اردو
Sunday 20th of September 2020
  12
  0
  0

بشارت ظهور حضرت مهدی (عج)

صدر اسلام میں ”عقیده مهدویت“ كے مسلم اور رائج العقیدة هونے كی وجه سے سنی روایات بھی حضرت مهدی (عج) كے ظهور پر گواه هیں جو كه كتب حدیثی، رجالی، تاریخی وغیره میں نقل هوئی هے، قارئین كی آگهی كے لئے چند نمونے پیش كرتے هیں ۔

ظهور حضرت مهدی (عج) كے بارے میں حدیثیں:

1. احمد بن حنبل، حدثنا عبدالله، حدثنی ابی، حدثنا عبدالرزاق، ثنا جعفر عن المعلیٰ بن زیاد، ثنا العلاءبن بشیر، عن ابی الصدیق الناجی، عن ابی سعید الخدری رض قال: "قال رسول الله: ابشركم باالمهدی یبعث الله فی امتی علی اختلاف من الناس وزلازل، فیملاالارض قسطا وعدلاً كما ملئت ظلماً وجوراً یرض عنه ساكن السماء وساكن الارض"

امام احمد بن حنبل كهتے هیں، هم سے عبدالله نے حدیث بیان كی، ان سے ان كے والد نے حدیث بیان كی، ان سے عبدالرزاق نے حدیث بیان كی ان سے جعفر نے، ان سے معلی بن زیاد نے ان سے علاءبن بشیر نے حدیث بیان كی انهوں نے ابی صدیق ناجی سے، انهوں نے ابی سعید خدری سے كه انهوں نے كها: رسول الله نے فرمایا: میں تمهیں مهدی (عج) كی بشارت دیتا هوں كه وه میری امت میں اس وقت مبعوث هوں گے جب لوگوں میں اختلاف پھوٹ پڑے گا اورگمراهی عام هوجائے گی، پس وه زمین كو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جس طرح وه ظلم وجور سے بھر چكی هوگی، زمین وآسمان كے رهنے والے ان سے راضی هوں گے 1

2. ابی داوود، ذكر عبدالرز اق، اخبرنا معمر بن ابی هارون العبدی، عن معاویة بن قرة، عبن ابی الصدیق الناجی، عن ابی سعید الخدری قال: "ذكر رسول الله : بلایا تصیب هذه الامة لایجد ملجاءاً یلجاء الیه من الظلم، فبعث الله رجلاً من عترتی اهل بیتی فیملاء الارض قسطاً وعدلاً كما ملئت جوراً وظلماً یرضی عنه ساكن السماءوالارض. "

” ابی سعید خدری نے كها: رسول خدا نے فرمایا: میری امت پر ایسی مصیبتیں پڑیں گی كه انهیں ظلم سے نجات حاصل كرنے كے لئے كوئی جائے پناه حاصل نهیں هوگی ۔ اس وقت الله تعالیٰ میرے اهل بیت عترت مین سے ایك شخص كو مبعوث كرے گا جو زمین كو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وه ظلم وجور سے بھر چكی هوگی، زمین وآسمان كے رهنے والے ان سے راضی هوگے۔“ 2

