اردو
Saturday 11th of July 2020
  2460
  0
  0

عالمی یوم القدس

ارض فلسطین انبیاء کی سرزمین بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اوّل اس وقت غاصب صہیونی ریاست کے قبضے میں ہے.مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے ان اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے جس نے گزشتہ کئی عشروں سے امت مسلمہ کو بے چین کررکھا ہے ۔ ارض فلسطین جسے انبیاء کی سرزمین کہا جاتا ہے اور بیت المقدس جو مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے اس وقت سے غاصب صہیونی ریاست کے قبضے میں ہے جب سے ایک عالمی سازش کے تحت برطانیہ اوراسکے ہم نواؤں کی کوششوں سے دنیا بالخصوص یورپ کے مختلف علاقوں سے متعصب یہودیوں کو فلسطین کی زمین پر بسایا گیا ۔ صہیونیوں کے اس سرزمین پر آتے ہی وہاں کے مقامی فلسطینی باشندوں کو کنارے لگادیا گیا اور آہستہ آہستہ فلسطینیوں پر ظلم و ستم اس سطح پر پہنچ گئے کہ فلسطینیوں کو ہاتھ اپنے ہی ملک میں تیسرے درجے کا شہری بننا پڑا یا مجبور ہوکر انہیں ترک وطن کرنا پڑا ۔فلسطین کا مسئلہ شروع میں تو ایک علاقائی مسئلہ رہا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فلسطین کی مخلص اور مجاہد قیادت کو یہ ادراک ہونے لگا کہ دشمن صرف زمین اور علاقائی مسئلہ سمجھ کر فلسطین پر قابض نہیں ہونا چاہتا بلکہ اس کے پیچھے دینی اور نظریاتی مسائل ہیں ۔ فلسطین کے مسئلے کے حل کے لئے گزشتہ چھ عشروں میں کئی کوششیں ہوئیں ایک دور تھا کہ فلسطین میں یاسرعرفات کا طوطی بولتا تھا اور فلسطین اور فلسطینیوں کی قسمت کا فیصلہ پی ایل او اور یاسر عرفات کے ہاتھوں میں تھا۔ پی ایل او نے شروع میں تو انقلابی نعروں کے ساتھ بیت المقدس کی آزادی اور فلسطین کی تمام سرزمینوں کی غاصب صہیونیوں سے آزادی کےلئے صدائے احتجاج بلند کی لیکن یاسرعرفات کے یہ افکار و نظریات بہت جلد سازش اور سازباز کا شکار ہوگئے اور وہ بھی دوسرے عرب سربراہوں کی طرح فلسطینیوں کی زبان بولنے کی بجائے امریکہ اور مغرب کی زبان بولنے لگے اور بالآخر صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ فلسطینیوں کا ایک بڑا حلقہ یاسرعرفات کو فلسطینی کاز کا خائن قرار دینے لگا ۔ یاسرعرفات ، پی ایل او اور الفتح تنظیم کی انہی سرگرمیوں کے درمیان اسلامی انتفاضہ کا آغاز ہوا اسّی کے آخری عشرے میں مسئلہ فلسطین علاقائی مسئلے سے ایک دینی اور مذہبی مسئلے میں تبدیل ہوگیا ۔ نئے نئے فلسطینی گروپ میدان میں آئے اور بالآخر حماس کی صورت میں ایک فلسطینی گروہ  فلسطینیوں کی حقیقی آواز میں بدل گیا ۔امام خمینی (رح) ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے ہی فلسطین کے مسئلے کو مسلمانوں کا اہم ترین مسئلہ گردانتے تھے آپ نے انقلاب کی کامیابی سے پہلے بھی فلسطین کے حوالے سے امت مسلمہ کی بیداری کے لئے کئی اقدامات انجام دیئے ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تہران میں فوری طور پر اسرائیل کا سفارتخانہ ختم کرکے فلسطین کا سفارتخانہ قائم کیا گیا اور فلسطین کے مسئلے کے حل اور بیت المقدس کی آزادی کے لئے نئی انقلابی حکومت نے فلسطینی قوم کی ہر طرح کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی امداد کرنے کااعلان کیا اسی دوران امام خمینی (رح) کی دور اندیش قیادت نے فلسطین کے مسئلے کو عالمی اور تمام امت مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ قرار دینے کے لئے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو دنیا بھرمیں فلسطینی مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے یوم القدس منانے کا اعلان کیا جمعۃ الوداع کے دن یوم القدس منانے کے اعلان نے دنیا بھر میں ایک بار پھر فلسطین کے مسئلے کو زندہ کردیا۔