمےع تیمی سے روآیت ہے کہ اس نے کہا: میں اپنی والدہ کے ہمراہ عائشہ کے پاس گیا ․․․ میری والدہ نے ان سے علی)علیہ السلام) کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے جواب میں کہا: تم کیا خیال کرتی ہو اس شخص کے بارے میں جس کی شرےک حیات فاطمہ (علیہماالسلام) اورجس کے بیٹے حسن و حسین )علیہماالسلام) ہوں۔میں نے دےکھا کہ پیغمبر (ص) نے اےک کپڑے کے ذریعہ ان پر سایہ کیا اور فرمایا: یہ میرے اہل بیت ہیں۔ خداوندا! ان سے برائی کو دور رکھ اور انھیں خاص طریقہ سے پاک و پاکےزہ قرار دے۔ میں نے کہا: یا رسول الله! کیا میں آپ کے اہل سے نہیں ہوں؟ فرمایا: تم نےکی پر ہو۔ اور مجھے ان میں داخل نہیں کیا۔

۱۱۔”فواللہ ماقال :انت معھم“کی تعبیر

”۔۔۔عن اٴُم سلمة۔۔۔ فجمعہم رسول اللّٰہ حولہ و تحتہ کسائ خیبریّ، فجلّلہم رسول اللّٰہ جمیعاً، ثمّ قال: اللّہمّ ہؤلاء اٴہل بیتی فاٴذہب عنہم الرجس وطہّرہم تطہیراً۔ فقلت: یارسول اللّٰہ،واٴنا معہم؟ فواللّٰہ ما قال: ”و اٴنت معہم“ و لکنّہ قال: ” إنّک علی خیر و إلی خیر“ فنزلت علیہ:35

”اس حدیث میں بھی کہ جو ام سلمہ سے روایت ہے،پیغمبراکرم (ص)نے علی و فاطمہ،حسن وحسین(علیہم السلام) کو کساء کے نیچے قراردیااوران کے حق میں دعاکی۔ام سلمہ نے کہا:یارسول اللہ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟)چونکہ مثبت جواب نہیں سنا اس لئے کہا:)خدا کی قسم آپ نے نہیں فرمایا:”تم بھی ان کے ساتھ ہو“لیکن فرمایا:”تم نیکی پر ہواورنیکی کی طرف ہو“۔اس کے بعد آیہء نازل ہوئی۔“

۱۲۔إنّک لعلی خیر،وھؤلائ اھل بیتی“کی تعبیر

”۔۔۔عن عطائ بن یسار،عن اٴُمّ سلمة -رضی اللّٰہ عنہا - اٴنّہا قالت: فی بیتی نزلت ہذہ الآیة: فاٴرسل رسول اللّٰہ (ص)إلی علی و فاطمة والحسن والحسین ۔۔۔ فقال: اللّہمّ ھؤلائ اٴھل بیتی۔ قالت اٴُمّ سلمة: یارسول اللّٰہ،مااٴنامن اٴھل البیت ؟قال:إنّک لعلی خیر،وہؤلائ اٴہل بیتی اللّھمّ اٴہلی اٴحق۔“ھذا حدیث صحیح علی شرط البخاری،ولم یخرجاہ۔36

یہ حدیث بھی ام سلمہ نے روایت کی ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے علی وفاطمہ ،حسن وحسین) علیہم السلام )کو بلاوابھیجا اوران کے آنے کے بعد فرمایا:

خدا وندا!یہ میرے اہل بیت ہیں ۔ام سلمہ نے کہایا رسول اللہ!کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟فرمایا:تم خیر ونیکی پر ہواوریہ میرے اہل بیت ہیں۔خداوندا!میرے اہل بیت سزاوار تر ہیں۔

حدیث کو بیان کرنے کے بعدحاکم نیشاپوری کا کہنا ہے:بخاری کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے،لیکن اس نے اسے ذکر نہیں کیا ہے۔

درعلی و فاطمہ پر آیہء تطہیر کی تلاوت

بعض حدیثیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ پیغمبرخداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہرروزصبح یاروزانہ نماز پنچگانہ کے وقت در علی و فاطمہ) علیہما السلام) پر آکر آیہء تطہیرکی تلاوت فرماتے تھے۔یہ حدیثیں بھی چند مختلف گرہوں میں منقسم ہیں کہ موضوع کے طولانی ہو نے کے باعث ہم صرف ان کے عنا وین کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

بعض احادیث دلالت کرتی ہیں کہ یہ کام ایک ماہ37 تک جاری رہا اور بعض احادیث اس 

کی مدت چالیس38 روز، بعض چھ مہینے، 39 بعض سات مہینے40،بعض آٹھ مہینے41،بعض نو مہینے42،بعض د س مہینے اوربعض احادیث میں اس کی مدت سترہ مہینے43 بتائی گئی ہے۔

ان احادیث کے بارے میں دو نکتے قابل توجہ ہیں:

۱۔یہ حدیثیں) کہ ہرایک ان میں سے ایک خاص مدت کی طرف اشارہ کرتی ہے) ایک دوسرے سے منافات نہیں رکھتی ہیں کیونکہ ہرصحابی جتنی مدت آنحضرت صلی للہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا،اس نے اسی مدت کو بیان کیا ہے اوراحیاناً اگرایک صحابی نے دومختلف احادیث میں دو مختلف مدتیں بیان کی ہیں،تو ممکن ہے اس نے ایک مرتبہ کم مدت اوردوسری مرتبہ زیادہ مدت کا مشاہدہ کیا ہوگا۔

مثلاً ابوالحمراء نے ایک حدیث میں مذکورہ مدت کو چھ مہینے اوردوسری حدیث میں سات مہینے اورتیسری حدیث میں آٹھ مہینے،یادس مہینے یاسترہ مہینے کی مدت بیان کی ہے ان میں سے کوئی حدیث بھی ایک دوسرے سے منافات نہیں رکھتی ہے۔

۲۔پیغمبرخدا (ص) کا اتنی طولانی مدت تک اس عمل کاپے درپے انجام دینا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ لفظ”اہل بیت کہ“جو اس وقت عرفی معنی میں استعمال ہوتا تھا اب اس کے جدید اوراصطلاحی معنی میں یعنی علی وفاطمہ،حسن وحسین علیہم السلام کے لئے یا

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ضمیمہ کے ساتھ استعمال ہو کردر حقیقت ایک نئی حالت پیدا کرچکا ہے۔اس لفظ کے بارے میں یہ انتہائی مہم نکتہ آیہء تطہیر کے ذیل میں بیان کی گئی تمام احادیث مثلاًحدیث ثقلین وحدیث سفینہ اوران جیسی دوسری حدیثوں میں بہت زیادہ روشن و نمایاں ہے۔

آیہء تطہیر کا پنجتن پاک (علیہم السلام) کے بارے میں نازل ہونا

احادیث کا ایک اورگروہ ہے جن میں آیہء تطہیر کے نزول کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،علی وفاطمہ،حسن وحسین علیہم السلام کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ان میں سے بعض احادیث میں یہ مطلب خود پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے،جیسے یہ حدیث:

”۔۔۔ عن ابی سعید الخدری قال: قال رسول اللّٰہ (ص)نزلت ہذہ الآیة فی خمسة:فیّ و فی علی و حسن وحسین وفاطمة ۔۔۔44

حدیث کا ایک اورراوی ”عطیہ بن سعد عرفی“ہے کہ اس کے بارے میں ”لا و انت علی خیر“ کی تعبیر کی تحقیق کے سلسلہ میں بیان کی گئی ۔

۔۔۔ابی سعید خدری سے رایت ہے کہ پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: یہ آیت پنجتن پاک(علیہم السلام) کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جس سے مرادمیں،علی ،حسن،حسین اورفاطمہ )علیہم السلام)ہیں۔

دوسری احادیث میں بھی ابوسعید خدری سے ہی روایت ہے اس نے اس آیت کے نزول کو پنجتن پاک علیہم السلام سے مربوط جانا ہے۔جیسے یہ حدیث :

”عن اٴبی سعید قال: نزلت الآیة فی خمسة نفر - و سمّاہم - فی رسول اللّٰہ و علیّ و فاطمة و الحسن و الحسین علیہم السلام“45

ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ اس نے کہا:آیہء پانچ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے:رسول اللہ (ص)علی وفاطمہ،حسن وحسین (علیہم السلام) “

ابوسعید خدری سے اورایک روایت ہے کہ )عطیہ نے)کہا:میں نے اس سے سوال کیا:اہل بیت کون ہیں؟)ابوسعید نے جواب میں)کہا:اس سے مراد پیغمبر (ص)، علی وفاطمہ،حسن وحسین(علیہم السلام) ہیں۔46