3. عن ابی جعفر رضی الله عنه: "اذا تشبه الرّجال بالنساء ولنساءباالرجال وامات النّاس الصلواة، والتبعوا الشهوات واستخفوا بالسمائ وتظاهروا بالزناء وشیدً والنساء، واستحلو الكذب واتبعو الهویٰ وباعوالدّین بالدنیا، وقطعوا الارحام وكان الحلم ضعفاً والظلم فخراً، والامراء فجرة والوزراء كذبه، ولامناءخونة والاعوان الظلمة، والقرّاءفسقه وظهر الجور وكثر الطلاق وبداءالفجور وقبلت شهادة الزور وشرب الخمور وركبت الذكور بالذكور، واستغنت النساءباالنساء، واتخذ الفیءمغنماً والصدقه مغنما واتقیٰ الاشرار مخانة السنتهم، وخرج السفیانی من الشّام والیمانی من الیمان وخسف بالبیداءبین مكه ومدینه وقتل غلام من آل محمد بین الركن والمقام وصاح صالح من السماءبان الحق معه ومع اتباعه قال فاذا خرج السنده ظهره الی الكعبة واجتمع الیه ثلثماة وثلاثة عشر رجلاً من اتباعه فاوّل ماینطق به هذه الایة بقیة اللّه خیر لكم ان كنتم مومنین ثم یقول: انابقیة، وخلیفته، وحجته علیكم، فلا یسلم علیه احدالاّ قال َ السلام علیك یابقیة اللّه فی الارض، فاذا اجتمع عنده العقد عشرة الآف رجلٍ، فلا یبقی یهودیَّ ولانصرانی، ولااحد عن یعبد غیر اللّه الاّ آمن وصدقه وتكون الملك واحده ملة الاسلام، وكل ماكان فی الارض من معبود، سوی الله تعالیٰ تنزّل علیه ناراً من السماءفتحرقه۔"

ابی جعفر [امام محمد باقر(ع)] رضی الله عنه نے فرمایا: ” جب مرد عورتوں سی وضع قطع اختیار كریں اور عورتیں مردانی شكل وصورت بنائیں اور جب لوگ نماز كو ترك كریں خواهشات نفسانی كی اتباع كریں خون بهانا آسان سمجھنےلگیں اورلوگ علناً زنا كے مرتكب هونے لگیں مرد اپنی عورتوں كے مطیع هوجائیں جھوٹ اور رشوت حلال هوجائے خواهشات نفسانی كی پیروی كرنے لگیں دین كو دنیا كے مقابلے میں بیچنے لگیں، قطع رحم كرنے لگیں جب حلم كو ضعف كی علامت اور ظلم كو فخر سمجھا جانے لگے حاكمان وقت فاجر هوں گے ان كے وزرا خائن اور ظالم حكمرانوں كے مدد گار هوں قاریان قرآن فاسق هوں گے اورظلم وفساد ظاهر هوجائے اوركثرت سے طلاق هونے لگے فسق وفجور عام هوجائے اورجھوٹی گواهی قبول كرنے لگیں اور شراب پینے لگیں مرد، مرد پر سوار هوں گے اور عورتیں دوسری عورتوں كی وجه سے مردوں سے بے نیاز هو جائیں گیں، فئی اور صدقه[بیت المال] كو مال غنیمت سمجھا جانے لگے آدمی كی اس كے شر اوربد گوئی كے خوف سے اس كی عزت كی جائے ، شام سے سفیانی اور یمن سے یمانی خروج كریں ۔ اور آل محمد كے ایك جوان كو ركن یمانی اور مقام ابراهیم كے درمیان قتل كیا جائے اور آسمان سے ندا دینے والا ندا دے گا كه حق اس كے حضرت مهدی اور اس كی اتباع كرنے والوں كےساتھ هے پس اس وقت جب وه حضرت مهدی (عج) ظهور فرمائیں بیداءكی زمین، جو كه مكه اورمدینه كے درمیان گے خانه كعبه سے ٹیك لگائے هوں گے اور ارد گرد تین سو تیره (۳۱۳) افراد ان كے پیروكاروں میں سے جمع هوجائیں گے اور جس چیز كی سب سے پهلے تلاوت هوگی یه آیت هے۔” بقیة اللّه خیر لكم ان كنتم مومنین “ اس كے بعدآپ (عج) فرمائیں گے، میں بقیة الله اس كا خلیفه اورحجت خدا هوں پس كوئی سلام كرنے والا ایسا نه هوگا، مگر یه كه سب كهیں گے همارا سلام هو تم پر ای ذخیره خدا پس جب ان كے پاس دس هزار افراد ( انصار) جمع هوجائیں گے تو اس وقت [روی زمین پر]نه كوئی یهودی باقی رهے گا اور نه نصرانی اورنه كوئی ایسا شخص جو غیر خدا كی عبادت كرتا هومگر یه كه سب لوگ اس پرایمان لائیں گے اوراس كی تصدیق كریں گے (اس وقت)ایك هی حكومت هوگی اور وه ملت اسلامیه كی حكومت هے اور سوای الله تعالی كے زمین پر موجود تمام معبودوں [ یعنی هر وه شیءجس كی لوگ پرستش كرتے هیں] پر الله تعالی آسمان سے آگ نازل كرے گا اوروه آگ سب كو جلادے گی۔۔“ 3

