اردو
Friday 25th of September 2020
  12
  0
  0

اسرار غدیر

موٴلف محمد باقر انصاری 

مقدمہ ناشر

غدیر حضر ت امیر المو منین (ع) کی سب سے بڑی فضیلت

۔۔۔فقال الرجل لاٴمیرالمومنین (ع) : فاٴخبرنی باٴفضل منقبةلکَ من رسول اللہ (ص)۔فقال: 

<نَصْبُہُ اِیَّایَ بِغَدِیْرِخُمٍّ، فَقَامَ لِیْ بِالْوِلَایَةِمِنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ بِاَمْرِاللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعٰالیٰ> 

”ایک شخص نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: آپ(ع) کےلئے پیغمبر اکرم کی طرف سے عطا کی گئی سب سے بڑی فضیلت کیا ھے ؟ 

آ پ نے فرمایا:خداوند عالم کے حکم سے مجھ کو غدیر خم کے میدان میں ولایت کا تاج پہنانا۔ (کتاب سلیم صفحہ ۹۰۳ حدیث ۶۰) 

اھداء

کیا یہ ناچیز مکتوب باعظمت خاتون کی بارگاہ میں قبول هو جا ئیگا جس کو میں نے ان کے پر برکت جوار ،ان کی عنایت کے زیر سایہ اور ان کی شفاعت کی امید میں تالیف کیا ھے ؟ 

کیا کر یمہ آل محمد حضرت فاطمہ معصومہ سلا م اللہ علیھا اس موٴ لف کے سر کو اپنے آستانہ پر جھکانے کو قبول کریں گی ؟ 

اس امید کی کرامت میں کتاب حاضر کوان کی بارگاہ میں تقدیم کر تا هوں ۔ 

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا نے حدیث غدیر کی سندمندرجہ ذیل طریقہ سے نقل کی ھے 

۔۔۔حضرت فاطمہ دختر امام مو سیٰ بن جعفر علیہ السلام نے فاطمہ دختر حضرت امام جعفر صادق (ع) سے انھوں نے فاطمہ دختر حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے انھوں نے فاطمہ دختر حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام سے انھوں نے فا طمہ اور سکینہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی بیٹیوں سے انھوں نے حضرت فاطمہ زھرا علیھا السلام کی بیٹی ام کلثوم سے نقل کیا ھے کہ ان کی مادر گرامی حضرت فاطمہ زھراء دختر رسول اکرم(ص) سے مروی ھے کہ :اَنَسِیْتُمْ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ یَوْمَ غَدِیْرِخُمٍّ : ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ“؟! 

”کیا تم نے غدیر خم میں رسول اسلام(ص) کے اس فرمان کو بھلا دیا ھے: جس کا میں مولا اور صاحب اختیار هوں یہ علی علیہ السلام اس کے مو لا اور صاحب اختیار ھیں “؟![1] 

مقد مہ

غدیر ھمارا پاک و پا کیزہ عقیدہ

”غدیر “یہ مقدس اورپاک و پا کیزہ نام ھما رے عقیدہ کا عنوان اورھما رے دین کی بنیاد ھے 

غدیر خلقت کا ما حصل ،تمام ادیان الٰھی کا نچوڑ اور مکتب وحی کا خلا صہ ھے ۔ 

غدیر ھمارا عقیدہ ھے صرف ایک تا ریخی واقعہ نھیں ھے ۔ 

غدیر،نبوت کا ثمر اور رسالت کا میوہ ھے ۔ 

غدیر،قیامت تک مسلمانوں کے گامزن رہنے کے لئے راستے کو معین کر نے کا نام ھے ۔ 

غدیر ،کوئی بھلادینے والی یا پرا نی هو نے والی چیز نھیں ھے ۔ 

غدیر ،وہ پانی ھے جس سے گلستان توحید کے تمام درختوںاورغنچوں کواپنے رشد و نمو کےلئے سیراب هونے کی ضرورت ھے ۔ 

