اردو
Sunday 17th of December 2017
code: 81572
طبیب، جو خود مریض کے پاس جائے

معنویت کی طرف رجحان پیدا کرنے اور اسے عروج بخشنے کے لئے میدان ہموار ہے، بس کام اتنا ہے کہ رسول اکرم (ص) کی طرح ہمیں خود لوگوں کی تلاش میں جانا ہوگا۔ آنحضرت (ص) کی ایک صفت اس طرح بیان کی گئی ہے: ''طبیب دوّار بطبہ قد احکم مراھمہ و احمیٰ مواسمہ۔''

 (نہج البلاغہ، خطبہ107)

 رسول اکرم (ص) گھوم گھوم کر طبابت کرنے والے طبیب کی مانند تھے۔ عام طور سے طبیب اپنے مطب میں بیٹھے رہتے ہیں اور مریض ان کے قریب جاتے ہیں لیکن انبیاء اس انتظار میں گھر نہیں بیٹھے رہتے تھے کہ لوگ ان کی طرف رجوع کریں بلکہ وہ خود لوگوں کی طرف جاتے تھے۔ وہ اپنے بستہ طبابت میں مرہم بھی رکھتے تھے، نشتر بھی رکھتے تھے اور زخم کو داغنے کا وسیلہ بھی ساتھ رکہتے تھے۔


source : tebyan
user comment
 

latest article

  حسین میراحسین تیراحسین رب کاحسین سب کا(حصہ دوم)
  دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت
  دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت (حصّہ دوّم )
  دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت (حصّہ سوّم )
  مشخصات امام زین العابدین علیہ السلام
  امام حسین علیہ السلام
  اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی کاوشوں سے پرتگال کا اسلامی مرکز ...
  شوہر، بيوي کي ضرورتوں کو درک کرے
  بڑي بات ہے
  خدا کي تعريف