اردو
Saturday 7th of December 2019
  251
  0
  0

قرآن مجید میں حوادث کے جزئیات کیوں ذکر هوئے هیں اور پیغمبر اسلام صلی علیه و آله وسلم کی داستان کی نسبت حضرت موسی (ع) کی داستان کی طرف کیوں زیاده توجه دی گئی هے ؟

باوجود اس کے که اس کی کوئی ضرورت نهیں هے که آیات الهی همیشه جزئیات کو بیان کریں، لیکن بهت سی آیات میں مفصل حد تک ، جزئیقت بیان کئے گئے هیں اور یهاں تک که بعض مواقع پر تکرار کی صورت میں ـمثلا حضرت موسی علیه السلام کی داستان کے سلسله میں مفصل اور تکراری صورت میں داستان کو بیان کیا گیا هے اور جتنی اهمیت اس داستان کو دی گئی هے ، اتنی پیغمبر اکرم صلی الله اعلیه و آله وسلم کی زندگی کو نهیں دی گئی هے یا بهت سے دوسرے مواقع پر مثلا حضرت سلیمان علیه السلام کی داستان کو پیش کر نے کے سلسله میں یا بلقیس کے قصه کو بیان کر نے میں کیا واقعات کو اس طرح بیان کر نے میں کوئی خاص علت هے ؟ !

ایک مختصر

سوال کے پهلے حصه کے جواب میں کها جاسکتا هے که: ایک حقیقت یا قانون و حکم کو بیان کر نے کے سلسله میں اس سے متعلق تمام جزئیات اور خصوصیات کو بیان نهیں کیا جاسکتا هے اور اس مطلب کا قرآن مجید میں خیال رکھا گیا کیونکه اگر طے پاتا که ایک قانون کے بارے میں اس کی تمام جزئیات اور تفصیلات بیان کی جائیں، تو خدا وند متعال کے لئے ضروری تھا که هر مسلمان کے لئے، اس کی رفتار و زمان و... کے پیش نظر ایک جامع اور مستقل کتاب نازل کر ے –اس قسم کے منفی نتائج کے پیش نظر ، آیات الهی میں معارف اور قوانین کو بیان کر نے کے سلسله میں حقیقت پسندانه اور عاقلانه شیوه اختیار کیا گیا هے اور قرآن مجید کی آیات میں بهت سے مواقع پر واضح یا تشبیه یا مثال اور یا داستان کی صورت میں معارف اور کلی قواعد پیش کئے گئے هیں –جی هاں! کبھی کچھـ وجوهات کی بناپر خداوند متعال نے ایک حقیقت یا قانون کو بیان کر نے کے سلسله میں اس کے مصادیق ذکر فر مائے هیں ، جیسے جوا، که جسے عرب قوم میں ایک بڑا فخر شمار هو تا تھا اور اس عادت امر کی برائی لوگوں کے لئے پوشیده تھی ـ اس لئے خداوند متعال نے ایک آیت میں شراب یا جوے کے بارے میں خاص اور جزئیات کی صورت میں بات کی هے- اس طرح جزئیات کو بیان کر نا نه صرف کل گوئی کی سنت کے خلاف هے، بلکه اس کے عین مطابق هے اور لوگوں کو حیرت اور پریشانی سے دور کر نے کے لئے هے-

لیکن سوال کے دوسرے حصه کا جواب، یعنی گزشته اقوام کی داستانیں ذکر کر نے کی وجھ ، بالکل واضح هے- کیو نکه اسلاف  کی داستانوں کا مطالعه همارے سامنے نئے نظریات کے باب کھولتا هے تاکه هم ان کے انحرافات اور کامیا بیوں سے آگاه هو جائیں اور ان کی ناکامیوں کو اپنی زندگی میں نه آزمائیں-

اس سلسله میں بهت سی وجوه کے بارے میں اشاره کیا جاسکتا هے:

الف) انتباه کے لئے تاریخ کی تفصیلات نقل کر نا، علم نبوی صلی الله علیه و آله وسلم کے بیان کا اعجاز اور ظهور تھا-

ب) یهود و نصاری کے انبیاء کی تاریخ بیان کر نے سے ، ان کے پیرو کار اپنے دین اور دین اسلام میں مشتر ک باتیں  کو پاکر اسلام کی طرف رجحان پیدا کر تے تھے اور بغض وعناد کو چھوڑ دیتے تھے-

ج) اعتقادی مسائل کافی دقیق اور ناقابل لمس هوتے هیں- خداوند متعال خاص مواقع پر برجسته بڑے انسانوں کی داستان کو بیان کر کے، ان مسائل کو مکمل طور پر ساده اور لوگوں کے لئے قابل فهم صورت میں ذکر کرتا هے- جیسے حضرت ابراھیم علیه السلام کو آگ سے نجات دینے کی داستان میں خداوند متعال کی مطلق قدرت-

د) گزشته اقوام کے کردار سے عبرت اور سبق حاصل کر نا ، ان کی داستانوں کو ذکر کر نے کی ایک اور دلیل هے-

ھ)غیر مستقیم تعلیم کے عنوان سے داستانوں کو نقل کر نا، تر بیت کی بهترین راهوں میں سے هے- قرآن مجید نے حضرت ابراهیم علیه السلام کے استدلال کی جیسی داستانوں اور... کو پیش کر کے اس روش سے تعلیم، استدلال کے طریقه، آداب معاشرت ... کے سلسله میں کافی فائده اٹھایا کیا هے- سوال کے آخری حصه کے جواب میں کهنا چاهئے که: قرآن مجید میں کسی فرد کی داستان کا ذکر، اس کی فضیلت کی دلیل نهیں هے اوراس کے برعکس اگر کسی کا ذکر نه کیا گیا هے تو یه بھی اس کے مقام کے تنزل کی دلیل نهیں هے – کیونکه هم ایک طرف قرآن مجید میں بعض منحرف اور قابل نفرت افراد جیسے: فرعون، ابولهب، سامری اور شیطان کی داستانوں کا مشاهده کر تے هیں اور دوسری طرف بهت سے انبیاء الهی کی زندگی کے بارے میں اس کتاب الهی میں کچھـ نهیں پاتے هیں- اس کی دلیل معارف الهی بیان کر نے میں قرآن مجید کی مصلحتوں اور مقاصد کے علاوه کچهـ نهیں هے-

آخر میں ھم پرسوال میں تاکید کئے گئےدو نکتوں کی طرف اشاره کرتے هیں:

١) قوم بنی اسرائیل کے ساتھـ مسلمانوں کی بهت زیاده مشابهت ، قران مجید میں حضرت موسی علیه السلام کی داستان کے ذکر کا سبب بنا هے اور یه ایسا مطلب هے که قرآن مجید کی آیات بھی اس کی طرف اشاره کرتی هیں –

٢) قران مجید میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کی زندگی کے بارے میں مناسب توجه  نه کئے جانے کا دعوی ایک جلد بازی اور غیر عادلانه هے کیونکه آیات کی شان نزول پر غور کر نے سے واضح هو تا هے که قرآن مجید کی بهت سی آیات پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی زندگی کے مختلف ابعاد اور آپ(ص) کے اصحاب کے بارے میں هیں-

تفصیلی جوابات

اس سوال کے جواب کے لئے ضروری هے که پهلے اسے قابل تحلیل حصوں میں الگ الگ کیا جائے اور هر ایک حصه کی  جانچ پڑتال کے بعد آخری جواب کو حاصل کیا جائے، جو ان کا حاصل جمع هو گا-

پهلا حصه: قرآن مجید کی آیات میں عمو میت اور مکمل بیانی کی دلیل کیا هے؟ بعض مواقع پر کیوں اس سے هٹ کر آیات میں مسائل کے جزئیات کی تشریح  کی گئی هے؟

