اردو
Monday 21st of June 2021
41
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

حضرت زينب سلام اللہ علیہا نے عاشورا كی بركات كو بيمہ كر ديا ہے: آيت اللہ العظمی صافی گلپائيگانی

سياسی وثقافتی گروپ: حضرت آيت اللہ العظمی صافی گلپائيگانی نے حضرت زينب سلام اللہ علیہا كی رحلت كی مناسبت سے اپنی سائٹ پر ايك مضمون ركھا ہے جس میں آيا ہے كہ واقعہ كربلا كےبعد حضرت زينب(س) نے دمشق تك قيد وبند كی صعوبتوں كو برداشت كر كے اور تاريخ كے ان سخت حالات میں استقامت اور پائيداری اختيار كر كے عاشورا كی بركات كو بيمہ كر ديا ہے۔

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے آيت اللہ العظمی صافی گلپائيگانی كے دفتر كی سائٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ آيت اللہ گلپائيگانی نے صبرواستقامت كی خاتون حضرت زينب(س) كی وفات كی مناسبت سے ايك مضمون تحرير كيا ہے جو مندرجہ ذيل ہے۔

كتاب اخبار الزينبات اور بعض ديگر كتب كی بنا پر ۱۵ رجب المراجب ۶۲ ھ ق كی شام كو حضرت زينب (س) كی رحلت واقع ہوئی ہے۔

ان كتابوں كے بقول كربلا كے افسوسناك واقع كے بعد اور دمشق تك قيدوبند كی صعوبتیں برداشت كر كے اور تاريخ كے ان سخت اور طاقت فرسا حالات میں استقامت اور پائيداری اختيار كر كے حضرت زينب(س) نے عاشورا كی بركات كوبيمہ كرتے ہوئے امام زين العابدين علیہ السلام كے ہمراہ مدينہ واپس لوٹ آئیں۔

آپ كے مدينہ میں قيام اور اہل بيت(ع) كی چاہنے والی خواتين كی آمدورفت كی وجہ سے مدينہ كے سياسی حالات میں انقلاب پيدا ہو گيا اسی بنا پر مدينہ كے گورنر نے پريشان ہو كر يزيد ملعون كو ان حالات سےآگاہ كيا لہذا حكم ديا گيا كہ حضرت زينب(س) مدينہ سے جس شہر كی طرف جانا چاہتی ہجرت كر جائیں۔

مدينہ كے حاكم نے حضرت كو جب یہ پيغام سنايا تو آپ نے سختی سے اسے مسترد كر ديا ليكن بعض بنی ہاشم اور دوسرے لوگوں كے اصرار پر آپ نے مصر كی طرف ہجرت فرمائی اور يكم شعبان ۶۱ھ كو مصر كے گورنر اور مسلمہ بن مخلد انصاری سميت لوگوں نے آپ كا بہت شاندار استقبال كيا اور ۶۲ ھ ق تك مصر میں قيام پذير رہیں اور آخركار ۱۴ رجب المرجب كی شام كو آپ رحلت فرما گئیں اور مصر میں ہی دفن ہو گئیں اور اس دور كی تاريخ كی بنا پر آپ كے روضہ مبارك میں مصر كے لوگوں كی بہت زيادہ بھیڑ رہتی ہے۔

اس وقت مصر میں يكم سے ۱۵ ماہ رجب تك اہل بيت(ع) كے چاہنے والے آپ كی رحلت پر عظيم الشان پروگرام منعقد كرتے ہیں۔

بہر حال اہل بيت(ع) كی عظمت اور حقانيت اس پروگرام سے آشكار ہوتی ہے اور دل ان كی طرف جلب ہو جانے ليكن افسوس ہے كہ ايران شيعہ اس وقت اس عظيم روضہ مبارك كی زيارت سے محروم ہیں اور ان كا اس روضہ سے ارتباط ديگر روضوں كی طرح نہیں ہے۔


source : http://www.iqna.ir/ur/news_detail.php?ProdID=606284
41
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

یمنی فوج اور عوامی رضاکروں نے سعودی عرب کے چار فوجی ...
مولوی اسحاق مدنی: اس وقت جو کچھ اسلام ہمارے پاس ہے حضرت ...
پاکستان کی نئی حکومت: امیدیں اور مسائل
عراق کی تازہ ترین صورت حال/ مظاہرین پارلیمنٹ ہاؤس سے ...
مسجد اقصٰی كے دروازے بند كرنے پر الاقصیٰ فاؤنڈيشن كا ...
اسلامی بیداری، سامراجی طاقتوں کے لئے خطرے کی علامت، ...
بوکوحرام کا افریقی ممالک کے خلاف اعلان جنگ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں توہین ...
کشمیر میں عالمی یوم القدس پر احتجاجی ریلیاں
جنت البقیع کے مسمار شدہ مزار کی پرانی تصویر کی رونمائی

 
user comment