اردو
Friday 24th of May 2019
  31
  0
  0

سیرت رسول اکرم (ص) میں انسانی عطوفت اور مہربانی کے مظاہر (پہلا حصہ)

سیرت رسول اکرم (ص) میں انسانی عطوفت اور مہربانی کے مظاہر (پہلا حصہ)

یہ جذبہ عشق و محبت ہر جگہ کارفرما ہے یہاں تک کے جب ہم عشق کے عظیم الشان حلقہ تک پہونچتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ قرآن کریم عشق و محبت کو رسالت کی مزدوری کے طور پر بیان کرتا ہے ایک ایسے حلقہ سے محبت کا حکم دیتا ہے جو ہمارے جذبہ عطوفت کو معراج بخشے کہ درحقیقت یہی وہ گھرانہ ہے جو امت کے لئے کشتی نجات ہونے ساتھ ساتھ پورے عالم کے لئے ساحل امان بھی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

آیت اللہ محمد علی تسخیری     
 ترجمہ و تلخیص: سید نجیب الحسن زیدی
شک نہیں کہ جذبہ عطوفت، مہربانی اور ہمدردی انسانی شخصیت کا اہم حصہ ہیں ،اس انسانی ہمدردی و محبت سے جڑے مفاہیم کو اپنے اعلی ترین انداز میں جس شخصیت نے پیش کیا ہے وہ  رسول اکرم (ص) کی ذات با برکت  ہے. پیش نظر تحریر  میں پیغمبر اسلام(ص) کی سیرت سے ایسے متعدد نمونے پیش کیے گئے ہیں  جو مختلف شرائط کے تحت  لوگوں کے ساتھ آپکی زندگی کے خصوصی اور عمومی تعلق خاطر کو بیان کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ  آپکی زندگی میں دوسروں کی جگہ کیا تھی اور آپ کس قدر انسانوں سے محبت کر تے تھے . لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی زندگی کے ان نمونوں کو بیان کرنے سے  قبل چند نکات کی طرف توجہ مبذول کرنا ضروری ہے  اور وہ  یہ کہ :
عطوفت انسانی شخصیت کا ایک اہم عنصر ہے حضرت علی علیہ السلام  انسانی شخصیت کو تشکیل دینے والے عناصر یعنی عقل ، فکر ، عطوفت ، حواس ، کے درمیان پائے جانے والے نظم و ہم آہنگی کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : تعقل ،تفکر کے لئے رہبرو راہنما ہے اور تفکر، دل کے لئے، دل حوا س کے لئے اور حواس انسانی اعضا کے لئے ۔انسانی تربیت کے لئے ان تمام مراحل میں اسلام ہر طرح سے کوشاں ہے  چنانچہ عقلانیت کے ساتھ حسب ذیل انداز میں انسان کے جذبہ مہربانی کو باورور بناتا ہے  ۔
الف) انسان کے اندر جبلی تعقل کے عنصر کو پرورش کرتا ہے اور اسے تامل ، تدبر اور استدلال کی طرف ہدایت کرتا ہے ۔
ب)  تعقل کی ارتقائی سیر اور منطقی روش کی نشاندہی کرتاہے اور ہر اس روش سے پرہیز کرنے کا حکم دیتا ہے  جس پر عمل ایک سلجھی ہوئی گفتگو  کے نتائج کو توڑ مروڑکر پیش کرنے کا باعث ہو
ج)جذبہ عطوفت کی پرورش کرتا ہے اور اسے سب سے عظیم محبوب( یعنی خدا وند متعال جو مطلق کمال ہے ) کے خالص عشق سے جوڑتاہے اورعطوفت کے جذبہ کو اپنے اس عمل کے ذریعہ اسکی معراج پر پہونچاتا ہے ۔
د) اپنی مقدس شریعت کو ایسے خالص جبلی پیکر میں ڈھال کر پیش کرتا ہے جوانسان کے کردار کو سنوارنے کا کام کرتی ہے اور انسان کی کامیابی و فلاح  کے خطوط ترسیم کرتی ہے ۔