4. ابن ماجه، حدثنا حرملة بن یحی المصری وابراهیم بن سعید الجوهر قالاثنا ابو صالح عبدالغفار بن داود والحیرانی ثنا ابن ابی الھیعه عن ابی زرعه عمرو بن جابر الحضرمی عن عبداللّه بن الحرث بن جزءالزبیدی قال: "قال رسول اللّه یخرج الناس من المشرق فیوطŻن للمهدی یعنی سلطانه" .

حافظ ابن ماجه متوفی ۳۷۲ھ لكھتے هیں، هم سے حرمله ابن یحیٰ مصری نے وابراهیم سعید جوهر نے حدیث بیان كی كه ان دونوں نے كها هم سے عبدالغفارابن داوود حیرانی نے حدیث بیان كی، ان سے ابن ابی لھیعه نے حدیث بیان كی ان سے ابی زرعه عمرو بن جابر حضرمی نے، ان سے عبدالله بن حرث بن جزءزبیدی نے كه انهوں نے كها كه رسول الله نے فرمایا: مشرق سے لوگوں كا ایك گروه قیام كرے گا وه مهدی یعنی اپنے سلطان كے لیے تیار هونگے۔“ 4

5. ابن ابی شیبه حدثنی مجاهد حدثنی فلان رجل من النّبی: "ان المهدی لایخرج حتی یقتل النفس الزكیه فاذا قتلت النفس الزكیه غضب علیهم من فی السماءومن فی الارض فاتی الناس المهدی فزقّوه كما تزفّ العروس الی زوجها لیلة عِرسِها و هو یملاء الارض قسطاً وعدلاً."

ابن ابی شیبه كهتے هیں هم سے مجاهد نے حدیث بیان كی ، ان سے ایك صحابی نے حدیث بیان كی، كه پیغمبر اكرم نے فرمایا نفس زكیه كے قتل كے بعد خلیفه خدا مهدی كا ظهور هوگا جس وقت نفس زكیه قتل كردئے جائیں گے زمین وآسمان والے ان كے قاتلین پر غضبناك هوں گے اس كے بعد لوگ مهدی كے پاس آئیں گے اورانهیں شوق وشتیاق سے دلهن كی طرح اراسته وپیراسته كریں گے اوروه اس وقت زمین كو عدل وانصاف سے بھر دیں ( ان كے زمانے میں ) زمین اپنی پیداوار بڑھادے گی اور آسمان سے پانی خوب برسے گااور ان كے دور خلافت میں امت میں اس قدر خوشحال هوگی كه ایسی خوش حالی كه اس سے پهلے لوگوں كو كبھی نصیب نه هوئی هوگی 5

6. الصدیق الناجی عن ابی سعید الخدری قال، "قال النّبی : ینزل بامتی فی آخر الزمان بلاء شدید من سلطان فهم لم سمع بلآءاشد منه حتّی تفیق عنهم الارض الرحبه وحتی یملاءالارض جوراً وظلماً لایجد المومن ملجاءاً یلتجی الیه من الظّلم فیبعث اللّه عز وجل من عترتی فیملاء الارض قسطاً وعدلاً كما ملئت ظلماً وجوراً یرضی عنه ساكن السماء وساكن الارض لاتدخر الارض من بذرھا شیئاً الّا صبّه اللّه علیهم مدراراً یعیش فیهم سبع سنین او ثمان او تسع تتمنّٰی الاحیاءالاموات ممّا صنع اللّه ۔"

