اردو
Wednesday 8th of July 2020
  753
  0
  0

امریکہ اسرائیل ایک جان دو قالب

حالیہ این پی ٹی جائزہ کانفرنس میں گذشتہ دس سالوں میں پہلی بار تمام رکن ممالک نے ایسے مسودے پر متفقہ طور پر دستخط کئے ہیں،جس کی ایک شق میں مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے نیز غاصب صہیونی حکومت کے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمہ کی طرف اشارہ ہے۔

آر اے سید

نیویارک میں این پی ٹی کے ارکان کے اجلاس کے بعد ایک سو نواسی رکن ممالک نے سنہ 2012ء میں ایران سمیت مشرقِ وسطٰی کے دیگر ممالک کی عالمی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے،جس میں علاقے کو ہتھیاروں سے پاک خطہ قرار دینے پر غور ہو گا۔اس منصوبے کے تحت اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کر دے۔تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ منصوبے کی دستاویز میں اسرائیل کے تذکرہ سے اسرائیل 2012ء میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے انکار بھی کر سکتا ہے۔
ادھر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندہ نے این پی ٹی جائزہ کانفرنس کے اختتام پر اخباری رپورٹروں سے گفتگو میں امریکہ کی دوغلی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔علی اکبر سلطانیہ نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے حسن نیت کے اظہار کے لئے نئے تعمیری اقدام انجام دیئے ہیں،لیکن امریکہ نے ایران کے ان اقدام کو خوش آئند قرار دینے کی بجائے ایک بار پھر عدل و انصاف سے عاری اپنے قدیمی موقف کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایران پر بے بنیاد الزامات لگانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔امریکہ نے این پی ٹی جائزہ کانفرنس میں تہران اعلامیہ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ترکی اور برازیل کے درمیان طے پانے والا سمجھوتہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں موجود تحفظات کو دور کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔
امریکہ نے تہران اعلامیہ کے بعد لاجواب ہو کر ایسی توجیہات پیش کی ہیں،جو شاید کسی کے لئے بھی قابل قبول نہ ہوں۔ایران ترکی اور برازیل کے مابین طے پانے والے سمجھوتے میں دو اہم نکات پر زور دیا گیا ہے۔پہلے نکتہ میں،این پی ٹی کے رکن ہونے کی حیثیت سے ایران کو جو حق حاصل ہے اس پر تاکید کی گئی ہے،جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ایٹمی مسئلے کے حل کے حوالے سے تجاویز اور مواقف کا اظہار بھی ہے،جن کو سمجھوتے میں واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔تہران اعلامیہ حقیقت میں ایران کے اس واضح اور شفاف موقف اور عزم کی علامت ہے،جسکا اظہار اس نے عالمی برادری کے سامنے بارہا کیا ہے۔لیکن دوسری طرف امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ اس اعلانیے کے سامنے آنے کے بعد ماحول میں جو بہتری پیدا ہوئی ہے اس کو اپنے بے بنیاد الزامات سے خراب کرے۔اس میں ذرا برابر شک نہیں کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیوں کو سخت کرنے کے عمل کو جاری رکھا تو ایران کی طرف سے بھی اس کا جواب سامنے آئے گا۔جس کا نتیجہ تعاون اور تعلقات کی یہ سطح نہیں ہو گی جس کا اظہار اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے اس وقت ہو رہا ہے۔
اکثر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تہران اعلانیے کے بعد امریکہ اور ویانا گروپ کے پاس ایسا کوئی بہانہ باقی نہیں رہتا کہ اب وہ تہران کے تحقیقاتی ایٹمی ری ایکٹر کے لئے مطلوبہ ایندھن کی فراہمی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کریں۔امریکہ کی طرف سے ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کی کئی وجوہات ہیں،ان میں سے ایک بڑی وجہ امریکہ کی طرف سے ایران کی روزافزون ترقی کی مخالفت ہے۔امریکہ اور اس کے حواریوں نے این پی ٹی جائزہ کانفرنس میں ایسے تمام ممالک کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش ہے،جن کے پاس ایٹمی توانائی نہیں ہے اور وہ اس کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔امریکہ این پی ٹی کے معاہدوں کی دھجیاں اڑانے میں سرفہرست ہے اور وہ واحد ایٹمی طاقت ہے جس نے ایٹم بم کو انسانیت کے خلاف باقاعدہ استعمال بھی کیا ہے۔