ھ) شعور خود آگاہی کے ساتھ انسان کی قوت ارادی کومضبوط بناتا ہے .جو انسان کے ہر بھڑکے ہوئے جذبات سے ماورا ہو کر انسان کو مطمئن کرتی ہے کہ اسکے احساسات کی سمت صحیح ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ شعور انسانی کردارکی تعمیر میں اپنی آزادی کو محفوظ رکھتا ہے اوراسی آزادی سے ذمہ داری جنم لیتی ہے .انسانی احساسات اور جذبہ عطوفت انسان کے کردار اسکی رفتار اور اسکے ارادہ کی تعمیر میں ایک موثر رول ادا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مختلف اسالیب کوبروے کار لاتے ہوئے انہیں بیان کیا ہے ۔
اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ ہر چیز کو بہت سادہ انداز میں بیان کرتا ہے جیسے اس انسان کے  عاشقانہ اور دوستانہ رابطہ کو پہلے مصلحت کی بنیاد پر دیکھتا ہے اور پھر اسکو ارتقا بخشتے ہوئے انسان کے وجود کا ایک جز بنا دیتا ہے اور ایک درونی محرک کی صورت میں انسان کی چال ڈھال کو کنٹرول کرتا ہے  پھر اسے انسانی مسئلہ سے جوڑتے ہوئے اسکے مفاد تک لے آتاہے   چنانچہ اسلامی تعلیمات مومنین کے درمیان ایک دوسرے کے لئے والہانہ جذبہ کو بیان کر رہی ہیں '' یحبون من ھاجر الیھم ولا یجدون فی صدورھم حاجة مما اوتو...''  اور جن لوگوں نے دار ہجرت کو ایمان سے پہلے اختیار کیا تھا وہ ہجرت کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں اور اپنے دل میں جوکچھ انہیں دیا گیا ہے اسکی حاجت نہیں رکھتے( حشر ٩)   اتنا ہی نہیں جذبہ عطوفت اگر کمال پر ہو تو جمادات کے درمیان بھی یہ یک قلبی رابطہ دیکھنے کو ملتا ہے  پیغمبر (ص)  سے نقل ہوا ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی پر جب آپ مدینہ پہونچنے کے قریب تھے تو آپ نے فرمایا '' یہ ''طابہ '' ہے اور یہ کوہ ''احد'' جو ہمیں دوست رکھتا ہے اور ہم بھی اسے دوست رکھتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے ایک اور مقام پر انسان تو کیا زمین و وطن سے محبت کی بات کی ہے چنانچہ فرماتے ہیں  ''وطن سے دوستی اور عشق ایمان کی نشانی ہے ( میزان الحکمة جلد ١٠ ، ص ٥٢٢ )
یہ جذبہ عشق و محبت ہر جگہ کارفرما ہے یہاں تک کے جب ہم عشق کے  عظیم الشان حلقہ تک پہونچتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ   قرآن کریم عشق و محبت کو  رسالت کی مزدوری  کے طور پر  بیان کرتا ہے  ایک ایسے حلقہ سے محبت کا حکم دیتا ہے  جو ہمارے جذبہ عطوفت کو معراج بخشے کہ درحقیقت یہی وہ گھرانہ ہے جو امت کے لئے کشتی نجات ہونے ساتھ ساتھ پورے عالم کے لئے ساحل امان بھی ہے '' قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودّة فی القربی  '' ائے رسول ان سے کہہ دو اس رسالت کا تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا سوائے اسکے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو  ''(شوری ٢٣) اس مودت و محبت کے حلقہ کے بعد آخر میں ہم سب سے چھوٹے دائرہ تک