اردو
Thursday 23rd of May 2019
  1022
  0
  0

امام زين العابدين عليہ السلام

تحرير: سيد محمود طاہري

ترجمہ و تلخيص: سجاد مہدوي 

امام زين العابدين عليہ السلام روحانيت و معنويت کے سرخيل ہيں۔ ان کي زيارت گويا حقيقتِ اسلام کي زيارت ہے۔ آپٴ کي نمازيں‘ روح کي پرواز ہوتي تھي اور آپٴ پورے خضوع و خشوع کے ساتھ بارگاہِ پروردگار ميں کھڑے ہوتے تھے۔ آپٴ محبت کے پيغام بر تھے۔ جب کبھي کوئي ايسا غريب و بے کس نظر آتا جو دوسروں کي توجہ سے محروم ہوتا تو اس کي دلجوئي کرتے اور اسے اپنے گھر لے جاتے۔

ايک دن آپٴ نے چند لوگوں کو ديکھا جو جذام کے مرض ميں مبتلا تھے اور لوگ انہيں دھتکار رہے تھے، آپٴ انہيں اپنے گھر لے گئے اور ان کا خيال رکھا۔ امامٴ کا شريعت کدہ غريبوں، يتيموں اور بے کسوں کے لئے پناہ گاہ تھا۔ (سيري در سيرہ ائمہ اطہار، شہيد مطہري) مدينہ منورہ ميں شورش کرنے والوں نے جب بنو اميہ کو وہاں سے نکال باہر کيا تو مروان، جو کہ امامٴ کا جاني دشمن تھا، اس نے امامٴ سے درخواست کي کہ اس کے خاندان کو اپنے گھر ميں پناہ دے ديں۔ امامٴ نے اپني بزرگواري سے اس کي درخواست کو قبول کرليا۔ چنانچہ جس دور ميں مدينہ منورہ قتل و غارت کا گڑھ بنا ہوا تھا، امامٴ کا گھر بے پناہوں کي پناہ گاہ تھا اور متعدد خاندان آپٴ کي پناہ ميں آئے ہوئے تھے اور امامٴ نے شورش ختم ہونے تک ان کي مہمان نوازي فرمائي۔ (اعيان الشيعہ، محسن الامين جلد ١)

امامٴ کے القاب:

سيد العابدين، زين العابدين، سيد المتقين، امام المومنين، سجاد اور زين الصالحين، يہ چوتھے امامٴ کے چند القاب ہيں، جن ميں سے زين العابدين اور سجاد کو زيادہ شہرت ملي۔ يہ ايسے القاب نہيں ہيں جو تمام عرب اپنے بچوں کو ولادت کے وقت ہي يا بچپن ميں دے ديا کرتے تھے۔ بلکہ يہ القاب قدر شناس جوہريوں اور انسان کي تلاش ميں سرگرداں لوگوں نے آپٴ کو ديئے ہيں۔ يہ وہ لوگ تھے جو اس تاريک دور ميں ظالموں کے ہاتھوں پريشان تھے اور امامٴ کي ذات ميں ان کو ايک ايسا شخص دکھائي ديتا تھا جسے بڑے بڑے دانشور بھي روزِ روشن ميں ڈھونڈ نہيں سکتے تھے۔

يہ القاب دينے والے اکثر لوگ نہ شيعہ تھے اور نہ وہ آپٴ کو خدا کي جانب سے برگزيدہ امام مانتے تھے۔ اس کے باوجود جو صفات انہيں آپٴ کے اندر دکھائي ديتي تھيں، وہ اسے نظرانداز نہيں کر سکتے تھے۔ چنانچہ ان ميں سے ہر لقب مرتبہ کمال، درجہ ايمان، مرحلہ اخلاص و تقويٰ کي نشاندہي کرتا ہے نيز صاحبِ لقب پر لوگوں کے ايمان اور اعتماد کا بھي مظہر ہے کہ آپٴ ان خصوصيات کا حقيقي مظہر تھے اور اس بات پر سب متفق ہيں۔

امام زين العابدينٴ کے دور کے حالات اور ذمہ دارياں:

