اردو
Wednesday 15th of July 2020
  910
  0
  0

سعودی عرب: شیعہ اسیروں کی نازک صورت حال

موصولہ رپورٹوں کی مطابق بعض شیعہ اسیروں کی مدت اسارت اتنی طویل ہے کہ نوجوانی میں گرفتار ہونے والے افراد کی عمریں اب پچاس سال سے تجاوز کرگئی ہیں۔اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق الخبر شہر میں سینکڑوں شیعیان اہل بیت (ع) نے ایک طومار پر دستخط کئے ہیں جس پر تحریر کیا گیا ہے کہ سعودی عرب میں شیعہ اسیروں کی حالت بہت نازک ہے اور ان کی مدت اسارت اتنی طویل ہوگئی ہے کہ عہد شباب میں گرفتار ہونے والے کئی شیعہ اسیروں کی عمریں پچاس سال سے تجاوز کرگئی ہیں۔ 
اس طومار پر دستخط کرنے والے سعودی شہریوں نے اپنے عزیزوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
الراصد نیوز ویب سائٹ کے مطابق سعودی جیلوں میں اسیر شیعہ مسلمانوں کو نہایت سخت حالات میں رکھا گیا ہے۔
طومار پر تحریر کیا گیا ہے: ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سعودی جیلوں میں ہمارے برسوں سے قید عزیزوں کو فوری طور پر رہا کرے۔ 
دریں اثناء بعض ذرائع کے مطابق اہل تشیع کی وسیع سطح پر گرفتاری کے سلسلے کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں دیگر عرب ممالک کی مانند سعودی عرب میں بھی مذہب تشیع کو زبردست فروغ حاصل ہورہا ہے اور بہت سے نوجوان شیعہ مذہب اختیار کررہے ہیں جس کی بنا پر اہل تشیع کو شدید دباؤ، نماز جماعت پر پابندی، مساجد کی بندش اور وسیع گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔   
سعودی اہل تشیع کے ذرائع کے مطابق طومار پر تحریر شدہ درخواست میں اس بات پر زورد دیا گیا ہے کہ سعودی حکومت پولیس کے ہاتھوں سیل ہونے والی مساجد کھول دے اور اہل تشیع کو ان مساجد میں نماز جماعت برپا کرنے کی اجازت دے۔ 
قبل ازیں سعودی وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز نے شیعہ مساجد کو دوبارہ کھولنے کی مخالفت کی ہے۔


source : http://abna.ir/data.asp?lang=6&Id=186659
  910
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article


 
user comment