اردو
Wednesday 27th of March 2019
  178
  0
  0

حضرت امام مھدي عليہ السلام

وعد اللہ الذين آمنو منكم وعملوا الصالحات ليستخلفنھم في الارض كما استخلف الذين من قبلھم وليمكنن لھم د ينھم الذي ارتضيٰ لھم وليبد لنھم من بعد خوفھم امنا يعبد ونني لا يشكون بي شياً" 36 

"(اے ايماندارو!) تم ميں سے جن لوگوں نے ايمان قبول كيا اور اچھے اچھے كام كيے ان سے خدا نے وعدہ كيا ھے كہ و ان كو (ايك نہ ايك دن) روئے زمين پر ضرور (اپنا) نائب مقرر كرے گا۔ جس طرح ان لوگوں كو نائب بنايا جو ان سے پھلے گزر چكے ھيں اور جس دين كو اس نے ان كيلئے پسند فرمايا (اسلام) اس پر انھيں ضرور ضرور پوري قدرت دے گا اور ان كے خائف ھونے كے بعد (ان كے ھر اس كو) امن سے ضرور بدل دے گا كہ وہ (اطمينان سے) ميري ھي عبادت كريں گے اور كسي كو ھمارا شريك نہ بنا ليں گے۔" 

امام زماني عليہ السلام كي ولادت با سعادت كي مناسبت سے ھماري گزشتہ بحث ميں آنجناب عليہ السلام كے بارے ميں تھي اور اس نشست ميں بھي ھم امام عليہ السلام كے بارے ميں چند مطالب بيان كريں گے۔ آج ھم تاريخي حقائق پر روشني ڈاليں گے جو لوگ تاريخ اسلام اور مذھب حقہ كے بارے ميں معلومات نھيں ركھتے ان كا كھنا ھے كہ مھدويت كا تصور امام عليہ السلام كي ولادت كے زمانہ سے شروع ھوا ھے ليكن ميں ان حضرت كي خدمت ميں حقائق پر مبني كچھ باتيں عرض كرنا چاھتا ھوں ان كو بتايا يہ مقصود ھے كہ مھدويت كا تصور كھاں سے شروع ھوا اور اس كا مقصد كيا ھے؟ 

قرآن و حديث ميں مھدويت كا تصور

سب سے پھلے قرآن مجيد ميں بني نوع انسان كو واضح الفاظ ميں خوشخبري دي گئي ھے۔ حضرت امام زمانہ عليہ السلام نے ھر صورت ميں تشريف لا كر يہ عالمگير اسلامي تشكيل ديني ھے ۔ اس كے بارے ميں بھت سي آيات قرآن مجيد ميں موجود ھيں۔ آپ ان كا مطالعہ كرسكتے ھيں ليكن ھم ان آيات ميں ايك كو نقل كرتے ھيں، ارشاد الٰھي ھوتا ھے: 

"ولقد كتبنا في الزبور من بعد الذكر ان الارض يرتھا عبادي الصالحون " 

اور ھم نے تو نصيحت (توريت) كے بعد يقيناً زبور ميں لكھ ھي ديا ھے كہ روئے زمين كے وارث ھمارے نيك بندے ھوں گے ۔" 37 

قرآن مجيد كھہ رھا ھے كہ اس كائنات پر اس زمين پر ھميشہ ظالم جاگيرداروں و ڈيروں كا قبضہ نھيں رھے گا۔ اسي طرح تمام مذاھب ختم ھو جائيں گے اور صرف اور صرف اسلام ھي واحد الٰھي مذھب رہ جائے گا۔ قرآن مجيد ميں ارشاد خداوندي ھے۔ 

"ھو الذي ارسل رسولہ بالھدي و دين الحق ينطھرہ علي الدين كلہ ولو كرہ المشركون" 38 

"وھي تو (خدا ھے) جس نے اپنے رسول (محمد (ص) كو ھدايت اور سچے دين كے ساتھ (مبعوث كر كے) بھيجا تاكہ اس كو تمام دينوں پر غالب كرے۔ اگر چہ مشركين برا مانا كريں" 

اب آتے ھيں احاديث كي طرف سوال يہ ھے كہ آيا پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے اس كے بارے ميں كيا فرمايا؟ كيا آپ نے كچھ فرمايا يا نھيں فرمايا؟ اگر امام مھدي عليہ السلام كے ظھور كے بارے ميں صرف شيعہ روايات ھيں تو پھر اعتراض كرنے والے اپني جگہ پر درست كھتے ھيں اگر يہ مسئلہ واقعي بھت بڑا مسئلہ ھے تو پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے ضرور كچھ نہ كچھ فرمايا ھوگا۔ اگر حضور پاك صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا تو پھر باقي تمام اسلامي فرقوں كي نقل كردہ روايات كو بھي تسليم كرنا چاھيے، صرف شيعوں كي روايات كافي نھيں ھيں؟ ان سولات كا جواب واضح ھے۔ اتفاق سے امام مھدي عليہ السلام كے ظھور كے بارے ميں صرف شيعوں كي روايات نھيں ھيں بلكہ اھل تسنن كي روايات كے ظھور امام عليہ السلام كي بابت شيعوں سے زيادہ ھيں۔ اگر آپ ان كي كتابوں كا مطالعہ كريں گے تو حقيقت حال ايسي ھي ھوگي۔ 

جس زمانے ميں ھم قم المقدسہ كے زير تعليم تھے اس دور مين دو اھم كتابيں منظر عام پر آئيں ان ميں سے ايك كتاب آيت اللہ صدر مرحوم كي تھي۔ يہ كتاب عربي زبان ميں تھي اور اس كا نام المھدي ركھا گيا، اس ميں امام مھدي عليہ السلام كے بارے ميں جتني بھي روايات نقل كي گئيں۔ وہ سب اھل سنت كي كتب ميں سے تھيں۔ اس كتاب كو پڑھ كر بخوبي اندازہ ھوجاتا ھے مسئلہ مھدويت كے بارے ميں اھل سنت كي روايات شيعوں سے زيادہ نھيں ھيں تو كمتر بھي نھيں ھيں۔ دوسري كتاب منتخب الآثر كے نام سے فارسي زبان ميں تحرير كي۔ موصوف حوزہ علميہ قم كے فاضل ترين نوجوان ھيں۔ آيت اللہ بروجردي نے حكم ديا كہ امام عليہ السلام كے بارے ميں ايك جامع كتاب تحرير كي جائے۔ چناچہ اس نوجوان فاضل نے يہ كتاب لكھ ڈالي۔ آپ اس كا مطالعہ كريں تو آپ كو زيادہ تر اھل سنت حضرات كي روايات نظر آئيں گي ۔ 