امام زين العابدينٴ کا دور بہت سخت اور دشوار تھا۔ يہاں تک کہ آپٴ خود فرماتے ہيں: ’’اگر کسي پر کفر کي تہمت لگائي جاتي تو يہ اس سے بہتر تھا کہ اس پر تشيع کا الزام لگايا جاتا۔‘‘ (شرح نہج البلاغہ ابن ابي الحديد، ج ٢) نيز فرمايا: ’’مکہ او ر مدينہ ميں بيس لوگ ايسے نہيں ہيں جو ہم سے محبت کرتے ہوں۔‘‘ (شرح نہج البلاغہ ابن ابي الحديد جلد ٤)

آپٴ کے دور ميں اموي خاندان لوگوں پر پوري طرح سے غالب تھا کہ لوگوں پر ظلم و ستم روا رکھنے کے علاوہ ان کے دين کي تحريف پر بھي تُل گئے تھے۔ چنانچہ صحابي رسول۰، جناب انس بن مالک گريہ کرتے ہوئے کہا کرتے تھے: ’’جو باتيں زمانِ رسول۰ ميں موجود تھیں، ان ميں سے کچھ بھي نہيں ملتا۔ جو چيزيں ہم نے رسول اللہ ۰ سے سيکھي ہيں ان ميں سے صرف نماز بچي ہے کہ اس ميں بھي بدعتيں پيدا ہوگئي ہيں۔‘‘ (امام سجاد قہرمان مبارزہ با تہاجم فرہنگي جلد ١) مشہور مورخ مسعودي کہتا ہے: ’’عليٴ بن الحسينٴ نے خفيہ طور پر تقيہ کے ساتھ اور انتہائي کٹھن دور ميں امامت کي ذمہ داري سنبھالي۔‘‘ (اثبات الوصيہ، مسعودي جلد ٤) امامٴ نے دورانديشي اور اعليٰ تدبير اختيار کرتے ہوئے بہترين انداز سے کام کيا اور وحي کے روشن چراغ کو بجھنے سے بچايا۔ آپٴ نے آسمان سے نازل ہونے والے خالص دين کو طوفانِ حوادث کے درميان سے صحيح سلامت نکال کر اگلي نسلوں کے حوالے کيا اور اہلبيتٴ کے نام کو زندہ رکھا۔ مناسب حالات فراہم نہ ہونے کي وجہ سے قيام سے پرہيز، دعا کے قالب ميں عظيم ثقافتي کام کا بيڑہ اٹھانا، ہر مناسب موقع پر شعور کو جھنجھوڑنا، عزائے سيد الشہدائٴ ميں زار و قطار رونا ۔۔ حصولِ مقصد ميں آپٴ کے کامياب اقدامات کا ايک حصہ ہے۔

تہذيبي حملے کا زبردست مقابلہ اور امام سجادٴ:

دينِ اسلام کسي بھي دور ميں تہذيبي حملوں سے محفوظ نہيں رہا اور نہ ہے۔ بعض اوقات بعض معصومين کے دور ميں يہ حملے عروج پر پہنچ جاتے تھے اور ايسے ہي خطروں کا مقابلہ کرتے ہوئے عاشورا جيسا خوني معرکہ درپيش آجاتا تھا۔ امام سجادٴ بھي ايک ايسے دور ميں زندگي گزار رہے تھے کہ جب اخلاقي اقدار اور خالص اسلامي تہذيب کو طاقِ فراموشي کے سپرد کيا جارہا تھا اور پست اقدار اور اخلاقي کمزورياں جابجاپھيلي ہوئي تھي۔ امامٴ نے ان ناگوار حالات ميں بھي دشمن کے لئے ميدان کو خالي نہ چھوڑا۔ امامٴ نے علي الاعلان قيام سے پرہيز کرتے ہوئے اس بات کي کوشش کي کہ دشمن ان کي جانب متوجہ نہ ہو جائے۔ اس کے بجائے، دھيمے اور خفيہ طريقے سے نيک انسانوں کي تربيت اور ان کو درست نظريات کي تعليم نيز ان کو آنکھيں کھولنے کا پيغام ديتے ہوئے تہذيبي و ثقافتي حملے کا مقابلہ کيا اور اس تہذيبي حملے کے ميدان ميں کامياب و کامران رہے۔ اس بارے ميں ہم صرف ايک حوالہ پيش کريں گے يعني صحيفہ کاملہ، جو کہ خدا مخالف اور غيراسلامي تہذيبوں کے حملوں کے مقابل صديوں سے ہدايت کي تشنہ اور تکامل کي خواہاں روحوں کے لئے آبِ گوارا کي مانند ہے۔

