اردو
Saturday 26th of September 2020
  811
  0
  0

حالیہ سازشوں کا اصل نشانہ ولایت فقیہ تھی

آیت اللہ مصباح یزدی نے حالیہ فتنی اور واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ان تمام سازشوں کے تیروں کا نشانہ ولایت فقیہ تھی۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ ـ بحوالہ تعلقات عامہ دفتر امام خمینی تحقیقی و تعلیمی فاؤنڈیشن ـ کے مطابق مذکورہ فاؤنڈیشن کے سربراہ حضرت آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی نے اسلامی مؤتلفہ پارٹی کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اسلام کے صدر اول سے اب تک ایسے بہت سے واقعات رونما ہوئے ہیں جنہیں فتنہ کہا گیا ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں مسجد ضرار کا واقعہ، سقیفہ کا واقعہ، جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان کے واقعات ان ہی واقعات میں سے تھے۔

انھوں نے انقلاب اسلامی کے رہبر معظم کی تأکیدات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے "بصیرت" کو ہی فتنوں کے مقابلے کے لئے ضروری ہتھیار قرار دیا اور کہا: فتنوں کے دوران بصیرت کا ہتھیار ایک گران بہاء گوہر ہے جس کی مقدار مختلف افراد میں مختلف ہوتی ہے اور خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ نظام اسلامی کے مخروط کی چوٹی پر رہبر انقلاب اسلامی کھڑے ہیں جن کی بصیرت، بصیرت کے تمام مدعیوں سے کہیں زیادہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ بصیرت کی اہمیت پر سب متفق ہیں لیکن جو لوگ کسی بھی صورت میں رہبر انقلاب اسلامی مد مقابل کھڑے ہوگئے ہیں ان کا دعوی ہے کہ بصیرت ان کے پاس ہے اور ان کا دعوی ہے کہ وہ بہت ذہین، معاملہ فہم اور سیاسی و عملی تجربے سے لیس ہیں اور ان کا عملی و ثقافتی مراکز کے ساتھ قریبی تعلق ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس بات کو کیونکر سمجھا جائے گا کہ کون با بصیرت ہے؟

خبرگان قیادت کونسل کے اس رکن نے بصیرت کے مختلف پہلو بیان کرتے ہوئے قرآن کریم کا حوالہ دیا اور سطحی سوچ سے پرہیز پر تأکید کرتے ہوئے کہا:  بصیرت کا بنیادی ستون تفکر ہے اور انسان کو مختلف مسائل کے بارے میں گہری بصیرت رکھنی چاہئے کیونکہ اسلامی نظام کے مد مقابل ایسے فتنہ انگیزعناصر کھڑے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی اصل خواہشات کو تہہ در تہہ مکاریوں میں چهپارکھا ہے اور انسانوں کو فریب دے کر اپنے اہداف و مقاصد کے حصول کی کوشش کررہے ہیں، ہمارے مقابل ایسے مکار افراد کی موجودگی میں یقینا ہمیں زیادہ سے زیادہ محتاط ہونا چاہئے اور واقعات کی تہہ تک پہنچنا چاہئے اور یہ کام بصیرت اور گہرے تفکر کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ 

انھوں نے کہا: گوکہ تفکر بصیرت کا لازمہ ہے مگر محض تفکر بھی کافی نہیں ہے؛ کیونکہ فریق مقابل بھی ـ جو مذموم ترین سازشوں کی منصوبہ بندی کررہا ہے ـ تفکر کی قوت سے لیس ہے مگر یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ایسے افراد با بصیرت ہیں؛ بلکہ اس اوزار سے صحیح فائدہ اٹھانا بصیرت کا دوسرا اہم عنصر ہے۔

آیت اللہ مصباح نے کہا: قرآن نے صحیح سوچ و فکر رکھنے کے لئے ہمیں جو سبق سکھایا ہے وہ تمام شعبوں اور تمام میدانوں میں مفید اور کارآمد ہے اور وہ معلومات اور یقینیات سے استفادہ کرکے مجہولات اور مشکوکات کو حل کرنے کی روش ہے۔ جیسا کہ ریاضی کے مسائل حل کرنے کے لئے معلومات سے مجہولات تک پہنچا جاتا ہے؛ سماجی مسائل اور معاشرتی واقعات میں بھی ایسا ہی رویہ اپنانا چاہئے۔ 

