اردو
Sunday 12th of July 2020
  736
  0
  0

حضرت زينب سلام اللہ علیہا نے عاشورا كی بركات كو بيمہ كر ديا ہے: آيت اللہ العظمی صافی گلپائيگانی

سياسی وثقافتی گروپ: حضرت آيت اللہ العظمی صافی گلپائيگانی نے حضرت زينب سلام اللہ علیہا كی رحلت كی مناسبت سے اپنی سائٹ پر ايك مضمون ركھا ہے جس میں آيا ہے كہ واقعہ كربلا كےبعد حضرت زينب(س) نے دمشق تك قيد وبند كی صعوبتوں كو برداشت كر كے اور تاريخ كے ان سخت حالات میں استقامت اور پائيداری اختيار كر كے عاشورا كی بركات كو بيمہ كر ديا ہے۔

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے آيت اللہ العظمی صافی گلپائيگانی كے دفتر كی سائٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ آيت اللہ گلپائيگانی نے صبرواستقامت كی خاتون حضرت زينب(س) كی وفات كی مناسبت سے ايك مضمون تحرير كيا ہے جو مندرجہ ذيل ہے۔

كتاب اخبار الزينبات اور بعض ديگر كتب كی بنا پر ۱۵ رجب المراجب ۶۲ ھ ق كی شام كو حضرت زينب (س) كی رحلت واقع ہوئی ہے۔

ان كتابوں كے بقول كربلا كے افسوسناك واقع كے بعد اور دمشق تك قيدوبند كی صعوبتیں برداشت كر كے اور تاريخ كے ان سخت اور طاقت فرسا حالات میں استقامت اور پائيداری اختيار كر كے حضرت زينب(س) نے عاشورا كی بركات كوبيمہ كرتے ہوئے امام زين العابدين علیہ السلام كے ہمراہ مدينہ واپس لوٹ آئیں۔

آپ كے مدينہ میں قيام اور اہل بيت(ع) كی چاہنے والی خواتين كی آمدورفت كی وجہ سے مدينہ كے سياسی حالات میں انقلاب پيدا ہو گيا اسی بنا پر مدينہ كے گورنر نے پريشان ہو كر يزيد ملعون كو ان حالات سےآگاہ كيا لہذا حكم ديا گيا كہ حضرت زينب(س) مدينہ سے جس شہر كی طرف جانا چاہتی ہجرت كر جائیں۔

مدينہ كے حاكم نے حضرت كو جب یہ پيغام سنايا تو آپ نے سختی سے اسے مسترد كر ديا ليكن بعض بنی ہاشم اور دوسرے لوگوں كے اصرار پر آپ نے مصر كی طرف ہجرت فرمائی اور يكم شعبان ۶۱ھ كو مصر كے گورنر اور مسلمہ بن مخلد انصاری سميت لوگوں نے آپ كا بہت شاندار استقبال كيا اور ۶۲ ھ ق تك مصر میں قيام پذير رہیں اور آخركار ۱۴ رجب المرجب كی شام كو آپ رحلت فرما گئیں اور مصر میں ہی دفن ہو گئیں اور اس دور كی تاريخ كی بنا پر آپ كے روضہ مبارك میں مصر كے لوگوں كی بہت زيادہ بھیڑ رہتی ہے۔

اس وقت مصر میں يكم سے ۱۵ ماہ رجب تك اہل بيت(ع) كے چاہنے والے آپ كی رحلت پر عظيم الشان پروگرام منعقد كرتے ہیں۔

بہر حال اہل بيت(ع) كی عظمت اور حقانيت اس پروگرام سے آشكار ہوتی ہے اور دل ان كی طرف جلب ہو جانے ليكن افسوس ہے كہ ايران شيعہ اس وقت اس عظيم روضہ مبارك كی زيارت سے محروم ہیں اور ان كا اس روضہ سے ارتباط ديگر روضوں كی طرح نہیں ہے۔


source : http://www.iqna.ir/ur/news_detail.php?ProdID=606284
  736
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    عراق کا شہر فلوجہ فوج کے مکمل محاصرے میں
    سرینگر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں/ کپواڑہ ...
    پاکستان؛ یا علی مدد والا لاکٹ گلے میں ڈالنے کے جرم میں ...
    علمی میدان میں اچھی پوزیشنیں حاصل کرنا فرزندان انقلاب ...
    ہندوستانی حجاج کے اہل خانہ بھی سعودی عرب روانہ
    راولپنڈی میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے نجف شاہ اور ان کا ...
    رہبر انقلاب اسلامی کی مرقد امام خمینی (رہ) اور گلزار ...
    250 ہندووں نے دین اسلام قبول کرلیا
    سامرا میں پولیس چھاونی پر خودکش حملہ ۵۰ سے زائد اہلکار ...
    افغانستان؛ صوبہ ارزگان میں طالبان کا پولیس چوکیوں پر ...

 
user comment