اردو
Saturday 19th of October 2019
  943
  0
  0

بد گمانى کے نقصانات

بد گمانى کے نقصانات

بد گمانى ايک بھت ھى خطرناک قسم کى روحاني بيمارى ھے اور بھت سى ناکاميابيوں اور ما يوسيوں کا سر چشمہ ھے- يہ ايک ايسي بيمارى ھے جو انسان کى روح کو عذاب و الم ميں مبتلا کر ديتى ھے اور اسکے برے اثرات انسانى شخصيت سے نا قابل محو ھوا کرتے ھيں -رنج و غم ھى وہ مرکز احساس ھے جھاں سے ممکن ھے بد گمانى کا آغاز ھوتا ھو اور احساسات و جذبات ميں ايک شديد انقلاب و طوفان کا سبب بنتا ھو ، بد گمانى کا بيج جو اس راہ گزر سے مزرعھ قلب ميں بويا جاتا ھے وہ انسانى افکار و انديشوں پر ناگوار و تلخ اثرات مرتب کرتا ھے - جس کا آئينہ روح بد گمانى کے غبار سے کثيف و تاريک ھو چکا ھو اس ميں محض يھى نھيں کہ آفرينش کى خوبياں و زيبا ئياں اجاگر نھيں ھو سکتيں بلکہ سعادت و خوش بختى اپنى صورت بدل کر ملال و نکبت بن کر ظاھر ھوتى ھے اور ايسا شخص کسى بھى شخص کے کردار و افکار کو بے غرض تصور نھيں کر سکتا - اس قسم کے اشخاص کى روحانيت چونکہ منفى ھے اس لئے ان ميں مثبت قوت مقصود ھوتى ھے - اور ايسے لوگ اپنے افکار بد سے اپنے لئے مشکلات پيدا کر ليتے ھيں - اور اپنى طاقت کو ايسے حادثات ميں غور و فکر کر کے بتاہ و بر باد کر ليتے ھيں جن سے شايد ان کا زندگي ميں کبھى سابقہ بھى نہ پڑے -

جس طرح حسن ِظن رکھنے والے شخص کى طاقت اس کے اطرافيوں ميں اثر انداز ھوتى ھے اور وہ شخص اپنے آس پاس کے لوگوں کى روح اميد کو طاقت بخشتا ھے اسى طرح بد گمان شخص اپنے آس پاس کے لوگوں کے دلوں ميں رنج و غم کى کاشت کرتا ھے اور لوگوں کے اس چراغ اميد کو خاموش کر ديتا ھے جو زندگى کے پيچ و خم ميں ضو فشاں رھتا ھے -

بد گمانى کے برے اثرات صرف روح تک ھى محدود نھيں رھتے بلکہ جسم پر بھى اس کے اثرات مرتب ھوتے ھيں - اس کي بيماريوں کا علاج مشکل ھو جاتا ھے -
ايک عظيم طبيب کھتا ھے :
جو شخص ھر ايک سے بد گمانى رکھتا ھو اور ھر چيز کے بارے ميں غلط نظر يہ رکھتا ھو اس کا علاج کرنا اس سے کھيں زيادہ مشکل ھے جتنا دريا ميں خود کشى کي نيت سے چھلانگ لگانے والے کو بچانا مشکل ھے - جو شخص ناراضگيوں اور ھيجان کے درميان زندگى بسر کرتا ھو اس کو دوا دينا ايسا ھى ھے جيسے کھولتے ھوئے روغن زيتون ميں پانى ڈالنا اس لئے کہ دوا کا اثر مرتب ھونے کے لئے يہ بھي ضرورى ھے کہ روح اعتمادکى مالک ھو اور وہ اپنے سکون فکر کي حفاظت کر سکتا ھو -

بد گمان شخص کے اندر کنارہ کشى دوسروں کے داتھ مل جل کر رھنے سے اجتناب کے اثرات با قاعدہ مشاھدہ کئے جا سکتے ھيں اور اسى نا پسنديدہ عادت کے تحت وہ شخص اپنے اندر استعداد ترقى کو کھو بيٹھتا ھے اور اس کا نتيجہ يہ ھوتا ھے کہ وہ ناپسنديدہ زندگى بسر کرنے پر مجبور ھو جاتا ھے - خود کشى کى ايک علت فکر و روح پر بد گمانى کا مسلط ھو جانا بھى ھے اور اس قسم کے نا قابل بخشائش گناہ کا ارتکاب اسى وجہ سے کيا جاتا ھے -