ميں نے روايات كے بارے ميں بحث نھيں كرني۔ ميري بحث كا مقصد يہ ھے كہ آيا مسئلہ مھدويت تاريخ اسلام ميں موثر ھے كہ نھيں؟جب ھم تاريخ اسلام كا مطالعہ كرتے ھيں تو ديكھتے ھيں اس اھم موضوع كے بارے ميں پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم اور علي عليہ السلام كے ارشادات موجود ھيں۔ حضور اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے ظھور كي خبر سنائي اور لوگوں كو بشارت دي كہ ايك ايسا زمانہ آئے گا كہ جس ميں عدل و انصاف كا دور دورہ ھوگا گويا ميرا بيٹا اسلامي و الٰھي حكومت كو تشكيل دے گا، وہ گھڑي كتني خوش نصيب گھڑي ھوگي ۔ ۔ ۔ ۔ ۔؟ 

فرمايا مولا علي (ع) نے

امير المومنين حضرت عليہ السلام نے نھج البلاغہ ميں جو جملہ ارشاد فرمايا ھے آيت اللہ بروجردي كے بقول يہ جملہ احاديث كي دوسري كتب ميں تسلسل و تواتر كے ساتھ بيان ھوا ھے۔ كميل بن زياد نخفي كھتے ھيں كہ امير المو منيں علي ابن ابي طالب عليہ السلام نے ميرا ھاتھ پكڑا اور قبرستان كي طرف لے چلے۔ 

"فلما اصحر تنفس الصعداء" 

جب آبادي سے باھر نكلے تو ايك لمبي آہ كھينچى" اور فرمايا: 

"الناس ثلاثۃ فعالم رباني و متعلم علي سبيل نجاۃ و ھمج رعاع" 

ديكھو تين قسم كے لوگ ھوتے ھيں ايك عالم رباني دوسرا متعلم كہ جو نجات كي راہ پر بر قرار ھے اور تيسرا عوام الناس كا وہ گروہ كہ جو ھر پكارنے والے كے پيچھے ھوتا ھے۔ آپ نے يھاں اپني تنھائي كا ذكر فرمايا ھے كہ كوئي بھي تو ايسا نھيں ھے جو مجھ سے اسرار و رموز حاصل كرے اور ميں اسے دل كي باتيں بتاؤں پھر فرمانے لگے ۔ ھاں يہ زمين حجت خدا سے خالي نھيں رھے گي۔ 

"اللھم بلي لا تخلو الارض من قائم للہ بحجۃ اما ظاھراً مشھورا واما خائفا مغمورا لئلا تبطل حجج اللہ و بيناتہ ۔ ۔ ۔ ۔ يحفظ اللہ بھم حججہ وبينائہ حتي يودعوھا نظراء ھم ويزرعو ھا في قلوب اشباھم" 39 

"ھاں اگر زمين ايسے فرد سے خالي نھيں رھتي كہ جو خدا كي حجت كو برقرار ركھتا ھے چاھے، وہ ظاھر و مشھور ھو خائف و پنھاں ھو تاكہ اللہ كي دليليں اور نشان مٹنے نہ پائيں۔ خداوند عالم ان كے ذريعہ سے اپني حجتوں اور نشانيوں كي حفاظت كرتا ھے يھاں تك كہ وہ ان كو اپنے ايسوں كے سپرد كرديں اور اپنے ايسوں كے دلوں انھيں بوديں۔" 

قيام مختار اور نظريہ مھدويت

تاريخ اسلام ميں سب سے پھلے نظريہ مھدويت مختار ثقفي كے زمانے ميں شروع ھوا ھے مختار امام حسين عليہ السلام كے قاتلوں سے انتقام لينا چاھتے تھے۔ اس ميں كوئي شك نھيں كہ جناب مختار بھت ھي اچھے، دنيدار، اور مجاھد شخص تھے۔ مختار كو شروع ھي سے پتہ تھا كہ لوگ اس كي قيادت ميں جھاد نھيں كريں گے كيونكہ امام وقت حضرت زين العابدين عليہ السلام موجود تھے۔ جناب مختار نے جناب امام سجاد عليہ السلام سے رابط كركے انتقام لينے كي اجازت چاھي آپ خاموش رھے۔ شايد حالات اس امر كي اجازت نہ ديتے تھے۔ چناچہ مختار نے مسئلہ مھدويت كو لوگوں كے سامنے پيش كيا اور محمد بن حنفيہ فرزند امير المومنين كا نام استعمال كيا۔ ان كا نام بھي محمد تھا۔ روايات ميں آيا ھے كہ پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا كا "اسمہ اسمى" وہ ميرے ھمنام ھوگا۔ مختار نے كھا اے لوگو! ميں مھدي دوران كا نائب ھوں جس كي پيغمبر اسلام نے بشارت دي تھي۔ جناب مختار ايك عرصہ تك خود كو حضرت مھدي عليہ السلام كے نائب كے طور پر متعارف كرواتے رھے۔ اب سوال يہ ھے كہ محمد بن حنفيہ نے مھدي آخر الزمان كے طور پر اپنا تعارف كروايا تھا؟ بعض مورخين كھتے ھيں كہ يزيدوں سے انتقام لينے كيلئے انھوں نے اس قسم كا اعلان كيا تھا۔ ليكن اس كي حقانيت پر ھميں اب تك ثبوت نھيں مل سكا۔ (جناب شھيد مطھري نے جناب مختار ثفقي كے بارے مين ايك روايت پيش كي ھے ورنہ مختار كي مجاھدت اور ان كي عظمت كي كوئي مثال ھي پيش نھيں كي جاسكتي كيونكہ شھدائے كربلا كے قاتلوں سے جس انداز ميں اور جس طرح انتقام ليا وہ كوئي بھي نہ لے سكا اس ليے ان كو مختار آل محمد (ع) بھي كھا جاتا ھے۔)

