اردو
Monday 14th of October 2019
  83
  0
  0

“ملا عمر” کی پوشیدہ رہائش (The Secret Life of Mullah Omar) یا چراغ تلے اندھیرا؟

“ملا عمر” کی پوشیدہ رہائش (The Secret Life of Mullah Omar) یا چراغ تلے اندھیرا؟

طالبان کے بانی سمجھے جانے والے رہنما ملا محمد عمر کے بارے میں ایک نئی کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں کے بہت قریب رہائش پذیر تھے۔ ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی ‘بیٹے ڈیم’ کی نئی کتاب ‘دی سیکریٹ لائف آف ملا عمر’ میں کہا گیا ہے کہ عمومی طور پر امریکی حکام یہ سمجھتے رہے تھے کہ وہ پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔

 اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، چراغ تلے اندھیرے کی ضرب المثل آپ نے بارہا سنی ہوگی، استعمال بھی کی ہوگی اور آپ کے ساتھ چراغ تلے اندھیرے کا معاملہ بھی ممکن ہے ہوا ہو  لیکن ہو سکتا ہے کہ بعض کو  نہ معلوم ہو کہ  اس ضرب المثل کے پیچھے کی کہانی کیا ہے  جب ہم نے اسکے پیچھے  کی حکایت تلاش کی تو کچھ یوں ملا;