امریکہ ایک طرف ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے راستے میں مسلسل رکاوٹیں کھڑے کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف این پی ٹی کی حالیہ جائزہ کانفرنس میں امریکہ نے مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے اعلان کی بھی مخالفت کی ہے۔امریکی صدر باراک اوبامہ نے این پی ٹی جائزہ کانفرنس کے اعلانیے کا استقبال کیا ہے،لیکن اس شق پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے جس میں اسرائیل کو این پی ٹی کا رکن بننے پر اصرار کیا گیا ہے۔حالیہ این پی ٹی جائزہ کانفرنس میں گذشتہ دس سالوں میں پہلی بار تمام رکن ممالک نے ایسے مسودے پر متفقہ طور پر دستخط کئے ہیں،جس کی ایک شق میں مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے نیز غاصب صہیونی حکومت کے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمہ کی طرف اشارہ ہے۔
مشرق وسطی کے علاقے میں غاصب صہیونی حکومت واحد ایسی حکومت ہے،جس کے پاس دو سو سے زائد ایٹمی وارھیڈز موجود ہیں اور وہ این پی ٹی کی رکن بھی نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایٹمی توانائی کا عالمی ادارہ آئی اے ای آے ابھی تک اسرائیل کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں کسی قسم کے اطمینان کا اظہار کرسکا ہے۔اس وقت تمام علاقائی ممالک اور دنیا کے بہت سے دوسرے ممالک اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کو عالمی امن کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایران گذشتہ چند عشروں سے اس بات پر زور دے رہا ہے کہ مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہونا چاہیے۔اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے منصوبے میں یہ بات شامل ہے کہ مشرق وسطی سے تمام ایٹمی ہتھیاروں کو ختم کر دیا جائے،تاکہ علاقے کے تمام ممالک کے لئے پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول ممکن ہو سکے۔
ایران اور علاقے کے مختلف ممالک کی طرف سے اس واضح مطالبے کے باوجود غاصب اسرائیل کے حامی ممالک دوہری پالیسیوں پر عمل پیرا ہو کر نہ صرف یہ کہ غاصب صہیونی حکومت کو ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح کر رہے ہیں،بلکہ مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے منصوبے کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اسرائیل کے حامی یہ ممالک اپنے آپ کو ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا حامی بھی گردانتے ہیں۔اسرائیل نواز ان ملکوں میں امریکہ نے تو 1970ء میں ایٹمی ہتھیاروں کو ایک اور نسل پرست ملک جنوبی آفریقا کو دینے کی کوشش کی ہے۔اسرائیل کی طرف سے جنوبی افریقہ کو ایٹمی ہتھیار فراہم کرنے کی پیشکش کے ثبوت حال ہی میں ایک برطانوی اخبار نے شہ سرخیوں کے ساتھ شایع کيے ہیں۔بہرحال جب تک غاصب صیہونی حکومت این پی ٹی کی رکن نہیں بنتی اور اسکے دو سو سے زاید ایٹمی وار ھیڈ تباہ نہیں کر دییے جاتے،دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔این پی ٹی کانفرنس کے شرکاء کی اکثریت نے اسرائیل کے ایٹمی ہتھیار ختم کرنے پر زور دیا ہے،جسکے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔لیکن امریکہ کی طرف سے اس کی مخالفت بھی یقینی امر ہے،جسکی جتنی مزمت کی جائے کم ہے۔


source : http://abna.ir/data.asp?lang=6&id=190100
  753
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    جنرل ہمدانی کی شہادت پر رہبر انقلاب کا تعزیتی پیغام
    علامہ ساجد نقوی: جسٹس جاوید اقبال کا انتقال قوم کے لیے ...
    رہبر انقلاب کی جانب سے شہدائے منیٰ کے ایصال ثواب کی ...
    افغان فوج کی کاروائیوں میں سو مسلح عناصر ہلاک
    یمنی فوج اور عوامی رضاکروں نے سعودی عرب کے چار فوجی ...
    طالبان کا شمالی افغانستان کے مختلف علاقوں پر قبضہ
    ہندوستان؛ سرینگر میں نائجیریا قتل عام کے خلاف احتجاجی ...
    داعش نے چار عراقیوں کو زندہ زندہ جلا دیا
    القاعدہ کا دوسرا نام داعش ہے/ داعش کو وجود میں لانے ...
    ایک دہشتگرد گروہ نے دوسرے دہشتگرد گروہ کو ناجائز قرار ...

 
user comment