اس سلسلہ کی بعض احادیث ام سلمہ سے روایت ہوئی ہیں کہ آیہء شریفہ پنجتن پاک کے بارے میں نازل ہوئی ہے،جیسے مندرجہ ذ یل حدیث:

”۔۔۔ عن اٴم سلمة قالت: نزلت ہذہ الآیة فی رسول اللہ ّٰ(ص) و علیّ و فاطمة و حسن و حسین - علیہم السلام - :

”ام سلمہ سے روایت ہے کہ اس نے کہا:یہ آیت)آیہء تطہیر) پیغمبر خدا (ص) علی و فاطمہ ،حسن و حسین )علیھم السلام)کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“

آیہء تطہیر اوراس سے مربوط احادیث کے بارے میں دونکتے

اس سلسلہ میں مزید دواہم نکتے قابل ذکر ہیں:

۱۔اب تک جوکچھ ہم نے بیان کیا ہے اس سے یہ مطلب واضح ہوجاتا ہے کہ لفظ ”اہل بیت“میں ”بیت“سے مراد رہائشی بیت)گھر) نہیں ہے۔کیونکہ بعض افرادجیسے:ابی الحمراء، واثلہ،ام ایمن اورفضہ اس گھر میں ساکن تھے،لیکن ان میں سے کوئی بھی”اہل بیت“کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

نیزاس کے علاوہ”بیت“سے مراد نَسَب بھی نہیں ہے ۔کیونکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا عباس ا وران کے فرزند،جن میں بعض نَسَب کے لحاظ سے علی علیہ السلام کی نسبت پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب تھے وہ بھی اہل بیت میں شامل نہیں ہیں)البتہ عباس کے بارے میں ایک حدیث نقل کی گئی ہے کہ سوالات کے باب میں اس پر بحث کریں گے)۔

بلکہ اس بیت)گھر)سے مرادنبوت کا”بیت“ہے۔کہ جس میںصرف ”پنجتن آل عبا داخل“ہیں اور وہ اس بیت)گھر)کے اہل اورمحرم اسرار ہیں۔اس سلسلہ میں آیہء شریفہ47 نور خدا ان گھروں میں ہے جن کے بارے میں خداکی طرف سے اجازت ہے کہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اوران میں خدا کانام لیا جائے)کے ذیل میں بیان کی گئی سیوطی 48کی درجہ ذیل حدیث قابل توجہ ہے:

” اٴخرج ابن مردویہ عن اٴنس بن مالک و بریدہ قال: قراٴ رسول اللّٰہ ہذہ الآیة:< فی بیوت اٴذن اللّٰہ اٴن ترفع> فقام إلیہ رجل

فقال قال: اٴیّ بیوتٍ ہذہ یا رسول اللّٰہ؟ قال: بیوت الآنبیاء فقام إلیہ اٴبوبکر فقال: یا رسول اللّٰہ ہذا البیت منہا؟ البیت علی وفاطمة؟ قال: نعم من اٴفا ضلہا۔“

”ابن مردویہ نے انس بن مالک اوربریدہ سے روایت کی ہے کہ پیغمبر (ص) نے اس آیت:< فی بیوت اُذن اللہ ۔۔۔>کی قراٴت فرمائی۔ایک شخص نے اٹھ کرسوال کیا:یہ جوبیوت)گھر)اس آیت میں ذکر ہوئے ہیں ان سے مرادکونسے گھر ہیں؟ پیغمبر اکرم (ص) نے جواب میں فرمایا:انبیاء)علیہما السلام)کے گھر میں۔ابوبکراٹھے اورکہا:یارسول اللہ!کیا ان میں علی و فاطمہ)علیہا السلام)کا گھر بھی شامل ہے؟ آنحضرت (ص)نے فرمایا:جی ہاںوہ ان سے برتر ہے۔“

۲۔ان احادیث پر غورو خوض کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان میں ایک حصر کا استعمال کیا گیاہے اور وہ حصر،حصراضافی کی ایک قسم ہے۔یہ حصر پیغمبراکرم (ص)کی بیویوں اورآپکے دوسرے ر شتہ داروں)جیسے عباس اوران کے فرزندوں)کے مقابلہ میں ہے یہ حصران احادیث کے منافی نہیں ہے،جن میں اہل بیت سے مراد چودہ معصومین علیہم السلام یعنی پیغمبر،علی وفاطمہ،حسن وحسین اوراوردوسرے نوائمہ معصومین )علیہم السلام)کو لیا گیا ہے ۔اول خودآیہء تطہیر کی دلیل سے کہ اس میں صرفپر اکتفا نہیں کیا گیا ہے بلکہ موضوع کا عنوان”اہل بیت“قراردیاگیا ہے۔ حدیث کساء میں صرف پنجتن پاک کا زیرکساء آنااورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسط سے ان کے لئے دعا کیا جا نا اس بناپر تھا کہ اس وقت اس محترم خاندان سے صرف یہی پانچ افراد موجود تھے ورنہ شیعوں کے تمام ائمہ معصومین علیہم السلام،من جملہ حضرت مہدی علیہ السلام”اہل بیت“ کے مصداق ہیں۔

چوتھے امام حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے ایک حدیث میں اپنے آپ کو”اہل بیت“کا مصداق جانتے ہوئے آیہء تطہیر سے استناد کیا ہے۔49نیزشیعہ واہل سنت سے حضرت مہدی) عج) کے بارے میں نقل کی گئی بہت سی احادیث کے ذریعہ ان کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں شمار کیاگیا ہے۔50

حدیث ثقلین )جس کے معتبر ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے نیز متواتر ہے )میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید اوراپنے اہل بیت کے بارے میں فرمایا ہے:

”۔۔۔فانّہا لن یفترقا حتی یردا علیّ الحوض 51“

”یہ دو )قرآن مجیداوراہل بیت) ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک حوض کوثرپر مجھ سے ملیں گے۔“

اس بیان سے استفادہ ہوتا ہے قرآن مجید اور اہل بیت کے در میان لازم و ملزم ہو نے کا رابطہ قیامت تک کے لئے قائم ہے اور یہ جملہ اہل بیت کی عصمت پردلالت کر تا ہے اور اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ ہرزمانے میں اہل بیت طاہرین میں سے کم ازکم ایک شخص ایسا موجود ہوگا کہ جو اقتداء اور پیروی کے لئے شائستہ وسزاوار ہو۔

اہل سنت کے علماء میں بھی بعض ایسے افراد ہیں کہ جنہوں نے حدیث ثقلین سے استد لال کرتے ہوئے اس مطلب کی تائید کی ہے کہ ہرزمانہ میں اہل بیت معصومین (ع)میں سے کوئی نہ کوئی ضرور موجود ہوگا۔52

جن احادیث میں اہل بیت کی تفسیرچودہ معصومین(ع)سے کی گئی ہے،ان میں سے ہم ایک ایسی حدیث کو نمونہ کے طور پر پیش کررہے ہیں،جس کو شیعہ53اورسنی دونوں نے نقل کیا ہے:

ابراھیم بن محمد جوینی نے ”فرائد السمطین54“میں ایک مفصل روایت درج کی ہے۔چونکہ یہ حدیث امامت سے مربوط آیات کی تفسیر کے سلسلہ میں دوسری کتابوں میں درج کی گئی ہے، اس لئے ہم یہاں پر اس سے صرف آیہء تطہیر سے مربوط چند جملوں کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

اس حدیث میں حضرت علی علیہ السلام مہاجر وانصار کے بزرگوں کے ایک گروہ کے سامنے اپنے فضائل بیان کرتے ہوئے اپنے اوراپنے اہل بیت کے بارے میں نازل ہوئی قرآن مجید کی چندآیتوں کی طرف اشارہ فرماتے ہیں،من جملہ آیہء تطہیرکی طرف کہ اس کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام نے یوں فرمایا:

”۔۔۔اٴیّہاالنّاس اٴتعلمون اٴنّ اللّٰہ اٴنزل فی کتابہ:< إنّما یرید اللّٰہ لیذہب عنکم الرجس اٴہل البیت و یطہّرکم تطہیراً> فجمعنی و فاطمة و ابنییّ الحسن و الحسین ثمّ اٴلقی علینا کساءً و قال: اللّہمّ ہؤلاء اٴھل بیتی و لحمی یؤلمنی ما یؤلمہم، و یؤذینی ما یؤذیہم، و یحرجنی ما یحرجہم، فاٴذہب عنہم الرجس و طہّرہم تطہیراً۔

