اردو
Wednesday 27th of October 2021
447
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

مسجد نبوی میں فاطمہ زھرا (ع)کاتاریخ ساز خطبہ(پھلا حصہ)

مسجد نبوی میں فاطمہ زھرا (ع)کاتاریخ ساز خطبہ

حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کا مسجد نبوی میں تاریخ ساز خطبہ شیعہ وسنی دونوں فریقوں نے متعدد طریقوں سے نقل کیا ھے کہ جس کی سند کا سلسلہ زید بن علی تک پهونچتا ھے ، اس طرح کہ انھوں نے اپنے پدر بزرگوار او رجد اعلیٰ سے نقل کیا ھے ، اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد امام باقر علیہ السلام سے، نیز جابر جعفی نے حضرت امام باقر علیہ السلام سے نقل کیا، اسی طرح جناب عبد اللہ بن حسن نے اپنے والد امام حسن علیہ السلام سے ،نیز زید بن علی نے زینب بنت  علی علیہ السلام سے ،اسی طرح خاندان بنی ھاشم کے بعض افراد نے زینب بنت علی علیہ السلام سے، نیز عروة بن زبیر نے حضرت عائشہ سے نقل کیا ھے ، یہ سب کھتے ھیں :

حتیٰ دخلت علی ابي بکر وهو فی حشدٍ من المھاجرین والانصار وغیرھم، فنیطت دونھا ملاء ة، فجلست ثم انّت انّةً اجہش القوم لھا بالبکاء، فارتجّ المجلس، ثم امھلت ہنیہة، حتی اذا سکن نشیج القوم، وھدات فورتھم، افتتحت الکلام بحمدالله فقالت: 

" الحمدُ للّٰہ علیٰ ما انعم ولہ الشکر علی ما الھم، والثناء بماقدّم من عموم نِعَمٍ ابتداٴھا،وسبوغ آلاء اٴسداھا وتمام منَن اٴولاھا،جمّ عن الاحصاء عددھا، وناٴیٰ عن الجزاء اٴمدُھا،وتفاوت عن الادراک اْبدھا وندبھم لاِسْتِزادتھا باالشکرلاتّصالھا واستحمد الی الخلائق باجزالھا،وثنّی بالندب الی امثالھا۔

واشھدان لا الہ الّا اللّٰہ وحد ہ لاشریک لہ،کلمةٌجعل الاخلاص تاٴ ویلھا وضمن القلوب موصولھا ،وانار فی

جس وقت جناب ابوبکرنے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی اورباغ فدک غصب کرلیا، جناب فاطمہ(س) کوخبر ملی کہ اس نے سرزمین فدک سے آپ کے نوکروں کو ہٹاکراپنے کارندے معین کردئیے ھیں تو آپ نے چادر اٹھائی اورباپردہ ھاشمی خواتین کے جھرمٹ میںمسجد النبی(ص)کی طرف اس طرح چلی کہ نبی(ص) جیسی چال تھی اور چادرزمین پر خط دیتی جارھی تھی۔

جب آپ مسجد میں وارد هوئیں تواس وقت جناب ابو بکر،مھا جرین و انصار اور دیگر مسلمانوں کے درمیان بیٹھے هوئے تھے،آپ پردے کے پیچھے جلوہ افروز هوئیں اور رونے لگیں،دختر رسول کوروتا دیکھ کرتمام لوگوں پر گریہ طاری هوگیا،تسلی و تشفی دینے کے بعدمجمع کو خاموش کیاگیا، اور پھر جناب فاطمہ زھرا  (س) نے مجمع کو مخاطب کرتے هوئے فرمایا:

حصہ اول (شکر خدا)

" تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ھیںجس نے مجھے اپنی بے شمار اوربے انتھا نعمتوں سے نوازا،میں شکر بجالاتی هوں اس کی ان توفیقات پرجواس نے مجھے عطا کیں، اورخدا کی حمدو ثنا ء کرتی هوں ان بے شمارنعمتوں پرجن کی کوئی انتھا نھیں، اورنہ ھی ان کاکوئی بدلاهوسکتاھے، ایسی نعمتیں جن کا تصور کرنا امکان سے باھر ھے، خدا چاھتا ھے کہ ھم اسکی نعمتوں کی قدر کریں تاکہ وہ ھم پر اپنی نعمتوں کا اضافہ فرمائے، ھمیں شکر کی دعوت دی ھے تاکہ آخرت میں بھی وہ ایسے ھی اپنی نعمتوں کا نزول فرمائے ۔


source : /www.fazael.com/masoomeen/hazrat-fatma/91-kjutbat-fatma-zahra.html?showall=1
447
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

سفير حسيني
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اہمیت اور شرائط
وضو کے آثار وفوائد
حضرات ائمہ علیھم السلام
نہج البلاغہ کی شرح
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شخصیت اور علمی فیوض
تشیع اسلام کا ہم عمر
حضرت زینب علیہا السلام اور کربلا کی قیادت
امام محمدباقرعلیہ السلام
عورت و مرد میں مساوات

 
user comment