قرآن مجید الله کی رسی هے اور بنی نوع انسان کے لئے سعادت و نجات کا سر چشمه هے-[1] اس لئے انسان کی هدایت کے لئے ضروری تمام مضامین اور قوانین اس میں موجود هو نے چاهئیں -

اب اگر قرار هو که تمام مصادیق وجزئیات ، خواه زمانه نزول سے متعلق هوں یا مستقبل میں رونما هو نے والے امور سے متعلق  هوں، اس کتاب کے متن میں لکھے جائیں، تو ضروری هے که هر مسلمان کی زندگی کے لمحات کے برابر ایک جامع کتاب نازل هو- یقینا اس قسم کی چیز ممکن اور عاقلانه نهیں هے- پس کیا کرنا چاهئے اور کون سے راسته کو اختیار کرنا چاهئے؟!

خداوند متعال نے قرآن مجید کو ایک نجات دهنده جامع نسخه کے عنوان سے، انسان کی هدایت کے لئے بهترین صورت میں نازل فر مایاهے- اس نے کلی قوانین کو واضح یا مثالوں ، حکم اور اسلاف کی داستانوں اور روئدادوں کی صورت میں ذکر کیا هے تاکه لوگ مصادیق کو معین کر کے انهیں آیات میں بیان کئے گئے کلیات سے ربط دیں اور صحیح راسته کو منتخب کر کے حیرت و پریشانی سے نجات پائیں-

یه وهی مطلب هے، جسے امام صادق علیه السلام نے اپنے ایک صحابی سے مخاطب هو کر فر مایا: هماری ذمه داری هے که ایک عام اور وسیع اصول کو بیان کریں اور آپ لوگوں کی ذمه داری هے که اس سے فروع حاصل کریں- [2]

لیکن اس سلسله میں ، کبھی فروعات کو اصول کی طرف لوٹا دینا مشکل نظر آتا هے یا اس سلسله میں غفلت واقع هوتی هے- ایسے مواقع پر، قانون ساز پر ضروری هے که بعض جزئیات کو بیان کر کے مخاطبین کو مصادیق معین کرنا سکھا دے- مثال کے طور پر خداوند متعال ایک آیت میں فر ماتا هے: " ناپاکیوں  سے پرهیز کرو[3]" چونکه شراب یا جو اس زمانه کے عرف میں عادی [4] مسائل شمار هو تے تھے اور ان کے برے هو نے کا علم نهیں تھا، خداوند متعال نے دوسری آیت میں ، جو پهلی ایت کے مدتوں بعد نازل هو ئی، بعض برائیوں کے مصادیق بیان کرتے هوئے فر مایا هے: " جوا، شراب و... ناپاکیاں هیں ..." [5]

لهذا بعض جزئیات کو بیان کرنا نه صرف کتاب کے کلیات کو کوئی ضرر نهیں پهنچاتا هے بلکه حالات کو سمجھنے اور جدید مسائل کو قرآن مجید کے کلی قوانین سے مطابق کر نے کی صحیح روش کو پانے کے لئے مناسب مواقع فراهم کر تا هے اور انحرافات و غلط تاویلات پیدا هو نے کو روکتا هے- اس لئے، بعض اوقات قرآن مجید متعارف علمی کتابوں کے بر خلاف ایک حقیقت (ویا قانون)بیان کرتے وقت مصادیق کا ذکر نهیں کر تا هے، جزئیات بیان کر تا هے اور کلی قواعد پر اکتفا نهیں کرتا هے-

دوسرا حصه:

گزشته اقوام کی داستان ذکر کر نے کی علت بیان کیجئے؟ آپ نے اس سے پهلے اشاره کیا که بعض مواقع پر ضروری هے که مسائل جزئی اور قابل لمس صورت میں ذکر کئے جائیں- اب سوال یه هے که یه جزئیات ، ضرورت کے پیش نظر ، داستانوں و تاریخی موارد کی صورت میں کیوں بیان هوئے هیں؟ کیا یه ممکن نهیں تھا که خداوند متعال واضح ومعین طور پر مصادیق کو بیان فر ماتا ؟ ! مدنظر رکھنا چاهئے که قرآن مجید ایک تاریخی کتاب نهیں هے تاکه تمام جزئیات اور تاریخی واقعات کو درج کرے- یه کتاب کچھـ ایسی چیزیں بیان کرتی هے جو انسان کی هدایت(قرآن کا اصلی مقصد) کے لئے مفید هوں - اس لحاظ سے قرآن مجید نے اسلاف کی داستانوں کو اسی مقصد کے پیش نظر بیان کیا هے-

اسلاف کی داستانیں، همارے سامنے واضح تر نظریات پیش کرتی هیں اور همیں خطاٶں، انحرافات اور کامیابیوں سے آگاه کرتی هیں اور یه آگاهی هماری ترقی اور بلندی کے لئے ایک پل کے مانند هے تاکه هم اسلاف کے تلخ تجربوں کی تکرار نه کریں- اسی لئے دینی کتابوں میں، گزشته ملتوں کی تاریخ پر دقت نظر اور ان کے اعمال پر غور کر نے کی تاکید کی گئی هے- [6]

یهاں پر مناسب هے که قرآن مجید میں نقل کی گئی داستانوں کی لطافت وحکمت پر توجه کر نے کے لئے ان کے چند نمونے پیش کریں:

١) جزئی داستانوں کو نقل کرنا اور مسائل کو تفصیلی طور پر بیان کرنا، انتباه کے لئے تھا اور یه قرآن مجید کے معجزوں کے نمو نے هیں- کیونکه بعض موضوعات جو اس مصحف شریف میں آئے هیں وه دوسری کسی آسمانی کتاب میں نهیں پائے جاتے اور یه گزشته انبیاء کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے الهی علم کی حکایت هے- کیو نکه عام انسان پهلے سے ذهنی آماد گی اور مطالعه کے بغیر مخفی حقائق کا ادراک اور نقل کر نے کی قدرت نهیں رکھتے هیں-

٢) رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم کے زمانه میں بهت سے غیر مسلمان خدا پرست، یهودی یا عیسائی تھے- ان کے پیغمبروں کی داستانوں کو قرآن مجید کی آیات کی صورت میں نقل کر نا پیغمبر خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی تبلیغی رسالت کے سلسه کا حصه تھا اور اس نے ان کے لئے بیداری کا موقع فراهم کیا- وه لوگ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے تفکر کو اپنے انبیاء کے تفکر کے نزدیک پا کر اور ان کے انبیاء کی تاریخ کے بارے میں آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم کی آگاهی کا مشاهده کر کے آپ (ص) کی تصدیق کرتے تھے اور اسلام کی طرف رجحان پیدا کرتے تھے- اور بالآخر بغض وعناد و دشمنی سے هاتھـ کھینچتے تھے اور مسلمانوں کی حمایت کرتے تھے- اس مسلمانوں ھجرت حبشھ کرنے کے سلسله میں ھم اس امر کا مشاهده کرتے هیں- [7]

٣) چونکه بهت سے نازک اعتقادی مسائل آسانی کے ساتھـ قابل ادراک نهیں هیں اور انسان جب تک نه ان خاص حالات کا سامنا نه کرے ، ان کو سمجھنے کی قدرت نهیں رکھتا هے، اس لئے خداوند متعال گزشته پیغمبروں کی زندگی کے بارے میں تفصیلات بیان کر کے فکری اور اعتقادی موضوعات کو آسان اور قابل فھم صورت میں مسلمانوں کے اختیار میں دے دیتا هے - مثال کے طور پر آتش نمرود کے حضرت ابراهیم علیه السلام پر بے اثر هو نے کی داستان میں خدا وند متعال کی قدرت کا مطلق[8] هو نا ایک خوشنما مظهر پیدا کر چکا هے اور اس کے علاوه حضرت آدم علیه السلام کے درخت ممنوعه کا استفاده کر نے کی وجه سے بهشت سے نکال دئے جانے کی داستان[9] میں شیطان کے فریب کی ظرافت اور انسان میں اس کے نفوذ کی راهیں، انتهائی واضح صورت میں بیان هوئی هیںـ