فقالت اٴُمّ سلمة: و اٴنا یا رسول اللّٰہ؟ فقال: اٴنت إلی خیر إنّما اُنزلت فی )و فی ابنتی) و فی اٴخی علیّ بن اٴبی طالب و فی ابنیَّ و فی تسعة من ولد ابنی الحسین خاصّة لیس معنا فیہا لاٴحد شرک۔ فقالوا کلّہم: نشہد اٴنّ اٴمّ سلمة حدّثتنا بذلک فساٴلنا رسول اللّٰہ فحدّثنا کما حدّثتنا اٴمّ سلمة۔۔۔55“

”اے لوگو!کیا تم جانتے ہو کہ جب خدا وند متعال نے اپنی کتاب سے آیہء: کو نازل فرمایا پیغمبر اکرم (ص)نے مجھے،فاطمہ اورمیرے بیٹے حسن وحسین )علیہم السلام)کوجمع کیا اور ہم پر ایک کپڑے کا سایہ کیا اورفرمایا:خداوندا! یہ میرے اہل بیت ہیں۔جس نے انھیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا اورجس نے انھیں اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی ہے جس نے ان پرسختی کی اس نے گویا مجھ پر سختی کی ۔)خدا وندا!)ان سے رجس کو دور رکھ اورانھیں خاص طورپرپاک وپاکیزہ قرار دے۔

ام سلمہ نے کہا:یارسول اللہ!میں بھی؟)رسول خدا (ص)نے)فرمایا:تم خیر ونیکی پرہو، لیکن یہ آیت صرف میرے اورمیری بیٹی )فاطمہ زہرا)میرے بھائی علی بن ابیطالب(علیہ السلام) اور میرے فرزند ) حسن و حسین علیہما السلام) اور حسین (علیہ السلام)کی ذریت سے نوائمہ معصومین کے بارے میں نازل ہوئی ہے اورکوئی دوسرااس آیت میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہے ۔اس جلسہ میں موجود تمام حضار نے کہا:ہم شہادت دیتے ہیں کہ ام سلمہ نے ہمارے سامنے ایسی حدیث بیان کی ہے اورہم نے خود پیغمبر (ص) سے بھی پوچھا توانھوں نے بھی ام سلمہ کے مانند بیان فرمایا۔“

 

آیہء تطہیرکے بارے میں چند سوالات اور ان کے جوابات

اس بحث کے اختتام پر ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ آیہء تطہیر کے بارے میں کئے گئے چند سوالات کے جوابات پیش کریں:

 

پہلاسوال

گزشتہ مطالب سے جب یہ معلوم ہوگیا کہ اس آیہء کریمہ میں ارادہ سے مرادارادہ تکوینی ہے۔اگرارادہ تکوینی ہوگا تو یہ دلالت کرے گا کہ اہل بیت کی معنوی طہارت قطعی اورناقابل تغیر ہے۔کیا اس مطلب کو قبول کرنے کی صورت میں جبر کا قول صادق نہیں آتا ہے؟

 

جواب

خدا وند متعال کا ارادہ تکوینی اس صورت میں جبر کا سبب بنے گا جب اھل بیت کا ارادہ واختیار ان کے عمل انجام دینے میں واسطہ نہ ہو لیکن اگر خداوند متعال کاارادہ تکوینی اس سے متعلق ہو کہ اہل بیت اپنی بصیرت آگاہی نیز اختیارسے گناہ اور معصیت سے دور ہیں،توارادہ کا تعلق اس کیفیت سے نہ صرف جبر نہیں ہوگا بلکہ مزیداختیار پر دلالت کرے گا اورجبر کے منافی ہوگا،کیونکہ اس فرض کے مطابق خدا وند متعال کے ارادہ کا تعلق اس طرح نہیں ہے کہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں ،اپنے وظیفہ انجام دیں گے، بلکہ خدا وند متعال کے ارادہ کا تعلق ان کی طرف سے اطاعت کی انجام دہی اور معصیت سے اجتناب ان کے اختیار میں ہے اور ارادہ و اختیار کا پایا جا نا ہی خلاف جبر ہے۔

اس کی مزید وضاحت ےوں ہے کہ: عصمت درحقےقت معصوم شخص میں پائی جانے والی وہ بصیرت اور وہ وسےع و عمےق علم ہے، جس کے ذرےعہ وہ کبھی اطاعت الہیٰ سے منحرف ہو کر معصیت و گناہ کی طرف تمائل پیدا نہیں کرتا ہے اور اس بصیرت اور علم کی وجہ سے اس کے لئے گناہوں کی برائیاں اور نقصانات اس قدر واضح اور عیاں ہو جاتے ہیں کہ اس کے بعد اس کے لئے محال ہے کہ وہ گناہ کا مرتکب ہو جائے۔

مثال کے طور پرجب کوئی ادنی ٰشخص یہ دیکھتا ہے کہ وہ پانی گندا اور بدبو دار ہے، تو محال ہے و ہ اسے اپنے اختیارسے پی لے بلکہ اس کی بصیرت و آگاہی اسے اس پانی کے پینے سے روک دے گی۔

دوسرا سوال

آیہء شرےفہ میں آیا ہے: ” اذھاب “ کے معنی لے جانا ہے اور اسی طرح ”تطہیر“ کے معنی پاک کر نا ہے اور یہ اس جگہ پر استعمال ہوتا ہے جہاں پر پہلے سے رجس وکثافت موجود ہو اور انھیں پاک کیا جائے ۔ اسی صورت میں ”اذھابکا اطلاق،رجس کو دور کر نااور تطھیر“ کااطلاق ”پاک کرنا“حقےقت میں صادق آسکتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اہل بیت پہلے گناہوں سے آلودہ تھے لہذا اس آلود گی کو ان سے دور کیا گیا ہے اور انھیں اس آلودگی سے پاکےزہ قرار دیا گیاہے۔

جواب

جملہء میں لفظ ”اذھاب ‘ ‘لفظ ” عن“ سے متعدی ہوا ہے۔ اس کا معنی اہل بیت سے پلیدی اور رجس کو دور رکھنا ہے اور یہ ارادہ پہلے سے موجود تھا اور اسی طرح جاری ہے،نہ یہ کہ اس کے برعکس حال و کیفیت اہل بیت میں موجود تھی اور خداوند متعال نے ان سے اس حال و کیفیت )برائی) کو دور کیا ہے۔ اسی طرح اس سلسلہ میں تطہیر کا معنی کسی ناپاک چےز کو پاک کرنے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اہل بیت کے بارے میں اس کا مقصد ان کی خلقت ہی سے ہی انھیں پاک رکھنا ہے۔ اس آیہء کریمہ کے مانند ”اور ان کے لئے وہاں)بہشت میں) ایسی بےویاں ہیں جو پاک کی ہوئی ہوں گی“

”اذھاب “اور”تطھیر“کے مذکورہ معنی کا ےقینی ہونا اس طرح ہے کہ اہل بیت کی نسبت خود پےغمبر صلی اللهعلیہ وآلہ وسلم کی طرف ےقینی ہے اوریہ بھی معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللهعلیہ وآلہ وسلم ابتداء ہی سے معصوم تھے نہ یہ کہ آیہ تطہیر کے نازل ہونے کے بعد معصوم ہوئے ہیں۔جب آنحضرت صلی اللهعلیہ وآلہ وسلم کے بارے میں مطلب اس طرح ہے اور لفظ ”اذھاب“ و ”تطھیر“ آپ میں سابقہ پلیدی اور نجاست کے موجود ہونے کا معنی نہیں ہے، اہل بیت کے دوسرے افراد کے بارے میں بھی قطعی طور پر اسی طرح ہونا چاہئے۔ ورنہ”اذھاب“ و ”تطھیر“ کے استعمال کا لازمہ پےغمبر صلی اللهعلیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خاندان کے بارے میں مختلف معنی میں ہوگا۔

 

تیسرا سوال

اس آیہء شرےفہ میں کوئی ایسی دلالت نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ یہ طہارت ، اہل بیت میں)آیہء تطہیر کے نازل ہونے سے پہلے) موجود تھی بلکہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ خدا وند متعال اس موضوع کا ارادہ کرے گا کےونکہ ”یرید“ فعل مضارع ہے اور مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ۱۔بقرہ/۲۵ 

 

جواب

اول یہ کہ:کلمہ ”یرید“ جو خداوند متعال کا فعل ہے، وہ مستقبل پردلالت نہیں کرتا ہے اور دوسری آیات میں اس طرح کے کا استعمالات اس مطلب کو واضح کرتے ہیں کہ جےسے کہ یہ آیات: 56 اور < والله یرید اٴن یتوب علےکم> 57