زھري كيا كھتے ھيں؟

ابو الفرج اصفھاني جو كہ اموي النسل مورخ ھيں اور شيعہ بھي نھيں ھيں، اپني كتاب مقاتل الطالبين ميں تحرير كرتے ھيں كہ جب زيد بن امام سجاد عليہ السلام كي شھادت كي خبر زھري كو ملي تو انھوں نے كھا كہ اھل بيت عليھم السلام كے كچھ افراد جلدي كيوں كرتے ھيں؟ كيونكہ ايك وقت آئے گا كہ ان كا مھدي عليہ السلام ظھور كرے گا اس سے معلوم ھوتا ھے كہ حضرت مھدي عليہ السلام كا مسئلہ اس قدر مسلم تھا كہ جب زھري كو جناب زيد كي شھادت كي خبر موصول ھوئي تو ان كا ذھن فوراً جناب زيد كے انقلاب كي طرف گيا اور انھوں نے كھا كہ اھلبيت عليھم السلام كے انقلابي اور پر خوش نوجوانوں كو صبر كرنا چاھيے۔ انقلاب تو صرف ايك ھي آئے گا اور ايك ھي لائے گا۔ وہ ھے انقلاب مھدي عليہ السلام، اور اس انقلاب كو لانے والے حضرت امام مھدي عليہ السلام ھي ھوں گے۔ ميں زھري كے بارے ميں كچھ نھيں جانتا كہ انھوں نے غلط كھا ھے يا درست، عرض كرنے كا مقصد يہ ھے كہ انھوں نے اس بات كي تصديق كي كہ حضرت امام مھدي عليہ السلام ايك نہ ايك دن ضرور تشريف لائيں گے اور وہ اپنے مشن و مقصد ميں كامياب و كامران ھوں گے۔ 

نفس زكيہ كا انقلاب لانا اور عقيدہ مھدويت

ھم پھلے بھي عرض كر چكے ھيں كہ امام حسن عليہ السلام كے بيٹے كا نام بھي حسن تھا۔ ان كو حسن مثنيٰ كھا جاتا ھے، يعني دوسرے حسن، جناب حسن، امام حسين عليہ السلام كے داماد تھے۔ فاطمہ بنت الحسين، حسن مثنيٰ كي شريكہ حيات ھيں۔ اللہ تعاليٰ نے ان كو ايك بيٹا عطا فرمايا اس كا نام عبداللہ ركھا گيا۔ چونكہ يہ شھزادہ ماں باپ كے لحاظ سے نجيب الطرفين تھا اس ليے ان كو عبد اللہ كے نام سے پكارا جانے لگا (كہ وہ نوجوان جو خالص الطرفين علوي اور خالص فاطمي ھے) عبد اللہ محض كے دو صاجزادے تھے ايك كا نام محمد اور دوسرے كا نام ابراھيم تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ان كا دور آخري اموي دور سے ملتا جلتا ھے۔ آپ اسے ۱۳۰ ھجري كھہ سكتے ھيں۔ محمد بن عبد اللہ محض بھت ھي ديندار اور شريف انسان تھے۔ اس پيكر اخلاق و شرافت كو نفس زكيہ كے نام سے پكارا جاتا ھے۔ آخري اموي دور ميں حسن سادات نے انقلابي تحريك شروع كي كہ يھاں تك عباسيوں نے محمد بن عبد اللہ محض كي بيعت كي۔ حضرت امام صادق عليہ السلام كو بھي ميٹنگ ميں مدعو كيا گيا۔ آپ سے درخواست كي گئي كہ ھم انقلاب برپا كرنا چاھتے ھيں اس ليے ھم چاھتے ھيں كہ عبد اللہ بن محض كي بيعت كريں آپ بھي ايك جليل القدر سيد ھيں ان كي بيعت كريں امام عليہ السلام نے فرمايا آپ كا اس سے مقصد كيا ھے؟ اگر محمد امر بالمعروف اور نھي عن المنكر كي خاطر انقلاب لانا چاھتے ھيں تو ھم ان كے ساتھ ھيں اور ان كي حمايت بھي كريں گے۔ 

ليكن اگر وہ مھدي دوران بن كر انقلاب لانا چاھتے ھيں۔ تو وہ سخت غلطي پر ھيں، وہ مھدي نھيں ھوسكتے۔ ميں ان كي اس حوالے سے تائيد نھيں كروں گا۔ اگر كوئي حمايت كرے گا تو غلط فھمي كي بناء پر كرے گا كيونكہ ايك تو ان كا نام محمد تھا دوسرا ان كے كندھے پر تل كا نشان تھا۔ لوگوں كا كھنا تھا كہ ھوسكتا ھے كہ يہ مھدي دوران ھي ھوں۔ اس سے ظاھر ھوتا ھے كہ مسئلہ مھدويت مسلمانوں ميں اس قدر اھم اور ضروري تھا كہ جو بھي صالح شخص انقلاب لانے كي بات كرتا تو اس كو مھدي آخر الزمان عليہ السلام تصور كيا جاتا۔ چونكہ آقائے نامدار حضرت رسول اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے حضرت امام مھدي عليہ السلام كے ظھور كي مسلمانوں كي خوشخبري دي تھي اس ليے مسلمانوں كے ذھنوں ميں يہ بات رچي بسي ھوئي تھي اور يہ تصور ان كي آمد تك رھے گا۔ يعني اس بات پر سن مسلمان متفق ھيں كہ اللہ تعاليٰ كي آخري حجت حضرت قائم آل محمد عليہ السلام نے ضرور بالضرور تشريف لانا ھے اور دنيا كو عدل و انصاف سے آباد كر ديں گے۔ 