پہونچتے ہیں یعنی شوہر اور زوجہ کے درمیان کی محبت اور انکے مابین پایا جانے والا جذبہ دوستی'' وجعل بینکم مودة و رحمة'' ... تمہارے درمیان پائدار محبت کو قرار دیا ( روم ٢١)  احادیث و روایات میں ایسے مقامات بھِی ہیں جہاں   خدا اور ان بندوں کے درمیان رشتہ محبت کے ٹوٹ جانے کا تذکرہ ہے جو حکم پروردگار کی خلاف ورزی کرتے ہیں ،جیسے حد سے گزر جانے والے ، کافر، ستم کار، خود پسند ، اپنے آپ کو سراہنے والے ، خائن ، گناہ گار، مفسد ، متکبر ، خود میں مست رہنے والے، تو دوسرے مقام پر خدا وند متعال کی اطاعت کرنیوالوں کے ان لوگوں سے رشتہ محبت کے ٹوٹ جانے کو بیان کرتا ہے  جنہیں شیطان بہکا کر کفر کے راستہ پر لے جاتا ہے '' لاتجد قوما یومنون باللہ والیوم الآخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ  ''  (مجادلہ ٢٢)  آپ کبھی یہ نہ دیکھیں گے کہ جو قوم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والی ہے وہ ان لوگوں سے دوستی کر رہی ہے جو اللہ اور اسکے رسول سے دشمنی کرنے والے ہیں ۔
جو کچھ ہم نے بیان کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ :
''مسلمان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ وہ ایسی دنیا میں زندگی گزار رہاہے جو باہمی عشق و دوستی کے  سے عبارت ہے ۔''
یہ اعتقاد و یقین انسان کے دل میں امید کی کرنیں  جگانے میں بہت موثر ہے ، ایسی امید جو تعمیر ، سعادت اور نیک بختی کی طرف ہدایت کرنے والی ہے ۔اب اگر ہم دوسرے مرحلہ میں منتقل ہوں تو  یہ دیکھیں گے کہ'' بسم اللہ الرحمن الرحیم '' کے اندر بھی اسلامی عقائد کی روح نظر آتی ہے ۔ اس لئے کہ یہاں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ پہلے مرحلہ میں اس جہان ہستی میں جو کچھ بھی ہے وہ خدا وندمتعال کے نام سے ہے اور آخری مرحلہ میں جو بھی کچھ بیان کیا گیا اس میں پہلے مرحلہ ہی کی بازگشت ہے اس لئے کہ آخری مرحلہ کا سرچشمہ بھی پہلا ہی مرحلہ ہے ۔ ہر چیز کی بنیاد اور ہر چیز کا سرچشمہ  '' بسم اللہ '' اور اسی سبب سے ناتمام ہونے  والی رحمتوں کا تسلسل بھی ہے . ہم اس حقیقت کو بھی قرآن کریم کے دیگر مقامات سے ہم آہنگ دیکھتے ہیں جو ذات پروردگار میں کمال کے مظاہر کو بیان کرتے ہیں اور مسلمانوں کے درمیان اس بات پرمبنی ایک پایدار عقیدہ کو تشکیل دیتے ہیں کہ اس کمال کا ظہور بھی رحمت الہی کے سرچشمہ سے سیراب ہو رہا ہے اور یہ جو کچھ ہے وہ جہان رحمت ہی کی طرف بڑھ رہا ہے ،اسی دامن رحمت کی حمایت کی وجہ سے کائنات میں بہت سی چیزوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور بخشش و در گزر سے کام لیا جاتا ہے ۔چنانچہ یہ کمال کے مظاہر بھی اسی کی رحمت کے سایہ میں حرکت کر رہے ہیں   ۔ائمہ علیھم السلام سے نقل ہونے والی دعائوں کے آثارسے پتہ چلتا ہے کہ ایسی دعائیں ہمارے ائمہ سے نقل ہوئی ہیں جو اس رحمت کے پہلو کو عقیدتی اور تربیتی اسالیب میں پیش کر تی ہیں.