اس وصف کے پےش نظر آیت کے معنی یہ نہیں ہے کہ خداوند متعال ارادہ کرے گا، بلکہ یہ معنی ہے کہ خداوند متعال بد ستورارادہ رکھتا ہے اور ارادہ الہیٰ مسلسل جاری ہے۔

دوسرے یہ کہ اس ارادہ کا پےغمبر اکرم (ص)سے مربوط ہونا اس معنی کی تاکید ہے، کےونکہ آنحضرت صلی اللهعلیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ایسا نہیں تھا کہ پہلے تطہیر کا ارادہ نہیں تھا اور بعد میں حاصل ہواہے۔ بلکہ آنحضرت (ص) پہلے سے اس خصوصی طہارت کے حامل تھے اور معلوم ہے کہ آنحضرت (ص)کے بارے میں ”یرید“کا استعمال اےک طرح اور آپ کے اھل بیت کے لئے دوسری طرح نہیں ہوسکتا ہے۔

 

چوتھا سوال

احتمال ہے کہ ” لےذھب“ میں ”لام“ لام علت ہو اور ”یرید” کے مفعول سے مرادکچھ فرائض ہوں جو خاندان پےغمبرصلی اللهعلیہ وآلہ وسلم سے مربوط ہوں۔ اس حالت میں ارادہ تشرےعی اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ خداوند متعال نے آپ اہل بیت سے مربوط خصوصی تکالےف اور فرائض کے پےش نظر یہ ارادہ کیا ہے تاکہ برائی اور آلودگی کو آپ سے دور کرے اور آپ کو پاک و پاکےزہ قرار دے، اس صورت میں آیت اہل بیت کی عصمت پر دلالت نہیں کرے گی۔

 

جواب

پہلے یہ کہ: ” یرید“ کے مفعول کا مخدوف اور پوشدہ ہونا خلاف اصل ہے اور اصل عدم پوشیدہ ہو نا ہے۔ صرف دلیل اور قرینہ کے موجود ہونے کی صورت میں اس اصل کے خلاف ہونا ممکن ہے اور اس آیت میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

دوسرے یہ کہ : ”لےذھب“ کے لام کے بارے میں چند احتمالات ہیں ان میں سے بعض کی بنا پر ارادہ کا تکونےی ہونا اور بعض کی بنا پر ارادہ کا تشرےعی ہونا ممکن ہے لیکن وہ احتمال کہ جو آیت میں متعین ہے وہ ارادہ تکوینی سے ساز گار ہے۔ اس کی دلیل وہ اسباب ہیں جو ارادہ تکوینی کے اسبات کے سلسلہ میں پیش کئے گئے ہیں من جملہ یہ کہ ارادہ تشرےعی کا لازمہ یہ ہے اس سے اھل بیت کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہوتی، جبکہ آیہ ء کریمہ نے اھل بیت کی عظیم اور گراں بہا فضیلت بیان کی ہے جیسا مذکورہ احادیث اس کی دلیل ہیں۔

اس بنا پر آیہ شرےفہ میں لام سے مراد’ ’ لام تعد یہ “ اور مابعدلام ”یرید“کا مفعول ہے۔ چنانچہ ہم قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ ”یرید“کبھی لام کے ذریعہ اور کبھی لا م کے بغیر مفعول کے لئے متعدی ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں اس قسم کے متعدد مثالیں پائی جاتی ہیں۔ ہم یہاں پرا ن میں سے دو آیتوں کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں :

۱۔58 اور آیہ 59۔ اس سورہ مبارکہ میں اےک مضمون کے باوجود ”یرید“ اےک آیت میں” اٴن ےعذبھم“ سے بلا واسطہ اور دوسری آیت میں لام کے ذر ےعہ متعدی ہوا ہے۔

 

پانچواں سوال

آیہ شرےفہ میں ”اھل البیت “سے مراد فقط پنجتن نہیں ہیں بلکہ اس میں پےغمبر )صلی اللهعلیہ وآلہ وسلم) کے دوسرے رشتہ دار بھی شامل ہیں ۔ کےونکہ بعض احادیث میں آیا ہے کہ پےغمبر صلی اللهعلیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا عباس اور ان کے فرزند وں کو بھی اےک کپڑے کے نےچے جمع کیا اور فرمایا: ”ھو لاء اھل بیتی“ اور ان کے بارے میں دعا کی۔

 

جواب

اہل بیت کی تعدادکو پنجتن پاک یا چودہ معصومین علیھم السلام میں منحصر کر نے کے حوالے سے اس قدراحادیث وروایات مو جود ہیں کہ اس کے سامنے مذکورہ حدیث کا کوئی اعتبار نہیں رہ جاتاہے۔

اس کے علاوہ وہ حدیث سند کے لحاظ سے بھی معتبر نہیں ہے کےونکہ اس کی سند میں ”محمدبن ےونسی“ ہے کہ جس کے بارے میں ابن حجر نے ابن حبان سے نقل کیا ہے کہ وہ حدیث جعل کرتا تھا۔ شا ئد اس نے اےک ہزار سے زیادہ جھوٹی حدیثیں جعل کی ہیں۔ ابن عدی نے اس

پر حدیث گھڑنے کا الزام لگا یا ہے۔60 

 

 

اس کے علاوہ حدیث کی سند میں ” مالک بن حمزہ“ ہے کہ بخاری نے اپنی کتاب ” ضعفا“ میں اسے ضعےف راوےوں کے زمرہ میں درج کیا ہے۔ 61

اس کے علاوہ اس کی سند میں ” عبداللهبن عثمان بن اسحاق“ ہے کہ جس کے بارے میں ابن حجرنے عثمان کا قول نقل کیا ہے اور کہا ہے : میں نے ابن معین سے کہا: یہ راوی کےسا ہے؟ اس نے کہا : میں اسے نہیں پہچانتا ہوں اور ابن عدمی نے کہا : وہ مجہول اور غیر معروف ہے۔

اس صورت حال کے پےش نظر یہ حدیث کسی صورت میں مذکورہ احادیث کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔

 

چھٹا سوال

ام سلمہ جب پےغمبر اکر م (ص) سے سوال کرتی ہیں کہ: کیا میں بھی آپ کے اہل بیت میں شامل ہوں؟ تو آنحضرت (ص) فرماتے ہیں: ” اٴنت الیٰ خیر“یا ” اٴنت علیٰ خیر“ ّاس کے معنی یہ ہیں کہ تمھیں اس کی ضرورت نہیں ہے کہ تمھارے لئے دعا کروں ، کےونکہ تمھارے لئے پہلے ہی سے قرآن مجید میں آیت نازل ہوچکی ہیں اور جملہ ” انت علی خیر“ کے معنی یہ ہیں کہ تمھاری حالت بہترہے۔ یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ام سلمہ اہلبیت میں داخل نہیں ہیں۔

 

جواب

سیاق آیت کے بارے میں کی گئی بحث سے نتےجہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ آیہ ء تطہیرکا سیاق اس سے پہلی والی آیتوں کے ساتھ ےکسان نہیں ہے اور پےغمبر (ص) کی بےویاں اہل بیت میں داخل نہیں ہیں۔

جملہء ”علی خیر“ یا ” الیٰ خیر“ اس قسم کے موارد میں افضل تفضیل کے معنی میں نہیں ہے اور اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ پےغمبر اکرم (ص) کی بےویاں پنجتن پاک )علیہم السلام) سے افضل وبہتر ہوں۔ اس کے علاوہ خود ان احادیث میں اس مطلب کے بارے میں بہت سے قرآئن موجود ہیں ، من جملہ ام سلمہ آرزو کرتی ہیں کہ کاش انھیں بھی اجازت ملتی تاکہ اہل بیت کے زمرہ میں داخل ہوجاتیں اور یہ اس کے لئے ان تمام چےزوں سے بہترتھا جن پر سورج طلوع و غروب کرتا ہے۔

پےغمبر اسلام (ص) کی بےوےوں سے مربوط قرآن مجید کی آیتوں ، من جملہ آیہ ء تطہیر سے پہلی والی آیتوں اور سورئہ تحریم کی آیتوں کی شان نزول پر غور کرنے سے مذکورہ مطلب کی مکمل طور پر وضاحت ہوجاتی ہے۔ نمونہ کے طور پر سورہ تحریم کی درج ذیل آیتیں بیشتر تامل کی سزاوار ہیں۔

< إن تتو با إلی الله فقد صغت قلو بکما>62 < عسی ربہ إن طلقکنّ اٴن یبد لہ اٴزواجاً خیراً منکنّ مسلمات مئومنات قانتات تائبات عبادات سائحات ثیبات واٴ بکاراً> 63-64