غدیرپل صراط ھے اورغدیر پر ایمان رکھ کر ھی اس صراط سے گذرا جا سکتا ھے ورنہ اس شمشیر کی ایسی تیز دھار ھے جس سے ھر منافق اور ملحد دو ٹکڑے هو جا ئے گا ۔ 

غدیر ،اسلام کی تاریخ کا سب سے حساس موڑھے جس نے ابتداء ھی میںدین خدا کو دشمنوں کی طرف تمام اندرونی اور بیرونی یقینی خطرات سے فکری اور معنوی اعتبار سے نجات دی ۔ 

غدیر، اسلام کے ماضی کا محا فظ اور مستقبل کا ضامن ھے ،جس کا منصوبہ بنانے والا خداوند عالم، اعلان کر نے والے رسول خدا (ص) اورجامہٴ عمل بنانے والے بارہ امام علیھم السلام ھیں ۔ 

غدیر پوری انسانیت کی عید ھے ۔اس د ن انسانی تخلیق کا آخری مقصد بیان هو ااور انسانیت کا مقصد معین هوا ۔جنھوں نے اس دن کو برباد کیا انھوں نے حق انسانیت کو پا ئمال کر دیا اور ار بوں انسانوں کے حق کو نظرانداز کیا ھے ۔ 

غدیر ھما ری روح اور ھما ری سرشت ھے ۔ھم غدیر کے ذریعہ ھی اس دنیا میں آئے ھیں ،اور ھم اسی کے ساتھ اپنے پر وردگار سے ملاقات کریں گے ۔ 

غدیرفکر کا مقام ھے اس لئے کہ اس کا تعلق انسان کی حقیقت سے ھے ،اور انسان کے وجود میں مختلف جہتوں سے مو ٴثر ھے اور دنیا و آخرت میں اس کی ذمہ داریوں کو معین کر تا ھے ۔ 

چودہ سو سال سے شیعہ غدیر کے بابرکت نتھرے پانی کو ولایت کے درختوں کی جڑوں پر چھڑ کتے ھیں ،اور اس خشک بیابان سے ، عقائد سے ھرے بھرے پودوں اور محبت کے خوبصورت پھولوں کو پروان چڑھا تے ھیں حضرت علی علیہ السلام سے کینہ و بغض و حسد رکھنے والوں سے برائت اور ان پر لعنت کرکے ان کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکتے ھیں اور رسول اسلام(ص) کی عطا کی هو ئی محکم و مضبوط حجت کے ذریعہ غدیر کی سرحدوں کو مخالفین غدیر کےلئے بند کرکے ان سے ھمت دکھانے کی طاقت و قوت چھین لی ھے ۔غدیر کے شھیدوں نے چودہ سو سال کے عرصہ میں غدیر کے نام پر شھید هونے والے ،غدیرکے سب سے پھلے شھداء حضرت فا طمہ زھرا سلام اللہ علیھا اور حضرت محسن علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنے والے اور کربلا میںاس کے با عظمت شھدا کے پیروکار ھیں ۔عاشورا مولود غدیر اور اس کا محا فظ ھے اور ٹھیک سقیفہ کے مد مقابل مو رچہ بنائے هوئے ھے ۔ 

غدیر میں پیغمبر اکرم(ص) کی چشم مبارک بہت دور کا نظارہ کر رھی تھیں جو کشتیٴ اسلام کا بیڑا پار لگا ئے اور اس کے آخری ھدف کو آشکار کرے ،مستقبل کا نظارہ بھی کر رھی تھیں بھیڑیا دھسان عقیدہ رکھنے والے اسلام کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی کوشش میں لگے ھیں ۔ 

اسی سبب کے مد نظر پیغمبر اسلام(ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے ھاتھ کو اپنے دست مبارک میں لیکر بلند کیا اور تاریخ کی تمام نسلوں کو دکھلایا اور ان کا اپنے جا نشین کے عنوان سے تعا رف کرایا ۔ 

