اردو
Monday 23rd of September 2019
  324
  0
  0

قبور او لیاء الہی اور وہابیت کے مظا لم

الحمد لله رب العالمين و الصلا ة والسلام علی ٰ رسول الله و علی ٰ اھلبيته الطيبين الطاھرين و لعنة الله علی ٰ اعدائهم اجمعين اما بعد۔۔۔
وہابیوں کے مظالم اور ویرانی قبور اولیا ء و صالحین کے بارے میں اگر قلم فرسائی کی جائے تو ہزاروں صفحات پر مشتمل کتاب بھی کافی نہیں ہو سکتی ۔
لیکن یہ مختصر سا مقالہ جو کہ صرف چند صفحات پر مشتمل ہے اس اعتبار سے قابل اہمیت ہے کہ اس مقالے کے اکثر مستناد اہل سنت کے اقوال اور انکی کتابیں ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ وہابیت کسی دین یا مذہب کا نام نہیں ہے بلکہ وہابیت ایک ایسی پلید فکر کا نام جس نے دین فروش انسانوں کے علاوہ مذھب فروش مسلمانوں سے بھی ان سے قوت فکر و تعقل چھین کر انکو اپنے فاسد عقائد کا غلام بنا رکھا ہے اور اگر اس بیہودہ فکر کو نا بود نہ کیا گیا تو مسلمانوں کا آئندہ کیا ہوگا اسے خدا ہی بہتر جانتا ہے ۔
قبل اس کے کہ میں اپنے اصل موضوع پر گفتگو کروں ایک اہم مطلب کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ وھابیت جیسے فاسد مذہب کی بنیاد ڈالنے والا ابن تیمیہ اور اسکے عقا ئد کا مروج اور اسکے خوابوں کی تعبیر محمد ابن عبد الوھاب جس نے ابن تیمیہ کے عقاید کو پروان چڑھایا اور جس کے فتووں نے اولیاء و صالحین کے قبور کی بے حرمتی اور بارگاہوں کی حتک حرمت کو رواج بخشا انکے اس عقیدے پر کہ قبروں کی بے حرمتی عین اسلام ہے ایک نظر ڈالی جائے۔
ابن تیمیہ کہتا ہے کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انبیا ء و صالحین کی قبریں اگر کسی شہر یا کسی سر زمین پر ہوتی ہیں تو وہ سر زمین یا شہر مصیبت اور بلا سے محفوظ رہتا ہے مثال کے طور پر بغداد والے مقبرہ کی بدولت اور اہل شام قبور انبیاء کے سبب اور حجاز والے پیغمبر(ص) کی قبر اور وہ جو بقیع میں دفن ہیں انکی قبروں کی وجہ سے بلائو ں سے محفوظ رہتے ہیں جبکہ یہ خیال اور یہ گمان سراسر غلط ہے اور ایسا عقیدہ اسلام کے مخالف ہے اور ایسے عقیدے کی قرآن و سنت و اجماع مذمت کرتے ہیں اور پیغمبر (ص) کا وجود پیغمبر (ص) کی حیات تک امان کا باعث تھا نہ مرنے کے بعد (١)۔
اور جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انبیا ء اور اولیاء کی قبروں کے وجود سے بلائیں دور ہوتی ہیں انکا یہ عقیدہ بت پرستوں کے عقیدوں سے مشابہت رکھتا ہے (٢)۔
ابن تیمیہ ائمہ بقیع کی قبروں کے بارے میں کہتا ہے ان قبروں کے پاس آکر حاجت اور دعا مانگنے والوں کو اس عمل سے روکا جائے اور اگر روکنے پر بھی اس عمل سے باز نہ آئیں تو ایسی قبروں کو اس طرح مٹایا جائے کہ ان کے نشان تک باقی نہ رہ جائیں ۔(٣)
محمد ابن عبد الوھاب کہتا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) اور ائمہ (ع) کی قبروں کا احترام کرنا اور انکی زیارت کے لئے سفر کرنا بدعت اور حرام ہے اور یہ عمل شرک و بت پرستی کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کے اس عمل کے مشابہ ہے جسکو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے طلب کیا تھا یہ کہکر کہ ہمارے لئے ایک بت بنایا جائے تاکہ ہم اسکی عبادت کریں اور بنی اسرائیل کا یہ مطالبہ اس عالم میں تھا کہ بنی اسرائیل خدا پر ایمان بھی رکھتے تھے ۔(٤)
