اردو
Saturday 19th of October 2019
  207
  0
  0

عزاداری انبیاء و ائمہ طاہرین علیہم السلام

عزاداری انبیاء و ائمہ طاہرین علیہم السلام

سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے غم میں عزاداری کی ایک طویل تاریخ اور بلند مقام ہے۔ جب حضرت آدمٴ کو زمین پر بھیجا گیا تو وہ کچھ عرصہ تلاش میں تھے کہ کس طرح اپنے ماضی کی تلافی کریں اور بارگاہِ الہی میں دوبارہ حضور کی سعادت حاصل کریں۔ چنانچہ جناب جبرئیلٴ نازل ہوئے اور یہ کلمات تعلیم فرمائے تاکہ ان کے وسیلے سے اذنِ وصال مل جائے:
یا حمیدُ بحقِ محمد، یا عالی بحقِ علی، یا فاطرُ بحقِ فاطمہ، یامحسنُ بحقِ الحسن و الحسین و منکَ الاحسان۔
یعنی اے لائق حمد بحقِ محمد، اے بلند مرتبہ بحقِ علیٴ، اے خلق کرنے والے بحقِ فاطمہٴ، اے نیکی کرنے والے بحقِ حسنٴ و حسینٴ اور نیکیاں تجھ ہی سے ہیں۔
جب جناب آدمٴ نے ان اسمائ کو دہرایا تو جبرئیلٴ سے پوچھا: ’’جب حسینٴ کا نام زبان پر لاتا ہوں کیوں میرا دل شکستہ ہو جاتا ہے اور دل پر غم کے بادل چھا جاتے ہیں اور آنسو جاری ہوجاتے ہیں؟‘‘ جبرئیلٴ نے جواب میں امامٴ کے مقام و مرتبے کی جانب اشارہ کیا اور آپٴ پر پڑنے والے مصائب بتائے اور خصوصیت کے ساتھ آپٴ کی اور آپٴ کے ساتھیوں کی پیاس کا ذکر کیا۔ (بحار الانوار ج ٤٦)

 

حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی یزید پر لعنت:

امام حسینٴ اور ان کے اصحاب پر لعنت کا تعلق صرف کربلا والوں کی شہادت کے بعد سے نہیں ہے بلکہ حضرت ابراہیمٴ بھی یزید پر لعنت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت ابراہیمٴ سرزمین کربلا سے گزر رہے تھے کہ گھوڑے سے گر گئے اور آپٴ کے سر پر زخم لگا اور خون جاری ہوگیا۔ آپٴ نے خدا کے حضور استغفار کیا اور عرض کیا: ’’خدایا! مجھ سے کونسا گناہ سرزد ہوا ہے؟‘‘
جبرئیلٴ نے نازل ہوکر فرمایا: ’’آپ نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے۔ یہاں آخری نبی اور ان کے بلافصل جانشین کا بیٹا مارا جائے گا اور آپ کا خون اس کی ہمدردی میں جاری ہوا ہے۔‘‘
جناب ابراہیمٴ نے پوچھا: ’’اس کا قاتل کون ہوگا؟‘‘
بولے: ’’ایک ایسا شخص جس پر آسمان والے اور زمین والے لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘
یہ سُن کر خلیل اللہ نے بھی ہاتھ اٹھائے اور یزید پر بہت لعنت کی۔ (بحار الانوار جلد ٤٦)

 

امام حسینٴ سے حضرت ابراہیمٴ کی محبت:

امام علی رضاٴ ایک حدیث میں فرماتے ہیں:
’’جب اللہ تعالی نے حضرت ابراہیمٴ کو اپنے بیٹے کی قربانی کا حکم دیا (اور آخر میں دنبہ ذبح ہوا) تو جناب ابراہیمٴ نے آرزو کی کہ کاش دنبہ نہ آیا ہوتا تاکہ وہ بھی مصیبت اٹھانے والوں کا عظیم درجہ حاصل کرپاتے۔ اس موقع پر خدا نے وحی کی: ’’اے ابراہیم! مخلوق میں تیرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟‘‘
جواب دیا: ’’تیری کوئی مخلوق میرے نزدیک تیرے حبیب محمد ۰ سے زیادہ محبوب نہیں ہے۔‘‘
خدا نے فرمایا: ’’تجھے محمد۰ اور اس کے فرزند سے زیادہ محبت ہے یا خود سے اور اپنے بیٹے سے؟‘‘
جواب دیا: ’’محمد۰ اور اس کے بیٹے سے۔‘‘
خدا نے فرمایا: ’’محمد۰ کے فرزند کا اس کے دشمن کے ہاتھوں ظلم کے عالم میں قتل ہوجانا زیادہ دردناک ہے یا تیرے ہاتھوں تیرے بیٹے کا میری اطاعت میں قربان کر دینا؟‘‘
جواب دیا: ’’محمد۰ کے فرزند کا ذبح ہونا زیادہ دردناک ہے۔‘‘
خدا نے فرمایا: ’’اے ابراہیم! بہت جلد ایک گروہ ظلم کرتے ہوئے ان کے بیٹے کو ذبح کرے گا جس کے نتیجے میں وہ گروہ میرے غضب کا شکار ہوگا۔‘‘
پس جناب ابراہیمٴ نے گریہ کیا۔
خدا نے فرمایا: ’’اے ابراہیم! محمد۰ کے فرزند (امام حسینٴ) پر تیرے اس گریہ کو میں نے تیرے بیٹے پر گریہ کی جگہ قرار دیا (اگر وہ قربانی ہو جاتا) اور صاحبانِ مصائب کو ملنے والا اعلی ترین درجہ تجھے عطا کیا۔‘‘ (خصال صدوق)

 

حضرت موسی علیہ السلام کی نفرین:

حضرت موسی علیہ السلام نے قاتلانِ امام حسینٴ پر لعنت و نفرین کی ہے۔ ایک مرتبہ وہ یوشع بن نون کے ہمراہ سفر کے دوران سرزمین کربلا پر پہنچے۔ اچانک آپٴ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا اور جوتا آپ کے پیر سے نکل گیا۔ اسی وقت ایک کانٹا آپٴ کے پیر میں چبھا اور خون جاری ہوگیا۔ انہوں نے عرض کیا: ’’خدایا! مجھ سے کونسا گناہ سرزد ہوا ہے؟‘‘
وحی نازل ہوئی کہ ’’یہ مقام شہادتِ حسینٴ کا مقام ہے اور تیرا خون اس لئے جاری ہوا کہ مانند خونِ حسینٴ ہو جائے۔‘‘
حضرت موسی نے پوچھا: ’’حسینٴ کون ہے؟‘‘
ارشاد ہوا: ’’وہ محمد مصطفی کا نواسہ اور علی مرتضی کا بیٹا ہے۔‘‘
حضرت موسی نے پوچھا: ’’حسینٴ کا قاتل کون ہے؟‘‘
فرمایا: ’’وہ ایسا شخص ہے جس پر دریاوں کی مچھلیاں، جنگلوں کے جانور اور ہوا میں اڑنے والے پرندے لعنت کرتے ہیں۔‘‘
یہ سُن کر حضرت موسی نے ہاتھوں کو دعا کے لئے اٹھایا اور یزید پر لعنت کی اور یوشع نے آمین کہا۔(خصالِ صدوق)
کہیعص کی تاویل:
سعد بن عبد اللہ اشعری کہتے ہیں: ’’میں نے امام زمانٴ سے پوچھا: ’’کہیعص کی تاویل کیا ہے؟‘‘
فرمایا: ’’یہ حروف ایک راز ہے جو خدا نے حضرت زکریا کو بتایا تھا ۔وہ چاہتے تھے کہ پنجتن آل عباٴ سے واقف ہو جائیں جو جبرئیلٴ نے انہیں بتائے تھے۔ جب کبھی جناب زکریاٴ ان ناموں کو اپنی زبان پرجاری کرتے ان کا حزن و اندوہ دور ہو جاتا۔ لیکن حسینٴ کا نام زبان پرآتے ہی اشک جاری ہو جاتے اور دل غم سے بوجھل ہو جاتا۔ ایک دن انہوں نے خدا سے عرض کی۔ ’’دل کی اس تسکین اور آنسووں کی برسات کا سبب کیا ہے؟‘‘
خدا نے فرمایا: ’’کاف‘ سے سرزمین کربلا کی جانب اشارہ ہے اور ’ہا‘ خانوادہ رسول۰ کی شہادت کی نشانی ہے، ’یائ‘ کا اشارہ قاتلِ حسینٴ کی طرف ہے جس کا نام یزید ہے اور ’عین‘ سے مراد عطش (پیاس) ہے اور ’صاد‘ اس کے صبر و استقامت کی علامت ہے۔‘‘
جب حضرت زکریاٴ کو یہ معلوم ہوا تو تین روز تک مسجد میں مقیم رہے اور کسی سے ملاقات نہ کی۔ اس دوران تنہائی میں امام حسینٴ پر گریہ کرتے اور مرثیہ پڑھتے رہے۔ اس کے بعد خدا سے عرض کیا: ’’خدایا مجھے ایک بیٹا عطا کر تاکہ میں اس کا غم اٹھاوں اور آخری نبی کے ساتھ ہمدردی کروں۔‘‘
چنانچہ خدا نے حضرت یحیی ان کو عطاکئے جو اپنے زمانے کے طاغوت کے ہاتھوں دردناک ترین انداز میں شہید ہوئے۔ (احتجاج طبرسی)