"کہتے ہیں پرانے زمانے میں  گھروں میں  رات کو چراغ جلائے جاتے تھے۔ چراغ کے نیچے اندھیرا ہوتا ہے جب کہ وہ سارے گھرکو روشن کرتا ہے۔اسی رعایت سے اگرکسی شخص سے ساری دُنیا کو فیض پہنچے لیکن اس کے قریب کے لوگ محروم رہیں  تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔اس کا پس منظر ایک حکایت بیان کرتی ہے۔ ایک سوداگر سفر کرتا ہوا ایک بادشاہ کے قلعہ کے پاس پہنچا تو رات ہو چکی تھی اور قلعہ کا دروازہ بند کیا جا چکا تھا۔ اس نے قلعہ کی دیوار کے سایہ میں  رات گزارنے کی ٹھانی کہ بادشاہ کے ڈر سے یہاں کوئی بدمعاش ہمت نہیں کرے گا۔ رات کو چور اس کا سارا سامان چرا کر رفو چکر ہو گئے۔ صبح سوداگر اٹھا تو اپنی بدحالی کی فریاد لے کر بادشاہ کے سامنے گیا۔بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ ’’تم قلعہ سے باہر کھلے میدان میں  آخر سوئے ہی کیوں ؟‘‘ اُس نے عرض کیا کہ ’’حضور! مجھ کو اطمینان تھا کہ آپ کا اقبال میری حفاظت کرے گا اور کسی کو مجھے لوٹنے کی ہمت نہ ہو گی۔ مجھے خبر نہیں  تھی کہ چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے۔‘‘ اس ضرب المثل سے اتنا سمجھ میں آتا ہے کہ یہ تو سوداگر کی بد قسمتی تھی کہ وہ لٹ گیا ورنہ اس نے کام بڑا ذہانت کا کیا تھا اور اسکے تحت الشعور میں یہ بات تھی  کہ بادشاہ جہاں ہوتا ہے وہاں کوئی نہیں دھمکتا اب چاہے اسکے قلعہ کے بیچ و بیچ ہی کیوں نہ رات گزاری جائے یہ اور بات ہے کہ چراغ تلے بالکل ہی اندھیرا رہا اور اسکا سامان چوروں کی نظر ہو گیا ، آپ کہہ رہے ہونگے اس ضرب المثل کا ملا عمر سے تعلق کیا ہے تو غور کریں گے تو پتہ چلے گا سیدھا تعلق ہے  صبح سے مختلف نیوز چینلز  پر جو خبر گردش کر رہی ہے ذرا اسے دیکھیں  کیا یہ یقین کئے جانے کے لائق ہے کہ ملا عمر کی رہائش امریکی فوجی اڈے سے صرف تین میل کی دوری پر تھی؟ اب یہ چراغ تلے اجالا تھا یا اندھیرا ؟  وہ سودا گر تو اپنی ذہانت کا استعمال کر نے کے باوجود اپنا مال نہیں بچا پایا لیکن  ملا عمر نے سالوں سال امریکہ کو صحرا نوردی کرائی اور پہاڑوں ، غاروں اور صحراوں کے دھکے کھلوائے ، یا تو ملا عمر  کی ذہانت اس سودا گر سے زیادہ تھی جو بالکل اپنی رہائش کی صحیح جگہ تلاش کی تھی یا  ملا عمر کے تلاش کرنے والے اور ڈھونڈنے والے بڑے نکمے قسم کے تھے جنہوں نے اپنی دسترس میں رہنے کے بعد بھی وہاں کوئی  مشکوک  رہائش نہ دیکھی اور اپنے فوجیوں سے اپنے طیاروں کو اڑا کر دور دراز کی خاک چھانتے رہے ۔لیکن اگر آپ طالبان کے قیام اور اسکے پیچھے  کے محرکات کو تلاش کریں گے تو اندازہ ہوگا کہ  شاید اس معاملہ میں دونوں ہی طرف ذہین تھے  جب تک دونوں سے ایک دوسرے کا کام چل رہا تھا  دونوں کی رہائش بھی نزدیک تھی  یہ بھی کیا خوب کسی نے کہا ہے "جل کی مچھلی جل میں  ہی بھلی ہوتی ہے"  یعنی  ہر چیز اپنے فطری ماحول میں  ہی بھلی معلوم ہوتی ہے، باہر نکل کر وہ بے جوڑ اور نا مناسب لگتی ہے۔یا یوں کہا جا سکتا ہے  "جہاں  کا مردہ ہوتا ہے وہیں  گڑتا " یہ اور بات ہے کہ ملا عمر نے اپنے آپ  کو زندہ ہی وہاں گاڑے رکھا جہاں گاڑنا چاہیے تھا  اور یوں  طالبان رہنما نے اپنے ٹھکانہ کا انتظام پوری ہوشیاری کے ساتھ وہیں کیا جہاں کرنا چاہیے تھا اب جنہوں نے مالی اور اسلحوں کے سپورٹ سے طالبان بنایا تھا ان سے بہتر کون ہو سکتا تھا جو امیر طالبان کی حمایت کرتا؟۔۔ ۔ ویسے یہ سب باتیں حیران کن ضرور ہیں اگر آپ  بیٹے ڈیمس ( Bette Dam's ) کی جانب سے انکی کتاب  ملا عمر کی پوشیدہ  زندگی ( "The Secret Life of Mullah Omar")کے اس انکشاف  پر شک  کر رہے ہیں تو ہرگز نہ کریں یہ بہت ہی معمولی بات ہے  آپ یہ دیکھیں کہ  بیٹے ڈیمس {   Bette Dam's } نے کیا  اپنی کتاب میں کہا کیا ہے؟ ۔

ملا عمر کی پوشیدہ  زندگی ( "The Secret Life of Mullah Omar)میں کیا انکشاف کیا گیا ہے ؟

کتاب کے بارے میں ظاہری طور پر معتبر سمجھی جانے والی سائٹس پر جو کچھ ہے اسکا لب لباب یہ ہے :

"طالبان کے بانی سمجھے جانے والے رہنما ملا محمد عمر کے بارے میں ایک نئی کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں کے بہت قریب رہائش پذیر تھے۔ ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی  خاتون صحافی 'بیٹے ڈیم' کی نئی کتاب 'دی سیکریٹ لائف آف ملا عمر' میں کہا گیا ہے کہ عمومی طور پر امریکی حکام یہ سمجھتے رہے تھے کہ وہ پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔"

