اردو
Sunday 12th of July 2020
  971
  0
  0

مجموعہ ٴ زندگانی چہارہ معصومین( علیہم السلام )

 

بچوں کے لئے انمول تحفہ

مجموعہ ٴ زندگانی چہارہ معصومین( علیہم السلام )

(۱)

حضرت محمد صلی اللہ علیہ آلہ وسلم

تالیف : شعبہ تحقیقات مسجد مقدس جمکران

مترجم : سید بہادر علی زید ی قمی

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآل وسلم  ارشاد فرماتے ہیں : ”مابعث نیبا قط الا یشترعیہ الغنم لیعلمہ بذالک دعیہ الناس

 خدا وند عالم نے کسی بھی نبی کو مبعوث نہیں کیا مگر یہ کہ پہلے کچھ مدت اس سے گلہ بانی کرائی تاکہ اسے لوگوں کی ہبری کا طریقہ سکھائے “۔

 نقوش پیغمبر گرامی 

نام : محمد

معروف لقب : رسول اللہ ، خاتم النبیین

کنیت : ابو القاسم

والد : عبد اللہ

 والدہ : آمنہ خاتون

دوران نبوت : ۲۳ سال / ۴۰ سال / کی قمر سے ۶۳ / سال تک ، ۱۳ مکہ میں اور ۱۰سال مدینہ میں ۔

آغاز بعثت : ۲۷ / رجب ۔

ولادت با سعادت

پیغمبر اسلام  کی دلادت باسعادت ۱۷ / ربیع الاول عام الفیل ( ۵۷۱ عیسوین ) کو جمعہ کے دن وقت طلوع فجر شہر مکہ میں ہوئی ہے ۔ آپ کی دلادت کے وقت دنیا میں عجیب حادثات رونما ہوئے جن سے دنیا میں تبدیلیو ں کا پتہ چلتا ہے۔

پیغمبر اسلام  کی دلادت کے وقت تمام بت اپنی جگہ سے اکھڑگئے اور سرنگوں ہوئے ایران کے بادشاہ انو شیروان کے مدائن میں واقع عظیم محل کے ایوان لرزہ برا ندام ہوگئے اور اس کے ۱۴ گنگرے زمین پر گر پڑے ۔ ساوہ کا در یا خشک ہو گا فارس کے اتشکدہ کی وہ آگ جو ہزار سال سے روشن تھی خاموش ہوگئی ۔

شیرخوارگی

 جب حضرت محمد  کی ولادت ہوئی تو آپ والد کا انتقال ہو چکا تھا لیکن آپ کے جد بزرگوار جناب عبد المطلب نے آپ کی سر پرستی اور دیکھ بھا ل کی ۔

پیغمبر اکرم  کی والدہ ماجدہ جناب آمنہ خاتون فرماتی ہیں : جب محمد  دنیا میں تشریف لائے تو آپ نے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے ، سر آسمان کی طرف بلند کیا اور چاروں طرف نگاہ ڈالی تو ان سے ایسانو ر ساطع ہو اجس نے ہر طرف کو روشن کردیا ۔ اس نور افشانی میں ، میں نے ایک آواز سنی جس نے کہا : کہہ دیجئے میں ہر جسد کرنے والے کے شر سے خدائے یکتا کی پناہ چاہتا ہوں ۔پس اور مولود کا نام محمد رکھ دیجئے ۔

بچپن

حضرت محمد  کی والدہ ماجدہ نے کچھ دن ہی آنحضرت  کو دودھ پلایا لیکن پھر دودھ خشک ہونے کی وجہ سے والدہ نے آپ کو جناب حلیمہ کے سپرد کردیا ۔

والدہ کی وفات

پانچ سال کی عمر میں حضرت محمد  اپنی مالدہ ماجدکے پاس پلٹ آئے لیکن ایک ہی سال بعد آپ نعمت مادر سے محروم ہوگئے ۔

جناب آمنہ خاتون علیہما السلام کے بعد حضرت عبد المطلب آپ کی نگہداری  و سرپرستی کرنے لگے ، اور آپ ان کے ساتھ بے پناہ محبت واحترام سے پیش آتے تھے ۔