 

ساتواں سوال

احادیث میں آیا ہے کہ پےغمبر خدا (ص)نے آیہ تطہیر کے نازل ہونے کے بعد اپنے خاندان کے حق میں یہ دعا کی: ” اللّھم اٴ ذھب عنھم الّرجس و طھّرھم تطھّیرا“ ”خداوندا: ان سے رجس وپلیدی کو دور کر اور انھیں خاص طور سے پاک و پاکےزہ قرار دے“آیہ کریمہ سے عصمت کا استفادہ کرنے کی صورت میں اس طرح کی دعا منا فات رکھتی ہے، کےونکہ آیہ کریمہ عصمت پر دلالت کرتی ہے اور عصمت کے حاصل ہونے کے بعدان کے لئے اس طرح دعا کرنا تحصیل حاصل اور بے معنی ہے۔

 

جواب

اول یہ کہ: یہ دعا بذات خود اس امر کی واضح دلیل ہے کہ ان کے لئے اس طہارت کے بارے میں خداوند متعال کا ارادہ ارادہ تکوینی تھا نہ تشرےعی ۔ کےونکہ ” اذھاب رجس“ اور ”تطہیر “ کا خدا سے جو مطالبہ کیا گیا ہے وہ قطعاً اےک تشرےعی امر نہیں ہے اور آنحضرت (ص) کی دعا ےقینا مستجاب ہے۔ اس لئے مذکورہ دعا آیہء تطہیر کے مضمون پر تاکید ہے۔

دوسرے یہ کہ عصمت اےک فیض اور لطف الہیٰ ہے جو خدا وند متعال کی طرف سے ان مقدس شخصیات کو ان کی زندگی کے ہرہر لمحہ عطا ہوتی رہتی ہے کےونکہ وہ بھی دوسری مخلوقات کے مانند ہر لمحہ خدا کے محتاج ہیں اور اےسا نہیں ہے کہ اےک لمحہ کی نعمت اور فےض الہیٰ انھیں دوسرے لمحہ کے فےض و عطیہ الہیٰ سے بے نیاز کردے۔

یہ اس کے مانند ہے کہ پےغمبر اسلام (ص) جملہ ” إھد نا الصراط المستقیم“کو ہمےشہ تلاوت فرماتے تھے اور اس ہدآیت کو خدا وندمتعال سے طلب کرتے رہتے تھے ،باوجود اس کے کہ وہ اس ہدآیت کے اعلیٰ ترین درجہ پر فائز تھے اور یہ تحصیل حاصل نہیں ہے بلکہ یہ اس بات پر دلیل ہے کہ بندہ چاہے جس مقام پر بھی فائز ہو وہ ذاتی طور پر خدا کا محتاج ہوتا ہے اور اس احتیاج کا اظہار کرنا اور خدا وندمتعال سے دوسرے لمحات میں نعمت و الطاف الہیٰ کی درخواست کرنا بندہ کے لئے بذات خود اےک کمال ہے۔

اس بات کا علم کہ خدا وندمتعال مستقبل میں اس نعمت کو عطا کرے گا ، دعا کے لئے مانع نہیں بن سکتا ہے،کےونکہ خدا وندمتعال ”اولواالباب“ کی دعا کو بیان کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں :< ربّنا وآتنا ما و عدتنا علی رسلک و لا تخذنا ےوم القیامة إنّک ولا تخلف المےعاد> 65 ” پرور دگار جو تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ ہم سے وعدہ کیا ہے اسے ہمیں عطا کر اور روز قیامت ہمیں رسوانہ کر کیونکہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا “ ہم دےکھتے ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ خدا وند متعال وعدہ خلافی نہیں کرتا اور مو منین کو دیا گیا وعدہ حتماً پور کرے گا ، پھر بھی اس سے اس طرح دعا کرتے ہیں۔

پےغمبر اکرم (ص) کی اھل بیت کے حق میں دعا بھی اسی طرح ہے کہ طہارت اور عصمت الہیٰ اگر چہ انھیں حاصل تھی اور آئندہ بھی یہ نعمت ان کے شامل حال رہتی، لےکن یہ دعا اس کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے ہے کہ باوجود اس کے کہ یہ اھل بیت (ع) اس عظمت و منزلت پر فائز ہیں لےکن ہمےشہ اپنے کو خدا کا محتاج تصور کرتے ہیں اور یہ خدا وندمتعال ہے کہ جو ہر لمحہ عظیم اور گرانقدرنعمت انھیں عطا کرتا ہے۔

اس لئے آنحضرت (ص) کی دعا خواہ آیہ ء تطہیر نازل ہونے سے پہلے ہو یا اس کے بعد ، ان کی عصمت کے منافی نہیں ہے ۔

 

آٹھواں سوال

انبیاء علیہم السلام کی عصمت وحی کے تحقط کے لئے ہے،انبیاء کے علاوہ کیا ضرورت ہے کہ ہم کسی کی عصمت کے قائل ہو ں؟

 

جواب

اول یہ کہ : شےعہ عقیدہ کے مطابق مسئلہ امامت ، نبوت ہی کا ایک سلسلہ ہے اور یہ عہدہ نبوت کے ہم پلہ بلکہ اس سے بالاتر ہے۔66 امام ، مسئلہ وحی کے علاوہ بالکل وہی کردار ادا کرتا ہے جو پےغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم ادا کرتے تھے۔

اس لحاظ سے شےعہ امامیہ کے نزدےک امام میں عصمت کا ہوناعقلی او ر نقلی دلیلوں کی بنیاد پر شرط ہے۔

دوسرے یہ کہ : عصمت کے لئے ملزم عقلی کا نہ ہونا اس کے عدم وجود کی دلیل نہیں بن سکتی ہے ۔ اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ: نبی اور امام کے لئے ، عقل لزوم عصمت کا حکم کرتی ہے اور ان کے علاوہ کسی اور کے لئے یہ حکم ثابت نہیں ہے۔ عصمت خدا کی اےک خاص نعمت ہے،خدا وندمتعال جسے چاہتا ہے اسے عطا کرتا ہے ۔ انبیاء اور ائمہ کی عصمت کے وجود پربرھان عقلی قائم ہے اور ان کے علاوہ اگر کسی کے لئے قرآن وسنت کی دلیل عصمت کو ثابت کرے تو اس پر ےقین کرنا چاہئے اور آیہء تطہیر پےغمبر اسلام (ص)،ائمہ علیہم السلام اور حضرت زہراء سلام اللهعلیہا کی عصمت کی دلیل ہے۔

 

نواں سوال

حدیث ثقلین کے بارے میں صحیح 67 مسلم کی روآیت کے مطابق پےغمبر (ص) کے صحابی زید بن ارقم نے پےغمبر اکرم (ص)سے روآیت کی ہے کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: ”اٴنا تارک فےکم الثقلین: کتاب الله ․․․ و اھل بیتی “ زیدبن ا رقم سے سوال ہو تا ہے: آنحضرت (ص)کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا عورتیں )ازواج پیغمبر)بھی آنحضرت (ص) کے اہل بیت میں شامل ہیں؟جواب دیتے ہیں کہ : نہیں، سوال کرتے ہیں :پس آنحضرت کے اہل بیت کون ہیں؟جواب میں کہتے ہیں : آنحضرت (ص) کے اہل بیت وہ لوگ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ وہ علی ،عباس ،جعفر اورعقیل کی اولاد ہیں۔ اس بات کے پےش نظر اہل بیت کو کےسے پنجتن یا چودہ معصومین(ع)میں محدودکیا جا سکتا ہے؟

 

جواب

اول یہ کہ: یہ حدیث پےغمبر (ص) کی بےوےوں کو اہل بیت علیہم السلام کی فہرست سے خارج کرتی ہے۔

دوسرے یہ کہ :یہ حدیث بہت سے طرق سے نقل ہونے کے باوجود ےزید بن حیان پراس حدیث کی سند کا سلسلہ منتہی ہوتا ہے اوریہ حدیث آیہ شرےفہ اور دوسری بہت سی آحادیث کی دلالت سے مقابلہ کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔

تےسرے یہ کہ:بالفرض اگر اس کا صدور ثابت بھی ہو جائے تو بھی یہ اےک صحابی کا اجتہاد ہے اور یہ حجت نہیں بن سکتا۔

