اردو
Saturday 26th of September 2020
  12
  0
  0

منجی عالم بشریت حضرت امام مہدی (عج)

 شعبان سنہ 255 ھ ق کو فرزند رسول (ص) منجی عالم بشریت حضرت امام مہدی (عج) کی عراق میں واقع شہر سامرا میں ولادت ہوئی ۔آپ رسول اکرم (ص) کے ہم نام ہیں اور آپ کے سب سے زیادہ مشہور لقب مہدی ، یعنی ہدایت شدہ اور قائم یعنی قیام کرنے والا ہیں ۔آپ نے اپنی زندگي کے ابتدائی 5 سال اپنے والد حضرت امام حسن عسکری (ع) کے ساتھ گزارے ۔حضرت امام حسن عسکری (ع) کی شہادت کے بعد جب آپ نے لوگوں کی امامت کی ذمہ داری سنبھالی تو دشمنوں کی کثرت کے سبب حکم خدا سے دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہوگئے لیکن اس کے باوجود حضرت امام مہدی (عج) کا تقریبا 69 سال تک اپنے مخصوص نائبین کے توسط سے لوگوں کے ساتھ تعلق برقرار رہا اور آپ نے ان کی ہدایت و رہنمائی فرمائی ۔اس کے بعد آپ حکم خدا سے نامعلوم مدت کے لئے سب کی نظروں سے غائب ہوگئے ۔جب بھی خدا چاہیگا آپ ظہور فرمائیں گے اور عدل الہی کی بنیاد پر عالمی حکومت قائم کریں گے ۔مہدی موعود کی اس عالمی حکومت کا ایک عالمی تصور ہے ،جو کسی نہ کسی شکل میں تمام الہی مذاہب میں موجود ہے اور ان سب کے یہاں حضرت امام مہدی کی حکومت کی ایک اہم خصوصیت عدل و انصاف قائم ہونا ہے ۔آپ کے انصاف کا عالم یہ ہوگا کہ دنیا کے لوگوں کے غصب کئے گئے حقوق اس طرح بحال ہوں گے کہ روئے زمین سے ، ظلم و ناانصافی کا خاتمہ ہوجائے گا ۔یہی وجہ ہے کہ حضرت امام مہدی کی ذات گرامی اور آپ کا قیام ان مظلوموں کے لئے بہت بڑی امید اور سہارا ہے جو ظلم و جور کے خلاف جد وجہد کررہے ہیں تاکہ آپ کے ظہور کے لئے جلد از جلد ،بہتر سے بہتر راہ ہموار ہوجائے ۔خداوند عالم نے بھی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سورۂ قصص کی آیت 5 میں فرمایا ہے کہ : اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنادیا گيا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث بنائیں ۔

آپ کے القاب 

 آپ کے القاب مہدی ، حجة اللہ ، خلف الصالح ، صاحب ا لعصر، صاحب الامر ، والزمان القائم ، الباقی اورالمنتظرہیں ۔ ملاحظہ ہو تذکرہ خواص الامة ۲۰۴ ، روضة الشہداٴ ص۴۳۹، کشف الغمہ ۱۳۱ ، صواعق محرقہ۱۲۴ ،مطالب السؤال ۲۹۴ ،اعلام الوری ۲۴ حضرت دانیال نبی نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے ۱۴۲۰ سال پہلے آپ کالقب منتظرقراردیاہے ۔ ملاحظہ ہو کتاب دانیال باب۱۲ آیت ۱۲ ۔ علامہ ابن حجرمکی ، المنتظرکی شرح کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ انھےں منتظریعنی جس کاانتظارکیاجائے اس لئے کہتے ہیں کہ وہ سرداب میں غائب ہو گئے ہیں اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں سے گئے (مطلب یہ ہے کہ لوگ ان کا نتظار کر رہے ہیں ،شیخ العراقین علامہ شیخ عبدالرضا تحریر فرماتے ہیں کہ آپ کو منتظر اس لئے کہتے ہیں کہ آپ کی غیبت کی وجہ سے آپ کے مخلصین آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ ملاحظہ ہو۔ (انوارالحسینیہ جلد۲ ص۵۷طبع بمبئی)۔