امام کے قيام نہ کرنے کا سبب

عظيم لوگوں کي کاميابي کا ايک راز حالات سے آگاہي اور اپنے زمانے کي پہچان ہے۔ يہ حضرات اپنے اردگرد ہونے والے حالات و واقعات کا درست جائزہ لينے کے بعد اپنے رويے کا انتخاب کرتے ہيں۔ لہذا نہ ہميشہ تحريک چلاتے ہيں اور نہ ہميشہ صلح کي حالت ميں رہتے ہيں۔ بلکہ زمانے کي مصلحت اور حالات کے تقاضے ان کے لئے جنگ يا صلح کومعين کرتي ہے۔

امام سجادٴ بھي اس قاعدے سے مستثنيٰ نہيں تھے۔ آپٴ نے درست طور پر اور قابلِ ستائش انداز سے مصلحت کو ديکھتے ہوئے يہ فيصلہ کيا کہ دين کي استقامت و پائداري کے لئے اب مقابلے کا انداز بدلنا ہوگا۔ درحقيقت معاشرے ميں حکمفرما سخت وحشت انگيز اور آمرانہ فضا اور ظالم اموي حکومت کے سخت کنٹرول اور تسلط کي وجہ سے ہر قسم کي مسلحانہ تحريک کي شکست پہلے ہي سے واضح تھي اور کوئي معمولي سي بھي حرکت حکومتي جاسوسوں سے چھپ نہيں سکتي تھي۔

اسي بنا پر امامٴ يہ ديکھ رہے تھے کہ درست اور عاقلانہ طريقہ کار يہي ہے کہ مقابلہ کا انداز بدل ديا جائے اور دعا کے قالب ميں ظالم کا مقابلہ کر کے اگلي نسلوں تک اپنا پيغام پہنچايا جائے۔ گويا امام سجادٴ اسي دردناک حالات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے دعا کے قالب ميں خدائے متعال سے عرض کرتے ہيں: (خدايا!) کتنے ہي ايسے دشمن تھے جنہوں نے شمشير عداوت کو مجھ پر بے نيام کيا اور ميرے لئے اپني چھري کي دھا ر کو باريک اور اپني تندي و سختي کي باڑ کو تيز کيا اور پاني ميں ميرے لئے مہلک زہروں کي آميزش کي اور کمانوں ميں تيروں کو جوڑ کر مجھے نشانہ کي زد پر رکھ ليا اور ان کي تعاقب کرنے والي نگاہيں مجھ سے ذرا غافل نہ ہوئيں اور دل ميں ميري ايذا رساني کے منصوبے باندھتے اور تلخ جرعوں کي تلخي سے مجھے پيہم تلخ کام بناتے رہے۔‘‘ (صحيفہ کاملہ دعائے ٤٩)

امام سجادٴ نے آزادي کے ساتھ تحريک چلانے کے لئے حالات کو نامناسب ديکھتے ہوئے بالواسطہ مقابلہ کيا اور حقيقي اسلام کي ترويج اور استحکام کے لئے حکيمانہ سياست اختيار کي جس کے بعض نکات درج ذيل ہيں:

١۔ عاشورائ کي ياد کو زندہ رکھنا:

امام حسينٴ اور ان کے اصحاب کي شہادت اموي حکومت کے لئے بہت مہنگي ثابت ہوئي تھي۔ رائے عامہ ان کے خلاف ہو گئي تھي اور اموي حکومت کا جواز خطرے ميں پڑ گيا تھا۔ چنانچہ اس اندوہناک واقعے کي ياد کو تازہ رکھنے اور اس کے عظيم اثرات کے حصول کے لئے امامٴ شہدائے کربلا پر گريہ کرتے رہے اور ان کي ياد کو زندہ رکھتے ہوئے، گريہ کي صورت ميں منفي مقابلہ جاري رکھا۔ اگرچہ يہ بہتے آنسو جذباتي بنيادوں پر استوار تھے ليکن اس کي اجتماعي برکات اور سياسي آثار بھي بے نظير تھے۔ يہاں تک کہ عاشورائ کے نام کي جاودانگي کا راز امام زين العابدينٴ کي اسي گريہ و زاري اور عزاداري کو قرار ديا جاسکتا ہے۔