٤) مذکوره مواقع کے علاوه ، عبرت اور سبق حاصل کر نا اسلاف کی تاریخ بیان کر نے کی ایک اهم وجه هے، قرآن مجید نے خود اس مطلب کی وضاحت فر مائی هے: " بیشک ان کی داستانوں میں عقلمندوں کے لئے ایک عبرت هے- "[10]

عبرت حاصل کر نے کے مؤثر با اثر ترین مواقع میں سے، عذاب الهی کا بیان هے که گزشته اقوام ناشکری کی وجه سے اس سے دوچار هوجا ئیں هیں اور قرآن مجید میں جگه جگه اس کی طرف اشاره کیا گیا هے- جیسے: قوم ثمود پر بجلی گرنا یا طوفان نوح علیه السلام

٥) بهت سے مطالب، جیسے: آداب معاشرت، تربیت، استدلال وغیره کے سلسله میں ان هی داستانوں سے استفاده کیا جاسکتا هے، کیونکه بالواسطه تربیت، تعلیم و تربیت کی فائده مندترین روش هے جس کا اثر زائل نهیں هوتاهے اور فوری طور پر فراموش نھیں هوتاهے – اس طریقه میں، متعلم خود کو داستانوں کی شخصیتوں کی جگه پر قرار دیتا هے اور اپنے معلم کی تعلیمات کو باریکی سے  محسوس کرتا هے- اسی لئے، یه روش مخاطبین کو تعلیمات کی نسبت زیاده ذمه دراری کا احساس دلاتی هے-

اس قسم کے بیانات کو بهت سی داستانوں میں پایا جاسکتا هے، جیسے: حضرت ابراھیم علیه السلام کا بت پرستوں کے لئے ان کے بڑے بت کے بارے میں سورج اور چاند کے ذریعه استدلال کرنا اور حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحتیں-

البته داستانوں کو بیان کرنے میں، اور بھی کچھـ حکمتیں اور فلسفے هیں جن سے مزید آگاهی کے لئے تفاسیر اور قصص الانبیاء کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جاسکتا هے-

تیسرا حصه:

حضرت موسی علیه السلام کے واقعات کے بارے میں کس لئے اس قدر تاکید و تکرار کی گئی هے؟ اور جتنی اهمیت ان کو دی گئی هے، پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی زندگی کو کیوں اتنی اهمیت نهیں دی گئی هے ؟!

قرآن مجید، کتاب نور وهدایت هے اور جو کچھـ اس میں بیان هواهے، وه انسان کی هدایت کے سلسله میں ذکر کرنا ضروری تھا- اس لئے اگر قرآن مجید میں کسی مطلب کو مکرر صورت میں بیان کیا گیا هے اور اس کی تاکید کی گئی هے، تو وه اسی مقصود کو پانے کے لئے تھا – کیونکه ممکن هے ایک مطلب کو مختلف حالات میں اور گوناگون طریقوں سے بیان کرنے کی ضرورت هو، تاکه سبق اور نصیحت کے لحاظ سے مخاطب پر اس کا اثر زیاده هوجائے- اس سلسله میں شائد بھی کها جا سکتا هے که: حضرت موسی علیه السلام اور بنی اسرائیل کے سلسله میں قرآن مجید کے مکرر توجه کرنے کی وجه یه هے که اس قوم کے نشیب و فراز سے بھری زندگی مسلمانوں کی زندگی کے ساتھـ حد سے زیاده مشابهت رکھتی هےـ