قرآن کریم میں بھی بہت سی ایسی آیتیں ہیں جو خدا وند متعال کی صفت عزت اور کبریائی کو رحمت و عطوفت میں ضم کر تی ہیں ۔ اور ان عبارتوں پر جا کر ختم ہو تی ہیں '' انہ ھوا العزیز الرحیم ''  وہی ہے جوغالب اور بخشنے والا ہے  ( دخان ٤٢)
''خیر الراحمین''  ۔ بہتر ین رحم  والا
''کتب علی نفسہ الرحمہ''  اپنے نفس پر اسنے بخشش کو لازم کر لیا ہے
 ( انعام ١٢)
''و ربک الغنی ذو الرحمة''  اور تمہارا پروردگار بے نیاز ہے اور بخشنے والا ہے ۔
 ( انعام ١٣٣)
''فقد جاء کم بینة من ربکم و ھدی و رحمة '' باالیقین تمہارے پروردگار کی طرف سے تم تک برہان و دلیل اور ہدایت و بخشش پہونچ گئی ہے ۔
( انعام ١٥٧)
''ان رحمة اللہ قریب من المحسنین ، '' رحمت پروردگار احسان کرنے والوں سے نزدیک ہے ۔
 ( اعراف٥٦)
''فانظر الیٰ آثار رحمت اللہ کیف یحیی الارض بعد موتھا''  ، رحمت خداوندی کے آثار کو دیکھو کہ کس طرح وہ زمین کو موت کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ( روم  ٥٠)
''قل یا عبادی الذین اسرفو ا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمة اللہ'' ، میرے ان بندوں سے کہہ دو جنہوں نے خود پرزیادتی کی خدا وند متعال کی رحمت سے مایوس نہ ہوں
( زمر ٥٣)
''الرحمن علی ٰ العرش استوی ،    وہ رحمن عر ش پر اختیار و اقتدار رکھنے والا ہے
  ( طہ ٥)
حتی سخت ترین خوف و ہراس کے مقامات پر بھی بخشش و رحمت کی صفت بیان ہوتی ہے '' و خشعت الاصوات للرحمن فلا تسمع الا ھمسا ...'' اور ساری آوازیں رحمان کی آواز کے سامنے دب جائیں گی اور تم سوائے گنگناہٹ کے کچھ اور نہ سن سکوگے  
( طہ ١٠٨)
 ان تمام آیات سے جو چیز واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی تصور حیات میں رحمت و مہربانی کو کلیدی حیثیت حاصل ہے اور قرآن و روایات اس پر دلیل ہیں  ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی ذات عطوفت و مہربانی کی سب سے بڑی تجلی گاہ:
اگر ہم پیغمبر اسلام ( ص) کی حیات طیبہ پر ایک نظر ڈالیں تو واضح طور پر ہمیں حق ، عدالت ، عشق ، رحمت ، جیسی حقیقتوںکے جلوے  نظر آئیںگے اور ہم آپ کو مکارم اخلاق کو پایہ تکمیل تک پہونچانے والا اور ایسی رحمت کا مالک پائیں گے جو پوری انسانیت کو تحفہ میں عطا کیا گیا ہے ۔ چنانچہ امام علی علیہ السلام  آپکے  خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ایک حاذق اور تجربہ کارطبیب  جس نے اپنے مرہم کو خود ہی تیار کیا اور اپنے دیگر آلات طبابت کو اس طرح  تیار کیا  جس کے ذریعہ  دل کے اندھوں بہروں اور گونگوں کو شفامل گئی ( نہج البلاغہ صبحی صالح ، ١٥٦)
