اردو
Saturday 19th of June 2021
41
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

مقدس مقامات کی توہین؛ سعودی حکام نے غار حرا میں بندر چھوڑ دیئے

سعودی حکام نے مقدس مقامات کے تقدس اور سنن نبوی اور دینی آداب مٹانے کی غرض سے غار حرا کے ارد گرد پالتو بندر چھوڑ کر زائرین کو آزار و اذیت پہنچانے کا نیا سلسلہ شروع کررکھا ہے.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی نے فارس نیوز کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ سعودی حکام جو خادمین حرمین شریفین «مسجد رسول‌اللہ اور حرم امن الہي» کہلوانے پر بضد رہتے ہیں کچھ عرصے سے ان آداب و اور سنن کو مٹانے کے درپے ہیں جو اہل تشیع اور اہل تسنن کے ہاں یکسان طور پر قابل احترام ہیں. اللہ کی طرف سے پہلی وحی کے نزول کے مقدس مقام اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عبادتگاہ ـ غار حرا ـ  میں سعودی حکام کے مشکوک اقدامات ان کی تخریبی اور توہین آمیز ذہنیت کی واضح دلیل ہے.

اس رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے وہابی مکتب کا اتباع کرتے ہوئے آج سے چند برس قبل غار حرا کے ارد گرد کئی پالتو بندر چھوڑنے کی ہدایات جاری کی تھیں اور آج ان بندروں نے تولید نسل کی ہوئی ہے اور ان کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے. ان بندروں کی وجہ سے اس مقدس مقام کا چہرہ بھونڈی صورت اختیار کرگیا ہے اور تو اور، سعودی حکومت کے پالتو بندر زائرین کا سامان تک چوری کرکے لے جاتے ہیں [البتہ معلوم نہیں کہ بندر چوری کا یہ سامان کس کے پاس پہنچا دیتے ہیں]۔

دریں اثناء سعودی حکام نے مختلف شہروں میں عظیم ترین مارکیٹیں بنا رکھی ہیں اور زائرین کو ان پر مغربی ممالک کی مارکیٹوں کا گمان گذرتا ہے اور سوال یہ ہے کہ سعودیوں نے اس مقدس مقام پر زائرین کی سہولت کے لئے آج تک کیوں کوئی بندوبست نہیں کیا؟ انہوں نے وحی کے نزول کے اس مقام کی حرمت و تقدس کی حفاظت کے لئے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا؟ البتہ جب زائرین اس مقام پر بندروں کے گروہ دیکھ لیتے ہیں تو انہیں ان سوالات کا جواب مل ہی جاتا ہے اور وہ یہ کہ سعودی حکام کو شاید وحی کے نزول ہی سے چھڑ ہے اور وہ وحی کے آثار مٹانے پر تلے ہوئے ہیں.

دوسری طرف سے دنیا کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے زائرین کے ساتھ سعودی اہل کاروں کا طرز سلوک دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہابیت کے دامن میں زائرین کی توہین کی سوا کوئی بھی سبق سیکھنے کو نہیں ملتا.

سعودی حکام نے مقدس مقامات کے تقدس اور سنن نبوی اور دینی آداب مٹانے کی غرض سے غار حرا کے ارد گرد پالتو بندر چھوڑ کر زائرین کو آزار و اذیت پہنچانے کا نیا سلسلہ شروع کررکھا ہے.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی نے فارس نیوز کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ سعودی حکام جو خادمین حرمین شریفین «مسجد رسول‌اللہ اور حرم امن الہي» کہلوانے پر بضد رہتے ہیں کچھ عرصے سے ان آداب و اور سنن کو مٹانے کے درپے ہیں جو اہل تشیع اور اہل تسنن کے ہاں یکسان طور پر قابل احترام ہیں. اللہ کی طرف سے پہلی وحی کے نزول کے مقدس مقام اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عبادتگاہ ـ غار حرا ـ  میں سعودی حکام کے مشکوک اقدامات ان کی تخریبی اور توہین آمیز ذہنیت کی واضح دلیل ہے.

اس رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے وہابی مکتب کا اتباع کرتے ہوئے آج سے چند برس قبل غار حرا کے ارد گرد کئی پالتو بندر چھوڑنے کی ہدایات جاری کی تھیں اور آج ان بندروں نے تولید نسل کی ہوئی ہے اور ان کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے. ان بندروں کی وجہ سے اس مقدس مقام کا چہرہ بھونڈی صورت اختیار کرگیا ہے اور تو اور، سعودی حکومت کے پالتو بندر زائرین کا سامان تک چوری کرکے لے جاتے ہیں [البتہ معلوم نہیں کہ بندر چوری کا یہ سامان کس کے پاس پہنچا دیتے ہیں]۔

دریں اثناء سعودی حکام نے مختلف شہروں میں عظیم ترین مارکیٹیں بنا رکھی ہیں اور زائرین کو ان پر مغربی ممالک کی مارکیٹوں کا گمان گذرتا ہے اور سوال یہ ہے کہ سعودیوں نے اس مقدس مقام پر زائرین کی سہولت کے لئے آج تک کیوں کوئی بندوبست نہیں کیا؟ انہوں نے وحی کے نزول کے اس مقام کی حرمت و تقدس کی حفاظت کے لئے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا؟ البتہ جب زائرین اس مقام پر بندروں کے گروہ دیکھ لیتے ہیں تو انہیں ان سوالات کا جواب مل ہی جاتا ہے اور وہ یہ کہ سعودی حکام کو شاید وحی کے نزول ہی سے چھڑ ہے اور وہ وحی کے آثار مٹانے پر تلے ہوئے ہیں.

دوسری طرف سے دنیا کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے زائرین کے ساتھ سعودی اہل کاروں کا طرز سلوک دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہابیت کے دامن میں زائرین کی توہین کی سوا کوئی بھی سبق سیکھنے کو نہیں ملتا.


source : http://www.abna.ir/data.asp?lang=6&Id=163249
41
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

یمنی فوج اور عوامی رضاکروں نے سعودی عرب کے چار فوجی ...
مولوی اسحاق مدنی: اس وقت جو کچھ اسلام ہمارے پاس ہے حضرت ...
پاکستان کی نئی حکومت: امیدیں اور مسائل
عراق کی تازہ ترین صورت حال/ مظاہرین پارلیمنٹ ہاؤس سے ...
مسجد اقصٰی كے دروازے بند كرنے پر الاقصیٰ فاؤنڈيشن كا ...
اسلامی بیداری، سامراجی طاقتوں کے لئے خطرے کی علامت، ...
بوکوحرام کا افریقی ممالک کے خلاف اعلان جنگ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں توہین ...
کشمیر میں عالمی یوم القدس پر احتجاجی ریلیاں
جنت البقیع کے مسمار شدہ مزار کی پرانی تصویر کی رونمائی

 
user comment