منصور دوانقي كي شاطرانہ چال

ھم تاريخ ميں ديكھتے ھيں كہ عباسي خلفاء ميں ايك خليفہ مھدي ھے يہ منصور كا بيٹا اور سلطنت عباسيہ كا تيسرا خليفہ ھے۔ پھلا خليفہ سفاح، دوسرا منصور، اور تيسرا منصور كا بيٹا مھدي عباسي ھے ۔ مورخين نے لكھا ھے كہ منصور نے اپنے بيٹے مھدي سے سياسي فائدہ حاصل كرنے كا پروگرام بنايا تاكہ وہ لوگوں كو دھوكہ دے سكے چناچہ حسب پروگرام اس نے اعلان كر ديا كہ اے لوگو! جس مھدي كا تم لوگ انتظار كر رھے ھو وہ ميرا بيٹا مھدي ھے۔ مقاتل الطالبين كے مصنف اور ديگر مورخين نے منصور كے بارے ميں لكھا ھے كہ وہ اكثر كھا كرتا تھا كہ ميں نے اپنے بيٹے كو مھدي آخر الزمان كھہ كر جھوٹ بول كر كے عوام سے خيانت كي ھے۔ ايك روز منصور كے پاس اس كا ايك قريبي دوست مسلم بن قيتبہ آيا اور منصور نے اس سے پوچھا كہ محمد بن عبد اللہ محض كيا كھتے ھيں؟ مسلم نے كھا كہ وہ كھتا ھے ميں مھدي دوراں ھوں۔ يہ سن كر منصور بولا وہ غلط كھتا ھے نہ وہ مھدي ھے اور نہ ميرا بيٹا مھدي ھے۔ البتہ كبھي كبھار منصور لوگوں سے كھا كرتا تھا كہ محمد بن عبد اللہ محض مھدي نھيں ھے بلكہ ميرا بيٹا مھدي وقت ھے۔ مختصر يہ كہ پيغمبر اسلام كي روايات كي روشني ميں مھدويت كا تصور لوگوں ميں عام تھا۔ اس ليے جب بھي كسي انقلابي نوجوان كو ديكھتے يا اس كا نام سنتے تو اس كو مھدي وقت تصور كرتے تھے ۔ 

محمد بن عجلان اور منصور عباسي

مورخين نے ايك اور اھم واقعہ بھي نقل كيا ھے كہ مدينہ كا ايك فقيھہ محمد بن عجلان نے محمد بن عبد اللہ كے پاس جا كر ان كي بيعت كي۔ بنو عباس شروع ميں حسني سادات كے حامي تھے۔ پھر مسئلہ خلافت پيش آيا اور يہ حاكم وقت ٹھھرے ۔ انھوں نے بر سر اقتدار ھوتے ھي حسن سادات كو قتل كرنا شروع كر ديا۔ منصور نے محمد بن عجلان كو اپنے دربار ميں بلوايا كہ تم نے عبد اللہ كے صاجزادے محمد كي بيعت كيوں كي ھے؟ اس نے حكم ديا كہ ان كا ھاتھ كاٹ ديا جائے كيونكہ انھوں نے ھمارے دشمن كي بيعت كي ھے۔ مورخين نے لكھا ھے كہ مدينہ كے تمام فقھا جمع ھو كر منصور كے پاس آئے اور ابن عجلان كي معافي كي درخواست كي اور اس كي تصديق كرتے ھوئے كھا اس كا بيعت كرنے ميں كوئي قصور نھيں ھے۔ انھوں نے محمد بن عبد اللہ كو مھدي دوران سمجھ كر ان كي بيعت كي ھے۔ اس سے آپ كي دشمني اور مخالفت كرنا مقصود نہ تھا ۔ 

ان حقائق كي ديكھ كر معلوم ھوتا ھے كہ مسئلہ مھدويت كس قدر اھميت كا حامل مسئلہ تھا؟ھم جب بھي تاريخ كے مختلف ادوار كو ديكھتے ھيں تو يہ بات روز روشن كي طرح واضح ھو جاتي ھے كہ ھمارا امام زمانہ عليہ السلام كے ظھور كا مسئلہ ھر دور ميں مسلم رھا ھے۔ يھي وجہ ھے كہ ھمارا ھر امام جب شھيد ھوتا ھے تو دنيا والے خيال كرتے تھے كہ وہ امام غائب ھوا ھے مرا نھيں ھے۔ گويا ھر امام كو مھدي دوران كے طور پر تسليم كيا جاتا تھا۔ يھي مسئلہ امام محمد باقر عليہ السلام، امام جعفر صادق عليہ السلام، امام موسيٰ كاظم عليہ السلام اور ديگر آئمہ كے ساتھ پيش آيا۔ 

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام كے ايك صاجزادے سے بھت پيار كرتے تھے۔ جب حضرت غسل و كفن كا اھتمام كر چكے تو آپ كے اس كے سراھنے آكر بلند آواز سے گريہ فرمايا اور بيٹے كے چھرے سے كپڑا ھٹا كر اپنے اصحاب سے كھا كہ ديكھو ميرا بيٹا اسماعيل ھے، يہ انتقال كر گيا ھے۔ كل يہ نہ كھنا كہ وہ مھدي تھا اور غائب ھو گيا ھے۔ اس كے جنازہ كو ديكھيے ۔ اس چھرے كو خوب ملاحظہ كيجئے۔ اسے خوب پھچان كر اس كے انتقال كي گواھي ديں۔ يہ تمام باتيں اور شواھد اس بات كا بين ثبوت ھيں كہ مسئلہ مھدويت مسلمانوں ميں غير معمولي اھميت ركھتا ھے جھاں تك ميں نے تاريخ اسلام پر تحقيق كي ھے كہ ابن خلدون كے دور تك كسي ايك عالم دين نے بھي امام مھدي عليہ السلام كے بارے ميں احاديث سے اختلاف كيا ھو۔ اختلاف تھا يا تو وہ صرف فرعي اور جزئي تھا كہ آيا يہ شخص مھدي ھيں وہ شخص؟ كيا امام حسن عليہ السلام كا كوئي بيٹا ھے يا نھيں؟كيا وہ امام حسن عليہ السلام كي اولاد ميں سے ھيں يا امام حسين عليہ السلام كي اولاد ميں سے ھيں؟ ليكن اس امت كا ايك مھدي ضرور ھے؟ اور وہ اولاد پيغمبر (ص) اور اولاد زھرا سلام اللہ عليھا ميں سے ھے اور وہ اس دنيا كو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جيسا كہ وہ ظلم و ستم سے بھري ھوئي تھي ۔ اس بات ميں تو كسي كو كسي قسم كا اعتراض نھيں ھے ۔ 

