اردو
Monday 6th of July 2020
  828
  0
  0

رہبر معظم انقلاب اسلامی: امیرالمؤمنین(ع) علمی، معنوی، اخلاقی، انسانی اور الہی عظمتوں کی چوٹی

آج مولود کعبہ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے یوم میلاد کے موقع پر صوبہ بوشہر کے ہزاروں باسیوں نے رہبر انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔

ترچمہ: ف۔ح۔مہدوی

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شخصیت ایک استثنائی اور منفرد شخصیت ہے اور آپ (ع) علمی، معنوی، اخلاقی، انسانی اور الہی عظمتوں کی چوٹی ہیں۔
آپ نے فرمایا: عالم اسلام اور  آج کے معاشروں کے لئے انسانی تاریخ کی اس بے مثال اور منفرد شخصیت کا اہم ترین درس بصیرت بخشی، ماحول کو روشن کرنا، اور ان لوگوں کے ایمان و افکار کو گہرائی دینا ہے جنہیں بصیرت کی ضرورت ہے۔ 
رہبر انقلاب اسلامی نے 13 رجب کو مولی الموحدین حضرت علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے سلسلے میں حاضرین و مسلمانان عالم کو اس عید عظیم الشان پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس دن کو ایک عظیم دن قرار دیا اور حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس عید کا سب سے اہم اور بڑا تحفہ یہ ہے کہ ہم امیرالمؤمنین (ع) کی راہ و روش، طرز سلوک اور کلام سے سبق سیکھیں۔ 
رہبر انقلاب نے حضرت امیر علیہ السلام کی زندگی کو سراسر جہاد، اللہ کے راستے میں صبر و استقامت، معرفت، بصیرت اور اللہ کی رضا کے حصول پر گامزن قرار دیتے ہوئے فرمایا: اس عظیم شخصیت نے بچپن سے ہی پیغمبر اسلام کی آغوش میں پرورش پائی اور اپنی حیات شریفہ کے مختلف ادوار میں حق و حقیقت کے قیام اور اسلام و رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حفاظت پر اپنی جان قربان کرنے سے گریز نہ کیا اور رسول اللہ (ص) نے آپ کو میزان حق کے عنوان سے متعارف کرایا۔ 
رہبر معظم نے امام علی علیہ السلام کی بالاترین خصلت بصیرت کے ضرورتمندوں کو بصیرت کی عطائیگی قرار دیا اور فرمایا: رائے عامہ کو روشن کرنا اور لوگوں کو آگہی بخشنا عالم اسلام اور اسلامی معاشرے کی اہم ترین ضرورت ہے کیونکہ دشمنان اسلام نے اسلام کا مقابلہ کرنے کے لئے دین اور اخلاق کے اوزار اٹھا رکھے ہیں چنانچہ ایسی صورت میں ہم سب کو بیدار و ہوشیار رہنا پڑے گا۔ 
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: دشمنان اسلام جہاں غیر مسلم رائے عامہ کو فریب دینا چاہیں وہاں انسانی حقوق اور جمہوریت کا رونا روتے ہیں اور جہاں انہیں مسلم رائے عامہ کا سامنا ہوتا ہے اسلام اور قرآن کا نام لے کر اپنے مقاصد کے حصول کی کوشش کرتے ہیں جبکہ وہ اسلام اور قرآن اور حتی انسانی حقوق اور جمہوریت پر ذرہ برابر یقین نہیں رکھتے۔ 
رہبر انقلاب اسلامی نے فتنۂ جنگ کا تاریخی نمونہ پیش کرتے ہوئے جنگ صفین کے فتنے اور رائے عامہ کو دھوکہ دینے اور علی علیہ السلام پر دباؤ بڑھانے کی نیت سے قرآن نیزوں پر اٹھانے کے تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فتنے کے اس دور میں اپنے اصحاب کو خبردار کیا کہ جس راہ حق و صداقت پر گامزن ہوئے ہو اسے ترک نہ کرو اور مبادا کہ فتنہ انگیز عناصر کی باتیں تمہارے اندر سستی پیدا کریں۔ 
آپ نے فرمایا: فتنوں کے وقت ماحول غبار آلود ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ غبار آلودگی اتنی شدید ہوتی ہے کہ بعض مفکرین بھی خطا سے دوچار ہوجاتے ہیں چنانچہ فتنوں کے وقت شاخص کی ضرورت ہوتی ہے اور معیار در حقیقت "حق اور دلیل" ہے کہ حضرت امیر علیہ السلام لوگوں کو حق اور دلیل کی طرف رجوع کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ 
رہبر انقلاب نے فرمایا: جو معیار اور جو روشن راستہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے دکھایا وہ یہ ہے کہ معاشرے کا انتظام اسلام کے احکام کی روشنی میں چلایا جائے، جارح قوتوں کو فیصلہ کن کو جواب دیا جائے، دشمنوں کے ساتھ واضح و روشن حد بندی کا اہتمام کیا جائے اور دشمن کے فریب کے سامنے ہوشیاری اور کیاست اپنائی جائے۔ 
