اردو
Friday 10th of July 2020
  787
  0
  0

خصوصی رپورٹ: اہم شیعہ شخصیات، کالعدم دہشت گرد ٹولوں کا اگلا ہدف

پاکستان کے ایک اہم ادارے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل نے خبر دار کیا ہے کہ سندھ میں اہم شیعہ شخصیات کو شدید خطرہ لا حق ہے اور کالعدم دہشت گرد ٹولے انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔وفاقی وزارت داخلہ کے اہم ادارے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل نے حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خبر دار کیا ہے کہ صوبہ سندھ میں شیعہ شخصیات کی زندگیوں کو شدید خطرہ لا حق ہے اور کالعدم دہشت گرد گروہ کے ناصبی دہشت گرد شیعہ شخصیات بشمول جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی،سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا،متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حیدر عباس رضوی اور نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے سابق ڈائرکٹر طارق لودھی کو دہشت گردی کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق 21مئی 2010کو جاری ہونے والی خفیہ رپورٹ ''خطرے کی نشاندہی 252'' جو کہ سندھ حکومت کو 31مئی کو موصول ہوئی ،اور رپورٹ کے لیٹر نمبر 3/9200/(او-پی-آی)-1368میں کہا گیا ہے کہ صوبہ سندھ میں کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ اور اس کے ناصبی گروہوں نے اپنے دہشت گرد رہنماؤں کے قتل کا انتقام لینے کے لئے ،(جو کہ خود ہزاروں شیعہ اور سنی مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث تھے)شیعہ رہنماؤں اور شخصیات کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے جس کے سبب کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ اور اس کے ناصبی دہشت گرد جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی ،سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا ،متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حیدر عباس رضوی اور سابق ڈائرکٹر طارق لودھی کو دہشت گردی کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔
نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کی رپورٹ میں سیکریٹری داخلہ سندھ،انسپیکٹر جنرل پولیس سندھ اور ڈائرکٹر جنرل رینجرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ کالعدم دہشت گرد جماعت سپاہ صحابہ اور اس سے تعلق رکھنے والے ناصبی گروہوں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے اور کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شیعہ شخصیات اور حکومتی شخصیات کی زندگیوں کو تحفظ فراہم ہو۔
واضح رہے کہ چند روز قبل ہی سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ انھیں کالعدم دہشت گرد گروہوں کے دہشت گردوں کی جانب سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں،ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی دھمکیاں اس لئے ملی ہیں کہ حکومت سندھ نے کالعدم دہشت گرد گروہوں کو جلسہ کرنے پر پابندی عائد کی تھی،تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں ہر گز دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں اور کالعدم دہشت گرد جماعتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کراچی شہر میں گذشتہ ایک ماہ سے جاری ٹارگٹ کلنگ کے نتیجہ میں اب تک ایک درجن سے زائد شیعہ افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے تاہم حکومت کی جانب سے کوئی کاروائی عمل میں نہیں آ پائی،جو کہ انتہائی قابل تشویش بات ہے۔


source : http://www.abna.ir/data.asp?lang=6&id=192254
  787
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    قبلہ اول کے خلاف صیہونی جارحیت سوچے سمجھے منصوبے کا ...
    لیبیا کے شہر طرابلس میں 3 زوردار بم دھماکے، کئی افراد ...
    کابل کے نواحی علاقے میں تین بم دھماکوں میں کم سے کم 18 ...
    جامعۃ الازہر نے سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں پر ہوئے ...
    کویت کے بزرگ شیعہ عالم دین کو گرفتار کر لیا گیا
    امریکہ کے بھیانک چہرے کو چھپانے والے قوم کے خائن ہیں
    مشرقی افغانستان میں داعش کے عقوبت خانے
    بن لادن کمپنی نے مکہ میں ۷ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا
    لاہور؛ سٹی 42 ٹی وی چینل پر دہشتگردوں کی فائرنگ
    آل سعود کا حج سے وہابیت کی تبلیغ کا ناجائز فائدہ

 
user comment