ان فاسد عقاید کا جواب شیعہ علماء نے مفصل طور پر اپنی کتابوں میں بیان فرمایا ہے ،خواہشمند حضرات ،سید محمد امین کی کتاب کشف الارتیاب ، اور سید حسن قزوینی کی کتاب البراھین الجلیلة کی طرف رجوع فرمائیں ۔
اس تمہیدی گفتگو سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس مذہب کے پیشوا کا قبور صالحین کے بارے میں یہ عقیدہ ہو اس مذ ہب کے طرف دار قبور انبیاء واولیاء و صالحین کے ساتھ کیسا برتائو کرینگے اور یہ بات ہر صاحب عقل کے لئے قابل محسوس بھی ہے ۔
اگر تاریخ وھابیت پر نظر ڈالی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ اس مذہب کی بنیا د ہی خون ریزی، قتل و غارت گری اور مقدس مقامات کی توہین پر رکھی گئی ہے ۔
مثال کے طور پر سعودی حکومت جو آج بھی مظہر وھابیت ہے اس حکومت کی بنیاد رکھنے والا محمد آل سعود جس نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر ١٢٠٥ ہجری سے لیکر ١٢٢٠ ہجری تک شریف غالب کے خلاف (جو کہ عربستان کا بادشاہ تھا )جنگ و خونریزی میں گزارے اور محمد آل سعود کے بعد اسکے بیٹے عبد العزیز نے شریف غالب کے خلاف جنگ جاری رکھی عبد العزیز جو کہ مذہب وہابیت کا مروج تھا اس نے دو مرتبہ نجف و کربلا پر حملہ کر کے وہا ں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی اور ہزاروں بے گناہ افراد کا خون بہایا اور متعدد مرتبہ مکہ پر حملہ کیا لیکن شریف غالب کے مقابلہ میں شکست سے دچار ہوا لیکن ایک شدید لڑائی میں شریف غالب کو شکست دے کر مکہ کا محاصرہ کر کے تمام ان لوگوں کو جو اسکے مخالفین میں شمار کئے جاتے تھے انکا قتل عام کر کے اپنی حکومت کی بنیاد مستحکم کرلی لیکن مدینہ اور طائف پر مسلط ہونے کے بعد جب جدہ پہونچا تو حکومت عثمانی جو کہ شریف غالب کی حمایت کرتی تھی نے جدہ پر مسلط ہونے نہیں دیا ، لیکن کچھ ہی دنوں بعد مکاری اور حیلہ گری کے ذریعہ شریف غالب کو گرفتار کر کے مصر تبعید کیا اور پھر قتل کر کے شریف غالب کی حکومت کا خاتمہ کر دیا ۔
ان جنگوں میں وہابیت کی حمایت کرنے والے انگریز تھے اور انگریزوں کی قدرت کا سہار الیکر وہابیوں نے اپنی قدرت کا سکہ جمایا اور اس کامیابی کے بعد تمام وہ آثار جو تاریخ اسلام کے لئے اور مسلمانوں کے لئے مقدس جگہیں تھیں انھیں منہدم کر دیا گیا ۔(٥)
کسی بھی مسلمان کی قبر کو منہد م کرنا اس بات کی علامت ہے کہ صاحب قبر کی بے حرمتی کی گئی ہے اور اسلام ہر قسم کی بے حرمتی کو نا جائز جانتا ہے اور تمام مذاہب اسلامی اس بات کے اوپر متفق ہیں کہ قبروں کے اوپر بیٹھنا یا قبروں کے اوپر چلنا وغیرہ صاحب قبر کی بے حرمتی ہے اب مجھے نہیں معلوم ابن تیمیہ اور محمد ابن عبد الوہاب اور انکی پیروی کرنے والے کس مذہب کی بنیاد پر قبروں کو ویران کرنے کو صاحب قبر کی بے حرمتی نہیں سمجھتے ۔
مکہ جیسی مقدس سر زمین جس میں خانہ خدا ، قبلہ مسلمین اور اس کے قرب و جوار میں چار سو سے زیادہ انبیاء کی قبریں پائی جاتی ہیں ۔
صرف کعبہ کے اندر تین سو انبیا ء کی قبریں تھیں اور رکن یمانی و رکن حجر اسود کے درمیا ن تقریباّ ستّر پیغمبروں کی قبریں موجود تھیں اور اسی طرح زمزم اور مقام ابراہیم کے درمیان حضرت ہود ۔حضرت صالح و حضرت شعیب کی قبریں تھیں (٦)۔
لیکن جس زمانہ سے وہابیوں کے نجس قدم اس سر زمین مقدس پر پہونچے تمام ان قبروں کو جو سطح زمین سے اونچی تھیں انکو ویران ، اور اطراف مکہ کی تمام بارگاہوں اور زیارت گاہوں کو نیست و نابود کر کے اس مقدس سر زمین کے تقدس کو اس طرح پایمال کیا کہ تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی ۔