حرام غذاسے اجتناب

جب حضرت محمد مصطفی    کی عمر مبارک سات سال تھی اور یہودیوں نے آپ کے اندر نبوت کی علامات کا مشاہدہ کیا تو اپنے دل میں کہنے لگے :  ہم نے اپنی کتابوں میں پڑھا ہے کہ نبی خدا حرام اور مشتبہ غذا استعمال نہیں کرتا ہے، لہٰذا ہمیں ان کا امتحان لینا چاہئے ۔ پس انھوں نے ایک مرغ چوری کر کے آنحضرت کی خدمت میں بھیجا لیکن آپ نے اسے تناول کرنے سے انکار فرمادیا ،جب تناول نہ کرنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: کیونکہ یہ حرام غذا ہے اور خداوندعالم نے مجھے حرام کھا نے سے محفوظ رکھا ہے ۔

انھوں نے دوبارہی جوری شدہ مرغ اس خیال سے کہ بعد میں اس کی قیمت ادا کردیں گے آپ کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے پھر کھانے سے انکار کردیا اور ان سے فرمایا: پروردگار عالم نے مجھے مشتبہ غذا سے محفوظ رکھا ہے ۔

داد ا کی وفات

ابھی آپ کی عمر آٹھ سال تھی اور آپ اپنی والدہ اور والد کے فراق میں غم واندوہ کے ساتھ زندگی بسر فرمارہے تھے کہ تیسری مرتبہ روخ فرسان خم نے آگھیرا اور آپ کے شفیق ومہربان دادا جو اپنی اولاد سے زیادہ آپ کو عزیز رکھتے تھے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔

حضرت عبد المطلب نے انتقال سے پہلے اپنے عزیز فرزند جناب ابو طالب ( حضرت علی کی والد ) کو حضرت محمد  سر پرست مقرر فرما دیا تھا۔

 بحیرا راہب

 جس وقت حضرت محمد کی عمر مبارک ۱۲ / سال تھی اور حضرت ابو طالب نے تجارت کے لئے سامان سفر دتیار کیا تو آنحضرت اپنے مہربان چچا کے ساتھ اس سفر تجارت پر روانہ ہوئے ۔

یہ کاروان تجارت شام کے نزدیک ایک چھوٹے سے شہر ” بصری “ پہنچا ،اسی شہر میں بہت قدیمی وتاریخی ایک صومعہ تھا جس میںایک راہب گوشہ نشین تھا اوراس کا نام ” بحیرا “تھا ۔ جب یہ تجارتی کاروان شہر میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ ایک بادل کا ٹکڑا کاروان پر سایہ فگن ہے اور جہاں جہاں کاروان جاتا ہے یہ بادل کا ٹکڑا اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔

بحیرا یہ منظر دیکھ کرفوراً اپنے صومعہ سے باہر آیا اور اپنے ایک ساتھی سے کہا : جاوٴ اس کاروان کو دعوت دے کر آوٴ قریش کے تجار اس دعوت میں حاضر ہوئے لیکن پیغمبر کو سامان کے پاس چھوڑ آئے ۔

بحیرا نے جو علامات بیان کی تھی جب وہ حاضر ین میں سے کسی میں موجود نہ پائیں تو کہا: کیا تم میں سے کوئی وہاں باقی رہ گیا ہے ؟ حاضرین نے کہا : جی ہاں ایک نوجوان کو ہم اپن سامان کے پاس ہی چھوڑ کر آئے ہیں ۔

بحیرا نے کہا : اس نوجوان کو بھی بلا لیجئے ۔

جب حضرت محمد وہاں تشریف لائے تو بحیرا نے انھیں دیکھا اور نبوت کی جن نشانیوں کے بارے میں اسے علم تھا اس نے وہ نشانیاں آنحضرت سے محسوس کرلیں ۔

بحیرا نے جب اہل کاروان کو لات وعزی ٰ ( دو بڑے بت ) کی قسم کھا تے ہوئے دیکھا تو اس نے آنحضرت سے کہا کہ میں آپ کو انہی لات وعزی ٰ کی قسم دیتا ہوں میں آپ سے جو سوال بھی کروں مجھے اس کا جواب دیجئے ۔حضرت محمد  نے فرمایا: میرے سامنے ان دونوں کے نام مت لو کیونکہ میں سب سے زیادہ انہی سے نفرت کرتا ہوں ۔ بحیرا نے کہا: تو پھر میں آپ کو خدا می قسم دیتا ہو ں ، حضور نے فرمایا: اب جو چاہو پوچھو ۔