چوتھے یہ کہ: حدیث ثقلین بہت طرےقوں سے زید بن ارقم سے نقل ہوئی ہے اور اس میں جملہء: ”ماإن تمسکتم لن تضلّوااٴبداً وإنّھمالن ےفترقا حتّی یردا علیّ الحوض“ موجود ہے جو اہل بیت کی رہبری اور ان کے قرآن مجید سے لازم و ملزوم ہونے کو بیان کرتا ہے جو زیدبن ارقم کی مذکورہ تفسیر سے کسی بھی طرح سازگار نہیں ہے، کےونکہ مذکورہ تفسیر کی بنا پر خلفائے بنی عباس بھی اپنے تمام ترظلم و جرائم کے مرتکب ہونے کے باوجود اہل بیت کے زمرے میں شامل ہوجائیں گے اور یہ حدیث ثقلین کے الفاظ کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔

 

دسواں سوال

بعض احادیث میں آیا ہے کہ جب ام سلمہ نے سوال کیا کہ : ” کیا میں بھی اہل بیت میں داخل ہوں ؟“ یا ” مجھے بھی ان کے زمرہ میں شامل کر لیجئے “ تو پےغمبر (ص) نے جواب دیا: ” ہاں انشاء الله“یا ےوں فرمایا: ” انت من اھلی“ اس لئے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ : اہل بیت پنجتن پاک میں منحصر ہیں؟

 

جواب

بیان کی گئی بہت سی حدیثوں سے کلمہ ” اہل بیت“ کی اےک خاص اصطلاح ہے جس کے مطابق صرف پنجتن پاک کا ان میں شامل ہونا اور دوسروں کی اس میں عدم شمولیت ثابت ہوتی ہے ۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ سوال میں اشارہ کی گئی احادیث میں ”اھل “ یا ”اہل بیت“سے مراد اس کے لغوی معنی ہوں گے جس میں آنحضرت (ص) کی بےویاں بھی شامل ہیں۔

ہم سوال میں اشارہ کی گئی احا دیث کے بارے میں اہل سنت کے فقہ و حدیث کے اےک امام، ابو جعفر طحاوی کے نظریہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ طحاوی ان افراد میں سے ہیں جو آیہء شرےفہ تطہیر میں ” اہل بیت “ کو پنجتن پاک علیہم السلام سے مخصوص جانتے ہیں اور پےغمبر اکرم (ص) کی ازواج کو اس آیہء شرےفہ سے خارج جانتے ہیں ۔ انھوں نے اپنی کتاب ”مشکل آلاثار‘68‘میں اےک اےسی حدیث نقل کی ہے جو اس بات پردلالت کرتی ہے کہ ام سلمہ نے کہا:”مجھے ان )اہل بیت) کے ساتھ شامل کر لیجئے تو“ پےغمبر اکر م (ص) نے فرمایا: ” انت من اٴھلی“ ”تم میرے اہل میں سے ہو“ اس کے بعد طحاوی کہتے ہیں:

” فکان ذالک ممّا قد ےجوز اٴن ےکون إرادة اٴ نّھا من اٴھلہ، لاٴنّھا من

 

اٴزواجہ و ازواجہ اھلہ“

ممکن ہے پےغمبراکرم (ص) کا مقصد یہ ہو کہ ام سلمہ آپ کی بےوےوں میں سے ایک ہے اور آنحضرت (ص) کی بےویاں آپ کے اہل ہیں۔

اس کے بعد طحاوی اس سلسلہ میں شاہد کے طور پر آٹھ حدیثیں نقل کرتے ہیں جو اس بات پر دلا لت کر تی ہیں کہ ام سلمہ آیہء تطہیر میں ” اہل بیت“ میں سے نہیں ہیں۔وہ مزید لکھتے ہیں :

” فدلّ ماروینا فی ھذہ الآثار ممّا کان رسول الله (ص)إلی اُمّ سلمة، ممّا ذکر نا فیھالم یرداٴنھاکانت ممّااُریدبہ ممّافی الآیة المتلوة فی ھذاالباب،واٴن المراد بما فیھاھم رسول اللہ۔ (ص) و علیّ و فاطمة والحسن والحسین دون ماسواھم“69

یہ حدیثیں دلالت کرتی ہیں کہ ام سلمہ ان اہل بیت میں سے نہیں ہیں کہ جن کی طرف آیہ ء تطہیر اشارہ کرتی ہے ۔اورآیہ ء تطہیر میں موجود ” اہل بیت “ سے مراد صرف رسول خدا (ص) ، علی وفاطمہ،حسن و حسین)علیہم السلام) ہیں۔

طحاوی کی نظر میں اےک اوراحتمال یہ ہے کہ ”انت اھلی“ کا مقصد یہ ہے کہ تم میرے دین کی پیروی کرنے کی وجہ سے میرے اہل میں شمار ہوتی ہو، کےونکہ حضرت نوح علیہ السلام کی داستان میں ان کا بےٹا ان کی اہل سے خارج ہے اور اس کے بارے میں کہا گیا : 70 اس سے استفادہ کیاجاسکتا ہے کہ جو صاحب )ایمان اور) عمل صالح ہیںوہ ان کے اہل ہیں۔

طحاوی نے اس احتمال کو واثلہ کی حدیث بیان کرنے کے بعد پےش کیا ہے۔ واثلہ بھی ان صحابےوں میں سے اےک ہے، جس نے حدیث کساء کی روآیت کی ہے۔وہ اپنی روآیت میں پنجتن پاک کے کساء کے نےچے جمع ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور پےغمبر خدا (ص) کے بیان کو نقل کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اٴللّھم ھولاء اھل بیتی واھل بیتی احق“ اس کے بعد کہتا ہے:میں نے کہا : یا رسول الله کیا میں بھی آپ کے اہل بیت میں شامل ہوں ؟ فرمایا: ” تم میرے اہل سے ہو“۔

طحاوی اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں:

” واثلہ کا ربط، ام سلمہ کی بہ نسبت پےغمبر اکرم (ص) سے بہت دور کا ہے۔کےونکہ واثلہ )پےغمبر خدا (ص) کے گھر کا اےک خادم ہے )بنی لیث کا اےک شخص ہے اور قرےش میں شمار نہیں ہوتا ہے اور ام سلمہ ) پےغمبر (ص) کی بےوی ) قرےش سے ہیں۔ اس کے باوجود ہم دےکھتے ہیں کہ آنحضرت (ص)واثلہ سے فرماتے ہیں : ” تم میرے اہل میں سے ہو“ لہذا اس کے یہ معنی ہیں کہ تم میرے دین کی پیروی کرنے کی خاطر اور مجھ سے ایمان رکھنے کے سبب ہم اھل بیت کے زمرہ میں داخل ہو۔

بیہقی نے بھی ” السنن الکبریٰ “71 میں واثلہ کی حدیث کو نقل کیا ہے اور کہاہے:

” وکانّہ جعل فی حکم الاٴھل، تشبیھا بمن ےسحق ھذاالابسم لا تحقےقاً“

”گویا اس حدیث میں واثلہ کو تشبیہ کے لحاظ سے آنحضرت (ص) کے اہل کے حکم میں قرار دیاگیا ہے نہ اس لئے کہ وہ حقےقی طور پر اہل بیت کا مصداق تھا۔“

اس لئے بہت سی حدیثیں کہ جو اہل بیت کے دائرہ کو منحصر کرنے کے سلسلہ میںوارد ہوئی ہیں اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

 

گیارہواں سوال 

آیہء < إنّما یرید الله…> اس آیت کے مانند ہے: < مایریدالله لےجعل علےکم من حرج ولکن یرید لےطھّرکم ولیتمّ نعمتة علےکم> 72 ےعنی: ” خدا تمھارے لئے کسی طرح کی زحمت نہیں چاہتا ، بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک و پاکےزہ بنادے اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کردے “73 اور اسی طرح آیہء < إنّما یرید الله…>اس آیت کے مانند ہے: 74ےعنی ” تاکہ تمھیں پاکےزہ بنادے اور تم سے شےطان کی کثافت کو دور کردے “ 

اگر آیہء تطہیر عصمت پر دلالت کرتی ہے تو مذکورہ دو آیتوں کی بناپرہمیں بہت سارے اصحاب کی عصمت کے قائل ہونا چائیے۔

 

جواب

پہلافقرہ وہ ہے جو وضو کی آیت کے آخر میں آیا ہے۔ آیہ شرےفہ ےوں ہے:اس آیہء کریمہ میں خدا وند متعال وضو، غسل اور تیمم کا حکم بیان کرنے کے بعد فرما تا ہے: ”خدا وندمتعال ) ان احکام کی تشرےع سے ) تمھارے لئے کسی طرح کی زحمت نہیں چاہتا ہے، بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمھیں )وضویا غسل یا تیمم سے ) پاک و پاکےزہ بنادے“۔ یہ حدث پاک کرنا ہے جو وضو یا غسل یا تیمم سے حاصل ہوتاہے ، اور اس کا آیہ ء تطہیر کی مطلق طہارت تکوینی سے کوئی ربط نہیں ہے۔