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: ملت ایران انقلاب اسلامی کی برکت سے ہوشیار اور دانشمند ہے اور ملک کے بہت سے مسائل عوام کی دانشمندی سے حل ہوگئے ہیں ۔۔۔ بہت سے مواقع پر عوام خاص لوگوں اور مفکرین سے بھی بہتر حقائق کا ادراک کرلیتے ہیں کیونکہ ان کی وابستگیان کم ہیں اور یہی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ 
آپ نے فرمایا: ملت ایران نے انقلاب اسلامی کے اعلی اہداف کی جانب اپنی ثابت قدمی ثابت کرکے دکھائی ہے اور اللہ تعالی کی توفیق سے اس ثابت قدمی کا تحفظ کرے گی۔ 
رہبر انقلاب اسلامی نے ملت ایران کی عظیم کامیابیوں اور ترقی و پیشرفت اور انقلاب اسلامی کے بنیادی نعروں کے عملی صورت اپنانے کو عوام کی قوت و اہلیت اور بصیرت کے مرہون منت قرار دیا اور فرمایا: آج ملت ایران ـ بالخصوص ایرانی نوجوان ـ بصیرت کے مالک ہیں اور مستقبل کا تعلق اسی ملت سے ہے۔ 
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: استقامت، ثابت قدمی، قومی یکجہتی اور اسلام، قرآن اور سیرت اہل بیت (ع) سے تمسک کو روز بروز زیادہ سے زیادہ تقویت دینی چاہئے۔ 
آپ نے فرمایا: خدا کے لطف سے ایرانی نوجوان اس دن کا مشاہدہ کر ہی لیں گے جب جبر کی بین الاقوامی قوتیں محسوس کریں گی کہ اب وہ جبر کے راستے سے ملت ایران سے اپنی بات منوانے سے عاجز ہیں۔ 
رہبر انقلاب اسلامی نے ہدایت کی: نہج البلاغہ کا پہلے سے زیادہ مطالعہ کریں اور اس کی نگاہوں سے اوجھل حکمتوں اور حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے کلام میں تدبر کریں؛ نہج البلاغہ کا تعلق صرف اہل تشیع سے نہیں ہے بلکہ اہل سنت کے بزرگ علماء نے بھی این بیانات و کلمات کے باری میں ایسی تعبیرات پیش کی ہیں جنہیں پڑھ کر انسان حیرت زدہ ہوجاتا ہے اور حتی بہت سے غیر مسلم دانشوروں اور مفکرین نے بھی نہج البلاغہ کا مطالعہ کیا ہے اور اس کی عظمت سے مبہوت ہوکر رہ گئے ہیں۔ 
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بوشہر کے عوام سے مخاطب ہوکر بوشہر کی افتخار آمیز تاریخ اور اس خطے کے نامور علماء اور مجاہد شخصیات کے کردارکی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: با ایمان اور بہادر سردار "رئیس علی دلواری" کا نام ان ناموں میں سے ہے جنہوں نے ملک کے طول و عرض میں مؤمن انسانوں کے دل موہ لئے ہیں۔ 
آپ نے برطانوی استعماری قوت کے مقابلے میں شہید رئیس علی دلواری کی مظلومیت اور تنہائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:  وہ زمانہ اور تھا اور آج کے حالات اس زمانے سے بالکل مختلف ہیں اور آج پورے ملک میں بے شمار مؤمن، فداکار اور بسیجی نوجوان فوجی، ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں حاضر ہیں اور یقیناً بوشہری نوجوان بھی اس عظیم مجموعے کا حصہ ہیں۔ 
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: وہ زمانہ گذر گیا ہے جب استعماری قوتیں اقوام کو دھمکیاں دیتیں اور ان کی تذلیل کیا کرتی تھیں اور اس وقت ملت ایران مقتدر ملت کے عنوان سے پہچانی گئی ہے۔  
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے استکباری طاقتوں ـ خاص طور پر امریکہ ـ کی روز افزوں رسوائی اور ملتوں کی استقامت اور قومی طاقتوں کے ظہور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حقیقی طاقت و قوت ملت ایران کا حق ہے اور کوئی بھی طاقت اسے اس راستے سے لوٹا نہیں سکے گی جس پر یہ ملت گامزن ہوچکی ہے۔

........

/110


 



 


source : http://abna.ir/data.asp?lang=6&Id=193496
  828
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    قومی ایکشن پلان کے باوجود دہشتگردی کی وارداتیں باعث ...
    آل سعود کی نااہلی سے منیٰ حاجیوں کی قتلگاہ بنا
    یمن؛ سعودی عرب کی تازہ جارحیت میں 36 افراد شہید
    افریقہ؛ پادری سمیت 480 عیسائیوں نے اسلام قبول کر لیا
    عازمین حج و عمرہ اور اعلیٰ سرکاری حکام کی طرح ہوائی سفر ...
    جنوبی کوریا کے دورے پر یوگینڈا کے وزیر داخلہ کی اچانک ...
    پاکستان کے ممتاز قانون داں عبد الحفیظ پیرزادہ کا ...
    پنجاب کے وزیر داخلہ خود کش حملے میں ہلاک
    بڈگام میں بزرگ عالم دین کے مقبرے کو نذر آتش کرنے کی مذمت
    پاکستان میں جشن میلادالنبی (ص)عقیدت و احترام سے منایا ...

 
user comment