اردو
Wednesday 23rd of September 2020
  12
  0
  0

حقوق اہلبيت (ع)

فصل اول

معرفت حقوق

رسول اكرم(ص) ، قسم ہے اس خدا كى جس كے قبضہ ميں ميرى جان ہے كہ ہمارے حق كى معرفت كے بغير كسى بندہ كا كوئي عمل مفيد نہيں ہوسكتاہے_(المعجم الاوسط 2 ص 360 / 2230 روايت ابن ابى ليلى از امام حسن (ع) ينابيع المودہ 2 ص 272 / 775 روايت جابر ، مجمع الزوائد 0 ص 272 / 15007 ، امالى مفيد 44 / 2 ، محاسن 1 ص 134 / 169 ، الغدير 2 ص 301 / 10 ص 280 ، احقاق الحق 9 ص 428)_

رسول اكرم(ص) مومن كا چراغ ہمارے حق كى معرفت ہے اور بدترين اندھاپن ہمارے فضل سے آنكھيں بندكر ليناہے_( جامع الاخبار ص 505 / 1399 ، الخصال ص 633 / 60 روايت ابوبصير و محمد بن مسلم عن الصادق (ع) ، تفسير فرات ص 368 / 499 از امام علي(ع) )_

امام على (ع) ہمارا ايك حق ہے جو ديديا گيا تو خير ورنہ ہم پشت ناقہ پر سوار ہى رہيں گے چاہے سفر كتنا ہى طويل كيوں نہ ہوجائے_ (نہج البلاغہ حكم نمبر 22)_

امام على (ع) جو شخص اپنے خدا ، رسول (ص) اور اہلبيت (ع) كے حق كى معرفت كے ساتھ اپنے بستر پر مرجائے وہ بھى شہيد ہى مرتاہے اور اس كا اجر

396 پروردگار كے ذمہ ہوتاہے اور وہ اپنے نيك اعمال كى نيت كے ثواب كا بھى حقدار ہوتاہے اور اس كى نيت جہاد كے مانند ہوتى ہے كہ ہر شے كى ايك مدت معين ہے، اس سے آگے بڑھنا ممكن نہيں ہے، دوام صرف نيك ميں ہوتاہے_(غرر الحكم ص 9061)_

جابر بن يزيد الجعفى امام محمد باقر (ع) سے نقل كرتے ہيں كہ ميں نے ٌضرت سے آيت '' ثم اورثنا الكتاب'' كے بارے ميں سوال كيا تو فرمايا كہ ظالم وہ ہے جو حق امام سے ناآشنا ہو، مقتصد حق امام كا جاننے والا ہے اور سابق بالخيرات خود امام ہے_'' جنات عدن يدخلونھا'' يہ انعام صرف سابق اور ميانہ رو كے لئے ہے، ظالم كے لئے نہيں ہے_( معانى الاخبار ص 104 ، كافى 1 ص 214)_

امام صادق (ع) پروردگار عالم نے ائمہ ہدى كے ذريعہ اپنے دين كو واضح كرديا ہے اور اپنے راستہ كو روشن كرديا ہے اور علم كے مخفى چشموں كے نماياں كرديا ہے لہذا امت محمد(ص) ميں جو شخص بھى امام كے واجب حق كو پہچان لے گا وہى ايمان كى حلاوت اور اسلام كى طراوت و تازگى سے آشناہوسكے گا _( كافى 1 ص 203 ، الغيبتہ للنعمانى ص 224 / 7 ، مختصر بصائر الدرجات ص 89 روايت اسحاق بن غالب ، بصائر الدرجات 413 /2 روايت ابن اسحاق غالب )_

فصل دوم

تاكيد محافظت حق اہلبيت (ع)

رسول اكرم(ص) _ ميں تمھيں اہلبيت (ع) كے بارے ميں خدا كو ياد دلاتاہوں، ميں تمھيں اہلبيت (ع) كے بارے ميں خدا كو ياد دلاتاہوں_( صحيح مسلم 4 / 1873 / 2480 ، سنن دارمى 2 ص 890 / 3198 ، مسند ابن حنبل 7 ص 75 / 19285 ، السنن الكبرى 10 ص 194 / 20335 ، تہذيب تاريخ دمشق 5 ص 439 ، در منثور 7 ص 349 نقل از ترمذى و نسائي ، فرائد السمطين 2 ص 234 از زيد بن ارقم ، احقاق 9 ص 391)_

رسول اكرم(ص) تمھارے سامنے اہلبيت (ع) كے بارے ميں خدا كو گواہ بناتاہوں (المعجم الكبير 5 ص 183 / 5027 ، كنز العمال 13 / 640 / 19 376 روايت زيد بن ارقم ، احقاق الحق 9 ص 434_

رسول اكرم(ص) ميں تمھين اپنى عترت كے بارے ميں خير كى وصيت كرتاہوں_( مستدرك حاكم 2 ص 131 / 2559 ، مجمع الزوائد 90 ص 257 / 14960 روايت عبدالرحمان بن عوف ، كفاية الاثر ص 41 روايت سلمان فارسى ص 129 روايت حذيفہ اسيد ص 132 روايت عمران بن حصين ص 104 روايت زيد بن ارقم ، احقاق الحق 9 ص 432_ہے اور ہمارى محبت كى حفاظت صرف مومن ہى كرسكتاہے اور اس كے بعد آپ نے آيت مودت كى تلاوت فرمائي _( تاريخ اصفہان2 ص 134 / 1309 ، كنز العمال 2 ص 290 / 4030 از ابن مردويہ و ابن عساكر ، صواعق محرقہ ص 170 ، شواہد التنزيل 2 ص 205 / 838 مجمع البيان 9 ص 43 ، الغدير 2 ص 308 / 6)_

امام على (ع) العروة الوثقى مودت آل محمد(ص) كا نام ہے_(ينابيع المودة 1 ص 331 /2 روايت حصين بن مخارق عن الكاظم (ع) ) _

امام زين العابدين (ع) حضرت على (ع) كى شہادت كے بعد امام حسن (ع) نے خطبہ ديا تو حمد و ثنائے الہى كے بعد فرمايا ، ہم ان اہلبيت (ع) ميں ہيں جن كى موت كو اللہ نے واجب قرار ديا ہے اور آيت مودت ہى ہے_( مستدرك حاكم 3 ص 189 / 4803 ، روايت عمر بن على ، مجمع الزوائد 1 ص 203 / 14798 روايت ابوالطفيل عن الحسن (ع) ،تاويل الآيات الظاہرہ ص 530 روايت حسن بن زيد)_

_امام حسين (ع) آيت مودت كى تفسير كرتے ہوئے فرماتے ہيں كہ جن قرابتداروں سے ارتباط كا حكم ديا گيا ہے اور ان كا حق عظيم ہے اور سارا خير انھيں ميں ہے وہ ہم اہلبيت (ع) ہيں كہ ہمارا حق ہر مسلمان پر واجب ہے_( تاويل الآيات الظاہرہ ص 531 روايت عبدالملك بن عمير )_

حكيم بن جبير ميں نے امام سجاد (ع) سے اس آيت موت كے بارے ميں دريافت كيا تو فرمايا كہ ہم اہلبيت (ع) پيغمبر(ص) كى قرابت ہے_( تفسير فرات كوفى ص 392 / 523)_

رسول اكرم(ص) جو شخص چاہتا ہے كہ اس كى مدت حيات بابركت ہو اور اللہ اسے نعمتوں سے بہرہ اندوز كرے اس كا فرض ہے كہ ميرے بعد ميرے اہلبيت (ع) كے ساتھ بہترين برتاؤ كرے_( كنز العمال 12 ص 99 / 4171 3 روايت عبداللہ بن بدر الحظمي)_

رسول اكرم(ص) تم عنقريب ميرے بعد ميرے اہلبيت (ع) كے بارے ميں آزمائے گے _( المعجم الكبير 192 / 4111 روايت خالد بن عرفطہ)_

ابن عباس رسول اكرم(ص) منبر پر تشريف لے گئے اور لوگوںكے اجتماع عام ميں خطبہ ارشاد فرمايا، مومنو پروردگار نے مجھے اشارہ ديا ہے كہ ميں عنقريب يہاں سے جانے والا ہو ... تم ميرى بات سنو اور ميرى نصيحت كا حق پہچانو اور ميرے اہلبيت (ع) كے ساتھ وہى برتاؤ كرنا جس كا تمھيں حكم ديا گيا ہے ، انھيں محفوظ ركھنا كہ وہ ميرے خواص، قرابتدار، برادران اور اولاد ہيں اور تم ايك دن جمع كئے جاؤگے جب تم سے ثقلين كے بارے ميں سوال كيا جائے گا تو يہ ديكھتے رہنا كہ تم نے ميرے بعد ان كے ساتھ كيا سلوك كياہے، ديكھو يہ سب ميرے اہلبيت (ع) ہيں _( امالى صدوق ص 62 / 11 التحصين ص 598 باب 4)_

ابن عباس جب ہم حجة الوداع سے واپس ہوئے تو ايك دن رسول اكرم (ع) كے پاس ان كى مسجد ميں بيٹھے تھے ... كہ آپ نے فرمايا ايھا الناس ميرى عترت اور ميرے اہلبيت (ع) كے بارے ميں خدا كو ياد ركھنا ، فاطمہ (ع) ميرے دل كا ٹكڑا ہے، حسن (ع) و حسين (ع) ميرے بازو ہيں اور ميں اور فاطمہ (ع) كے شوہر دونوں روشنى كے مانند ہيں، خدايا جو ان پر رحم كرے اس پر رحم كرنا اور جو ان پر ظلم كرے اسے ہرگز معاف نہ كرنا ( بحار الانوار 23ص 143 / 97 نقل از الفضائل و كتاب الروضہ ، احقاق الحق 9 ص 198)_

امام على (ع) ديكھو اللہ كو ياد ركھنا اپنے نبى (ص) كى ذريت كے بارے ميں ، تمھارے ہوتے ہوئے ان پر ظلم نہ ہونے پائے جبكہ ان سے دفاع كى طاقت بھى ركھتے ہو_( كافى 7 ص 52 /7 روايت عبدالرحمان بن حجاج عن الكاظم (ع) ، تہذيب 9 ص 177 / 714 ، روايت جابر عن الباقر (ع) ، الفقيہ4 ص 191 / 433 ، روايت سليم بن قيس ، تحف العقول ص 198 كتاب سليم بن قيس2 ص 926_

امام على (ع) محمد بن بكر كو والى مصر قرار ديتے ہوئے فرمايا، بندگان خدا اگر تم نے تقوى اختيار كيا اور اہلبيت (ع) كے ذريعہ اپنے نبى كا تحفظ كيا تو تم نے خدا كى بہترين عبادت كى اور اس كا بہترين ذكر كيا اور بہترين شكر ادا كيا اور صبر و شكر دونوں كو جمع كرليا اور بہترين كو شش سے كام ليا ہے چاہے تمھارے اغيار تم سے زيادہ طولانى نمازيں پڑھيں اور زيادہ روزے ركھيں ليكن تمھارا تقوى ان سے بالاتر ہے اور تم صاحبان امر كے زيادہ مخلص ہو_( امالى طوسى 27 ص 31 از ابواسحاق الہمدانى )_

امام صادق (ع) ہمارے بارے ميں اسى طرح تحفظ سے كام لينا جس طرح بندہ صالح خضر نے دو يتيموں كے مال كا تحفظ كيا تھا كہ ان كا باپ صالح اور نيك تھا_( امالى طوسى ص 273 / 514 روايت برذون بن شبيب )_

فصل سوم

عناوين حقوق اہلبيت (ع)

1_ مودت

ارشاد احديت ہوتاہے، پيغمبر (ص) آپ ان سے كہہ ديجيئے كہ ميں رسالت كا اجر قربا كى مودت كے علاوہ كچھ نہيں چاہتاہوں اور جو شخص ايك نيكى اختيار كرے گا ہم اس كى نيكى ميں اضافہ كرديں گے كہ خدا غفور بھى ہے اور شكور بھى ہے، سورہ شورى آيت 23_

