اردو
Thursday 19th of September 2019
  143
  0
  0

قرآن مجید کے سوره حدید کی آیت نمبر ۲۱ اور سوره آل عمران کی آیت نمبر ۱۳۳ میں پائے جانے والے تناقص کو کیسے حل کیا جا سکتا هے؟

مهربانی کر کے مندرجه ذیل مطلب کے بارے میں وضاحت فرمائیے: قرآن مجید میں بهشت کی وسعت کے بارے میں پائے جانے والی توصیف میں آشکار تناقص پایا جاسکتا هے۔ قرآن مجید کے آل عمران کی آیت نمبر ۱۳۳ میں خداوندمتعال ارشاد فرماتا هے که " بهشت کی وسعت زمین و آسمانوں {سماوات:جمع}کے برابر هے اور جسے ان لوگوں کے لیے مهیا کیا گیا هے جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے هیں، یهی درحقیقت فضل خدا هے جسے چاهتا هے عطا کردیتا هے اور الله تو بهت بڑے فضل کا مالک هے، جبکه سوره نمبر حدید کی آیت نمبر ۲۱ میں ارشاد فرماتا هے که بهشت کی وسعت زمین و آسمان {سما یعنی ایک آسمان} کے برابر هے اور واضح هے که ایک آسمان کے برابر نهیں هے، اس بنا پر بهشت کی وسعت زمین اور آسمان اور زمین اور آسمانوں کے برابر هے۔ قرآن مجید میں یه ایک واضح تناقص هے کیا ان دو آیتوں میں تناقص نهیں پایا جاتا هے؟

  143
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      "الحمد للہ رب العالمین" کے بارے میں امام حسن ...
      کیا قرآن مجید میں ایسی آیات پائی جاتی ہیں، کہ جن سے ...
      کلی طور پر سورہ بنی اسرائیل کی تعلیمات کیا ہیں؟
      قرآن مجید میں "بروج" سے کیا مراد ہے؟
      کیا آیہ شریفہ "وَ السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ ...
      سورہ بقرہ کی آیت ۱۴۴ میں "قَدْ نَرى‏ تَقَلُّبَ ...
      قرآن مجید کے نظریہ کے مطابق خودآگاہی کے معنی کیا ہیں؟
      قرآن کریم کے کتنے سوروں کے نام پیغمبر وں کے نام پر ہیں ...
      قرآن کی عبارت میں (فبشرھم بعذاب الیم) ، کیوں آیا ہے جب ...
      آیت مبارکہ ’’ و جاء ربُّکَ والملکُ صفّاً صفّاً ...

 
user comment