اردو
Tuesday 22nd of September 2020
  12
  0
  0

چرچ اسکینڈلز کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ

امریکہ میں عیسائي پادریوں کے ہاتھوں جنسی تشدد کا شکار بننے والے ایک لڑکے نے پوپ بنیڈیکٹ شانزدھم اور ویٹیکن پرمقدمہ دائر کیا ہے۔ 

امریکی ریاست الینائي کے ایک لڑکے نے 1995 میں ویٹیکن کے وزیرخارجہ کو لکھا تھا کہ عیسائي مذھبی رہنما لارنس مورفی نے اس پر برسوں تک جنسی تشدد کیا تھا۔ 
مقدمے میں اس لڑکے کو جان ڈوسکسٹین کے نام سے موسوم کیا گيا ہے۔ 
عیسائي مذھبی رہنما لارنس مورفی پر الزام ہے کہ انہوں نے وسکانسن wisconsin ریاست میں ایک عیسائي اسکول میں  دوسو لڑکوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ہے ۔ 
مورفی کاانتقال 1998 میں ہوا۔ 
جان ڈو سکسٹین کے کیس میں عوام نے بھی خاصی دلچسپی لینا شروع کردی ہے اور تازہ دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ اس وقت کے کارڈینل جو آج پوپ بنیڈیکٹ شانزدھم ہیں، نے مورفی کے خلاف کسی بھی طرح کی تادیبی کاروائي کرنے سے گریز کیا تھا۔ 
جان دوسکسٹین اور اسکے وکیل نے کہا ہے کہ وہ ویٹیکن کی حفیہ فائلیں کھلوانے کی کوشش کرینگے جن میں پادریوں کے سیکس اسکینڈل کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات کی تفصیل تحقیقات موجود ہے۔ 
یاد رہے حال ہی میں عیسائي مذھبی رہنماؤں کے جنسی تشدد کا ایک اور اسکینڈل بھی سامنے آیا تھا جبکہ عالمی سطح پر کیتھولک چرچ کے سیکس اسکینڈلز کا سلسلہ جاری ہے جو ویٹیکن کے لئے شرمناک اور رسوائي کا باعث ہیں۔


source : http://abna.ir/data.asp?lang=6&Id=185311
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے رکن آیت اللہ خزعلی کا انتقال
علامہ مفتی جعفر کی برسی پر علامہ جواد نقوی کا خطاب
آیت اللہ فضل اللہ: وحدت كے عملی راستے كی اہانت، اسلام ...
پاکستان میں شہباز شریف کو وزیر اعظم نامزد کرنے کا فیصلہ
موغادیشو میں کاربم دھماکے میں 6 افراد ہلاک جبکہ 10 زخمی
شیخ نمر کی کتاب ’’عزت و وقار کی عرضداشت‘‘ ۱۱ زبانوں ...
قرآن جلانے کے منصوبے پر عملدرآمدکے خطرناک اثرات ...
متنازعہ فلم «فتنہ» کا ڈائریکٹر دوسری اسلام مخالف فلم ...
بحرینی علماء کا آل خلیفہ کے وزیر کی ہرزہ گوئیوں کے خلاف ...
میانمار کے مسلمانوں پر ظلم وستم

 
user comment