'' آپ كہہ ديجيئے كہ ميں نے جس اجر كا سوال كيا ہے اس كا فائدہ تمھيں كو ہے ورنہ ميرا واقعى اجر تو خدا كے ذمہ ہے اور وہى ہر شے كا نگراں اور گواہ ہے'' سورہ سبا آيت 47_

'' كہہ ديجئے كہ ميں اس رسالت كا كوئي اجر نہيں چاہتا مگر جو شخص اپنے پروردگار تك جانے كا راستہ اختيار كرنا چاہے، سورہ فرقان آيت 57_

امام صادق (ع) انصار ، رسول اكرم(ص) كى خدمت ميں آئے اور عرض كى كہ ہم سب گمراہ تھے آپ نے ہميں ہدايت دى ، ہم مفلس تھے خدا نے آپ كے ذريعہ غنى بناديا، لہذا اب ہمارے اموال ميں سے جو چاہيں طلب كرليں_ ہم حاضر ہيں ، جس كے بعد آيت مودت نازل ہوئي_

يہ كہہ كر آپ نے آسمان كى طرف ہاتھ بلند كئے اور رونے لگےيہاں تك كہ ريش مبارك تر ہوگئي اور فرمايا شكر ہے اس پروردگار كا جس نے ہميں يہ فضيلت عنايت فرمائي ہے_( دعائم الاسلام 1 ص 67)_

طاؤس نے آيت مودت كے بارے ميں ابن عباس سے سوال كيا تو انھوں نے كہا كہ سعيد بن جبير كا كہنا تھا كہ اس سے آل محمد(ص) كے قرابتدار مراد ہيں _( صحيح بخارى 4 ص 1819 / 4541 ، 3 ص 1289 / 3306، اس مقام پر محمد(ص) كے قرابتداروں كا ذكر ہے، سنن ترمذى 5 ص 377 / 3251 ، مسسند ابن حنبل 1 ص 614 / 2599 ، احقاق الحق 3 _3 ، مستدرك حاكم 2 ص 482 / 3659)_

ابن عباس جب آيت مودت نازل ہوئي تو لوگوں نے پوچھا كہ يارسول اللہ يہ قرابتدار كون ہيں جن كى مودت ہم پر واجب كى گئي ہے ؟ فرمايا على (ع) ، فاطمہ اور ان كے دونوں فرزند _( فضائل الصحابہ ابن حنبل 2 ص 669 / 1141 ، المعجم الكبير 3 ص 47 / 2641 ، كشاف 3 ص 402 ، در منثور 7 ص 348 نقل از ابن المنذر ، ابن ابى حاتم، ابن مردويہ ، تفسير فرات 389 ، 516 / 520 ... شواہد التنزيل 2 ص 189 ، الغدير 2 ص 307 / 1)_

ابن عباس رسول اكرم(ص) نے آيت مودت كى تفسير اس طرح فرمائي كہ اہلبيت (ع) كے ذيل ميں ميرى حفاظت كرو اور ميرى وجہ سے ان سے محبت كرو_

( در منثور 7 ص 348 نقل از ابونعيم ، ديلمي، مجمع البيان 9 ص 43)_

جابر ايك اعرابى رسول اكرم(ص) كى خدمت ميں حاضر ہوا اور اس نے عرض كى حضور مجھے اسلام سكھائيں ؟ فرمايا كہ خدا كى وحدانيت اور ميرى بندگى اور رسالت كى گواہى دو ... كہا اس كا كوئي اجر دركار ہے، فرمايا مودتاقرباء كے علاوہ كچھ نہيں_

اس نے كہا كہ ميرے اقربا آپ كے ؟ ميرے اقربا ... اس نے كہا ہاتھ بڑھايئےا كہ ميں آپ كى بيعت كروں ، جو آپ اور آپ كے اقربا سے محبت نہ كرے، اس پر خدا كى لعنت ہو ... آپ نے فرمايا، آمين _( حلية الاولياء 3 ص 201 ، كفاية الطالب ص 90)_

ابن عباس رسول اكرم(ص) نے مجھے ايك ضرورت سے بھيجتے ہوئے فرمايا كہ جب كوئي حاجت در كار ہو تو على (ع) اور ان كى اولاد سے محبت كرنا كہ ان كى محبت پروردگار كى طرف سے تمام بندوں پر واجب ہے_ ( ينابيع المودة 2 ص 292 / 842)_

رسول اكرم(ص) ، جو شخص چاہتاہے كہ عروة الوثقى سے تمسك كرے اسے چاہئے كہ على (ع) ... اور ميرے تمام اہلبيت (ع) ، سے محبت كرے _( عيون اخبار الرضا 2 ص 58 / 216 روايت ابو محمد التميمى از امام رضا (ع) ، ينابيع المودة 2 ص 268 / 761)_

رسول اكرم(ص) جو اللہ كى مضبوط رسى سے متمسك رہنا چاہتاہے، اس كا فرض ہے كہ على (ع) بن ابى طالب (ع) اور حسن (ع) و حسين (ع) سے محبت كرے كہ اللہ بھى عرض اعظم پر ان سے محبت كرتاہے_( كامل الزيارات ص 51 از جابر عن الباقر (ع) )_

امام على (ع) تمھارا فرض ہے كہ آل نبى (ص) سے محبت كرو ، يہ خدا كا حق ہے جسے اس نے تم پر واجب بناياہے، كيا تم نے آيت مودت كى تلاوت نہيں كى ہے_( غرر الحكم ص 6169)_

زاذان نے حضرت على (ع) كا يہ ارشاد نقل كيا ہے كہ آل حم ہمارے درميان

رسول اكرم(ص) ميں سب سے پہلے خدائے عزيز و جبار كى بارگاہ ميں بروز قيامت قرآن واہلبيت (ع) كے ساتھ وارد ہوں گا، اس كے بعد امت وارد ہوگى تو ميں سوال كروں گا كہ تم لوگوں نے كتاب و عترت كے ساتھ كيا سلو ك كيا ہے_( كافى 2 ص 600 /4 روايت ابوالجارود ، مختصر بصائر الدرجات ص 89 روايت شعيب الحداد)_

رسول اكرم(ص) لوگو اللہ كو ياد ركھنا ميرے اہلبيت (ع) كے بارے ميں كہ يہ دين كے اركان ، تاريكيوں كے چراغ اور علم كے معدن ہيں_( خصائص الائمہ ص 75 روايت عينى الضرير عن الكاظم (ع) ، بحار 22 ص 487 / 31)_

رسول اكرم(ص) خدايا يہ ميرے اہلبيت (ع) ہيں اور ميں انھيں ہر مومن كے حوالہ كركے جارہاہوں تہذيب تاريخ دمشق 4 ص 322 روايت انس، ينابيع المودہ 2 ص 71 /11 ، احقاق الحق 9 ص 435_

رسول اكرم(ص) جو ميرے اہلبيت (ع) كے بارے ميں ميرى حفاظت كرے گا اس نے گويا خدا كے نزديك عہد لے ليا ہے( ذخائر العقبى ص 18 روايت عبدالعزيز ، ينابيع المودة 2 ص 114 / 323 ، احقا ق الحق 9 ص 918)_

رسول اكرم(ص) ميرى عترت كے بارے ميں ميرى حفاظت كرو، ( مسند الشہاب 1 ص 419 ، 474 روايت انس ، احقاق الحق 9 ص 434)_

رسول اكرم(ص) ميرے اہلبيت (ع) كے بارے ميں مجھے باقى ركھنا ( الصواعق المحرقہ ص 150 ، الجامع الصغير 1 ص 50 / 302 ، مجمع الزوائد 9 ص 257 / 14961 ، ينابيع المودة 1261 / 62 ، احقاق الحق 9 ص 448_

رسول اكرم(ص) ميرى امت كے مومنين اہلبيت (ع) كے بارے ميں ميرى امانت كى قيامت تك حفاظت كرتے رہي_(كافى 2 ص 46 / 3 از عبدالعظيم الحسن)_

_ ابوالديلم جب حضرت على (ع) بن الحسين (ع) كو قيدى بناكر لايا گيا اور دمشق كے دروازہ پر كھڑا كرديا گيا تو ايك مرد شامى نے آكر كہا كہ خدا كا شكر ہے كہ اس نے تمھيں قتل كيا اور تمھارا خاتمہ كرديا اور فتنہ كى سينگ توڑدى تو آپ نے فرمايا كہ كيا تو نے قرآن پڑھاہے؟ اس نے كہا بيشك_

فرمايا كيا آل حم پڑھاہے ؟ كہا كيا يہ ممكن ہے كہ كوئي شخص قرآن پڑھے اور اس سورہ كونہ پڑھے_

فرمايا مگر تو نے آيت مودت كو نہيں پڑھاہے، اس نے كہا كہ يہ قرابتدار آپ ہى ہيں ؟ فرمايا ، بيشك ( تفسير طبرى 13/ 25 ، العمدة ص 51 / 46 ، الغدير 2 ص 409 / 8)_

سلام بن المستنير ميں نے امام باقر (ع) سے پوچھا كہ آيت مودت كا مفہوم كيا ہے ؟ توفرمايا كہ يہ مودت اہلبيت (ع) پيغمبر (ص) كے لئے خدا كى طرف سے ايك فريضہ ہے_( محاسن 1 ص 240 / 441 دعائم الاسلام 1ص 68)_

عبداللہ بن عجلان نے امام باقر (ع) سے آيت مودت كى تفسير ميں يہ فقرہ نقل كياہے كہ قربى سے مراد ائمہ ہيں _( كافى 1 ص 413 / 17 محاسن 1 ص 241 / 2_

امام باقر (ع) '' قل ما سئلتكم من اجوفہم لكم'' كے ذيل ميں فرماتے ہيں كہ اجر سے مراد اقربا كى محبت ہے جس كے علاوہ كسى شے كا سوال نہيں كيا گياہے اور اس ميں بھى تمھارا ہى فائدہ ہے كہ اس سے ہدايت حاصل كرتے ہو، اس كے طفيل ميں نيك بخت بنتے ہو اور عذاب روز قيامت سے نجات پاتے ہو_( ينابيع المودة 1 ص 316/5)_

فضيل نے امام (ع) باقر سے نقل كيا ہے كہ آپ نے لوگوں كو خانہ كعبہ كے گرد

طواف كرتے ديكھ كر فرمايا كہ يہ طواف تو جاہليت ميں بھى ہورہا تھا ، مسلمانوں كا فرض تھا كہ طواف كرنے كے بعد ہمارے پاس آكر اپنى ولايت و مودت كا ثبوت ديتے اور اپنى نصرت پيش كرتے جيسا كہ پروردگار نے كہا ہے '' خدايا لوگوں كے دلوں كو ان كى طرف جھكا دے، سورہ ابراہيم ص 37 ( كافى 1 ص 392 /1)_

امام باقر (ع) جب رسول اكرم(ص) كا انتقال ہوا تو آل محمد نے انتہائي سخت رات گذارى اور اسى عالم ميں ايك آنے والا آيا جس كى آواز سنى گئي ليكن اسے نہيں ديكھا گيا اور اس نے كہا كہ سلام ہو تم پر اے اہلبيت (ع) اور رحمت و بركت الہى تم پر ، تم وہ امانت ہو جسے امت كے حوالہ كيا گيا ہے اور تمھارے لئے واجب مودت اور فريضہ اطاعت ہے_( كافى 1 ص 445 / 19 روايت يعقوب بن سالم )_

اسماعيل بن عبدالخالق ميں نے امام صادق (ع) كو ابوجعفر احول سے يہ كہتے ہوئے سناہے ، كيا تم بصرہ گئے تھے؟ عرض كى جى ہاں فرمايا وہاں لوگوں كى رفتار ہمارى جماعت ميں داخلہ كى كيا تھي؟ عرض كى بہت تھوڑى ، لوگ آپ كى طرف آرہے ہيں مگر بہت كم_

فرمايا نوجوانوں پر توجہ دو كہ يہ ہر نيكى كى طرف تيزى سے دوڑتے ہيں، اس كے بعد فرمايا كہ وہاں لوگ آيت مودت كے بارے ميں كيا كہتے ہيں ؟عرض كى كہ ميں آپ پر قربان، ان كا خيال ہے كہ رسول اكرم(ص) كے تمام قرابتدار مراد ہيں