نمونه کے طور پر: اسلام میں جنگ بدر کی داستان، طالوت علیه السلام کے ساتھیوں کی داستان سے کافی حد تک مشابهت رکھتی هے- تاریخی شواهد کے مطابق دونوں سپاهوں، یعنی سپاه طالوت اور سپاه پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے مجاهدین کی تعداد ٣١٣ تھی اور دونوں نے اپنے سے بڑی دشمن کی فوج سے جنگ کی اور دونوں کامیاب هوئے-[11] قرآن مجید طالوت اور اس کے ساتھیوں کی داستان کی طرف اشاره کرتاهے اور کافروں کی ایک بڑی  تعداد کے مقابله میں اس مختصر گروه کی استقامت و صبر وشکیبائی کی ستائش کرتا هے تا که مسلمانوں کے لئے ایک مثال اور نمونه بن جائے-

بهت سی روایتوں میں ائمه معصومین علیه السلام نے اسی مشابهت کی طرف اشاره فرمایا هےـ ان میں سے ایک میں امت سے خطاب کرتے هوئے فرمایا گیا هے: " تم بھی بنی اسرائیل کے مانند هو اور ان کے جیسے کام انجام دوگے[12]"

لیکن پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے بارے میں کهنا چاهئے که :

اگر چه قرآن مجید میں زیاده وضاحت اور مکرر صورت میں خاتم الانبیاء صلی الله علیه وآله وسلم کا نام نهیں لیا گیا هے، لیکن آیات کی شان نزول پر غور کرنے سے معلوم هوتاهے که ، آیات کی ایک بڑی تعداد آنحضرت (ص) اور آپ کے اهل بیت (ع) اور اصحاب کے بارے میں ھے اور ان آیات کی تعداد حضرت موسی اور ان کی قوم ، بنی اسرائیل سے متعلق آیات سے کئی گنا زیاده هے- حقیقت میں حضرت رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کی زندگی کی داستان اور آپ (ص) کے هدایتی رول کو خود آنحضرت صلی کے زمانه اور حالات میں ڈھونڈھنا چاهئے اور اس سلسله میں بهت سےواقعات کی طرف قرآن مجید میں اشاره کیا گیاهے-

قابل توجه بات  هے که بهت سے انبیاء کی داستانیں قرآن مجید میں ذکر نهیں هوئی هیں، لیکن یه مسئله ان کے لئے کمزوری کا نقطھ شمار نهیں هوتاهے، کیونکه تمام انبیائے الهی، انسان کامل اور آراسته هیں اور خداوند متعال کے ارده سے هر عیب ونقص سے پاک هیں- دوسری جانب قرآن مجید ایسے افراد کی داستانوں کی طرف اشاره کرتا هے جو بارگاه الهی سے قابل نفرین اور مردود هیں لیکن یقینا قرآن مجید میں ان کے نام کا ذکر ان کی فضیلت کی کوئی دلیل نهیں هے اور قرآن مجید نے صرف چند مصلحتوں اور مقاصد کے پیش نظر ان کی زندگی کی داستانوں کو بیان کیا هے-

اس لئے قرآن مجید کا هدایت کا رول سبب بن جاتا هے که کبھی پیغمبروں کا ذکر کرے اور کبھی ایسے افراد کا نام لے جو پیغمبر یا نبی هیں، لیکن خدا ان سے راضی هے( جیسے: ذوالقرنین یا حضرت مریم (ع) کے والد عمران) اور کبھی ایسے افراد کی زندگی کا ذکر کرتا هے جو خدا کی بارگاه میں قابل نفرت اور مغضوب هیں ( جیسے: فرعون و شیطان) اسی طرح یه امر اس بات کا سبب بن جاتاهے که قرآن مجید کسی داستان کو باربار دهرائے(جیسے حضرت موسی علیه السلام کی داستان) یا اس کی طرف صرف چند بار اشاره کرے ( جیسے حضرت آدم علیه السلام کا بهشت میں داخل هونا که قرآن مجید میں اس کا صرف تین بار ذکر آیا هے ) یا اسے صرف ایک بار ذکر کرے ( جیسے حضرت آدم علیه السلام کی خلقت کی داستان اور خداوند متعال کی ملائکه سے گفتگو اور ان کا خداوند متعال کی بارگاه میں اعتراض کرنا)

منابع وماخذ:

١- حلی، ابن ادریس السرائر، موسسه ی نشر السلامی، طبع دوم، سال ١٤١١ ھ ق.