امام مہدی علیہ السلام اولادعلی (ع)سے ہیں

 چونکہ حضرت ابو طالب کی اولاد زیادہ تھی اس لئے احادیث نے معین کردیاکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام ابوطالب کے فرزند حضرت علی کی اولادسے ہوں گے چنانچہ اس سلسلے میں کثیرروایات واردہوئیں ہیں ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

ھو رجل منی مہدی مجھ سے ہیں (نعیم بن حماد کی الفتن ۱:۳۶۹۔۱۰۸۴،سید ابن طاوس کی التشریف بالنن۱۷۶۔۲۳۸ باب ۱۹

یہ بات واضح ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی اولادزیادہ ہے لیکن بہت ساری صحیح بلکہ متواترروایات میں ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اہلبیت علھیم السلام سے ہیں یا عترت سے ہے یا پیغمبرسے ہیں ۔

لہذا اس سلسلے میں کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ اہل بیت علیھم السلام ،عترت اوراولادنبی علی کی اولاد میں سے صرف ان کوکہا جاتا ہے جن کا سلسلہ فاطمہ زھرااسلام علیھا سے ہوابطورنمونہ چنداحادیث پیش کی جارہی ہیں۔

احادیث:۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام اہل بیت علیھم السلام سے ہیں

 ۱۔ لا تنفضی الایام ،ولایذھب الدھر ،حتی یملک العرب رجل من اھل بیتی اسمہ یواطی اسمی

اس وقت تک ایام ختم نہیں ہوں گے اورزمانہ گزرے گا نہیں جب تک میرے اہلبیت میں سے ایک شخص عرب کا بادشاہ نہ بن جائے گا اوروہ میرا اہم نام ہوگا۔اس حدیث کو احمدنے اپنی مسندمیں ابن مسعودسے کئی طرق سے نقل کیا ہے اورابن داودنے اپنی سنن میں طبرانی نے اپنی معجم کبیرمیں اسے ذکرکیا ہے اورترمزی ارع کنجی شافعی نے اسے صحیح قراردیاہے اوربغوی نے اسے حسن بتایاہے (مسنداحمد۱:۳۷۶۔۳۷۷۔۴۳۰، سنن ابی داود۴:۱۰۷۔۴۲۸۳)

۲۔لو لم یبق من الدھر الایوم لبعث اللہ رجلا من اھل البیت یملئو عد لاکما ملئت جورا

اگر حیات دنیامین سے صرف ایک دن باقی رہ جائے تب بھی خدامیری اہل بیت میں سے ایک مردکو بھیجے گا جوزمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم جوسے بھری ہوئی ہوگی۔

اس حدیث کوحضرت علی علیہ السلام نے پیغمبراکرم سے روایت کیا ہے اوراحمدنے اسے اپنی مسندمیں نقل کیا ہے نیزاسے ابن ابی شبیہ ابوداؤداوعربیقہی نے بھی ذکرکیا ہے اورطبری نے مجمع البیان میں کہا ہے شیعہ اورسنی علماء نے متفقہ طورپرنقل کیاہے (مسنداحمد۱:۹۹ ابن ابی شیبہ کی المصنف ۱۵:۱۹۸۔ ۱۹۴۹۴، سنن ابی داود۴:۱۰۷۔ ۴۲۸۳ بیہقی کی الاعتقاد: ۱۷۳مجمع البیان ۷:۶۷)

ابوفیض الفیض غماری نے اس حدیث کے متعلق کہا ہے یہ حدیث بلا شک وشبہ صحیح ہے(بواز الوھم المکنون:۴۹۵)

۳۔ لا تقوم الساعة حتی یلی رجل من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی

قیامت اس وقت تک نہیں آسکتی جب تک میرے لیے اہل بیت علیھم السلام کاایک مردحکومت نہ سنبھال لے کہ جو میرا ہم نام ہوگا اس حدیث کومسعود نے پیغمبراسلام سے نقل کیا ہے۔

اورابن مسعودسے احمدبن حنبل ،ترمذی، کنجی اورطبرانی نے کئی طرق سے نقل کیا ہے اوراسے صحیح قراردیاہے۔