فرمايا جھوٹے ہيں، اس سے مراد صرف ہم اہلبيت (ع) اصحاب كساءعلى (ع) و فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسين (ع) ہيں _( كافى 8 ص 93 / 66 ، قرب الاسناد ص 128 / 450)_

امام صادق (ع) بعض اوقات انسان ايك شخص كو دوست ركھتاہے اور اس كى اولاد سے نفرت كرتاہے تو پروردگار نے چاہا كہ ہمارى محبت كو واجب قرار ديدے كہ جو ليلے اس نے ايك واجب كو لياہے اور جس نے چھوڑ دياہے اس نے ايك واجب كو چھوڑا ہے_( محاسن 1 ص 240 / 440 روايت محمد بن مسلم)_

امام ہادى (ع) زيارت جامعہ ميں فرماتے ہيں ، تم پر ميرے ماں باپ قربان تمھارى محبت كے ذريعہ ہى پروردگار نے ہميں آثار دين كى تعليم دى ہے اور ہمارى تباہ ہوجانے والى دنيا كى اصلاح كى ہے، آپ كى محبت ہى سے كلمہ كى تكميل ہوئي ہے، نعمت باعظمت ہوئي ہے اور افتراق ميں اجتماع پيدا ہوا ہے آپ كى محبت ہى سے واجب اطاعت قبول ہوئي ہے اور خود آپ كى موت بھى واجبات ميں ہے _( تہذيب 6 ص 100 / 177)_

دعائے ندبہ خدا يا اس كے بعد تو نے پيغمبر (ص) كا اجر اپنى كتاب ميں اہلبيت (ع) كى محبت كو قرار ديا ہے اور فرماياہے كہ ميں '' مودت القربى كے علاوہ كوئي اجر نہيں چاہتاہوں'' اور '' ميں نے جو اجر مانگاہے وہ تمھارے ہى لئے ہے'' اور '' ميں جس اجر كا سوال كرتاہوں وہ صرف ان كےلئے ہے جو خدا كے راستہ كو اختيار كرنا چاہيں'' اہلبيت (ع) ہى تيرا راستہ اور تيرى رضا كا مسلك ہى ں_( بحار ص 102 / 105 نقل از مصباح الزائر)_

نوٹ اس دعا كى سنديوں نقل كى گئي ہے كہ محمد بن على بن ابى قرہ كا بيان ہے كہ ميں نے اسے محمد بن الحسين بن سفيان بزوفرى كى كتاب سے نقل كيا ہے اور يہ دعا حضرت صاحب العصر (ع) كى ہے جسے چاروں عيدوں كے دن پڑھاجاتاہے_

2_ تمسك

رسول اكرم(ص) ميں اور ميرے اہلبيت (ع) جنت كے ايك شجر كے مانند ہيں جس كى شاخيں اس دنيا ميں بھى ہيں لہذا اگر كوئي شخص ہم سے متمسك ہوگيا تو گويا اس نے پروردگار كے راستہ كو پالي_( ذخائر العقبى ص 16 از عبدالعزيز باسنادہ ينابيع المودة 2 ص 113 / 366 ص 439 / 209)_

رسول اكرم(ص) جو ميرے بعد ميرى عترت سے وابستہ رہے گا اس كا شمار كامياب لوگوں ميں ہوگا _( كفاية الاثر ص 22 روايت ابن عباس)_

رسول اكرم(ص) ميرے بعد بارہ امام ہوں گے جن ميں سے نو حسين (ع) كے صلب سے ہوں گے اور ہميں ميں سے اس امت كا مہدى بھى ہوگا، جو ميرے بعد ان سے متمسك رہے گا وہ ريسمان ہدايت خدا سے متمسك ہوگا اور جو ان سے الگ ہوجائے گا وہ پروردگار سے الگ ہوجائے گا_(كفاية الاثر ص 94 از عثمان بن عفان)_

رسول اكرم(ص) اپنے ائمہ كى اطاعت سے وابستہ رہو اور ان كى مخالفت نہ كرو كہ ان كى اطاعت اطاعت خدا ہے اور ان كى معصيت معصيت پروردگار ہے_( المعجم الكبير 22 / 374 / 935 / 936 ، تہذيب تاريخ دمشق 7 ص 197 ، السنتہ لابن ابى عاصم 499 / 1080 در منثور 5 ص 178 نقل از ابن مردويہ روايت ابوليلى اشعرى ، احقاق الحق 18 ص 522 / 112 نقل از مودة القربى ) _

رسول اكرم(ص) جو شخص سفينہ نجات پر سوار ہونا چاہتاہے اور عروة الوثقى سے متمسك ہونا چاہتاہے اور خدا كى مضبوط رسى كو پكڑنا چاہتاہے، اس كا فرض ہے كہ ميرے بعد على (ع) سے محبت كرے اور ان كے دشمن سے دشمنى ركھے

اور ان كى اولاد كے ائمہ كى اقتدا كرے كہ يہ سب ميرے خلفاء اوصياء اور ميرے بعد مخلوقات پر اللہ كى حجت ہيں ، يہى ميرى امت كے سردار اور جنت كى طرف اتقياء كے قائد ہيں، ان كا گروہ ميرا گروہ ہے اور ميرا گروہ اللہ كا گروہ ہے اور ان كے دشمنوں كا گروہ شيطان كا گروہ ہے_( امالى صدوق ص 26 /5 ، عيون اخبار الرضا (ع) )_

ابوذر ميں نے رسول اكرم(ص) كو حضرت على (ع) سے يہ فرماتے سنا ہے كہ جو تم سے محبت كرے گا اور وابستہ رہے گا وہ عروة الوثقى سے متمسك رہے گا_ (كفايہ الاثر ص 71 ، ارشاد القلوب ص 215)_

_امام على (ع) مجھ سے رسول اكرم(ص) نے فرماياہے، يا على (ع) تم تمام مخلوقات پر اللہ كى حجت اور عروة الوثقى ہو كہ جو اس سے متمسك جائے گا ہدايت پاجائے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا گمراہ ہوجائے گا _( امالى مفيد ص 110 / 9 روايت محمد بن عبداللہ بن على بن الحسين بن زيد بن على (ع) بن الحسين (ع) از امام رضا (ع) )_

امام على (ع) جو ہم سے متمسك ہوگا وہ ہم سے ملحق ہوجائے گا اور جو ہم سے الگ ہوجائے گا وہ ڈوب مرے گا _( امالى الطوسى ص 654 / 1354 ، مناقب ابن شہر 1شوب 4 ص 206 ، كمال الدين ص 206 / 20 روايت خشيمہ عن الباقر (ع) ، تحف العقول ص 116 ، غرر الحكم 7891، 8792)_

امام على (ع) تم لوگ كدھر جارہے ہو اور كہاں بہك رہے ہو جبكہ نشانياں قائم ہيں اور آيات واضح ہيں، منارہ ہدايت نصب ہوچكاہے، تمھيں كدھر بہكايا جارہاہے اور تم كيسے گمراہ ہوئے جارہے ہو جبكہ تمھارے درميان تمھارے نبى كى عترت موجود ہے جو حق كے زمان دار، دين كے پرچم اور صداقت كى زبان ميں ، انھيں قرآن كى بہترين منزلوں پر ركھو

اور ان كے پاس اس طرح وارد ہو جس طرح پياسے چشمہ پر وارد ہوتے ہيں _( نہج البلاغہ خطبہ 87)_

امام على (ع) تمھارا فرض ہے كہ تقوى الہى اختيار كرو اور ان اہلبيت (ع) كى اطاعت كرو جو پروردگار كے اطاعت گذار ہيں، وہ تمھارى اطاعت كے ان لوگوں سے كہيں زيادہ حقدار ہيں اور ہم سے مقابلہ كرنا چاہتے ہيں ، حالانكہ ہمارے ہى فضل سے فضيلت حاصل كرتے ہيں اور پھر ہميں سے مقابلہ كرتے ہيں اور ہمارے حق كو چھين كر ہم كو الگ كردينا چاہتے ہيں ، بہر حال ان لوگوں نے اپنے كئے كا مزہ چكھ لياہے اور عنقريب اپنى گمراہى كا سامنا كرين گے_( وقعة صفين ص 4 ، شرح نہج البلاغہ ابن الحديد 3 ص 1030)_

امام على (ع) اپنے نبى كے اہلبيت (ع) پر نگاہ ركھو، انھيں كے راستہ كو اختيار كرو اور انھيں كے آثار كا اتباع كرو، يہ تمھيں نہ ہدايت سے باہر لے جاسكتے ہيں اور نہ ہلاكت ميں واپس كرسكتے ہيں ، يہ ٹھہر جائيں تو ٹھہر جاؤ اور يہ اٹھ جائيں تو اٹھ جاؤ، خبردار ان سے آگے نہ نكل جانا كہ گمراہ ہوجاؤ اور پيچھے بھى نہ رہ جانا كہ ہلاك ہوجاؤ _( نہج البلاغہ خطبہ 97)_

امام على (ع) ہمارے پاس پرچم حق ہے جو اس كے زير سايہ آجائے گا محفوظ ہوجائے گا اور جو اس كى طرف سبقت كرے گا كامياب ہوجائے گا اور جو اس سے الگ ہوجائے گا ہلاك ہوجائے گا _ اس سے جدا ہوجانے والا گڑھے ميں گرا اور اس سے تمسك كرنے والا نجات پاگيا _( خصال 633 /10 روايت ابوبصير و محمد بن مسلم عن الصادق (ع) )_

امام على (ع) جو ہم سے متمسك ہوگا وہ لاحق ہوجائے گا اور جو كسى دوسرے

راستہ پر چلے گا غرق ہوجائے گا ، ہمارے دوستوں كے لئے رحمت الہى كى فوجيں ہيں اور ہمارے دشمنوں كے لئے غضب الہى كى افواج ہيں ، ہمارا راستہ درميانى ہے اور ہمارے امور ميں حكمت و دانائي ہے_( خصال 627 /10 روايت ابوبصير و محمد بن مسلم عن الصادق (ع) )_

ابوعبيدہ معمر بن المثن و غيرہ كا بيان ہے كہ امير المومنين (ع) نے لوگوں سے بيعت لينے كے بعد پہلا خطبہ ارشاد فرمايا _

ياد ركھو كہ ميرى عترت كے پاكيزہ كردار اور ميرى اصل كے بزرگ ترين افراد جوانى ميں سب سے زيادہ حليم اور بڑھاپے ميں سب سے زيادہ عالم ہوتے ہيں ، ہم وہ اہلبيت (ع) ہيں جن كا علم علم خداسے نكلا ہے اور ہمارا حكم بھى حكم الہى سے پيدا ہوتاہے، ہم قول صادق كو اختيار كرتے ہيں لہذا گر تم نے ہمارے آثار كا اتباع كيا تو ہمارى بصيرتوں سے ہدايت پاجاؤگے اور اگر ايسا نہ كروگے تو اللہ تمھيں ہمارے ہى ہاتھ سے ہلاك كردے گا، ہمارے ساتھ پرچم حق ہے جو اس كے ساتھ رہے گا وہ ہم سے مل جائے گا اور جو ہم سے الگ ہوجائے گا وہ غرق ہوجائے گا ، ہمارے ہى ذريعہ ہر مومن كا خوں بہا ليا جاتاہے اور ہمارے ہى وسيلہ سے گردنوں سے ذلت كا طوق اتارا جاتاہے_

خدا نے ہميں سے آغاز كيا ہے نہ كہ تم سے اور ہميں پر اختتام كرے گا نہ كہ تم پر _( ارشاد مفيد 1 ص 240 شرح الاخبار 3 ص 562 / 1231 ، ينابيع المودة 1 ص 80 / 19 ، العقد الفريد 3 ص 119 ، احقاق الحق 9 ص 476 ، كنز العمال 14 ص 592 / 39679 ، كتاب سليم بن قيس 2 ص 716)_

جابر بن عبداللہ امام صادق (ع) سے نقل كرتے ہيں كہ آل محمد(ص) ہى وہ ريسمان ہدايت ہيں جن سے تمسك كا حكم ديا گيا ہے اور واعتصموا ... كى آيت نازل ہوئي ہے_( تفسير عياشى 1 ص 194 / 123)_