ھمارے پاس غدیر کی میراث کے وارث ھیں اور ھمارا وجود اسی کی عظمت کامرهون منت ھے آج غدیر دشمنوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے والا وہ آفتاب ھے جو پوری دنیا کو ضوفشاں کررھا ھے اور اس کی طاقتور کشتی کو وسیع و عریض گیتی میں کھے رھا ھے اور چودہ سو سال سے سقیفہ کے فتنہ میں غرق هو نے والوں کو گرمی پہنچا رھا ھے اور اس کوکفر و گمراھی کے گردابوں سے بچاکر اس کی روح کو نئی زندگی عطا کررھا ھے ۔ 

اے صاحب غدیر

غدیر والے آپ کو اوج غدیریت سے سلام عرض کرتے ھیں ،تعظیم کرتے ھیں ،آپ کے دست مبارک، پیر اورآپ کی خاک پا کو چو متے ھیں آپ (ع) کے بلند و بالا مقام کے با لمقابل خود کو بہت چھو ٹا سمجھتے ھیں !۔۔۔اگر آپ(ع) ان کی اس خا کساری کو قبول فر ما ئیں ۔!؟ 

انتظار سے لبریز آنسو کے قطرہ کا ۔۔۔سلام ! اس کتاب کو تحریر کرنے کی وجہ

غدیر سر نوشت ساز واقعات کا مجموعہ ھے کہ ’خطبہٴ غدیر “ان کی سب سے آشکار اور سب سے زندہ سند ھے ۔یہ خطبہ اسلام کا بنیادی دستور اور اسلام کی ابدی عزت ھے جس کا خلاصہ جملہ ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ“”جس کا میں مو لا هوں اس کے علی مو لا ھیں“اور اس کا نتیجہ ”امیر المو منین علیہ السلام کی ولا یت “ھے ۔ 

غدیر کا ایک چھوٹے جملہ یا ایک تفصیلی تقریر میں خلا صہ نھیں کیا جا سکتا ھے اس خطبہ کے ذیل میںبہت سے مطالب اور واقعات ھیں جن کو واقعہٴ غدیر کے مجمو عہ کے عنوان سے یاد کیا جا سکتا ھے اور اس کی مکمل نقشہ کشی کی جا سکتی ھے ۔ 

غدیر خم کے خطبہ کے ذیل میں جو کچھ رونما هوااس سے اس عظیم واقعہ میں پوشیدہ حقائق کو درک کرنے یھاں تک کہ خطبہ ٴ غدیر کے بعض جملوں اور عبارتوں کو سمجھنے کے اسباب فر ا ھم کرتا ھے ۔ 

اگر ھم کو غدیر کے واقعات کا الگ الگ علم هوجائے لیکن ھم پر ان کا ایک دو سرے سے رابطہ واضح نہ هو تو ھم پر ایسی حقیقتیں مخفی رہ جا ئیں گی جن کا ایک مسلمان کے عقیدے سے براہ راست تعلق ھے اور ان کے مد نظر اکثر مسلمانوں کے حضرت امیرالمو منین علیہ السلام کی ولایت و امامت سے منحرف هو نے کے علل واسباب سے پردہ اٹھ جا ئےگا ۔ 

تا ریخ کے ان فقروں کی جمع آوری ،ان کی تنظیم اور ان کے رابطہ کو درک کرنا ایک مسلمان کو یہ سمجھا تا ھے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے ان مخصوص حالات میں (مسلمانوں کوائمہ معصومین علیھم السلام کے راستہ پر متحد رہنے کے لئے یہ مفصل خطبہ ایک بڑے شان و شوکت والے پروگرام میں ارشاد فر مایا اور قیا مت تک کےلئے اپنے جا نشینوں کاباقاعدہ تعارف کرایا ۔ان تمام باتوں کے با وجود مسلمان ایک دوسرے کیوںمتفرق ھیں اور پیغمبر اکرم(ص) کے معین و مشخص فر ما ئے هو ئے جانشینوں کے ایک دل و زبان سے پیرو کار کیوں نھیں ھیں ؟ 