اورشیخ طوسی نے بھی اسے ذکرکیاہے اورابویعلی موصلی نے اسے ابوھریرہ سے اپنی مسندمیں بیان کیا ہے(مسنداحمد:۳۷۶،سنن ترمذی۴:۵۰۵۔۳۲۳۱،طبرانی کی المعجم الکبیرا :۱۶۵۔۱۰۲۲۰ وا:۱۰۱۶۷۔کنجی کی البیان :۴۸۱،شیخ طوسی کی کتاب الغیبة :۱۱۳، مسندابی یعلی موصلی ۱۲:۱۹۔۶۶۶۵)اوردرمنشور میں کہاہے کہاسے ترمذی نے ابوھریرہ سے روایت کیاہے اورصحیح قراردیاہے(ادرالمنشور ۶:۵۸)

۴۔ المھدی منااھل البیت اشم الانف ،اجلی الجبھة ،یملا الارض قسطا وعد لاکما ملئت جورا وظلما

مہدی ہم اھل بیت سے ہیں ناک ابھری ہوئی اورجبین کشادہ ہے وہ زمین کواسی طرح عدل وانصاف سے بھردیں گے جس طرح ظلم وجور سے بھری ہوگیاس حدیث کو ابوسعیدخدری نے پیغمبراسلام سے نقل کیا ہے اوران سے عبدالرزاق نے ذکرکیا ہے اورحاکم نے اسے مسلم کی شرط پرصحیح قراردیا ہے اورابلی نے اسے کشف الغمہ میں بیان کیاہے (عبدالرزاق کی المصنف ۱۱:۳۷۲۔۲۰۷۷۳،مستدرک حاکم ۴:۵۵۷، کشف الغمہ ۳:۲۵۹)

حضرت امام مہدی (عج) کے صفات اور نشانیاں

 تمام مخلوقات بعض ذاتی ،عرضی ،یا اعتباری صفات کی حامل ہونےکے ساتھ ساتھ مشترکہ یا منفرد صفات کی بھی حامل ہوتی ہیں جن سے وہ دیگراجناس و انواع میں شامل ہوسکتی ہیں یا پھر ان سے ممتاز ہوجاتی ہیں ۔یہ نظام امتیاز جو مخلوقات کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے نظام خلقت کی عظیم حکمت اور بقاي عالم کی بنیاد ہے ۔

مابہ الاشتراک یا قدر مشترک ایسی چیز ہے فردیا افراد اس میں شریک ہیں اور اس کی صحت کا معیار کثیر افراد پر ایک لفظ عام یا مفہوم کلی کا صادق آنا ہے جیسے انسان ،ناطق ،مسلمان ،ضاحک وغیرہ ۔

مابہ الافتراق و الامتیازحقیقی ،عرضی ،اور اعتباری صفات کو کہتے ہیں جن کے لحاظ سے افراد ایک دوسرے سے الگ اورامتیاز حاصل کرتے ہیں اور مستقل ہوجاتے ہیں ۔

بدیھی ہے کہ کسی فرد کی صفات بہت زیادہ اور قابل احصاء نہ ہوں لیکن شناخت کے موقع پر کسی فرد یا نوع کی ایسی صفات بیان کرنی چاہیں جن سے وہ دوسروں سے صاف الگ دکھائي دے مثال کے طور پر اگرگھر کا پتہ لکھنا ہے تو صوبہ شہر ضلع اور محلے کانام لکھنا ضروری ہے ۔

اگرآپ کسی کی شکل وشمایل پہچنوانا چاھتے ہیں تو آپ کو مورد نظر فرد کی صورت کے صفات ،رنگ ،آنکھوں ،ابرو ،قدوقامت اور دیگر صفات کا ذکر کرنا ہوگا اسی طرح اگر آپ کسی کا حسب و نسب بیان کررہے ہيں تو باپ ،ماں ،اجداد ،وجدات کے نام ذکر کرنے ہونگے اور اگر آپ عملی صفات معلوم کرنا چاھتےہیں تو اصلاحی اقدامات،جنگوں ،عزوات ،معاھدے ،کام کاج ، تاریخی مواقف ،سلوک و معاشرتی زندگي وغیرہ پر روشنی ڈالنی ہوگي اسی طرح آپ اگر علمی صفات معلوم کرنا چاھتےہیں تو علمی وفکری روش ،ایمان و عقیدہ اور سماجی و سیاسی نطریات سے آگہی حاصل کرنا ضروری ہے ۔اسی طرح اگر آپ اخلاقی اوصاف کا علم حاصل کرنا چاھتےہیں تو آپ کو اپنے مطلوبہ فرد کے ،شجاعت سخاوت عفو وبخشش ،تواصع ،صبر و شکیبائي ،عدل وانصاف کے ساتھ ساتھ دیگراخلاقی صفات کایعنی فضائل و رذائل کا جائزہ لینا پڑے گا ۔