'' اور محمد( ص) بیشک خدا کی طرف سے بھیجے گئے رسول اور اسکے پاک و صاف بندہ ہیں، انکے فضل اور انکی بزرگی کا  اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ، انکے فقدان کوکوئی چیز پورا نہیں کر سکتی ہے ، یہ دنیا گمراہی اور ضلالت کے بعد انہیںکے پرتو سے روشن ہوئی اورجہل و جفا کاری و ظلم و انحطاط اس سرزمین سے انہیں کے وجود کی بنا پر ختم ہوا ۔  ( ایضا  ص٢١٠)
''آپ زمین پر بیٹھتے تھے اور ایک بندہ کی طرح کھاتے تھے ، دو زانو ہو کر زمین پر بیٹھتے تھے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی جوتیاںٹانکتے تھے۔ اپنے پھٹے ہوئے لباس کو خود ہی سیتے تھے ، برہنہ و بغیر پالان کی سواری پر سوار ہوتے تھے اور کسی اور کو بھی اپنے پیچھے بٹھاتے تھے ۔ (ایضا ٢٢٩)  آپکی زندگی میں پائی جانے والی رحمت و عطوفت کے کچھ نمونے ملاحظہ ہوں :
۔  ابن مسعود سے نقل ہے ''  ہم پیغمبر( ص) کو دیکھتے ہیں کہ آپ کسی پیغمبر  کی داستان کو بیان کرتے تھے کہ جنکی قوم نے انہیں اذیت دی اور ستایا اور وہ اس حال میں کہ خون اپنے چہرے سے صاف کر رہے ہوتے تھے کہتے تھے '' پروردگار ! میری قوم کو بخش دے کہ یہ لوگ جاہل اور نا سمجھ ہیں '' ( ابن حنبل ، وہی مدرک ،جلد ١ ص ٤٤١ ،و مسلم ، جلد ٣ ، ص ١٩١٧ ، و ج ١٧٩٢)  یہ پیغمبر ( ص)  کی وہی رحمت و عطوفت ہے جو اپنی حد سے گزر جانے والے کافروں کو بھی شامل ہے۔
۔ جابر بن سمرة سے روایت ہے  '' میں رسول اللہۖ کے ساتھ پہلی نماز کو بجا لایا، بعد نماز آپ ۖ اپنے گھر والوں کے پاس گئے، میں بھی آپ کے ساتھ ہو لیا ، دو فرزندوں نے آپکا بڑھ کر استقبال کیا ، آپ نے دونوں بچوں کے رخساروں پر جس طرح شفقت سے ہاتھ پھیرا میرے بھی رخساروں پر ویسے ہی ہاتھ پھیرا اور میں نے آنحضرت ۖ کے ہاتھوں میں ایسی خوشبو محسوس کی گویا آپ نے ان ہاتھوں کو ابھی کسی عطر کے چرمی تھیلے سے باہر نکالا  ہو  ( مسلم ِ جلد ٤، ص ١٨١٤ ۔ح٨٠)
۔ آنحضرت ( ص)  نے فرمایا : مومنوں کو دیکھتے ہو کہ یہ  ایک دوسرے سے مہر ومحبت میں  ایک جسم کی مانند ہیں کہ اگر جسم کے کسی ایک حصہ میں درد ہو تو دوسرے  حصہ کو بھی قرار نہیں رہتاہے ۔ ( مسلم ، وہی مدرک ، ص ١٩٩٩ح ٦٦و مجلسی ، ج، ٧٤، ص ٢٧٤) اور اس طرح مومنین کے مابین محبت آمیز اور پائدار تعلق قائم رہتا ہے ۔
۔  اور دوسرے مقام پر آپ فرماتے ہیں : اگر کوئی لوگوںکو نماز پڑھائے ( امامت کرے)  تو اتنا طول نہ دے کہ نمازیوں کے درمیان اگر کوئی ناتوان اور بوڑھا یا بیمار شخص پایا جاتاہو تو اسے دقت ہو، اگر کوئی تنہا نماز پڑھ رہا ہے تو جس قدر چاہے نماز کو اپنی مرضی کے مطابق طول دے سکتا ہے ( مسلم ، ج ، ١، ص ٣٤١، ح ١٨٥، و تہذیب الاحکام ، ج، ٣، ص ٢٨٣، ح ، ١١٣٩) .
