اردو
Wednesday 15th of July 2020
  2714
  0
  0

اھل بیت علیھم السلام زبور کی نظر میں

اھل بیت علیھم السلام  زبور کی نظر میں

حضرت بقیة اللہ (عج) کی حکومت

قرآن کریم کی بعض آیات میں اس سنہرے زمانہ کی طرف اشارہ ھوا ھے ، چنانچہ خداوندعالم کا ارشاد ھوتا ھے:

<۔۔۔وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ >[1]

”۔۔۔اور (نیک) انجام کار بہر حال صاحبان تقویٰ کے لئے ھے۔“

اور مستفیضہ روایات بھی اسی مطلب کی گواھی دیتی ھیں کہ خداوندعالم کی حکومت حقہ آخر الزمان میں آئے گی۔

”دَولَتُنا آخِرُ الدُّوَلِ“۔[2]

”ھماری حکومت آخری زمانہ میں ھوگی“۔

بعض آیات میں واضح طور پر بیان کیا گیا ھے کہ یہ بشارت گزشتہ انبیاء (علیھم السلام) کی کتابوں میں بھی ذکر ھوئی ھے، جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ھے:

< وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اٴَنَّ الْاٴَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِی الصَّالِحُونَ>(۱)(۲)

”اور ھم نے ذکر کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ھے کہ ھماری زمین کے وارث ھمارے نیک بندے ھی ھوں گے۔“

یہ آیہٴ شریفہ آئندہ کے سلسلہ میں بشارت دے رھی ھے کہ انسان کی زندگی سے شرو فساد بالکل ختم ھوجائے گا اور گویا ستمگر اور اشرار بالکل نیست و نابود ھوجائیں گے اور زمین کی وراثت صالحین کے ہاتھوں میں پہنچ جائے گی، کیونکہ ”وراثت“ اور ”میراث“ کا ان مقامات کے لئے استعمال ھوتا ھے کہ کوئی شخص یا گروہ بالکل ختم ھوجائے اور اس کا مقام اور ساری چیزیں دوسرے گروہ کی طرف منتقل ھوں۔

زبور میں مکتوب الٰھی کیا ھے؟

مذکورہ آیت کا مضمون زبور کے مرموز (۳۷) میں مکرر ذکر ھوا ھے اور یہ بشارت مختلف الفاظ میں بیان کی گئی ھے اور حضرت داؤد علیہ السلام کو تسلی اور دلداری دیتے ھوئے کہ:

شریر لوگوں سے رنجیدہ خاطر نہ ھوں[3] کیونکہ وہ گھاس کی طرح جلد ھی ختم ھوجائیں گے[4] خدا پر بھروسہ کریں اور اسی سے لذت حاصل کریں (۳،۴) اس کے ذریعہ اطمینان پائیں اور اسی کا انتظار کرتے رھیں(۷)وغیرہ[5]

اس کے بعد ارشاد ھوتا ھے:

(۹)کیونکہ ظالم ختم ھوجائیں گے اور خدا پر بھروسہ کرنے والے زمین کے وارث ھوں گے(۱۰) کچھ ھی مدت کے بعد ظالموں کا خاتمہ ھوجائے گا اور اگر ان کو تلاش بھی کرنا چاھو تو نھیں مل سکیں گے (۱۱) لیکن تواضع کرنے والے زمین کے وارث ھوں گے اور سلامتی کی کثرت سے لذت حاصل کریں(۱۲) ظالم ، صادق کے خلاف بُری فکریں کریں گے اور ان کے سامنے اپنے دانت بجائیں گے(۱۳) خداوندعالم ان پر ہنستا ھے کیونکہ وہ دیکھ رہا ھے کہ ایک روز آنے والا ھے(۱۴) ظالم تلوار اٹھائیں گے اور کمان جوڑیں گے تاکہ مظلوم اور مسکین کو نشانہ بنائیںلیکن ان کی کمانیں ٹوٹ جائیں گی(۱۶) صدیق کی کمی ظالموں کی زیادتی سے بہت بہتر ھے(۱۷) کیونکہ ظالموں کے بازو ٹوٹ جائیں گے اور خداوندعالم صدیقوں کا معتمد ھے(۱۸) خداوندعالم صالحین کے زمانہ کو جانتا ھے اور ان کی میراث ھمیشگی ھوگی(۱۹) مصیبت کے وقت شرمندگی نھیں ھوگی اور قحط کے زمانہ میں بھی سیر رھیں گے(۲۰) لیکن ظالم ھلاک ھوجائیں گے اور خدا کے دشمن گوسفند کی چربی کی طرح فانی بلکہ دھویں کی طرح ختم ھوجائیں گے(۲۲) کیونکہ خدا کے نیک بندے زمین کے وارث ھوں گے لیکن ملعون منقطع اور ختم ھوجائیں گے(۲۹) صدیقین زمین کے وارث ھوں گے اور ھمیشہ اس میں رھیں گے(۳۴) تم خدا کی پناہ طلب کرو اور اس کی راہ پر چلتے رھو کہ تمھیں زمین کی وراثت سے عزت ملے گی، اور تم اس کو ظالموں کے نیست و نابود ھونے کے وقت دیکھو گے(۳۸) لیکن گناہگاروں کا سرانجام مستاٴصل (یعنی جڑ سے خاتمہ) اور ظالموں کا نتیجہ نیست و نابودی ھے۔



[1]  سورہٴ اعراف (۷)، آیت ۱۲۸؛ سورہٴ قصص (۲۸)، آیت ۸۳، عاقبت یعنی سرانجام، اور گزشتہ آیہٴ شریفہ کے عموم اور اطلاق کے مطابق نہ صرف جہان آئندہ جو اس جہان کے بعد ھے، متقین کے لئے عالَم سعادت اور سر بلندی ھوگا بلکہ آخری حکومت اور اس دنیا کی زندگی کا آخر بھی ان کے ہاتھوں میں ھوگا کہ اجتماعی امور کی ذمہ داری بھی انھیں کے ہاتھوں میں ھوگی۔

[2] ارشاد مفید، ج ۲، ص ۳۸۴؛ بحار الانوار، ج ۵۲، ص ۳۳۲، باب ۲۷، حدیث ۵۸۔

[3] سورہٴ انبیاء (۲۱)، آیت ۱۰۵۔

[4] اس آیہ شریفہ میں ذکر سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تورات ھے کہ زبور داؤد جو شریعت تورات کے پیرو تھے اس کے بعد نازل ھوئی ھے، اور قرآن کریم میں ذکر کے مختلف معنی بیان کئے گئے ھیں جو سبھی لغوی معنی کے مصداق میں سے ھیں جیسے: رسول، <ذکراً رسولاً>، و قرآن: <نزلنا الذکر> و تورات : <فاسئلوا اھل الذکر> وغیرہ۔

اور جیسا کہ اھل الذکر سے ائمہ دین مراد لئے گئے ھیں یہ آیت کی شان نزول کے مخالف نھیں ھے کیونکہ یہ حضرات ذکر اور تذکر الٰھی کے سب سے بڑے مصداق ھیں۔

[5] جیسا کہ قرآن مجید میں روز موعود کے انتظار کر نے کا حکم آیا ھے <فَانتَظِرُوا إِنِّی مَعَکُمْ مِنْ الْمُنتَظِرِینَ > ”پس تم بھی منتظر رھو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ھوں۔(سورہٴ اعراف (۷)، آیت ۷۱)

  2714
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    کلمه مولا کے معني
    حضرت علی المرتضیٰ۔۔۔۔ شمعِ رسالت کا بے مثل پروانہ
    افسوس کہ علی(ع) کو کوئی پہچان نہ سکا
    اقوال حضرت امام علی علیہ السلام
    قرآن امام سجاد (ع) کے کلام ميں
    امام علی النقی علیہ السلام کی چالیس حدیثیں
    حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شخصیت اور علمی فیوض
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے خطوط بادشاہوں اور ...
    حسین شناسی یعنی حق پرستی
    حضرت امام رضا علیہ السلام کے چند حسن اخلاق

 
user comment