دعبل كے اشعار 

معروف شاعر دعبل خزاعي امام رضا عليہ السلام كي خدمت ميں حاضر ھو كر اپنے اشعار پڑھتا ھے ان ميں سے ايك شعر يہ ھے: 

افاطم لو خلت الحسين مجدلا 

وقد مات عطشانا بشط فرات 

وہ حضرت زھرا سلام اللہ عليھا سے خطاب كرتے ھوئے ان كي اولاد پر ھونے والے مظالم كو ايك كركے بيان كرتا ھے۔ دعبل كا مرثيہ تمام عربي مرثيوں ميں سب سے بليغ مرثيہ ھے۔ مورخين نے كھا ھے حضرت امام رضا عليہ السلام دعبل كا مرثيہ سن كر بھت زيادہ گريہ كرتے تھے۔ دعبل اپنے اشعار ميں اولاد زھرا عليھا السلام كے مصائب كو ايك ايك كر كے بيان كرتا ھے ۔ كھيں وہ فخ كي مقام پر سوئے ھوئے شھزادوں كا ذكر كرتا ھے، اور كھيں وہ كوفہ كے مزاروں كا درد نام لھجے ميں تذكرہ كرتا ھے يعني محمد بن عبداللہ كي شھادت كو بيان كرتا ھے۔ كھيں پر وہ امام سجاد عليہ السلام كے صاجزادے جناب زيد كي شھادت كو بيان كرتا ھے ۔ كبھي سيد الشھدا عليہ السلام كا ذكر اور كبھي امام موسيٰ كاظم (ع) كي شھادت كا تذكرہ اور كھيں پر نفس زكيہ كا ذكر كہ: 

"وقبر ببغداد لنفس زكيۃ" 

يہ سن كر امام عليہ السلام فرماتے ھيں يھاں پر اس شعر ميں اس چيز كا اضافہ كرو: 

"وقبر بطوس يالھا من مصيبۃ" 

ميں نے عرض كي كہ آقا ميں تو اس قبر كو نھيں جانتا فرمايا قبر ميري ھے ۔ دعبل اپنے اشعار ميں امام مھدي عليہ السلام تك ھونے والے واقعات كا ذكر كرتے ھوئے اس امر كي طرف اشارہ كرتا ھے كہ آخر ايك روز مصيبتوں، پريشانيوں اور مظالم كي حكمراني كا دور آئے گا۔ اگر ھم تاريخ كے اوراق كھول كر ديكھيں تو اس موضوع كي بابت ھميں بے شمار شواھد مليں گے كہ مسئلہ مھدويت صدر اسلام سے مسئلہ چلا آراھا ھے۔ گويا يہ مسلمانوں كي ضرورت ھے اور پسنديدہ موضوع بھي كہ آخري كوئي تو آئے گا جو ظلم كا خاتمہ كر كے عدل و انصاف كي حكومت قائم كرے گا ۔ ۔ ۔ ۔ يقيناً وہ حضرت امام مھدي عليہ السلام ھوں گے جن كا انتظار كائنات كا ذرہ ذرہ كر رھا ھے۔ جب وہ تشريف لائيں گے تو كائنات كا ذرہ ذرہ جھوم اٹھے گا ۔ ۔ ۔ مرحبا يابن رسول اللہ ۔ 

اھل تسنن و نظريہ مھدويت

يہ مسئلہ صرف شيعوں تك محدود نھيں ھے، بلكہ اھل سنت حضرات بھي ظھور امام مھدي عليہ السلام پر يقين ركھتے ھيں۔ آپ اگر غور كريں تو آپ ديكھيں گے كہ مھدويت كا دعويٰ كرنے والے جتنے شيعہ تھے اتنے ھي سني تھے۔ جيسا كہ مھدي سو ڈاني نے اپنے اردگرد كثير تعداد ميں افراد جمع كيے اور پھر اعلان مھدويت كر ديا، حالانكہ وہ سني نشين علاقے اور ملك سے تعلق ركھتا تھا۔ ھندو پاك ميں مھدويت كے دعويدار گزرے ھيں۔ اسي طرح قادياني مھدويت كے عنوان سے منظر عام پر آئے ھيں ۔ 

روايات ميں ھے كہ جب تك امام مھدي عليہ السلام كا ظھور پر نور ھو نھيں جاتا بے شمار جھوٹے دعويدار اور دجال سامنے آتے رھيں گے۔ 

حافظ كے اشعار 

مجھے معلوم نھيں ھے كہ حضرت شيعہ تھے يا سني۔ خيال غالب يہ ھے كہ وہ سيعہ نھيں تھے ليكن جب ھم حافظ كے اشعار كو ديكھتے ھيں ان ميں كھيں پر مسئلہ مھدويت كي خوشبو ضرور آتي ھے۔ وہ ايك جگہ پر كھتے ھيں: 

"كجا است صوفي دجال چشم ملحد شكل" 

بگو بسوز كہ مھدي دين پناہ رسيد" 

