اردو
Sunday 17th of January 2021
99
0
0%

اولوالعزم پیغمبر کون ہیں؟

۲۶۔ اولوالعزم پیغمبر کون ہیں؟

جیسا کہ سورہ احقاف آیت ۳۵ میں ہم پڑھتے ہیں: < فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اٴُوْلُوا الْعَزْمِ مِنْ الرُّسُلِ ․․․> اے پیغمبر ! آپ اسی طرح صبر کریں جس طرح پہلے اولوا العزم رسولوں نے صبر کیا ۔

یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اولوالعزم پیغمبر کون ہیں؟

اس سلسلہ میں مفسرین کے درمیان بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے، قبل اس کے کہ اس سلسلہ میں تحقیق کریں پہلے ”عزم“ کے معنی کو دیکھیں کیونکہ ” اولوالعزم “ یعنی صاحبان ”عزم“۔

عزم“ کے معنی مستحکم اور مضبوط ارادہ کے ہیں، راغب اصفہانی اپنی مشہورو معروف کتاب ”مفردات“ میں کہتے ہیں: عزم کے معنی کسی کام کے لئے مصمم ارادہ کرنا ہے، ”عقد القلب علی امضاء الامر

قرآن مجید میں کبھی ”عزم“ کے معنی صبر کے لئے گئے ہیں، جیسا کہ ارشاد خداوند ہے:

< وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاٴُمُورِ >(1)

اور یقینا جو صبر کرے اور معاف کردے تو اس کا یہ عمل بڑے صبرکا کام ہے“۔

                                

(1) سورہٴ شوریٰ ، آیت۴۳

اور کبھی ”وفائے عہد“ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوا:

<وَلَقَدْ عَہِدْنَا إِلَی آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہُ عَزْمًا>(1)

اور ہم نے آدم سے اس سے پہلے عہد لیا مگر انھوں نے اسے ترک کردیا اور ہم نے ان کے پاس عزم و ثبات نہیں پایا“۔

لیکن چونکہ صاحب شریعت انبیاء علیہم السلام ایک نئی اور تازہ شریعت لے کر آتے تھے، جس کی بنا پر ان کو بہت سی مشکلات پیش آتی تھی، جن سے مقابلہ کرنے کے لئے ان کو مستحکم اور مصمم ارادہ کی ضرورت ہوتی تھی، لہٰذا ان انبیاء کو ”اولو العزم“ پیغمبر کہا گیا، اور مذکورہ آیت بھی ظاہراً انھیں معنی کی طرف اشارہ کررہی ہے۔

ضمنی طور پر ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ پیغمبر اکرم  (ص) ان ہی اولو العزم پیغمبر وں میں سے ہیں، کیونکہ ارشاد ہوا ”آپ بھی اسی طرح صبر کریں جس طرح سے آپ سے پہلے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر سے کام لیا ہے“۔

اگر بعض مفسرین نے ”عزم “ اور ”عزیمت“ کے معنی ”حکم و شریعت“ مراد لیتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے ورنہ لغوی اعتبار سے ”عزم“ کے معنی ”شریعت“ نہیں ہے۔

بہر حال ان معنی کے لحاظ سے ”من الرُسل“ میں ”من“ ”تبعیضیہ“ ہے جس سے کچھ خاص بزرگ پیغمبر مراد ہیں جو صاحب شریعت تھے، جیسا کہ سورہ احزاب میں بھی اسی چیز کی طرف اشارہ ہے:

< وَإِذْ اٴَخَذْنَا مِنْ النَّبِیِّینَ مِیثَاقَہُمْ وَمِنْکَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاہِیمَ وَمُوسَی وَعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٴَخَذْنَا مِنْہُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا>(۲)

                               

(1) سورہٴ طہ ، ، آیت۱۱۵              (۲) سورہ احزاب ، آیت ۷

اور اس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے تمام انبیاء سے اور بالخصوص آپ سے اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے عہد لیا اور سب سے بہت سخت قسم کا عہد لیا “۔

یہاں پر تمام انبیاء علیہم السلام کو صیغہ جمع کی صورت میں بیان کرنے کے بعد ان پانچ اولوالعزم پیغمبروں کا نام لینایہ ان کی خصوصیت پر بہترین دلیل ہے۔

اسی طرح سورہ شوریٰ میں بھی اولوالعزم پیغمبر کے بارے میں بیان ہوا ہے، ارشاد خداوندعالم ہے:

< شَرَعَ لَکُمْ مِنْ الدِّینِ مَا وَصَّیٰ بِہِ نُوحًا وَالَّذِی اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہِ إِبْرَاہِیمَ وَمُوسَی وَعِیسَی>(1)