۔ ''مالک بن الحویرث ''  نے روایت کی ہے کہ '' ہم چند ہم سن جوان پیغمبر ( ص)  کی خد مت میں حاضر ہوئے اور بیس شب حضور کی خدمت میں رہے آنحضرتۖ  کو یہ گمان ہوا کہ ہمیں اپنے گھر والوں کی یاد آ رہی ہے ،انہوں نے ہمارے گھر والوں کے بارے میں ہر ایک سے الگ الگ سوال کیا اور ہم میں سے سب نے اپنے گھر والوں کے بارے میں بتایا۔ آپ بہت مہر و محبت کرنے والے تھے آپ نے فرمایا : اپنے گھر والوں کے پاس واپس جائو اور انہیں اسلامی تعلیمات سکھائو اور جس طرح تم نے مجھے نماز کی حالت میں دیکھا ہے ویسے ہی نماز پڑھو اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک اذان کے لئے کھڑا ہو جائے پھر جو تم میں سب سے بڑا ہے وہ نماز کی امامت کرے  ( مسلم ،گزشتہ حوالہ  ص ٤٦٥،ح ٤٦٦ و علل الشرائع ، ص ٣٢٦ ،ح ٢ )
۔ اسیروں کو آنحضرت( ص)  کی خدمت میں لے کر آئے ان کے درمیان ایک ایسی عورت بھی تھی جس کاسینہ ودھ سے بھراتھا جب بھی وہ کسی بچے کو دیکھتی تو اپنے سینہ سے چمٹا لیتی اور دودھ پلانا شروع کر دیتی پیغمبر( ص) نے فرمایا : کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اس عورت نے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دیا ہے اصحاب نے کہا نہیں ، وہ یہ کام نہیں کر سکتی ، حضرت ۖ نے فرمایا خدا وند متعال اپنے بندوں پر اس عورت کی اپنے فرزند کے لئے مہربانی سے زیادہ مہربان ہے  ( مسلم ، ج، ٤، ص ٢١٠٩، ح ٢٢، المعجم الصغیر ، ج ، ١، ص ٩٨ )
۔ احد کے واقعہ کے دوران فرشتوں نے آنحضرتۖ  کو پیغام دیا کہ اگر آپ چاہیں تو دشمنوں کے لئے نفرین وبد دعا کار ساز ہو سکتی ہے ، حضرت( ص) نے فرمایا : نہیں میں ایسا نہیں کرنا چاہتا میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ خدا انکے درمیان ایسے لوگوں کو دنیا میں پیدا کرے جو خدائے واحد کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک قرار نہ دیں ( شرح السنہ البغوی ، جلد ١٣ ص ٣٣٣، ٢١٤ )
۔ رسول خدا ( ص)  نے فرمایا : ایک کتا جو پیاس کی شدت سے مر رہا تھا ، بنی اسرائیل کے  ایک دیہاتی نے اسکی حالت پر ترس کھا کر اسے پانی پلایااور اسکی جان بچا لی اور وہ دیہاتی اسی کام کی وجہ سے بخش دیا گیا ( بخاری ، ج، ٣ ، ص ١٢٧٩ ، ح ٥٢ ، ص ١٧٦١، ح ١٥٥)
۔ اسامہ بن زید نے روایت کی ہے '' پیغمبر خداۖ مجھے ایک زانو پر بٹھاتے تھے اور حسن ابن علی  کو دوسرے پر پھر ہم دونوں کوقریب کر کے فرماتے تھے '' پروردگار ان پر اپنی رحمتیں نازل کر میں بھی ان کے ساتھ مہربان ہوں ( بخاری ، جل ، ٥، ص ٢٢٣٦، و شیخ صدوق ، ص ٣٤ ، ح ١٥٣)