كھاں ھے صوفي دجال جو كہ ملحد بھي ھے اور ايك آنكھ سے كانا بھي يعني بد شكل شخص 

اس سے كھہ دو كہ وہ جل جائے كہ مھدي (ع) دين پناہ تشريف لا چكے ھيں۔ 

مژدہ اي دل كہ مسيحا نفسي مي آيد 

كہ زانفاس خوش بوي كسي مي آيد 

اے دل! تجھے مبارك كہ تيرے مسيحا تشريف لانے والے ھيں۔ 

كہ اس كے معطر سانسوں ميں كسي كي خوشبو مھك رھي ھے۔ 

از غم و درد مكن نالہ و فرياد كہ دوش 

زدہ ام فالي و فريادرسي مي آيد 

غم سے نڈھال نہ ھو زيادہ رو بھي نھيں كيونكہ 

ميں نے فال نكالي ھے (مجھے يقين ھے) كہ ميرا فرياد رس آرھا ھے ۔ 

كسي ندانست كہ منزلگہ مقصود كجا است 

اينقدر است كہ بانگ جرسي مي آيد 

كسي كو خبر نھيں كہ اس كي منزل مراد كھاں ھے۔ 

بس اتني سي بات ھے كہ گھنٹي كي آواز آنے والي ھي ھے۔ 

خبر بلبل ايں باغ مير سيد كہ من 

نالہ اي مي شنوم كز قفسي مي آيد 

وہ بلبل كي خبر اس باغ سے معلوم كر رھا ھے اور ميں 

رونے كي آواز سن رھا ھوں كہ وہ بھي آزاد ھو جائے گا۔ 

ميں نے تاريخي لحاظ سء جو كچھ كھنا چاھتا تھا كھہ چكا اب ديكھنا يہ ھے كہ مھدويت كا دعويٰ كرنے والے جھوٹے اشخاص كس طرح اور كب پيدا ھوں گے؟يہ بھي ايك الگ بحث ھے۔ ميں اپني اس تقرير ميں تين اھم مطلب بيان كرنا چاھتا ھوں۔ كچھ لوگوں كا عقيدہ ھے كہ چونكہ دنيا جب تك ظلم و جور سے پر نھيں ھو گي امام زمانہ عليہ السلام تشريف نھيں لائيں گے۔ جب ان كے سامنے اصلاح اور تبليغ كي بات كي جائے يا كوئي نيكي كا جملہ كھہ ديا جائے تو پريشان ھوجاتے ھيں۔ ان كا خيال ھے ظلم كو بڑھنا چاھيے۔ تاريكي زيادہ ھوگي تو امام عليہ السلام ظھور فرمائيں گے۔ ان كا كھنا ھے كہ جو لوگ نيكي پھيلاتے ھيں يا نيكي كي بات كرتے ھيں وہ امام زمانہ عليہ السلام كے ظھور كي تاخير كا سبب بن رھے ھيں۔ ميں اس مطلب كو سادہ الفاظ ميں بيان كرتا ھوں تاكہ حقيقت كھل كر واضح ھوجائے ۔ ميں ان سے كھنا ھے كہ نھيں صاحبو! حقيقت يہ نھيں ھے جو تم كھہ رھے ھو يہ عقيدہ تو كھلي گمراھي ھے ۔ 

انقلاب مھدي (ع)

بعض حالات دنيا ميں دھماكہ بن كر پيدا ھوتے ھيں۔ آپ كوڑھ كي بيماري كو ديكھ ليجئے خدانخواستہ كسي انسان كے جسم پر جب نمودار ھوتي ھے تو پھيلتي جاتي ھے۔ جوں جوں دوا كي مرض بڑھتا گيا كے تحت اس پر كوئي دوائي اثر نھيں كرتي۔ اچانك پورے جسم كو اپني لپيٹ ميں لے ليتي ھے۔ بعض ترقي پسند لوگ جو انقلاب كے حامي ھيں وہ حالات و واقعات كو دھماكوں سے تشبيہ ديتے ھيں۔ ان كے نزديك ھر چيز جو اس قسم كے دھماكوں كو روكتي ھے، وہ چيز اچھي نھيں ھے اس ليے اصلاحي كاموں كے مخالف ھيں، ان كا كھنا ھے برائياں ھونے ديں، ظلم و ستم كو مزيد بڑھتا چاھيے، پريشانياں زيادہ ھوں۔ جب برے كاموں ميں حد سے زيادہ اضافہ ھوگا تو تب انقلاب كامياب ھوگا۔ ليكن اسلام اس كي سخت ترديد كرتا ھے۔ وہ امر بالمعروف و نھي عن المنكر كي ھر دور ميں تلقين كرتا ھے۔ معاشرہ ميں علم كي روشني پھيلانے نيكي كي تبليغ وترويج كرنے والوں كي اسلام ميں وسيع پيمانے پر حوصلہ افزائي كي گئي ھے ۔ 

اگر ھم ترقي كا نعرہ بلند كرنے والوں كي بات مان ليں تو ھمارا سوال يہ ھے كيا ھم امر بالمعروف اور نھي عن المنكر جيسا اھم فريضہ ترك كر ديں؟ اپنے بچوں كي تربيت كرنا چھوڑ ديں۔ نماز نہ پڑھيں۔ روزہ نہ ركھيں، زكوٰۃ نہ ديں، حج نہ كريں اور ھر قسم كي برائي كريں۔ اس ليے كہ امام زمانہ كا جلد ظھور ھو؟ دراصل يہ سب كچھ فكري كجروي كے باعث كھا جارھا ھے۔ يہ نعرہ كسي لحاظ سے درست نھيں ھے، بلكہ اسلام كے اصولوں كے خلاف ھے۔ رھي بات انتظار امام (ع) كي تو ايك حتمي اور ضرور امر ھے۔ انتظار كرنا ھم سب مسلمانوں كے ليے ضروري ھے۔ يہ ايك طرح كي رحمت الٰھي پر اميد ركھنے كا نام ھے، تھكے اور ھارے ھوئے انسانوں كيلئے عدل و انصاف كي برقراري وبحالي كي خوشخبري ھے۔ ان لوگوں كے انقلاب آفريں دھماكے كي بات كي ھے يہ تصور بھي غلط ھے، كيونكہ فطرت كا ھر كام ارتقاء كي طرف جاتا ھے۔ آپ پھل كو ديكھ ليجئے۔ يہ آھستہ آھستہ بڑھتا ھے پھر پك كر تيار ھوتا ھے جب تك وہ ارتقاء كي منازل طے نھيں كرليتا اس وقت تك وہ كھانے كے قابل نھيں ھوتا۔ 