رسول الله نے فرمایا: ” آخری زمانے میں میری امت كے سرپر ان كے پادشاه كی جانب سے ایسی مصیبتیں نازل هوں گے اس سے پهلے كسی نے اس كے بارے میں نه سنا هوگا اور میری امت پر زمین اپنی وسعت كے باوجود تنگ هوجائے گی زمین ظلم وجور سے بھر جائے گی، مومنین كا كوئی فریاد رس اور پناه دینے والا نه هوگا، اس وقت خدا وند عالم میرے اهل بیت میں سے ایك شخص كو بھیجے گا جو كه زمین كو اسی طرح عدل وانصاف سے پر كرے گا جس طرح وه ظلم وجور سے پرهوچكی هوگی ۔ آسمان وزمین كے رهنے والے ان سے راضی هوں گے، اس كے لئے زمین اپنے خزانے اگل دے گی اور آسمان سے مسلسل بارشیں هوںگی سات یا آٹھ یانو سال لوگوں

كے درمیان زندگی بسر كرے گا اورزمین میں رهنے والوں پر [ آپ كے دور میں] الله تعالیٰ كی طرفسے جورحمتیں نازل هوں گی [ اسے دیكھ كر] جو زنده هیں وه مردوں كے زنده هونے كی آرزو كریں گے، اوریه حدیث سند كے لحاظ سے صحیح هے ۔ 6

7. حافظ ترمذی حدثنا عثمان بن ابی شیبه، ثنا الفضل بن وكین، ثنا فطر، عن القاسم بن ابی بزه عن ابی طفیل عن علی رضی الله عنه، "عن النّبی: قال لولم یبق من الدهر الاّ یوم یبعث الله رجلاً من اهل بیتی یملائها عدلاً كما ملئت جوراً۔"

حافظ ترمزی، هم سے عثمان بن ابی شیبه نے حدیث بیان كی، ان سے فضل بن وكین نے حدیث بیان كی، ان سے فطر نے حدیث بیان كی ان سے قاسم ابن ابی بزه نے، ان سے ابی طفیل نے انهوں نے علی ابن طالب سے انهوں نے پیغمبر اكرم سے كه آنحضرت نے فرمایا: اس دنیا كی عمر اگرچه ایك دن هی كیوں نه ره گئی هو، پر بھی الله تعالی اس دن كو طولانی كردے گا اوراس میں میرے اهل بیت میں سے ایك شخص كو مبعوث فرمائے گا جو زمین كو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وه ظلم وجور سے بھر چكی هوگی۔ 7

8. ترمذی، حدثنا عبیدبن اسباط بن محمد القرشی، اخبرنا ابی، اخبرنا سفیان الثوری عن عاصم بن بھدلة عن زرِّ، عن عبدالله قال: "قال رسول الله : لاتذهب الدنیا حتی یملك العرب رجل من اهل بیتی یواطی اسمه اسمی" وھذا حدیث حسن صحیح۔

ترمذی، هم سے عبیدبن اسباط بن محمد قرشی نے حدیث بیان كی، ان كو ان كے والد نے خبردی ان كی سفیان ثوری نے خبردی، انهوں نے عاصم بن بدله سے، انهوں نے رز [بن جیش] سے انهوں نے عبدالله [ بن مسعود] سے كه انهوں نے كها: رسول خدا نے فرمایا: دنیا اس وقت تك ختم نهیں هوگی جب تك میراهم نام ایك شخص میرے اهل بیت میں سے پورے عرب پر حكومت نه كرے ۔

اور اس باب میں علی، ابوسعید ام سلمه اور ابوهریره سے بھی احادیث منقول هیں اوریه حدیث حسن صحیح هے ۔ 8

9. احمد بن حنبل، عن رزّ، عن عبداللّه، "عن النّبی: لاتقوم الساعة حتی یلی رجل من اهل بیتی، یواطئی السمه اسمی"

احمد رز نے عبدالله سے، انهوں نے پیغمبر اكرم كه حضور نے فرمایا: اس وقت تك قیامت برپانه هوگی جب تك میرے اهل بیت میں سے میر ا هم نام ایك شخص ظهور نه كرے 9

10. ”كنجی شافعی، عن ابن عباس انّه قال، "قال رسول الله كیف تهلك امة انا فی اولّها وعیسیٰ فی آخر ها والمهدی فی وسطها۔"