آپ جس قدر ان صفات کو واضح طور پر بیان کریں گے آپ کا مورد نظر شخص اتنی ہی اچھی طرح سے پہچاناجاے گا ۔

حضرت مھدی موعود علیہ السلام کے صفات و نشانیوں کو پہچاننے کے بارے میں یہ کہنا ضروری ہے کہ آپ کو پہچاننا دولحاظ سے ضروری ہے ،ایک شرعی فریضے کے لحاظ سے کیونکہ اپنے زمانے کے امام کو پہچاننا سب پر واجب ہے کیونکہ روایت میں آیا ہےکہ من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میۃ الجاھلیہ ۔جو اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مرجاے وہ گویا جاھلیت کی موت مرا ہے ۔

دوسرا امر یہ ہے کہ انسان کے لئے حق و باطل کو پہچاننا اور ان میں فرق کرنا ضروری ہے ۔اسی طرح ان لوگوں کو بھی پہچاننا ضروری ہےجو مھدویت کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں ،کیونکہ ان جھوٹے افراد کو پہچان کر یہ یقین کیا جاسکتا ہےکہ وہ مھدی موعود کی صفات کے حامل نہیں ہیں ۔

احادیث و روایات میں حضرت مھدی علیہ السلام کی جوصفات ذکر کی گئي ہیں انسان اگر ان پر غور کرے اورانہیں مدنظر رکھے تو حضرت کو پہچاننے میں کوئي غلطی نہیں کرے گا اورلوگوں کے جھوٹے دعووں سے دھوکہ نہیں کھاے گا ۔اگر ہم یہ مشاھدہ کرتے ہیں کہ کچھ لوگ مھدویت کے جھوٹے دعویداروں کے ہاتھوں دھوکہ کھاگئے ہیں تو اسکی وجہ صرف یہ ہے یہ لوگ سچے مھدی موعود کی نشانیوں سے آگاہ نہیں ہیں اور غفلت کا شکارہوگئے ہيں ۔یا انہوں نے حضرت کے بعض عام صفات کو خاص صفات سمجھ لیا اور عام و خاص صفات کو پہچاننے میں غلطی کی ۔ایسا بھی ہوتا ہےکہ بعض لوگ مادی اور دنیوی اھداف ومقاصد کے تحت نیز سیاسی محرکات کی بناپر مھدویت کے جھوٹے دعووں کو دیکھتے دانستہ قبول کرلیتے ہیں اور ان کی ترویج کرتے ہيں ۔

ورنہ جواوصاف و نشانیاں حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے لئے بیان کی گئي ہیں آپ کے علاوہ کسی پر صادق نہيں آتیں (یعنی شیعوں کے بارھویں امام ،حضرت امام حسن عسکری کے فرزند علیھما السلام کے علاوہ کسی پر صادق نہيں آتیں )اور یہ نشانیاں مثل آفتاب روشن ہیں ان میں کسی کے غلطی کرنے کا امکان نہیں پایا جاتا ۔

بزرگ علماء اور دانشوروں نے جن کے ثقہ ہونے کے تصدیق علماء علم رجال و تراجم نے کی ہے انہوں نے معتبر ومستند کتابوں میں مھدی موعود کی بے شمار نشانیاں ذکر کی ہیں چونکہ اس مختصر مقالہ میں ان احادیث کا ذکر ممکن ہیں لھذا ہم اپنے احصاء ناقص کے مطابق صرف یہ ذکر کریں گے کہ مھدی موعود کی صفات کے بارے کتنی حدیثیں وارد ہوئي ہیں۔اس کی تفصیلات آپ کو ہماری کتاب منتخب الاثر میں مل جائيں گي ۔

 1۔ مھدی موعود خاندان اور ذریت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہیں ۔اس بارے میں 389 احادیث وارد ہوئي ہیں ۔