اس مقام پر پیغمبر اکرم(ص) مسلمانوں سے سوال فر ما سکتے ھیں ۔ھر مسلمان کاضمیراپنے آپ کواس خطبہ کے بالمقابل دیکھتا ھے تو وہ واقعہٴ غدیر کا دقت سے مطالعہ کرنے پرمجبور هوجاتاھے۔ 

اسی سبب کے مد نظر ھم نے یہ کتاب تا لیف کی ھے اور اسی سبب نے ھمیں موضوع ”غدیر “کے تمام جزئیات کو جمع کرنے اور موجودہ کتاب کی صورت میں قا رئین کرام کی خدمت میں پیش کرنے کا شوق دلایا ھے ۔ 

کتاب کے اغراض و مقاصد

اب جبکہ حدیث غدیر کی سند اور متن کے سلسلہ میں علامہ مجلسی ،علا مہ میر حا مد حسین ہندی، علا مہ امینی اور دو سرے علماء اعلام کے ذریعہ علمی بحثیں با لکل مکمل اور صاف طور پر بیان هو چکی ھیں تو ان حضرات کی کا وشوں اور زحمتوں کو مد نظررکھتے هوئے خطبہٴ غدیر پر مفصل نظر ڈالنا ضروری ھے ،او ر یہ خطبہ جس کو خا تم الانبیاء نے سب سے اھم اور آخری پیغام کی شکل میں ایک دائمی منشور کے عنوان سے مسلمانوں کےلئے بیان فرمایا ھے لہٰذا اس کامخصوص حالات کے ساتھ جائزہ لینا ضروری ھے ۔ 

اس اھم مسئلہ کےلئے ھمیں سب سے پھلے اُس وقت کے اسلامی معا شرہ پر حاکم فضا کا مطالعہ اور واقعہ ٴ غدیر کی اھمیت کی مختلف جھات کا جا ئزہ لیناهوگا ھم نے کتاب کا پھلا حصہ اسی مطلب سے مخصوص کیا ھے ۔ 

اس کے بعد واقعہٴ غدیر کے رونما هو نے کے تمام جزئیات کو مد نظر رکھیںگے جن کا آغاز پیغمبر اکرم(ص) کے مدینہ سے سفر کرنے سے هو تا ھے یھاں تک کہ جو کچھ پیغمبر اکرم(ص) نے مکہ مکرمہ اور مراسم حج انجام دیتے وقت غدیر کے سلسلہ میں بیان فر مایا ھے ۔لوگوں کے غدیر میں حاضر هو نے کی دعوت ، حاجیوں کا ایک ساتھ نکلنا اور ان کا غدیر کے بیابان میں حاضر هونا ،غدیر خم کے ظاھری اور رو حی اسباب کا فرا ھم کرنا ،خطابت کا طریقہ ،خطیب ،مخا طبین اور جو کچھ اس مقدس مقام پر تین دن کے عرصہ میںوقوع پذیر هوا جس میں بیعت ،مبارک بادی ،جبرئیل کا ظاھر هونا اور معجزہ الٰھی شامل ھے یہ سب کتاب کے دوسرے حصہ میں بیان کیا گیا ھے ۔ 

یہ بات بھی جان لینا ضروری ھے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے اس عظیم اقدام کے وقت منافقین اور دشمنان اسلام منصوبے بنانے اور خیانت کر نے میں مشغول تھے اور اسلام کے خلاف اپنے پروگرام تشکیل دے رھے تھے، اور آنحضرت کو قتل کرنے کا منصوبہ بنارھے تھے ۔پیغمبر اکرم(ص) ان کے ان تمام منصوبوں سے آگاہ تھے اور معاشرہ کے اجتماعی حالات کو مد نظر رکھتے هوئے ان کے تمام منصوبوںپر پانی پھیر دیتے تھے تیسرے حصہ میں اسی موضوع کو بیان کیا گیا ھے ۔ 