٢۔ وعظ و نصيحت:

اگرچہ امام سجادٴ اپنے دور کے گھٹن آلود ماحول کي وجہ سے اپنے افکار و نظريات کو کھل کر بيان نہ کرسکے، ليکن ان ہي باتوں کو وعظ و نصيحت کي زبان سے ادا کر ديا کرتے تھے۔ ان مواعظ کا جائزہ لينے سے معلوم ہوتا ہے کہ امامٴ حکمت کے ساتھ، لوگوں کو موعظہ کرتے ہوئے جو چيز چاہتے ان کو سکھا ديا کرتے تھے۔ اور اس دور ميں درست اسلامي نظريات کي تعليم کا بہترين انداز يہي تھا۔

٣۔ درباري علمائ کا سامنا اور ان سے مقابلہ:

درباري علمائ عوام الناس کے اذہان اور ان کے افکار کو فاسق و فاجر حکمرانوں کي جانب راغب کرتے تھے تاکہ حکومت کو قبول کرنے کے لئے رائے عامہ کو ہموار کيا جائے اور حکمران اس سے اپنے مفادات حاصل کر سکيں۔ بنابريں، امام سجادٴ گمراہي اور بربادي کي جڑوں سے مقابلہ کرتے ہوئے بنيادي سطح پر حقيقي اسلامي ثقافت کي ترويج کے لئے کوششيں کرتے تھے اور لوگوں کو ان جڑوں کے بارے ميں خبردار کيا کرتے تھے جن سے ان ظالموں کو روحاني غذا ملتي تھي۔

٤۔ انکشافات کے لئے ہر مناسب موقع سے فائدہ اٹھانا:

امام سجادٴ کے دور ميں تحريک کے لئے حالات مناسب نہ تھے، ليکن حالات کي سختي آپ کو مناسب مواقع پر حقائق کے انکشاف سے بازنہ رکھ سکے۔ بطورِ مثال اپني اسيري کے دوران جب دربارِ يزيد ميں آپٴ کو کچھ دير گفتگو کا موقع ملا، تو منبر پر جاکر فرمايا:

’’اے لوگو! جو مجھے نہيں پہچانتا ميں اس سے اپنا تعارف کرواتا ہوں،ميں مکہ و منيٰ کا بيٹا ہوں، ميں صفا و مروہ کا فرزند ہوں، ميں فرزندِ محمد مصطفي ہوں کہ جن کا مقام سب پر واضح اور جس کي پہنچ آسمانوں تک ہے۔ ميں علي مرتضيٰ اور فاطمہ زہراٴ کا بيٹا ہوں۔۔ ميں اس کا بيٹا ہوں جس نے تشنہ لب جان دي اور اس کا بدن خاکِ کربلا پر گرا۔

اے لوگو! خدائے متعال نے ہم اہلبيت کي خوب آزمائش کي ۔ کاميابي، عدالت اور تقويٰ کو ہماري ذات ميں قرار ديا۔ ہميں چھ خصوصيات سے برتري اور دوسرے لوگوں پر سرداري عطا فرمائي۔ حلم و علم، شجاعت اور سخاوت عنايت کي اور مومنين کے قلوب کو ہماري دوستي اور عظمت کا مقام اور ہمارے گھر کو فرشتوں کي رفت و آمد کا مرکز قرار ديا۔ ‘‘

(مناقب آل ابيطالبٴ، ابن شہر آشوب جلد ٤)


source : http://www.alhassanain.com/urdu/show_articles.php?articles_id=1080&link_articles=holy_prophet_and_ahlulbayit_library/imam_ali_bin_hussein/imam_zain_ul_abiden
  1022
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام کاظم علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی کے واقعات کا ...
      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

 
user comment