آ ٹھ محرم ١٢١٨ ہجری تاریخ مکہ کا وہ تاریک دن ہے جس میں وہابیوں نے مکہ پر قبضہ کرکے عوام الناس سے بیعت لی اور اسی دن یہ دستور دیا گیا کہ عصر کی نماز کے بعد لوگ رکن اور مقام کے درمیان لوگ جمع ہوں تاکہ حقیقی دین اسلام کو بیان کیا جائے ، دستور کے مطابق لوگ عصر کے وقت جمع ہوئے اس وقت وہابیوں کی طرف سے منتخب کردہ مفتی زمزم کے کنویں کی بلندی پر جاتا ہے (٧)اور اپنی گفتگو کا آغاز یوں کرتا ہے کہ شراب حرام ہے زنا حرام ہے اور اسی طرح کے دیگر مسائل کہ عوام جسکو پہلے سے جانتی تھی انھیں بیان کرنے کے بعد کہتا ہے کل (یعنی نو محرّم ١٢١٨کو ) تمام وہ بارگاہیں جنکو تم لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا ہے اور تمام وہ قبےّ اور گنبدیں جو قبروں کے اوپر بنائے گئے ہیں یہ سب کے سب ہماری نظر میں ایک بت سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے لہٰذا ان سب کو کل تمھیں لوگوں کو اپنے ہاتھوں سے منہدم اور ویران کرنا ہے تاکہ خدا کے علاوہ کوئی دوسرا معبود باقی نہ رہے ۔
یا بقول صاحب تاریخ مکہ قبروں کی ویرانی کا دستور اسی دن ایک دوسری نشست میں دیا گیا (٨)
نو محرّم ١٢١٨ ھجری کے سورج کے طلوع ہوتے ہی کیا دیکھا گیا کہ وہابیوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں افراد اپنے ہاتھوں میں بیلچہ اور تخریب کا سامان لئے ہوئے قبروں اور قبروں پر بنے ہوے گنبدوں کو ویران کرنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے نہ قبروں کے پتھر رہ گئے نہ قبروں کے نشان یہاں تک کہ پیغمبر (ص) اور خدیجہ کبری ٰ اور حضرت علی کے گھروں کو بھی منہدم کر دیا ۔
صاحب تاریخ جبرتی لکھتے ہیں کہ وہابیوں نے زمزم کے اوپر بنائے گئے گنبد اور ان تمام گنبدوں کو جو کعبہ کے اطراف میں دکھائی دیتے تھے ، اسی طرح تمام وہ عمارتیں جو کعبہ سے بلند تھیں ایک ایک کو خاک میں ملا کر رکھ دیا (٩)۔
وہابیوں نے مکہ میں تمام ان جگہوں کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر نابود کر ڈالا جہاں پر مومنین یا صالحین کی قبریں پائی جاتی تھیں ، اور جس وقت قبروں کے ساتھ یہ بے حرمتی کی جاتی تھی عالم یہ ہوتا تھا کہ ایک طرف ڈھول بجانے والوں کی قطاریں ہوتی تھیں اور دوسری جانب تالیاں بجانے والے اور اشعار پڑھنے والے ہوتے اور بے حرمتی کی انتہا یہ ہوتی تھی کہ قبروں کی ویرانی کے بعد ان پر پیشا ب کیا جاتاتھا ۔
مکہ کی تمام قبروں کو تین روز کے عرصہ میں نیست و نابود کر دیا گیااور اہل مکہ وہابیوں کے خوف سے اپنے بزرگوں کی قبروں کے ساتھ ہونے والی بے حرمتی کو دیکھتے رہے ۔
١٣٤٣ ہجری میں جس وقت وہابیوں نے طائف اور مکہ پر اپنی حکومت کا اعلان کیا سب سے پہلے جس وقیحانہ فعل کا آغاز کیا وہ ابن عباس کے مقبرے پر بنائے گئے گنبد کی نابودی تھی ، اور یہی وہ سال تھا جس میں وہابیوں نے جنا ب عبد المطلب ، جناب ابو طالب اور جناب خدیجہ سلام اللہ علیھا کی قبروں کو ویران کیا اور پیغمبر اقدس(ص) و فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے بیت اقدس کو ایک بے حرمتی کے ساتھ نابود کردیا اور جس وقت سر زمین جدہ پر وہابیوں نے قدم رکھا جناب حوّا اور دیگر مومنین کی قبروں کو خاک میں ملا دیا ، خلاصہ یہ کہ وہابیوں نے مکہ ، جدہ اور طائف میں پائی جانے والی تمام قبروں کو اپنے دور حکومت میں نابود کر ڈالا ۔
