اردو
Saturday 11th of July 2020
  655
  0
  0

حجاب کی جنگ اب امریکہ میں

امریکہ میں - جہاں مسلمانوں کو محدود کرنے کے لئے کوئی قانون وضع نہیں ہوا تھا -، دینی لباس اور حجاب کے استعمال کی ممانعت کے قانون کا مسودہ پیش کئے جانے کے بعد، مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے. 
اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا کی رپورٹ کے مطابق امریکی مسلمانوں نے اوریگن Oregon ریاست کے گورنر کی طرف سے پیش کئے گئے قانون کے اس مسودے پر شدید تنقید کی ہے جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اسکولوں میں استانیوں کے لئے حجاب اور دینی شعائر کی ممنوعیت کی تجویز ہے. مسلمانوں نے اس مسودے کو قاہرہ میں ادیان و مذاہب کی آزادی پر مبنی بارک اوباما کی تقریر کے منافی قرار دیا ہے.

امریکہ میں اسلام ـ امریکہ رابطہ کونسل کے ترجمان «ابراہيم ہوبر» نے بتایا: اس قانون کی منظوری مسلمانوں اور دیگر ادیان کے پیروکاروں کو مجبور کرے گی کہ وہ اسکولوں میں تدریس اور اپنے دین کی پیروی میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں.

انہوں نے کہا: حقیقت یہ ہے کہ حجاب کی رعایت تبلیغ دین نہیں ہے بلکہ دینی اور مذہبی قوانین کی پابندی ہے اور یہ ہر آزاد انسان کا فطری حق ہے کہ وہ اپنے مذہب کے احکام کا اتباع کرے.

قابل ذکر ہے کہ امریکہ مذہبی آزادی کے حوالے سے معروف تھا۔ یورپ میں عرصۂ دراز سے اس طرح کے قوانین کی موجودگی اور منظوری کے برعکس، امریکہ میں اس سے قبل کبھی بھی ایسا قانون نہیں گذرا ہے.

قابل ذکر ہے کہ نسلی امتیازات کے حوالے سے مشہور یورپی ملک «جرمنی» میں حال ہی میں مصر سے ڈاکٹریٹ کا رسالہ لکھنے کے لئے آنے والی مصری خاتون «مروہ الشربینی» پر ایک جرمن نسل پرست دہشت گرد نے پارک میں حملہ کیا تھا اور یہ کیس جب عدالت پہنچا تو عدالت میں جج کی موجودگی میں اسی دہشت گرد نے اپنے زیریں لباس سے ایک خنجر نکالا اور مروہ الشربینی کو 18 وار کرکے شہید کردیا اور جب شہیدہ حجاب کے شوہر نے انہیں بچانے کی کوشش کی تو جرمن جوڈیشل پولیس نے فائرنگ کرکے انہیں بھی زخمی کردیا. اور بعد میں جرمن پولیس نے انصاف کے اور انسانی حقوق کے تقاضے پورے کرنے کی بجائے شہیدہ حجاب کو دہشت گردوں سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی اور ان کے فلیٹ کا سارا سامان ضبط کردیا.

مغربی میدیا نے اظہار رائے کی آزادی کے بلند بانگ دعووں کے برعکس الشربینی کی شہادت کی خبر کا بائیکاٹ کیا اور عدالت سے ان کی شہادت کے لمحے کی کوئی تصویر تک باہر نہ آسکی. اور تو اور مسلمان ممالک کے ذرائع ابلاغ نے بھی ـ اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کے دعووں کے برعکس ـ پوری پوری کوشش کرکے مغرب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے الشربینی کی شہادت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے اور ان کی شہادت کو لائق اعتنا نہیں سمجھا ہے۔

بہرحال حجاب کے خلاف یورپ سے شروع ہونے والا فتنہ اب امریکہ بھی پہنچ ہی گیا ہے.

یادرہے کہ امریکہ میں ایک کروڑ مسلمان رہتے ہیں جن میں 20 لاکھ اہل بیت علیہم السلام کے پیروکار ہیں.


source : http://www.abna.ir/data.asp?lang=6&Id=162594
  655
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    سرینگر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں/ کپواڑہ ...
    پاکستان؛ یا علی مدد والا لاکٹ گلے میں ڈالنے کے جرم میں ...
    علمی میدان میں اچھی پوزیشنیں حاصل کرنا فرزندان انقلاب ...
    ہندوستانی حجاج کے اہل خانہ بھی سعودی عرب روانہ
    راولپنڈی میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے نجف شاہ اور ان کا ...
    رہبر انقلاب اسلامی کی مرقد امام خمینی (رہ) اور گلزار ...
    250 ہندووں نے دین اسلام قبول کرلیا
    سامرا میں پولیس چھاونی پر خودکش حملہ ۵۰ سے زائد اہلکار ...
    افغانستان؛ صوبہ ارزگان میں طالبان کا پولیس چوکیوں پر ...
    قبلہ اول کے خلاف صیہونی جارحیت سوچے سمجھے منصوبے کا ...

 
user comment