صحافی "بیٹے ڈیم" نے لکھا ہے کہ ملا عمر افغانستان میں اپنے آبائی صوبے زابل میں امریکہ کے ایک اہم فوجی اڈے سے صرف تین میل کے فاصلے پر رہائش پذیر تھے۔وہ امریکی فوجی اڈے فارورڈ آپریٹنگ بیس ولورین سے تین میل کے فاصلے پر رہائش پذیر تھے جہاں امریکی نیوی سیلز اور برطانوی ایس اے ایس کے فوجی تعینات تھے۔ کتاب کے مطابق، امریکہ میں نائن الیون کے واقعہ کے بعد سے ملا عمر کو امریکی اڈے کے قریب خفیہ کمروں میں پناہ دی گئی تھی۔ ملا عمر کے سر کی قیمت امریکہ نے ایک کروڑ ڈالر مقرر کی تھی۔

صحافی نے اپنی کتاب میں دعوی کیا ہے کہ امریکی فوجیوں نے ایک موقع پر ملا عمر کو پناہ دی جانے والی جگہ کا معائنہ بھی کیا تھا لیکن وہ انھیں تلاش نہ کر سکے۔ "بیٹے ڈیم" نے اپنی کتاب کی تحقیق میں پانچ سال صرف کیے جس کے دوران انھوں نے متعدد طالبان رہنماؤں اور ممبران سے گفتگو کی۔ انھوں نے "جبار عمری" سے بھی گفتگو کی جنھوں نے سنہ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے "ملا عمر" کے باڈی گارڈ کے طور پر خدمت انجام دی جب وہ زیر زمین چلے گئے۔ صحافی "بیٹے ڈیم" لکھتی ہیں کہ جبار عمری کے مطابق انھوں نے ملا عمر کو 2013 تک پناہ دی تھی جب طالبان رہنما بیماری کے سبب انتقال کر گئے۔ اگرچہ ملا عمر کا بیماری سے مرنا بھی اپنی جگہ طے نہیں ہے کیوں کہ  افغانستان کے ایک نجی ٹی وی چینل طلوع نے افغان سکیورٹی ایجنسی ’این ڈی ایس‘ کے ایک نامعلوم اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ’ ملا عمر کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب آئی ایس آئی ان کو ایجنسی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائر حمید گل کی مدد سے کوئٹہ سے شمالی وزیرستان منتقل کر رہی تھی[1]۔‘  الغرض ملا عمر کے زیر زمین جانے کے بعد  جبار عمری نے  تحفظات کے تحت  طالبان رہنما کو ایک دوسرے مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا جہاں سے صرف تین میل کے فاصلے پر ایک اور امریکی اڈہ تھا جہاں 1000 فوجیوں کا قیام تھا۔ جبکہ تلاشی سے بچنے کے لیے ملا عمر کئی بار کھیتی باڑی کے لیے بنائی گئی سرنگوں میں چھپ جاتے تھے۔

''ملا عمر کی موت اپریل 2013 میں ہوئی خاتون صحافی بیٹے ڈیم کہ مطابق انھیں بتایا گیا کہ ملا عمر خبروں کے حصول کے لیے بی بی سی کی پشتو سروس کا استعمال کیا کرتے تھے۔نومبر 2001 میں امریکی افواج کے حملوں کے بعد دسمبر 2001 میں ملا عمر نے طالبان کے انتظامی امور کی ذمہ داری اپنے وزیر دفاع ملا عبید اللہ کو سونپ دی تھی۔ واضح رہے کہ گذشتہ دو ہفتوں سے امریکی اور طالبان حکام کے مابین اسی دفتر میں افغانستان میں امن قائم کرنے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔ گذشتہ ماہ ڈچ زبان میں شائع ہونے والی کتاب بہت جلد اب انگریزی زبان میں بھی شائع ہونے والی ہے"[2]۔
یاد رہے کہ افغانستان میں سویت جارحیت کے دور میں ملا عمر مزاحمت کرنے والوں میں نچلے درجے کے کمانڈر تھے۔اس کے بعد 1994 میں سابق مجاہدین کے سرداروں کے خلاف قندھار سے اٹھنے والی تحریک کی انھوں نے سربراہی کی اور اسی تحریک نے آگے چل کر طالبان کی شکل لی جس نے دو سال بعد 1996 میں کابل پر قبضہ کر لیا۔ملا عمر اور اسامہ بن لادن نے طالبان کا نظام سنبھالا ہوا تھا لیکن نائن الیون کے بعد وہ تتر بتر ہو گئے اور امریکی افواج سے بچنے کے لیے مختلف مقامت پر چھپ گئے۔مئی 2011 میں امریکی نیوی سیلز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی موت کے بعد بھی ملا عمر امریکی افواج کے ہاتھ نہ آئے۔ جبکہ اس سے پہلے بی بی سی کا عملہ ملا عمر کا ایک خفیہ ٹیپ نکال چکا تھا ۔ یہ وہ باتیں ہیں جو عام طور پر مختلف ذرائع ابلاغ پر تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ آپکو مل جائیں گی  جبکہ  بعض مقامات پر ڈیمس ( Bette Dam's ) کی کتاب  ملا عمر کی پوشیدہ  زندگی { "The Secret Life of Mullah Omar" }[3] میں   بیٹے ڈیم سے نقل کرتے ہوئے یہ بات بھی ملتی ہے "

