اردو
Friday 10th of July 2020
  923
  0
  0

شاہ عبداللہ: عالم اسلام کے مسائل حل کر نے کیلئے دوسرے مذاہب سے مذاکرات کرنا ہونگے

 سعودی عرب کے فرمانروا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ عالم اسلام کے مسائل حل کرنے کے لیے دوسرے مذاہب سے مذاکرات کرنا ہونگے، اسلام جارح نہیں امن کا علمبردار مذہب ہے، دشمنوں نے اسلام کو جارحیت اور انتہا پسندی کا مذہب قرار دینے کی یلغار شروع کر رکھی ہے، عالم اسلام کو گونا گوں چیلنجوں کا سامنا ہے، یہ بات انہوں نے ورلڈ مسلم لیگ کی عالمی اسلامی کانفرنس کے افتتاح کے موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں دنیا بھر سے ساڑھے تیرہ سو مندوبین شرکت کے لئے آئے ہیں، پاکستان سے جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد، سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق، سابق وزیر مملکت برائے مذہبی امور عامر لیاقت حسین نے شرکت کی، شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے کہا کہ آج ہم اپنی اسلامی اقدار دوسروں کے سامنے پیش کر کے اسلام کے تشخص کو فروغ دینے، اپنی عزت، وقار کے تحفظ کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں۔ تین روزہ رابطہ عالم اسلامی کانفرنس کے افتتاح کی تقریب میں ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی سمیت بہت سے ملکوں کے لیڈر موجود ہیں، رائیل پیلس میں ہونے والی تقریب میں سعودی بادشاہ نے کہا کہ ہم امریکہ اور صیہونیت کی وجہ سے دنیا بھر میں نقصان اٹھا رہے ہیں، اسلامی امہ کو اللہ تعالیٰ نے جو وسائل دیئے ہیں انہیں غصب کرنے کی سازشیں عروج پر ہیں، انہوں نے فلسطین کے 50 لاکھ بے گھر عوام پر اسرائیل کے مظالم کی مذمت کی اور مسلمانوں کو مل جل کر ان مظلوموں کا ساتھ دینے کی تلقین کی۔رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری عبداللہ بن محسن الترکی نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور بین المذاہب ڈائیلاگ کے بارے میں کانفرنس کو سوچی سمجھی کاوش قرار دیا۔ اس موقع پر شیخ الازہر شیخ محمد سید الطنطاوی، ایرانی لیڈر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی، مسلم لیگ ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبدالعزیز بن عبدالمحسن الترکی نے بھی خطاب کیا۔ پاکستان کے سابق وزیر مذہبی امور محمد اعجاز الحق کو کانفرنس کی اعلیٰ سطحی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے پاکستانی وفد میں سابق وزیر مملکت برائے مذہبی امور عامر لیاقت حسین شامل ہیں۔ مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی نے بتایا کہ کانفرنس اسلامی تعلقات کی روشنی میں دوسرے مذاہب سے ڈائیلاگ شروع کرنے کی بنیاد کا تعین کرے گی۔ پاکستان، انڈیا، ایران، افغانستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائیشیا، عراق، شام، تیونس، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، اردن، عمان، نائیجریا، سینیگال، گھانا، برطانیہ، امریکہ اور دوسرے ملکوں کے مسلمان اسکالرز نے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی اور تحقیقی مقالے پڑھے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر صالح بن حمید نے کی۔


source : http://abna.ir/data.asp?lang=6&Id=110905
  923
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    قبلہ اول کے خلاف صیہونی جارحیت سوچے سمجھے منصوبے کا ...
    لیبیا کے شہر طرابلس میں 3 زوردار بم دھماکے، کئی افراد ...
    کابل کے نواحی علاقے میں تین بم دھماکوں میں کم سے کم 18 ...
    جامعۃ الازہر نے سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں پر ہوئے ...
    کویت کے بزرگ شیعہ عالم دین کو گرفتار کر لیا گیا
    امریکہ کے بھیانک چہرے کو چھپانے والے قوم کے خائن ہیں
    مشرقی افغانستان میں داعش کے عقوبت خانے
    بن لادن کمپنی نے مکہ میں ۷ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا
    لاہور؛ سٹی 42 ٹی وی چینل پر دہشتگردوں کی فائرنگ
    آل سعود کا حج سے وہابیت کی تبلیغ کا ناجائز فائدہ

 
user comment