اگر آپ اپنے معاشرہ پر نظر ڈاليں تو معلوم ھو گا کہ لوگ جو ايک دوسرے کے بارے ميں گفتگو کيا کرتے ھيں وہ سب بغير مطالعہ بغير غور و فکر اور بد گمانى کى وجہ سے ھوتى ھے - اور اسى کے داتھ داتھ ان کى قوت فيصلہ بھى کمزور ھوتى ھے ليکن پھر بھى صحيح و اطمينان بخش تشخيص سے پھلے اپنا حتمى فيصلہ دے ديتے ھيں - ايسے لوگ بلا تصور کى تصديق کے قائل ھوتے ھيں - کبھى ان کى گفتگو ميں شخصى غرض بھي نماياں ھوتى ھے اور يھى سب سے بڑا وہ عيب ھے جس کى وجہ سے رشتہ الفت و محبت ٹوٹ جاتا ھے - اتحاد قلبى ختم ھو جاتا ايک دوسرے پر اعتماد کا سلسلہ نابود ھو جاتا ھے اوران کے اخلاقيات تباہ و بر باد ھو جاتے ھيں -

بھت سى ايسى عداوتيں اور دشمنياں جن کا نقصان افراد و اجتماع کے لئے نا قابل جبران ھوتا ھے وہ ان خلاف واقع بد گمانيوں کي پيدا وار ھوتى ھيں - معاشرے کے مختلف طبقات ميں بد گمانى رخنہ اندازى کرتى ھے - انتھا يہ ھے کہ يہ بد گمانى دانشمندوں اور فلسفيوں کو بھى متاثر کر ديتى ھے ھر قوم و ملت کے مختلف ادوار ميں ايسے دانشمند پيدا ھوئے ھيں کہ اسى بد گمانى کى وجہ سے ان کے طرز تفکر ميں گھرى تاريکى پائى جاتى ھے اور يہ حضرات علم و دانش کے سھارے ھميشہ جامعہ بشريت کى خدمت کرنے کے بجائے نظام آفرينش ميں نقد و تبصرہ کر کے اسي کى عيب جوئى کرتے رھے ھيں اور اس طرح ان لوگوں نے اپنے مسموم افکار غلط منطق کے ذريعہ معاشرے کى روح کو مسموم بنا ديا - مبادى اخلاق بلکہ مبادي عقائد کو بھى مورد ِ استھزا قرار ديا - بعض فلسفيوں ميں بد گماني اتنى شديد ھو گئى تھى کہ انھوں نے انساني آبادى کى بڑھتى ھوئى تعداد اور فقر و فاقہ کے خوف سے وحشت زدہ ھو کر انسانى نسل کو محدود کرنے کے لئے ھر چيز کو جائز قرار دے ديا يھاں تک کہ انسانى آبادى کو کم کرنے کے لئے وحشيانہ قتل و غارتگرى خونريزى کو بھى جائز قرار دے ديا تھا - ظاھر سى بات ھے کہ اگر دنياکے لوگ ان کے زھريلے خيالات پر عمل کرتے تو آج اس روئے زمين پر علم و تمدن کا کوئى وجود بھى نہ ھوتا -

انھيں بد گمان فلسفيوں ميں ايک شخص بنام ابو العلاء معرى تھا کہ جس کے تمام تر افکار اسى بد گمانى کے محور پر گھوما کرتے تھے اور وہ زندگى کو عذاب سمجھتا تھا - نسل بشر کو ختم کرنے کے لئے اس نے شادى بياہ پيدائش اولاد کو حرام قرار دے ديا تھا - کھا جاتا ھے کہ جب اس کے مرنے کا وقت قريب آيا تو اس نے وصيت کى کہ ميرے لوح مزار پريہ جملہ کندہ کر ديا جائے :

”‌يہ قبر ميرے باپ کے ان جرائم ميں سے جو اس نے مجھ پر کئے ھيں ايک نشانى ھے ليکن ميں نے کسى پر کوئى جرم نھيں کيا ھے “-


source : tebyan
  943
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      نماز میں تجوید کی رعایت کرنا کس قدر واجب هے؟
      کیا ائمه کی قبروں پر اس حالت میں نماز پڑھنا صحیح ھے که ...
      اسلامی قوانین اور کتاب خدامعصوم کی تفسیر سے
      افسانہ آیات شیطانی یا افسانہ ”غرانیق“ کیا ھے؟
      تعدّد ازواج
      امامت قرآن و حدیث کی روشنی میں
      حدیث ثقلین اہلِ سنت کی نظر میں
      چالیس حدیثیں
      چالیس حدیث والدین کےبارے میں
      راویان حدیث

 
user comment