اردو
Thursday 19th of September 2019
  1507
  0
  0

دوسروں کو نصیحت کرنے کے آداب

دوسروں کو نصیحت کرنے کے آداب

 بسمہ تعالی

 

(۱)امام علی ؑ نے فرمایا :لا تکون عیابا ولا تطلبن لکل زلة عتابا ولکل ذنب عقابا (مستدرک ج ۲  ص ۱۰۵)
ہرگز لوگوں کی عیب جوئی نہ کرنا اور ہرخطاپر مذمت و توبیخ نہ کرنا اورہر گناہ پر سزا کے خواستگار نہ بننا ۔
(۲)امام علی ؑ نے فرمایا : الا فراط فی الملامة بشب ناراللجاجة (غررالحکم ص ۷۰)
ملامت میں زیادہ روی کرنے سے ہٹ دھرمی و سرکشی کی آگ بھڑکتی ہے ۔
(۳) امام علی ؑ نے فرمایا : ایاک ان تکررالعتب فان ذالک یغری بالذنب ویهون العتب (فهرست غرر ص ۳۵۹)
مسلسل سرزنش و ملامت کرنے سے بچو کیوں کہ ایسا کرنا گناہ میں ملوث ہونے کا باعث اور ملامت کے بے اثر ہونے کا سبب بنتا ہے ۔
(۴) امام علی ؑ نے فرمایا : النصح بین الملاء  تقریع (شرح ابن ابی الحدید ج۲ ص۳۴۱)
لوگوں کے سامنے کسی کو نصیحت کرنا اسکی شخصیت کو پامال کرنے کے برابر ہے ۔
(۵) لاتکثر العتاب فانج یورث الضغینة ویحرک البغضة (دستور معالم الحکم ص۷۲)
زیادہ ملامت نہ کیا کرو کیوں کہ وہ کینہ و حسد او ردشمنی کو ابھارتی ہے ۔
(۶) امام علی ؑ نے فرمایا:اذا عاقبت الحدیث فاترک له موضعا من ذنبه لئلا یحمله الاحراج علی المکابرة (شرح ابن ابی الحدید ج ۲۰ ص۳۳۳ )
جب کسی نوجوان کو ملامت کرو تو اسکی غلطیوں کو لائق عذر سمجھو تاکہ تمہاری سختی سے وہ ہٹ دھرم نہ بن جائے ۔
(۷) امام علی ؑ نے فرمایا: عاتب اخاک بالاحسان الیه وارددشره بالانعام علیہ (نهج البلاغة حکمت ۱۵۸)
اپنے دوست کونیکی کے ساتھ ملامت کرو او رانعام کے ذریعہ اس کے شر کو دور کردو ۔
(۸) امام علی ؑ نے فرمایا: لا تکثر العتب فی غیر ذنب (دستور معالم الحکم ۷۲)
جو چیز گناہ و معصیت نہ ہو اس پر زیادہ ملامت نہ کرو ۔
(۹) امام علی ؑ نے فرمایا: لا تعاتب الجاهل فیمقتک وعاتب العاقل یحبک (غررالحکم ج۲ص ۳۲۲)
جاہل کو ملامت نہ کرو کہ وہ تمہارے ساتھ دشمنی برتے اورعقلمند کو ملامت کرو کہ وہ تم سے محبت کریگا ۔
(۱۰)امام زین العابدین ؑ نے فرمایا:  کان آخر ما اوصی به الخضر موسی بن عمران علیها السلام ان قال : لا تعیرون احد بذنب (بحار ج۱۶ ، ص ۱۶۴)
جناب خضر علیہ السلام کی جناب موسی علیہ السلام کو آخری نصیحت یہ تھی کہ :کبھی بھی کسیکو اسکے گناہوں سے شرمندہ کرکے ملامت نہ کرنا ۔
(۱۱)امام صادق  ؑ نے فرمایا:  اذا وقع بینک وبین اخیک هنه فلا تعیره بذنب (مستدرک الوسائل ج۲ ص ۱۰۵)
اگر تمہاری کسی مسلمان بھائی سے ان بن ہوجائے تو ہرگز اسکے گناہوں کو بیان کرکے اسے شرمندہ و ملامت نہ کرنا۔

  1507
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      بے بنیاد الزامات کے تحت دسیوں شہریوں کے سرقلم کرنا ...
      رہبر انقلاب اسلامی کی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے ...
      کیا شیعھ اثنا عشری کے علاوه کوئی بھشت میں داخل ھوگا؟ ...
      فلسفہٴ روزہ
      اجتھاد اور مرجعیت
      اسلام کانظام حج
      تقلید
      مبطلاتِ روزہ
      حج کی قسمیں
      کیوں شیعہ ظہرین ومغربین ملا کر پڑھتےہیں ؟

 
user comment