۔ آنحضرت( ص)  نے ایک جنازہ پر نماز پڑھی اور فرمایا : خدایا اس کو بخش دے اور اس پر اپنی رحمتیں نازل کر ( مسلم ، ج، ٢، ٦٦٢،ح ٨٥، فقہ الرضا ، ص ١٩، عوالی اللئالی ، ج، ٢ )
۔ حضرت (ص)  نے فرمایا:  ''میں محمد احمد .لوگوں کو جمع کرنے والا پیغمبر توبہ اور پیغمبر رحمت ہوں  ( مسلم، ج، ٤، ص ١٨٢٨، ح، ١، ص ١٢٨، ح٢، مجلسی ، ج، ١٠٣، ص ١٠٤)
۔ ایک اور مقام پر آپ نے فرمایا : خداوند سبحان اس پر رحم نہیں کرتاہے جو لوگوں پر رحم نہ کرے ( بیھقی ، ج، ٩ ، ص ٤١، ری شہری ، ج، ٤، ص ١٤١٦)
۔ آنحضرت( ص) سے کہا گیا '' ائے رسول خدا مشرکین کے لئے بد دعا کر دیں آپ نے فرمایا میں بد دعا کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا ہوں بلکہ میں دونوں عالم کے لئے رسول رحمت ہوں ( مسلم ، ج، ٤، ص ٢٠٠٦ ، ح ٨٧، ری شہری ، ج ، ٩ ص ٣٦٨٤ ، ح ١٨٢٣٤)
نتیجہ گفتگو :
 یہ وہ چند ایک نمونے تھے جن پر ہم غور کریں گے تو بعثت پیغمبر صلی اللہ علیہ  و آلہ وسلم کے موقع پر ہماری خوشیاں منانے کا انداز ہی دوسرا  ہو جائے گا ہم بعثت کی محفلوں میں ایک دوسرے سے تبرک یا دیگر چیزوں میں مادی طور پر بازی مار لے جانے کی تگ و دو میں رہ رہ کر سوچیں گے کہ ہم کیا کریں کہ اخلاق حسنہ اور مہربانی و عطوفت میں دوسروں سے بازی لے جائیں  ، یقینا بعثت کے اس پر مسرت موقع پر ہمارے سامنے اگر  اسلامی جمہوریہ ایران کے سیلاب سے متاثرین کی تصویر سامنے ہو گی تو ہمیں سوچنے  کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ہم فورا اقدام کریں گے کہ یہی ہمارے وجود کی مہربانی اور ہماری عطوفت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے برادران ایمانی کے مشکل وقت میں انکے کام آئیں  ۔    

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ

منابع و مآخذ ۔
١۔ ابن ابی جمھور  ، عوالی اللئالی ، تحقیق : مجتبی عراقی ، مطبعة سید الشہداء  .قم ، چاپ اوال ، جلد ٢، ٣، ١٤ .
٢۔ ابن حنبل ، احمد ، مسند، دار صادر ، بیروت ، جلد ٢.
٣۔ ابن ہشام ، السیرة  النبویہ ِ دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، چاپ سوم ، جلد ٣ ، ١٤٢١
٤۔ ابو دائود ، السنن ، تحقیق : محمد محی الدین عب الحمید ، دار الفکر ، بیروت ، جلد ٤ .
٥۔ بخاری ، صحیح ، بخاری ، تحقیق، قاسم الشعاعی ، دارلقلم ، بیروت ، چاپ اول ، ج، ١،٢،٣،٥، ١٤٠٧.