دوسری آیت میں بھی ”رجز اللشیطان “یعنی شےطان کی نجاست سے مرا دوہ جنابت ہے جس سے جنگ بدر میں مسلمان دو چار ہوئے تھے اور خدا وندمتعال نے ان کے لئے بارش نازل کی اور انہوں نے بارش کے پانی سے غسل کیا اوراپنے جنابت کے حدث کو غسل سے برطرف کیا۔ اس آیت میں اےک خاص طہارت بیان کی گئی ہے اور اس طہارت کا تعلق ان صحابہ سے ہے جو جنگ بدر میں موجود تھے اور جنھوں نے بارش کے پانی سے غسل کرکے یہ طہارت حاصل کی تھی لہذا آیہ تطہیر سے استفادہ ہونے والی مطلق تکوینی طہارت سے اس کا کو ئی ربط نہیں ہے۔

___________________

 

۱۔ سورہ شوریٰ/۲۳

۲۔مستدرک الصحیحین، ج۳،ص۱۷۲، دارالکتب العلمیہ، بیروت

3۔تفسیرابن کثیر،ج۳،ص۲۹۱

4۔تفسیرابن کثیر،ج۳،ص۴۹۲

5۔روح المعانی ،ج۲۲،ص۱۳،داراحیائ التراث العربی،بیروت

6۔تفسیر ابن کثیر،ج۳،ص۴۹۱

7۔ ہود/۷۳

8۔قصص/۲۹

9۔ذہبی،تذکرةالحافظ،ج۲،ص۱۲۰۰پر کہتا ہے:حاکم حسکانی علم حدیث کے کامل عنایت رکھنے والاایک محکم اورمتقن سند ہے۔

10۔ اسدالغابة/ج۵ص۵۲۱/داراحیائ التراث العربی ،بیروت، الاصابة/ج۲/ص۵۰۹/دارالفکر، اضوائ البیان /ج۶/ص۵۷۸/عالم الکتب بیروت، انساب الاشراف/ج۲/ص۳۵۴/دارالفکر، بحار الانوار،ج۳۵،ازص۲۰۶،باب آیة تطہیر تاص۲۳۲ مؤسسة الوفائ بیروت، تاریخ بغداد /ج۹/ص۱۲۶/ وج۱۰/ص۲۷۸/دارالفکر، تاریخ مدینہ دمشق/ج۱۳/ص۲۰۳و ۲۰۶و۲۰۷وج۱۴/ ص۱۴۱و۱۴۵، تفسیر ابن ابی حاتم /ج۹/ص۳۱۲۹/المکتبة المصربة بیروت، تفسیر ابی السعود/ ج۷/ ص۱۰۳/دارالحیائ التراث العربی بیروت، تفسیر البیضاوی/ج۲۳/ص ۳۸۲/دارالکتاب العلمیة، تفسیر فرات الکوفی/ج۱/ص۳۳۲ تا۳۴۲/مؤسسة النعمان، تفسیر القرآن العظیم ابن کثیر/ج۳/ص۵۴۸/دارالکتب العلمیة بیروت، تفسیر اللباب ابن عادل دمشقی/ج۱۵/ص۵۴۸/ دارالکتاب العلمیة بیروت، تفسیر الماوردی/ج۴/ص۴۰۱/دارالمعرفة بیروت، التفسیر المنبر/ج۲۳/ص۱۴/دارالفکرالمعاصر، تھذیب التھذیب/ج۲/ص۲۵۸/دارالفکر، جامع البیان/ طبری/ج۲۲/ص۵/دارالمعرفة بیروت، جامع احکام القرآن/ قرطبی/ج۱۴/ص۱۸۳/دارالفکر، الدار المنثور/ج۶/ص۶۰۴/دارالفکر، ذخائر العقبی/ص۲۱تا۲۴، روح البیان/ج۷/ص۱۷۱/داراحیائ التراث العربی، روح المعانی/ آلوسی/ج۲۲/ص۱۴/دار احیائ التراث العربی/الریاض النضرة/ج۲)۴-۴)/ص۱۳۵/دار الندوة الجدیدة بیروت، زاد المسیر/ ابن جوزی/ج۶/ص۱۹۸/ دارالفکر، سنن الترمذی/ج۵/ص۳۲۸-۳۲۷و ۶۵۶/ دارالفکر، السنن الکبری / بیھقی/ ج۲ / ص۱۴۹/ دارالمعرفة بیروت، سیر اعلام النبلاء/ ذہبی/ج۳/ص۲۵۴و ۲۸۳/ مؤسسة الرسالة بیروت، شرح السنة بغوی/ج۱۴/ص۱۱۶/المکتب الاسلامی بیروت، شواہد التنزبل/ج۲/ص۸۱-۱۴۰/ موسسة الطبع و النشر لوزرارة الارشاد، صحیح ابن حبان/ج۱۵/ص۴۴۲ الٰی ۴۴۳/موسسة الی سالة بیروت، صحیح مسلم/ج۵/ص۳۷/ کتاب الفضائل باب فضائل / مؤسسة عزالدین بیروت، فتح القدیر/ شوکانی/ج۴/ص۳۴۹تا۳۵۰/ دار الکتاب العلمیة بیروت، فرائد السمطین/ جوینی/ج۱/ص۳۶۷/مؤسسة المحمودی بیروت، کفایة الطالب/ص۳۷۱تا۳۷۷/داراحیاء تراث اہل البیت، مجمع الزوائد/ج۹/ص۱۶۶-۱۶۹/دارالکتب العربی بیروت، المستدرک علی الصحیحین /ج۲/ص۴۱۶وج۳/ص۱۴۷/دارالمعرفة بیروت، مسند ابی یعلی/ج۱۲/ ص۳۴۴و۴۵۶/ دار الہامون للتراث، مسند احمد/ج۴/ص۱۰۷وج۶/ص۲۹۲/دارصادر بیروت، مسند اسحاق بن راہویہ/ ج۳/ص۶۷۸/مکتبة الایمان مدینة المنورة، مسندطیالسی/ص۲۷۴/ دارالکتب اللبنانی، مشکل الآثار/ طحاوی/ج۱/ص۳۳۵/دارالباز، المعجم الصغیر/طبرانی/ج۱/ص ۱۳۵/ دارالفکر، المعجم الاوسط/طبرانی/ج۲/ص۴۹۱/ مکتبة المعارف ریاض، المعجم لکبیر/طبرانی/ ج۲۳/ ص۲۴۵و۲۸۱و ۲۸۶و ۳۰۸و۳۲۷و۳۳۰و۳۳۳و۳۳۴و۳۳۷و۳۵۷و۳۹۳و۳۹۶، المعرفة و التاریخ بسوی/ ج۱/۳۹۸، المنتخب من مسند عبد بن حمید/ص۱۷۳ و ۳۶۷/عالم الکتب قاہرہ مناقب ابن مغازلی/ص۳۰۱-۳۰۲/ المکتبةالاسلامیة

11۔المستدرک علی الصحیحین،ج۳،ص۱۴۸

12۔تاریخ مدینة دمشق،ج۱۳،ص۲۰۶

13۔آیہء تطہیر کی تفسیرمیں حدیث کساء کی تعبیر

14۔ عوام العوم، جلد حضرت زہراء علیہماسلام۔ ج۱۱،ص ۶۳۸موسسہ الامامم مھدی علیہ اسلام

