اردو
Sunday 17th of November 2019
  577
  0
  0

یہودیوں کے مظالم

خدا کی قسم اگر کوئی اس سانحہ کو سننے کے بعد مر جائے تو میں اس پر ملامت نہیں کرونگا: حضرت علی علیہ السلام 

الف۔ جعفری

ہودیوں کی دو عیدیں ہیں جن میں خون پینا ضروری ہے:

۱: مارچ میں عید پوریم

۲: اپریل میں عید فصح

ہر سال متعدد افراد ان دو مقدس عیدیوں کی قربانی ہوتے ہیں۔ یہاں پر ان قربانیوں کے کچھ نمونہ پیش کئے جاتے ہیں:

الف: سن ۱۴۴۰ ء کی بات ہے کہ اٹلی کے ایک کشیش اپ، فرانسو، انطون توما اپنے ملازم کے ساتھ گھر سے باہر آئے اور غائب ہو گئے۔

حکومت کی طرف سے تحقیقات شروع ہو گئیں تو معلوم ہوا کہ یہودیوں کے ہاتھوں بیچارہ کشیش قتل کیا جا چکا ہے۔

سلیمان سرتراش جو ملزموں میں سے ایک ہے اپنے اعترافات میں اس طرح بیان کرتا ہے: ’’ رات کا پہلا پہر تھا داوود ہراری کا ملازم میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ فورا داوود کے گھر پہنچ جاو۔ میں فورا داوود کے گھر کی جانب روانہ ہو گیا داوود کے گھر پر ہارون ہراری، اسحاق ہراری، یوسف ہراری، یوسف لینیودہ، خاخام موسی ابو العافیہ، خاخام موسی بخور یود امسلونکی اور داوود ہراری (صاحب خانہ) موجود تھے۔ جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوا اور میں نے توما کشیش کو دست و پا بستہ حالت میں دیکھا ویسے ہی سمجھ گیا کہ مجھے کس لیے بلایا گیا ہے۔

بہر حال میرے پہنچتے ہی گھر کے دورازے بند کر دئے گئے اور ایک بڑا سا طشت لایا گیا اور مجھ سے کہا گیا کہ کشیش کو مار ڈالوں لیکن میں نے انکار کر دیا۔

داوود نے کہا: اچھا ایسا کرو کہ تم اور دوسرے لوگ اس کے سر کو پکڑ لو تا کہ میں اس کا کام تمام کروں۔

کشیش کو لایا گیا اور زمین پر ڈھکیل دیا گیا اور بغیر اس کے کہ اس کے خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرتا اس کا سر تن سے جدا کر دیا گیا۔

اس کے بعد ہم نے اس کے بے جان جسم کو گودام میں لے جا کر جلا دیا۔

پھر اس کے باقی بچے کچھے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے تھیلوں میں بھر کر بازار کے پاس دفن کردیا۔ ہمارا یہ کام جب ختم ہو گیا تو کشیش کے ملازم کو لالچ دے کر چپ کرا دیا گیا۔

پولیس انسپکٹر نے سوال کیا:

اس کی ہڈیوں کا کیا کیا؟

ہاونگ دستہ سے پیس ڈالا۔

اس کے سر کا کیا کیا؟

ہاونگ دستہ سے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔

اس کی آنتیں کیا کیں۔

ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے قریب کے ایک مقام پر دفن کر دیا۔

پھر پولیس انسپکٹر نے اسحاق ہراری سے پوچھا:

سلیمان کے اعتراف پر تم کو کئی اعتراض ہے؟

سلیمان نے جو کچھ کہا وہ صحیح ہے لیکن تم اس عمل کر جرم نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہمارے مذہب میں اس عید کے اعمال میں غیر یہودی کے خون سے استفادہ شامل ہے۔

تم نے پادری کے خون کا کیا کیا؟

ایک شیشی میں جمع کر کے خاخام موسی ابو العافیہ کو دے دیا۔

تمہاری مذہبی رسومات میں خون کو کس چیز میں استعمال کیا جاتا ہے؟

عید کی روٹی کے خمیر میں۔

کیا تمام یہودیوں کو اس روٹی سے استفادہ کرنا ضروری ہے؟

نہیں لیکن ایک ایسی روٹی بڑے خاخام کے پاس ہونا ضروری ہے۔

۲: سن ۱۸۲۳ ء میں عید فصح کے موقع پر سابقہ روس کے شہر والیسوب(valisob) میں ایک دو سال کا بچہ غائب ہو گیا ایک ہفتہ کی تحقیق اور تفتیش کے بعد اس کا بے جان جسم شہر کے باہر ایک مقام پر پایا گیا۔ باوجود اس کے کہ اس کے جسم پر کیلوں اور سوئیوں کے نشانات واضح تھے لیکن خون کا ایک قطرہ بھی اس کے لباس پر موجود نہیں تھا۔ بعد کی معلومات کے مطابق اس کے جسم کو قتل کر کے بعد دھو دیا گیا تھا۔

ایک عورت نے جو تازہ یہودی ہوئی تھی (۱) اور اس قضیہ کے ملزموں میں سے تھی اس طرح بیان دیا:

یہودیوں کی طرف سے ہم کو ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ اس عیسائی بچہ کو اغوا کر کے ایک معینہ وقت پر کسی ایک کے گھر پہنچا دیں۔ جب ہم اس بچے کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے تو تمام لوگ ایک میز کے اطراف میں بیٹھے ہوئے ہماری راہ دیکھ رہے تھے۔

