اردو
Monday 17th of December 2018
  1196
  0
  0

عزاداری کی مشکلات کیا ہیں؟

عزاداری کی مشکلات کیا ہیں؟

کتاب ”امام حسین (ع) انبیاء کے وارث“ کے مولف حجة الاسلام والمسلمین اکبر دہقان نے ایک مقالہ میں عزاداری سے متعلق آٹھ بنیادی سوالوں کا جواب دیا ہے ۔

حوزہ علمیہ کے کامیاب مولف حجة الاسلام والمسلمین اکبر دہقان نے اب تک تقریبا
۳۵ کتابیں لکھی ہیں، آپ کی کتاب ”ہزار و یک نکتہ از قرآن کریم“ ممتاز کتاب قرار دی گئی ہے ،اب تک اس کتاب کی تین جلدیں لکھی گئی ہیں جبکہ مولف نے اب تک قرآن کریم کے تین ہزار نکتوں کو جمع کیا ہے ۔

حجة الاسلام والمسلمین دہقان نے ماہ محرم کی آمد اور عزاداری سید الشہداء کی مناسبت سے اپنے مقالہ میں عزاداری سے متعلق آٹھ بنیادی سوالوں کا جواب دیا ہے :

قرآن کریم کی کس دلیل کی بنیاد پر عزاداری منانا چاہئے؟

قرآن کریم میں کچھ آیات ایسی ہیں جن میں تعظیم شعائر کے موضوع کو تقوائے قلوب کی نشانیاں بیان کیا گیا ہے (سورہ حج ، آیت ۲۳) ۔ اس کے علاوہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہدین اور بزرگوں کی یاد منانے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے (سورہ مریم، آیت ۴۱ ۔ اور سورہ آل عمران ، آیت ۱۴۶) ۔ اور جو لوگ ناحق قتل کردئے گئے ہیں وہ خدا پر ایمان رکھنے کی وجہ سے شہید ہوگئے ہیں (سورہ تکویر ، آیت ۸ و ۹ ۔ اور سورہ بروج، آیت ۴۔۸) ۔
امام حسین (علیہ السلام ) کے لئے عزاداری منانے کے موضوع میں بھی اسی طرح کی مختلف وجوہات پائی جاتی ہیں جیسے عزاداری ، شعائر کی تعظیم بھی ہے اور مجاہدین کی یاد گاربھی ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ خدا پر ایمان رکھنے کی وجہ سے آپ نے دشمنوں کے سامنے سر نہیں جھکایا اور امام حسین (علیہ السلام) کے لئے عزاداری منانا ایک طرح سے رسالت کی اجرت ہے ”قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودة فی القربی“ (سورہ شوری، آیت ۲۳) ۔
امام حسین (علیہ السلام) کے لئے نذرکرنے پر بھی بحار الانوار میں ایک حدیث موجود ہے جو اس کی تائید کرتی ہے ” قال علی (علیہ السلام) ” ان اللہ اختارنا و اختار لنا شیعة ینصروننا و یفرحون لفرحنا و یحزنون لحزننا و یبذلون اموالھم و انفسھم فینا اولئک منا والینا“۔ یقینا خداوند عالم نے ہماراانتخاب کیا اور ایک ایسے گروہ کا انتخاب کیا جو ہماری مددکریں اور وہ ہماری خوشی میں خوش ہوں اور ہمارے غم میں غمگین ہوں، اور اپنی جان و مال کو ہماری راہ میں قربان کریں، وہ لوگ ہم سے ہیں اور ہمارے ساتھ ہیں ۔