انھوں نے کہا: حالیہ واقعات میں ہر منصف انسان ان واقعات اور فتنہ گروں کے اقدامات کا تجزیہ کرکے بلوائیوں اور ان کی پشت پناہ قوتوں کے اقدامات میں ایک مشترکہ نقطے تک پہنچتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس پوری یلغار اور حملوں کی تیز دھار ولایت فقیہ کو نشانہ بنائے ہوئے تھی اور دشمن ولایت فقیہ کو کمزور کرنا چاہتا تھا۔ 

ابتدائی ایام سے ہی بعض لوگ گارڈین کونسل (شورائے نگہبان) کی نگرانی کی کیفیت میں تبدیلی اور صدر کے اختیارات میں اضافے وغیرہ جیسی باتیں کیا کرتے تھے تا کہ ولایت فقیہ کا مرتبہ کمزور کیا جائے؛ آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ مختلف ذرائع ابلاغ میں دشمنوں کی تشہیراتی مہم روح اسلام اور ولایت فقیہ کے منصب کو کمزور کرنے پر مرکوز ہے۔ 

آیت اللہ مصباح یزدی نے امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی غیرمعمولی بصیرت اور ذکاوت و ذہانت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امام راحل رحمۃاللہ علیہ کے زمانے میں بھی چونکہ دشمن کو اسلام سے زبردست تھپڑ کھانا پڑا تھا ولایت فقیہ اس نظام کی اسلامیت کی علامت کے طور پر دشمن کے حملوں کے نشانے پر تھی اور اس کی یلغار کا ہدف یہی تھا کہ ولایت فقیہ کے اصول کو کمزور اور نیست و نابود کردے۔ امام رحمۃاللہ علیہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ امام کی ذات کے خلاف تشہیراتی مہم اتنی وسیع نہ تھی جتنی کہ ولایت فقیہ کے اصول کے خلاف تھی اور امام رحمۃاللہ علیہ نے کئی بار اس سلسلے میں خبردار کیا تھا۔

انھوں نے رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی بصیرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: گویا امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی روح رہبرمعظم کے جسم میں پھونکی گئی ہے اور رہبر معظم بھی امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی مانند پوری شجاعت کے ساتھ اپنے الہی فرائض پر عمل کررہے ہیں۔ 

حوزہ علمیہ قم کے سینئر استاد اخلاق نے کہا: اگر پوری دنیا کی دولت و ثروت ولی فقیہ کی خدمت میں پیش کی جائے اور ان سے کہا جائے کہ اپنے ہدف سے ہاتھ کھینچ لیں وہ ہرگز دنیا کی دولت و ثروت کے عوض اپنے ہدف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے یا اگر سب اٹھ کر اسلام اور اسلامی معاشرے کے مصالح و مفادات کی مخالفت کریں تو وہ ہرگز الہی مقاصد و اہداف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے جیسا کہ امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے زمانے میں ایسے مسائل بھی تھے جن میں کوئی بھی امام رحمۃاللہ علیہ کی سوچ سے متفق نہ تھا مگر انھوں نے جو درست تشخیص دیا اسی پر عمل کیا اور بعد میں سب نے دیکھا کہ ان کی رائے درست تھی۔

انھوں نے کہا: دشمن کسی بھی منصب پر فائز کسی بھی شخص کو لالچ دلا سکتا ہے یا ڈرا دھمکا سکتا ہے مگر یہ صرف ولی فقیہ کی ذات ہے جس کو نہ تو لالچ دلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی انہیں ڈرایا دھمکایا جاسکتا ہے کیونکہ اس کا منصب ایک الہی منصب ہے جس کی معزولی یا تقرری کا اختیار کسی کے پاس بھی نہیں ہے کیونکہ اگر ولی فقیہ اسلامی احکام کی خلاف ورزی کریں تو وہ خود بخود معزول ہوجاتے ہیں؛ حتی مجلس خبرگان کی طرف سے ولی فقیہ کی معزولی کا اعلان بھی انہیں معزول کرنے کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ مجلس خبرگان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ ولی فقیہ اسلامی احکام کی خلاف ورزی کی بنا پر ولی فقیہ نہیں رہے ہیں۔ یعنی مجلس خبرگان معزول نہیں کرتی  بلکہ معزول ہونے کااعلان کرتی ہے۔ چنانچہ یہ ایک الہی منصب اور الہی ذمہ داری ہے اور اس منصب کے حامل کو لالچ دینا یا اسے ڈرانا دھمکانا بے کار اور بےمعنی ہے۔ 