امام صادق (ع) واعتصموا كى تفسير ميں فرماتے ہيں كہ حبل اللہ ہم ہيں'' ( امالى طوسى 272 / مجمع البيان 2 ص 805 ، ينابيع المودة 1 ص 356 ، احقاق الحق 13 ص 84)_

امام صادق (ع) تمھارے لئے كيا مشكل ہے كہ جب لوگ تم سے بحث كريں تو صاف كہہ دو كہ ہم اس طرح گئے ہيں جدھر خدا ہے اور انھيں اختيار كيا ہے جنھيں خدا نے اختيار كيا ہے ، خدا نے حضرت محمد(ص) كو اختيار كيا ہے تو ہم نے انھيں كى آل كو اختيار كيا ہے اور ہم اسى انتخاب الہى سے وابستہ ہيں_( امالى طوسى 227 / 397 ) بشارة المصطفى ص 11 روايت كليب بن معاويہ الصيداوى )_

_امام صادق (ع) جوہمارے غير سے وابستہ ہوكر ہمارى معرفت كا دعوى كرے وہ جھوٹا ہے_( معانى الاخبار ص 399 / 57 روايت ابراہيم بن زياد، صفات الشيعہ 82 / 4 روايت مفضل بن عمر )_

يونس بن عبدالرحمان ميں نے امام ابوالحسن الاول سے عرض كى كہ توحيد الہى كا راستہ كيا ہے ؟ فرمايا كہ دين ميں بدعت مست ايجاد كرنا كہ اپنى رائے سے فيصلہ كرنے والا ہلاك ہوجاتاہے اور اہلبيت (ع) پيغمبر (ص) سے انحراف كرنے والا گمراہ ہوجاتاہے اور كتاب خدا اور قول رسول (ص) كو چھوڑ دينے والا كافر ہوجاتاہے_( كافى 1 ص 56 / 10)_

سويد السائي حضرت ابوالحسن (ع) اول نے ميرے پاس خط بھيجا كہ ميں سب سے پہلے اپنے مرنے كى خبر دے رہاہوں اور اس مرحلہ پر نہ پريشان ہوں اور نہ

پشيمان اور نہ قضا و قدر الہى ميں كسى طرح كا شك كرنے والا، لہذا تم دين كى مضبوط رسى آل محمد(ص) سے وابستہ رہو كہ عروة الوثقى يہى اوصياء كا سلسلہ ہے لہذا تم ان كے احكام كے آگے سراپا تسليم رہو_( قرب الاسناد 333/1335)_

3_ ولايت

848_زيد بن ارقم جب رسول اكرم'' حجة الوداع'' سے واپس ہوتے ہوئے مقام غدير خم پر پہنچے تو آپ نے زمين كو صاف كرنے كا حكم ديا اور پھر اعلان فرمايا كہ اللہ ميرا مولا ہے اور ميں ہر مومن كا ولى ہوں اور اس كے بعد على (ع) كا ہاتھ پكڑ كر ارشاد فرمايا كہ جس كا ميں ولى ہوں اس كا يہ بھى ولى ہے ، خدا يا اسے دوست ركھنا جو اس سے محبت كرے اور اس سے دشمنى كرنا جو اس سے دشمنى ركھے_( مستدرك حاكم 3 ص 118 / 2576 ، 2589 ، 4578 ، 4579 ، 4610 ، 4652 ، 5477 ، 5594 ، سنن ترمذى 5 ص 633 / 3713 ، سنن ابن ماجہ 1 ص 43 / 116 ، خصائص نسائي 42 ، 47 / 150 ، 163 ، مسند ابن حنبل 641 ، 950، 961 ، 1310 ، 23090 ، 23168 ،23204، 23633 ، 25751 ، 25752 ، فضائل الصحابہ ابن حنبل 595 ، 989 ، 991 ، 992 ، 1007 ، 1016 ، 1017 ، 1021 ، 1022، 1048 ، 1168 ، 1177 ، 1206،المعجم الكبير 5 ص 166 / 4969 ، تاريخ دمشق حالات امام على (ع) ص ص 5 /90 ، البداية والنہاية 5 ص 210 ، ص 214 7 ص 335 ، الغدير 1 ص 14 _ 152)_

واضح رہے كہ صاحب الغدير علامہ امينى طاب ثراہ نے اس مقام پر حديث غدير كے روايت كرنے والے 110 صحابہ كرام 48 تابعين اور 0ي36 علماء و حفاظ كے اسماء گرامى كا ذكر كيا ہے جنھوں نے دوسرى صدى سے چودھويں تك اس حديث شريف كو اپنى كتابوں ميں جگہ دى ہے_

رسول اكرم(ص) ، جو شخص يہ چاہتاہے كہ ميرى طرح زندہ رہے اور ميرى ہى طرح دنيا سے جائے اور اس جنت ميں داخل ہوجائے جس كا وعدہ ميرے پروردگار نے كيا ہے، اس كا فرض ہے كہ على (ع) اور ان كے وارث ائمہ ہدى اور مصابيح الدجى سے حبت كرے كہ يہ لوگ ہدايت سے نكال كر گمراہى كى طرف ہرگز نہيں لے جاسكتے ہيں _( امالى شجرى 1 ص 136 ، كنز العمال 11 ص 611 / 32960 ، مناقب ا بن شہر آشوب 1 ص 291)_

رسول اكرم(ص) جو شخص ميرى جيسى حيات و موت كا خواہش مند ہے اور اس گلشن عدن ميں داخلہ چاہتاہے جسے ميرے پروردگار نے اپنے دست قدرت سے سجاياہے اس كا فرض ہے كے على (ع) كو ولى تسليم كرے اور ان كے دوستوں سے دوستى ركھے اور ان كے دشمنوں سے دشمنى ركھے اور اس كے بعد اوصياء كے لئے سراپا تسليم رہے كہ يہ سب ميرى عترت اور ميرا گوشت اور خون ہيں، انھيں پروردگار نے ميرا علم و فہم عنايت فرماياہے اور ميں اپنے پروردگار كى بارگاہ ميں اس امت كى فرياد كروں گا جو ان كے فضل كى منكر اور ان سے ميرى رشتہ كى قطع كردينے والى ہے، خدا كى قسم يہ لوگ ميرے فرزند كو قتل كريں گے اور انھيں ميرى شفاعت ہرگز نہيں مل سكتىہے_( كافى 1 ص 209 / 5 روايت ابان بن تعلب از اما م صادق (ع) )_

رسول اكرم(ص) نے حضرت علي(ع) سے خطاب كركے فرمايا كہ جو شخص پروردگار سے محفوظ و مامون، پاك و پاكيزہ اور ہول قيامت سے مطمئن ملاقات كرنا چاہتا ہے اس كا فرض ہے كہ تم سے محبت كرے اور تمھارے فرزند حسن (ع) و حسين (ع) ، على (ع) بن الحسين (ع) ، محمد بن على (ع) ، جعفر (ع) بن محمد(ع) ، موسى (ع) بن جعفر (ع) ، على (ع) بن موسى (ع) ، محمد (ع) بن على (ع) ، علي(ع) ، حسن (ع) اور مہدى (ع) سے محبت كرے جو ان سب كا آخرى ہوگا ( الغيبتہ طوسى ص 136 / 100 روايت عيسى بن احمد بن احمد بن عيسى بن المنصور العسكرى (ع) ، مناقب ابن شہر آشوب 1 ص 293 ، الصراط المستقيم 2 ص 151_

ابن عباس نے رسول اكرم(ص) سے ائمہ كے بارے ميں يہ ارشاد نقل كيا ہے كہ ان كى ولايت ميرى ولايت ہے اور ميرى ولايت اللہ كى ولايت ہے، ان كى جنگ ميرى جنگ ہے اور ميرى جنگ خدا كى جنگ ہے، ان كى صلح ميرى صلح ہے اور ميرى صلح اللہ كى صلح ہے_( كفاية الاثر ص 18)_

رسول اكرم(ص) _ ميرى اور ميرے اہلبيت (ع) كى ولايت جہنم سے امان كا وسيلہ ہے_( امالى صدوق (ع) ص 383 / 8 ، بشارة المصطفى ص 186 روايت ابن عباس (ع) )_

رسول اكرم (ع) _ ان اقوام كو كيا ہوگيا ہے كہ ان كے سامنے آل ابراہيم كا ذكر آتاہے تو خوش ہوجاتے ہيں اور آل محمد(ص) كا ذكر آتاہے تو ان كے دل بھڑك جاتے ہيں، قسم ہے اس ذات كى جس كے قبضہ ميں محمد(ص) كى جان ہے اگر كوئي بندہ روز قيامت ستر انبياء كے اعمال كے برابر اعمال لے كر آئے تو بھى خدا اس كے اعمال كو قبول نہيں كرے گا جب تك ميرى اورميرے اہلبيت (ع) كى ولايت لے كر نہ آئے_(امالى الطوسى ص 140 / 229 ، بشارة المصطفى ص 81 ، 123 ، كشف الغمہ 2 /10 ، امالى مفيدہ 115/ 8)_

امام على (ع) اہلبيت (ع) اساس دين اور عماد يقين ہيں ، انھيں كى طرف غالى پلٹ كر آتاہے اور انھيں سے پيچھے رہنے والا ملحق ہوتاہے، ان كے لئے حق ولايت كے خصوصيات ہيں اور انھيں ميں پيغمبراكرم(ص) كى وراثت و وصيت ہے_( نہج البلاغہ خطبہ نمبر 2)_

امام على (ع) لوگوں پر ہمارا حق ولايت بھى ہے اور حق اطاعت بھى اور ان كے لئے خدا كى طرف سے بہترين جزا بھى ہے_( غرر الحكم 7628)_

امام باقر (ع) اسلام كى بنياد پانچ ستونوں پر قائم ہے، قيام نماز، ادائے زكوة ، صوم رمضان، حج بيت اللہ اور ولايت اہلبيت (ع) _( امالى طوسى ص 124 / 192 ، خصال 278 / 21 ، امالى مفيد 353 / 4 بشارة المصطفى ص 69 روايت ابوحمزہ الثمالى ، كافى 2 ص 18 ، تہذيب 4 ص 151_

امام باقر (ع) پروردگار نے اہلبيت پيغمبر (ص) كو پاك و پاكيزہ قرار ديا ہے، ان كى محبت كا سوال كيا ہے اور ان ميں پيغمبر (ص) كى ولايت كو جارى ركھاہے، انھيں امت ميں پيغمبر (ص) كا محبوب اور وصى قرار دياہے، لوگوں ميرے بيان سے عبرت حاصل كرو، جہاں پروردگار نے اپنى ولايت، اطاعت ، مودت اور اپنے احكام كے علم واستنباط كو ركھاہے، اسے قبول كرلو اور اسى سے وابستہ رہوتاكہ نجات حاصل كرلو اور يہ روز قيامت تمھارے لئے حجت كا كام ديں، اور ياد ركھو كہ خدا تك كوئي ولايت ان كے بغير نہيں پہنچ سكتى ہے اور جو ان سے وابستہ رہے گا پروردگار كا فرض ہے كہ اس كا احترام كرے اور اس پر عذاب نہ كرے اور جو اس كے بغير وارد ہوگا خدا پر لازم ہوگا كہ اسے ذليل كرے اور مبتلائے عذاب كردے (كافى 8 ص 120 / 92 روايت ابوحمزہ)_

ابوحمزہ مجھ سے امام باقر (ع) نے فرمايا كہ حق كى عبادت وہى كرسكتاہے جو اس كى معرفت ركھتاہو ورنہ معرفت كے بغير عبادت گمراہوں كى جيسى عبادت ہوگى ميں نے عرض كى حضور معرفت خدا كا مقصد كيا ہے فرمايا خدا اور اس كے رسول كى تصديق اور على (ع) كى محبت اور اقتدا اور ائمہ ہدى كى اطاعت اور ان كے دشمنوں سے برائت، يہ تمام باتيں جمع ہوجائيں تو معرفت خدا كا حق ادا ہوتاہے_( كاف 1 ص 180 /1 ، تفسير عياشى 2 ص 116 / 155)_