عزاداری کی مشکلات کیا ہیں؟

اس سوال کے جواب میں پندرہ بنیادی مشکلات کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے :
۱۔ بعض لوگوں کا ریاکاری اور تظاہرکرنا ۔
۲۔ مہمانداری میں اسراف کرنا ۔
۳۔ محرم اور نامحرم کی رعایت نہ کرنا ۔
۴۔ مستحبات، واجبات کو ضرر نہ پہنچائیں، قال علی (علیہ السلام) : لا قربہ بالنوافل اذا اضرت بالفرائض ۔
۵۔ لوگوں کے راستہ میں جانوروں کو ذبح کرنا ۔
۶۔ خمس و زکات اداء کئے بغیر انجمنوں کو پیسہ دینا ۔
۷۔ علمائے دین سے عزاداری کو جدا کرنا ۔
۸۔ قوم و قبیلہ کے تعصبات کو بڑھاوا دینا ۔
۹۔ پرگراموں کو زیادہ لمبا کرنا اور لوگوں کو تھکا دینا ۔
۱۰۔ عزاداروں اور انجمنوں میں تبعیض کا قائل ہونا ۔
۱۱۔ بچوں کے ساتھ غلط سلوک کرنا ۔
۱۲۔ امام بارگاہوں اور انجمنوں کے لئے نذر کرنے میں اعتدال کی رعایت نہ کرنا ۔
ذاکری اور مرثیہ خوانی میں بھی بعض نکات کی طرف توجہ ضروری ہے جیسے :
۱۳۔ ایسا کلام پڑھے جس سے غلو کی بو آئے اور ایسی باتیں نہ کہیں جس سے معصومین (علیہم السلام) کا مقام و منزلت کم ہو۔
۱۴۔ نماز کے اوقات میں عزاداری کو بند کردیا جائے ۔
۱۵۔ ایسے کلمات استعمال نہ کریں جس سے دشمن سوء استفادہ کرے، جیسے حسین کے دیوانوں کی انجمن۔ بلکہ اس کی جگہ یہ کہنا بہتر ہے حسین کے عاشقوں کی انجمن۔
اسی طرح تاسوعا اور عاشورہ کے علاوہ بہت ہی جانسوز مصائب نہ پڑھے ، جانسوز مصائب اس وقت پڑھے جب اس کا حق ادا ہوجائے اور لوگ آنسوں بہا کر اس کا احترام کریں ۔

امام حسین (علیہ السلام) کے لئے عزاداری کس حدتک منانا جائز ہے؟

اس حد تک کہ جذبات پر شعور غالب رہے اور منحرف ہونے کا خطرہ نہ ہو ، قمہ لگانے، اپنے آپ کو طوق و زنجیر میں جکڑنے ، سینہ کے بل زمین پر چلنے اور علم کے نیچے چلنے سے پرہیز کریں، کیونکہ کبھی کبھی اس طرح کے کام جسم کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں اور ان کاموں کے اوپر کسی طرح کی کوئی عقلی اور شرعی دلیل موجود نہیں ہے ، لیکن ہاتھ سے ماتم کرنا اور بغیر پھل کی زنجیر سے ماتم کرنا صحیح ہے ، امام خمینی (رہ ) کے بقول ، عزاداری کو قدیم طریقہ سے منانا چاہئے ۔

کیا ایسے اشعار اور مباحث بیان کرنا جائز ہیں جن سے امام حسین کی خفت اور ذلت ہوتی ہو؟

یقینا جائز نہیں ہے ، جیسے زینب مضطرم، مہربان خواہرم، الوداع ، الوداع !! کیونکہ امام حسین کا قیام عزت کی حفاظت کے لئے تھا: ”ھیھات منا الذلہ”۔

کیا سمینار، میز گرد ، اور جلسات وغیرہ قائم کرنا عزاداری منانے سے بہتر نہیں ہے؟

انسان میں عقلائی اور عاطفی دو بعد پائے جاتے ہیں صرف عالمانہ بحث کرنے سے روح متحول نہیں ہوتی ، یہ عزاداری، سیاہ کپڑے پہننا ،آنسوں بہانے کا سبب ہوتے ہیں اور ایک طرح سے روح میں ایک تحول پیدا ہوجاتا ہے ، اور امام حسین (علیہ السلام) پر آنسووں بہانے کی وجہ سے بہت سے لوگ توبہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور تہذیب نفس حاصل کرلیتے ہیں ۔