بحیرا نے آپ سے خواب بیداری کی نشانیوں کے بارے میں سوالا ت کئے اور تمام جوابات کو اپنی دانست کے عین مطابق پایا ، تب ا س نے حضرت ابو طالب سے سوال کیا : اس نوجوان کی آپ سے کیا نسبت ہے ؟ حضرت ابو طالب نے کہا یہ میرا بھتیجا ہے ۔ بحیرا نے کہا : انھیں واپس اپنے شہر لے جایئے کیونکہ جو نشانیاں اور علامات میں ان میں دیکھ رہا ہوں ارو یہودیوں کو معلوم ہو جائیں تو انھیں نابود کردیں گے ، ان کا خیال رکھئے کہ یہودی انھیں انقصان نہ پہنچانے پائیں کیونکہ یہ مقام نبوت پر فائز ہونے والے ہیں ۔

وفا داری ومحبت

 ایک دفعہ خشک سالی کی وجہ سے قحط پڑ گیا ۔ حلیمہ خاتون جو اس وقت عمر رسید ہ بھی ہو چکی تھیں تنگ دستی کی وجہ سے شہر مکہ آئیں تاکہ اپنے لئے کچھ آذوقہ فراہم کریں لہٰذا پیغمبر اکرم  کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنی مشکل بیان کی ۔

پیغمبر اکرم  ان کی محبتوں کو کبھی فراموش نہیں فرماتے تھے ، لہٰذا ان کی خدمت میں آپ نے ۴۰ گوسفند اور اونٹ پیش کئے اور اس طرح یہ ثابت کیا کہ آپ کبھی بھی دوسروں کی محبتوں کی فراموش نہیں کرتے ہیں ۔

بے بنیاد باتوں اور خرافات کا مقابلہ

 جس دن پیغمبر اکرم  کے فرزند ابراہیم کا انتقال ہوا اتفاق سے اس دن سورج کو کہن بھی لگ گیا ، لوگ یہ دیکھ کر کہنے لگے: ابراہیم کی موت پر سورج بھی غمگین ہے اور یہ پیغمبر  کی عظمت کی علامت ہے ۔

پیغمبر اکرم  نے جب یہ سنا تو آپ نے جنازہ ابراہیم کو دفن کرے سے پہلے لوگوں کو مسجد میں بلایا اور پھر منبر پر جاکر آپ نے فرمایا : اے لوگو! چاند اللہ نشانیاں ہیں ، اور اسی کے حکم سے اپنے مدار میں چکر لگاتے رہے ہیں، انھیں کبھی بھی کسی کی موت کی وجہ سے گہن نہیں لگتاہے بلکہ یاد رکھو بھی سورج یا چاند گہن ہو تونماز آیات پڑھا کرو۔

 جب پیغمبر اکرم  جنازہ ابراہیم پر نماز نہ پ-ڑھی تو حاضرین میں سے کچھ لوگ کہنے لگے : دیکھا : پیغمبر اپنے زیادہ غمگین ہیں کہ اپنے بیٹے کے جنازے پر نماز تک پڑھنا بھو ل گئے ۔

آنحضرت نے ان سے فرمایا : ہر گز ایسا نہیں ہے نماز نہ پڑھنے کی وجہ غم وا ندوہ کی شدت نہیں ہے بلکہ خدا وند عالم نے مجھے حکم دیا ہے کہ جو نماز نہیں پڑھتا ( یعنی اس پر ابھی نماز واجب نہیں ہوئی ) اس پر نماز نہ پڑھوں ۔

ابراہیم کو دفن کرے کے لئے حضرت علی قبر میں داخل ہوئے تو کچھ پوگ کہنے لگے :پس باپ کا بیٹے کی قبر میں اترنا حرام ہے ، پیغمبر نے ان سے فرمایا:باپ کا بیٹے میں اترنا حرام نہیں ہے ۔ میں اس لئے قبر میں نہیں اترہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ جب قبر ہیں بیٹے کے بند کفن کھولوں تو فرط محبت سے بیتاب ہوجاوٴں ۔ اور نتیجتاً بارگاہ الٰہی میں میرا اجر ضائع ہوجائے ۔