امام باقر (ع) جو شخص آل محمد(ص) كى ولايت ميں داخل ہوگيا گويا جنت ميں داخل ہوگيا اور جو ان كے دشمن كى ولايت ميں داخل ہوگيا گويا جہنم ميں داخل ہوگيا (تفسير عياشى 2 ص 160 / 66)_

محمد بن على الحلبى نے امام صادق (ع) سے '' رب اغفرلى ولوالدى ومن دخل بيتى آمنا '' كى تفسير ميں نقل كيا ہے كہ اس گھر سے مراد ولايت ہے كہ جو اس ميں داخل ہوگيا گويا انبياء كے گھر ميں داخل ہوگيا ، اور آيت تطہير سے مراد بھى ائمہ طاہرين اور ان كى ولايت ہے كہ اس ميں داخل ہونے والا گويا پيغمبر(ص) كے گھر ميں داخل ہوگيا _( كافى 1 ص 423 / 54)_

_امام صادق (ع) پروردگار نے ہمارى ولايت كو قرآن كا مركز اور تمام كتب سماويہ كا محور قرار دياہے جس پر تمام محكمات گردش كرتے ہيں اور تمام كتب نے اسى كا اراشہ دياہے اور اسى سے ايمان واضح ہوتاہے، رسول اكرم(ص) نے قرآن اور آل محمد(ص) دونوں كى اقتدا كا حكم ديا تھا جب آخرى خطبہ ميں ارشاد فرمايا تھا كہ ميں تم ميں ثقلين كو چھوڑے جاتاہوں جن ميں ثقل اكبر كتاب خدا ہے اور ثقل اصغر ميرى عترت اور ميرے اہلبيت (ع) ہيں ، ديكھو ان دونوںكے ذيل ميں ميرى حفاظت كرنا كہ جب تك ان سے متمسك رہوگے گمراہ نہيں ہوسكتے ہو_( تفسير عياشى روايت مسعدہ بن صدقہ)_

امام كاظم (ع) جو ہمارى ولايت كى طرف قدم آگے بڑھائے گا وہ جہنم سے دور ہوجائے گا اور جو اس سے دور ہوجائے گا وہ جہنم كى طرف بڑھ جائےگا_ ( كافى 1 ص 434 / 91 روايت محمد بن الفضيل ، مجمع البيان 10 / 591)_

عبدالسلام بن صالح ہروى ميں امام رضا (ع) كے ہمراہ تھا جب آپ نيشاپور ميں سوارى پر سوار وارد ہوئے اور تمام علماء نيشاپور آپ كى زيارت كيلئے جمع ہوگئے اور لجام پكڑ كر سوارى كو روك ليا اور گذارش كى كہ فرزند رسول (ص) آپ كو آپ كے آباء طاہرين كا واسطہ ، ان كى كوئي حديث بيان فرمائيں_

آپ نے محمل سے سر نكالا اور فرمايا مجھ سے ميرے پدر بزرگوار موسى (ع) بن جعفر (ع) نے ، اپنے والد جعفر (ع) بن محمد (ع) ان كے والد محمد (ع) بن على (ع) ان كے والد على (ع) بن الحسين (ع) ان كے والد حسين (ع) سردار جوانان اہل جنت ، ان كے والد امير المومنين (ع) كے حوالہ سے رسول اكرم(ص) كا يہ ارشاد نقل فرماياہے كہ مجھے خدائے قدوس جل جلالہ كى طرف سے جبريل نے خبردى ہے كہ '' ميں خدائے وحدہ لا شريك ہوں، ميرے بندو ميرى عبادت كرو اور جو شخص بھى مجھ سے لاالہ الا اللہ كے اخلاص كے ساتھ ملاقات كرے گا وہ ميرے قلعہ ميں داخل ہوجائے گا اور جو ميرے قلعہ ميں داخل ہوجائيگا وہ ميرے عذاب سے محفوظ ہوجائے گا_

لوگوں نے عرض كى يابن رسول اللہ (ص) يہ لا الہ الا اللہ كا اخلاص كياہے؟ فرمايا خدا و رسول (ص) كى اطاعت اور اہلبيت (ع) كى ولايت ، امالى الطوسى ص589 / 1220 ، تنبيہ الخواطر 2 ص 75 روايت ابوالصلت عبدالسلام )_

امام رضا (ع) دين كا كمال ہم اہلبيت (ع) كى ولايت اور ہمارے دشنوں سے برائت ہے_( مستطرفات السرائر 149 / 3)_

امام ہادى (ع) ( زيارت جامعہ ) اے اہلبيت (ع) زمين تمھارے نور سے روشن ہوئي ہے اور كامياب لو گ تمھارى ولايت كے طفيل كا مياب ہوئے ہيں ، تمھارے ہى ذريعہ رضاء الہى كا راستہ طے ہوتاہے اور تمھارى ولايت كے منكر ہى كے لئے رحمان كا غضب ہے_( تہذيب 6 ص 100 / 177)_

4_ تقديم

867_ رسول اكرم(ص) ايہا الناس ميں تم سے آگے آگے جارہاہوں اور تم ميرے پاس حوض كوثر پر وارد ہونے والے ہو، ياد ركھو كہ ميں تم سے وہاں ثقلين كے بارے ميں سوال كروں گا لہذا اس كا خيال ركھنا كہ ميرے بعد ان كے ساتھ كيا سلوك كرتے ہو، مجھے خدائے لطيف و خبير نے خبر دى ہے كہ يہ دونوں ايك دوسرے سے جدا نہ ہوں گے يہاں تك كہ مجھ سے ملاقات كريں اور ميں نے ہى اس بات كى دعا كى تھى جو خدا نے مجھے عنايت كردى ياد ركھو كہ ميں نے تمھارے درميان كتاب خدا اور اپنے عترت و اہلبيت (ع) كو چھوڑا ہے لہذا ان سے آگے نہ بڑھ جانا كہ تفرقہ پيدا ہوجائے اور نہ پيچھے رہ جانا كہ ہلاك ہوجاؤ_ انھيں پڑھانے كى كوشش نہ كرنا كہ يہ تم سے زيادہ علم ركھنے والے ہيں (ارشاد 1 ص 180 ، تفسير عياشى 1 ص 4 / 3)_

رسول اكرم(ص) ايہا الناس ، ميں نے تم پر واضح كرديا ہے كہ ميرے بعد تمھارى پنا ہگاہ ، تمھارا امام ، راہنما ، ہادى ميرا بھائي على (ع) بن ابى طالب (ع) ہے، وہ تمھارے درميان ايسا ہى ہے جيسا كہ ميں ہوں، اپنے دين ميں

اس پر اعتماد كرو اور تمام معاملات ميں اس كى اطاعت كرو، اس كے پاس وہ تمام علوم ہيں جو خدا نے مجھے ديئے ہيں اور ميرى حكمت بھى ہے_ اس سے دريافت كرو، سيكھو اور اس كے بعد اوصياء سے تعليم حاصل كرنا اور خبردار انھيں تعليم مت دينا اور ان سے آگے نہ نكل جانا اور پيچھے بھى نہ رہ جانا كہ يہ سب حق كے ساتھ ہيں اور حق ان كے ساتھ ہے، نہ يہ حق سے جدا ہوں گے اور نہ حق ان سے جدا ہونے والا ہے_( كمال الدين 277 / 25 كتاب سليم بن قيس 2 ص 646)_

رسول اكرم(ص) پروردگار نے ہر نبى كى ذريت كو اس كے صلب ميں ركھاہے اور ميرى ذريت كو على (ع) كے صلب ميں قرار ديا ہے لہذا انھيں آگے ركھنا اور ان سے آگے نہ بڑھ جانا كہ يہ بچپنے ميں سب سے زيادہ ہوشمند اور بڑے ہونے كے بعد سب سے زيادہ صاحب علم ہيں، ان كا اتباع كرو كہ يہ نہ تمھيں گمراہى ميں داخل كريں گے اور نہ ہدايت سے باہر لے جائيں گے_(فضائل ابن شاذان ص 130 عن الصادق (ع) )_

عثمان حنيف ميں نے رسول اكرم(ص) كو يہ فرماتے ہوئے سنا ہے كہ ميرے اہلبيت (ع) زمين والوں كے لئے ستاروں كى طرح ہيں لہذا ان سے آگے نہ نكل جانا اور انھيں ہميشہ آگے ركھنا كہ يہ ميرے بعد حاكم ہيں_

ايك شخص نے عرض كى كہ حضور يہ اہلبيت (ع) كون حضرات ہيں ؟ فرمايا على (ع) اور ان كى پاكيزہ اولاد _( احتجاج 1 ص 198 /11 ،اليقين ص 341)_

امام على (ع) _ رسول اكرم(ص) كے فضائل بيان كرتے ہيں'' پروردگار نے انھيں بھيجاتا كہ اس كے امر كى وضاحت كريں، اس كے ذكر كا اظہار كرتے رہيں تو انھوں نے نہايت امانتدارى سے پيغام كو پہنچا ديا اور كمال ہدايتكے ساتھ دنيا سے رخصت ہوگئے اور ہمارے درميان ايك پرچم حق چھوڑ گئے كہ جو اس سے آگے نكل جائے وہ دين سے نكل گيا اور جو پيچھے رہ جائے وہ ہلاك ہوگيا اور جو وابستہ ہوجائے وہى ان سے ملحق ہوگيا_( نہج البلاغہ خطبہ 100)_

امام على (ع) جب ابوبكر نے خطبہ پڑھا تو ابى بن كعب نے كھڑے ہوكر يہ سوال كرليا كہ كيا تمھيں نہيں معلوم ہے كہ رسول اكرم(ص) نے فرمايا تھا كہ ميں تمھيں اپنے اہلبيت (ع) كے بارے ميں خير كى وصيت كرتاہوں ، لہذا انھيں آگے ركھنا اور ان سے آگے نہ نكل جانا اور انھيں حاكم بناكے ركھنا خود ان كے حاكم نہ بن جانا_

يہ منظر ديكھ كر انصار كى ايك جماعت كھڑى ہوگئي اور كہنے لگے بيٹھ جايئےآپ نے جو سنا اسے پہنچا ديا اور اپنے عہد كو پورا كرديا_

( يہ واقعہ ماہ رمضان كى پہلى تاريخ روز جمعہ كا ہے) احتجاج 1 ص 297 / 52 روايت محمد و يحي فرزندان عبداللہ بن الحسن ، اليقين ص 448 باب 170 روايت يحي بن عبداللہ بن الحسن )_

اما م صادق (ع) جس نے آل محمد(ص) سے محبت كى اور انھيں تمام لوگوں پر قرابت رسول اكرم(ص) كى بنياد پر مقدم ركھا اس كا شمار بھى آل محمد(ص) كے ساتھ ہوجائے گا كہ اس نے آل محمد(ص) سے محبت كى ہے_ نہ يہ كہ واقعاً آل محمد(ص) ہوگا، بلكہ ان ميں شمار ہوجائے گا كہ ان سے محبت كى ہے اور ان كا اتباع كيا ہے، جس طرح قرآن مجيد نے اعلان كيا ہے كہ '' جو ان سے محبت كرے گا وہ انھيں ميں شمار ہوگا '' (مائدہ 51)_

دوسرے مقام پر حضرات ابراہيم (ع) كا ارشاد نقل كيا ہے '' جو ميرا اتباع كرے گا وہ مجھ سے ہوگا اور جو ميرى نافرمانى كرے گا ، خدايا تو غفور و رحيم ہے_