ابتداء میں تو یہ امریکی بیس سے اتنے نزدیک تھے کہ پیدل چل کر پہنچا جا سکتا تھا   اور محض چند سو میٹر کے فاصلہ پر  سے طالبان رہنما ایک عمارت کے اندر ایک خفیہ کمرے میں رہتے تھے  بعد میں  یہ فاصلہ تین میلوں کا ہو گیا [4]۔ ایک طرف تو یہ نزدیکی ہے دوسری طرف ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ چراغ تلے اندھیرے کے سبب امریکی فوجیں نہیں پہنچ سکیں جبکہ یہ بھی ملتا ہے کہ طالبان راہنما کی عمارت کے بالکل نزدیک تک امریکی فورسز گئیں لیکن ملا عمر کو پکڑنے میں ناکام رہیں  جبکہ خود افغانستان میں سابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر اور امریکی فوجی کمانڈر ڈیوڈ پیٹریاس کے اعتراف کے مطابق "طالبان رہنما  کا افغانستان میں رہنے کا مبینہ فیصلہ خطروں بھرا تھا ." اور وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق انکے بقول  "ہمارے پاس کہیں بھی افغانستان کے اندر، کسی بھی ضرورت تک رسائی حاصل تھی،"[5]  اب اگر انہیں ہر جگہ رسائی حاصل تھی تو کیونکر طالبان رہنما کو پہلے چند سو میٹرس کی دوری پر وہ نہ  پا سکے اور اسکے بعد جب فاصلہ تھوڑا بڑھا تو تین میلوں کی دوری[6] پر انہیں بھنک ہی نہ لگی کہ ان کا سب سے زیادہ مطلوبہ شخص انہیں کے پڑوس میں رہ رہا ہے ؟
بہر کیف ( "The Secret Life of Mullah Omar" ) کتاب کے  بارے میں زیادہ کچھ تونہیں کیا جا سکتا اسکے محتویات و مطالب کو دیکھے بغیر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن جو قرائن  و شواہد سے پتہ چلتا ہے انکا عندیہ یہی ہے کہ ممکن نہیں کہ امریکی فورسز کی اطلاع کے بغیر  ملا عمر جیسی مطلوبہ شخصیت انکے اتنے نزدیک رہ رہی ہو جتنی ایک خاتون صحافی نے پانچ برس کی تحقیق [7]کے بعد بیان کی ہے  اس سے سامراج کے گورکھ دھندے کا پتہ چلتا ہے  جبکہ اس کتاب کے انکشاف کو اگر تسلیم نہ کیا جائے تو چاہے  افغانستان صدر کے ترجمان ہوں یا امریکی  فوجی کمانڈرس سب یہی کہتے نظر آتے ہیں  ملا عمر کی قیام گاہ پاکستان میں تھی اور افغانستان میں ملا عمر کا قیام خطروں بھرا تھا  چنانچہ واضح الفاظ میں جہاں افغان صدر کے ترجمان  نے کہا کہ "ہمارے پاس کافی ثبوت ہیں جو ظاہر کرتے  ہیں کہ وہ پاکستان میں رہتے تھے اور مر گئے " [8] وہیں 2004-2010 سے افغانستان کے انٹیلی جنس کے سربراہ عمراللہ  صالح نے بھی اسی بات کو مانتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے پاس پکے ثبوت ہیں کہ طالبان رہنما کا قیام پاکستان میں تھا اور وہیں مرے [9]۔