15۔الدر المنثور،ج۶،ص۶۳۸،موسسة الامام مھدی

16۔تفسیرابن کثیر،ج۳،ص۴۹۳

17۔الدر المنثور،ج۶،ص۱۶۰۴۔المعجم الکبیرج،۲۳،ص۳۳۶ ۵۔تاریخ مدینةدمشق ج۱۴،ص۱۴۵ 

18۔تاریخ مدینةدمشق،ج۱۳،ص۰۶ ۲ 

19۔تفسیرابن کثیر،ج۳،ص۴۹۲،تفسیر طبری ج،۲۲ص،۵

20۔تاریخ مدینةدمشق،ج۱۴،ص۱۴۱ ۳۔مشکلا آثار،ج۱،ص۳۳۶ 

21۔تاریخ مدینةدمشق،ج۱۳،ص۲۰۳ 

22۔شواہدالتنزیل،ج۲،ص۶۱ 

23۔شواہد التنزیل،ج۲،ص۱۳۴

24۔شواہدالتنزیل،ج۲،ص۱۹ 

25۔المستدرک علی الصحیحین،ج۲،ص۴۱۶

26۔الدرّالمنثور،ج۶،ص۶۰۳،دارالفکر

27۔تفسیرابن کثیر،ج۳،ص۲۹۳،دارالمعرفة،بیروت

28۔الدر المنثورج۶،ص۶۰۴،دارالفکر۔المعجم الکبیر،ج۲۳،ص۳۳۶

29 - تاریخ مدینة دمشق، ج۱۳، ص۲۰۶، دارالفکر۔

30۔جامع البیان طبری،ج۲۲،ص۷،دارالمعرفة،بیروت۔تفسیرابنکثیرج۳ص۴۹۳،دارالمعرفة،بیروت

31- تارےخ مدینہ دمشق ،ج ۱۴،ص۱۴۵، دارالفکر ۲-شواہد التنذیل، ج۲،ص۱۱۹

32-مشکل الا ثار،ج۱، ص۳۳۶، طبع مجلس دائرة المعارف النظامیہ بالھند 

33- تارےخ مدینة دمشق، ج ۱۳،ص۲۰۳-۲۰۲،دارلفکر

34۔شواھدالتنزیل،ج۲،ص۶۲۔۶۱

35۔شواھد ا لتنزیل،ج۲،ص۱۳۴۔۱۳۳

36۔المستدرک علی الصحیحین،تفسیر سورئہ احزاب ،ج۲،ص۴۱۶،دارالمعرفة،بیروت

37۔مندابی داؤد طیالسی ،ص۲۷۴،دارالکتاب ا للبنانی

38۔مجمع الزوئد ،ج۹،ص۲۶۴،ح۱۴۹۸۷،دارالفکر۔الدرالمنثور ج۶،ص۶۰۶شواہدالتنزیل ،ج۲،ص۴۴،موسة الطبع والنشر لوزرارة الارشاد الاسلامی

39۔جامع البیان طبری، ج۲۲، ص۵۔۶، دارالمعرفة،بیروت۔مجمع الزوائد، ھیثمی ،ج۹، ص۲۶۶، ح۱۴۹۸۵۔انساب الاشراف،ج۲،ص۳۵۴۔۳۵۵ دارالفکر،المنتخب من مسند احمد،ج ۳،ص۴۹۲، دارالمعرفة،بیروت اوردوسری کتابیں۔

40۔جامع البیان ،طبری،ج۲۲،ص۶،دارالمعرفة،بیروت۔تفسیر ابن کثیر،ج۳ ص۲۹۲،دارالمعرفة، بیروت۔ فتح القدیر،ج۴،ص۳۵۰،دارالکتب العلمیہ،بیروت

41۔الدرالمنثور،ج۵،ص۶۱۳،وج۶،ص۶۰۶،دارالفکر۔

42۔المنتخب من مسند بن حمید،ص۱۷۳،عالم المکتب۔ذخائر المقبی ص۲۵،موسةالوفاء، بیروت۔ الدرالمنثور،ج۶،ص۶۰۲،دارالفکر۔شوھدالتنزیل، ج۲،ص۲۷

43۔مجمع الزوائد،ج۹،ص۲۶۷،ح۱۴۹۸۶،دارالفکر،شواھد التنزیل ،ج۲،۸۷

44۔جامع لبیان ،طبری،ج۲۲،ص۵،دارالمعرفة۔بیروت میں اس حدیث کی سند یوں ہے:حدثنی محمد بن المثنی قال:ثنابکر بن یحیی بن زبان العنزی قال:ثنا)حدثنا) مندل،عن الآعمش عن عطیة عن اٴبی سعید الخدری۔

اس سند میں ”بکر بن یحیی بن زبان“ ہے۔چنانچہ ان کا نام تہذیب التہذیب،۱،ص۴۲۸ دارالفکر،میں درج ہے۔ابن حبان نے اسے ”کتاب ا لثقات“)جس میں ثقہ راوی درج کئے گئے ہیں)میں درج کیا ہے۔

ابن حجر نے”مندل“)بن علی) کے بارے میں تہذیب التہذیب ،ج۱۰،ص۲۶۵،میں ذکر کیا ہے کہ یعقوب بن شیبہ اوراصحاب یحیی)بن معین)اور علی بن مدینی نے اسے حدیث میں ضعیف جانا ہے جبکہ وہ خیّر،فاضل اور راستگوہیں اوراسی کے ساتھ ساتھ وہ ضعیف الحدیث بھی ہیں ۔اس بیان سے واضح طور پر معلو م ہو تا ہے کہ جومذمتیں اس کے بارے میں ہوئی ہیں وہ اس کی احادیث کے جہت سے ہے اورجیسا کہ عجلی نے اس کے بارے میں کہا ہے،۔اس کے شیعہ ہونے کی وجہ سے ہیں۔

حدیث کا ایک اورراوی”اعمش“)سلیمان بن مہران) ے کہ اس کے موثق ہونے کے بارے میں رجال کی کتا بوں میں کافی ذکرآیا ہے،من جملہ یہ کہ وہ راستگوئی میں مصحف کے مانند ہے)تہذیب التہذیب،ج۴،ص۱۹۶،دارالفکر)

45۔تاریخ مدینةدمشق،ج۱۳،ص۲۰۶،دارالفکر

46۔تاریخ مدینة دمشق،ج۱۳،ص۲۰۷،دارالفکر ۳۔تاریخ مدینة دمشق،ج۱،ص۳۳۲

47۔سورئہ نور/۳۶

48۔الدرالمنثور،ج۶،ص۲۰۲،دارالفکر

49۔تفسیر ابن کثیر،ج۳،ص۴۹۳

50۔کتاب منتخب الاثر کی طرف رجوع کیا جائے۔

51۔حدیث کے مختلف طریقوں سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے ”کتاب اللہ واہل البیت فی حدیث الثقلین“کی طرف رجوع کیا جائے۔

52۔جواھر العقدین،سمھودی،ص۲۴۴،دارالکتب العلمیہ البیروت۔”الصواعق المحرقة“ فصل ”اہل بیت حدیث ثقلین میں“ابن حجر۔

53۔کمال الدین صدوق،ص۲۷۴

54۔مؤلف اور کتاب کے اعتبار کے بارے میں تفسیر آیہء ”اولوالامر“کا آخر ملاحظ ہو۔

55۔فرائد السمطین،ج۱،ص۳۱۶،موسةالمحمودی للطباعة والنشر،بیروت

56۔ سورہ نساء /۲۶ 

57۔ سورہ نساء /۲۷

58۔ سور ہء توبہ/۵۵ ۲۔سورہ توبہ/۸۵

59 ۱اور آیہء ۲اےک آیت میں ”یریدون“ ، ”اٴن ےطفئو“ پربلا واسطہ اور دوسری آیت میں لام کے واسطہ سے متعدی ہوا ہے۔

60۔ تہذیب،ج،ص۵۴۲،طبع ھندوستان

61۔ مےزان الاعتدال،ج۲،ص۳۲۵، دارالمعرفہ،بیروت

62۔سورہ تحرم/۴

63۔ سورہ تحریم/۵

64۔سورہ تحریم /۱۰

65۔۷ سورہ آل عمران/۱۹۴

66۔ اس سلسلہ میں مصنف کی کتابچہ ” امامت ، حدیث غدیر ، تقلین اور منزلت کی روشنی ہیں“ کی طرف رجوع کیا جائے

67۔صےحع مسلم، کتاب فضائل،باب فضائل علی بن ابطالب-

68۔مشکل الاثار،ج۱،ص۳۳۳۔۳۳۲

69۔ مشکل ا لآثار، ج۱،ص۳۳۶

71-السنن الکبریٰ ، ج۲،ص۵۲،دارالمعرفة،بیروت

70۔ سورئہ ہود/۴۶

72۔ سورہ مائدہ/۶

73۔سورہ انفال/۱۱

74۔ سورئہ مائدہ/۶

 

 


source : http://www.makarem.ir/persian/library/book.php?bcc=30925&itg=56&bi=366&s=ct
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

کیا امام صادق{ع} کی نیاز کے عنوان سے کوئی چیز صحیح هے؟
امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت پر تعزیت عرض ہے
علی (ع) اور جھاد
قرآن اور حسین
زیارت وارث،امام حسین (ع) کے وارثِ انبیاء ہونے کے معنی ...
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام
امام حسین علیہ السّلام پر گریہ کرنے کی فضیلت
سیرت اہلبیت (ع) خدام کے ساتھ
امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
اہلبیت (ع) اور مفہوم لفظ اہلبیت (ع)

 
user comment