اس کے بعد چوتھے حصہ میں اس بات کی نوبت آگئی ھے کہ خطبہٴ غدیر کے مطالب کا مو ضوعی اعتبار سے مطالعہ کیا جا ئے تا کہ یہ معلوم هو سکے کہ اسلام کا یہ دائمی منشور کن پیغامات کا حامل ھے اس طرح خطبہ کے عربی متن اور اردو ترجمہ کا دقت سے مطالعہ کیا جائے گا ۔ 

حدیث غدیر کی سند اور متن کے علمی اور استدلالی ابحاث کے سلسلہ میںکتاب کے پانچویں حصہ میں اشارہ کیا گیا ھے ۔ 

چھٹے حصہ میں خطبہٴ غدیر کے عربی متن کا نو نسخوں سے مقابلہ کرکے منظم و مرتب صورت اور اعراب گذاری کے ساتھ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کیا گیا ھے اور حاشیہ میں نسخوں کے اختلاف اور ضروری توضیحات درج کی گئی ھیں ۔ 

ساتویں حصہ میں خطبہ کا مکمل اردو ترجمہ اس کے عربی متن سے مطابقت کے ساتھ نقل کیا گیا ھے 

خطبہ ٴ غدیر سے نتائج اخذ کرنا اور اس کی تفسیر آٹھویں حصہ میں تحریر کی گئی ھے ۔ 

نویں حصہ میں ”عید اور جشن غدیر “،اھمیت غدیر ،اورعید غدیر کس طرح منائی جا ئے کے متعلق مطالب تحریر کئے گئے ھیں تا کہ ھم اسلام کے اس بزرگ شعار کو زندہ کرکے اپنے ائمہ سے تجدید بیعت کرسکیں۔

دسویں حصہ میں تاریخچہٴ غدیر اور چودہ صدیوں میں اس کے تاریخ اسلام پر هو نے والے اثرات سے متعلق بحث کی گئی ھے جو اس بات کا ثبوت ھے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے اس حساس موڑ پر اقدامات کتنے دقیق تھے جو اتنے طولانی زمانہ تک مسلمانوں کےلئے موٴثر اور کارساز واقع هوئے ھیں ۔ 

اس تالیف میں انھیں اغراض و مقاصد کو مد نظر رکھا گیا ھے انشاء اللہ ان سب کو اس کتاب میں الگ الگ عنوان سے بیان کیا جائے گا ۔جو نتائج آپ حضرات کی خدمت میں پیش کئے جا ئیں گے وہ سب اھل تشیع کے بڑے بڑے علماء کی علمی کاوشوں کا نتیجہ ھیں جنھوں نے ھمارے لئے ان اسناد و مدارک کی حفاظت کی ھے اور ان کے حدیثی اور تا ریخی متون کا جائزہ لیا گیاھے ۔ 

اس بات کا بیان کر دینا بھی لازم و ضروری ھے کہ ھم نے جو کچھ بھی واقعہ ٴ غدیر کو بیان کرنے میں محنت و کوشش کی ھے ان میں فقط مدارک کے اسناد اور متون کی عبارتوں کے جزئیات پر بہت زیادہ غوروفکرکی ھے اور اندازہ ،خیالی اور گڑھی هو ئی داستانوں کو نقل کرنے سے گریز کیا گیا ھے ۔ 

کتاب کے منابع و مصادر

غدیر کے سلسلہ میں شیعہ اور سنّی منابع و مصادر کی کتابوں کی دقیق اور جا مع فھرست کتاب کے آخر میں ھر مورد کے سلسلہ میں دقیق حوالہ کے ساتھ درج کی گئی ھے ۔ 