 

نبی اکرم ۰ اور ائمہ طاہرین کی عزاداری

اشکِ نبی۰:

نبی اکرم ۰ مختلف مناسبتوں سے امام حسینٴ کے مصائب بیان فرماتے اورگریہ کرتے تھے۔ جب امام حسینٴ آپ۰ کے حضور تشریف لاتے توآپ۰ اسے اپنی آغوش میں لے لیتے اور حضرت علیٴ سے فرماتے کہ ان کا خیال رکھیں۔ پھر ان کا بوسہ لیتے اور گریہ کرتے۔ جب امام حسینٴ نے آپ۰ سے گریہ کا سبب پوچھا تو فرمایا: ’’میں تلواروں کے وار کے مقامات کا بوسہ لیتا ہوں اور گریہ کرتا ہوں۔‘‘
امامٴ نے پوچھا: ’’کیا میں مارا جاوں گا؟‘‘
فرمایا: ’’ہاں، خدا کی قسم تم بھی، تمہارا بابا بھی اور تمہارا بھائی بھی مارے جاو گے۔‘‘
امام حسینٴ نے فرمایا: ’’کیا ہماری قتل گاہیں اور مدفن جدا جدا ہیں؟‘‘
فرمایا: ’’ہاں، بیٹا!‘‘
اب امام حسینٴ نے پوچھا: ’’ہماری زیارت کے لئے کون آئے گا؟‘‘
نبی۰ نے فرمایا: ’’میرے، تمہارے بابا کے، تمہارے بھائی کے اور تمہارے زوار میری امت کے سچے اور حق کے متلاشی لوگ ہوں گے۔‘‘ (بحار الانوار ج٤٤)

 

نبی اکرم ۰ کی لعنت:

امام حسینٴ کی ولادت کے دو سال بعد نبی اکرم ۰ ایک مرتبہ عازمِ سفر ہوئے۔ راستے میں ایک مقام پر ٹھہر گئے اور روتے ہوئے فرمانے لگے: ’’انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘۔ جب لوگوں نے اس عمل کی وجہ دریافت کی تو فرمایا: ’’ابھی جبرئیلٴ نے مجھے ایک علاقے کی اطلاع دی ہے جو نہر فرات کے کنارے واقع ہے اور اس کا نام کربلا ہے۔ میرا فرزند حسینٴ (فاطمہٴ کا بیٹا) اس سرزمین پر مارا جائے گا۔‘‘
عرض کیا: ’’اسے کون قتل کرے گا؟‘‘
فرمایا: ’’ایک شخص جس کا نام یزید ہوگا۔ خدا اس پر لعنت کرے! گویا میں اس مقام کو دیکھ رہا ہوں جہاں حسینٴ کی روح پرواز کر جائے گی اور اسے دفن کیا جائے گا۔‘‘ (اللهوف فی قتلی الطفوف)

 

جبرئیل علیہ السلام کی خبر:

سفر سے واپس آکر نبی اکرم۰ منبر پر تشریف لے گئے اور لوگوں کو نصیحت کی۔ آخر میں اپنا دایاں ہاتھ حسنٴ کے سر پر اور بایاں ہاتھ حسینٴ کے سر پر رکھا اور آسمان کی طرف سر اٹھا کر فرمایا: ’’خدایا! محمد تیرا بندہ اور تیرا پیغمبر ہے اور یہ میرے خاندان کے پاکیزہ ترین اور میرے فرزندوں اور خاندان میں برگزیدہ ترین افراد ہیں۔ میں اپنے بعد ان دو کو اپنی امت کے درمیان چھوڑ کے جاوں گا۔ جبرئیلٴ نے مجھے بتایا ہے کہ میرا یہ بیٹا (امام حسینٴ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے) عالمِ غربت میں مظلوم مارا جائے گا۔ بارِ الہا! شہادت کو اس کے لئے مبارک فرما اور اسے شہیدوں کو سردار بنا دے۔ خداوندا! جو لوگ اسے تنہا چھوڑ دیں اور جو لوگ اسے قتل کرنے کی کوشش کریں، انہیں دنیا و آخرت کی برکت سے محروم کردے!‘‘ (اللهوف فی قتلی الطفوف)

 

نبی کے جگر کا ٹکڑا:

جب نبی اکرم ۰ لوگوں کو امام حسینٴ کے مصائب بتا رہے تھے تو وہ گریہ کر رہے تھے۔ نبی اکرم۰ نے ان سے فرمایا: ’’کیا تم حسینٴ پر گریہ کر رہے ہو اور اس کی مدد نہیں کرو گے؟‘‘ اس کے بعد برافروختہ اور سرخ چہرے کے ساتھ جب کہ آنکھوں سے آنسو جاری تھے، مختصر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پھر فرمایا:
’’اے لوگو! میں دو نفیس یادگاریں تمہارے درمیان چھوڑ کے جارہا ہوں؛ یہ دو خدا کی کتاب اور میری عترت اور خاندان ہے۔ یہ میرے آب و گل سے مخلوط اور میرے جگر کے ٹکڑے ہیں۔ یہ دو ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس آجائیں۔ آگاہ رہو! کہ میں ان دونوں کا انتظار کروں گا اور ان دو کے بارے میں تم سے سوائے اس کے کوئی چیز نہیں چاہتا جس کا میرے پروردگار نے مجھے حکم دیا ہے۔ پروردگار نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے اقربائ اور اعزائ کی دوستی کا تم سے تقاضا کروں۔ مبادا کہ جب روزِ قیامت حوض کے کنارے مجھ سے ملاقات کرو کہ میرے خاندان سے دشمنی رکھتے ہو اور ان پر ستم کر چکے ہو!‘‘
(اللهوف فی قتلی الطفوف)

 

امام حسینٴ کا گریہ :

امام حسینٴ امام حسنٴ کی زندگی کے آخری لمحات میں ان کے پاس پہنچے اور بہت گریہ کیا۔ امام حسنٴ نے فرمایا: ’’کیوں رو رہے ہو؟‘‘
جواب دیا: ’’آپ کی حالت دیکھ کر!‘‘
امام حسنٴ نے فرمایا: ’’میں زہر سے مارا جاوں گا لیکن تیرے دن جیسا تو کوئی دن نہیں ہے کہ تیس ہزار بظاہر مسلمان ۔۔ اور حقیقتاً کافر۔۔ تیرے گرد جمع ہو جائیں گے تاکہ تجھے قتل کردیں اور تیرے حرم اور خاندان کی بے احترامی کریں۔ پھر انہیں قیدی بنا کر تیرے خیموں کو لوٹ لیں۔ اس موقع پر خدا بنو امیہ پر لعنت بھیجے گا اور اس ہولناک مصیبت پر آسمان گریہ کرے گا۔ نہ صرف آسمان بلکہ زمین و زمان تم پر روئیں گے یہاں تک کہ وحشی جانور اور دریاوں کی مچھلیاں بھی۔‘‘ (بحار الانوار ج ٤٥)


امام سجادٴ لوگوں کو جھنجھوڑ رہے ہیں:

ایک دن امام زین العابدینٴ بازار سے گزر رہے تھے۔ دیکھا کہ ایک قصاب بھیڑ کو ذبح کرنا چاہتا ہے۔ امام وہاں ٹھہر گئے اور رونے لگے۔ وہ قصاب اور بازار میں پھرنے والے لوگ آپٴ کے گرد جمع ہوگئے۔ قصاب کو خدشہ تھا کہ کہیں اس سے کوئی غلطی سرزد نہ ہوگئی ہو، اس لئے اس نے آپٴ سے معذرت خواہی کی۔ امام سجادٴ نے سب کے سامنے اس سے پوچھا: ’’اس جانور کو تم نے پانی پلایا ہے؟‘‘
کہنے لگا: ’’یابن رسول اللہ! سب مسلمان ایسے ہی کرتے ہیں۔‘‘
یہ سُن کر امامٴ نے فرمایا: ’’میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ میرے بابا کو، میرے بھائیوں کو اور ان کے اصحاب کو فرات کے آبِ گوارا کے کنارے پیاسا شہید کر دیا گیا‘‘۔
اس طرح امام سجادٴ نے بازار کے اندر سید الشہدائ کے لئے مجلس عزاداری برپا کی اور مصائب بیان کئے۔ (بحار الانوار ج ٤٦)

 

سوزِ امام سجادٴ:

امام جعفر صادقٴ فرماتے ہیں: ’’سانحہ کربلا کے بعد امام سجادٴ بیس سال تک روتے رہے۔ جب کھانا آپ کے سامنے رکھا جاتا تو آپٴ گریہ فرماتے۔ ایک دن ایک غلام نے پوچھا: ’’میں آپ کے قربان جاوں! مجھے خوف ہے کہ اس حالت میں آپ کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔‘‘
امامٴ نے فرمایا: ’’میں اپنا غم خدا کے سامنے پیش کرتا ہوں (یعنی تم اس حقیقت کوسمجھنے سے قاصر ہو کہ میں اسے بیان کروں) اور میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم لوگ نہیں جانتے۔ جب اولادِ فاطمہٴ کا مقتل مجھے یاد آتا ہے تو میری آنکھیں اشکوں سے لبریز ہو جاتی ہیں۔‘‘ (بحار الانوار ج ٤٦)

 

غم انگیز دن:

ایک دن امام سجادٴ نے علمدار کربلا حضرت عباسٴ کے بیٹے عبید اللہ کو دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آگئے۔ فرمایا:
’’جنگ اُحد سے بڑھ کر نبی اکرم ۰ کے لئے سخت دن کوئی اور نہیں تھا کیونکہ اس دن آپ۰ کے چچا اور خدا و رسول۰ کے شیر شہید ہوئے۔ اس کے بعد جنگ موتہ کا دن تھا کہ جب آپ۰ کے چچازاد بھائی حضرت جعفر طیار شہید ہوئے۔ لیکن ہمارے لئے عاشور سے بڑھ کر سخت دن کوئی نہیں کہ تیس ہزار افراد جمع ہوئے تاکہ میرے بابا سید الشہدائ کو شہید کر دیں اور اپنے اس گھناونے فعل کے ذریعے قربِ خدا کی تمنا کریں؛ جب کہ آپٴ انہیں نصیحت اور موعظہ بھی کر رہے تھے اور انہیں خدا یاد دلا رہے تھے، لیکن انہوں نے دشمنی اور ستم روا رکھتے ہوئے میرے بابا کو قتل کردیا۔‘‘ (بحار الانوار ج ٤٤)

 

امام حسینٴ کا زوار، اہلبیتٴ کا ہم نشیں:

امام باقرٴ نے فرمایا: ’’جو شخص چاہتا ہے کہ اس کا مقام بہشت بریں ہو، وہ زیارتِ مظلوم کو ترک نہ کرے۔‘‘
کسی نے پوچھا: ’’مظلوم کون ہے؟‘‘
فرمایا: ’’حسینٴ بن علیٴ کہ جس نے انقلابِ عاشورائ کو جنم دیا۔ جو شخص ان کے عشق میں اور خاندانِ رسالت کی محبت میں ان کی زیارت کے لئے جائے گا، دوسرے لوگوں سے پہلے جنت میں داخل ہوگا اور اہلبیتِ نبوی کے ساتھ ہم نشیں ہوگا۔‘‘ (بحار الانوار ج ١٠١)