بچے کو میز پر رکھ کر اس کو چاکلیٹ اور بسکٹ میں مشغول کر دیا گیا۔

بیچارہ تنہا بچہ ابھی کھانے میں ہی مشغول تھا کہ ان میں سے ایک نے ایک لمبی اور نوکیل کیل اس کی ران میں چبھودی۔ بچے کی دل دہلا دینے والی چیخ بلند ہو گئی اور دہلا ہوا ان میں سے ایک کی طرف بڑھا اس نے بھی اس پر ذرا سا بھی رحم نہیں کیا اور اس ایک لمبی سوئی کے ذریعہ جو اس کے ہاتھ میں تھی بچے کی کمر کو زخمی کردیا۔ بچہ دوبارہ چیخ پڑا اور تیسرے شخص کی طرف لپکا اس نے بھی اس کا سینہ چھید ڈالا۔ الغرض اس کے جسم میں اتنی سوئیاں اور کیلیں چبھوئیں کہ وہیں پر اس کا دم نکل گیا پھر اس کے خون کو ایک شیشی میں جمع کر کے بڑے خاخام کے سپرد کر دیا گیا۔

۳: گرمیوں کی تپتی دو پہر میں یہودیوں نے ایک مسلمان فلسطینی کے گھر پر حملہ کر دیا۔ اس کے واقعہ کے بارے میں اس گھر کی بڑی بیٹی اس طرح بیان کرتی ہے۔

جس وقت یہودی سپاہی ہمارے گھر میں داخل ہوئے میں اس قدر ڈر گئی تھی کہ قریب تھا ہلاک ہو جاوں ۔

میری چھوٹی بہن ایک کونے میں گھس گئی۔ میرے ماں باپ چیخ رہے تھے مگر کوئی مدد کرنے والا نہ تھا۔

وحشی درندے اور حیوان صفت یہودیوں نے میری ماں کو پکڑ لیا اور ان کے مخصوص مقام پر کئی گولیاں داغ دیں۔ پھر میرے باپ کو لاتوں گھونسوں اور بندوقوں کے کندوں سے مار مار کر ختم کر دیا اور میرے ہاتھ پیر باندھ کر کھینچتے ہوئے گھر سے باہر لے آئے۔

وہ کہتی ہے کہ مجھے نہیں پتہ کہ میری چھوٹی بہن پر کیا گزری مجھکو کچھ یہودی درندوں کے ساتھ ایک ٹرک کے پیچھے سوار کر دیا گیا۔ ہم نا معلوم منزل کی جانب چل پڑے۔ وہ درندے راستہ میں میری آبرو ریزی کی کوشش کرنے لگے، میں نے ان کا مقابلہ کیا لیکن مجھے بیہوش کر دیا گیا۔ جب میں ہوش میں آئی تو میرا سب کچھ لوٹا جا چکا تھا میری آبرو اور عفت میرے ہاتھ سے جا چکی تھی۔

مسلمان کی حالت کیا ہو گئی ہے اس کی بے غیرتی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ یہودی درندے اس کی ناموس کی آبروریزی کرتے ہیں اور مسلمان زندہ ہے صرف زندہ ہی نہیں بلکہ اپنے عشرت کدوں میں بیٹھا خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہے۔ اس سے بڑی ذلت اور کیا ہو گی۔

حالانکہ مسلمانوں کو ایسے عظیم ذلت بار سانحوں پر موت کو ہزار بار ترجیح دینا چاہیے اور آٹھ کھڑے ہونا چاہیے۔

جب معاویہ کے لشکر نے شہر انبار پر حملہ کیا تھا اور مسلمان اور کافروں کی عفت کو پائمال کیا تھا تو اس موقع پر حضرت امیر المومنین علیہ السلام منبر پر تشریف لے گئے تھے اور فرمایا تھا: خدا کی قسم اگر کوئی اس سانحہ کو سننے کے بعد مر جائے تو میں اس پر ملامت نہیں کرونگا۔

نہیں معلوم کہ اگر آج حضرت علی علیہ السلام ہوتے اور اس قصہ کو سنتے تو کیا فرماتے اور کیا کرتے۔۔۔۔

.............

(۱): یہودی مذہب کے مطابق ایک غیر یہودی یہودی مذہب نہیں اختیار کر سکتا۔ صرف وہی شخص اصلی یہودی ہو سکتا ہے جو یہودی ماں کے ذریعہ متولد ہوا ہو لیکن اس بات کو ظاہر نہیں کرتے اور دوسروں کو یہودی بنا کر ان کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مہرہ بناتے رہتے ہیں۔


source : http://www.abna.ir
  577
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    دفاعی نظریات پر مشتمل رہبر انقلاب کی ۱۲ کتابوں کی ...
    حسین میراحسین تیراحسین رب کاحسین سب کا(حصہ دوم)
    دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت
    دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت (حصّہ دوّم )
    دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت (حصّہ سوّم )
    مشخصات امام زین العابدین علیہ السلام
    امام حسین علیہ السلام
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی کاوشوں سے پرتگال کا اسلامی ...
    شوہر، بيوي کي ضرورتوں کو درک کرے
    بڑي بات ہے

 
user comment