عزاداری سے متعلق عجیب و غریب اور ذہن سے دور ثواب بیان کرنا کس حدتک صحیح ہے؟

اس طرح کے ثواب ذکرکرنا ایسا ہی ہے جیسے فحشاء اور منکر کو دور کرنے میں نماز کا اثر ہوتا ہے اور یہ مقتضی ہے ، علت تامہ نہیں ہے ۔ جیسے کہاجائے جلانے کی علت آگ ہے، اگر کوئی مانع موجود نہ ہو۔ یا کہا جائے کہ پانی کے ذریعہ ، آگ کو بجھایا جاتا ہے ، لیکن ہر پانی اور ہر آگ میں یہ تاثیر اور تاثر نہیں پایا جاتا ۔ ہر ایک پانی ، ہر آتش کو خاموش نہیں کرسکتا؟

فقط امام حسین (علیہ السلام) کے لئے خاص طور سے عزاداری کیوں منائی جاتی ہے ، دوسرے اماموں کے لئے کیوں نہیں منائی جاتی؟

مختلف خصوصیات جو اس واقعہ عاشورا میں پائی جاتی ہیں جیسے ان لوگوں کا محاصرہ کرلینا، پانی بند کردینا، ان کے مال کو غارت کردینا، ان کی عورتوں اور بچوں کو اسیر کرلینا، اور ان کے چھے مہینہ کے بچہ سے لے کر بوڑھے شخص کو پیاسہ شہید کردیناوغیرہ۔ یقینا امام حسین (علیہ السلام) کا قیام بے مثال ہے ۔

عزاداری کے ایام میں سیاہ کپڑے پہننے کا فلسفہ کیا ہے؟

سیاہ رنگ کے مختلف آثار ہیں، اور ہر گروہ اپنے لحاظ سے اس کو استعمال کرتا ہے:
۱۔ اپنے آپ کو چھپانے اور پردہ کرنے کیلئے ۔
۲۔ ہیبت اور تشخص کا رنگ (اس لحاظ سے بعض شخصیات کا رسمی لباس سیاہ یا سرمہ ای ہوتا ہے) ۔
۳۔ مجالس ماتم و عزا کے لئے حزن آور رنگ مناسب ہوتا ہے ۔
جو بھی اپنے کسی عزیز کے غم میں سیاہ لباس پہنتا ہے اور در و دیوار کو سیاہ پوش کرتا ہے وہ اپنے عزیز سے یہ کہنا چاہتا ہے کہ تو ہماری آنکھوں کے لئے ٹھنڈک تھا اور تمہارے جانے سے ہماری دنیا سیاہ ہوگئی ۔ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا ) نے بھی اپنے والد کے فراق میں فرمایا : ” یا ابتاہ ․․․ اسود نھارھا“۔ بابا ․․․ آپ کے غم میں دنیا تاریک ہوگئی (بحار الانوار ، ج ۴۳ ، ص ۱۷۶) ۔
امام باقر (علیہ السلام) نے بھی فرمایا ہے : ”لما قتل الحسین بن علی لبس نساء بنی ھاشم السواد“۔ امام حسین (علیہ السلام) کے غم میں بنی ہاشم کی عورتوں نے سیاہ کپڑے پہنے تھے (وسائل الشیعہ ) ۔

  1196
تعداد بازدید
  0
تعداد نظرات
  0
امتیاز کاربران
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      عدم تحریف پر عقلی اور نقلی دلیلیں
      تحریف عملی و معنوی قرآن کریم ، ایک جائزہ
      * زوال کے اسباب اور راہ نجات *
      محکم ومتشابہ
      فلسفہ خمس
      آداب معاشرت رسول اکرم (ص )
      متعہ
      امر بمعروف اورنہی از منکر کی اہمیت
      جَنَّت البَقیع مستندتاریخی دستاویزات کی روشنی میں
      جنت البقیع اور ا س میں د فن اسلامی شخصیات

 
user comment