٢- حلی، یحیی بن سعید، الجامع للشرایع، نشرموسسه ی سید الشهداء، سال ١٤٠٥ ھ ق.

٣- سبحانی جعفر، فرازهایی از تاریخ پیامبر اسلام، نشر مشعر، سال ١٣٧٥ ھ ش.

٤- سلیم بن قیس هلالی، اسرار آل محمد، انتشارات الهادی، طبع دوم، سال١٤١٨ ھ ق.

٥- قاضی ابن براج، المهذب، نشر جامعه ی مدرسین حوزه ی علمیه ی قم، سال ١٤٠٦ ھ ق.

٦- محمد صادق نجمی و هاشم هریسی، شناخت قرآن ، انتشارات مدینه العلم، قم، سال ١٤٠٢ھ ق.

٧- المیزان فی تفسیر القرآن، ترجمه.

 

[1] ١ " هذا بیان للناس وهدی موعظه للمتقین،" آل عمران،١٣٨"ان هذا القرآن یهدی للتی هی اقوم" اسری،٩.

[2] احمد بن محمد ابی نصر، عن ابی الحسن الرضا علیه السلام قال : " علینا القاء الاصول الیکم و علیکم التفریع ". حلی، ابن ادریس، السرائر، ج٣، ص٥٧٥- الحلی، یحیی بن سعید، الجامع للشرایع، ص٤.

[3] " فاجتنبوا الرجس..."، حج، ٣٠.

[4]  محمد صادق نجمی و هاشم هریسی، شناخت قرآن، ص٧٨.

[5]  " انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس..."، مائده/٩٠.

[6] مثال کے طور پر درج ذیل آیات ملاحظه هوں: یوسف/١٠٩: روم/٤٢-٩; محمد/ ١٠; غافر/ ٢١ و٨٢

[7] سبحانی، جعفر، فرازهایی از تاریخ اسلام، ص١٢٨.

[8] طباطبایی، محمد حسین، تفسیر المیزان، ج١، ص١٢٠.

[9]  بقره، ٣٥

[10] " لقد کان فی قصصهم عبره لاولی الالباب" یوسف،١١١.

[11]  سبحانی، جعفر، فرازهایی از تاریخ پیامبر اسلام، ص٢٢٢.

[12]  ملاحظه هو: : سلیم بن قیس،هلالی ، اسرار آل محمد، صص ٢٤٢ و ٥٢٨.

  251
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    امام علی علیه السلام کی امامت اور خلافت کو کیسے ثابت ...
    مسئلہ فلسطین کے بنیادی فقہی اصول امام خامنہ ای کی نگاہ ...
    سیرت رسول اکرم (ص) میں انسانی عطوفت اور مہربانی کے ...
    ہم امریکہ کی عمر کے آخری ایام سے گذر رہے ہیں: چالمرز ...
    شفاعت کی وضاحت کیجئے؟
    دین اسلام کی خاتمیت کی حقیقت کیا ھے۔ اور جناب سروش کے ...
    کیا تقلید کے ذریعھ اسلام قبول کرنا، خداوند متعال قبول ...
    امام کے معصوم ھونے کی کیا ضرورت ھے اور امام کا معصوم ...
    کیا پیغمبر اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) کے تمام الفاظ ...
    عورتوں کے مساجد میں نماز پڑھنے کے بارے میں اسلام کا ...

 
user comment