اس نے تمہارے لئے دین میں وہ راستہ مقرر کیا ہے جس کی نصیحت نوح کو کی ہے اور جس کی وحی اے پیغمبر !تمہاری طرف بھی کی ہے، اور جس کی نصیحت ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو بھی کی ہے“۔

اسی طرح شیعہ اورسنی معتبر کتابوں میں روایات بیان ہوئی ہیں کہ اولوالعزم یہی پانچ پیغمبر تھے،جیسا کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث کے ضمن میں بیان ہواہے:

مِنُھُم خَمْسةٌ :اٴوّلھُم نُوح، ثُمَّ إبراہِیمَ ،ثُمَّ موسیٰ ، ثُمَّ عِیسیٰ ، ثُمَّ    مُحَمَّد   (ص)“(۳)

اولوالعزم پیغمبر پانچ ہیں، پہلے جناب نوح ، ان کے بعد جناب ابراہیم ، ان کے بعد جناب موسیٰ ،ان کے بعد حضرت عیسیٰ اور آخر میں حضرت محمد  (ص)“۔

                            

(1) سورہٴ شوریٰ ، آیت۱۳

(۲)مجمع البیان محل بحث آیات کے ذیل میں ،(جلد ۹، صفحہ ۹۴)

اور جب سائل نے سوال کیا : ”لم سموا اولوالعزم“ ان کو اولوالعزم کیوں کہا جاتا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا:

لاٴنَّھُم بَعثُوا إلیٰ شَرقِھَا وَ غَرْبِھَا وَجِنِّھا وَ إنْسِھا“(1)

کیونکہ (یہ اولوالعزم) پیغمبر مشرق و مغرب اور جن و انس کے لئے مبعوث ہوئے ہیں“۔

اسی طرح ایک دوسری حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

سَادَةُ النبیّین وَالمُرسَلِینَ خَمْسةٌ وَھُمْ اولوا العزمِ مِنَ الرُّسِل و علیھم دارة الرَّحی نوح و إبراہیم وموسیٰ و عیسیٰ ومحمد  (ص)“(۲)

انبیاء و مرسلین کے سردار پانچ نبی ہیں اور نبوت و رسالت کی چکی ان ہی کے دم پر چلتی ہے، اور وہ یہ ہیں جناب نوح، جناب ابراہیم، جناب موسیٰ، جناب عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی  (ص) “۔

تفسیر ”الدر المنثور “ میں ابن عباس سے یہی روایت کی گئی ہے کہ اولوالعزم یہی پانچ پیغمبر ہیں۔(۳)

لیکن بعض مفسرین نے ان انبیاء کو اولو العزم پیغمبر بتایا ہے جو دشمنوں سے جنگ کرنے پر مامور ہوئے ہیں۔

اسی طرح بعض مفسرین نے اولو العزم پیغمبر کی تعداد ۳۱۳ /بیان کی ہے، (۴) جبکہ بعض مفسرین نے تمام انبیاء علیہم السلام کو اولو العزم پیغمبر قرار دیا ہے(۵) اور اس نظریہ کے مطابق  ”مِن الرُسل“ میں ”من“”بیانیہ“ ہوگا”تبعیضیہ“ نہیں، لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ صحیح ہے اور اسلامی روایات سے بھی اس کی تاکید ہوتی ہے۔(۶)

                                     

(1) بحا رالانوار ، جلد ا۱، صفحہ ۵۸، (حدیث ۶۱) ،اور اسی جلد میں صفحہ ۵۶ ،حدیث ۵۵، میں بھی صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے

(۲) اصول کافی ، جلد  ۱،باب”طبقات الانبیاء والرسل “حدیث۳

 (۳،۴،۵) الدرالمنثور ، جلد ۶، صفحہ ۴۵               (۶) تفسیر نمونہ ، جلد ا۲، صفحہ ۳۷۷

99
0
0%
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

بچپن میں نبوت یا امامت ملنا کس طرح ممکن ہے؟
خلقت ميں حسن اور قبح ساتھ ساتھ کيوں؟
مستضعفین اورمستکبرین کون ہیں؟
جب غدیر میں رسول نے علی ولی اللہ کی گواہی دے دی تو پھر ...
دوسرے اديان کے پيروں کے ساتھ مسلمانوں کے صلح آميز سلوک ...
مرجعیت کے خلاف پروپیگنڈے کرنے کی وجہ کیا ہے؟
امام کیوں ضروری ہے؟
قرآن مجید کے الفاظ اور ان کی ترکیب، وحی پر مشتمل هونے ...
کیا خداوندعالم کسی چیز میں حلول کرسکتا ہے؟
نماز کے تشہد میں کیوں علی ولی اللہ پڑھنے سے نماز باطل ...

 
user comment