اردو
Tuesday 14th of July 2020
  791
  0
  0

ہم تھکنے والے نہیں: بحری بیڑہ آزادی ۲ غزہ کے لۓ آمادہ حرکت

اسرائیلی بحری قذاقی کا نشانہ بننے والے جہاز میں دنیا بھر کے 40 ممالک کے 750 مندوبین شریک تھے جبکہ 10 لاکھ ٹن امدادی سامان لے جا رہے تھے.

یورپ میں غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے قائم" یورپی مہم برائے انسداد ناکہ بندی" نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے امدادی قافلے کو نشانہ بنائے جانےکے بعد دوسرے امدادی بیڑے"ازادی 2 " کو جلد غزہ کے لیے روانہ کیا جائے گا. اس کے لیے مختلف امدادی جہازوں کی تیاری کی کوششیں کی جا رہیں جبکہ اس  میں تین جہازوں کے امدادی سامان کی تیاری یورپی مہم نے کر رکھی ہے۔

غزہ کے امدادی  اداروں کے "الائنس" میں شامل  یورپی مہم کے چیئرمین ڈاکٹرعرفات ماضی نے اپنے ایک بیان میں  کہا ہے کہ غزہ کے لیے نئے امدادی بیڑے کو لانچ کرنے کے لیے مختلف ریلیف  اداروں سے بڑے پیمانے پر رابطے ہوئے ہیں. امدادی الائنس میں شامل تمام ادارے نئے بحری بیڑے" آزادی 2"  کے لیے  پہلے سے بڑھ چڑھ کر امداد فراہم کرنے اور امدادی سامان کے کئی جہاز فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں. نئے بحری بیڑے میں اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بننے والے قافلے سے زیادہ عالمی رضاکاروں کو شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے سمندر میں اسرآئیلی بحری قذاقی کا نشانہ بننے والے جہاز میں دنیا بھر کے 40 ممالک کے 750 مندوبین شریک تھے جبکہ 10 لاکھ ٹن امدادی سامان لے جا رہے تھے. جبکہ نئے بحری جہاز میں چالیس سے زیادہ ممالک کے ہزاروں کی تعداد میں مندوبین کو غزہ قافلے کے ہمراہ لایا جائے گا۔

ڈاکٹرعرفات ماضی کا کہنا تھا کہ یورپی مہم تنہا تین بحری جہازوں کے کے لیے امدادی سامان کی فراہمی کی  صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے عالمی پانی میں اسرائیل کی امدادی قافلے پر دہشت گردی کے بعد پورے عالم اسلام ، عرب ممالک اور دنیا بھر میں  محصورین غزہ کے لیے امداد کی فراہمی کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسرائیل نے ایک امدادی جہاز پرشب خون مار کراسے قبضے میں لیا ہے. دنیا بھر سے اب مزید کئی جہاز پہلے سے کئی گنا سامان لے کر غزہ جارہے ہیں۔

عرفات ماضی نے کہا کہ نئے بحری بیڑے کی تیاری کے لیے جنگی بنیادوں پر کام شروع کردیا گیا ہے. آئندہ چند ہفتوں کےدوران یہ امدادی بیڑہ غزہ کے لیے روانہ کردیا جائے گا۔


source : http://www.abna.ir/data.asp?lang=6&Id=190519
  791
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article


 
user comment