اس طرح آنحضرت نے ایک واقعہ سے تین بے بنیاد باتوں اور خرافات کا سد باب فرمایا :

حجر اسود کے نصب میں پیغمبر اکرم  کی حکمت عملی

جس وقت پیغمبر اکرم  کی عمر مبارک ۳۵ سال تھی ( یعنی بعثت سے۵ سال قبل ) مکہ مختلف قبائل نے کعبہ کی تعمیر نو کا ارادہ کیا ۔

تمام قبائل نے بڑی محبت والفت اور محنت سے کعبہ کی تعمیر نو کاکام شروع کیا اور محبتوں کے سائے میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے اس کام کو آخری مرحلہ تک پہنچایا لیکن جب حجر اسود کو نصب کرنے کا وقت آیا تو ہر قبیلہ یہ چاہتا تھا کہ یہ سعادت اسے حاصل ہونی چاہئے لہٰذا اس پر ان کے مابین شدید اختلاف پیدا ہوگیا اور ایک دوسرے کے مد مقابل تلواریں لے کر صف اراء ہوگئے ۔

 اس خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک سفید ریش بزرگ نے یہ مشورہ دیا کہ ٹھیک ہے اس وقت جو شخص بھی دروازے ( در بنی شبیہ ) سے وارد ہو تا ہوا نظر آئے اسے ہم جج بنا لیتے ہیں پھر وہ جو بھی حکم دے اس پر عمل کریں گے ۔

تمام قبائل نے اس پیشکش کو قبول کرلیا ۔ سب کی نگاہیں دروازے پڑ جمی ہوئی تھیں کہ اچانک سب نے پیغمبر اکرم  کو وارد ہوتے ہوئے دیکھا جیسے ہی پیغمبر  نگاہ پڑی سب خوشی سے جھوم اٹھے اور کہنے لگے ارے یہ تومحمد امین ہیں یہ جو فیصلہ بھی کریں ہمیں قبول ہے ۔

 جب پیغمبر اکرم  ان کے قریب پہنچے تو انھوں نے سارا ماجرا آنحضرت سے بیان کیا۔ حضور  نے ا ن سے فرمایا : ایک چادر لے کر آوٴ، جب وہ چادر لائے تو آنحضرت  نے حجر اسود کو چادر پر رکھنے کے بعد فرمایا: ہر قبیلہ کا ایک ایک فرد آئے اور سب مل کر چادر کے کونے پکڑ کر حجر اسود دیوار کعبہ تک لے آئیں، جب دیوار کعبہ کے پاس لے آئے تو آنحضرت  نے حجر اسود اٹھا کر خود نصب فرمایا :

تو اس طرح پیارے بچوا! آنحضرت نے اپنی حکمت عملی اور تدبیر کے ذریعے اس شدید اختلا ف کا خاتمہ کر دیا ۔

حضرت خدیجہ سے پیغمبر اکرم  کی شادی

حضرت خدیجہ نہایت پاکدامن اور مالدار خاتون تھیں ۔ آپ کے چچا ایک مسیحی بزرگ اور عالم تھے جنھوں کے تما م آسمانی کتابوں کو پڑھ رکھا تھا اور پیغمبر اکرم  کی بعثت سے پہلے سے حق کی جستجو اور تلاش میںلگے ہوئے تھے ۔

 حضرت خدیجہ کے چچا نے حضرت محمد  کے وجود مبارک میں نبوت کی نشانیوں کو دیکھ لیا تھا ۔

حضرت خدیجہ نے اپنے چچا کے حضرت محمد  کے مقام و مرتبہ کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا اور خود ان کی اما نتداری و صداقت دیکھ چکی تھیں ۔

حضرت محمد  نے ۲۵ سال کی عمر میں اپنے مہربان چچا حضرت ابو طالب کے ذریعے حضرت خدیجہ سے شادی کرلی ۔