کتنی عجیب بات ہے کہ  ایک طرف  بی بی سی  کا عملہ ملا عمر کی خفیہ ویوڈیو بناتا ہے  چنانچہ  خود یہ خبر آپ کو بی بی سی کی سائٹ  پر مل جائے گی کہ " ۱۹۹۶ ءمیں بی بی سی کے عملے نے ملا عمر کی ایک خفیہ ویڈیو بنائی تھی[10] اور دوسری طرف کسی کو ملا عمر کے ٹھکانے کا پتہ بھی نہیں رہتا تھا اور امریکہ اور اسکے اتحادی انہیں ڈھونڈتے گھومتے تھے  جبکہ  بی بی سی کے عملے نے جس شخص کی ویڈیو بنائی تھی اسکے سر کی قمیت ایک کروڑ امریکن ڈالر تھی، ایک عام انسان کے ذہن میں ان سب باتوں کو لے کر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں اور اٹھنا بھی چاہیے  نہ اٹھیں تو انسان کو سوچنا چاہیے کہ کہیں اوپر جو اللہ میاں نے عقل کی صورت چراغ رکھا ہے اس چراغ تلے اندھیرا تو نہیں ۔

تحریر: خیبر تحقیاتی ٹیم

حواشی :

[1] ۔ https://www.bbc.com/urdu/world/2011/05/110523_mullah_omer_death_deny_zz

[2]  ۔ https://www.bbc.co.uk/news/world-asia-47519157

https://www.bbc.com/urdu/regional-47520258

[3]  ۔ PDF]The Secret Life of Mullah Omar - Squarespace

https://static1.squarespace.com/.../Secret+Life+of+Mullah+O

[4]  ۔ https://timesofindia.indiatimes.com/life-style/books/features/fugitive-taliban-leader-mullah-omar-lived-close-to-us-bases-claims-new-book/articleshow/68354827.cms

[5]  ۔ https://www.presstv.com/Detail/2019/03/11/590735/Taliban-Mullah-Omar-US-intellgence

[6]  ۔ https://www.stripes.com/.../taliban-leader-spent-last-days-just...

https://www.realcleardefense.com/.../mullah_omar_039lived...

 [7]  ۔https://timesofindia.indiatimes.com/life-style/books/features/fugitive-taliban-leader-mullah-omar-lived-close-to-us-bases-claims-new-book/articleshow/68354827.cms

[8]  ۔https://www.presstv.com/Detail/2019/03/11/590735/Taliban-Mullah-Omar-US-intellgence

[9]  ۔ https://www.presstv.com/Detail/2019/03/11/590735/Taliban-Mullah-Omar-US-intellgence

[10]   ۔https://www.bbc.co.uk/news/world-asia-

  83
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      محمود عباس کی بے بسی اور فلسطینی عوام کا مستقبل + مقالہ
      تصویری رپورٹ/ سعودی عرب کے ۳۳ مظلوم شہداء کی قم میں ...
      مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کی جارحیت جاری، مزید 2 ...
      مولانا عبدالستار خان نیازی کے 18ویں یوم وفات
      لیبیا ،عرب مملک کے درمیان طاقت آزمانے کا میدان بن ...
      ایران کو سیاحتی صنعت سے 12 ارب ڈالر کی آمدنی
      حضرت ابوطالب (ع)؛ حامی پیغمبر(ص) بین الاقوامی علمی ...
      ایرانی تیل کی جگہ پر کرنا آسان کام نہیں : ہندوستان
      وزیر دفاع: ایران کا تعاون نہ ہوتا تو عراق و شام تقسیم ہو ...
      علامتی بھوک ہڑتال: جیکب آباد، شیعہ لاپتہ افراد کی ...

 
user comment