امام زمانہ عليہ السلام كا ظھور مبارك بھي ايك ارتقاء كے ساتھ خاص ھے، اس ليے اب تك نھيں ھوا كہ معاشرہ ميں گناہ كم ھيں، بلكہ دنيا ابھي ارتقاء كي اس منزل تك نھيں پھنچى، لھذا آپ شيعہ روايات ميں ديكھتے ھيں كہ جب تين سو تيرہ مخلص مومن پيدا ھوں گے تو امام عليہ السلام ظھور فرمائيں گے، يعني اس حدتك دنيا زوال پذير ھوگي كہ اچھے صالح افراد كا ملنا مشكل ھوجائے گا۔ پريشاني بڑھے گى، ليكن پريشاني پريشاني ميں بھي فرق ھے۔ دنيا ميں عام طور پر جو بھي مشكل پيش آتي ھے اللہ تعاليٰ اس كا جل پيدا كر ديتا ھے۔ اس ميں كوئي شك نھيں كہ آج كي دنيا بھت زيادہ پريشان ھے، مسائل اور پريشانياں بڑھتي جارھي جارھي ھيں۔ اب ان مسائل كا حل دنيا كے طاقتور ملكوں اور باختيار ترين حكمرانوں كے پاس بھي نھيں ھے۔ وسائل كے ساتھ مسائل بھي بڑھتے جارھے ھيں۔ ايسا معلوم ھوتا ھے كہ ايك وقت ميں ان مسائل كا كوئي حل نھيں ھوگا۔ اگر ھوگا تو صرف قائم آل محمد عليہ السلام كے ظھور ھي ميں ھوگا۔ اب ديكھيں اس ميں ايك سو سال لگتا ھے۔ يا اس سے زيادہ مدت وقت كا كوئي تعين نھيں ھے۔ 

امام عليہ السلام كے عالمگير انقلاب اور ظھور كا علم اس ذات اقدس كو ھے جس نے ان كو بھيجنا ھے، اور جس نے امام عليہ السلام كي طولاني عمر اور حفاظت كا اھتمام كر ركھا ھے، اور جس نے اس عظيم امام (ع) كي بركت سے دنيا كو عدل و انصاف سے پر كرنا ھے۔ اس ترقي يافتہ دور ميں دنيا بھر دانشور، مفكرين كا خيال ھے، كہ انسانيت كي تمام تر محروميوں كا خاتمہ اور حل اس وقت ممكن ھے كہ جب دنيا ميں ايك ھي حكمران كي حكومت قائم ھوگي۔ ايك بار پھر ميں ان لوگوں سے كھوں گا كہ جو نيكيوں كے فروغ كو ظھور امام عليہ السلام كي تاخير كا سبب سمجھتے وہ انتھائي غلطي پر ھيں۔ حقيقت ميں نيكياں ھي امام عليہ السلام كے ظھور كو قريب كريں گي۔ 

انتظار امام عليہ السلام كا مسئلہ ھمارے ذھنوں ميں يہ بات نہ ڈال دے كہ چونكہ ھم امام زمانہ كے ظھور كے منتظر ھيں اس ليے فلاں فرض ھم پر ساقط ھے ايسا نھيں ھے، ھر شرعي ذمہ داري ھم پر اسي طرح سے فرض رھے گي جيسا كہ وہ واجب ھوتي ھے۔ اس موضوع كي بابت كچھ اور مطالب بھي ذكر كرنا چاھتا تھا ليكن وقت كي كمي كے باعث اپني اس گفتگو كو مختصر كرتا ھوں آخر ميں صرف اور صرف ايك بات كرنا چاھتا ھوں اور وہ يہ ھے كہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

مھدويت ايك عالمگير نظريہ

آپ لوگوں پر فرض ھے كہ مسئلہ انتظار امام عليہ السلام كو ويسے ھي اھميت ديں جيسا كہ دنيا چاھيے اور اس كے بارے ميں ويسي ھي فكر كريں جيسا كہ اسلام ھميں اس كي تعليم ديتا ھے۔ ھم نے اس مسئلہ كو اتني اھميت نھيں دي كہ جس كا يہ حقدار تھا۔ ھم اتنے بڑے مسئلہ كو چند جملوں اور چند لفظوں ميں بيان كر ديتے ھيں۔ كہ امام عليہ السلام تشريف لائيں گے اور ظالموں سے انتقام ليں گے۔ گويا حضرت امام زمانہ عليہ السلام اللہ تعاليٰ كے حكم كے منتظر ھيں۔ اور وہ تشريف لائيں۔ ھميں اپنا شرف ديدار عطا فرمائيں۔ حالانكہ جيسا كہ اسلام ايك عالمي دين ھے اس طرح ظھور امام عليہ السلام بھي ايك عالمي مسئلہ ھے۔ ھم شيعيان حيدر كرار عليہ السلام اس مسئلہ كو دنيا كا اھم ترين مسئلہ سمجھتے ھيں۔ بلكہ ھماري زندگيوں كا دارمدار اسي انتظار پر ھے، ھماري سوچوں كا محور يھي انتظار ھے۔ ھم پيدا بھي اسي انتظار كے ليے ھوتے ھيں اور زندہ بھي اسي انتظار كے ليے ھيں اور ھمارا عقيدہ ھے كہ اس كائنات كا وارث ضرور تشريف لائے گا۔ جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد خداوندي ھے: 

"ولقد كتب في الزبور من بعد الذكر ان الارض يرثھا عبادي الصالحون" 40 

"ھم نے تو نصيحت توريت كے بعد يقيناً زبور ميں لكھ ھي دي ھے كہ روئے زمين كے وارث ھمارے نيك بندے ھوں گے۔" 