سورہ ابراہيم 36 (تفسير عياشى 2 ص 231 / 34 روايت ابوعمرو الزبيري)_

5_ اقتدائ

874_ رسول (ص) اكرم جس شخص كو يہ بات پسند ہو كہ ميرى طرح كى حيات و موت نصيب ہو اور جنت عدن ميں ساكن ہوجائے جسے ميرے پروردگار نے تيار كيا ہے تو اسے چاہيئے كہ ميرے بعد على (ع) اور ان كے چاہنے والوں سے محبت كرے اور ميرے بعد ائمہ كى اقتدا كرے كہ يہ سب ميرى عترت ہيں اور ميرى ہى طينت سے پيدا ہوئے ہيں انھيں مالك كى طرف سے علم و فہم عطا ہوا ہے اور ويل ہے ميرى امت كے ان افراد كے لئے جو ان كے فضل كا انكار كريں اور ان كے ساتھ ميرے رشتہ قرابت كا خيال نہ ركھيں، اللہ ان لوگوں كو ميرى شفاعت نصيب نہ كرے _( حلية الاولياء 1 ص 86 ، تاريخ دمشق حالات امام على (ع) 2 ص 95 / 596 ، فرائد السمطين 1 ص 53 / 18 ، كنز العمال 12 ص 103 / 34198 ، امالى طوسى ص 578 / 1195 ، روايت ابى ذر ، مناقب ابن شہر آشوب 1 ص 292 ، بصائر الدرجات ص 48 _ 52 روايت سعد بن طريف)_

_رسول اكرم(ص) جسے يہ بات پسند ہے كہ انبياء كى طرح زندہ رہے اور شہداء كى طرح مرجائے اور اس گلزار عدن ميں قيام كرے جسے خدائے رحمان نے سجايا ہے تو اسے چاہئے كہ على (ع) اور ان كے دوستوں سے محبت كرے اور ان كے بعد ائمہ كى اقتدا كرے كہ يہ سب ميرى عترت ہيں اور ميرى ہى طينت سے پيدا ہوئے ہيں _( خدايا انھيں ميرے علم و فہم سے بہرہ ور فرمایا ور ويل ہے ميرى امت كے ان افراد كے لئے جو ان كى مخالفت كريں_ خدا انھيں ميرى شفاعت نصيب نہ كرے _( كافى 1 ص 208 /3 از سعد بن طريف)_

رسول اكرم(ص) ميرے اہلبيت (ع) وہ ہيں جو حق و باطل ميں امتياز قائم كرتے ہيں اور يہى وہ ائمہ ہيں جن كى اقتداء كى جاتى ہے_(خصال 464 / 4 ، احتجاج 1 ص 197 / 8 روايت خزيمہ بن ثابت ذو الشہادتين ، اليقين ص 341 ، اثبات الہداة 1 ص 730 / 247 روايت ابى بن كعب)_

رسول اكرم(ص) ، سكون ، آرام ، رحمت ، نصرت، سہولت، سرمايہ ، رضا، مسرت ، نجات، كاميابى ، قرب الہى ، محبت خدا و رسول ان افراد كے لئے ہے جو على (ع) سے محبت كريں اور ان كے بعد اوصياء كى اقتدا كريں، (تفسير عياشى 1 ص 169 / 32 ، المحاسن 1 ص 235 ، 432 ، روايت ابوكلدہ عن الباقر (ع) )_

رسول اكرم(ص) ، خوشا بحال ان كا جو ہمارے قائم كو درك كرليں اور ان كے قيام سے پہلے ہى ان كى اقتداء كرليں، ان كے اور ان سے پہلے كے ائمہ ہدى كے نقش قدم پر چليں اور خدا كى بارگاہ ميں ان كے دشمنوں سے برائت كريں، يہى افراد ميں رفقا ہيں اور ميرى امت ميں ميرے نزديك سب سے زيادہ محترم ہيں، كمال الدين ص 286 / 3 روايت سدير عن الصادق (ع) الغيبتہ طوسى ص 456 / 466 روايت رفاعہ بن موسى و معاويہ بن وہب عن الصادق (ع) ، الخرائج ص 1148 / 57)_

_جابر بن عبداللہ انصارى ايك دن رسول اكرم(ص) نے نماز صبح پڑھائي اور پھر ہمارى طرف رخ كركے يہ ارشاد فرمانا شروع كيا ، ايہا الناس اگر آفتاب غائب ہوجائے تو چاند سے وابستہ ہوجانا اور اگر وہ بھى غائب ہوجائے تو دونوں ستاروں سے وابستہ رہنا_

جس كے بعد ہم نے ، ابوايوب انصارى اور انس نے عرض كى كہ حضور يہ آفتاب كون ہے ؟ فرمايا : ميںاس كے بعد حضور (ص) نے مثال بيان كرنا شروع كى كہ پروردگار نے ہمارے گھرانے كو خلق كركے ستاروں كى مانند قرار ديديا ہے كہ جب ايك ستارہ غائب ہوتاہے تو دوسرا طالع ہوجاتاہے، ميں آفتاب كے مانند ہوں لہذا جب ميں نہ رہ جاؤں تو ماہتاب سے تمسك كرنا_

ہم نے عرض كى كہ حضور يہ ماہتاب كون ہے ؟ فرمايا ميرا بھائي ، وصى ، وزير ، ميرے قرض كا ادا كرنے والا، ميرى اولد كا باپ ، ميرے اہل ميں ميرا جانشين على (ع) بن ابى طالب (ع)ہم نے عرض كى كہ پھر يہ دوستارے كون ہيں ؟ فرمايا حسن (ع) و حسين (ع) اس كے بعد ذرا توقف كركے فرمايا كہ اور فاطمہ (ع) بمنزلہ زہرہ ہے اور ديكھو ميرے عترت و اہلبيت (ع) قرآن كے ساتھ ہيں اور قرآن ان كے ساتھ ہے، يہ دونوں اس وقت تك جدا نہ ہوں گے جب تك حوض كوثر پر وارد نہ ہوجائيں _( امالى طوسى 516 / 1131)_

امام رضا (ع) جسے يہ بات پسند ہو كہ خدا كے جلوہ كو بے حجاب ديكھتے اور خدا بھى اس كى طرف بے حجاب نگاہ رحمت كرے اس چاہئے كہ آل محمد(ص) سے محبت كرے اور ان كے دشمنوں سے برات كرے ، ان ميں كہ ائمہ كى اقتدا كرے كہ ايسے افراد كى طرف خدا روز قيامت براہ راست نگاہ رحمت كرے گا اور ايسے لوگ اس كے جلوہ كو بلا حجاب ديكھيں گے_( محاسن 1 ص 133 / 165 روايت بكر بن صالح)_

6_ اكرام و احترام

'' يہ نور خدا ان گھروں ميں ہے جن كے احترام كا حكم ديا گياہے اور ان ميں صبح و شام ذكر خدا ہوتارہتاہے_( نور_آيت نمبر 36)_

_انس بن مالك و بريدہ رسول اكرم(ص) نے آيت مذكورہ كى تلاوت فرمائي تو ايك شخص نے سوال كيا كہ يا رسول (ص) اللہ يہ كونسے گھر ہيں ؟ فرمايا يہ انبياء كے گھر ہيں تو ابوبكر كھڑے ہوگئے اور كہا كہ حضور كيا يہ على (ع) و فاطمہ (ع) كا گھر بھى انھيں ميں شامل ہے؟ فرمايا بيشك ، ان گھروں ميں سب سے افضل و برتر ہے_( درمنثور 6 ص 203 نقل از ابن مردويہ ، شواہد التنزيل 1ص 534 / 568 ، مجمع البيان 7 ص 227 ، العمدہ ص 291 / 478)_

_رسول اكرم(ص) _ چار قسم كے افراد ہيں جن كى شفاعت ميں روز قيامت كروںگا، ميرى ذريت كے احترام كرنے والے، ان كے ضروريات كوپورا كرنے والے، وقت ضرورت ان كے معاملات ميں دوڑ دھوپ كرنے والے اور ان سے قلب و زبان سے محبت كرنے والے_( كنز العمال 12 ص 100 / 34180 نقل از ديلمى ، امالى طوسى ص 366 / 779 ، روايت على بن على بن رزين برادر دعبل خزاعى عن الرضا (ع) ، عيون اخبار الرضا (ع) 1 ص 254 / 2 روايت دعبل 2 ص 25 / 4 روايت داؤد بن سليمان و احمد بن عبداللہ الہروي، بشارة المصطفى ص 36 ، فرائد السمطين 2 ص 277 / 541 روايت احمد بن عامر الطائي )_

رسول اكرم(ص) ، ايہا النّاس ميرى زندگى ميں اور ميرے بعد ميرے اہلبيت (ع) كا احترام كرنا، ان كى بزرگى اور فضيلت كا اقرار ركھنا، ( كتاب سليم2 ص 687 ، احقاق الحق 5 ص 42 نقل از درر بحر المناقب روايت ابوذر و مقداد و سلمان عن على (ع) )_

امام حسن (ع) رسول اكرم(ص) نے انصار كے پاس ايك شخص كو بھيجكر سب كو طلب كيا اور جب آگئے تو فرمايا اے گروہ انصار كيا ميں تمھيں ايسى شے كا پتہ بتاؤں جس سے متمسك رہو تو اس كے بعد كبھى گمراہ نہ ہو ؟ لوگوں نے عرض كى بيشك، فرمايا يہ على (ع) ہيں، ان سے محبت كرو اور ميرى كرامت كى بناء پر ان كا احترام كرو كہ جبريل نے مجھے يہ حكم پہنچا ياہے كہ ميں پروردگار كى طرف سے اس حقيقت كا اعلان كردوں _( المعجم الكبير 3 ص 88 / 2749، حلية الاولياء 1 ص 63 روايت ابن ابى ليلى ، امالى طوسى ص 223 / 386 ، بشارة المصطفى ص 109 روايت سلمان فارسى )_

ابن عباس _ رسول اكرم(ص) منبر پر تشريف لے گئے اور لوگوں كے اجتماع ميں خطبہ ارشاد فرمايا كہ ايہا الناس ، تم سب روز قيامت جمع كئے جاؤگے اور تم سے ثقلين كے بارے ميں سوال كيا جائے گا لہذا اس كا خيال ركھنا كہ ميرے بعد ان كے ساتھ كيا برتاؤ كرتے ہو، ديكھو يہ ميرے اہلبيت (ع) ہيں جس نے ان كو اذيت دى اس نے مجھے اذيت دى اور جس نے ان پر ظلم كيا اس نے مجھ پر ظلم كيا اور جس نے انھيں ذليل كيا اس نے مجھے ذليل كيا اور جس نے ان كى عزت كى اس نے ميرى عزت كى اور جس نے ان كا احترام كيااس نے ميرا احترام كيا اور جس نے ان كى مدد كى اس نے ميرى مدد كى اور جس نے انھيں چھوڑ ديا اس نے مجھے چھوڑ ديا_( امالى صدوق 62 / 11 ، التحصين ص 599 ، مشارق انوار اليقين ص 53)_

رسول اكرم(ص) روز قيامت خدا كى بارگاہ ميں حاضر ہونے والى امتوں ميں ميرى امت سے بہتر كوئي امت نہ ہوگى اور ميرے اہلبيت (ع) سے بہتر كسى كے اہل بيت نہ ہوں گے لہذا حذار ان كے بارے ميں خدا سے ڈرتے رہنا (جامع الاحاديث ص 261 روايت ابن عباس)_

رسول اكرم(ص) پروردگار كى طرف سے تين محترم اشياء ہيں ، جو ان كو محفوظ ركھے گا خدا اس كے امور دين و دنيا كى حفاظت كرے گا اور جو انھيں محفوظ نہ ركھے گا خدا اس كا تحفظ نہ كرے گا، حرمت اسلام ، ميرى حرمت اور ميرى عترت كى حرمت _( خصال ص 146 / 173 ، روايت ابوسعيد خدرى روضة الواعظين ص 297 ، المعجم الكبير 3 ص 126 / 2881 ، المعجم الاوسط 1 ص 72 / 203 ، مقتل الحسين خوارزمى 2 ص 97 ، احقاق الحق 9ص 511 18 ص 442_

امام باقر (ع) رسول اكرم (ص) نے منى ميں اصحاب كو جمع كركے فرمايا، ايہا الناس ميں تمھارے درميان تمام محترم اشياء كو چھوڑے جارہاہوں، كتاب خدا ، ميرى عترت اور كعبہ جو بيت الحرام ہے_( بصائر الدرجات ص 413/3 روايت جابر ، مختصر بصائر الدرجات ص 90 روايت جابر بن يزيد الجعفي)_

