اردو
Wednesday 25th of November 2020
  70
  0
  0

شہدائے عاشور کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف یوم احتجاج

 شہدائے عاشور کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف یوم احتجاج
حکومت شہدائے عاشور کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوچکی ہے/ ملوث دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک چلائیں گے/ بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کرنے والی حکومت سانحہ میں ملوث‘ لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ کرنے والے دہشت گردوں کو گرفتار کیوں نہیں کرتی؟

 

حکومت شہدائے عاشور کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوچکی ہے‘ اگر سانحہ عاشور میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک چلائیں گے‘ بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کرنے والی حکومت 27 دسمبر کے سانحہ میں ملوث‘ لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ کرنے والے دہشت گردوں کو گرفتار کیوں نہیں کرتی؟

ان خیالات کا اظہار جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی‘ علامہ آفتاب حیدر جعفری اور مولانا محمد حسین مسعودی نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اعلامیہ کے مطابق جعفریہ الائنس پاکستان کی اپیل پر شہدائے عاشور کے قاتلوں کی عدم گرفتاری اور سندھ حکومت کی جانب سے جاری کریک ڈاؤن اور شیعہ بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاریوں کے خلاف سندھ بھر میں یوم احتجاج منایا گیا‘ اس سلسلے میں حیدرآباد‘ نوابشاہ‘ دادو‘ میرپورخاص‘ خیرپور‘ سکھر‘ لاڑکانہ سمیت کراچی میں بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ مرکزی مظاہرہ کراچی میں خوجہ مسجد کھارادر پر ہوا۔ خوجہ مسجد کھارادر میں بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا کی طفل تسلیوں کے باوجود ملت جعفریہ کے بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاریوں کا عمل زور و شور سے جاری ہے‘ متعصب حکومت نے اب تک 100 سے زائد بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کرکے بے بنیاد مقدموں میں ملوث کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور پولیس انتظامیہ ہر عزادار کو جو جلوس عزا میں شریک ہوا گرفتار کرنے کے درپے ہے‘ ہم اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ادہر شیعہ علماء کونسل نارتھ ناظم آباد کی جانب سے منعقدہ احتجاجی اجتماع سے خطاب کے دوران علامہ کامران حیدر عابدی نے کہا کہ سانحہ عاشور کے ملزمان چہلم امام حسین علیہ السلام  سے قبل گرفتار کئے جائیں بصورت دیگر قائد ملت جعفریہ کے حکم پر ملک گیر احتجاج کیا جائے گا کیونکہ حکومت بدنیتی اور ناانصافیوں سے کام لے رہی ہے اسے مالی نقصان تو نظر آرہا ہے لیکن انسانوں کی جان کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں اس پر ستم یہ کہ مسلسل شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کر کے سراسر زیادتیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی کی جائے اور زخمیوں کے علاج معالجے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ شہداء کے اہلخانہ کی دادرسی کی جائے اور ظالم اور مظلوم کے فرق کو واضح رکھتے ہوئے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال ہونے سے بچایا جائے تاکہ ملت جعفریہ میں پھیلی ہوئی بے چینی کا خاتمہ ہو اور عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ 

  70
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

اديان كی اہانت كے خلاف ہيومن رائٹس كی بين الاقوامی ...
دین و سیاست کے تعلق کے مصور آےت اللہ سیستانی ہیں۔ ...
امریکیوں کے قول و فعل میں تضاد ہے، کاغذوں پر ایران سے ...
يوكرائنی زبان میں قرآن كريم كے پہلے ترجمے كی اشاعت
مظالم کے مقابلے میں خاموشی گناہ کبیرہ ہے: علامہ ناصر ...
جامعۃ الازہر نے سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں پر ہوئے ...
بحرین: شیعہ ملک کو غیر شیعہ بنانے کی سازش / رپورٹ بمع ...
جب تک مسلمان وحدت حاصل نہ کریں عالم اسلام کے مسائل حل ...
کابل دھماکے میں پاکستانی سفارتخانے کا عملہ بھی زخمی
آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی: وہابی تکفیری فکر، اسلام کے ...

 
user comment