بات ھو رھي ھے پوري كائنات كي ايك علاقہ كي بات نھيں ھے، اور نہ ھي ايك قوم كي ھے سب سے پھلے تو دنيا كا مستقل خوش آيندہ ھے۔ يورپي مفكرين كا كھنا ھے كہ انسانيت كا مستقل تاريك ھے انسان نے اپني خود ساختہ ترقي سے اپني موت خود خريد ركھي ھے۔ ھمارے ھاتھوں سے بنايا ھوا اپنا ايٹمي اسلحہ ھماري تباھي كا سب سے بڑا سامان بنا ھوا ھے۔ ايك وقت ايسا بھي آئے گا۔ انسان اپني موت آپ ھي مرجائے گا۔ ليكن ھمارا پاك و پاكيزہ مذھب، اسلام ھميں درس ديتا ھے كہ گبھرانے كي كوئي ضرورت نھيں ھے، انسانيت كا مستقبل انتھائي روشن اور تابناك ھے۔ انساني زندگي كا دوسرا عقل و عدالت ھے آپ ديكھتے ھيں كہ انسان كي زندگي كے تين دور ھيں۔ پھلا دور بچپن، لڑكپن كا ھے جس ميں وہ كھيلتا كودتا ھے، دوسرا دور جذبات كا دور ھے، تيسرا دور بڑھاپے كا ھے۔ انسان ھر لحاظ سے كامل و مكمل ھوتا ھے۔ تجربات انساني سوچ كو مضبوط اور پختہ بنا ديتے ھيں۔ انساني معاشرہ بھي تين ادوار اور تين مراحل كو طے كرتا ھے۔ ايك دور افسانوي ھے قرآن نے اس كو زمانہ جاھليت سے تعبير كيا ھے۔ دوسرا علم كا دور ھے۔ ليكن علم اور جواني نے ھمارے دور پر كيا كيا اثرات ڈالے ھيں؟ 

اگر ھم غور و خوض كريں تو ديكھيں گے كہ ھمارے دور خواھشات و جذبات كا دور ھے۔ ھمارا دور بمبوں كا دور ھے، ايٹمي اسلحہ كا دور ھے۔ ان ادوار كي كوئي حقيقت اور كوئي وقعت نھيں ھے۔ ايسا دور كہ جس ميں نہ معرفت موجود ھے نہ عدالت، نہ صلح محبت كا نام و نشان ھے، نہ انسانيت و روحانيت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ كيا يہ ھوسكتا ھے كہ اللہ تعاليٰ نے انسان كو اشرف المخلوقات بنا كر ادھورا چھوڑ ديا ھے؟ ھر گز نھيں بلكہ اس نے ايك روز ضرور ھي منزل و مقصود كي طرف پھنچنا ھے۔ چناچہ مھدويت ايك عالمگير مسئلہ ھے۔ آپ اندازہ فرمايئے كہ اسلام كے پاس كس قدر خوبصورت اور جامع اصول موجود ھيں۔ اسلامي تعليمات كي ھمہ گير وسعتوں، گھرائيوں اور بلنديوں كي كوئي حد نھيں ھے۔ اس ميں كمال ھي كمال ھے، ارتقاء ھي ارتقا ھے۔ بقاء ھي بقاء، زندگي ھي زندگى، خوشحالي ھي خوشحالي ھے۔ كاميابي ھي كاميابي ھے۔ ۔ ۔ ماہ رمضان كا بابركت اور مقدس مھينہ نزديك ھے دعائے افتتاح كي تلاوت ضرورت كرنا۔ يہ دعا حضرت امام مھدي عليہ السلام كي ذات والاصفات كے ساتھ خاص ھے ميں بھي اس دعا كو پڑھوں گا اور آپ بھي ضرور پڑھنا۔ ۔ ۔ ۔ 

"اللھم انا نرغب اليك في دولۃ كريمۃ تعز بھا الاسلام و اھلہ" 

پروردگار ! ھم تجھ سے ايسي عظيم حكومت ميں زندگي گزارنے كي دعا كرتے ھيں كہ جس ميں اسلام اور مسلمانوں كي عزت و رتبہ حاصل ھو۔" 

وتذل بھا النفاق و اھلہ" 

اور اس ميں منافقوں كو ذلت و رسوائي ملے گي۔" 

"و تجعلنا فيھا من الدعاۃ اليٰ طاعتك و القادۃ الي سبيلك" 

اور ايسي توفيق دے كہ ھم دوسروں كو تيري اطاعت و عبادت كي طرف دعوت ديں اور تيرے راستہ كي طرف لوگوں كي ھدايت كريں۔ 

بار الھا! ھميں دنيا و آخرت كي كاميابياں عطا فرمايا! اللہ ھم تجھے اپنے اولياء اور نيك ھستيوں كا واسط دے كر دعا كرتے ھيں كہ وہ كام كريں كہ جس ميں صرف اور صرف تيري ذات كي رضا و خوشنودي پوشيدہ ھے ۔ 

-------------------------------------------------------------------------------- 

36.سورہ نور، ۵۵. 

37.سورہ انبياء، ۱۰۵. 

38.توبہ، ۳۳. 

39.نھج البلاغہ، حكمت ۱۴۷. 

40.سورہ انبياء، ۱۰۵. 


source : http://www.alhassanain.com/urdu/show_book.php?book_id=259&link_book=holy_prophet_and_ahlul_bayt_library/general_books/serahe_aale_mohammad
  178
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      علم کلام میں مهدویت کے کون سے مبانی هیں؟
      اگر امام مھدی (عج ) کے مدد گار فرشتے ھیں ، تو وه کیوں ...
      حدیث : "المھدی طاووس الجنة" کو اس حدیث کے ساتھـ ...
      وحی کا ظھور
      عقیدہ مہدویت تمام مذاہب میں
      عقیدہ مہدی (عج) کا مسلم ہونا
      عقیدہ مہدویت کو لاحق خطرات
      اگر امام زمانہ(عج) تشریف لے آئیں تو
      احادیث رضوی کے آینہ میں امام مہدی (عج)
      مادر امام زمان (عج)

 
user comment