امام صادق (ع) پروردگار كے لئے اس كے شہروں ميں پانچ محترم اشياء ہيں، حرمت رسول اكرم(ص) ، حرمت آل رسول اكرم(ص) ، حرمت كتاب خدا ، حرمت كعبہ اور حرمت مومن _( كافى 8ص 107 / 82 روايت على بن شجرہ)_

امام صادق (ع) پروردگار كے لئے تين حرمتيں بے مثل و بے نظير ہيں ، كتاب خدا جو سراپا حكمت و نور ہے ، خانہ خدا جو قبلہ خاص و عام ہے كہ اس كے علاوہ كسى كى طرف رخ كرنا قبول نہيں ہے اور عترت پيغمبر (ص) اسلام ( امالى صدوق ص 339 / 13 ، معانى الاخبار 117 / 1 روايت عبداللہ بن سنان _ خصال ص 146 / 174 روايت ابن عباس )_

7_ خمس

'' ياد ركھو كہ تم نے جو بھى فائدہ حاصل كيا ہے اس كا پانچواں حصّہ اللہ ، رسول (ص) ، قرابتداران رسول (ص) ، ايتام ، مساكين اور مسافران غربت زدہ كے لئے ہے''_( انفال ص 41)_

ابن الديلمى امام زين العابدين (ع) نے ايك مرد شامى سے فرمايا كہ كيا تو نے سورہ انفال كى يہ آيت پڑھى ہے؟ اس نے كہا يقينا پڑھى ہے مگر كيا يہ قرابتدار آپ ہى ہيں ؟ فرمايا بيشك _( تفسير طبرى 6/10 / 5)_

منہال بن عمرو ميں نے عبداللہ بن محمد(ص) بن على اور على (ع) بن الحسين (ع) سے خمس كے بارے ميں دريافت كيا تو فرمايا كہ يہ ہمارا حق ہے تو ميں نے على (ع) سے كہا كہ پروردگار تو ايتام و مساكين اور مسافروں كى بات كرتاہے ... فرمايا ا س سے مراد ہمارے ہى ايتام و مساكين ہيں _( تفسير طبرى 5 _10/ 8)_

امام باقر (ع) ، آيت خمس كے بارے ميں فرماتے ہيں كہ ذوى القربى سے مراد قرابتداران رسول (ص) ہيں اور خمس اللہ ، رسول اور ہم اہلبيت (ع) كے لئے ہے، (كافى 1 ص 529 / 2 روايت محمد بن مسلم )_

امام كاظم (ع) پروردگار نے يہ خمس صرف اولاد رسول (ص) كے ايتام و مساكين كے لئے ركھاہے نہ كہ عام ايتام و مساكين كے لئے اور يہ صدقات كے بدلے ميں ہے تا كہ انھيں قرابت رسول (ص) اور كرامت الہى كى بنياد پر لوگوں كے ہاتھوں كے ميل سے پاك ركھے اور انھيں يہ حق اس لئے عنايت فرماياہے كہ اس طرح انھيں دوسروں كے سامنے ہاتھ پھيلانے اورذلت و رسوائي كے مقامات سے لوگ ركھے_ (كافى 1 ص 540 /4 روايت حماد بن عيسى )_

8_ حسن سلوك

رسول اكرم(ص) جو ہمارے اہلبيت (ع) ميں سے كسى كے ساتھ بھى كوئي اچھا برتاؤ كرے گا ميں روز قيامت اس كا بدلہ ضرور دوں گا_ (كافى 4 ص 60 / 8) تہذيب 4 ص 110 / 312 روايت عيسى بن عبداللہ عن الصادق (ع) ، الفقيہ 2 ص 65 / 1725 ، ذخائر العقب ص 19 ، ذخائر العقب ص 19 ، كنز العمال 12 ص 95 / 34152 ، الجامع الصغير 2 ص 619 / 8821 از ابن عساكر)_

رسول اكرم(ص) جو شخص بھى مجھ سے ارتباط چاہتاہے اور چاہتاہے كہ اس كا كوئي حق ميرے ذمہ رہے اور ميں روز قيامت اس كى شفاعت كرسكوں اس كا فرض ہے كہ ميرے اہلبيت (ع) سے رابطہ ركھے اور انھيں خوش كرتارہے_( امالى طوسى ص 424 / 947، امالى صدوق ص 310 /5 روايت ابان بن تغلب ، كشف الغمہ 2 ص 25 ، روضة الواعظين ص 300 ، ينابيع المودة 2 ص 379 / 75 ، احقاق الحق 9ص 424 / 31 _18 ص 475 / 52)_

رسول اكرم(ص) ائمہ اولاد على (ع) كا ذكر كرتے ہوئے فرماتے ہيں كہ جو شخص بھى ان ميں سے كسى ايك پر ظلم كرے گا وہ ميرا ظالم ہوگا اور جو ان كے ساتھ اچھا سلوك كرے گا اس نے گويا ميرے ساتھ بہترين سلوك كيا _( كمال الدين ص 413 / 13 روايت محمدبن الفضيل)_

امام صادق (ع) اپنے اموال ميں آل محمد(ص) كے ساتھ حسن سلوك كو نظر اندازمت كرو ، اگر غنى ہو تو بقدر دولت اور اگر فقير ہو تو بامكان فقيرى ، اس لئے كہ جو شخص بھى يہ چاہتاہے كہ پروردگار اس كى اہم ترين حاجت كو پورا كردے اس كا فرض ہے كہ آل محمد(ص) اور ان كے شيعوں كے ساتھ بہترين برتاؤ كرے چاہے اسے خود اپنے مال كى كسى قدر ضرورت كيوں نہ ہو_( بشارة المصطفى ص 6 روايت عمران بن معقل)_

امام صادق (ع) جو ہمارے ساتھ اچھا سلوك نہ كرسكے اسے چاہئے كہ ہمارے نيك كردار دوستوں كے ساتھ اچھا سلوك كرے، پروردگار اسے ہمارے ساتھ سلوك كا ثواب عنايت فرما دے گا اور اسى طرح جو ہمارى زيارت نہ كرسكے وہ ہمارے چاہنے والوں كى زيارت كرے ، پروردگار اسے ہمارى زيارت كا ثواب عنايت كردے گا _( ثواب الاعمال ص 124 / 1 روايت احمد بن محمد بن عيسى ، الفقيہ 2 ص 73 / 1765 ، كامل الزيارات ص 219 روايت عمرو بن عثمان عن الرضا (ع) )_

عمر بن مريم ميں نے امام صادق (ع) سے آيت '' الذين يصلون ما امر اللہ بہ ان يوصل '' كے بارے ميں دريافت كيا تو فرمايا كہ يہ صلہ رحم كے بارے ميں ہے اور اس كى آخرى تاويل تمھارا برتاؤ ہمارے ساتھ ہے_( تفسير عياشى 2 ص 208 / 30)_

9_ صلوات

ابوسعيد خدرى ہم نے رسول اكرم(ص) سے گذارش كى كہ تسليم تو معلوم ہے يہ صلوات كا طريقہ كياہے؟ تو فرمايا كہ اس طرح كہو '' خدايا اپنے بندہ اور رسول محمد(ص) پر اس طرح رحمت نازل كرنا جس طرح آل ابراہيم پر نازل كىہے اور انھيں اس طرح بركت دينا جس طرح ابراہيم (ع) كو دى ہے _( صحيح بخارى 4 ص 1802 / 4520 ، صحيح مسلم 1 ص 305 / 405 ، سنن دارمى 1ص 330 / 1317 سنن ابى داؤد 1 ص 257 / 978 ، سنن نسائي 3 ص 49)_

عبدالرحمان بن ابى ليلى مجھ سے كعب بن عجرہ نے ملاقات كے دوران بتايا كہ ميں تمھيں ايك بہترين تحفہ دينا چاہتاہوں جو رسول اكرم(ص) نے ہميں ديا ہے ميں نے كہا وہ كيا ؟ تو انھوں نے كہا كہ ہم نے حضور (ص) سے سوال كيا كہ آپ اہلبيت (ع) پر صلوات كا طريقہ كيا ہے، سلام كرنے كا طريقہ تو ہميں معلوم ہے؟ فرمايا كہ اس طرح كہو'' خدايا محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما جس طرح ابراہيم (ع) اور آل ابراہيم (ع) پر نازل كى ہے كہ تو قابل حمد بھى ہے اور بزرگ بھى ہے، اور محمد(ص) و آل محمد(ص) كو بركت عنايت فرما جس طرح كہ ابراہيم (ع) اور آل ابراہيم (ع) كو دى ہے كہ تو حميد بھى ہے اور مجيد بھى ہے_( صحيح بخارى 3 ص 1233 / 3190 ، صحيح مسلم 1 ص 305 / 406 ، سنن ابى داؤد 1 ص 257 / 976 ، سنن دارمى 1 ص 329 / 1316 ، سنن نسائي 3 ص 45)_

_امام صادق (ع) ميرے والد بزرگوار نے ايك شخص كو خانہ كعبہ سے لپٹ كر يہ كہتے ہوئے سنا كہ خدايا محمد(ص) پر رحمت نازل فرما ... تو فرمايا كہ ناقص صلوات مت پڑھ اور ہم پر ظلم نہ كر، پڑھناہے تو اس طرح پڑھ '' خدايا محمد(ص) او ران كے اہلبيت (ع) پر رحمت نازل فرما _( كافى 2 ص 495 / 21 ، عدة الداعى ص 149 روايت ابن اقداح)_

_ رسول اكرم(ص) جو شخص بھى ايسى نماز پڑھے گا جس ميں مجھ پر اور ميرے اہلبيت (ع) پر صلوات نہ ہوگى تو اس كى نماز قابل قبول نہيں ہے_(سنن دارقطن 1 ص 355 / 6 عوالى اللئالى 2 ص 40 / 101 ، احقاق الحق 18 ص 310 ،

مستدرك الوسائل 5 ص 15 / 5256 روايت ابومسعود انصارى )_

شافعى اے اہلبيت (ع) رسول آپ كى محبت پروردگار كى طرف سے فرض ہے اور اس كا حكم قرآن ميں نازل ہوا ہے_

آپ كى عظمت كے لئے يہى كافى ہے كہ جو شخص بھى آپ پر صلوات نہ پڑھے اس كى نماز ، نماز نہيں ہے_( الصواعق المحرقہ ص 148 ، نور الابصار 127)_

واضح رہے كہ نور الابصار ميں '' عظيم القدر'' كے بجائے '' عظيم الفخر '' نقل كيا گياہے_

10_ ذكر فضائل

906_ رسول اكرم(ص) جب بھى كوئي قوم ايك مقام پر جمع ہوكر محمد(ص) و آل محمد(ص) كے فضائل كا تذكرہ كرتى ہے تو آسمان سے ملائكہ نازل ہوكر اس گفتگو ميں شامل ہوجاتے ہيں اور جب يہ لوگ منتشر ہوجاتے ہيں تب واپس جاتے ہيں اور دوسرے ملائكہ انھيں ديكھ كر كہتے ہيں كہ آج تو تمھارے بدن سے ايسى خوشبو آرہى ہے جو ہم نے كبھى نہيں ديكھى ہے تو وہ كہتے ہيں كہ ہم ايك ايسى قوم كے پاس تھے جو محمد(ص) و آل محمد(ص) كے فضائل كا ذكر كررہى تھى اور ان لوگوں نے ہميں يہ خوشبو عنايت كى ہے_

تو دوسرے ملائكہ خواہش كرتے ہيں كہ ہميں بھى وہاں لے چلو اور وہ كہتے ہيں كہ اب تو مجلس ختم ہوچكى ، تو گزارش كرتے ہيں كہ اس چگہ پر لے چلو جہاں يہ مجلس تھي_( احقاق الحق 18 ص 522 ، ينابيع المودة 2ص 271 / 773 نقل از مودة القربى ، بحار 38 ص 199 / 38)_

امام على (ع) ہم اہلبيت (ع) كا ذكر جملہ امراض و اسقام اور وسوسہ قلب كا علاج ہے_

( خصال ص 625 /10 روايت ابوبصير و محمد بن مسلم عن الصادق (ع) ، تفسير فرات ص 367 /499 روايت عبيد بن كثير )_

