اردو
Saturday 24th of February 2018
code: 84233

بیروت میں دوسری بین الاقوامی فلسطین کانفرنس کی اختتامی تقریب

تحریک مزاحمت کے حامی علما کی عالمی یونین کی دوسری بین الاقوامی کانفرنس فلسطین کی حمایت میں اعلامیہ جاری کرنے کے بعد ختم ہو گئی۔ یہ بین الاقوامی کانفرنس بدھ کے روز لبنان کے دارالحکومت بیروت میں شروع ہوئی تھی اور جمعرات کی رات تک جاری رہی۔
تحریک مزاحمت کے حامی علما کی دوسری بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی بیان میں حکومت برطانیہ کی جانب سے ناپاک بیلفور اعلامیہ کے اجرا اور اسرائیل کی حمایت جاری رکھے جانے کی بھی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک مزاحمت ہی، مقبوضہ فلسطین کی آزادی کے الہی وعدے کو عملی جامہ پہنانے کا واحد راستہ ہے اور اسی کے ذریعے سرزمین فلسطین کو آغوش اسلام میں واپس لوٹایا جا سکتا ہے۔
تحریک مزاحمت کے حامی علما کی بین الاقوامی کانفرنس کے بیان میں حکومت برطانیہ کی جانب سے بیلفور اعلامیہ کی حمایت کا اعادہ کیے جانے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے لندن کو پچھلی ایک صدی سے جاری خون خرابے اور فلسطینی عوام کی تمام تر مصیبتوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
اس بیان میں زمان و مکان کے لحاظ سے مسجد الاقصی کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بیت المقدس ایک عرب اور اسلامی شہر ہے اور آئندہ بھی رہے گا جبکہ مسجد الاقصی بھی ایک مقدس اسلامی مقام کی حیثیت سے ہمیشہ باقی رہے گی۔
تحریک مزاحمت کے حامی علما کی عالمی کانفرنس کے بیان میں بعض عرب ملکوں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کی بھی مذمت کی گئی ہے۔
بیان میں صیہونی حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے دنیا کے تمام عرب اور اسلامی ملکوں سے فلسطینی عوام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔
تحریک مزاحمت کے حامی علما کے جاری کردہ بیان میں خطے کے ملکوں کی تقسیم کی امریکی صیہونی سازشوں کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے ان سازشوں کا مقابلہ کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
بیان میں یمن کے بحران کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے یمنی عوام کے خلاف سعودی عرب کی ظالمانہ جنگ کی مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی روکنے اور ان کے خلاف تشدد بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
قبل ازیں تحریک مزاحمت کے حامی علما کی عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کا اولین مسئلہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شروع ہی سے فلسطینی کاز کا حامی رہا ہے اور رہبر انقلاب اسلامی کی ہدایات کی روشنی میں فلسطین کا مسئلہ حل ہونے تک یہ مسئلہ عالم اسلام کے اولین مسئلے کے طور پر باقی رہے گا۔

latest article

  ایران سے کہہ دیں کہ ہم لڑنا نہیں چاہتے: یہودی ریاست کا ...
  اسلامی انقلاب کی سالگرہ کی ریلیوں میں بھرپور شرکت پر ...
  عراق اور شام میں آٹھ ہزار امریکی فوجی محاذ مزاحمت کی زد ...
  صومالیہ کے وزير اعظم نے وزراء خارجہ، داخلہ اور تجارت ...
  مصری وزارت خارجہ کا ترکی کو انتباہ/مصر کی حاکمیت اور ...
  آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی جان خطرے میں ہے: بحرین 14 فروری ...
  ڈیڑہ اسماعیل خان میں تکفیری دھشتگردوں کے ہاتھوں شیعہ ...
  اس سال 22 بہمن کے دن عوام بعض امریکی حکام کی دھمکیوں اور ...
  چین: امریکہ امن و صلح کی مخالف سمت میں حرکت کرنے سے باز ...
  الازہر یونیورسٹی کے اساتید کی حرم امام علی (ع) میں ...

user comment