امریکہ مغربی ممالک اور صہیونی لابی جس مسئلے کو ایک معمولی علاقائي مسئلہ بنا کر عالمی مسائل کی فہرست سے نکالنا چاہتے تھے امام خمینی (رح) نے جمعۃ الوداع کے دن کو یوم القدس قرار دے کر انکی سازشوں کو نقش برآب ثابت کردیا ۔امام خمینی(رح) کی رحلت کے بعد آپ کے جانشین رہبر انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بھی امام خمینی (رح) کی روش کو جاری رکھا اور فلسطین اور بیت المقدس کی رہائی کے لئے امام خمینی (رح) کے انقلابی ، اصولی ، اسلامی اور حق و حقیقت پر مبنی موقف کو آگے بڑھایا۔عزيز سامعین آئیے سنتے ہیں پاکستان کے معروف تجزيہ نگار یحیی بن زکریا یوم القدس کے بارے میں کیا کہتے ہیں :(مصاحبہ)عزیز سامعین جیسا کہ آپ نے پاکستان کے معروف تجزيہ نگار یحیی بن زکریا کی زبانی سنا کہ اسرائیل کا وجود اور فلسطین پر ظالمانہ قبضہ حقیقت میں اس دور کی بڑی طاقتوں امریکہ ، برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک کی سازشوں اور اسلام مخالف رویوں کا شاخصانہ ہے ۔ غاصب صہیونی ریاست کے ناجائز قیام سے لے کر اب تک اگر اس ظالم ریاست کے ظلم و تشدد اور مظلوم فلسطینیوں پر روا رکھے جانے والے انسانیت سوز اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اسرائیل نے آج تک جو کچھ کیا ہے اس کے پیچھے مغرب اور امریکہ کی بھرپور حمایت تھی ۔اسرائیل کے مظالم کے خلاف عالمی اداروں میں کئی دفعہ قراردادیں آئیں لیکن امریکہ نے کبھی بھی ان قراردادوں کو منظور نہیں ہونے دیا اگر کبھی غلطی سے کوئی قرارداد امریکہ کے ویٹو سے بچ بھی گئی تو اسرائیل نے امریکہ اور مغربی ملکوں کی حمایت کی وجہ سے اسے کبھی بھی قابل توجہ اور قابل عمل نہیں سمجھا۔امریکہ اور مغربی ممالک کی اس بے جا اور بھر پور حمایت نے اسرائیل کی غاصب صہیونی ریاست کو اتنا جری بنا دیا ہے کہ وہ نہ صرف علی الاعلان عالمی اداروں کے فیصلوں کو نہیں مانتی بلکہ ان فیصلوں اور قراردادوں کے خلاف عمل کرتی ہے۔امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت تو ممکن ہے اسلام دشمنی اور علاقے میں اپنی مرضي کی پالیسیاں مسلط کرنا ہو لیکن جو بات امت مسلم کو خون کے آنسو رلاتی ہے وہ علاقے کے عرب ممالک کے حکمرانوں کا منافقانہ رویہ ہے ۔ عرب ممالک کے سربراہ یوں تو اپنے ہر مسئلے کو عربوں کا مسئلہ قرار دےکر اسکے لئے شب و روز کوششیں کرتے ہیں لیکن فلسطین کے مسئلے پر ان کا رویہ ہمیشہ دفاعی یا انتہائي کمزور رہا ہے ۔عالمی اداروں کی خاموشی ، عرب حکمرانوں کا منافقانہ رویہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے دوہرے معیار اور عالمی برادری کی عدم توجہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ امت مسلمہ اتحاد و وحدت اور اسلامی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لئے میدان عمل میں آجائے یوم القدس اس بات کا بہترین موقع ہے کہ ہم امت واحدہ کی صورت میں اپنے تمام تر فروعی اختلافات اور مسائل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے قبلۂ اوّل کی آزادی کے لئے سراپا احتجاج بن جائيں ۔ امام خمینی (رح) کے بقول یوم القدس یوم اسلام ہے اور فلسطین کا مسئلہ صرف فلسطینیوں کا نہیں تمام عالم اسلام کا مسئلہ ہے.


source : http://abna.ir/list.asp?lang=6&gid=0&pg=
  2460
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    نگاہ دہر ہے پھر ابن بوتراب (عج) کی سمت
    امام جعفر صادق علیہ السلام کی فرمائشات
    تربت حسینی کی فضیلت
    اہمیت شہادت؛ قرآن وحدیث کی روشنی میں
    اسلامي معاشرے ميں قرآن کريم کي اہميّت
    کیا "کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا" کوئی روایت یا ...
    اگر کوئی اوامر و نواھی کی مخالفت کرے تو؟
    صفاتِ مومن
    ایران کا نیوکلیر معاہدہ ۔۔۔۔ مجرم کے سر منصف کا تاج!
    والد ین کی خدمت جہاد سے بہتر ہے

 
user comment