 

روزِ عاشور:

امام جعفر صادقٴ کے ایک صحابی عبد اللہ بن سنان کہتے ہیں: ’’روزِ عاشور میں امام صادقٴ کے حضور شرفیاب ہوا۔ آپٴ کی آنکھوں سے آنسو کے موتی ٹپک رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: ’’آپ کیوں گریہ کر رہے ہیں؟‘‘
امامٴ نے جواب دیا: ’’تم کیسے غافل ہوئے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ ایک ایسے دن میں کربلا کا عظیم سانحہ ہوا تھا؟‘‘
میں نے عرض کیا: ’’آپ کے خیال میں اس دن روزہ رکھنا کیسا ہے؟‘‘
فرمایا: ’’پورا روزہ نہ رکھو اور نہ ایک رات پہلے روزے کی نیت کرو۔ عصر کے وقت تھوڑے پانی سے افطار کرلو؛ کیونکہ یہی وہ وقت تھا جب خاندانِ رسالت پر مسلط کی جانے والی سخت جنگ ختم ہوئی تھی۔ جب کہ ان میں سے تیس افراد زمین پر پڑے ہوئے تھے۔ نبی اکرم ۰ کے لئے انتہائی سخت تھا کہ انہیں اس حال میں دیکھیں۔ اگر اس دن آنحضور۰ زندہ ہوتے تو یقینا صاحبِ عزا ہوتے اور اس دن انہیں تسلیت پیش کی جاتی۔‘‘ (بحار الانوار ج ٤٥)

 

شاعر کی حوصلہ افزائی:

امام جعفر صادقٴ نے جعفر بن عفان طائی سے فرمایا: ’’میں نے سنا ہے کہ تم حسینٴ بن علیٴ کے بارے میں شعر اور مرثیہ کہتے ہو اور بہت اچھے شعر کہتے ہو۔‘‘
کہنے لگا: ’’جی ہاں!‘‘
اس کے بعد اپنے چند اشعار امامٴ کی خدمت میں پڑھ کر سنائے۔ آپٴ اور دوسرے حاضرین نے شدت سے گریہ کیا اور ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے۔ امامٴ نے فرمایا:
’’اے جعفر! خدا کی قسم جس گھڑی تم حسینٴ کا مرثیہ پڑھ رہے تھے، خدا کے فرشتے اس کے گواہ اور سننے والے تھے۔ وہ بھی ہماری طرح رو رہے تھے۔ خدا نے تیرے لئے جنت کو لازم کر دیا اور تجھے بخش دیا۔‘‘ (وسائل الشیعہ ج ١٠)

 

عاشورائ کی یاد کے لئے امام کاظمٴ کی تدبیر:

امام موسی کاظمٴ ایسے ماحول میں زندگی گزار رہے تھے کہ آپٴ سے عزاداری حسینٴ کو برپا کرنے کا اختیار چھین لیا گیا تھا۔ لیکن امامٴ نے مناسب موقع پا کر لوگوں کی نگاہوں کو کربلا کی جانب مبذول کرایا۔ ایک سال نوروز کے دن ہارون الرشید نے امامٴ کو پیشکش کی کہ سیاسی اور فوجی افسران آپ سے ملنے آئیں گے۔ امامٴ نے انکار کیا لیکن ہارون الرشید نے سخت اصرار کے بعد امامٴ کو مجبور کردیا۔ تمام سیاسی اور فوجی افسران آپ کی خدمت میں باریاب ہوئے اور ہر ایک نے ہدیہ بھی پیش کیا۔ اس دوران ایک بوڑھا حاضر ہوا اور کہنے لگا: ’’میں غریب آدمی ہوں اور کوئی ہدیہ نہیں دے سکتا لیکن آپٴ کے جد، حسینٴ کے بارے میں میرے والد نے ایک مرثیہ کہا تھا اس کے چند اشعار پیش کرتا ہوں۔‘‘ امامٴ نے اس کا بہت استقبال کیا اور اپنے نزدیک بٹھایا۔ ملاقاتیں ختم ہوئیں تو امامٴ نے ہارون کے اہلکار، جسے ہارون نے نگرانی کے لئے بٹھایا تھا، سے فرمایا: ’’ہارون کے پاس جاو اور ان تحائف کے بارے میں معلوم کرو کہ کیا کرنا ہے؟‘‘ وہ جاکر واپس آیا اور کہنے لگا: ’’آپ کو ان تحائف میں اختیار حاصل ہے۔‘‘ چنانچہ امامٴ نے وہ سارے تحائف اس شخص کو دے دیئے جس نے امام حسینٴ کا مرثیہ سنایا تھا اور اس طرح امامٴ نے انقلابِ حسینی کی پاسداری میں اہم کردار ادا کیا۔ (نفس المہموم، شیخ عباس قمی۲)