2۔ مھدی موعود رسول اللہ کے ہم نام اور ہم کنیت ہیں اس بارے میں 48 احادیث وارد ہوئي ہیں ۔

3۔ آپ کے خدوحال اور صورت کے بارے میں اکیس احادیث آئي ہیں ۔

4۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی اولاد سے ہیں ۔اس بارے میں دوسو چودہ حدیثیں وارد ہوئي ہيں ۔

5۔ مھدی موعود حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی اولاد سے ہیں ۔اس بارے میں ایک سو بانوے حدیثیں وارد ہوئي ہیں ۔

6۔ مھدی موعود حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیھماالسلام کی اولاد سے ہیں ۔اس بارے میں ایک سو سات احادیث وارد ہوئي ہیں ۔

7۔ مھدی موعود حضرت امام حسین علیہ السلام کی نویں پشت سے ہیں ۔اس بارے میں ایک سو اڑتالیس حدیثیں وارد ہوئي ہيں ۔

8۔ امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں ہیں ۔اس بارے میں 185 حدیثیں وارد ہوئي ہیں ۔

9۔ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی اولاد میں ہیں ۔ایک سو پچاسی حدیثیں ۔حضرت امام باقر علیہ السلام کی ساتویں پشت میں ہیں ۔ایک سو تین حدیثیں ۔

10۔ حضرت امام صادق علیہ السلا م کی چھٹی پشت میں ہیں ۔ننانوے حدیثیں ۔

11۔ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی پانچوین پشت میں ہیں ۔اٹھانوے حدیثیں ۔

12۔ حضرت امام رضاعلیہ السلام کی چوتھی پشت میں ہیں ۔پچانوے حدیثیں

عقیدہ مھدویت شیعہ فرقے سے مخصوص نہیں ہے 

السلام علی المھدی الذی وعد اللہ بہ الامم 

سلام ہو مھدی پر جن کے ظہور کا وعدہ خدانے مختلف قوموں سے کیا ہے ۔

بعض لوگ شاید یہ گمان کریں کہ ظہور حضرت مھدی منتظر علیہ السلام کا عقیدہ صرف شیعہ قوم رکھتی ہے اور مھدی موعود کے بارے میں صرف شیعہ کتب میں روایات واحادیث ملتی ہیں ایسا نہں ہے بلکہ اھل سنت کی کتب و جوامع حدیث میں بھی مھدی موعود کے بارے میں بے حد روایات ہیں بلکہ اھل سنت کے اکابر علماء ومحدثین نے مھدی موعود کے موضوع پر دسیوں بلکہ سیکڑوں کتابیں لکھی ہيں لھذا ہم یہاں پر اختصار سے مھدی موعود کےبارےمیں قرآن و روایات کی بشارتیں اوران اھل سنت حضرات کے نام ذکر کررہے ہیں جنہوں نے مھدی موعود کے بارے میں احادیث و روایات نقل کی ہیں اسی طرح ہم اھل سنت علماء ومحدثین کی کتابوں کا بھی ذکر کریں گۓ جنہوں نے اپنی کتابوں میں مھدی موعود کے بارےمیں روایات نقل کی ہیں ۔

قرآن مجید میں حضرت مھدی موعود علیہ السلام ۔

قرآن مجید کی بہت سی آیات کی حضرت مھدی موعود کے سلسلے میں تاویل و تفسیر کی گئي ہےبعض آيات حسب ذیل ہیں ۔

لیستخلفنھم فی الارض ۔۔۔۔۔۔۔

لیظہرہ علی الدین کلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس آیت کے ذیل میں ابن عباس ،سعید بن جبیر اور سدی نے کہا ہےکہ یہ وعدہ مھدی موعود کے ظہور سے پورا ہوگا ۔ 

ولقد کتبنا فی الزبور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الذین یومنون بالغیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مقاتل بن سلیمان اور ان کے اتباع اور تمام مفسرین نے کہا ہےکہ یہ آيتیں حضرت مھدی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئي ہیں ۔

قرآن اور حضرت امام مھدی علیہ السلام

حضرت مھدی علیہ السلام ، آخری زمانہ میں منجی عالم کے ظھور، صالحین کی حکومت اور ان پر کامیابی وکامرانی کے سلسلہ میں قرآن مجید میں بھت سی آیات کا تذکرہ ھواھے۔ جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے: ” ھم نے توریت کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب زبور میں لکھا ھے کہ آخرکار صالح افراداس زمین کے مالک ھوں گے۔“