جناب خدیجہ پہلی خاتون تھیں جنھوں نے بعثت پیغمبر کے بعد سب سے پہلے اسلام قبول فرمایا :اور اسلام کی تبلیغ وترویج کی خاطر اپنی تمام دولت پیغمبر کے حوالے کردی ۔جناب خدیجہ نے اپنی زندگی کے ۲۵ سال پیغمبر اکرم  کے ساتھ بسر کئے اور پھر آخر کار بعثت کے دسویں سال آپ دنیاسے رخصت ہوگئیں ۔

پیغمبر اکرم  ان کے بارے میں فرمایا کرتے تھے : خدیجہ اس وقت مجھ سے ملحق ہوئیں جب سب مجھ سے دور ہو رہے تھے ، انھوں نے اسلام کی راہ میں ہرگز تنہا نہیں چھوڑ ا وہ ہمیشہ میر حامی ومدد گار رہیں ، خدا ان پر رحمت کرے ۔

بعثت پیغمبر 

جب پیغمبر اکرم  کی عمر مبارک ۴۰ سال ہوئی اور آپ ۲۷ رجب کے دن غار حرام میں اپنے رب سے راز ونیاز اور اس کی عبادت میں مشغول تھے کہ جبرئیل امیں نازل ہوئے اور آپ کو مژہ رسالت سنایا ۔

پیغمبر اکرم  پہلی وحی الٰہی دریافت کرنے کے بعد اپنے گھر تشریف لائے تو سب سے پہلے حضرت علی وجناب خدیجہ آپ پر ایمان لائے ۔

تین سال تک پوشیدہ اور مخفی تبلیغ رسالت کا سلسلہ چلتا رہا پھر اس کے بعد آپ کے علی الاعلان دین اسلام کی تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا یہی اسلام کا اغاز تھا ۔

اسیروں سے بدسلوکی کی بناپر ایک صحابی کی سر زنش

   جنگ خیبر پیغمبر اکرم  کے زمانے کی جنگوں میں سے ایک جنگ ہے ۔ یہ جنگ سات ہجری کو سرزمین خیبر ( ۲۰ کلو میڑ دور شمال مدینہ میں ) میں سپاد اسلام اور یہودیوں کے درمیان ہوئی تھی ۔

اس جنگ میں مسلمانوں کو کامیابی حاصل ہوئی اور سپا ہ اسلام نے کچھ یہودیوں کو اسیر بھی کرلیا تھا اپنی اسیروں میں ایک مشہور ومعروف یہودی دانشمند کی بیٹی بھی صفیہ بھی تھی۔

آنحضرت کا ایک صحابی ،صفیہ کو ایک عورت کے ہمراہ لے کر آنحضرت  کی خدمت میں حاضر ہوا لیک جب وہ ان دونوں عورتوں کو لے کر آرہا تھا تو اس نے اخلاق اسلامی کے اصولوں کی پابندی نہ کی اور انھیں شدہ جنازو ں کے پاس سے گذار کر لا یا۔

جب صفیہ نے اپنی کشتہ شدہ جنازوں کو دیکھا تو غم واندوہ کے عالم میں اس اپنے چہرے کو خراشیدہ کر ڈالا ، خاک اٹھا کر اپنے سر میں ڈالی لی اور زار وقطاررونے لگی آپ نے صفیہ سے پوچھا کہ تم نے اپنے چہرے کو کیوںخراشا ہے اور اپنے آپ کو خاک آلودہ کیوں کیا ہے؟

صفیہ نے بتایا کہ مجھے کشتہ شدی جنازوں کے پاس سے گذارا گیاہے پیغمبر اکرم  ایک اسیرو لاچار عورت کے ساتھ اس غیر اسلامی سلوک کو سن کربیحد ناراض ہوئے اس صحابی سے فرمایا: کیا تم میں مہر ومحبت اور عاطفت کا مادہ ختم ہو چکا ہے کہ تم نےاس عورت کے ساتھ یہ برتاوٴ کیا اور اسے اس کے کشتہ شدی جناز وں کے پاس سے گذار ا کر لائے ہو ؟ تم نے یہ بے رحمی کا مظاہر ہ کیوں کیا ہے ؟