٦۔ بغوی ، شرح السنة ، تحقیق: سعید اللحام ، دار الفکر ، بیروت، جلد ١٣، ١٤١٩
٧۔ بیھقی ، ابوبکر، سنن بیہقی ، دار المعرفة ، بیروت جلد ٦
٨۔ بیہقی ، ابوبکر ، سنن بیہقی ، دار المعرفة ، بیروت  جلد ٨،و٩
٩ ۔ ثواب الاعمال جلد ١
١٠ ۔ حاکم نیشابوری ، مستدرک الھاکم ، تحقیق، مصطفی عبد القادر عطاء دار الکتب العلمیہ، بیروت ، چاپ اول ، ج، ١،و ٤، ١٤١١۔
١١۔ رازی ، تفسیر ابی الفتوح الرازی ، شرکت بہ نشر ، مشہد چاپ سوم جلد ٢ ، ١٣٨١
١٢۔ راغب اصفہانی ، مفردات ، تحقیق: حقوان دائودی ، نشر ذوی القربی ، قم
١٣۔ ری شہری ، محمد ، میزان الحکمہ ، دار الحدیث ، قم ، چاپ اول ،جلد ٩، ١٠، ١٤٢٢ھ
١٤۔ زیلعی ، نصب الرایہ ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، چاپ سوم ، جلد ٣، ١٤٠٧
١٥۔ شیخ صدوق ، الخصال ، تحقیق : ولی اکبر غفاری ، موسسہ النشر الاسلامی التابعة لجماعة المدرسین ، قم ، جلد ٢،٣  .١٤٠
١٦۔ ثواب الاعمال ، موسسہ الاعلمی ، بیروت ، چاپ چہارم ، جلد ٢  ، ١٤١٠
١٧۔ شیخ صدوق ، علل الشرائع ، مکتبة الداوودی ، قم جلد ١
١٨۔ شیخ طوسی ، تہذیب الاحکام ، دارالکتب الاسلامیہ ، تھران ، چاپ چہارم ، جلد ٣ ، ١٣٦٥
١٩۔ صبحی صالح ، نھج البلاغہ ، دار الکتب اللبنانی ، بیروت
٢٠۔ طبرانی ، معجم الصغیر ، المکتبة السلفیہ ، مدینة  منورہ جلد ١
٢١۔ فقہ الرضا ، الموئتمر العالمی لامام الرضا ، مشہد ، چاپ اول ، جلد ١٩ ، ١٤٠٦
٢٢۔ قاضی نعمان، دعائم الاسلام ، تحقیق: آصف بن علی اصغر فیض ، دارالمعارف ، قاہرہ ، چاپ دوم ،
 جلد ١،و ٢،١٣٨٥،ق
٢٣۔ کلینی ، الکافی ، تحقیق: علی اکبر غفاری ، دار الکتب الاسلامیہ ، تہران ، چاپ سوم ، جلد ٢
٢٤۔ مجلسی ، محمد باقر ، بحار الانوار ، موسسہ الوفاء بیروت ، چاپ ، دوم ، جلد ١ ،١١،٦١، ٢٠، و ١٠٣،١٤٠٣.
٢٥۔ مسلم ، صحیح مسلم ، تحقیق: محمد فواد عبد الباقر ، دار الاحیاء التراث العربی ، بیروت ، چاپ دوم ، جلد ١، ٢، ٣، ٤، ١٩٧٢،م
٢٦۔ نوری مستدرک الوسائل ، موسسہ آل البین لاحیاء التراث ، بیروت ، چاپ اول ، جلد ٨، ١٢، ١٨، ١٤٠٨.
٢٧۔ واقدی ، المغازی ، تحقیق، دمارمدن ، جونس ، مرکز النشر فی مکتب اعلام الاسلامی ، ایران ، جلد ١،و٢، ١٤١٤.
٢٨۔ ورام ، تنبیہ الخواطر، دار الکتب الاسلامیہ ، تہران،چاپ دوم جلد١ ١٣٦٨۔

  31
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام علی علیه السلام کی امامت اور خلافت کو کیسے ثابت ...
      مسئلہ فلسطین کے بنیادی فقہی اصول امام خامنہ ای کی نگاہ ...
      سیرت رسول اکرم (ص) میں انسانی عطوفت اور مہربانی کے ...
      ہم امریکہ کی عمر کے آخری ایام سے گذر رہے ہیں: چالمرز ...
      شفاعت کی وضاحت کیجئے؟
      دین اسلام کی خاتمیت کی حقیقت کیا ھے۔ اور جناب سروش کے ...
      کیا تقلید کے ذریعھ اسلام قبول کرنا، خداوند متعال قبول ...
      امام کے معصوم ھونے کی کیا ضرورت ھے اور امام کا معصوم ...
      کیا پیغمبر اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) کے تمام الفاظ ...
      عورتوں کے مساجد میں نماز پڑھنے کے بارے میں اسلام کا ...

 
user comment