علاّمہ شیخ حر عاملی ،علامہ مجلسی،علامہ بحرانی اور علامہ امینی رضوان اللہ علیھم نے چا ر کتابوں ” اثبات الھدات جلد/۲،بحارالانوار جلد /۳۷،عوالم العلوم جلد/۱۵/۳اور الغدیر جلد /۱میں غدیر سے متعلق بطور کامل اور جامع مطالب بیان کئے ھیںان بزرگوں کی زحمتوں کے مد نظر آسانی سے متعلقہ اسناد و مطالب تک رسائی کی جا سکتی ھے۔ 

اس کتاب کی تالیف کے بعد پچاس سے زیادہ اھم کتابوں ”جو مستقل طور پر غدیر کے سلسلہ میں تالیف کی گئی ھیں“ کا مطالعہ کیا گیا اور ان سے استفادہ کیا گیا ھے ۔ 

یہ کتاب پھلی مرتبہ غدیر کے چودہ سو پانچویں ۱۴۱۵ ھ مطابق ۱۳۷۴ ھ ش سالگرہ کے موقع پر اور دوسری ،تیسری اور چو تھی مرتبہ ۱۴۱۷ ھ ،۱۴۱۸ ھ ،اور ۱۴۲۰ ھ میں طبع هوئی ھے اب یہ چوتھا ایڈیشن مندرجہ ذیل نکات کے اضافہ کے ساتھ پیش کیا جا رھا ھے : 

۱۔نو حصوں سے اخذ شدہ نتائج ۔ 

۲۔خطبہ کے متن کا دوسرے اور دو نسخوں سے مقابلہ ۔ 

دسویں حصہ ”غدیر قیامت تک کھلی رہنے والی فائل“کا اضافہ ۔ 

موجودہ کتاب اس دن کے وعدہ کی وفا کےلئے لکھی گئی ھے جس دن پیغمبر اکرم (ص) نے عھد لیاتھا اور دریائے بیکران غدیر کے سلسلہ میں دقیق تحقیق اور مطالعہ کےلئے پیش کی جا رھی ھے 

اس دن کے انتظار میں جس دن ھم صاحب غدیر حضرت بقیة اللہ الاعظم ارواحنا فداہ وعجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظهور کے ذریعہ ”مَنْ کُنْتُ مَوْ لَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ “کو عملی طور پر محقق هو نے کا مشاھدہ کریں،ان کے وجود مبارک کے نزدیک ”اَللَّھُمَّ وَالِ مَنْ و َالَاہُ “ کے معنی کا تہہ دل سے احساس کریںاور ان کی مدد سے ”اَللَّھُمَّ انْصُرْمَنْ نَصَرَہُ“کے اوج کا اظھار کریں اور غدیر کو جس طرح غدیر خم میں بیان کیا گیا اسی طرح مانیں اس سے لذت حاصل کریں اور لطف اٹھائیں ۔ 

 

محمد باقر انصاری زنجانی خو ئینی 

قم ، 

عید غدیر ۱۴۲۱ ھ ،زمستان ۱۳۷۹ ۔ 

--------------------------------------------------------------------------------

[1]۔عوالم العلوم جلد ۱۱ صفحہ ۵۹۵،اسنی المطالب جزری صفحہ۵۰ ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


source : http://www.alhassanain.com/urdu/show_book.php?book_id=236&link_book=holy_prophet_and_ahlul_bayt_library/imam_ali/asraar_e_ghadeer
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

قرآن کی فصاحت و بلاغت
استاد شہید مطہری
عید کے دن شکر کریں احتجاج نہیں
حضرت فاطمہ زھرا (س) کا اخلاقی وجود تاریخ کی روشنی میں
یوسف قرآن (حصہ اول)
دنیا بھر میں عید سعید غدیر کے جشن کا انعقاد
نور علی نور ، قرآن اورنماز کا باہمی رابطہ
تربیت اور تربیت کا مفہوم
تاریخی مثالیں
آخري نبي ص کي بشارت پچھلے انبياء نے دي

 
user comment