شدید اقتصادی دباوٴ اور دیمک کی داستان

جب اسلام کی ترقی و پیشرفت کے خلاف مشرکین کی سازشیں ناکام ہوگئیں تو انھوں نے حضرت محمد مصطفی  اور ان کے اصحاب کے سخت اقتصادی بائیکاٹ کا رادہ کرلیا ۔

مشرکین کے ۸۰سر کردہ فراد نے ایک عہد نامہ لکھ کر اس پر دسخط کئے جس میں آنحضرت اور ان کے خاندان واصحاب سے قطع تعلق پر زور دیا گیا تھا ۔

انھوں نے اس عہد نامے کو کعبہ کے اندر اویزاں کر دیا اور پھر حضرت ابو طالب سے کہا: اس عہد نامہ پر لازمی طور پر اس وقت تک عمل ہوتا رہے گا جب تک کہ تمہارا بھتیجا اپنے دین کی تبلیغ سے باز نہیں آتا ۔

جب اس عہد نامے کو لٹکے ہوئے تقریبا ً سال گذر گئے تو پروردگار عالم کی جانب سے پیغمبر اکرم  پر وحی نازل ہوئی کہ عہد نامے کو دیمک نے کھا کر ختم کر دیا ہے اور صرف خدا کا نام( باسمک اللھم ) کو اس میں لکھا گیا تھا باقی بچا ہے ۔

حضرت محمد  نے یہ خبر حضرت ابو طالب کو دی حضرت ابو طالب یہ خبر سن کر بہت خوش ہوئے اور انھوں نے اسی واقعہ کے ذریعے قریش کے عہد نامے کو باطل کرنے کا رادہ کیا لہٰذا آپ اسی ارادے سے مسجد الحرام کی طرف چلے ۔

ادھر قریش کے لوگ کے گرد جمع تھے ۔ جب حضرت ابو طالب ان کے پاس پہنچے تو وہ یہ چاہتے تھے کہ حضرت ابو طالب سے پیغمبر کو خاموش کرنے کے بارے میں گفتگو کریں لیکن حضرت ابو طالب نے عہد نامے کو عجیب داستان سنا کر انھیں حیرت زدہ کردیا ۔اس عجیب معجزے نے انھیں اس قدر متاثر کیا کہ کہنے لگے : اگر یہ خبر صحیح ہوگی تو ہم آپ لوگوں کا بائیکاٹ ختم کردیں گے ۔ حضرت ابو طالب نے کہا : اگر یہ خبر جھوٹ ہوئی تو محمد  کو تبلیغ سے روک دوں گا ۔

کچھ لوگ گئے اور کعبہ کے اندر سے عہد نامہ اتار کر لائے جب اسے کھولا گیا تو دیکھا کہ تمام عہد نامے کو دیمک کھاگئی ہے اور صرف خدا کا نام محفوظ ہے ۔کچھ لوگ یہ دیکھ کر آنحضرت  پر ایمان لے آئے لیکن ان میں سے اکثر لوگ اپنی صد پر قائم رہے اور کہنے لگے کہ یہ واقعہ جادو اور سحر کا نتیجہ ہے ۔

اس واقعہ کے بعد حضرت محمد  اور ان کے اصحاب کا بائیکاٹ ختم ہوگیا ۔

حضرت محمد  ٴکا آخری حج اور آخری پیغام

 ہجری کے دسویں سال آنحضرت  کو خداوندعالم کی نوجناب سے حج سے میں شرکت اور لوگوں اس کے احکام واہداف بیان کرنے کا حک دیا گیا ۔

جب پیغمبر اکرم  نے لوگوں کی بتایا کہ یہ ان کا آخری حج اور ان کی زندگی کا آخری سال ہے تو لو گ ان کے چادر ں طرف جمع ہوگئے ۔ اور حضرت علی بھی جو کہ اس وقت یمن گئے ہوئے تھے تشرلف لے آئے ۔ مکہ میں اس سال تقریبا ً ایک لاکھ حاجی پیغمبر اکرم  کے ہمراہ تھے اور ان کے ساتھ فریضہ حج انجام دے رہے تھے ۔

جب حج کا یہ عظیم کاروان حج کرکے مد ینہ کی جانب واپس پلٹ رہا تھا تو پیغمبر اکرم  کے پاس جبرئیل ناز ل ہوئے اور حضرت علی کی جانشینی کے بارے میں فرمان خد اسنا یا ۔