 

عزاداری حسینٴ اور امام علی رضاٴ :

امام علی رضاٴ مناسب موقعوں پر امام حسینٴ کے مصائب کا ذکر کرتے اور آپٴ کی یاد میں گریہ فرماتے تھے۔ آپٴ نے ابن شبیب سے کہا: ’’اے فرزندِ شبیب! اگر کسی چیز پر رونا چاہتے ہو تو حسینٴ بن علیٴ پر گریہ کرو؛ کیونکہ ان کو اس طرح ذبح کیا گیا جس طرح جانور کا سر کاٹا جاتا ہے اور ان کے خاندان کے اٹھارہ مردوں کو جو اپنے دور کے بے مثال افراد تھے، بھی شہید کردیا۔ ان کی شہادت کے سوگ میں آسمانوں اورزمینوں نے گریہ کیا۔‘‘ (بحار الانوار ج ٤٤)

 

حرم حسینی:

امام علی نقیٴ اپنے زمانے کے گھٹن آلود ماحول میں اپنے جد، حضرت امام حسینٴ، کے لئے علی الاعلان عزاداری برپا نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن عاشورائی افکار کو پھیلانے کے لئے ہر مناسب موقع سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ آپٴ نے ایک شخص کو جو امام حسینٴ کی زیارت کے لئے جارہا تھا، فرمایا: ’’اس عظیم مقام پر میرے لئے دعا کرنا؛ کیونکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ تم میرے ایسے مقام پر دعاکرو کہ جہاں پر خدا کو دعا کرنا پسند ہے، اور امام حسینٴ کا حرم ایسی ہی ایک جگہ ہے۔‘‘ (بحار الانوار ج ١٠١)

 

امام زمانٴ کی مناجات:

امام زمانٴ سید الشہدائٴ کے غم میں فرماتے ہیں:
’’اگر زمانے نے مجھے دور کردیا ہے اور تقدیرِ الہی نے مجھے آپٴ کی مدد سے روک لیا ہے اور میں آپٴ کے ساتھ مل کر آپٴ کے دشمنوں سے جنگ نہیں کر سکا ہوں، تو ہمیشہ آپ کے مصائب پر گریہ و زاری کرتا رہوں گا اور آنسووں کی جگہ اپنی آنکھوں سے خونِ دل بہاوں گا، یہاں تک کہ ان مصائب کے درد اور رنج و غم سے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردوں۔ (بحار الانوار ج ١٠١)

 

  207
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      مھربانی کرکے امامت کے اثبات اور کی ضرورت کو عقلی دلائل ...
      کیا حضرت علی علیھ السلام کی وه حالت ، جس میں انھوں نے ...
      کیا دھمکی دینے کی غرض سے خودکشی کا اقدام قضا و قدر الھی ...
      امام علی علیھ السلام کی امامت کے ثبوت میں قرآن مجید کی ...
      ۳۸ عیسائی حرم شاہ چراغ (س) میں شیعہ ہو گئے
      "سکینہ" اور "وقار" کے درمیان فرق کیا ہے، مجھے ...
      کیا، لفظ یٰس سنتے وقت صلوات پڑھنا صحیح هے اور کیا اس ...
      صرف چند انبیاء علیهم السلام کے نام قرآن مجید میں ذکر هو ...
      علامہ سید ساجد علی نقوی: نئے ادارے اور وردیاں تبدیل ...
      میثاقِ مدینہ

 
user comment