آیت اللہ مصباح یزدی نے کہا: چونکہ اسلام کفر میں تبدیل نہیں ہوتا اور دوسری طرف سے رہبر کو بھی منحرف نہیں کیا جاسکتا اور ولی فقیہ اپنی جان کی قربانی دینے تک کے مرحلے تک اسلام کا دفاع کرتے ہیں لہذا دشمن اپنی پوری قوت، تمام کے تمام اوزاروں اور تمام کے تمام ماہرین کو لے کر میدان میں اترا اور مقصد رہبر کے منصب کو محدود کرنا تھا کیونکہ ایران دشمن کی آنکھوں میں کانٹے کی طرخ کھٹک رہا ہے اور دنیا کے مغرب و مشرق نے اعتراف کیا ہے کہ جب تک رہبر معظم ہیں ایران کو اس کے راستے سے منحرف نہیں کیا جاسکتا۔ 

انھوں نے بصیرت کے حصول اور رہبر معظم کی حمایت کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا: اگر اعلی مناصب پر براجماں بعض افراد نے مقام و منصب کی محبت میں ایسے فتنے کھڑے کردیئے تو اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ نچلی سطح کے بعض افراد بے بصیرتی کی وجہ سے ان حوادث میں مبتلا ہوگئے۔ 

آیت اللہ مصباح یزدی نے بعض واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بعض اوقات باطل اور اہل باطل کے محاذ میں حق کی بعض نشانیاں نظر آتی ہیں تو بعض اوقات حق و حقیقت کے محاذ میں بھی بعض کمزور نقاط سامنے آتے ہیں اور اصولی طور فتنے کا مفہوم یہی ہے کہ باطل حق کے بھیس میں ظاہر ہوتا ہے مگر بابصیرت فرد کو غور و فکر کے ساتھ حق کو باطل سے تمیز دینی چاہئے اوراس کے ظاہری بھیس سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔ 

آيت اللہ مصباح يزدي نے اپنی تقریر کے آخر میں حقیقت یابی (حقیقت پانے) کے لئے اندرونی محرکات کی موجودگی کو بصیرت کے حصول کا ایک اہم راستھ قرار دیا اور کہا: کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کے پاس تفکر کی قوت موجود ہوتی ہے اور حق کو باطل سے تمیز بھی دے سکتا ہے مگر واقعات و حوادث کا مقابلہ کرتے ہوئے کبھی انسان اپنی دلی خواہش کی اساس پر مسائل کے بارے میں فیصلہ دیتا ہے اور پھر اپنے فیصلے کی توجیہ کرتا ہے یا پھر بعض تحفظات اور ذاتی دوستیوں اور تکلفات کی بنا پر کوئی فیصلہ دیتا ہے ان دو صورتوں میں بھی یہ شخص با بصیرت نہیں کہلا سکتا اور یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ گو کہ قوت تفکر رکھتے ہیں اور ذہین و ہوشیار بھی ہیں اور حق و باطل کے درمیان فرق بھی کرسکتے ہیں مگر چونکہ ان کے باطن میں حقیقت ڈھونڈنے کے لئے کوئی محرک موجود نہیں ہے لہذا یہ لوگ بھی بصیرت سے عاری ہیں معاویہ جیسے افراد جو اپنی ذہانت کو شیطان کے راستے میں استعمال کرتے ہیں۔


source : http://www.abna.ir/data.asp?lang=6&Id=177808
  811
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

تیونس میں برقی مصلیٰ ایجاد ہوا
سعودی عرب کے علماء نے اسرائیل کے خلاف جہاد کا فتویٰ ...
ایرانی و امارات کی پارلیمانوں نے عالم اسلام کی اتحاد ...
كويت میں اسلامی انقلاب ايران كاميابی كی ۳۱ویں سالگرہ ...
تصویر/ ملکہ سبا اور سلیمان نبی (ع) کی زوجہ سےمنسوب محل ...
ایک سعودی شیعہ راہنما کی رہائی
’’عصر حاضر میں تکفیریت کے خطرات‘‘ کے زیر عنوان قم ...
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی اعلی اہلکار کا دورہ ...
عراق کے صوبے نجف اشرف میں دہشت گردانہ حملے
كويت میں ايرانی ماہرين آرٹ كی شركت سے اسلامی ...

 
user comment