  پیغمبر اکرم  اس غدیر خم کی سر زمین پر پہنچے تھے ، آپ نے فرمان خدا ملتے ہی لوگوں کو رکنے کاحکم دیا جب جمع ہوگئے تو آل پالان شتر سے تیار کردہ منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: اے لوگو! یہ بات جان لو کہ خداندعالم نے علی کو تمہار ا امام وولی قرار دیا ہے اور تم سب پر ان کی اطاعت واجب کی ہے ۔ اس کے بعد آپ نے حضرت علی کے ہاتھ کو بلند کرکے فرمایا: ” من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ“”میں جس جس کا بھی مولا ہوں یہ علی اس کے مولا ہیں

پیغمبر اکرم  کی جانگداز رحلت

 پیغمبر اکرم  بستر رحلت پر تھے لیکن باہر خلافت کے بارے میں ہونے والی تما م کاروائیوں سے باخبر تھے ۔

 جس دن اشراف و بزرگ اصحاب پیغمبر اکرم  کی عیادت کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ  نے بہترین موقع سمجھ کر فرمایا : مجھے قلم ودوات لادو تاکہ میںتمہیں ایک ایسی چیز لکھ کر دیدوں جس کے بعد تم ہر گز گمراہ نہ ہوگے ۔لیکن حضرت عمر نے کہا : پیغمبر اکرم  پر بیماری کا غلبہ ہورہا ہے اسی لئے ہذیان کہہ رہے ہیں ،ہمارے لئے تو قر آن ہی کافی ہے ۔ اس طرح در حقیقت حضرت عمر اور کچھ دیگر اصحاب نے پیغمبر اکرم  کو اپنے جانشین کے بارے میں وصیت نہیں لکھنے دی ۔

آخر کار پیغمبر اکرم  ۲۸ صفر بروز پیر ۶۳ سالم کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے ْ

وصیت کے مطابق حضرت علی علیہ السلام نے آپ کو غسل و کفن دیا ، نماز پڑھائی اور اپ کو مسجد النبی کے ساتھ آپ کے گھر میں جو حجرہ مطہر ہ کے نام سے معروف تھا ۔ دفن کردیا ۔

 سب مسلمان آپ کے غم سے نڈھال تھے ۔ اور واقعاً ان کے لئے یہ لمحات بہت سخت تھے کہ انھوں نے اپنے مہربان ودلسود رہبر کو کھو دیا تھا ، خصوصاً حضرت علی وحضرت فاطمہ زہرا سخت غمگین وما تم زدہ تھے ۔

اس بارے میں حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اکرم  کی رحلت پر مجھ پر غم واندوہ کی وہ کیفیت تھی کہ اگر یہ غم واندوہ اور صدمہ پہاڑوں کو پہنچتا تو وہ بھی تحمل نہ ہرپاتے ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : رحلت پیغمبر  سے دل فاطمہ زہرا پر وہ صدمہ پہنچا ہے کہ خدا کے علاوہ اس کو کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا ۔

منابع

بحار الانوار          علامہ مجلسی 

سیرہ چہاردہ معصومین         مہدی پیشوائی

تاریخ پیامبر اسلام عباس صفائی حائری

 

 بچوں کے لئے انمول تحفہ

مجموعہ ٴ زندگانی چہاردہ معصومین( علیہم السلام

  971
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    نگاہ دہر ہے پھر ابن بوتراب (عج) کی سمت
    حضرت محمّد مصطفی ؐرحمت للعالمین ؐ
    امام جعفر صادق عليہ السلام کي سيرت طيبہ
    حضرت حسنین (ع)کے بارے ارشادات رسول(ص)
    حضرت فاطمہ زہراء (س) کی خوشنودی میں پیغمبر اسلام (ص) کی ...
    امام سجاد(ع) واقعہ کربلا ميں
    امّ ايمن
    نبی(ص) کی احادیث میں تناقض
    حضرات ائمہ علیھم السلام
    پيغمبر اسلام (ص)کے اہلبيت (ع) قرآن کريم کے ہم پلہ ہيں

 
user comment