اور جس وقت وہابیوں کے منحوس قدم مدینہ جیسی مقدس سر زمین پر پہونچے تو وہاں بھی ایسے ایسے دلخراش اعمال انجام دئے کہ جس کو بیان کرتے ہوئے انسان کا بدن لرز جاتا ہے ۔
انّیس جمادی الاولیٰ ١٣٤٤ ہجری کو شہر مدینہ وہابیوں کے قبضہ میں آچکا تھا اور پھر کیا تھا حکومت کے آدمی پہلی فرصت میں شہدائے احد کا مقبرہ اورجناب حمزہ سیدالشیدا کی قبر جو کہ شہر مدینہ کے باہر واقع تھی اسے اس طرح منہدم کیا کہ اگر کوئی جناب حمزہ کی زیارت کرنا چاہے تو اسے صرف خاک کے ایک تپّے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ سکتا ۔
اور جس وقت شہر مدینہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے پیغمبر (ص) کے مرقد مطّہر کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور کچھ ہی دنوں بعد ( یعنی شوال ١٣٤٤ھجری ) قبرستان بقیع کی تمام قبروں کو اس طرح خاک میں ملایا گیا کہ ان قبروں کے نشان تک باقی نہ رہے یہاں تک کہ قبرستان بقیع کے اطراف کی دیواروں کو بھی باقی نہیں چھوڑا ۔
قبرستان بقیع جس میں ائمہ کی قبروں کے علاوہ جن دیگر قبور کی توہین کی گئی اس میں پیغمبر(ص) کے بیٹے جناب ابراہیم اور حضرت ابوالفضل العباس کی مادرگرامی جناب ام البنین اور پیغمبر اکرم (ص) کے پدر بزرگوار جناب عبد اللہ اور جناب امام جعفر صادق کے فرزند جناب اسما عیل اور بہت سے صحابہ اور تابعین کی قبریں شامل ہیں ۔
حضرت امام حسن مجتبی اور حضرت امام زین العابدین اور امام محمد باقر و امام جعفر صادق کی قبروں سے وہ آہنی ضریح ( جسے ایران کے شہر اصفہان میں تیار کر کے مدینہ بھیجی گئی تھی ) لوٹ لی گئی ۔
اور پیغمبر اکرم (ص) کے چچا جناب عباس اور حضرت علی کی مادر گرامی جناب فاطمہ بنت اسد کی قبروں کو بھی جو کہ ( ائمہ بقیع کی قبروں سے متصل تھیں ) منہدم کر دیا گیا ۔(١١)
وہابیوں کی ان گستاخیوں کو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہیکہ وہابیوں نے پیغمبر اکرم (ص) کی قبر مطہر کو ویران کرنے سے کیوں گریز اختیار کیا ؟اور کیا ویرا ن نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کا احترام کرتے تھے ؟
دوسرے سوال کا جواب واضح ہیکہ ہرگز وہابیوں کی نظرمیں قبر پیغمبر اسلام (ص) کا احترام نہیں تھا ، بلکہ اگر و ہابیوں کا بس چلتا تو سب سے پہلے پیغمبر (ص) کی قبر کو ویران کرتے اس لئے کہ وہابیوں کے عقاید کے مطابق ہر وہ جگہ جسکا لوگ زیادہ احترام کرتے ہوں اس جگہ کا انہدام ضروری ہے بنا بر این پیغمبر (ص) کی قبر چونکہ خاص و عام کے لئے زیارت گاہ تھی اور ہے ، وہابیوں کے لئے بدرجہ اولیٰ اسکا مٹانا واجب تھا اور اگر عوام الناس کا خوف نہ ہوتا اور اپنی نابودی کا خطرہ در پیش نہ ہوتا تو یقینا سب سے پہلے قبر پیغمبر (ص)ہی ویران کی جاتی ، اور یہیں سے میرے پہلے سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ وہابیوں نے عوام کے خوف سے قبر پیغمبر (ص) کے انہدام سے گریز کیا ہے ۔
لیکن بقول وہابیوں کے کہ قبر پیغمبر (ص) کو اس لئے ویران نہیں کیا گیا ہے کہ ہم پیغمبر (ص) کا احترام کرتے ہیں تو یہ احترام اس وقت کہاںچلا گیا تھا جب پیغمبر(ص)اور فاطمہ زہرا (س) کے بیت اقدس کو ویران کیا گیا ، اور یہ احترام اس وقت کہاں تھا جب پیغمبر (ص) کے پدر بزرگوار جناب عبدا للہ اور پیغمبر(ص) کی مادر گرامی جناب آمنہ کے مرقد کو ویران کیا گیا اور اسی طرح جب پیغمبر(ص) کے عزیزوں کی قبریں ویران کی جارہی تھیں کیوں احترام کو مد نظر نہیں رکھا گیا ۔
