اردو
Monday 13th of July 2020
  1045
  0
  0

ارشاد ربا نی

ارشاد ربا نی

ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید ( ۱۸۔ق (

” کوئی با ت اس کی زبا ن پر نھیں آ تی مگر ایک نگھبا ن اس کے پا س ( اسے محفو ظ کر نے کے لئے ) تیا ر رھتا ھے ۔“

وکلّ انسان الز منا طا ئر ہ فی عنقہ ونخرج لہ یو م القیمة کتا با ً یلقا ہ منشورا ۔۔ الخ ( بنی اسرا ئیل :۱۳(

” ھم نے ھرانسا ن کے نا مہ اعما ل کواس کے گلے کا ھا ر بنا دیا ھے ْ اور قیا مت کے روز ھم اسے نکا ل کر اس کے سامنے رکہ دیں گے کہ اسے ایک کھلی ھو ئی کتا ب اپنے سامنے پا ئے گا ۔“

ارشاد ربا نی

یو م تجد کا ندس ما عملت من خیر محضر اً وما عملت من سوء ۔۔ آل عمران

” اس روز کہ جس دن ھر شخص نے کہ جو کچہ ( دنیا میں ) نیکی کی ھے اور جو کچہ برا ئی کی ھے ۔ اسے مو جود پا ئے گا اور آ رزو کر ے گا کہ کا ش اس کی بدی اور اس کے در میا ن طویل زما نہ حا ئل ھو جا تا ۔۔ ( ۳۰(

نظا رoٴ کا ئنا ت

ارشاد ربانی

ولو فتحنا علیھم با با ً من السما ء فظلو ا فیہ یعر جون ۔ لقا لو اانما سکر ت ابصار نا بل نحن وقوم مسحورون ( الحجر ۱۵(

” اور اگر ھم ان پر آ سما ن کا کو ئی دروازہ کھو ل دیتے اور وہ دن دھا ڑ ے اس میں چڑہ جا تے تو یھی کھتے کہ ھماری آ نکھیں نشہ آ ور ھیں یا ھم پر جا دو کر دیا گیا ھے ۔“

ارشاد بنوی

” لا تقوم السا عة حتی لا تنطح ذات قرن جما ء و حتی یبعث الغلا م الشیخ برید اً بین الا فقین و حتی یبلغ التا جر بین الافقین فلا یجد ربحا ً ۔ “ ( طبرانی کبیر (

” قیا مت قائم نھیں ھو گی یھا ں تک کہ بے سینگووالی سینگ والی کو نہ ما ر ے اور یھا ں تک کہ نو جوان بو ڑھے کو قا صد بنا کر آ سما ن کے دو نو ں کنا روں کے در میا ن بھیجے ۔ اور یھا ں تک کہ جب تا جر آ سما ن کے کنا رو ں کے در میا ن پھنچے گا ۔تب بھی منا فع نھیںپا ئے گا ۔“

کا ئنا ت وسیع ھو رھی ھے

ارشاد ر با نی

” وا لسما ء بنینھا با ید وانا لمو سعو ن “۔۔(۵۱(

اور ھم نے ھی آ سما ن کو ( اپنے ) دست قدرت سے بنا یا اور ھم اسے وسیع کر رھے ھیں۔ ( ذا ریا ت:۴۷ (

” اولیس الذی خلق السموات والا رض بقا در علی ان یخلق مثلھم بلی وھو الخلا ق العلیم “ (یٰس:۸۱(

” کیا وہ کہ جس نے آ سما نو ں اور زمین کو پیدا کیا ھے ۔ اس پر قا در نھیں ھے کہ ان ( آ سما نو ں و زمین ) جیسے اور پیدا کر دے ۔ ھا ں ( وہ قا در ھے ) اور وہ بڑا پیدا کر نے والا اور علم رکھنے والا ھے ۔“

ارشاد نبو ی

انھا اما رات من اما رات بین یدی السا عة او شک الر جل ان یخرج فلا یر جع حتی یحدث نعلا ہ سو طہ ما احدث اھلہ بعدہ ۔

قیا مت کے علا ئم میں سے ھے اور قریب ھے کہ آ دمی گھر سے نکلے اور جب واپس آ ئے تو جو کچہ اس کے گھر والو ں نے اس کے بعد کیا ھو گا ۔ اس آ دمی کے جو تے اور چا بکاسے بتا دیں گے ۔“

  1045
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    نظريہ فطرت، اجمالي طور پر
    مسئلہ امامت فروع دین میں سے ہے نہ کہ اصول دین میں سے
    خلقت ميں حسن اور قبح ساتھ ساتھ کيوں؟
    شرک سے آلودہ عبادات کا قرآن ميں ذکر
    عدل
    بہترين شريک تجارت
    دين اسلام کے دائرے ميں محض ايک خارجي اور ظاہري ڈھانچہ ...
    ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
    ماں کے پیٹ کے تین تاریک پردے
    تربیت کا اثر

 
user comment