ابن عباس رسول الله سے ناقل هیں كه آپ نے فرمایا: وه امت كیوں كر هلاك هوسكتی هے جس كا اول میں، آخر میں عیسیٰ اور وسط میں ”مهدی“ هیں 10

نوٹ: اس حدیث سے ممكن هے، یه توهم پیدا هو كه حضرت امام مهدی كے بعد حضرت عیسیٰ زنده رهیں گے اورامت اسلامی كی قیادت كریں گے، لیكن یه توهم صحیح نهیں هے، كیوں كه دوسری احادیث میں وارد هوا هے ” لاخیر فی العیش بعده “ (امام مهدی) ولاخیر فی الحیات بعده “ ان كے[مهدی] بعد زندگانی میں كوئی بھلائی نهیں اور

نه هی ان كے بعد زنده رهنے میں كوئی بھلائی هے ۔ اس قسم كی احادیث اس بات پر دلالت كرتیں هیں كه حضرت عیسیٰ(ع) حضرت مهدی (عج) سے پهلے رحلت فرمائیں گے، ورنه، جس قوم میں عیسیٰ بن مریم (ع) جیسا نبی اور ولی خدا موجود هو ”لاخیر فی الحیات بعده“ معنی نهیں ركھتا، ثانیاً : لازم آتا هے كه مخلوق الهیٰ بغیر امام اور حجت خدا كے باقی رهے یه صحیح نهیں هے 11

1. مسند احمد بن حنبل، ج۶، ص ۰۳، باب اشراط الساعه؛ عقد الدرر، باب۷، ص ۷۰۲

2. سنن ابی داوود، كتاب المهدی، ج۴، ص ۷۰۱ ؛ البیان فی اخبار صاحب الزمان ( كنجی شافعی) باب ۹، ص ۴۰۱

3. نورالابصار، مومن شلنجی، باب الثانی، ص ۵۵۱

4. سنن ابن ماجه، ابواب الفتن باب خروج المهدی ص ۸۶۳۱، ج۲ومنتخب كنزالعمال برحاشیه مسند احمد ابن حنبل، ج۶، ص۹۲)

5. المصنف ابن ابی شیبه، متوفی ۳۵۲ ، ص ۸۹۱، الحادی للقنادی، سیوطی، باب الادب والرتق، ج۲، باب اخبار المهدی

6. مستدرك الحاكم، ج۴، ص ۲۱۵كتاب الفتی و الملاحم ”عن ابی سعید الخدری

7. سنن ترمذی، ابواب الفتن، باب ماجاءفی المهدی، ج۴، ص ۳۴؛ ایضاً جامع الاصول من احادیث الرسول، ج۱۱، حدیث ۱۱۸۷؛ البیان فی اخبار صاحب الزمان باب اول، ذكر خروج المهدی فی آخر الزمان، ص ۶۸ ؛ الصواعق المحرقه، الایة الثانیة عشر، ص ۳۶۱

8. سنن ترمذی، ابواب الفتن، باب ماجاءفی المهدی، ج۱، ص ۲۰۸

9. مسند احمد، باب اشراط الساعة، ج۵، ص30

10. البیان، ص ۶۲۱ ؛ كنز العمال، ج۴۱ ص ۶۲۲

11. البیان فی اخبار صاحب الزمان باب العاشر، ذكر كرم المهدی، ص 210


source : http://www.sadeqin.com/View/Articles/ArticleView.aspx?ArticleID=511&LanguageID=6
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

اہل بیت علیہم السلام کی دعائوں میں حبّ خدا
آیت تطہیر کا نزول بیت ام سلمہ (ع) میں
مشخصات امام زین العابدین علیہ السلام
مولا علی علیہ السلام
امام سجاد(ع) واقعہ کربلا ميں
ایک ابدی معجزہ‏ علی (ع) کی ولادت کے لئے دیوار کعبہ کی ...
زیارت اربعین (چھلم)
خصائص علوم اہلبیت (ع)
کم از کم معرفت امام زمان عج
رسول خدا (ص) كے آداب

 
user comment