مجموعی طور پر اگر وہابیوں کی جنایات کو بیان کیا جائے تو یوں کہا جاسکتا ہیکہ ١٢١٦ ہجری سے لیکر ١٣٤٤ ہجری تک تاریخ وہابیت کا وہ دور ہے جس میں ہزاروں اولیا ء و صالحین کی قبریں اس طرح ویران کی گئیں کہ اکثر ان قبروں کے نشان تک نہیں ملتے ۔
وہابیوں نے قبروں کی تخریب کے ساتھ ان گرانبہا چیزوں کو بھی جو مقبروں کی زینت تھیں انھیں بھی اپنے آباو اجداد کا مال سمجھ کر اٹھا لے گئے جیسا کہ صاحب تاریخ مملکت عربی لکھتے ہیں کہ ١٢٢٠ ہجری میں وہابی پیغمبر (ص) کے حرم مطہر سے تمام گرانبہا اور قیمتی چیزوں کو اپنے ساتھ اٹھا لے گئے (١٢)
اور اپنی گفتگو کے آخری مرحلہ میں وہابیوں کی ان جنایات کی طرف صرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں جسے کربلاو نجف جیسے شہروں میں انجام دیا ہے
وہابیوں نے مکہ اور مدینہ میں قبروں کی تخریب اور عوام کے قتل عام سے پہلے ١٢١٦ ہجری میں کربلا و نجف پر حملہ کرکے ان دو شہروں میں پا ئی جانے والی ایسی تمام قبروں کو جو ہر خاص و عام کے لئے قابل احترام تھیں انھیں منہدم اور ہزاروں بے گناہ افراد کو قتل کر کے اپنے کو مروج اسلام اور مسلمانوں کو کافر اور بت پرست کہ کر پکاراہے ۔
کربلاء معلّیٰ پر حملہ اور امام حسین کے روضہ کی بے حرمتی وہا بیوں کے منصوبوں کا ایک اہم جزء تھا ۔
خدا وند عالم سے دعا کرتے ہیں کہ زمین کو وہابیوں کے نجس وجود سے پاک کرے اور تمام مسلمانوں کو حقیقی اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔والسلام علیکم و رحمةا۔۔۔

منابع و مآخذ

اسم کتاب------------- مولف
کشف الارتیاب ( ترجمہ فارسی ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علامہ سید محسن امین
معالم المدرستین ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علامہ سید مرتضی ٰ عسکری
تحلیلی نو بر عقاید وہابیان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد حسین ابراہیمی
النھایة ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابن اثیر
وھابیان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی اصغر فقیہی
تا ریخ مکة المکرمة ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطب الدین حنفی
فرقہ وہابی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی دوانی
کشف الشبھات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد عبد الوھاب
  324
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      مھربانی کرکے امامت کے اثبات اور کی ضرورت کو عقلی دلائل ...
      کیا حضرت علی علیھ السلام کی وه حالت ، جس میں انھوں نے ...
      کیا دھمکی دینے کی غرض سے خودکشی کا اقدام قضا و قدر الھی ...
      امام علی علیھ السلام کی امامت کے ثبوت میں قرآن مجید کی ...
      ۳۸ عیسائی حرم شاہ چراغ (س) میں شیعہ ہو گئے
      "سکینہ" اور "وقار" کے درمیان فرق کیا ہے، مجھے ...
      کیا، لفظ یٰس سنتے وقت صلوات پڑھنا صحیح هے اور کیا اس ...
      صرف چند انبیاء علیهم السلام کے نام قرآن مجید میں ذکر هو ...
      علامہ سید ساجد علی نقوی: نئے ادارے اور وردیاں تبدیل ...
      میثاقِ مدینہ

 
user comment