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ”شائستہ افراد“ کے سلسلہ میں فرماتے ھیں: ”اس سے مراد آخری زمانے میںحضرت مھدی علیہ السلام کے اصحاب ھیں۔“

ھم قر آن میں یہ بھی پڑھتے ھیں: ھم چاھتے ھیں کہ مستضعفین کے ساتہ اچھا برتاؤ کریں، یعنی ان کو لوگوں کا پیشوا اور اس زمین کا مالک بنا دیں۔“

بسم الله الرحمٰن الرحیم انا انزلناہ فی لیلة القدر 

ھم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا، اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ھے؟ شب قدر ھزار مھینوں سے سے افضل ھے ۔ اس رات فرشتے اور روح القدس (جبرئیل) خدا کی اجازت سے تمام احکام اور تقدیروں کو لے کر نازل ھوتے ھیں یھاں تک سفیدی سحر نمودار ھو جائے۔ 

چنانچہ سو رھٴ قدر کی آیات سے واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ ھوتا ھے کہ ھرسال ایک شب ایسی آتی ھے کہ جو ھزار مھینوں سے افضل اوربھترھوتی ھے۔ وہ احادیث جو اس سورہ اور سورھٴ دخان کی ابتدائی آیات کی تفسیر کے سلسلہ میںوارد ھوئی ھیں ،سے یھی سمجہ میں آتا ھے کہ شب قدر میں فرشتے پورے ایک سال کے مقدرات کو ”زمانہ کے ولی مطلق “ کی خدمت میں لے کر آتے اور اس کے سامنے پیش کرتے ھیں۔ پیغمبر اسلام (ص) کے زمانہ میں فرشتوں کے نازل ھونے کی جگہ آپ(ص) کا گھر تھا۔ جب ھم معرفت قرآن کے سلسلہ میں اس نتیجہ تک پھونچتے ھیں کہ ”شب قدر“ ھر سال آتی ھے تو ھمیں اس بات کی طرف توجہ کرنی چاھئے کہ ”صاحب شب قدر“ کو بھی ھمیشہ موجود ھونا چاھئے ورنہ پھر فرشتے کس پر نازل ھوتے ھیں؟ چونکہ ”قرآن کریم “ قیامت تک ھے اور ”حجت “ ھے اسی طرح صاحب شب قدر کا وجود بھی حتمی ھے اور وہ بھی” حجت“ ھے۔ اس زمانہ میں حجت خدا ، حضرت ولی عصر علیہ السلام کے علاوہ اور کوئی نھیں ھے۔

چنانچہ حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ھیں: ”امام زمین پر خدا کاامین ھوتا ھے اور لوگوں کے درمیان حجت خدا ھوتاھے، آبادیوں اور سرزمینوںپر خدا کا خلیفہ ھوتاھے۔“

مشھور اسلامی ریاضی داں اور معروف فلسفی و متکلم خواجہ نصیر الدین طوسی فرماتے ھیں: ”خردمند افراد کے لئے یہ بات واضح ھے کہ لطف الٰھی کا انحصارامام (ع) کی تعیین میں ھے۔ امام کا وجود بجائے خود ایک لطف الٰھی ھے، امور کی انجام دھی اس کا دوسرا لطف ھے اور اس کی غیبت خود ھم سے مربوط ھے۔“

امام مہدی (عج) کا انقلابی اورسیاسی طرز عمل

 آپ (عج) کے دور حکومت میں ظالموں ، جابروں مستکبروں کی حکومتیں نیست ونابود ہوجائیں گی اورمنافقین کا نفوذ ختم ہوجائے گا ، مکہ مسلمانوں کا قبلہ اورآپ (عج) کی انقلابی تحریک کا مرکز ہوگا۔آپ (عج) رضاے الہی کی خاطر منافقین کا قلع قمع کریں گے ، ستمگروں اوران کے ہواخواہوں کو نیست ونابود کردیں گے اوراگر کسی نے ناحق کسی حق دار کا حق دانتوں تلے دبا بھی لیا ہو، پھر بھی آپ (عج) حق دار تک اس کے حق کو پہنچا کرہی دم لیں گے اوراس وقت یہود ونصاریٰ کی ساری دراندازیاں ختم ہوجائیں گی اوردنیا میں سوای اسلام وقرآن نہ تو کسی کی حکومت کا نام ونشان ہوگا نہ ہی کئی دوسری سیاست کا پتہ لتہ ہوگا۔اس طرح حضرت امام مہدی (عج) کی حکومت مشرق ومغرب میں پھیلتی جائے گی۔

 حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی مریم علیھاالسلام چرخ چہارم سے نازل ہوں گے اورآپ (عج) کی امامت میں نماز ادا فرمائیں گے ۔

جی ہاں ! جب بھی حضرت قیام فرمائیں گے فضائے عالم میں سوائے صدائے ” اشہد انّ لاالہ الّا اللّہ واشہد انّ محمداً رسول اللّہ “ کوئی اور آواز سنائی نہ دے گی۔

۶۔امام مہدی (عج) کے دور میں تعلیم وتربیت:

آپ (عج) کی حکومت میں تمام لوگوں کو علم وحکمت سے آشنا کیا جائے گا ، یہاں تک کہ گھر میں بیٹھی ہوئیں پردہ نشین خواتین بآسانی قرآن وسنت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کی روشنی میں فیصلے کریں گی ۔ یہ وہ زمانہ ہوگا جب انسانوں کی عقل کو صحیح جہت ملے گی اور لوگ پریشان خیالی سے نجات پاجائیں گے اور آپ (عج) تائید الہی سے لوگوں کی عقلیں کمال تک پہونچائیں گے یہاں تک ایک ، ایک فرد میں فہم ودرک کی صلاحیت ظاہر ہوجائے گی۔

 معاشرتی رفتار وکردار :

آپ علیہ السلام ظہور فرمانے کے بعد ظلم وستم کی جڑیں خشک کریں گے اور زمین کا چپہ چپہ عدل وانصاف سے بھر دیں گے یہاں تک کوئی گوشہ ، زمین کا ایسا نہ ہوگا جو آپ کے عدل وانصاف ، احسان واسلامی احکام کے فیض سے زندہ وتابندہ نہ ہو۔

یہی وہ زمانہ ہے جب لوگ فقر وتنگدستی سے نجات پائیں گے اور ہرایک شخص مالدار ہو جائے گا یہاں تک نباتات وحیوانات بھی آپ (عج) کے خوانِ کرم سے بہرہ مند ہوں گے اورآپ (عج) کے عدل وانصاف کا عالم یہ ہو گا کہ کسی پر کسی بھی وجہ سے کسی چیز میں بھی ذرہ برابر ستم نہ ہوگا ، اس وقت زمین کے ایک ایک چپے سے دولت وثروت سمٹ کر آپ(عج) کی خدمت اکھٹا ہوں گی پھر زمین کے خزانے اور اس کے دامن میں موجود چیزیں ، لوگوں سے مخاطب ہو کرکہیں گی ، آو ، اوریہ مال ودولت سمٹ لو، یہ وہی دہن ودولت ہے کہ تم نے جس کے حصول کے لئے رشتہ ناطے ٹورے ، خاندان والوں کے ساتھ نا روا سلوک انجام دئےے انہیں دکھ پہنچائے ناحق خون بہائے اورگناہوں کے مرتکب ہوئے۔

آپ (عج) کے زمانے میں محصولات بے حساب ہوں گے اور آپ(عج) لوگوں میں اس طرح اموال تقسیم فرمائیں گے کہ کسی کو کسی پر کوئی امتیاز حاصل نہ ہوگا۔


source : http://www.iqna.ir/ur/Imam_Mahdi_ur.php
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

15 رمضان امام مجتبى سبط اكبر(ع) کی ولادت با سعادت
قرآن شفاء ہے
اھل بیت علیھم السلام ، رشد و کمال کے لئے واسطہ
امام حسین علیہ السلام کی زیارت
معصوم دھم (حضرت امام علی رضاعلیہ السّلام)
قصیدہ در مدح امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام
حسنین کے فضائل صحیحین کی روشنی میں
تحقیق احادیث سلام پیغمبر اسلام
صحابہ شیعوں کی نظر میں
بغض اہلبيت (ع) كے اثرات

 
user comment