امام باقر (ع) ہمارا ذكر اللہ كا ذكر ہے اور ہمارے دشمنوں كا ذكر شيطان كا ذكر ہے، ( كافى 2 ص 496/2 روايت ابوبصير عن الصادق (ع) )_

امام صادق (ع) ہمارا ذكر اللہ كے ذكر كا ايك حصہ ہے لہذا جب ہمارا ذكر ہوگا تو گويا خدا كا ذكر ہوگا اور جب ہمارے دشمن كا ذكر ہوگا تو گويا شيطان كا ذكر ہوگا _( كافى 2 ص 186 /1 روايت على بن ابى حمزہ )_

معتب غلام امام نے امام جعفر صادق (ع) سے نقل كيا ہے كہ آپ نے داؤد بن سرحان سے فرمايا، داؤد ہمارے چاہنے والوں تك ہمارا سلام پہنچا دينا_ اور كہنا كہ اللہ اس بندہ پر رحم كرتاہے جو دوسرے كے ساتھ بيٹھ كر ہمارے امر كا ذكر كرتاہے اور ان كا تيسرا فرشتہ ہوتاہے جو ان دونوں كے لئے استغفار كرتاہے اور جب بھى دو افراد ہمارے ذكر كے لئے جمع ہوتے ہيں تو پروردگار ملائكہ پر مباہات كرتاہے لہذا جب بھى تمھارا اجتماع ہو تو ہمارا ذكر كرنا كہ اس اجتماع اور اس مذاكرہ ميں ہمارے امر كا احياء ہوتاہے اور ہمارے بعد بہترين افراد وہى ہيں جو ہمارے امر كا ذكر كريں اور لوگوں كو ہمارے ذكر كى دعوت ديں_( امالى طوسى ص 224 / 390 ، بشارة المصطفى ص 110)_

امام صادق (ع) آسمان كے ملائكہ جب ان ايك يا دو يا تين افراد پر نگاہ كرتے ہيں جو آل محمد(ص) كے فضائل كا ذكر كرتے ہيں تو آپس ميں كہتے ہيں ذرا ديكھو يہ اپنى اس قدر قلت اور دشمنوں كى اس قدر كثرت كے باوجود آل محمد(ص) كے فضائل كا ذكر كررہے ہيں تو دوسرا گروہ كہتاہے كہ يہ اللہ كا فضل و كرم وہ جسے چاہتاہے عنايت فرماديتاہے اور وہ صاحب فضل عظيم ہے_( كافى 8 ص 334/ 521 ، 2 ص 187 /4 ، تاويل الآيات الظاہرة ص 667)_

11_ ذكر مصائب

احمد بن يحيى الاودى نے اپنے اسناد كے ساتھ منذر كے واسطہ سے امام حسين (ع) سے نقل كيا ہے كہ جس بندہ كى آنكھ سے ہمارے غم ميں ايك قطرہ اشك بھى گرجاتاہے پروردگارا اسے جنت ميں عظيم منزل عنايت فرماتاہے'' ... اور اس كے بعد امام حسين (ع) كو خواب ميں ديكھ كر عرض كيا كہ مجھ سے مخول بن ابراہيم نے ربيع بن منذر نے اپنے والد كے حوالہ سے آپ كا يہ قول نقل كيا ہے تو كيا يہ صحيح ہے؟ تو فرمايا كہ بيشك صحيح ہے_( امالى مفيد ص 340 / 6 ، امالى طوسى ص 117 / 181 بشارة المصطفى ص 62 ، كامل الزيارات ص 100)_

_ الحسين بن ابى فاختہ ميں اور ابوسلمہ السراج و يونس بن يعقوب و فضل بن يسار سب امام جعفر صادق (ع) كے پاس حاضر تھے تو ميں نے عرض كى حضور ميں آپ پر قربان ميں لوگوں كے اجتماعات ميں شركت كرتاہوں اور آپ كو ياد كرتاہوں تو كيا كہا كروں ؟ تو فرمايا _ حسين جب ان كى مجالس ميں شركت كرو تود عا كرو كہ خدايا ہميں آسانى اور سرور عنايت فرما، پروردگار تمھارے مقصد كو عطا كردے گا_

پھر ميں نے عرض كيا كہ اگر امام حسين (ع) كو ياد كروں تو كيا كہوں؟ فرمايا تين مرتبہ كہو '' صلى اللہ عليك يا اباعبداللہ ''ا ے ابوعبداللہ خدا آپ پر رحمت نازل كرے ... اس كے بعد فرمايا كہ شہادت امام حسين (ع) پر ساتوں آسمان ، ساتوں زمينيں اور ان كے درميان كى تمام مخلوقات اور جنت و جہنم كى تمام مخلوقات نے گريہ كيا ہے، صرف تين مخلوقات نے

گريہ نہيں كياہے، ميں نے عرض كيا وہ كون ہيں؟

فرمايا ، زمين بصرہ، دمشق ، اور آل الحكم بن ابى العاص _( امالى الطوسى (ع) ص 54 / 73)_

واضح رہے كہ آل حكم كا تذكرہ علامت ہے كہ بصرہ اور دمشق سے مراد زمين بصرہ و دمشق ہے، اہل بصرہ و دمشق نہيں ہيں_ (جوادي)

_امام صادق (ع) جب بھى كسى آنكھ سے ايك آنسو اس غم ميں نكل آتاہے كہ ہمارا خون بہايا گيا ہے يا حق چھينا گياہے يا ہتك حرمت كى گئي ہے يا ہمارے كسى شيعہ پر ظلم كيا گيا ہے تو پروردگار اسے جنت ميں مستقل قيام عنايت فرماتاہے_( امالى طوسى ص 194 / 330 ، امالى مفيد 175 / 5 روايت محمد بن ابى عمارہ كوفي)_

بكر بن محمد ازدى امام صادق (ع) سے نقل كرتے ہيں كہ حضرت نے دريافت كيا كہ تم لوگ آپس ميں بيٹھ كر گفتگو كرتے ہو ؟ ميں نے عرض كى بيشك فرمايا ميں ان مجالس كو دوست ركھتاہوں لہذا ميرے امر كا احياء كرو كہ اگر كوئي شخص ہمارا ذكر كرتاہے يا اس كے سامنے ہمارا ذكر كيا جاتاہے اور اس كى آنكھ سے مكھى كے پر كے برابر آنسو نكل آتاہے تو پروردگار اس كے گناہوں كو معاف كرديتاہے چاہے سمندر كے جھاگ سے زيادہ ہى كيوں نہ ہوں_( ثواب الاعمال 223 / 1 ، بشارة المصطفى 275 ، مستطرفات السرائر 125 ، المحاسن ص 136 / 174 ، كامل الزيارات ص 104 ، تفسير قمى 2 ص 292)_

امام صادق (ع) جس كے سامنے ہمارا ذكر كيا جائے اور اس كى آنكھ سے آنسو نكل آئيں تو اللہ اس كے چہرہ كو آتش جہنم پر حرام كرديتاہے_(كامل الزياراتص104)_

ابان بن تغلب امام صادق (ع) فرماتے ہيں كہ جو ہمارى مظلوميت سے رنجيدہ ہو اس كى سانس بھى تسبيح كا ثواب ركھتى ہے اور اس كا ہم و غم بھى عبادت كا درجہ ركھتاہے اور ہمارے راز كا محفوظ ركھنا ايك جہاد راہ خدا ہے''_

اس كے بعد فرمايا كہ اس حديث كو سونے كے پانى سے لكھنا چاہئے، ( امالى طوسى ص 115 / 178 ، امالى مفيد 338 / 2 ، بشارة المصطفى ص 257 ، كافى 2 ص 226 / 16)_

سمع بن عبدالملك مجھ سے امام صادق (ع) نے فرمايا كہ جس دن سے امير المومنين (ع) كى شہادت ہوئي ہے، آسمان و زمين ہمارے غم ميں رورہے ہيں اور ملائكہ كا گريہ اور ان كى آنكھوں سے نكلنے والے آنسو اس سے زيادہ ہيں اور جب بھى كوئي ملك يا انسان ہمارے حال پر مہربان ہوكر گريہ كرتاہے تو آنسو نكلنے سے پہلے ہى پروردگار اس كے حال پر مہربان ہوجاتاہے اور جب يہ آنسو رخسار پر جارى ہوجاتے ہيں تو ان كا مرتبہ يہ ہوتاہے كہ ايك قطرہ بھى جہنم ميں گر جائے تو آگ سرد ہوجائے اور جس كا دل ہمارے غم ميں دكھنے لگتاہے، پروردگار وقت مرگ ہمارى زيارت سے وہ فرحت عنايت كرتاہے جس كا سلسلہ موت سے حوض كوثر تك برقرار رہتاہے_( كامل الزيارات ص 101)_

امام رضا (ع) جو ہمارى مصيبت كو ياد كركے ہمارے غم ميں آنسو بہائے وہ روز قيامت ہمارے ساتھ ہمارے درجہ ميں ہوگا اور جس كے سامنے ہمارى مصيبت كا ذكر كيا جائے اور وہ گريہ كرے يا دوسروں كو رلائے اس كى آنكھ اس دن نہ روئے گى جس دن تمام آنكھيں گريہ كناں ہوں گى اور جو كسى

ايسى مجلس ميں بيٹھے جہاں ہمارے امر كا احياء كيا جاتاہے اس كا دل اس دن مردہ نہ ہوگا جس دن تمام دل مردہ ہوجائيں گے_( امالى صدوق ص 68 /4 روايت على بن فضال ، عيون اخبار الرضا (ع) 1 ص 394 / 48 ، مكارم الاخلاق 2 ص 93 / 2663)_

دعبل خزاعى ميں امام على بن موسى الرضا (ع) كى خدمت ميں ايام غم ميں حاضر ہوا تو ديكھا كہ آپ محزون و رنجيدہ بيٹھے ہيں اور اصحاب بھى آپ كے گرد اسى عالم ميں ہيں حضرت نے مجھے آتے ديكھ كر استقبال فرمايا اور فرمايا كہ آؤ آؤ تم زبان اور ہاتھ سے ہمارى مدد كرنے والے ہو، اس كے بعد مجھے اپنے پہلو ميں بٹھاكر فرمايا كہ يہ دن ہم اہلبيت (ع) كے حزن و غم كے دن ميں ، ہمارى خواہش ہے كہ تم كوئي غم كا شعر سناؤ كہ آج كل بن اميہ ہمارے غم سے خوشى منارہے ہيں_

ديكھو دعبل اگر كوئي شخص ہمارے غم ميں روئے گا يا ايك آدمى كو بھى رلائے گا تو اس كے اجر كى ذمہ دارى پروردگار پر ہوگى اور جس كى آنكھ سے ہمارے غم ميں آنسو نكل آئيں گے خدا اسے ہمارے زمرہ ميں محشور كرے گا اور جو ہمارے جد كے غم ميں گريہ كرے گا خدا اس كے گناہوں كو يقيناً معاف كردے گا_( بحار الانوار 45 ص 257 / 15)_

ائمہ طاہرين (ع) جو ہمارے غم ميں روئے يا سو آدميوں كو رلائے گا اس كے لئے جنت ہے، اور جو پچاس كو رلائے گا اس كے لئے بھى جنت ہے اور جو تيس كو رلائے گا اس كے لئے بھى جنت ہے اور جو بيس كو رلائے گا اس كے لئے بھى جنّت ہے اور جو دس كو رلائے گا اس كے لئے بھى جنّت ہے اور جو ايك كو رلائے گا اس كے لئے بھى جنت ہے اور جو حزن و غم طارى كرے گا اس كے لئے بھى جنّت ہے_ (طہوف ص 86)_

 


source : http://www.sadeqeen.com/?id=ahlaibait
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

کیا امام صادق{ع} کی نیاز کے عنوان سے کوئی چیز صحیح هے؟
امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت پر تعزیت عرض ہے
علی (ع) اور جھاد
قرآن اور حسین
زیارت وارث،امام حسین (ع) کے وارثِ انبیاء ہونے کے معنی ...
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام
امام حسین علیہ السّلام پر گریہ کرنے کی فضیلت
سیرت اہلبیت (ع) خدام کے ساتھ
امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
اہلبیت (ع) اور مفہوم لفظ اہلبیت (ع)

 
user comment